কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬৩৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٤٢۔۔۔ ” ایضاً “ میمون ابو عبداللہ کی روایت ہے میں حضرت زید بن ارقم (رض) کے پاس تھا اتنے میں ایک شخص آیا اور حضرت علی (رض) کے بارے میں سوال کیا : زید (رض) نے کہا : ہم مکہ اور مدینہ کے درمیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے غدیر خم کے مقام پر ہم نے پڑاؤ کیا وہاں اعلان ہوا ” الصلوٰۃ جامعۃ “ لوگ جمع ہوگئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا : اے لوگو ! کیا میں ہر مومن کا اسی کی جان سے زیادہ حقدار نہیں ہوں ؟ ہم نے عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ ! ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ہر مومن کا اسی کی جان سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔ ارشاد فرمایا : جس کا میں دوست ہوں یہ بھی اس کا دوست ہے آپ نے حضرت علی (رض) کو ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا حالانکہ میں علی (رض) کو نہیں جانتا تھا یا اللہ ! جو علی کا دوست ہو تو بھی اس کا دوست ہوجا اور جو اس سے دشمنی رکھے تو بھی اس سے دشمنی رکھ۔ (رواہ ابن جریر)
36342- "أيضا" عن ميمون أبي عبد الله قال: كنت عند زيد بن أرقم فجاء رجل فسأل عن علي قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر بين مكة والمدينة فنزلنا مكانا يقال له "غدير خم" فأذن الصلاة جامعة، فاجتمع الناس فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: يا أيها الناس! ألست أولى بكل مؤمن من نفسه؟ قلنا: بلى يا رسول! نحن نشهد أنك أولى بكل مؤمن من نفسه، قال: فإني من كنت مولاه فهذا مولاه وأخذ بيد علي ولا أعلمه إلا قال: اللهم وال من والاه وعاد من عاداه. ابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٤٣۔۔۔ ” ایضاً “ عطیہ عوفی، حضرت زید بن ارقم (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” غدیرخم “ کے دن میرے کاندھے پکڑے پھر فرمایا : اے لوگو ! تم جانتے ہو کہ میں مومنین کا ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتا ہوں ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! ارشاد فرمایا جس کا دوست میں ہوں علی بھی اس کا دوست ہے۔ (رواہ ابن جریر)
36343- "أيضا" عن عطية العوفي عن زيد بن أرقم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذ بعضدي علي يوم غدير خم بأرض الجحفة ثم قال: أيها الناس! ألستم تعلمون أني أولى بالمؤمنين من أنفسهم؟ قالوا: بلى يا رسول الله! قال: من كنت مولاه فعلي مولاه. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٤٤۔۔۔ ” ایضاً “ ابوضحی زید بن ارقم (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں جس کا دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے۔ (رواہ ابن جریر)
36344- "أيضا" عن أبي الضحى عن زيد بن أرقم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من كنت وليه فعلي وليه."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٤٥۔۔۔ ” مسند زیاد بن ابی اوفی “ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام (رض) کے درمیان مواخات قائم کی حضرت علی (رض) نے کہا، میری روح نکل گئی اور میری پیٹھ ٹوٹ گئی جب میں نے آپ کو صحابہ (رض) کے درمیان مواخات قائم کرتے دیکھا اور مجھے مواخات میں شامل نہیں کیا۔ اگر یہ مجھ پر ناراضگی کی وجہ سے ہے تو سزا دینا یا عزت دینا آپ کے ہاتھ میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے میں نے تمہیں اپنے لیے موخر کیا ہے۔ مجھ سے آپ کا تعلق ایسا ہی ہے جیسا ہارون کا موسیٰ سے تھا۔ الا یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا تو میرا بھائی اور میرا وارث ہے حضرت علی (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں آپ سے وراثت میں کیا پاؤں گا ؟ ارشاد فرمایا : وہ کچھ جو مجھ سے پہلے انبیاء وراثت میں چھوڑتے تھے عرض کیا : آپ سے پہلے انبیاء نے وراثت میں کیا چھوڑا ہے ؟ ارشاد فرمایا : اپنے رب کی کتگاب اور اپنی سنت۔ تم جنت میں میرے محل میں میری بیٹی فاطمہ (رض) کے ساتھ ہوگے تو میرا بھائی اور جنت کا رفیق ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل فی کتاب مناقب علی)
36345- "مسند زيد بن أبي أوفى" لما آخى النبي صلى الله عليه وسلم بين أصحابه قال علي: لقد ذهب روحي وانقطع ظهري حين رأيتك فعلت بأصحابك ما فعلت غيري، فإن كان هذا من سخط علي فلك العتبى والكرامة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: والذي بعثني بالحق!ما أخرتك إلا لنفسي، وأنت مني بمنزلة هارون من موسى غير أنه لا نبي بعدي، وأنت أخي ووارثي؛ قال: وما أرث منك يا رسول الله؟ قال: ما ورث الأنبياء من قبلي، قال: وما ورث الأنبياء من قبلك؟ قال: كتاب ربهم وسنة نبيهم، وأنت معي في قصري في الجنة مع فاطمة ابنتي، وأنت أخي ورفيقي. "حم" في كتاب مناقب علي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٤٦۔۔۔ حضرات ابو ذر (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں ہم منافق کو صرف تین نشانیوں سے پہچانتے تھے۔ وہ اللہ اور اللہ کے رسول کی تکذیب کرتے تھے نماز میں پیچھے رہ جاتے تھے (٣) اور وہ علی بن ابی طالب (رض) سے بغض رکھتے تھے۔ (رواہ الخطیب فی المتفق)
36346- عن أبي ذر قال: ما كنا نعرف المنافقين على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا بثلاث: بتكذيبهم الله ورسوله، والتخلف عن الصلاة وببغضهم علي بن أبي طالب. "خط" في المتفق.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٤٧۔۔۔ حضرت ابو ذر (رض) کی روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بقیع غرقد میں تھا آپ نے ارشاد فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تمہارے درمیان ایک ایسا شخص موجود ہے جو میرے بعد تاویل قرآن پر لوگوں سے قتال کرے گا جیسے کہ میں نے تنزیل قرآن پر مشرکین سے قتال کیا ہے۔ حالانکہ وہ لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتے ہوں گے اور لوگوں پر ان کا قتل گراں گزرے گا حتیٰ کہ اللہ کے ولی پر طعنہ کریں گے اس کی کارروائی سے نالاں ہوں گے جس طرح کہ موسیٰ (علیہ السلام) کشتی میں سوراخ کرنے لڑکے کو قتل کرنے اور دیوار سیدھی کرنے کے معاملہ میں نالاں تھے حالانکہ کشتی میں سوراخ لڑکے کا قتل اور دیوار کو سیدھا کرنا اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لیے تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) اس پر برہم ہو رہے تھے۔ (رواہ الدیلمی)
36347- عن أبي ذر قال: كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو ببقيع الغرقد فقال: والذي نفسي بيده! إن فيكم رجلا يقاتل الناس من بعدي على تأويل القرآن كما قاتلت المشركين على تنزيله وهم يشهدون أن لا إله إلا الله فيكبر قتلهم على الناس حتى يطعنوا على ولي الله ويسخطوا عمله كما سخط موسى أمر السفينة وقتل الغلام وإقامة الجدار وكان خرق السفينة وقتل الغلام وإقامة الجدار لله رضى وسخط ذلك موسى. "الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٤٨۔۔۔ ” مسند سھل بن سعد ساعدی ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تشریف لائے حضرت علی (رض) کو مسجد میں لیٹے ہوئے دیکھا ان کی چادر کمر سے ہٹی ہوئی تھی اور کمر مٹی کے ساتھ لگنے کی وجہ سے خال آلود ہوگئی تھی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دست اقدس سے مٹی جھاڑنی شروع کردی اور فرمایا : اے ابو تراب بیٹھ جاؤ حضرت علی (رض) کو یہ نام بہت محبوب ہوا چنانچہ یہ نام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہی رکھا تھا۔ (رواہ ابو نعیم فی المعرفۃ)
36348- "مسند سهل بن سعد الساعدي" خرج النبي صلى الله عليه وسلم إلى المسجد فوجد عليا قد سقط رداؤه عن ظهره حتى خلص إلى التراب فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسحه بيده ويقول: اجلس أبا تراب! ما كان له اسم أحب إليه منه، ما سماه إياه إلا رسول الله صلى الله عليه وسلم. أبو نعيم في المعرفة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٤٩۔۔۔ ” مسند ابی رافع “ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو کسی کام کے لیے بھیجا جب واپس لوٹ آئے تو آپ (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس کا رسول اور جبرائیل امین تجھ سے راضی ہیں۔ (رواہ الطبرانی)
36349- "مسند أبي رافع" بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا مبعثا فلما قدم قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: الله ورسوله وجبريل عنك راضون. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٥٠۔۔۔ ” ایضاً “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو یمن روانہ کیا تاکہ آپ کے لیے جھنڈا قائم کریں جب چل پڑے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو رافع ! علی (رض) کے ساتھ جاملو انھیں آگے نہ بڑھنے دینا ادھر ادھر متوجہ نہ ہونا حتیٰ کہ اسے میرے پاس لیتے آؤ چنانچہ ابو رافع حضرت علی (رض) کو لیتے آئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بہت ساری وصیتیں کی اور پھر فرمایا : اے علی ! اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھ پر کسی ایک آدمی کو ہدایت دے دے تو یہ ان تمام موجودات سے افضل ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہو۔ (رواہ الطبرانی)
36350- "أيضا" بعث النبي صلى الله عليه وسلم عليا إلى اليمن يعقد له لواء فلما مضى قال: يا أبا رافع! الحقه ولا تدعه من خلفه وليقف ولا يلتفت حتى أجيئه، فأتاه فأوصاه بأشياء فقال: يا علي! لأن يهدي الله على يديك رجلا خير لك مما طلعت عليه الشمس. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٥١۔۔۔ ” مسند ابی سعید “ ایک دفعہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور ہمارے ساتھ بیٹھ گئے ہماری کیفیت یہ ہوگئی گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں ہم میں سے کسی کو بھی کلام کرنے کی جسارت نہ ہوئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم میں سے ایک شخص ایسا ہے جو ” تاویل قرآن “ پر لوگوں سے قتال کرے گا جس طرح کہ تنزیل قرآن پر تم سے قتال کیا گیا ابوبکر (رض) اٹھے اور بولے : یا رسول اللہ ! وہ شخص میں ہوں ؟ فرمایا : نہیں۔ عمر (رض) اٹھے اور بولے : یا رسول اللہ ! وہ شخص میں ہوں ؟ فرمایا : نہیں لیکن یہ وہ شخص ہے جو اپنی گود میں جوتا درست کررہا ہے چنانچہ حضرت علی (رض) ہمارے پاس آئے اور انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جوتا اٹھا رکھا تھا جسے درست کیا تھا۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل وابو یعلی والحاکم وابو نعیم فی الحلیۃ و سعید بن المنصور)
36351- "مسند أبي سعيد" قال كنا جلوسا في المسجد فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فجلس إلينا ولكأن على رؤسنا الطير لا يتكلم منا أحد فقال: إن منكم رجلا يقاتل الناس على تأويل القرآن كما قوتلتم على تنزيله، فقام أبو بكر فقال: أنا هو يا رسول الله؟ قال: لا، فقام عمر فقال: أنا هو يا رسول الله؟ قال: لا ولكنه خاصفالنعل في الحجرة، فخرج علينا علي ومعه نعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلح منها. "ش، حم، ع، حب، ك، حل، ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٥٢۔۔۔ حضرت عباس (رض) کی روایت ہے کہ میں اور علی (رض) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے جب آپ نے ہمیں دیکھا ارشاد فرمایا : تمہارے لیے خوشخبری ہے میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور تم دونوں عرب کے سردار ہو۔ (رواہ ابن عساکر)
36352- عن العباس قال: جئت أنا وعلي إلى النبي صلى الله عليه وسلم فلما رآنا قال: بخ لكما! أنا سيد ولد آدم وأنتما سيدا العرب. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٥٣۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ قرآن مجید میں جو سورت بھی نازل ہوئی حضرت علی (رض) اس کے معاملہ میں امیر اور شریف ثابت ہوئے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عتاب نازل کیا لیکن علی (رض) کے لیے خیر کا حکم ہی آتا رہا ہے۔ (رواہ ابو نعیم)
36353- عن ابن عباس قال: ما أنزل الله سورة في القرآن إلا كان علي أميرها وشريفها، ولقد عاتب الله أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم وما قال لعلي إلا خيرا. أبو نعيم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٥٤۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی (رض) نے حالت رکوع میں کسی سائل کو اپنی انگوٹھی صدقہ کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سائل سے پوچھا : یہ انگوٹھی تمہیں کس نے دی ہے ؟ سائل نے کہا : اس رکوع کرنے والے نے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کردی۔

انما ولیکم اللہ ورسولہ۔ اللہ اور اس کا رسول ہی تمہارا دوست ہے۔

حضرت علی (رض) کی انگوٹھی میں یہ کلمات کندہ تھے ” سبحان من فخرنی بابی لہ عبد “ پاک ہے وہ ذات جس نے مجھ پر فخر کیا کہ میں اس کا بندہ ہوں۔ پھر حضرت علی (رض) نے اپنی انگوٹھی پر یہ کلمات کندہ کروائے۔” الملک للہ “ یعنی بادشاہت صرف اللہ ہی کے لیے ہے۔ (رواہ الخطیب فی المتفق وفیہ مطلب من زیاد وتفہ احمد بن حنبل وابن معین وقال ابو حاتم لایحیح بحدیثہ)
36354- عن ابن عباس قال: تصدق علي بخاتمه وهو راكع فقال النبي صلى الله عليه وسلم للسائل: من أعطاك هذا الخاتم؟ قال: ذاك الراكع فأنزل الله فيه "إنما وليكم الله ورسوله" وكان في خاتمه مكتوبا: سبحان من فخرني بأني له عبد. ثم كتب في خاتمه بعد: الملك لله. "خط" في المتفق وفيه مطلب بن زياد وثقه "حم" وابن معين، وقال أبو حاتم: لا يحتج بحديثه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٥٥۔۔۔ بن عباس (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت فاطمہ (رض) کی شادی حضرت علی (رض) سے کردی حضرت فاطمہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کسی فقیر شخص سے میری شادی کرادیں جس کے پاس کوئی چیز نہ ہو۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم راضی نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اہل زمین میں سے وہ شخصوں کو چن لیا ہے ؟ ان میں سے ایک تیرا باپ ہے اور دوسرا تیرا خاوند۔ (رواہ الخطیب فیہ ۔۔۔ حسن)

کلام :۔۔۔ حدیث پر کلام کیا گیا ہے دیکھئے التزیبۃ ١/٣٩٢ والمتناعیۃ ٣٥١۔
36355- عن ابن عباس قال: لما زوج النبي صلى الله عليه وسلم فاطمة من علي قالت فاطمة: يا رسول الله! زوجني من رجل فقير ليس له شيء فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أما ترضين أن الله اختار من أهل الأرض رجلين:أحدهما أبوك والآخر زوجك. "خط" فيه وسنده حسن.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٥٦۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) نے فرمایا تم میرے بھائی اور میرے دوست ہو جب کہ جعفر (رض) سے فرمایا تم میری خلق اور میرے اخلاق سے مشابہت رکھتے ہو۔ (رواہ ابن الحسن)
36356- عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لعلي: أنت أخي وصاحبي، وقال لجعفر: أشبهت خلقي وخلقي. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٥٧۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں اور عمر بن خطاب (رض) ۔۔۔ چہل قدمی کر رہے تھے عمر (رض) نے کہا : اے ابن عباس ! میرا گمان ہے کہ لوگ تمہارے صاحب کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں چونکہ جب انھوں نے تمہارے امور کا امیر مقرر نہیں کیا۔ میں نے کہا اللہ کی قسم ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حقارت کی نظر سے نہیں دیکھا جب آپ نے اہل مکہ پر سورت ۔۔۔ پڑھنے کے لیے انھیں ترجیح دی تو عمر (رض) نے فرمایا درست ہے بخدا ! میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علی (رض) نے فرماتے سنا ہے۔ جو شخص تم سے محبت کرتا ہے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو مجھ سے محبت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے۔ اور جو اللہ سے محبت کرتا ہے اللہ تعالیی اسے جنت میں داخل کرے گا۔ (رواہ ابن عساکر وقال ھذا ۔۔۔ نتسع)
36357- عن ابن عباس قال: مشيت وعمر بن الخطاب في بعض أزقة المدينة فقال: يا ابن عباس! أظن القوم استصغروا صاحبكم إذ لم يولوه أموركم، فقلت: والله ما استصغره رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ اختاره لسورة براءة يقرأها على أهل مكة، فقال لي: الصواب تقول والله لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لعلي بن أبي طالب: من أحبك أحبني ومن أحبني أحب الله، ومن أحب الله أدخله الجنة مدلا. "كر" وقال: هذا إسناد معروف ومتن منكر ورجال الإسناد مشاهير سوى أبي القاسم عيسى بن الأزهر المعروف ببلبل فإنه غير مشهور وعبد الرزاق تشيع.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٥٨۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) نہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عباس (رض) کا ہاتھ پکڑے ہوئے تشریف لائے اور ارشاد فرمایا ! جس شخص نے اس سے بغض رکھا اس نے اللہ اور اللہ کے رسول سے بغض کیا جس نے اس سے محبت کی اسنے اللہ اور اللہ کے رسول سے محبت کی ۔ (رواہ ابن النجار وفیہ اسحاق بن بشیر ابو مدبقۃ البخاری
36358- عن ابن عباس قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم قابضا على يد علي ذات يوم فقال: ألا! من أبغض هذا فقد أبغض الله ورسوله، ومن أحب هذا فقد أحب الله ورسوله.

"ابن النجار وفيه إسحاق بن بشر أبو حذيفة البخاري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٥٩۔۔۔ ” مسند عبداللہ بن عمر “ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم تیم خصلتیں ایسی ہیں کہ ان میں سے ایک مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہے۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علی (رض) سے اپنی بیٹی کی شادی کرائی اور ان سے ۔۔۔ دروازے کے دروازے بند کئے اور خیبر کے موقع پر انہی کو صبر ۔۔۔ کیا۔ (رواہ ابن ابی سیبۃ)
36359- "مسند عبد الله بن عمر" لعله كذا بأصله: قال: قال عمر بن الخطاب، أو قال: أبي - والله أعلم: ثلاث خصال لأن تكون لي واحدة منهن أحب إلي من حمر النعم: زوجه ابنته فولدت له، وسد الأبواب إلا بابه، وأعطاه الحربة يوم خيبر. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٦٠۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے علی تم جنتی ہے۔ ابن النجار
36360- عن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا علي! أنت في الجنة."ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٦١۔۔۔ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ام سلمہ (رض) کے گھر تشریف فرما تھے اتنے میں حضرت علی (رض) آگئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ! اے ام سلمہ ! اللہ کی قسم یہ ظالموں کو عہد توڑنے والوں کو اور شرپسندوں کو میرے بعد قتل کرے گا۔ (رواہ الحاکم فی الاربعی ابن عساکر)

کلام : ۔۔۔ حدیث میں کلام ہے دیکھتے اللآلی ٠/٤١۔
36361- عن ابن مسعود قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتى منزل أم سلمة فجاء علي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أم سلمةّ! هذا والله قاتل القاسطين والناكثين والمارقين من بعدي. "ك" في الأربعين، "كر".
tahqiq

তাহকীক: