কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬২৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٨٣۔۔۔ ” ایضاً “ عبید حمیری کی روایت ہے کہ محاصرہ کے وقت میں حضرت عثمان (رض) نے پاس تھا آپ (رض) نے فرمایا : کیا یہاں طلحہ ہیں ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا آپ کو علم ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا آپ نے فرمایا : تم میں سے ہر شخص اپنے ہم جلیس اور دوست کا ہاتھ پکڑ لے بلاشبہ وہ اس کا ہم جلیس اور دوست ہوگا دنیا و آخرت میں آپ نے فلاں کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور فلاں فلاں کا ہاتھ پکڑ لیا تھا حتی کہ ہر شخص نے اپنے اپنے ساتھی کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ پکڑا تھا اور فرمایا تھا یہ دنیا میں میرا ہم نشین اور آخرت میں دوست ہے حضرت طلحہ (رض) نے فرمایا : جی ہاں۔ (رواہ ابن ابی عاصم والشاشی وابن عساکر والبزار وفی مسندہ خاریۃ بن معصب ضعیف وقال ابن عدی ھو ممن یکتب حدیثہ واوردہ ابن الجوزی فی الموضوعات وقال : قال ابن حبان : خاریۃ یدلس عن الکذابین)
کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے التعقبات ٥٥ واللآلی ١/٣١٧۔
کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے التعقبات ٥٥ واللآلی ١/٣١٧۔
36283- "أيضا" عن عبيد الحميري قال: كنت عند عثمان حين حوصر فقال: ههنا طلحة؟ قالوا نعم، فقال: نشدتك الله أما علمت أنا كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ليأخذ كل رجل منكم بيد جليسه ووليه وأنه جليسه ووليه في الدنيا والآخرة، فأخذت أنت بيد فلان وأخذ فلان بيد فلان حتى أخذ كل رجل بيد صاحبه وأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدي فقال: هذا جليسي في الدنيا ووليي في الآخرة؟ قال: اللهم نعم."ابن أبي عاصم والشاشي، "كر" والبزار، وفي مسنده خارجة بن مصعب ضعيف، وقال "عد": هو ممن يكتب حديثه، وأورده ابن الجوزي في الموضوعات وقال: قال "حب": خارجة يدلس عن الكذابين".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٨٤۔۔۔ ” ایضاً “ عبد العزیز زہری محمد بن عبداللہ بن عرو بن عثمان اپنے والد اور دادا کی سند سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) نے اپنے قبول اسلام کا واقعہ ہمیں یوں بیان فرمایا ہے میں عورتوں کا دلدادہ شخص تھا چنانہ ایک رات میں قریش کی ایک جماعت کے ساتھ کعبہ کے صحن میں بیٹھا ہوا تھا اچانک ہمیں آواز سنائی دی : محمد اپنی بیٹی کا نکاح عتبہ بن اطبی لہب سے کرنا چاہتے ہیں رقیہ (رض) بہت حسن و جمال والی عورت تھی حضرت عثمان (رض) کہتے ہیں : مجھے حسرت ہوئی کہ میں عتبہ پر سبقت کیوں نہ لے جاؤں میں وہاں نہ بیٹھا اور فوراً اٹھ کر اپنے گھر کی طرف چل پڑا میں نے گھر پر اپنی خالہ سعدی بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبد شمس بیٹھی پائی سعدی بنت کر یز اپنی قوم کو غیب کی خبریں سنایا کرتی تھی ۔ جب اس نے مجھے دیکھا کہنے لگی :
بشر و حیث ثلاثا تتری ثم ثلاثا وثلاثا اخر
خوش ہوجا تجھے تین بار لگاتار خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے پھر سہ بار اور ایک اور شہ بار۔
ثم باخری کی تتم عشرا اتاک خیر و وقیت الشرا
پھر ایک بار اور تاکہ دس بار پوری ہوجائے تیرے پاس خیر و بھلائی پہنچی ہے اور شر سے محفوظ کیا ہے۔
انکحت واللہ حصانا زھرا وانت بکر ولقیت بکرا
بخدا تیرا نکاح ایک پاکدامن چاند سی صورت سے کیا جائے گا تو بھی کنوارا ہے اور کنواری کو پائے گا۔
وفی تھا بنت عظیم قدرا بنت امری بقد اشاد ذکرا
تم اسے قدرو منزلت کے اعتبار سے عظیم باپ کی بیٹی پاؤ گے ایک ایسے شخص کی بیٹی ہے جس کی شہرت کے تذکرے ہوں گے
حضرت عثمان (رض) فرماتے ہیں : میں نے خالہ کے قول سے تعجب کیا اور کہا : اے خالہ کیا کہتی ہو ؟ وہ بولی : اے عثمان !
لک الجمال ولک اللسان ھذا نبی معہ البرھان
تمہارے لیے حسن و جمال اور زبان ہے یہ شخص نبی ہے اور اس کے پاس برھان ہے۔
ارسلہ بحقہ الدیان وجاءہ التنزیل والفرقان فاتبعیہ لاتغتالک الاوثان
اللہ تعالیٰ نے انھیں برحق پیغمبر بنا کر بھیجا ہے ان کے پاس تنزیل و فرقان آئے ہیں لہٰذا تم ان کی اتباع کرو تجھے بت گمراہ نہ کرنے پائی
میں نے کہا : اے خالہ ! آپ ایسی چیز کا ذکر کر رہی ہیں جس کا چرچا ہمارے شہر میں چل پڑا ہے آپ اس کی وضاحت کریں وہ محمد بن عبداللہ ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہیں اللہ تعالیٰ کا قرآن لائیں گے اور اللہ کی طرف اس کی دعوت دیں گے ، پھر بولی : اس کا چراغ ہمیشہ روشن رہے گا اس کا دین فلاح و کامیابی ہے اس کا معاملہ کامرانی ہے اسے غلبہ حاصل ہوگا گمراہ لوگ اس سے مغلوب ہوں گے چیخ و پکار فضول ہوگی اگرچہ گھمسان کی جنگیں ہی کیوں نہ ہوں تلواریں بےنیام ہی کیوں نہ ہوجائیں نیز بےکیوں نہ کھینچ لیے جائیں پھر خالہ اٹھ کر چلی گئی لیکن اس کا کلام میرے دل میں رچ بس گیا میں اس معاملہ میں سوچ و بچار کرنے لگا دریں اثناء میں ابوبکر (رض) کے پاس اٹھتا بیٹھتا تھا میں ابوبکر (رض) کے پاس آیا اور انھیں تنہائی میں پایا میں ان کے پاس بیٹھ گیا ابوبکر (رض) نے مجھے فکر مند دیکھا آپ نے فکر مندی کی وجہ پوچھی چونکہ ابوبکر دل میں دوسروں کا درد رکھنے والے شخص تھے میں نے انھیں اپنی خالہ کا کلام سن دالا۔ ابوبکر (رض) نے فرمایا : اے عثمان (رض) تیری ہلاکت ہو بلاشبہ تو عقلمند آدمی ہے تمہارے اوپر حق باطل سے مخفی نہیں رہ سکتا یہ کیسے بت ہیں جن کی تمہاری قوم عبادت کرتی ہے کیا یہ گونگے پتھر نہیں جو نہ سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں جو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع ؟ میں نے کہا : بخدا جی ہاں حقیقت میں یہ ایسے ہی ہیں ابوبکر بولے : اللہ کی قسم تمہاری خالہ نے سچ کہا ہے بخدا ! یہ اللہ تعالیٰ کے رسول محمد بن عبداللہ ہیں اللہ تعالیٰ نے انھیں مخلوق کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے کیا تم ان کے پاس جاسکتے ہو کہ ان کی بات سن لو میں نے حامی بھرلی، بخدا ! تھوڑی دیر بھی نہیں گزری تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت علی (رض) کے ساتھ ادھر سے گزرے علی (رض) نے کپڑے اٹھائے ہوئے تھے جب ابوبکر (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو آپ کی طرف اٹھے اور آپ کے کام میں سرگوشی کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور بیٹھ گئے پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے عثمان (رض) اللہ تعالیٰ کی دعوت قبول کرلو اور جنت میں داخل ہوجاؤ بلاشبہ میں اللہ کا رسول ہوں تیری طرف اور مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ بخدا میں نے جونہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات سنی میں نے زرہ بھر ڈھیل نہیں کی اسلام قبول کرلیا اور کلمہ شہادت پڑھ لیا اس کے بعد میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی رقیہ (رض) سے شادی کرلی چنانچہ کہا جاتا تھا کہ سب سے اچھا جوڑا عثمان (رض) اور رقیہ (رض) کا ہے پھر دوسرے دن صبح کو ابوبکر (رض) عثمان بن مظعون ابو عبیدہ بن جراح عبد الرحمن بن عوف ابو سلمہ بن عبد الاسد اور ارقم بن ابی ارقم کو لے آئے اور انھوں نے بھی اسلام قبول کرلیا۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اڑتیس (٣٨) مرد جمع ہوگئے عثمان (رض) کے اسلام لانے کے متعلق ان کی خالہ سعدی نے یہ اشعار کہے ہیں۔
ھدی اللہ عثماناً بقول الی الھدی وآر شدہ واللہ یھدی الی الحق
اللہ تعالیٰ نے عثمان کو ہدایت دی ہے اور ہدایت کی طرف اس کی راہنمائی کی ہے اللہ تعالیٰ حق کی راہنمائی کرتا ہے۔
فتابع بالرای السدید محمدا وکان برای لا یصد عن الصدق
اس نے استصواب رائے سے محمد کی اتباع کی جب کہ غلط رائے سچائی سے نہیں روک سکتی۔
وانکھہ المبعوث بالحق بنتہ فکانا کبدر مازج الشمس فی الافق
اس پیغمبر نے اپنی بیٹی کا نکاح کرا دیا اور وہ زوجین کا جوڑا چاند جیسا ہے جو افق میں سورج کو ماند کردیتا ہے۔
فدءک یا ابن الھا شمین مھجتی وانت امین اللہ ارسلت کی الخلق
اے ہاشمیوں کے بیٹے ! تجھ پر میری جان قربان جائے تو اللہ کا امین ہے تجھے مخلوق میں رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔
بشر و حیث ثلاثا تتری ثم ثلاثا وثلاثا اخر
خوش ہوجا تجھے تین بار لگاتار خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے پھر سہ بار اور ایک اور شہ بار۔
ثم باخری کی تتم عشرا اتاک خیر و وقیت الشرا
پھر ایک بار اور تاکہ دس بار پوری ہوجائے تیرے پاس خیر و بھلائی پہنچی ہے اور شر سے محفوظ کیا ہے۔
انکحت واللہ حصانا زھرا وانت بکر ولقیت بکرا
بخدا تیرا نکاح ایک پاکدامن چاند سی صورت سے کیا جائے گا تو بھی کنوارا ہے اور کنواری کو پائے گا۔
وفی تھا بنت عظیم قدرا بنت امری بقد اشاد ذکرا
تم اسے قدرو منزلت کے اعتبار سے عظیم باپ کی بیٹی پاؤ گے ایک ایسے شخص کی بیٹی ہے جس کی شہرت کے تذکرے ہوں گے
حضرت عثمان (رض) فرماتے ہیں : میں نے خالہ کے قول سے تعجب کیا اور کہا : اے خالہ کیا کہتی ہو ؟ وہ بولی : اے عثمان !
لک الجمال ولک اللسان ھذا نبی معہ البرھان
تمہارے لیے حسن و جمال اور زبان ہے یہ شخص نبی ہے اور اس کے پاس برھان ہے۔
ارسلہ بحقہ الدیان وجاءہ التنزیل والفرقان فاتبعیہ لاتغتالک الاوثان
اللہ تعالیٰ نے انھیں برحق پیغمبر بنا کر بھیجا ہے ان کے پاس تنزیل و فرقان آئے ہیں لہٰذا تم ان کی اتباع کرو تجھے بت گمراہ نہ کرنے پائی
میں نے کہا : اے خالہ ! آپ ایسی چیز کا ذکر کر رہی ہیں جس کا چرچا ہمارے شہر میں چل پڑا ہے آپ اس کی وضاحت کریں وہ محمد بن عبداللہ ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہیں اللہ تعالیٰ کا قرآن لائیں گے اور اللہ کی طرف اس کی دعوت دیں گے ، پھر بولی : اس کا چراغ ہمیشہ روشن رہے گا اس کا دین فلاح و کامیابی ہے اس کا معاملہ کامرانی ہے اسے غلبہ حاصل ہوگا گمراہ لوگ اس سے مغلوب ہوں گے چیخ و پکار فضول ہوگی اگرچہ گھمسان کی جنگیں ہی کیوں نہ ہوں تلواریں بےنیام ہی کیوں نہ ہوجائیں نیز بےکیوں نہ کھینچ لیے جائیں پھر خالہ اٹھ کر چلی گئی لیکن اس کا کلام میرے دل میں رچ بس گیا میں اس معاملہ میں سوچ و بچار کرنے لگا دریں اثناء میں ابوبکر (رض) کے پاس اٹھتا بیٹھتا تھا میں ابوبکر (رض) کے پاس آیا اور انھیں تنہائی میں پایا میں ان کے پاس بیٹھ گیا ابوبکر (رض) نے مجھے فکر مند دیکھا آپ نے فکر مندی کی وجہ پوچھی چونکہ ابوبکر دل میں دوسروں کا درد رکھنے والے شخص تھے میں نے انھیں اپنی خالہ کا کلام سن دالا۔ ابوبکر (رض) نے فرمایا : اے عثمان (رض) تیری ہلاکت ہو بلاشبہ تو عقلمند آدمی ہے تمہارے اوپر حق باطل سے مخفی نہیں رہ سکتا یہ کیسے بت ہیں جن کی تمہاری قوم عبادت کرتی ہے کیا یہ گونگے پتھر نہیں جو نہ سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں جو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع ؟ میں نے کہا : بخدا جی ہاں حقیقت میں یہ ایسے ہی ہیں ابوبکر بولے : اللہ کی قسم تمہاری خالہ نے سچ کہا ہے بخدا ! یہ اللہ تعالیٰ کے رسول محمد بن عبداللہ ہیں اللہ تعالیٰ نے انھیں مخلوق کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے کیا تم ان کے پاس جاسکتے ہو کہ ان کی بات سن لو میں نے حامی بھرلی، بخدا ! تھوڑی دیر بھی نہیں گزری تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت علی (رض) کے ساتھ ادھر سے گزرے علی (رض) نے کپڑے اٹھائے ہوئے تھے جب ابوبکر (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو آپ کی طرف اٹھے اور آپ کے کام میں سرگوشی کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور بیٹھ گئے پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے عثمان (رض) اللہ تعالیٰ کی دعوت قبول کرلو اور جنت میں داخل ہوجاؤ بلاشبہ میں اللہ کا رسول ہوں تیری طرف اور مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ بخدا میں نے جونہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات سنی میں نے زرہ بھر ڈھیل نہیں کی اسلام قبول کرلیا اور کلمہ شہادت پڑھ لیا اس کے بعد میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی رقیہ (رض) سے شادی کرلی چنانچہ کہا جاتا تھا کہ سب سے اچھا جوڑا عثمان (رض) اور رقیہ (رض) کا ہے پھر دوسرے دن صبح کو ابوبکر (رض) عثمان بن مظعون ابو عبیدہ بن جراح عبد الرحمن بن عوف ابو سلمہ بن عبد الاسد اور ارقم بن ابی ارقم کو لے آئے اور انھوں نے بھی اسلام قبول کرلیا۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اڑتیس (٣٨) مرد جمع ہوگئے عثمان (رض) کے اسلام لانے کے متعلق ان کی خالہ سعدی نے یہ اشعار کہے ہیں۔
ھدی اللہ عثماناً بقول الی الھدی وآر شدہ واللہ یھدی الی الحق
اللہ تعالیٰ نے عثمان کو ہدایت دی ہے اور ہدایت کی طرف اس کی راہنمائی کی ہے اللہ تعالیٰ حق کی راہنمائی کرتا ہے۔
فتابع بالرای السدید محمدا وکان برای لا یصد عن الصدق
اس نے استصواب رائے سے محمد کی اتباع کی جب کہ غلط رائے سچائی سے نہیں روک سکتی۔
وانکھہ المبعوث بالحق بنتہ فکانا کبدر مازج الشمس فی الافق
اس پیغمبر نے اپنی بیٹی کا نکاح کرا دیا اور وہ زوجین کا جوڑا چاند جیسا ہے جو افق میں سورج کو ماند کردیتا ہے۔
فدءک یا ابن الھا شمین مھجتی وانت امین اللہ ارسلت کی الخلق
اے ہاشمیوں کے بیٹے ! تجھ پر میری جان قربان جائے تو اللہ کا امین ہے تجھے مخلوق میں رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔
36284- "أيضا" عن عبد العزيز الزهري عن محمد بن عبد الله بن عمرو بن عثمان عن أبيه عن جده قال: كان إسلام عثمان بن عفان فيما حدثنا به عن نفسه قال: كنت رجلا مستهترا1 بالنساء فأنا ذات ليلة بفناء الكعبة قاعد في رهط من قريش إذ أتينا فقيل لنا: إن محمدا قد أنكح عتبة بن أبي لهب من رقية ابنته وكانت رقية ذات جمال رائع؛ قال عثمان: فدخلتني الحسرة لم لا أكون أنا سبقت إلى ذلك، فلم ألبث أن انصرفت إلى منزلي فأصبت خالة لي قاعدة وهي سعدى بنت كريز بن ربيعة بن حبيب بن عبد شمس وكانت قد طرقت وتكهنت عند قومها فلما رأتني قالت:
أبشر وحييت ثلاثا تترى. ... ثم ثلاثا وثلاثا أخرى
ثم بأخرى كي تتم عشرا. ... أتاك خير ووقيت الشرا
أنكحت والله حصانا زهرا. ... وأنت بكر ولقيت بكرا
وافيتها بنت عظيم قدرا. ... بنت امرئ لقد أشاد ذكرا
قال عثمان: فعجبت من قولها وقلت: يا خالة! ما تقولين؟ فقالت: يا عثمان!
لك الجمال ولك اللسان. ... هذا نبي معه البرهان
أرسله بحقه الديان. ... وجاءه التنزيل والفرقان
فاتبعه لا تغتالك الأوثان ...قلت: يا خالة! إنك لتذكرين شيئا ما وقع ذكره ببلدنا فأبينيه لي، فقالت: محمد بن عبد الله، رسول من عند الله، جاء بتنزيل الله، يدعو به إلى الله، ثم قالت: مصباحه مصباح، ودينه فلاح، وأمره نجاح، وقرنه نطاح، ذلت به البطاح، ما ينفع الصياح، لو وقع الذباح، وسلت الصفاح، ومدت الرماح، ثم انصرفت ووقع كلامها في قلبي وجعلت أفكر فيه وكان لي مجلس عند أبي بكر فأتيته فأصبته في مجلس ليس عنده أحد فجلست إليه، فرآني مفكرا فسألني عن أمري وكان رجلا متأنيا فأخبرته بما سمعت من خالتي، فقال: ويحك يا عثمان! إنك لرجل حازم ما يخفى عليك الحق من الباطل، ما هذه الأوثان التي تعبدها قومنا؟ أليست من حجارة صم لا تسمع ولا تبصر ولا تضر ولا تنفع؟ قلت: بلى والله! إنها لكذلك، قال: فقد والله صدقتك خالتك! والله هذا رسول الله محمد بن عبد الله قد بعثه الله برسالته إلى خلقه! فهل لك أن تأتيه فتسمع منه؟ قلت: بلى، فوالله ما كان أسرع من أن مر رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه علي بن أبي طالب يحمل ثوبا! فلما رآه أبو بكر قام إليه فساره في أذنه بشيء، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقعد ثم أقبل علي فقال: يا عثمان! أجب الله إلى جنته فإني رسول الله
إليك وإلى خلقه، فوالله ما تمالكت حين سمعت قوله أن أسلمت وشهدت أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له! ثم لم ألبث أن تزوجت رقية بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكان يقال: أحسن زوج رقية وعثمان ثم جاء الغد أبو بكر بعثمان بن مظعون وبأبي عبيدة بن الجراح وعبد الرحمن بن عوف وبأبي سلمة بن عبد الأسد والأرقم بن أبي الأرقم فأسلموا، وكانوا مع من اجتمع مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ثمانية وثلاثين رجلا. وفي إسلام عثمان تقول خالته سعدى:
هدى الله عثمانا بقول إلى الهدى.
...
وأرشده والله يهدي إلى الحق
فتابع بالرأي السديد محمدا.
...
وكان برأي لا يصد عن الصدق
وأنكحه المبعوث بالحق بنته.
...
فكانا كبدر مازج الشمس في الأفق
فداؤك يا ابن الهاشميين مهجتي.
...
وأنت أمين الله أرسلت في الخلق
استخلافه رضي الله عنه
أبشر وحييت ثلاثا تترى. ... ثم ثلاثا وثلاثا أخرى
ثم بأخرى كي تتم عشرا. ... أتاك خير ووقيت الشرا
أنكحت والله حصانا زهرا. ... وأنت بكر ولقيت بكرا
وافيتها بنت عظيم قدرا. ... بنت امرئ لقد أشاد ذكرا
قال عثمان: فعجبت من قولها وقلت: يا خالة! ما تقولين؟ فقالت: يا عثمان!
لك الجمال ولك اللسان. ... هذا نبي معه البرهان
أرسله بحقه الديان. ... وجاءه التنزيل والفرقان
فاتبعه لا تغتالك الأوثان ...قلت: يا خالة! إنك لتذكرين شيئا ما وقع ذكره ببلدنا فأبينيه لي، فقالت: محمد بن عبد الله، رسول من عند الله، جاء بتنزيل الله، يدعو به إلى الله، ثم قالت: مصباحه مصباح، ودينه فلاح، وأمره نجاح، وقرنه نطاح، ذلت به البطاح، ما ينفع الصياح، لو وقع الذباح، وسلت الصفاح، ومدت الرماح، ثم انصرفت ووقع كلامها في قلبي وجعلت أفكر فيه وكان لي مجلس عند أبي بكر فأتيته فأصبته في مجلس ليس عنده أحد فجلست إليه، فرآني مفكرا فسألني عن أمري وكان رجلا متأنيا فأخبرته بما سمعت من خالتي، فقال: ويحك يا عثمان! إنك لرجل حازم ما يخفى عليك الحق من الباطل، ما هذه الأوثان التي تعبدها قومنا؟ أليست من حجارة صم لا تسمع ولا تبصر ولا تضر ولا تنفع؟ قلت: بلى والله! إنها لكذلك، قال: فقد والله صدقتك خالتك! والله هذا رسول الله محمد بن عبد الله قد بعثه الله برسالته إلى خلقه! فهل لك أن تأتيه فتسمع منه؟ قلت: بلى، فوالله ما كان أسرع من أن مر رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه علي بن أبي طالب يحمل ثوبا! فلما رآه أبو بكر قام إليه فساره في أذنه بشيء، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقعد ثم أقبل علي فقال: يا عثمان! أجب الله إلى جنته فإني رسول الله
إليك وإلى خلقه، فوالله ما تمالكت حين سمعت قوله أن أسلمت وشهدت أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له! ثم لم ألبث أن تزوجت رقية بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكان يقال: أحسن زوج رقية وعثمان ثم جاء الغد أبو بكر بعثمان بن مظعون وبأبي عبيدة بن الجراح وعبد الرحمن بن عوف وبأبي سلمة بن عبد الأسد والأرقم بن أبي الأرقم فأسلموا، وكانوا مع من اجتمع مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ثمانية وثلاثين رجلا. وفي إسلام عثمان تقول خالته سعدى:
هدى الله عثمانا بقول إلى الهدى.
...
وأرشده والله يهدي إلى الحق
فتابع بالرأي السديد محمدا.
...
وكان برأي لا يصد عن الصدق
وأنكحه المبعوث بالحق بنته.
...
فكانا كبدر مازج الشمس في الأفق
فداؤك يا ابن الهاشميين مهجتي.
...
وأنت أمين الله أرسلت في الخلق
استخلافه رضي الله عنه
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانشین عثمان (رض)
٣٦٢٨٥۔۔۔ ” مسند عثمان (رض) مروان بن حکم کی روایت ہے کہ حضرت عثمان (رض) کو ایک سال تک نکسیر آتی رہی حتیٰ کہ حج کے لیے بھی نہ جاسکے آپ (رض) نے وصیت بھی کردی آپ کے پاس قریش کا ایک شخص آیا اور کہنے لگا : آپ خلیفہ مقرر کردیں فرمایا : لوگ ایسا کہتے ہیں جواب دیا جی ہاں فرمایا : بھلا وہ کون ہو ؟ وہ شخص خاموس رہا راوی کہتا ہے پھر آپ کے پاس ایک اور شخص داخل ہوا میرا خیال ہے وہ حارث تھا۔ اس نے بھی وہی بات کی جو پہلے نے کی تھی اور آپ (رض) نے بھی پہلے جیسا جواب دیا : راوی کہتا ہے : عثمان (رض) نے فرمایا کیا لوگ زبیر (رض) کا کہتے ہیں ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جہاں تک میں جانتا ہوں وہ سب سے بہتر ہیں چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب سے زیادہ محبوب تھے۔ (رواہ احمد بن حنبل والبخاری والنسائی وابو عوانۃ والحاکم)
36285- "مسنده رضي الله عنه" عن مروان بن الحكم قال: أصاب عثمان رعاف سنة الرعاف حتى تخلف عن الحج وأوصى فدخل عليه رجل من قريش فقال: استخلف، قال: وقالوه! قال:
نعم، قال: من هو؟ قال: فسكت، قال: ثم دخل عليه رجل آخر أحسبه الحارث فقال له مثل ما قال له الأول ورد عليه نحو ذلك، قال: فقال عثمان: قالوا: الزبير؟ قال: نعم، قال: أما والذي نفسي بيده! إنه لخيرهم ما علمت وإن كان أحبهم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم. "حم، خ، ن" وأبو عوانة، "ك".
نعم، قال: من هو؟ قال: فسكت، قال: ثم دخل عليه رجل آخر أحسبه الحارث فقال له مثل ما قال له الأول ورد عليه نحو ذلك، قال: فقال عثمان: قالوا: الزبير؟ قال: نعم، قال: أما والذي نفسي بيده! إنه لخيرهم ما علمت وإن كان أحبهم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم. "حم، خ، ن" وأبو عوانة، "ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٢٨٦۔۔۔ ” مسند عمر “ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ اگر لوگ حضرت عثمان (رض) کے قتل پر اجماع کرلیتے لامحالہ پتھروں سے رجم کیے جاتے جیسا کہ قوم لوط رجم کی گئی تھی۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
36286- "مسند عمر" عن ابن عباس قال: لو أن الناس أجمعوا على قتل عثمان لرجموا بالحجارة كما رجم قوم لوط. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٢٨٧۔۔۔ ” مسند عثمان بن عفان “ عثمان (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقتیب ایک امیر قتل کیا جائے گا پھر اس کے بعد مفتری ہوگا جب تم اسے دیکھو قتل کر دو چنانچہ حضرت عمر (رض) کو ایک ہی شخص نے قتل کیا ہے بلاشبہ لوگ میرے خلاف جمع ہوجائیں گے اور میں قتل کیا جاؤں گا میرے بعد مفتری ہوگا۔ (رواہ ابن عساکر وقال : کذا قال مفتر وانما ھو مبتر مفتری سے مراد جھوٹا خلیفہ اور متبر ہلاک پھیلانے والا)
36287- "مسند عثمان بن عفان" عن عثمان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: سيكون أمير يقتل ثم يكون من بعده مفتر، فإذا رأيتموه فاقتلوه، وإنما قتل عمر رجل واحد وإنه سيجمع علي وأنا مقتول، والمفتري يكون من بعدي. "كر" وقال: كذا قال: مفتر، وإنما هو: مبتر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٢٨٨۔۔۔ ” ایضاً “ سیف بن عمر محمد و طلحہ و حارثہ اور ابو عثمان سے روایت نقل کرتے ہیں کہ لوگ حضرت عثمان (رض) کے پاس بنی لیث کا ایک شخص پکڑ کر لائے عثمان (رض) نے فرمایا : تو کس قبیلہ سے ہے ؟ جواب دیا : میں لیٹی ہوں فرمایا : کیا تو میرا ساتھی نہیں ہے اس نے کہا : وہ کیسے آپ نے فرمایا : کیا ایک جماعت کے ساتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے لیے دعا نہیں کی تھی اور یہ کہ تم فلاں فلاں دن حفاظت کرو اس نے جواب دیا : جی ہاں آپ (رض) نے فرمایا : پھر تم بلوی میں کیوں شریک ہو ؟ چنانچہ وہ شخص بلوائیوں سے الگ ہو کر واپس چلا گیا۔ اسی طرح لوگ آپ (رض) کے پاس قریش کا ایک شخص لائے وہ بولا : اے عثمان ! میں آپ کو قتل کروں گا آپ نے فرمایا : ہرگز نہیں اس نے پوچھا : وہ کیسے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے لیے فلاں دن استغفار کیا ہے لہٰذا تم ہرگز محترم خون کے درپے نہیں ہوگے چنانچہ اس شخص نے استغفار کیا اور اپنے ساتھیوں سے الگ ہو کر واپس لوٹ گیا۔ (رواہ ابن عساکر)
36288- "أيضا" سيف بن عمر عن محمد وطلحة وحارثة وأبي عثمان قالوا: أدخلوا على عثمان رجلا من بني ليث فقال: ممن الرجل؟ فقال: ليثي، فقال: لست بصاحبي، قال: وكيف؟ قال: ألست الذي دعا لك النبي صلى الله عليه وسلم في نفر وأن تحفظوا يوم كذا وكذا؟ قال: بلى، قال فلم تصنع؟ فرجع وفارق القوم، فأدخلوا عليه رجلا من قريش فقال: يا عثمان! إني قاتلك، قال: كلا! قال: وكيف؟ قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم استغفر لك يوم كذا وكذا فلن تقارف دما حراما، فاستغفر ورجع وفارق أصحابه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٢٨٩۔۔۔ ابو سعید مولیٰ بن اسد کی رایت ہے کہ جب مصری حضرت عثمان (رض) کے پاس داخل ہوئے آپ کی گود میں قرآن مجید رکھا ہوا تھا آپ اسے پڑھ رہے تھے لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر تلوار ماری۔ چنانچہ آپ (رض) کا ہاتھ برجستہ ” یکفیکھم اللہ وھوالسمیع العلیم “ پس اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے آپ کی کفایت کرے گا اور وہ سننے والا اور علم والا ہے “ پر جاپڑا آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا : بخدا یہ پہلا ہاتھ ہے جس نے فیصلہ پر خط کھینچا ہے۔ (رواہ ابن راھویہ وابن ابی داؤد فی المصاحف وابو القاسم ابن بشران فی امالیہ وابو نعیم فی المعرفۃ وابن عساکر)
36289- عن أبي سعيد مولى بني أسد قال: لما دخل المصريون على عثمان والمصحف في حجره يقرأ فيه ضربوه بالسيف على يده فوقعت يده على {فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ} فمد يده وقال: والله! إنها لأول يد خطت المفصل."ابن راهويه وابن أبي داود في المصاحف وأبو القاسم ابن بشران في أماليه وأبو نعيم في المعرفة، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٢٩٠۔۔۔ کثیر بن صلت کی روایت ہے کہ میں عثمان (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے مجھ سے کہا : اے کثیر ! میں دیکھ رہا ہوں کہ مجھے آج ہی قتل کردیا جائے گا میں نے عرض کیا ! کیا آپ سے اس بارے میں کچھ کہا گیا ہے ؟ فرمایا : نہیں لیکن آج رات میری آنکھ لگ گئی اور صبح کے قریب میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر و عمر (رض) کو دیکھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عثمان ! ہمارے پاس آجاؤ اور دیر نہ کرو ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں چنانچہ آپ (رض) اسی دن قتل کیے گئے۔ (رواہ البزار والطبرانی وابن شاھین فی السنۃ)
36290- عن كثير بن الصلت قال: دخلت على عثمان فقال لي: يا كثير! لا أراني إلا مقتولا في يومي هذا: فقلت له: قيل لك فيه بشيء؟ قال: لا ولكن سهرت هذه الليلة فلما كان عند الصبح رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبا بكر وعمر فقال نبي الله:يا عثمان! الحقنا ولا تحبسنا فإنا ننتظرك؛ فقتل من يومه ذلك. البزار، "طب" وابن شاهين في السنة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٢٩١۔۔۔ کثیر بن صلت کی روایت ہے کہ جس دن عثمان (رض) قتل کئے گئے آپ پر تھوڑی میں نیند طاری ہوگئی پھر بیدار ہوئے اور فرمایا : اگر یہ لوگ نہ کہیں کہ عثمان موت کا آرزو مند ہے میں تمہیں ایک بات سنانا ہم نے عرض کیا ہم لوگوں کی طرح چہ میگوئیاں کرنے والے نہیں آپ ہمیں بتائیں فرمایا : آج رات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خواب میں دیکھا آپ نے فرمایا : تم جمعہ کو ہمارے پاس حاضر ہوجاؤ گے۔ (رواہ البزار وابو یعلی والحاکم والبیہقی فی الدلائل)
36291- عن كثير بن الصلت قال: أغفى1 عثمان في اليوم الذي قتل فيه ثم استيقظ ثم قال: لولا أن يقولوا: إن عثمان تمنى أمنية لحدثتكم، قلنا حدثنا فلسنا على ما يقول الناس، قال: إني رأيت الليلة رسول الله صلى الله عليه وسلم في منامي هذا فقال: إنك شاهد فينا الجمعة. البزار، "ع، ك، ق" في الدلائل.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٢٩٢۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عثمان (رض) نے بلوائیوں پر جھانک کر فرمایا : میں نے خواب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے آپ نے فرمایا : اے عثمان ! آج رات تم ہمارے پاس افطاری کروگے چنانچہ آپ (رض) نے صبح روزے کی حالت میں کی اور اسی دن شہید کر دئیے گئے (رواہ ابی شیبۃ والبزار وابو یعلی والحاکم والبیہقی فی الدلائل)
36292- عن ابن عمر أن عثمان أشرف عليهم فقال: إني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في المنام فقال: يا عثمان! إنك تفطر عندنا الليلة، فأصبح صائما وقتل من يومه."ش" والبزار، "ع، ك، ق" فيه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٢٩٣۔۔۔ ” ایضاً “ اسماعیل بن ابی خالد کی روایت ہے کہ جب اہل مصر تمام جحفہ میں اترے حضرت عثمان (رض) کو برا بھلا کہہ رہے تھے عثمان (رض) منبر پر چڑھے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں اے اصحاب محمد ! میری طرف سے برائی کا بدلہ دے تم برائی کا پرچار کرتے ہو اور نیکی کو چھپاتے ہو لوگوں کے شوروغل میں مجھے دھوکا دیتے ہو تم میں سے کون ان لوگوں کے پاس جائے گا اور ان کی برائی کا ان سے پوچھے ؟ اور وہ کیا چاہتے ہیں۔ کسی نے جواب نہ دیا : حضرت علی (رض) کھڑے ہوئے اور فرمایا : میں ان سے سوال کرتا ہوں عثمان (رض) نے فرمایا : آپ کا ان سے قریبی رشتہ ہے اور آپ اس کے زیادہ حقدار بھی ہیں۔ چنانچہ علی (رض) ان لوگوں کے پاس تشریف لائے لوگوں نے انھیں خوش آمدید کیا۔ اور بولے آپ سے زیادہ کوئی شخص ہمیں محبوب نہیں جو ہمارے پاس آتا حضرت علی (رض) نے کہا : کس چیز نے تمہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : اس شخص نے (عثمان (رض)) کتاب اللہ مٹا ڈالی ہے چراگاہوں کو استعمال ہے اپنے قریبی رشتہ داروں کو سرکاری عہدوں پر فائز کیا ہے مروان کو دو ہزار درہم دئیے ہیں اور اصحاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے غصہ سے کام لیا ہے حضرت عثمان (رض) نے ان لوگوں کو جواب بھیجوایا : قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے میں نے تمہیں (مختلف ق راتوں سے) منع کیا ہے چونکہ مجھے تمہارے اوپر اختلاف کا ڈر تھا لہٰذا جس قران پر چاہو پڑھو رہی بات چراگاہوں کی اللہ کی قسم میں نے اپنے اونٹ نہیں چرائے نہ اپنی بکریاں چرائی ہیں میں نے تو صدقہ کے اونٹ چراگاہوں میں بھیجے ہیں تاکہ فربہ ہوجائیں اور مساکین کو زیادہ نفع پہنچائیں : رہا ان کا کہنا کہ میں نے مروان کو دو ہزار درہم دئیے ہیں یہ لوگوں کا بیت المال ہے لوگ جسے چاہیں اس پر عامل مقرر کریں رہا ان کا یہ کہنا کہ میں نے اصحاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر غصہ کیا ہے اور انھیں حق سے محروم کیا ہے سو میں بشر ہوں میں غصہ بھی ہوسکتا ہوں اور خوش بھی ہوسکتا ہوں جو مجھ پر حق یا ظلم کا دعوی کرے تو میں یہ ہوں چاہے تو مجھ سے بدلہ لے چاہے تو معاف کرے لوگ آپ کے جواب سے راضی ہوگئے اور صلح کرلی پھر مدینہ میں داخل ہوئے عثمان (رض) نے یہ حکم نامہ اہل بصرہ و اہل کوفہ کی طرف روانہ کیا کہ جو شخص آنے کی طاقت نہیں رکھتا وہ اپنا وکیل مقرر کرے۔ (دواہ ابن ابی داخد وابن عساکر)
36293- "أيضا" عن إسماعيل بن أبي خالد قال: لما نزل أهل مصر الجحفة يعاتبون عثمان صعد عثمان المنبر فقال: جزاكم الله يا أصحاب محمد عني شرا! أذعتم السيئة وكتمتم الحسنة وأغريتم بي غوغاء الناس، أيكم يأتي هؤلاء القوم فيسألهم ما الذي نقموا؟ وما الذي يريدون - ثلاث مرات، فلم يجبه أحد، فقام علي فقال: أنا، فقال عثمان: أنت أقربهم رحما وأحقهم بذلك، فأتاهم فرحبوا به وقالوا: ما كان يأتينا أحد أحب إلينا منك، فقال: ما الذي نقمتم؟ قالوا: نقمنا أنه محا كتاب الله، وحمى الحمى، واستعمل أقرباءه، وأعطى مروان مائتي ألف، وتناول أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، فرد عليهم عثمان: أما القرآن فمن عند الله، إنما نهيتكم لأني خفت عليكم الاختلاف فاقرؤا علي أي حرف شئتم، وأما الحمى فوالله ما حميته لإبلي ولا غنمي وإنما حميته لإبل الصدقة لتسمن وتصلح وتكون أكثر ثمنا للمساكين، وأما قولكم: إني أعطيت مروان مائتي ألف، فهذا بيت مالهم فيستعملوا عليه من أحبوا، وأما قولهم: تناول أصحاب محمد النبي صلى الله عليه وسلم، فإنما أنا بشر أغضب وأرضى، فمن ادعى قبلي حقا أو مظلمة فهذا أنا، فإن شاء قود1 وإن شاء عفو وإن شاء أرضي؛ فرضي الناس واصطلحوا ودخلوا المدينة وكتب بذلك إلى أهل البصرة وأهل الكوفة فمن لم يستطع أن يجيء فليوكل وكيلا. ابن أبي داود، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٢٩٤۔۔۔ ” ایضاً “ عبد الرحمن بن جبیر کی روایت ہے کہ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : اے میری قوم ! تم میرے قتل کو کیوں حلال سمجھتے ہو ؟ قتل تو صرف تین صورتوں میں حلال ہے کفر بعد ایمان کے زنا بعد احصان کے اور قتل ناحق کی صورت میں میں نے ان میں سے کچھ نہیں کیا اگر تم نے مجھے قتل کردیا تم اکٹھے ہو کر کبھی نماز نہیں پڑھ سکتے دشمن کے خلاف جہاد نہیں کرسکتے الایہ کہ تم مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے ہوگے۔ (رواہ نعیم بن حماد فی الفتن)
36294- "أيضا" عن عبد الرحمن بن جبير أن عثمان قال: يا قوم! بم تستحلون قتلي؟ وإنما يحل القتل على ثلاثة: من كفر بعد إيمان أو زنى بعد إحصان أو قتل نفسا بغير نفس، ولم آت من ذلك شيئا، والله! لئن قتلتموني لا تصلوا جميعا أبدا ولا تجاهدوا عدوا جميعا إلا عن أهواء متفرقة."نعيم بن حماد في الفتن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٢٩٥۔۔۔ نعمان بن بشیر (رض) کی روایت ہے کہ مجھے نائلہ بنت قرافصہ کلبیہ عثمان (رض) کی بیوی نے حدیث سنائی ہے کہ جب عثمان (رض) کا محاصرہ کیا گیا آپ نے وہ دن روزے میں گزار دیا افطاری کے وقت بلوائیوں سے میٹھا پانی طلب کیا کہنے لگے : اس کنویں کے علاوہ جہاں سے بھی پانے ملے پی لو کیا دیکھتے ہیں کہ کنویں سے بدبو اٹھ رہی ہے چنانچہ آپ نے یہ رات اسی حال میں گزر دی کوئی چیز نہیں کھائی پھر سحری کے وقت میں اپنی پڑوسیوں کے پاس گئی میں نے ان سے میٹھا پانی طلب کیا میں پانی کا ایک کوزہ لیے ہوئے حضرت عثمان (رض) کے پاس آئی انھیں جگایا میں نے عرض کیا : یہ میٹھا پانی ہے جو میں آپ کے پا سلائی ہوں آپ نے فرمایا : آج رات اس چھت سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ پر نمودار ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پانی کا ایک ڈول تھا آپ نے فرمایا : اے عثمان : پی لو۔ میں نے سیر ہو کر پانی پیا پھر فرمایا : اور پیو ! ، میں نے اور پیا حتیٰ کہ میرا پیٹ بھر گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ لوگ تمہارے اوپر چڑھائی کریں گے اگر تم ان سے قتال کرو گے فتح مند ہوجاؤ گے اور اگر قتال ترک کرو گے ہمارے پاس آکر افطاری کرو گے حضرت نائلہ (رض) کہتی ہیں اسی دن لوگ گھر میں داخل ہوئے اور آپ کو قتل کردیا۔ (رواہ ابن منع وابن ابی عاصم)
36295- عن النعمان بن بشير قال: حدثتني نائلة بنت القرافصة الكلبية امرأة عثمان قالت: لما حوصر عثمان ظل يومه صائما، فلما كان عند الإفطار سألهم الماء العذب، فقالوا: دونك هذا الركي1، وإذا ركي يلقى فيه النتن، فبات تلك الليلة على حاله لم يطعم، فلما كان من السحر أتيت جارات لنا فسألتهم الماء العذب، فجئته بكوز من ماء فأيقظته فقلت: هذا ماء عذب قد أتيتك به، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أطلع علي من هذا السقف ومعه دلو من ماء فقال: اشرب يا عثمان! فشربت حتى رويت، ثم قال: ازدد، فشربت حتى تملأت، فقال: إن القوم سيكثرون عليك، فإن قاتلتهم ظفرت، وإن تركتهم افطرت عندنا، قالت: فدخلوا عليه من يومه فقتلوه."ابن منيع وابن أبي عاصم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٢٩٦۔۔۔ مہاجرین خیب اور ابراہیم بن تصقلہ کی روایت ہے کہ عثمان بن عفان (رض) نے عبداللہ بن سلام (رض) کو اپنے پاس بلایا عثمان (رض) محصور تھے عبداللہ بن سلام (رض) آپ کے پاس داخل ہوئے آپ (رض) نے فرمایا : اپنا سر اوپر اٹھاؤ اور یہ روشندان دیکھو آج رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہاں سے نمودار ہوئے اور فرمایا : اے عثمان ! لوگوں نے تمہارا محاصرہ کرلیا ہے میں نے عرض کیا جی ہاں چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی کا ایک ڈول لٹکایا میں نے اس سے پانی پیا اس کی ٹھنڈک میں اپنے جگر میں پاتا ہوں آپ نے مجھ سے فرمایا : اگر تم چاہو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں پھر وہ ان لوگوں کے خلاف تمہاری مدد فرمائے گا اور اگر چاہو تو ہمارے پاس آکر افطار کرو حضرت عبداللہ کہتے ہیں میں نے پوچھا : آپ نے کونسی صورت اختیار کی ہے ؟ فرمایا : آپ کے پاس افطاری اختیار کی ہے پھر عبداللہ (رض) اپنے گھر واپس لوٹ گئے پھر دوپہر کے وقت آپنے بیٹے سے کہا : جاؤ دیکھو کہ عثمان نے کیا کیا ؟ ناممکن ہے کہ وہ ابھی تک زندہ ہوں چنانچہ وہ جاکر واپس لوٹا اور بتایا عثمان (رض) قتل کر دئیے گئے ہیں۔ (رواہ الحارث)
36296- عن مهاجر بن حبيب وإبراهيم بن مصقلة قالا: بعث عثمان بن عفان إلى عبد الله بن سلام وهو محصور، فدخل عليه فقال له: ارفع رأسك ترى هذه الكوة، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم أشرف منها الليلة فقال: يا عثمان! أحصروك؟ قلت: نعم، فأدلى لي دلوا فشربت منه، فإني أجد برده على كبدي، ثم قال لي: إن شئت دعوت الله فينصرك عليهم، وإن شئت أفطرت عندنا! قال عبد الله: فقلت له: ما الذي اخترت؟ قال: الفطر عنده، فانصرف عبد الله إلى منزله، فلما ارتفع النهار قال لابنه: اخرج فانظر ما صنع عثمان، فإنه لا ينبغي أن يكون هذه الساعة حيا، فانصرف إليه فقال: قد قتل الرجل. الحارث.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٢٩٧۔۔۔ ابن عون کی روایت ہے کہ میں نے قاسم بن محمد کو کہتے سنایا اللہ ! عثمان (رض) کے متعلق میرے والد سے گناہ سرزد ہوا ہے وہ انھیں بخش دے۔ (رواہ مسند)
36297- عن ابن عون قال: سمعت القاسم بن محمد يقول: اللهم اغفر لأبي ذنبه في عثمان. مسدد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٢٩٨۔۔۔ “ ایضاً “ مالک (رح) کہتے ہیں عثمان (رض) قتل کیے گئے اور تین دن تک بنی فلاں کے کناسہ پر ان کا جسد خاکی پڑا رہا پھر آپ کو حش کو کب میں دفن کردیا گیا مالک کہتے ہیں عثمان قبل ازین حش کوکب سے گزرے فرمایا : ضرور یہاں کوئی نیک شخص دفن کیا جائے گا۔ (رواہ ابونعیم وابن عساکر)
36298- "أيضا" عن مالك قال: قتل عثمان فأقام مطروحا على كناسة بني فلان ثلاثا، ثم دفن بحش كوكب، فقال مالك: وكان عثمان قبل ذلك يمر بحش كوكب فيقول: ليدفنن ههنا رجل صالح. أبو نعيم، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٢٩٩۔۔۔ محمد بن سیرین کی روایت ہے کہ غزوات میں ابلق گھوڑے کمیاب نہیں ہوئے حتیٰ کہ عثمان (رض) قتل کیے گئے۔ (رواہ ابو نعیم وابن عساکر)
36299- "أيضا" عن محمد بن سيرين: لم يفقد الخيل البلق من المعازى حتى قتل عثمان. أبو نعيم، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٠٠۔۔۔ حضرت عثمان (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے اور یاد بھی رکھا ہے چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عنقریب میرا ایک امیر قتل کیا جائے گا اور میرے منبر کی عزت پامال کی جائے گی حضرت عثمان (رض) فرماتے ہیں میں ہی مقتول ہوں عمر نہیں ہیں چونکہ عمر (رض) کو ایک ہی شخص نے قتل کیا ہے کہ مجھے اجتماعی طور پر قتل کیا جائے گا۔ (رواہ احمد بن حنبل وابن عساکر ورجالہ ثقات)
36300- عن عثمان قال: إني قد سمعت وحفظت، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: سيقتل أميري وينتزى منبري، وإني أنا المقتول وليس عمر، إنما قتل عمر واحد وأنا يجتمع علي."حم، كر"، ورجاله ثقات.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٠١۔۔۔ ” ایضاً “ مسلم ابو سعید مولائے عثمان بن عفان (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے بیس غلام آزاد کئے پھر شلوار منگوا کر اپنے اوپر کس لی جب کہ شلوار آپ نے جاہلیت میں پہنی ہے اور نہ ہی اسلام میں پھر فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آج رات خواب میں دیکھا ہے، ابوبکر (رض) عمر (رض) کو بھی دیکھا ہے یہ حضرات فرما رہے تھے صبر کرو تم نے آئندہ شام ہمارے پاس افطاری کرنی ہے پھر آپ نے قرآن مجید منگوایا اور کھول کر اپنے سامنے رکھ لیا چنانچہ جب آپ کو قتل کیا گیا قرآن مجید آپ کے سامنے کھلا ہوا تھا۔ (رواہ ابو یعلی واحمد بن حنبل وصح)
36301- "أيضا" عن مسلم أبي سعيد مولى عثمان بن عفان أن عثمان بن عفان أعتق عشرين مملوكا ثم دعا بسراويل فشدها عليه ولم يلبسها في الجاهلية ولا في الإسلام ثم قال: إني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم البارحة في المنام ورأيت أبا بكر وعمر وإنهم قالوا: اصبر فإنك تفطر عندنا القابلة، ثم دعا بالمصحف فنشره بين يديه، فقتل وهو بين يديه. "ع، حم"، وصحح.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٠٢۔۔۔ ” ایضاً “ مجاہد کی روایت ہے کہ حضرت عثمان (رض) نے محاصرین پر نمودار ہو کر فرمایا : اے قوم مجھے مت قتل کرو چونکہ میں والی ہوں اور تمہارا مسلمان بھائی ہوں۔ اللہ کی قسم مجھ سے جہاں تک ہوسکا ہے میں نے اصلاح کا ارادہ کیا ہے خواہ میں درستی تک پہنچایا مجھ سے خطا ہوئی اگر تم نے مجھے قتل کردیا پھر تم کبھی بھی اکٹھے نماز نہیں پڑھ سکتے اکٹھے مل کر جہاد نہیں کرسکتے تمہاری غنیمت تمہارے درمیان تقسیم نہیں ہوگی مجاہد کہتے ہیں : جب لوگوں نے انکار کیا تو آپ (رض) نے فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم امیر المومنین کی وفات کے وقت اس امر کی دعوت دیتے ہو جس کی تم پہلے دعوت دے چکے ہو دراں حالیکہ تم سب ایک نکتہ پر مجتمع ہو تمہارا معاملہ جدا جدا نہ ہو اور تم دین کے اہل بھی ہو اور پھر تم یہ کہو اللہ تعالیٰ نے تمہاری دعوت قبول نہیں کی یا کہو کہ اللہ کے ہاں دین کی تذلیل ہو رہی ہے۔ یا تم کہو کہ یہ خلافت میں نے تلوار یا غلبہ سے حاصل کی ہے اور مسلمانوں سے مشورہ لے کر حاصل نہیں کی یا تم کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ میرے معاملہ کو شروع سے نہیں جانتا یا آخر سے نہیں جانتا جب لوگوں نے اس سے بھی انکار کیا تو آپ نے فرمایا : یا اللہ ! ان کی تعداد کو اپنے شمار میں رکھ لے اور انھیں چن چن کر قتل کر اور ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رکھ۔ مجاہد کہتے ہیں : جو لوگ فتنوں میں قتل ہوئے وہ بلوائیوں ہی میں سے تھے چنانچہ یزید نے بیس ہزار جنگجو مدینہ منورہ بھیجے جنہوں نے تین اور تک مدینہ کو مباح سمجھے رکھا اور اپنی مداہنت کی وجہ سے جو چاہا کر گزرے۔ (رواہ ابن سعد)
36302- "أيضا" عن مجاهد قال: أشرف عثمان على الذين حاصروه فقال: يا قوم! لا تقتلوني فإني وال وأخ مسلم، فوالله! إن أردت إلا الإصلاح ما استطعت، أصبت أو أخطأت، وإنكم إن تقتلوني لا تصلون جميعا أبدا، ولا تغزون جميعا أبدا، ولا يقسم فيئكم بينكم قال: فلما أبوا قال: أنشدكم الله هل دعوتم عند وفاة أمير المؤمنين بما دعوتم به وأمركم جميعا لم يتفرق وأنتم أهل دينه وحقه فتقولون: إن الله لم يجب دعوتكم، أم تقولون: هان الدين على الله، أم تقولون: إني أخذت هذا الأمر بالسيف والغلبة ولم آخذه عن مشورة من المسلمين، أم تقولون: إن الله لم يعلم من أول أمري شيئا لم يعلم من آخره فلما أبوا قال: اللهم! أحصهم عددا، واقتلهم بددا1، ولا تبق منهم أحدا، قال مجاهد: فقتل الله منهم من قتل في الفتنة، وبعث يزيد إلى أهل المدينة عشرين ألفا فأباحوا المدينة ثلاثا يصنعون ما شاؤا لمداهنتهم. ابن سعد.
তাহকীক: