কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬৩৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٢٣۔۔۔ ابو موسیٰ (رض) کی روایت ہے کہ میں بنی فلاں کے باغ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا دروازہ بند تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک لکڑی تھی جس سے آپ زمین کرید رہے تھے اتنے میں کسی شخص نے دروازے پر دستک دی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عبداللہ بن قیس ! میں نے عرض کیا : لبیک یا رسول اللہ ! فرمایا : کھڑے ہوجاؤ زدروزاہ کھولو اور اسے جنت کی بشارت دو میں کھڑا ہوا اور دروازہ کھولا ، دیکھتا ہوں کہ ابوبکر صدیق (رض) ہیں میں نے انھیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کی خبر کی انھوں نے اللہ تعالیٰ حمد کی اندر داخل ہوئے سلام کیا اور بیٹھ گئے میں نے دروازہ بند کردیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر ٹہنی سے زمین کر یدنی شروع کردی اتنے میں دوسرے شخص نے دروازے پر دستک دی حکم ہوا : اے عبداللہ بن قیس کھڑے ہوجاؤ دروازہ کھولو اور آنے والے کو جنت کی بشارت دو میں کھڑا ہوا دروازہ کھولا دیکھتا ہوں کہ عمر (رض) کھڑے ہیں میں نے انھیں فرمان نبوی کی خبر دی اندر داخل ہوئے سلام کیا اور بیٹھ گئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر ٹہنی کر یدنی شروع کردی اتنے میں تیسرے شخص نے دروازے پر دستک دی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عبداللہ بن قیس ! کھڑے ہوجاؤ دروازہ کھولو اور آنے والے کو جنت کی بشارت دو لیکن بشرط آزمائش میں کھڑا ہوا دروازہ کھولا دیکھا تو عثمان (رض) تھے میں نے انھیں فرمان نبوی کی خبر کی عثمان (رض) نے کہا : اللہ تعالیٰ ہی سے مدد کا خواستگار ہوں اور اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ ہے پھر آپ داخل ہوئے سلام کیا اور بیٹھ گئے (رواہ ابن عساکر)
36323- عن أبي موسى قال: كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم في حديقة بني فلان والباب علينا مغلق ومع النبي صلى الله عليه وسلم عود ينكت به في الأرض إذا استفتح رجل، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا عبد الله بن قيس! فقلت: لبيك يا رسول الله! قال: قم فافتح له الباب وبشره بالجنة. فقمت ففتحت له الباب فإذا أنا بأبي بكر الصديق؛ فأخبرته بما قال له النبي صلى الله عليه وسلم؛ فحمد الله تعالى ودخل وسلم ثم قعد وأغلقت الباب، فجعل النبي صلى الله عليه وسلم ينكت بذلك العود في الأرض فاستفتح آخر؛ فقال: يا عبد الله بن قيس! قم فافتح له الباب وبشره بالجنة، فقمت ففتحت له الباب فإذا أنا بعمر بن الخطاب، فأخبرته بما قال النبي صلى الله عليه وسلم، فحمد الله تعالى ودخل فسلم وقعد وأغلقت الباب، فجعل النبي صلى الله عليه وسلم ينكت بذاك العود في الأرض إذا استفتح الثالث، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا عبد الله بن قيس! قم فافتح له الباب وبشره بالجنة على بلوى تكون، فقمت ففتحت له الباب فإذا أنا بعثمان بن عفان، فأخبرته بما قال النبي صلى الله عليه وسلم فقال: الله المستعان وعلى الله التكلان، ثم دخل فسلم وقعد. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٢٣۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں ایک باغ میں داخل ہوئے اتنے میں ابوبکر (رض) آئے اجازت طلب کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انھیں اجازت دو اور ساتھ جنت کی بشارت بھی دو پھر عمر (رض) آئے اجازت طلب کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انھیں اجازت دو اور ساتھ جنت کی بشارت بھی دو پھر عثمان (رض) آئے اور اجازت طلب کی فرمایا : اسے اجازت دو اور ساتھ جنت کی بشارت بھی دو لیکن ساتھ ساتھ انھیں سخت آزمائش پیش آئے گی۔ (رواہ ابن عساکر)
36323- عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل حشا بالمدينة وهو الحائط فجاء أبو بكر فاستأذن عليه؛ فقال: ائذنوا له وبشروه بالجنة؛ ثم جاء عمر فاستأذن؛ فقال: ائذنوا له وبشروه بالجنة؛ ثم جاء عثمان فاستأذن؛ فقال: ائذنوا له وبشروه بالجنة مع ما يصيبه من البلاء الشديد. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٢٤۔۔۔ ابراہیم بن عمرو بن محمد کی روایت ہے کہ میرے والد نے ابن عمر (رض) کے واسطہ سے حضرت حفصہ (رض) سے نقل کیا ہے کہ وہ بیٹھی ہوئی تھیں جب کہ عائشہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھیں آپ نے فرمایا : میں چاہتا ہوں کہ میرے ساتھ میرا کوئی صحابی ہو تاکہ ہم گفتگو کریں عائشہ (رض) نے کہا : ابوبکر (رض) کو پیغام بھجوا کر بلوالیں۔ فرمایا : نہیں حفصہ (رض) نے کہا : عمر (رض) کو بلوائیں فرمایا : نہیں لیکن میں عثمان (رض) کو بلواتا ہوں چنانچہ عثمان (رض) آئے عائشہ (رض)، حفصہ (رض) دونوں پردے کے پیچھے چلی گئیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان (رض) سے فرمایا : تمہیں قتل کرکے شہید کیا جائے گا صبر کرنا اللہ تعالیٰ تمہیں صبر کی توفیق عطاء فرمائے اللہ تعالیٰ نے تمہیں بارہ سال چھ ماہ سے جو قمیص پہنائی ہوگی اسے ہرگز نہ اتارنا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملو اور وہ تم سے راضی ہو عثمان (رض) فرماتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے صبر کی دعا فرمائی ایک روایت میں ہے عثمان (رض) نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ سے میرے لیے صبر کی دعا کریں فرمایا : یا اللہ ! اسے صبر کی توفیق عطاء فرما۔ جب عثمان (رض) اٹھ کر نکل گئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں صبر کی توفیق عطا فرمائے تمہیں عنقریب شہید کردیا جائے گا تمہیں روزے کی حالت میں موت آئے گی اور میرے ساتھ افطار کرو گے ابراہیم کہتے ہیں : مجھے میرے والد نے عبد الرحمن بن ابی بکر سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے بھی انھیں ایسی ہی حدیث سنائی ہے۔ (رواہ ابو یعلی وابن عساکر)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ ٥٩٢٩۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ ٥٩٢٩۔
36324- عن إبراهيم بن عمرو بن محمد حدثني أبي عن عبد الله ابن عمر عن حفصة زوج النبي صلى الله عليه وسلم أنها كانت قاعدة وعائشة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: وددت أن معي بعض أصحابي نتحدث! فقالت عائشة: أرسل إلى أبي بكر يتحدث معك؛ قال: لا؛ قالت حفصة: أرسل إلى عمر يتحدث معك؛ قال: لا؛ ولكن أرسل إلى عثمان؛ فجاء عثمان فدخل فقامتا فأرختا الستر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعثمان: إنك مقتول مستشهد فاصبر صبرك الله! ولا تخلعن قميصا قمصك الله ثنتي عشرة سنة وستة أشهر حتى تلقى الله وهو عنك راض؛ فقال عثمان: إن دعا النبي صلى الله عليه وسلم لي الصبر - وفي لفظ: فقال عثمان: ادع الله لي بالصبر؛ فقال: اللهم صبره؛ فقال: اللهم صبره - فخرج عثمان؛ فلما أدبر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: صبرك الله فإنك سوف تستشهد وتموت وأنت صائم وتفطر معي؟ قال إبراهيم: وحدثني أبي عن عبد الرحمن بن أبي بكر أن عائشة حدثته بمثل ذلك. "ع؛ كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٢٥۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے جب کہ عثمان (رض) آپ کے سامنے تھے آپ عثمان سے سرگوشی کر رہے تھے میں آپ کی بات بالکل نہیں سمجھی سوائے اس کے کہ عثمان (رض) نے کہا : ظلم و زیادتی سے یا رسول اللہ ! میں نہیں سمجھی کہ یہ کیا کہا : حتیٰ کہ عثمان (رض) قتل کیے گئے تب مجھے علم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان (رض) کا قتل مراد لیا ہے۔ (رواہ نعیم بن حماد فی الفتن)
36325- عن عائشة قالت: دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم وعثمان بين يديه يناجيه فلم أدرك من مقالته شيئا إلا قول عثمان: ظلما وعدوانا يا رسول الله! فما دريت ما هو حتى قتل عثمان؛ فعلمت أن النبي صلى الله عليه وسلم إنما عنى قتله."نعيم بن حماد في الفتن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٢٦۔۔۔ عطاء بصری کی روایت ہے کہ مجھے افریقہ میں ایک شیخ نے حدیث سنائی کہ اس کے والد نے اسے بتایا ہے کہ وہ عثمان (رض) کے ساتھ تھے اتنے میں علی (رض) آئے اور کہا : کیا تم جانتے ہو ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حراء پہاڑ پر تھے پہاڑ حرکت میں آگیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے حراء رک جا چونکہ تجھ پر تو نبی ہے یا صدیق ہے یا شہید ہے جواب دیا جی ہاں حضرت علی (رض) نے کہا : اللہ کی قسم تم ضرور قتل کئے جاؤ گے میں بھی تمہارے ساتھ قتل کیا جاؤں گا۔ تین بار کہا : (رواہ ابن عابہ وابن عساکر)
36326- عن عطاء البصري قال: حدثني شيخ بإفريقية أن أباه حدثه أنه كان مع عثمان فجاء علي فقال: أما تعلم أنا كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على حراء فتحرك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اسكن حراء! فإنه ليس عليك إلا نبي أو صديق أو شهيد فقال بلى؟ فقال علي: فوالله! لتقتلن ولأقتلن معك - قال ذلك ثلاث مرات. ابن عابد، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٢٧۔۔۔ عمرو بن محمد بن جبیر کی روایت ہے کہ حضرت عثمان (رض) نے حضرت علی (رض) کے پاس پیغام بھیجا کہ تمہارے چچا کا بیٹا قتل کیا جائے گا جب کہ تمہارے اوپر ماتم کیا جائے گا۔ (رواہ ابن ابی الدنیا فی کتاب الاشراف وابن عساکر
36327- عن عمرو بن محمد بن جبير قال: أرسل عثمان إلى علي أن ابن عمك مقتول وأنك مسلوب. ابن أبي الدنيا في كتاب الأشراف، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٢٨۔۔۔ ابو ثور فہمی کی روایت ہے کہ میں عثمان (رض) کے پاس تھا آپ (رض) نے ایک روشندان سے لوگوں پر جھانکا اور فرمایا : اے ابو الحسن ! یہ کیا چیز ہے جو میری پشت پر سوار ہوگئی ہے ؟ جواب دیا : اے ابو عبداللہ ! صبر کرو اللہ کی قسم میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان سے بےفکر نہیں ہوا جب ہم احمد پہاڑ پر تھے پہاڑ ہلنے لگا فرمایا : اے احد ثابت رہ چونکہ تیرے اوپر نبی ہے یا صدیق ہے یا شہید ہے اللہ کی قسم تمہیں ضرور قتل کیا جائے گا مجھے بھی آپ کے ساتھ قتل کیا جائے گا طلحہ و زبیر کو بھی قتل کیا جائے گا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کے پورے ہونے کا وقت آچکا ہے۔ (رواہ ابن عساکر
36328- عن أبي ثور الفهمي قال: كنت عند عثمان فأشرف من كوة على الناس فقال: يا أبا الحسن! ما هذا الذي ركب متني؟ قال: اصبر أبا عبد الله! فوالله! ما غبت عن قول رسول الله صلى الله عليه وسلم حين كنا على أحد فتحرك الجبل ونحن عليه فقال: اثبت أحد! فإنه ليس عليك إلا نبي أو صديق أو شهيد، وايم الله! لتقتلن ولأقتلن معك وليقتلن طلحة والزبير، وليحين قول رسول الله صلى الله عليه وسلم على إدلاله. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٢٩۔۔۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : جو شخص عثمان (رض) کے خون کا مطالبہ کرتا ہو تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اسے قتل کیا ہے اور میں اس کے ساتھ تھا۔ (یہ ادھر ادھر سے جمع کیا ہوا کلمہ ہے جس کی کوئی وجہ بن سکتی ہے) ۔ (رواہ ابن ابی
36329- عن علي قال: من كان سائلا عن دم عثمان فإن الله قتله وأنا معه: "قال ابن سيرين: هذه كلمة قرشية ذات وجه". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٣٠۔۔۔ ابن سیرین (رح) کہتے ہیں جب تک حضرت عثمان (رض) قتل نہیں کئے گئے اس وقت تک رویت ہلال میں اختلاف نہیں کیا کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
36330- عن ابن سيرين قال: لم يختلف في الأهلة حتى قتل عثمان. "كر". تتمة حصر وقتل عثمان رضي الله عنه
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٣١۔۔۔ ” مسند ابی (رض) “ عبد الرحمن بن ابزی کہتے ہیں : میں نے حضرات ابی بن کعب (رض) سے عرض کیا جب لوگ حضرت عثمان (رض) کے معاملہ میں پڑے ہوئے تھے اے ابو مسند اس جھمیلے سے نکلنا کا کون سا راستہ ہے ؟ ابی (رض) نے فرمایا : کتاب اللہ کا جو حکم واضح ہو اس پر عمل کرو اور جو مشتبہ ہو اسے عام کے سپرد کرو۔ (رواہ البخاری فی تاریخہ وابن عساکر)
36331- "مسند أبي" عن عبد الرحمن بن أبزى قال: قلت لأبي بن كعب لما وقع الناس في أمر عثمان: أبا المنذر! ما المخرج من هذا الأمر؟ قال: كتاب الله ما استبان فاعمل به، وما اشتبه فكله إلى عالمه. "خ" في تاريخه، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٣٢۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ بنی مصطلق کا وفد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا کہنے لگے : آپ کے بعد ہم اپنے صدقات کسے دیں ؟ فرمایا : ابوبکر کو دینا وفد نے کہا : اگر ہم ابوبکر کو نہ پائیں ؟ فرمایا : عمر (رض) کو دینا وفد نے کہا : اگر ہم انھیں بھی نہ پائیں فرمایا : عثمان کو دینا وفد نے کہا : اگر ہم انھیں نہ پائیں ؟ فرمایا : عثمان کو دینا وفد نے کہا : اگر ہم انھیں نہ پائیں ؟ فرمایا : پھر اس کے بعد تمہاری زندگی میں کوئی بھلائی نہیں ہے (رواہ ابن عساکر
36332- عن أنس أن وفد بني المصطلق قدموا على النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: إلى من ندفع صدقاتنا بعدك؟ فقال: إلى أبي بكر، قالوا: فإن لم نجد أبا بكر؟ قال: إلى عمر، قالوا: فإن لم نجد عمر؟ قال: إلى عثمان، قالوا: فإن لم نجد عثمان؟ قال: فلا خير فيكم في الحياة بعد ذلك. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٣٣۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ بنی مصطلق کے وفد نے مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا اور کہا جاکر پوچھو کہ اگر ہم آئندہ سال آئیں اور آپ کو نہ پائیں ہم اپنے صدقات کسے دیں میں نے جا کر عرض کیا : حکم ہوا ان سے کہو : ابوبکر کو دیں وفد نے کہا : پوچھو اگر ہم ابوبکر کو نہ پائیں ؟ میں نے جا کر عرض کیا : فرمایا : ان سے کہو کہ عمر کو دیں میں نے انھیں آکر بتادیا۔ وفد نے کہا : جا کر پوچھو ! اگر ہم عمر (رض) کو نہ پائیں میں نے جاکر عرض یا حکم ہوا ان سے کہو : عثمان کو دیں اور جس دن عثمان (رض) قتل کیے جائیں اس دن ان کے لیے ہلاکت ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36333- عن أنس قال: وجهني وفد بني المصطلق إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: سله إن جئنا في العام المقبل فلم نجدك إلى من ندفع صدقاتنا؟ فقلت له، فقال: قل لهم: يدفعوها إلى أبي بكر، فقالوا قل له: فإن لم نجد أبا بكر؟ فقلت له، فقال: قل لهم: يدفعوها إلى عمر، فقلت لهم، فقالوا: قل له: فإن لم نجد عمر؟ فقلت له، فقال قل لهم: يدفعوها إلى عثمان وتبا1 لكم يوم يقتل عثمان. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٣٤۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عثمان ! تمہیں میرے بعد عنقریب خلافت ملے گی منافقین تم سے دستبرداری کا مطالبہ کریں گے اس سے دستبردار نہ ہونا اس دن روزہ رکھنا اور میرے پاس آکر روزہ افطار کرنا۔ (رواہ ابن عدی وابن عساکر)
کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ ٦٤٤١۔
کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ ٦٤٤١۔
36334- عن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا عثمان! إنك ستؤتى الخلافة من بعدي وسيريدك المنافقون على خلعها فلا تخلعها وصم في ذلك اليوم تفطر عندي. "عد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٣٥۔۔۔” مسند عثمان “ عبد الملک بن ہارون بن عنترہ اپنے والد و دادا سے روایت نقل کرتے ہیں کہ محمد بن ابوبکر حضرت عثمان (رض) کے پاس داخل ہوئے ان سے حضرت عثمان رضی الہ عنہ نے فرمایا : اے بھیجے ! میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ یکے بعد دیگرے میری شادی کرائی پھر آپ (رض) نے فرمایا : اے ابو ایم اے اخوایم کیا عثمان کی شادی کرا دی جائے ؟ اگر ہمارے پاس کوئی لڑکی ہوئی ہم اس کی شادی کرا دیتے میں نے بیعت رضوان چھوڑ دی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ دوسرے پر رکھا اور میرے لیے بیعت کردی اور فرمایا : یہ ہاتھ میرا ہے اور یہ عثمان کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ سے پاکیزہ و افضل تھا ؟ محمد بن ابی بکر نے کہا جی ہاں عثمان (رض) نے فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں علم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : جو شخص اس باغ کو خرید کر مسجد کا قبلہ درست کرے گا میں اس کے لیے جنت میں باغ کی ضمانت دیتا ہوں محمد بن ابوبکر نے کہا : جی ہاں پھر عثمان (رض) نے کہا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں علم ہے کہ مسلمان سخت بھوک کا شکار ہوگئے تھے میں نے بہت سارے دسترخواں پھیلائے اس پر روٹیاں ڈالیں پھر گھی اور شہد ڈالا اور سب کچھ ملا دیا یہ پہلا حلوہ ہے جو اسلام میں کھایا گیا ؟ کہا جی ہاں۔ فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ مسلمان سخت پیاسے ہوگئے تھے میں نے بہت بھاری خرچہ برداشت کرکے کنواں کھدوایا پھر وہ کنواں مسلمان پر صدقہ کردیا کمزور قوی سب برابر تھے ؟ کہا : جی ہاں فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ مدینہ سے غلہ ختم ہوگیا حتی کہ لوگ مرنے لگے ہیں بقیع خرقہ کی طرف گیا وہاں پندرہ اونٹ غلے سے لدے کھڑے تھے میں نے انھیں خرید لیا ان میں سے تین روک ہے اور بارہ اونٹ لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے دعا فرمائی کہ جو کچھ تم نے دیا ہے اس میں اللہ برکت کرے اور جو تم نے اپنے لیے رکھ لیا ہے اس میں بھی برکت کرے کہا جی ہاں مجھے علم ہے فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں ایک ہزار دینار لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور دینار آپ کی گود میں ڈال دئیے اور میں نے کہا : یا رسول اللہ ! ان سے مدد لیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے بعد عثمان جو عمل بھی کرے اسے نقصان نہیں پہنچائے گا کہا جی ہاں مجھے معلوم ہے۔ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حرا، پہاڑ پر تھا اتنے میں پہاڑ ہلنے لگا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہاڑ پر پاؤں مارا اور فرمایا : اے صراء رک جا تجھ پر یا تو نبی ہے یا صدیق ہے یا شہید ہے اس دن پہاڑ پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر عمر عثمان علی، طلحہ ، اور زبیر (رض) تھے ؟ محمد بن ابی بکر نے کہا : جی ہاں۔ (رواہ ابن ابی عاصم فی السنۃ)
36335- "مسند عثمان" عن عبد الملك بن هارون بن عنترة عن أبيه عن جده قال: دخل محمد بن أبي بكر على عثمان فقال له عثمان: يا ابن أخي! أنشدك بالله هل تعلم أن النبي صلى الله عليه وسلم زوجني ابنتيه إحداهما بعد الأخرى ثم قال: ألا أبا أيم ألا أخا أيم يزوجها عثمان؟ فلو كان عندنا شيء زوجناه، وتركت بيعة الرضوان فبايع لي رسول الله صلى الله عليه وسلم بيديه إحداهما على الأخرى وقال: هذه لي وهذه لعثمان، فكانت يد رسول الله صلى الله عليه وسلم أطهر وأطيب من يدي؟ قال نعم، قال: فأنشدك بالله هل تعلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من يشتري هذا النخل فيقوم قبلة المسجد وضمن له رسول الله صلى الله عليه وسلم نخلة في الجنة؟ قال: نعم، قال: فأنشدك بالله هل تعلم أن المسلمين جاعوا جوعا شديدا فجئت بالانطاع فبسطتها ثم صببت عليه الحوارى1 ثم جئت بالسمن والعسل فخلطت به وكان أول خبيص أكلوه في الإسلام؟ قال: نعم، قال: فأنشدك بالله هل تعلم أن المسلمين ظمأوا ظمأ شديدا فاحتفرت بئرا فأعظمت عليها النفقة ثم تصدقت بها على المسلمين؛ الضعيف فيها والقوي سواء؟ قال: نعم، قال: فأنشدك بالله هل تعلم أن الميرة انقطعت عن المدينة حتى جاع الناس فخرجت إلى بقيع الغرقد فوجدت خمسة عشر راحلة عليها طعام فاشتريتها وحبست منها ثلاثة وأتيت النبي صلى الله عليه وسلم باثنتي عشرة راحلة، فدعا لي النبي صلى الله عليه وسلم فقال: بارك الله لك فيما أعطيت وبارك لك فيما أمسكت؟ قال: نعم، قال: فأنشدك بالله هل تعلم أني أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بألف أصفر فصببتها في حجر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: استعن بها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما ضر عثمان ما عمل بعد اليوم؟ قال: نعم، قال: فأنشدك بالله هل تعلم أني كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على جبل حراء فرجف بنا فضربه النبي صلى الله عليه وسلم بقدمه فقال: اسكن حراء! فإنه ليس عليك إلا نبي أو صديق أو شهيد - وعلى الجبل يومئذ رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر وعثمان وعلي وطلحة والزبير - قال: نعم."ابن أبي عاصم في السنة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٣٦۔۔۔ ” ایضاً “ صعصعہ بن معاویہ لیثی کی روایت ہے کہ حضرت عثمان (رض) محصور تھے آپ نے پیغام بھجوا کر حضرت علی (رض) طلحہ زبیر اور بعض دوسرے صحابہ (رض) کو بلایا فرمایا : صبح حاضر ہوجاؤ اور ایسی جگہ پر آؤ جہاں سے تم مجھے سن سکو کہ میں ان بلوائیوں کے بارے میں کیا کہتا ہوں چنانچہ صبح کو یہ حضرات صحابہ کرام (رض) تشریف لائے عثمان (رض) نے ان پر اوپر سے جھانک کر فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں اس شخص کو جس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا : جو شخص اس باڑے کو خرید کو مسجد میں اضافہ کرے گا اس کے لیے جنت ہوگی دنیا میں سے اجر وثواب ملے گا اور جب تک مسجد باقی رہے گی اس کے درجات بلند ہوتے رہیں گے میں نے وہ بارہ بیس ہزار دراہم کا خرید کر مسجد میں شامل کردیا : لوگوں نے کہا : جی ہاں جب کہ خوارج نے کہا : انھوں نے سچ کہا لیکن آپ نے اسے بدل دیتا ہے پھر فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کہ کسی شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ : جو شخص رومہ کا کنواں خرید لے گا اس کے لیے جنت ہے چنانچہ رومہ کا کنواں میں نے خریدا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے مساکین کے لیے صدقہ کردو تمہارے لیے اجر وثواب اور جنت ہوگی لوگوں نے کہا : جی ہاں جب کہ خوارج کے کہا : انھوں نے سچ کہا لیکن آپ نے اسے بدل دیا ہے ان کے علاوہ بھی آپ نے بہت ساری چیزیں گئیں عثمان (رض) نے کہا : اللہ اکبر ۔ تمہاری ہلاکت ! بخدا تم جھگڑ رہے ہو جس شخص کا یہ منصب ہو وہ کیسے بدل سکتا ہے اے اہل شوری کی جماعت ! جان لو ! یہ لوگ کل تم سے بھی اسی طرح کہیں گے جس طرح مجھ سے آج کہہ رہے ہیں۔ چنانچہ جب لوگوں نے حضرت علی (رض) کے دور میں خروج کیا حضرت علی (رض) بھی اسی طرح انھیں واسطے دیتے ان کی تائید میں گواہی دی جاتی لیکن خوارج کہتے انھوں نے سچ کہا لیکن آپ بدل چکے ہیں حضرت علی (رض) فرماتے : مجھے آج نہیں قتل کیا جا رہا ہے بلکہ میں تو اس دن قتل کردیا گیا ہوں جس دن ابن بیضاء (عثمان (رض)) قتل کئے گئے تھے۔ (رواہ سیف وابن عساکر)
36336- "أيضا" عن صعصعة بن معاوية الليثي قال: أرسل عثمان وهو محصور إلى علي وطلحة والزبير وأقوام من الصحابة فقال: احضروا غدا وتكونوا حيث تسمعون ما أقول لهذه الخارجة، ففعلوا وأشرف عليهم فقال: أنشد الله من سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: من يشتري هذا المربد ويزيده في مسجدنا وله الجنة وأجره في الدنيا ما بقي درجات له، فاشتريته بعشرين ألفا وزدته في المسجد؟ قالوا: اللهم! نعم، وقال الخوارج: صدقوا ولكنك غيرت، ثم قال: أنشد الله من سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من يجهز جيش العسرة وله الجنة، فجهزتم حتى ما فقدوا عقالا ولا خطاما؟ قالوا: نعم، فقال الخوارج: صدقوا ولكنك غيرت، ثم قال: أنشد الله من سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من يشتري رومة وله الجنة! فاشتريتها فقال: اجعلها للمساكين ولك أجرها والجنة؟ قالوا: اللهم! نعم، قال الخوارج: صدقوا ولكنك غيرت، وعدد أشياء وقال: الله أكبر ويلكم خصمتم والله! كيف يكون من يكون هذا له مغيرا، يا أيها النفر من أهل الشورى! اعلموا أنهم سيقولون لكم غدا كما قالوا لي اليوم. فلما خرجوا بعد علي جعل علي ينشد الناس عن مثل ذلك ويشهد له به فيقولون: صدقوا ولكنك غيرت، فقال: ما اليوم قتلت ولكني قتلت يوم قتل ابن بيضاء."سيف، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٣٧۔۔۔ ” ایضاً “ ھزیل کی روایت ہے کہ طلحہ (رض) حضرت عثمان (رض) کے پاس داخل ہوئے حضرت عثمان (رض) نے کہا : اے طلحہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا : آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حراء پہاڑ پر تھے آپ نے فرمایا تھا۔ اے حراء ! قرار پکڑ تجھ پر یا تو نبی ہے یا صدیق ہے یا شہید ہے چنانچہ پہاڑ پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر عمر میں علی آپ زبیر عبد الرحمن بن عوف سعد بن مالک اور سعید بن زید (رض) تھے پھر کہا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں تم جانتے ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا نبی جنت میں ابوبکر جنت میں عمر جنت میں عثمان جنت میں علی جنت میں طلحہ جنت میں زبیر جنت میں عبد الرحمن بن عوف جنت میں سعید بن مالک جنت میں اور سعید بن زید جنت میں کہا : جی ہاں میں چاہتا ہوں میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں تم جانتے ہو کہ ایک سائل نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے چالیس درہم عطا کئے پھر ابوبکر سے سوال کیا : انھوں نے بھی چالیس درہم عطا کیے پھر عمر (رض) سے سوال کیا ۔ انھوں نے بھی اسے چالیس درہم عطا کیے پھر علی (رض) سے سوال کیا چنانچہ ان کے پاس کچھ نہیں تھا میں نے چالیس درہم اپنی طرف سے اور چالیس درہم علی (رض) کی طرف سے اسے عطا کیے وہ شخص دراہم لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے لیے برکت کی دعا کریں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیسے برکت نہیں ہوگی تجھے تو یا نبی نے عطا کیا ہے یا صدیق نے یا شہید نے ؟ طلحہ (رض) نے کہا : جی ہاں۔ (رواہ ابن عساکر)
36337- "أيضا" عن الهزيل قال: دخل طلحة على عثمان فقال له عثمان: أنشدك بالله يا طلحة! هل تعلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان على حراء فقال: اقرر حراء! فإن عليك نبيا أو صديقا أو شهيدا - وكان عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر وأنا وعلي وأنت والزبير وعبد الرحمن بن عوف وسعد بن مالك وسعيد بن زيد؟ ثم قال: أنشدك بالله يا طلحة! هل تعلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: النبي في الجنة وأبو بكر في الجنة وعمر في الجنة وعثمان في الجنة وعلي في الجنة وطلحة في الجنة والزبير في الجنة وعبد الرحمن بن عوف في الجنة وسعد ابن مالك في الجنة وسعيد بن زيد في الجنة؟ قال: اللهم! نعم، قال: نشدتك بالله لتعلم أن سائلا سأل النبي صلى الله عليه وسلم فأعطاه أربعين درهما ثم سأل أبا بكر فأعطاه أربعين درهما ثم سأل عمر فأعطاه أربعين درهما ثم سأل عليا فلم يكن عنده شيء فأعطيته أربعين عن علي وأربعين عني فجاء بها إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله ادع الله لي بالبركة، فقال: وكيف لا يبارك لك وإنما أعطاك نبي أو صديق أو شهيد؟ قال: اللهم! نعم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٣٨۔۔۔ محمد بن حسن کی روایت ہے کہ جب حضرت عثمان (رض) کے یہاں کھانے کی کثرت ہوگئی حضرت علی (رض) مقام ینبوع میں الگ جا بیٹھے حضرت عثمان (رض) نے انھیں خط لکھا : اما بعد ! گویا عقلمندی حد کو تجاوز کرگئی ہے اور سیلاب نے ٹیلے کو پیچھے چھوڑ دیا ہے معاملہ اپنی مقدار سے آگے بڑھ گیا ہے معاملے میں وہ شخص طمع کرنے لگا ہے جو اپنا بھی دفاع نہیں کرسکتا اگر ماکولات موجود ہوں تو آپ بہترین کھانے والے بن جائیں مگر نہ مجھے یا لو اور میں بھی ہر آزمائش سے دو چار نہیں ہوا۔ (رواہ المعافی بن زکریا فی الحلبس وابن عساکر)
36338- "أيضا" عن محمد بن الحسن قال: لما كثر الطعام على عثمان تنحى علي إلى ماله بينبع فكتب إليه عثمان: أما بعد فقد بلغ الحزام الطبيين وخلف السيل الزبى وبلغ الأمر فوق قدره وطمع في الأمر من لا يدفع عن نفسه فإن كنت مأكولا فكن خير آكل وإلا فأدركني ولما أمزق. المعافى بن زكريا في الجليس، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ اور قتل
٣٦٣٣٩۔۔۔ ” ایضاً “ اصمعی علی بن فضل بن ابی سوید فضل بن ابی سوید کی روایت نقل کرتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ جب عثمان (رض) کو ینوائیوں نے شہید کردیا تو انھوں نے آپ (رض) کی الماری کی تلاشی لی اس میں سے ایک صندوق برآمد ہوا صندوق مقفل تھا لوگوں نے صندوق کھولا اس میں ایک بند ڈبیا پائی۔ ڈبیا میں ایک ورق تھا اس میں لکھا تھا : یہ عثمان (رض) کی وصیت ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم : عثمان بن عفان گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں یہ کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ کہ جنت حق ہے دوزخ حق ہے یہ کہ اللہ تعالیٰ قبروں میں پڑے ہوئے مردوں کو اٹھائے گا ایک ایسے دن جس میں کوئی شک نہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہم اسی عقیدہ پر زندگی گزار رہے ہیں اور اسی پر مریں گے اور اسی پر انشاء اللہ اٹھائے جائیں گے۔ (رواہ ابن عساکر)
بسم اللہ الرحمن الرحیم : عثمان بن عفان گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں یہ کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ کہ جنت حق ہے دوزخ حق ہے یہ کہ اللہ تعالیٰ قبروں میں پڑے ہوئے مردوں کو اٹھائے گا ایک ایسے دن جس میں کوئی شک نہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہم اسی عقیدہ پر زندگی گزار رہے ہیں اور اسی پر مریں گے اور اسی پر انشاء اللہ اٹھائے جائیں گے۔ (رواہ ابن عساکر)
36339- "أيضا" عن الأصمعي عن العلى بن الفضل بن أبي سويد عن أبيه قال: أخبرت أنهم لما قتلوا عثمان بن عفان فتشوا خزانته فوجدوا فيها صندوقا مقفلا ففتحوه فوجدوا فيه حقة فيها ورقة مكتوب فيها: هذه وصية عثمان - بسم الله الرحمن الرحيم عثمان بن عفان يشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله وأن الجنة حق وأن النار حق وأن الله يبعث من في القبور ليوم لا ريب فيه وأن الله لا يخلف الميعاد، عليها نحيى وعليها نموت وعليها نبعث إن شاء الله.
"كر".
"كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٤٠۔۔۔ ” مسند زید بن ارقم (رض) “ ابو طفیل عامر بن واثلہ کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجۃ الوداع سے واپس لوٹے راستے میں غدیر خم کے مقام پر پڑاؤ کیا پھر چلنے کے لیے تیار ہوگئے اور فرمایا : یوں لگتا ہے گویا مجھے دعوت دی گئی ہے اور میں نے اسے قبول کرلیا ہے بلاشبہ میں نے تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑی ہیں ان میں سے ایک دوسری سے بڑھ کر ہے کتاب اللہ جو کہ آسمان سے زمین تک کھینچی ہوئی رسی ہے دوسری میری عزت اہل بیت ذرا دیکھنا تم میرے بعد ان دونوں کے ساتھ کیسا معاملہ کرتے ہو ان میں ہرگز تفرقہ نہیں پڑے گا جب تک کہ حوض پر میرے پاس واردنہ ہوجائیں پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ میرا مولیٰ ہے اور میں ہر مومن کا ولی ہوں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : جس شخص کا میں ولی ہوں علی بھی اس کا ولی ہے یا اللہ ! جو شخص علی سے دوستی رکھے تو بھی اس سے دوستی رکھ اور جو علی سے دشمنی رکھے تو بھی اسی سے دشمنی رکھ۔ میں نے زید (رض) سے کہا : آپ نے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بات سنی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا، دوحات میں جو شخص بھی تھا اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دونوں آنکھوں سے دیکھا اور دونوں کانوں سے سنا۔ (رواہ ابن جریر)
36340- "مسند زيد بن أرقم" عن أبي الطفيل عامر بن واثلة قال: لما رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم من حجة الوداع فنزل غدير خم أمر بدوحات فقمن ثم قام فقال: كأن قد دعيت فأجبت، إني قد تركت فيكم الثقلين أحدهما أكبر من الآخر: كتاب الله حبل ممدود من السماء إلى الأرض، وعترتي أهل بيتي، فانظروا كيف تخلفوني فيهما فإنهما لن يتفرقا حتى يردا علي الحوض، ثم قال: إن الله مولاي وأنا ولي كل مؤمن، ثم أخذ بيد علي فقال: من كنت وليه فعلي وليه، اللهم! وال من والاه وعاد من عاداه، فقلت لزيد: أنت سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال: ما كان في الدوحات أحد إلا قد رآه بعينيه وسمعه بأذنيه. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٤١۔۔” ایضاً “ عطیہ عوفی نے بھی حضرت ابو سعید خدوی (رض) سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ رواہ ابن جریر
36341- "أيضا" عن عطية العوفي عن أبي سعيد الخدري - مثل ذلك. ابن جرير.
তাহকীক: