কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬৩১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٠٣۔۔۔ ” ایضاً “ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : محاصرہ کے موقع پر میں حضرت عثمان (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! قتل عام حلال ہوچکا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اے ابوہریرہ ! تمہیں اچھا لگے گا کہ تم لوگوں کو اور مجھے قتل کر دو ؟ میں نے عرض کیا : نہیں فرمایا بخدا ! اگر تم ایک شخص کو قتل کرو گے گویا تم پوری انسانیت کو قتل کرو گے میں واپس لوٹ آیا اور قتال میں حصہ نہ لیا۔ (رواہ ابن سعد وابن عساکر)
36303- "أيضا" عن أبي هريرة قال: دخلت على عثمان يوم الدار فقلت: يا أمير المؤمنين! طاب أم2 ضرب؟ قال: يا أبا هريرة! أيسرك أن تقتل الناس وإياي! قلت: لا، قال: فوالله! إنك إن قتلت رجلا واحدا فكأنما قتل الناس جميعا، فرجعت ولم أقاتل. ابن سعد، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٠٤۔۔۔ ” ایضاً “ ابو لیلی کندی کی روایت ہے کہ میں حضرت عثمان (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا وہ محصور تھے آپ (رض) نے ایک روشندان سے جھانکا اور فرمایا : اے لوگو ! مجھے قتل نہ کرو بلکہ میری رضا مندی حاصل کرو اللہ کی قسم اگر تم نے مجھے قتل کیا تو پھر تم کبھی بھی اکٹھے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکو گے اور نہ ہی دشمن کے ساتھ جہاد کرسکو گے تم سخت سخت اختلاف کے بھنور میں پھنس جاؤ گے حتیٰ کہ تم یوں نہ ہوجاؤ چنانچہ انھوں نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کیں پھر یہ آیت تلاوت کی :
یا قوم لایجرمنکم شقاقی ۔۔۔ وما قوم لوط منکم بعید
اے میری قوم تمہیں میری مخالفت ہرگز برانگیختہ نہ کرے کہیں تم اس عذاب میں مبتلا نہ ہوجاؤ جو قوم نوح یا قوم ھود یا قوم صالح پر نازل ہوا اور قوم لوط بھی تم سے دور نہیں ہے۔
حضرت عثمان (رض) نے حضرت عبداللہ بن سلام (رض) کے پاس پیغام بھیجا کہ تمہاری کیا رائے ہے انھوں نے جواب دیا آپ ہاتھ روک لیں چونکہ یہ چیز آپ کے لیے باعث محبت ہوگی چنانچہ بلوائیوں نے گھر میں داخل ہو کر آپ کو شہید کردیا۔ (رواہ ابن سعید وابن ابی شیبۃ وابن منیع وابن ابی حاتم وابن عساکر)
یا قوم لایجرمنکم شقاقی ۔۔۔ وما قوم لوط منکم بعید
اے میری قوم تمہیں میری مخالفت ہرگز برانگیختہ نہ کرے کہیں تم اس عذاب میں مبتلا نہ ہوجاؤ جو قوم نوح یا قوم ھود یا قوم صالح پر نازل ہوا اور قوم لوط بھی تم سے دور نہیں ہے۔
حضرت عثمان (رض) نے حضرت عبداللہ بن سلام (رض) کے پاس پیغام بھیجا کہ تمہاری کیا رائے ہے انھوں نے جواب دیا آپ ہاتھ روک لیں چونکہ یہ چیز آپ کے لیے باعث محبت ہوگی چنانچہ بلوائیوں نے گھر میں داخل ہو کر آپ کو شہید کردیا۔ (رواہ ابن سعید وابن ابی شیبۃ وابن منیع وابن ابی حاتم وابن عساکر)
36304- "أيضا" عن أبي ليلى الكندي قال: شهدت عثمان وهو محصور فاطلع في كوة وهو يقول: يا أيها الناس! لا تقتلوني واستعتبوني فوالله! لئن قتلتموني لا تصلوا جميعا أبدا ولا تجاهدوا عدوا أبدا، ولتختلفن حتى تصيروا هكذا - وشبك بين أصابعه - ثم قال: "يا قوم لا يجرمنكم شقاقي أن يصيبكم مثل ما أصاب قوم نوح أو قوم هود أو قوم صالح وما قوم لوط منكم ببعيد." وأرسل إلى عبد الله بن سلام فقال: ما ترى؟ قال: الكف الكف فإنه أبلغ لك في الحجة، فدخلوا عليه فقتلوه. ابن سعد، ش وابن منيع وابن أبي حاتم، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٠٥۔۔۔ ” ایضاً “ عبید اللہ بن عدی بن خیار کی روایت ہے کہ وہ حضرت عثمان (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ (رض) محصور تھے جب کہ حضرت علی (رض) لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے کہا : اے امیر المومنین ! میں ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے میں حرج محسوس کرتا ہوں حالانکہ آپ امام ہیں عثمان (رض) نے فرمایا : نماز لوگوں کے کیے سے افضل ہے جب تم لوگوں کو اچھائی کرتے دیکھو تو ان کے ساتھ اچھائی کرو اور جب تم لوگوں کو برائی کرتے دیکھو تو ان کی برائی سے کنارہ کش ہوجاؤ۔ (رواہ عبد الرزاق والبخاری تعلیقا والبیہقی)
36305- "أيضا" عن عبيد الله بن عدي بن الخيار أنه دخل على عثمان بن عفان وهو محصور وعلي يصلي بالناس فقال: يا أمير المؤمنين! إني أتحرج أن أصلي مع هؤلاء وأنت الإمام، فقال عثمان: إن الصلاة أحسن ما عمل الناس، فإذا رأيت الناس يحسنون فأحسن معهم، وإذا رأيتهم يسيئون فاجتنب إساءتهم. "عب، خ تعليقا، "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٠٦۔۔۔ ” ایضاً “ ابو عبد الرحمن کی روایت ہے کہ حضرت عثمان (رض) نے بلوی کے موقع پر لوگوں پر جھانک کر فرمایا : کیا تمہیں ہم نہیں کہا قتل چار صورتوں کے علاوہ واجب نہیں وہ شخص جو اسلام کے بعد کفر کرت یا حصان کے بعد زنا کرے یا ناحق کسی کو قتل کرے یا قوم لوط والا عمل کرے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ وابو نعیم فی الحلیۃ)
36306- "أيضا" عن أبي عبد الرحمن أن عثمان أشرف على الناس يوم الدار فقال: أما علمتم أنه لا يجب القتل إلا على أربعة: رجل كفر بعد إسلام، أو زنى بعد إحصانه، أو قتل نفسا بغير نفس، أو عمل عمل قوم لوط."ش، حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٠٧۔۔۔ ” ایضاً “ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ بلوی کے موقع پر حضرت عثمان (رض) سے کہا : آپ قتال کیوں نہیں کرتے ؟ آپ (رض) نے جواب دیا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عہد کیا ہے کہ میں اس پر صبر کروں گا حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں : ہم سمجھتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان (رض) سے امر خلافت کے معاملہ میں عہد لیا ہے۔ (رواہ ابن ابی عاصم)
36307- "أيضا" عن عائشة قالت: لما كان يوم الدار قيل لعثمان: ألا تقاتل؟ قال: قد عاهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم على عهد سأصبر عليه، قالت عائشة: فكنا نرى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم عهد إليه فيما يكون من أمره. ابن أبي عاصم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٠٨۔۔۔ عمیر بن زودی کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کو فرماتے سنا ہے کہ تم لوگ میری مثال اپنی مثال اور عثمان کی مثال جانتے ہو ؟ جیسے بلیوں کی مثال اور وہ درختوں کے جھنڈ میں ہوں سفید بیل سرخ بیل اور سیاہ بیل ان بیلوں کے ساتھ درختوں کے جھنڈ میں ایک شیر ہو بیلوں کے مجتمع ہونے کی وجہ سے ان میں سے کسی پر غلبہ نہیں پاسکتا۔ چنانچہ شیر نے سیاہ و سرخ بیل سے کہا : ان درختوں میں ہماری جمیعت پر سوائے اس سفید بیل کے کوئی دلالت نہیں کرتا اگر تم مجھے چھوڑ دو تاکہ میں اسے کھالوں یوں میرے اور تم دونوں کے لیے درختوں کا جھنڈ صاف ہوجائے اور ہماری کچھار بھی پر امن ہوجائے ان دونوں بیلوں نے کہا : تم اپنا کام پورا کرلو چنانچہ شیر نے سفید بل کھالیا تھوڑی دیر گزری تھی کہ شیر نے سرخ بیل سے کہا : بلاشبہ کچھار میں ہمارے اوپر صرف یہ سیاہ بیل دلالت کرتا ہے چونکہ اس کا رنگ زیادہ شہرت والا ہے جب کہ میرا اور تیرا رنگ شہرت والا نہیں ہے اگر تم مجھے اجازت دو میں اسے کھالوں تاکہ میرے اور تیرے لیے کچھار صاف ہوجائے اور ہمارا ٹھکانا پر امن ہوجائے سرخ بیل نے کہا : تم اپنا کام پورا کرلو چنانچہ شیر نے سیاہ بیل کھالیا : تھوڑی دیر گزری تھی کہ شیر نے سرخ بیل سے کہا : اب میں تمہیں کھاؤں گا بیل نے کہا : مجھے اجازت دو تاکہ میں تین آوازیں لگا سکوں۔ شیر بولا : آوازیں لگا لو چنانچہ بیل نے آواز لگائی خبردار ! میں اس دن کھایا جا چکا ہوں جس دن سفید بیل کھایا گیا خبردار میں اس دن کھایا جا چکا ہوں جس دن سفید بیل کھایا گیا حضرت علی (رض) نے فرمایا : خبردار ! جس دن عثمان (رض) قتل کیے گئے ہیں میں نے اس دن کمزوری دکھائی ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ و یعقوب بن سفیان والحاکم فیالکنی والطبرانی وابن عساکر)
36308- عن عمير بن زودى قال: سمعت عليا يقول: هل تدرون ما مثلي ومثلكم ومثل عثمان؟ كمثل ثلاثة أثوار كن في أجمة1: ثور أبيض وثور أحمر وثور أسود، ومعهن فيها أسد وكان الأسد لا يقدر منهن على شيء لاجتماعهن عليه، فقال للثور الأسود وللثور الأحمر: لا يدل علينا في أجمتنا هذه إلا هذا الثور الأبيض فإنه مشهور اللون، فلو تركتماني فأكلته صفت لي ولكما الأجمة وعشنا فيها، فقالا له: دونك، فأكله، ثم لبث غير كثير فقال للثور الأحمر: إنه لا يدل علينا في أجمتنا هذه إلا هذا الثور الأسود فإنه مشهور اللون وإن لوني ولونك لا يشهران، فلو تركتني فأكلته صفت لي ولك الأجمة وعشنا فيها: فقال له: دونك، فأكله، ثم لبث غير كثير فقال للثور الأحمر: إني آكلك، قال: فدعني حتى أنادي ثلاثة أصوات، قال: فناد، فقال: ألا! إني إنما أكلت يوم أكل الأبيض، ألا! إني أنما أكلت يوم أكل الأبيض، قال علي: ألا! ألا إني وهنت يوم قتل عثمان."ش" ويعقوب بن سفيان والحاكم في الكنى، "طب، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٠٩۔۔۔ ابو جعفر انصاری کی روایت ہے کہ جس دن حضرت عثمان (رض) قتل کیے گئے اس دن میں نے حضرت علی (رض) کو سیاہ عمامہ باندھے دیکھا علی (رض) نے پوچھا : اس شخص نے کیا کیا۔ میں نے کہا : وہ قتل کر دئیے گئے ہیں حضرت علی (رض) نے فرمایا : ہمیشہ کے لیے تمہارے لیے ہلاکت ہو۔ (رواہ ابن سعد والبیہقی)
36309- عن أبي جعفر الأنصاري قال: رأيت علي بن أبي طالب يوم قتل عثمان عليه عمامة سوداء قال: ما صنع الرجل؟ قلت: قتل، قال: تبا لكم سائر الدهر. ابن سعد، "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣١٠۔۔۔ ابن سیرین (رح) کے روایت ہے کہ وہ شخص حضرت عثمان (رض) کا تذکرہ کر رہے تھے ان میں سے ایک کہہ رہا تھا عثمان (رض) کو شہید کیا گیا ہے دوسرا شخص اس سے لپٹ گیا اور اسے حضرت علی (رض) کے پاس لے آیا اور کہا : اس شخص کا دعوی ہے کہ عثمان (رض) شہید کیے گئے ہیں حضرت علی (رض) نے اس شخص سے فرمایا : تم یہ بات کہتے ہو ؟ عرض کیا : جی ہاں آپ بھی اس کے گواہ ہیں۔ کیا آپ کو یاد ہے جس دن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ (رض) کے پاس ابوبکر و عمر عثمان (رض) اور آپ بھی تھے میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا آپ نے مجھے عطاء کیا ابوبکر (رض) سے سوال کیا انھوں نے عطا کیا عمر (رض) سے سوال کیا انھوں نے بھی مجھے عطا کیا عثمان (رض) سے سوال کیا انھوں نے بھی مجھے عطاء کیا پھر آپ سے سوال کیا پر آپ نے مجھے کچھ نہ دیا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! دعا کریں اللہ تعالیٰ اس امل میں میرے لیے برکت فرمائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بھلا برکت کیوں نہیں ہوگی حالانکہ تمہیں نبی نے صدیق نے اور دو شہیدوں نے عطاء کیا ہے ؟ آپ نے تین بار یہ ارشاد فرمایا : حضرت علی (رض) نے کہا : اسے چھوڑ دو ۔ (رواہ العدنی وابو یعلی وابن عساکر)
36310- عن ابن سيرين قال: ذكر رجلان عثمان فقال أحدهما قتل شهيدا، فتعلقه الآخر فأتى به عليا فقال: هذا يزعم أن عثمان قتل شهيدا، فقال له علي: أقلت ذلك؟ قال: نعم، وأنت تشهد، أما تذكر يوم أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وعنده أبو بكر وعمر وعثمان وأنت فسألت النبي صلى الله عليه وسلم فأعطاني وسألت أبا بكر فأعطاني وسألت عمر فأعطاني وسألت عثمان فأعطاني وسألتك فمنعتني فقلت: يا رسول الله! ادع الله لي أن يبارك لي، فقال: وما لك لا يبارك لك وقد أعطاك نبي وصديق وشهيدان - ثلاث مرات؟ قال: دعوه."العدني، ع، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣١١۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) حضرت عثمان (رض) کے پاس آئے عثمان (رض) کا محاصرہ جاری تھا حضرت علی (رض) نے پیغام بھیجا میں اس لیے آیا ہوں تاکہ میں آپ کی مدد کو سکوں۔ عثمان (رض) نے علی (رض) کی طرف سلام بھیج دیا اور فرمایا اس کی حاجت نہیں حضرت علی (رض) نے اپنے سر سے عمامہ اتارا اور گھر میں پھینک دیا جس میں حضرت عثمان (رض) محصور تھے جب کہ حضرت علی (رض) کہہ رہے تھے یہ میں نے اس لیے کیا ہے تاکہ عثمان (رض) یہ نہ سمجھیں کہ پیٹھ پیچھے میں ان سے خیانت کررہا ہوں۔ (رواہ اللالکانی فی السنۃ)
36311- عن ابن عمر أن عليا أتى عثمان وهو محصور فأرسل إليه أني قد جئت لأنصرك، فأرسل إليه بالسلام وقال: لاحاجة، فأخذ علي عمامته من رأسه فألقاها في الدار التي فيها عثمان وهو يقول: {ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ} ."اللالكائي في السنة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣١٢۔۔۔ ابو حصین کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : اگر مجھے علم ہوتا کہ بنی امیہ کے نفوس سے شبہ ختم ہوجائے گا تو میں ان کے لیے رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان پچاس قسمیں کھاتا کہ میں نے عثمان (رض) کو قتل نہیں کیا اور نہ ہی مجھے ان کے قتل میں رغبت تھی۔ (رواہ اللالکانی)
36312- عن أبي حصين أن عليا قال: لو أعلم أن بني أمية يذهب ما في نفوسها لحلفت لهم خمسين يمينا مرددة بين الركن والمقام أني لم أقتل عثمان ولم أمال على قتله."اللالكائي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣١٣۔۔۔ حسن کی روایت ہے کہ میں حضرت علی (رض) کی خدمت میں مدینہ میں حاضر ہوا آپ نے ایک آواز سنی پوچھا یہ کیسی آواز ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : عثمان (رض) قتل کیے جا چکے ہیں حضرت علی (رض) نے کہا یا اللہ ! میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں راضی نہیں ہوں اور نہ یہ میری رغبت ہے وہ بار یا تین بار فرمایا ۔ (رواہ اللالکانی)
36313- عن الحسن قال: شهدت عليا بالمدينة وسمع صوتا فقال: ماهذا؟ قالوا: قتل عثمان، قال: اللهم! إني أشهدك أني لم أرض ولم أمال - مرتين أو ثلاثا."اللالكائي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣١٤۔۔۔ “ مسند ثعلبہ بن ابی عبد الرحمن انصاری “ ابو اشعث صنعائی کی روایت ہے کہ صنعاء پر ایک شخص امیر تھا اسے ثمامہ بن عدی (رض) کہا جاتا تھا وہ صحبت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فیض یاب تھا جب اسے حضرت عثمان (رض) کی شہادت کی خبر پہنچی تو وہ رونے لگا اور کہا اس کا وقوع اس وقت ہونا تھا جب نبوت سے خلافت الگ ہونی تھی پھر خلافت جبری بادشاہت میں بدلنی تھی جو شخص جس چیز پر غالب آتا وہ اسے کھا جاتا۔ (رواہ ابو نعیم)
36314- "مسند ثعلبة بن أبي عبد الرحمن الأنصاري" عن أبي الأشعث الصنعاني قال: كان أمير على صنعاء يقال له ثمامة بن عدي وكانت له صحبة فلما جاء نعي عثمان بكى وقال: هذا حين انتزعت خلافة النبوة وصار ملكا وجبرية، من غلب على شيء أكله."أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣١٥۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) نے عثمان (رض) سے کہا : اللہ کی قسم ! تمہیں ضرور بیل کی طرح نکالا جائے گا اور تمہیں ضرور اونٹ کی طرح ذبح کیا جائے گا۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
36315- عن حذيفة أنه قال لعثمان: والله! لتخرجن إخراج الثور ولتذبحن ذبح الجمل. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣١٦۔۔۔ ” ایضاً “ جندب خیر کی روایت ہے کہ ہم حضرت حذیفہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے جب مصریوں نے حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ کر رکھا تھا ہم نے کہا : یہ لوگ اس شخص کی طرف چل پڑے ہیں آپ کیا کہتے ہیں حذیفہ (رض) بولے : اللہ کی قسم ! یہ لوگ اسے قتل کرکے رہیں گے ہم نے کہا یہ شخص کہاں ہوگا فرمایا : جنت میں ہم نے کہا : اس کے قاتل کہاں ہوں گے ؟ فرمایا : اللہ کی قسم دوزخ میں جائیں گے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
36316- "أيضا" عن جندب الخير قال: أتينا حذيفة حين صار المصريون إلى عثمان فقلنا: إن هؤلاء قد صاروا إلى هذا الرجل فما تقول؟ قال: يقتلونه والله! قلنا: فأين هو؟ قال: في الجنة والله! قلنا: فأين قتلته؟ قال: في النار والله. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣١٧۔۔۔ نافع بن حارث کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے فرمایا : دروازے پر رک جاؤ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنویں کے کنارے بنائی گئی اونچی سی جگہ پر آکر بیٹھ گئے اور ٹانگیں کنویں میں لٹکا دیں اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی میں نے کہا کون ہے ؟ جواب ملا ابوبکر ہوں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ ابوبکر ہیں فرمایا : انھیں اجازت دو اور جنت کی بشارت دو ابوبکر (رض) بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس منڈیر پر بیٹھ گئے اور ٹانگیں کنویں پر لٹکائیں پھر دروازے پر دستک ہوئی میں نے کہا : کون ہے جواب دیا : عمر ہوں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ عمر ہیں فرمایا : انھیں اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی دو نافع (رض) کہتے ہیں میں نے انھیں اجازت دی اور جنت کی بشارت بھی دی وہ بھی آکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ منڈیر پر بیٹھ گئے اور ٹانگیں کنویں میں لٹکا دیں پھر دروازے پر دستک ہوئی میں نے کہا : کون ہے ؟ جواب ملا عثمان ہوں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ عثمان ہیں فرمایا : اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی دو لیکن ساتھ ساتھ آزمائش کا بھی انھیں سامنا کرنا ہوگا نافع (رض) کہتے ہیں میں نے انھیں اجازت دی اور جنت کی بشارت بھی دی چنانچہ وہ بھی آئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ منڈیر پر بیٹھ گئے اور ٹانگیں کنویں میں لٹکا دیں۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وھو صحیح)
36317- عن نافع بن عبد الحارث قال: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم حائطا من حيطان المدينة وقال لي: أمسك على الباب، فجاء حتى جلس على القف1 ودلى رجليه في البئر، فضرب الباب، فقلت: من هذا؟ قال: أبو بكر، قلت: يا رسول الله؟ هذا أبو بكر، فقال: ائذن له وبشره بالجنة، قال فأذنت له وبشرته بالجنة، فجاء فجلس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على القف ودلى رجليه في البئر، ثم ضرب الباب، فقلت: من هذا؟ فقال: عمر، قلت: يا رسول الله! هذا عمر، فقال: ائذن له وبشره بالجنة، قال فأذنت له وبشرته بالجنة، فجاء فجلس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على القف ودلى رجليه في البئر، ثم ضرب الباب فقلت: من هذا؟ فقال: عثمان، فقلت: يا رسول الله! هذا عثمان، قال: ائذن له وبشره بالجنة معها بلاء، قال فأذنت له وبشرته بالجنة، فجاء فجلس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على القف ودلى رجليه في البئر. "ش"؛ وهو صحيح.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣١٨۔۔۔ زید بن ثابت کی روایت ہے کہ میرے پاس ام سعد بن ربیع (رض) تھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسواف میں ہم سے ملنے آئے گھر والوں نے آپ کے لیے ناشتہ تیار کیا اور دستر خوان بچھایا اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دیکھو یہ کون ہے گھر والوں نے کہا ابوبکر ہیں فرمایا ان کے لیے دروازہ کھولو اور انھیں جنت کی بشارت وہ پھر دوسرے شخص نے دروازے پر دستک دی فرمایا : دیکھو یہ کون ہے ؟ گھر والوں نے کہا عمر ہیں فرمایا دروازہ کھولو اور انھیں جنت کی بشارت دو پھر ایک اور شخص نے دروازے پر دستک دی فرمایا : دیکھو یہ کون ہے ؟ گھر والوں نے کہا : عثمان ہیں فرمایا : دروازہ کھولو اور انھیں جنت کی بشارت بھی دو عنقریب میری امت کی طرف سے انھیں آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر و عصر کی نماز اسواف میں واقع مسجد میں نماز پڑھی حتیٰ کہ آپ کے پاس آپ کے بعض صحابہ (رض) بھی جمع ہوگئے۔ (رواہ ابن عساکر)
36318- عن زيد بن ثابت قال: كانت عندي أم سعد بن الربيع فزارهم رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بالأسواف1 فعملوا له غداء وبسطوا له نطعا، فدق الباب إنسان فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: انظروا من هذا؟ قالوا: هذا أبو بكر، قال: افتحوا له وبشروه بالجنة، ثم دق آخر فقال: انظروا من هذا؟ قال: عمر، قال: افتحوا له وبشروه بالجنة، ثم دق الباب آخر فقال: انظروا من هذا؟ قالوا: عثمان، قال: افتحوا له وبشروه بالجنة وسيلقى من أمتي عنا، ثم صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر والعصر في المسجد الذي في الأسواف حتى اجتمع إليه بعض أصحابه.
"كر".
"كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣١٩۔۔۔ ابو عبید اللہ اشعری کی روایت ہے کہ میں نے ابو درداء (رض) کو فرماتے سنا کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے خبر پہنچی ہے کہ عنقریب ایک قوم ایمان لانے کے بعد کفر کرے گی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جی ہاں تم ان میں سے نہیں ہو۔ ابوعبید اللہ کہتے ہیں ابودرداء (رض) عثمان (رض) کے قتل سے قبل وفات پاگئے۔ (رواہ ابو نعیم فی المعرۃ
36319- عن أبي عبيد الله الأشعري قال: سمعت أبا الدرداء يقول: قلت: يا رسول الله! بلغني أنك قلت: سيكفر قوم بعد إيمانهم؟ قال: أجل، ولست منهم؛ قال: فتوفي أبو الدرداء قبل قتل عثمان."أبو نعيم في المعرفة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٢٠۔۔۔ حضرت ابودرداء (رض) کی روایت ہے کہ عثمان کے بعد مدینہ نہیں رہا اور معاویہ کے بعد رجاء نہیں رہا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھ سے ابو درداء کے اسلام کا وعدہ کیا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36320- عن أبي الدرداء قال: لا مدينة بعد عثمان ولا رخاء بعد معاوية، وقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن الله وعدني إسلام أبي الدرداء. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٢١۔۔۔ حضرت ابو درداء (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں حوض کوثر پر تمہارا پہلے بھیجا ہوا اجر ہوں میں انتظار کروں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس وارد ہوتا ہے جب میں تمہارے درمیان پانی تقسیم کررہا ہوں تو ہرگز ایسا نہ پاؤں کہ میں کہوں : یہ مجھ سے ہے ایک روایت میں ہے میری امت سے ہے۔ ایک روایت میں ہے میرے صحابہ (رض) میں سے ہے۔ اور کہا جائے تمہیں نہیں معلوم کہ تمہارے بعد کیا کیا واقعات پیش آئے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ سے دعا کریں مجھے ان میں سے نہ کرے آپ نے ارشاد فرمایا : تم ان میں سے نہیں ہو چنانچہ حضرت ابودرداء (رض) حضرت عثمان (رض) کے قتل سے قبل وفات پاگئے۔ (رواہ یعقوب بن سفیان وابن عساکر)
36321- عن أبي الدرداء قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنا - وفي لفظ: إني فرطكم على الحوض أنظر من يرد علي منكم، فلا ألفين ما توزعت في أحدكم فأقول: هذا مني - وفي لفظ من أمتي، وفي لفظ من أصحابي - فيقال إنك لا تدري ما أحدث بعدك؟ فقلت: يا رسول الله؟ ادع الله أن لا يجعلني منهم، قال: إنك لست منهم؛ فتوفي أبو الدرداء قبل أن يقتل عثمان وقبل أن تقع الفتن.يعقوب بن سفيان، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٢٢۔۔۔ حضرت ابو درداء (رض) کی روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے خبر پہنچی ہے کہ آپ نے فرمایا ہے : بہت ساری قومیں ایمان کے بعد کفر کریں گی فرمایا : جی ہاں : اور تو ان میں سے نہیں ہوگا۔ چنانچہ حضرت ابو درداء (رض) نے حضرت عثمان (رض) کو قتل کیے جانے سے قبل وفات پائی۔ (رواہ یعقوب ابن سفیان والبیہقی فی الدلائل وابن عساکر وابن النجار)
36322- عن أبي الدرداء قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله! بلغني أنك قلت: ليكفرن أقوام بعد إيمانهم؟ قال: نعم، ولست منهم؛ فتوفي أبو الدرداء قبل أن يقتل عثمان. يعقوب بن سفيان، "ق" في الدلائل، "كر" وابن النجار.
তাহকীক: