কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬৩৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٦٢۔۔۔ عفیف کندی کی روایت ہے کہ میں جاہلیت میں مکہ آیا میرا ارادہ تھا کہ میں گھر والوں کے لیے کپڑے اور خوشبو وغیرہ خرید لوں اس مقصد کے لیے میں عباس (رض) کے پاس آیا وہ اس وقت تاجر تھے میں ان کے پاس بیٹھا کعبہ کی طرف دیکھ رہا تھا سورج ساف ہو کر آسمان میں بلند ہونے لگا تھا یکایک ایک شخص آیا آسمان کی طرف دیکھا پھر کعبہ کی طرف منہ کرکے کھڑا ہوگیا تھوڑی دیر گزری تھی کہ ایک لڑکا آیا اور اس کی دائیں طرف کھڑا ہوگیا پھر تھوڑی دیر کے بعد ایک عورت آئی اور ان کے پیچھے کھڑی ہوئی وہ شخص جھک گیا اس کے ساتھ لڑکا اور عورت بھی جھک گئے اس شخص نے سر اٹھایا اس کے ساتھ لڑکے اور عورت نے بھی سر اٹھایا اس نے سجدہ کیا لڑکے اور عورت نے بھی سجدہ کیا میں نے کہا : اے عبس ! یہ کیا عظیم معاملہ ہے جواب دیا : جی ہاں یہ عظیم معاملہ ہے کیا تم اس شخص کو جانتے ہو ؟ یہ میرا بھتیجا محمد بن عبداللہ ہے اس لڑکے کو جانتے ہو ؟ یہ مرا بھتیجا علی ہے۔ اس عورت کو جانتے ہو ؟ یہ اس شخص کی بیوی خدیجہ بنت خویلد ہے میرا یہ بھتیجا کہتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کا رب اس کا رب ہے اسی نے اسے اس دین کا حکم دیا ہے اس دین پر زمین کے اوپر ان تینوں کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ (رواہ ابن عدی وابن عساکر وفیہ سعید بن حیثم الھلالی قال الازدی : منکر الحدیث عن اسد ابن عبداللہ العسری قال البخاری لایتابع علی حدیثہ)

فائدہ :۔۔۔ اس حدیث سے تشیع کی بدبو آرہی ہے بھلا ابوبکر (رض) جو ہر وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہتے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھیں اور ابوبکر حاضر نہ ہوں۔ (فافھم وتامل۔
36362- عن عفيف الكندي قال: جئت في الجاهلية إلى مكة وأنا أريد أن ابتاع لأهلي من ثيابها وعطرها فأتيت العباس وكان رجلا تاجرا فإني عنده جالس أنظر إلى الكعبة وقد كلفت الشمس وارتفعت في السماء فذهبت إذ أقبل شاب فنظر إلى السماء ثم قام مستقبل الكعبة فلم ألبث إلا يسيرا حتى جاء غلام فقام عن يمينه ثم لم ألبث إلا يسيرا حتى جاءت امرأة فقامت خلفهما فركع الشاب فركع الغلام والمرأة فرفع الشاب فرفع الغلام والمرأة فسجد الشاب فسجد الغلام والمرأة، فقلت: يا عباس! أمر عظيم؟ فقال: أمر عظيم، تدري من هذا الشاب؟ هذا محمد بن عبد الله بن أخي، تدري من هذا الغلام؟ هذا علي ابن أخي، تدري من هذه المرأة؟ هذه خديجة بنت خويلد؛ زوجته؛ إن ابن أخي هذا حدثني أن ربه رب السماوات والأرض أمره بهذا الدين ولا والله ما على ظهر الأرض أحد على هذا الدين غير هؤلاء الثلاثة. "عد، كر"؛ وفيه سعيد بن خيثم الهلالي، قال الأزدي: منكر الحديث عن أسد بن عبد الله العسري، قال "خ": لا يتابع على حديثه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٦٣۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ میں اسلام لانے میں صحابہ (رض) پر سبقت لے گیا ہوں چنانچہ جب میں نے اسلام قبول کیا اس وقت میں سن بلوغت کو نہیں پہنچا تھا۔ (رواہ البیہقی وصعفہ وابن عساکر)
36363- عن علي قال: سبقتهم إلى الإسلام قدما غلاما ما بلغت أوان حلمي. "هق" وضعفه، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٦٤۔۔۔ ” ایضاً “ جبیر شعبی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ سے حیاء کرتا ہوں کہ کہیں میری درگذر سے میرا گناہ عظیم تر نہ ہو یا میری جہالت میری عقلمندی سے بڑھی ہوئی نہ ہو یا میری بےپردگی ایسی نہ ہو جسے میرا ستر چھپا نہ سکے یا ایسی دوستی نہ ہو جسے میری جودوسخا مسدود نہ کرسکتی ہو۔ (رواہ ابن عساکر)
36364- "أيضا" عن جبير عن الشعبي قال قال علي: إني لأستحيي من الله أن يكون ذنب أعظم من عفوي، أو جهل أعظم من حلمي، أو عورة لا يواريها ستري، أو خلة لا يسدها جودي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٦٥۔۔۔ ” ایضاً “ شعبی کی روایت ہے کہ ابوبکر (رض) شاعر تھے عمر (رض) بھی شاعر تھے لیکن علی (رض) دونوں سے بڑے شاعر تھے۔ (رواہ ابن عساکر)
36365- "ايضا" عن الشعبي قال: كان أبو بكر شاعرا، وكان عمر شاعرا وكان علي أشعر الثلاثة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٦٦۔۔۔ ” ایضاً “ ابو عبیدہ کی روایت ہے کہ حضرت معاویہ (رض) نے علی بن ابی طالب (رض) کو خط لکھا جس کا مضمون یہ ہے : اے ابو الحسن میرے بہت سے فضائل ہیں میرا باپ جاہلیت میں سردار تھا اور میں اسلام میں بادشاہ ہوگیا ہوں میرا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سسرالی رشتہ ہے میں مومنین کا ماموں ہوں کاتب وحی ہوں حضرت علی (رض) نے جواب میں لکھا : اے ابو الفضائل جگرے چبانے والی عورت کے بیٹے ! مجھ پر فخر کرتا ہے ؟ پھر فرمایا : اے لڑکے لکھو !

محمد النبی اخی وصھری وحمزۃ سید الشھداء عمی

محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کہ نبی ہیں میرے بھائی اور سسر ہیں جب کہ حمزہ (رض) سید الشھداء میرے چچا ہیں۔

وجعفر الذی یبسی ویضحی یطیر مع الملائکۃ ابن امی

اور جعفر (رض) صبح و شام فرشتوں کے ساتھ اڑ رہے ہیں وہ میرے ماں جائے ہیں۔

بنت محمد سکنی وعرسی منوط لحمھا برمی ولحمی

محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی میری بیوی اور میری دلہن ہے اس کی جان میری جان سے ملی ہوئی ہے۔

وسبطا احمد ولدای منھا فایکم لہ سھم کسھمی

محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دو نواسے جو ان کی بیٹی سے ہیں دونوں میرے بیٹے ہیں تم میں سے کون ہے جس کا حصہ میرے حصے جیسا ہو

سبقتکم الی الاسلام طرا صغیر اما بلغت اوان حلمی

میں بچپن ہی میں اسلام کی طرف تم پر سبقت لے گیا ابھی تک تو میں بالغ بھی نہیں ہوا تھا۔

حضرت معاویہ (رض) نے فرمایا : اس خط کو چھپا دو کہیں اسے اہل شام پڑھ کر علی بن ابی طالب کی طرف مائل نہ

ہوجائیں۔ (رواہ ابن عساکر)
36366- "أيضا" عن أبي عبيدة قال: كتب معاوية إلى علي بن أبي طالب: يا أبا الحسن! إن لي فضائل كثيرة وكان أبي سيدا في الجاهلية وصرت ملكا في الإسلام وأنا صهر رسول الله صلى الله عليه وسلم وخال المؤمنين وكاتب الوحي، فقال علي: أبا الفضائل تفخر علي ابن آكلة الأكباد؟ ثم قال: اكتب يا غلام!

محمد النبي أخي وصهري. ... وحمزة سيد الشهداء عمي

وجعفر الذي يمسي ويضحى. ... يطير مع الملائكة ابن أمي

وبنت محمد سكني وعرسي ... منوط لحمها بدمي ولحمي

وسبطا أحمد ولداي منها. ... فأيكم له سهم كسهمي

سبقتكم إلى الإسلام طرا. ... صغيرا ما بلغت أوان حلمي

فقال معاوية: أخفوا هذا الكتاب لا يقرأه أهل الشام فيميلون إلى ابن أبي طالب. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٦٧۔۔۔ زید بن علی بن حسین بن علی اپنے والد اور دادا کی سند سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت (رض) نے فرمایا : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں عہد توڑنے والوں خوارج اور ظالموں سے قتال کروں۔ (رواہ ابن عساکر)

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے اللالی ١/٤١١۔
36367- "عن زيد بن علي بن الحسين بن علي عن أبيه عن جده عن علي قال: أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم بقتال الناكثين والمارقين والقاسطين. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٦٨۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں بیمار پڑگیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے میں لیٹا ہوا تھا میرے پہلو میں آئے اور مجھے کپڑے سے ڈھانپ دیا جب آپ نے مجھے دیکھا کہ میں کمزور ہوچکا ہوں آپ مسجد کی طرف اٹھ کھڑے ہوئے جب نماز سے فارغ ہوئے واپس لوٹ آئے اور مجھ سے کپڑا اٹھا لیا اور فرمایا : اے علی ! کھڑے ہوجاؤ تم تندرست ہوچکے ہو۔ میں اٹھ بیٹھا یوں لگا گویا مجھے کوئی شکایت ہی نہیں ہے پھر آپ نے فرمایا : میں نے اپنے رب سے جو چیز بھی مانگی ہے مجھے ضرور عطاء کی ہے میں نے اللہ تعالیٰ سے جب بھی کوئی چیز مانگی ہے تیرے لیے مانگی ہے۔ (رواہ ابو نعیم فی فضائل الصحابۃ)
36368- عن علي قال: مرضت مرة فعادني رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل وأنا مضطجع فأتى إلى جنبي فسجاني بثوبه، فلما رآني قد ضعفت قام إلى المسجد يصلي، فلما قضي صلاته جاء فرفع الثوب عني ثم قال: قم يا علي! قد برأت، فقمت فكأني ما اشتكيت، فقال: ما سألت ربي شيئا إلا أعطاني، وما سألت الله شيئا إلا سألت لك. "أبو نعيم في فضائل الصحابة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٦٩۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایات ہے کہ یمن سے کچھ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : ہمارے یہاں ایک شخص بھیجیں جو ہمیں دین اور سنن کی تعلیم دے اور ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کرے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ! تم یمن والوں کے پاس چلے جاؤ اور انھیں دین وسنن کی تعلیم دو اور کتاب اللہ کے مطابق ان کے درمیان فیصلے کرو میں نے عرض کیا : اہل یمن کم عقل لوگ ہیں۔ وہ میرے پاس ایسے قضیئے لائیں گے جنکا میرے پاس علم نہیں ہوگا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور پھر فرمایا : جاؤ اللہ تعالیٰ تمہارے دل کی راہنمائی فرمائے گا اور تمہاری زبان کو ثابت قدم رکھے گا چنانچہ اس کے بعد مجھے تاقیامت کسی فیصلہ کے متعلق شک نہیں ہوا۔ (رواہ ابن جریر)
36369- عن علي قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم ناس من اليمن فقالوا: ابعث فينا من يفقهنا في الدين ويعلمنا السنن ويحكم فينا بكتاب الله، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: انطلق يا علي إلى أهل اليمن ففقهم في الدين وعلمهم السنن واحكم فيهم بكتاب الله، فقلت: إن أهل اليمن قوم طغام يأتوني من القضاء بما لا علم لي به، فضرب النبي صلى الله عليه وسلم صدري ثم قال: اذهب فإن الله سيهدي قلبك ويثبت لسانك فما شككت في قضاء بين اثنين حتى الساعة "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٧٠۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فاطمہ (رض) سے نکاح کا پیغام بھیجا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکار کردیا حضرت عمر (رض) کہا : اے علی ! فاطمہ (رض) تمہارے ہی لیے ہے حضرت علی (رض) نے کہا : میرے پاس تو سوائے زرہ اونٹ اور تلوار کے کچھ نہیں ہے ایک دن حضرت علی (رض) کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سامان ہوگیا ارشاد فرمایا : اے علی ! تمہارے پاس کچھ ہے ؟ عرض کیا : میں نے اپنا اونٹ اور زدہ رہن رکھے ہوئے ہیں چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاطمہ (رض) کی مجھ سے شادی کرا دی جب فاطمہ (رض) کو خبر ہوئی تو وہ رونے لگیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس گئے اور فرمایا : تم کیوں رو رہی ہو اے فاطمہ ! اللہ کی قسم میں نے ایسے شخص سے تمہارا نکاح کرایا ہے جو علم میں سب سے آگے بردبادی میں سب سے بڑھ کر ہے اور اسلام لانے میں سب سے مقدم ہے (رواہ ابن جریر و صحیحہ والدولابی فی الذریۃ الطاھرۃ)
36370- عن علي قال: خطب أبو بكر وعمر فاطمة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأبى رسول الله صلى الله عليه وسلم عليهما، فقال عمر: أنت لها يا علي! قال: مالي من شيء إلا درعي وجملي وسيفي، فتعرض علي ذات يوم لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا علي! هل لك من شيء؟ قال: جملي ودرعي أرهنهما، فزوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة، فلما بلغ فاطمة ذلك بكت، فدخل عليها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ما لك تبكين يا فاطمة! والله أنكحتك أكثرهم علما وأفضلهم حلما وأقدمهم سلما وفي لفظ: أولهم سلما. "ابن جرير وصححه والدولابي في الذرية الطاهرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٧١۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے بنی عبد المطلب ! میں تمہارے پاس دنیا و آخرت کی بھلائی لے کر آیا ہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اس کی دعوت دوں لہٰذا تم میں سے کون شخص اس امر میں میرا دست راست بنے گا بایں طور کہ وہ میرا بھائی میرا وصی اور میرا خلیفہ ہو چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے گردن سے پکڑا اور پھر فرمایا : یہ میرا بھائی میرا وصی اور خلیفہ ہے اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ (رواہ ابن جریر وفیہ عبد الغفار بن القاسم قال فی المغنی ترکوہ)
36371- عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا بني عبد المطلب! إني قد جئتكم بخير الدنيا والآخرة وقد أمرني الله أن أدعوكم إليه فأيكم يؤازرني على هذا الأمر على أن يكون أخي ووصيي وخليفتي فيكم؟ قال: فأحجم القوم عنها جميعا وقلت: يا نبي الله! أكون وزيرك عليه؟ فأخذ برقبتي ثم قال: هذا أخي ووصيي وخليفتي فيكم، فاسمعوا له وأطيعوا. "ابن جرير وفيه عبد الغفار بن القاسم، قال في المغنى، تركوه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٧٢۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے علم کے ہزار ابواب سکھائے ہیں اور ہر باب کے ایک ایک ہزار ابواب ہیں۔ (رواہ ابو احمد الفرضی فی جزلہ وفیہ الاحلج ابو حجیۃ قال فی المغنی صدوق شیعی جلدو ابو نعیم فی الحلیۃ)
36372- عن علي قال: علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم ألف باب كل باب يفتح ألف باب."أبو أحمد الفرضي في جزئه، وفيه الأجلح أبو حجية، قال في المغني: صدوق شيعى جلد، حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٧٣۔۔۔ ربعی بن خراش کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کو فرماتے ہوئے سنا آپ (رض) مدائن میں تھے : سھیل بن عمرو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور عرض کیا : ہمارے کچھ غلام تمہارے پاس آئے ہیں ان میں دین کی کوئی سمجھ بوجھ نہیں آپ انھیں واپس کردیں، ابوبکر (رض) و عمر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ سچ کہتا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے جماعت قریش ! تم ہرگز ناز نہیں آؤ گے جب تک کہ اللہ تعالیی تمہارے اوپر ایسے شخص کو نہیں بھیجے گا جس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے ایمان سے جانچ لیا ہے وہ تمہاری گردنیں مارے گا اور تم بھیڑ بکریوں کی طرح اس سے بھاگو گے ابوبکر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ شخص میں ہوں ؟ فرمایا : نہیں عمر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ وہ شخص میں ہوں ؟ فرمایا نہیں : لیکن یہ وہ شخص ہے جو جوتا گانٹھ رہا ہے راوی کہتا ہے حضرت علی (رض) کے ہاتھ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جوتا تھا جسے وہ گانٹھ رہے تھے۔ (رواہ الخطیب)
36373- عن ربعي بن خراش قال: سمعت عليا يقول وهو بالمدائن: جاء سهيل بن عمرو إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إنه قد خرج إليك أناس من أرقائنا ليس بهم الدين تعبدا فارددهم إلينا، فقال له أبو بكر وعمر: صدق يا رسول الله! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لن تنتهوا معشر قريش حتى يبعث الله عليكم رجلا امتحن الله قلبه بالإيمان يضرب أعناقكم وأنتم مجفلون عنه إجفال الغنم، فقال أبو بكر: أنا هو يا رسول الله! قال: لا: قال عمر: أنا هو يا رسول الله؟ قال: لا ولكنه خاصف النعل، قال: وفي كف علي نعل يخصفها لرسول الله صلى الله عليه وسلم. "خط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٧٤۔۔۔” مسند صدیق “ معقل بن یسار مزنی کی روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو فرماتے سنا کہ علی بن ابی طالب (رض) عترت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ (رواہ البیہقی وقال : فی اسنادہ بعض من یجھل)
36374- "مسند الصديق" عن معقل بن يسار المزني قال: سمعت أبا بكر الصديق يقول: علي بن أبي طالب عترة رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ق" وقال: في إسناده بعض من يجهل.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٧٥۔۔۔ شعبی کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت علی (رض) کو دیکھا اور فرمایا جسے یہ بات خوش کرے کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرتبہ کے اعتبار سے عظیم تر کو دیکھے آپ سے قرابتداری میں سب سے اقرب کو دیکھے دلدلت کے اعتبار سے سب سے افضل کو دیکھے اور نبی سے سب سے زیادہ نفع اٹھانے والے کو دیکھے اسے چاہیے کہ وہ اس شخص کو دیکھ لے حضرت علی (رض) کو جب یہ بات پہنچی تو انھوں نے فرمایا : ابوبکر جب یہ بات کہتے ہیں تو وہ بہت ہی نرم دل، امت میں سب سے زیادہ رحیم، ٖغار میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی اور وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دست بدست سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ہیں۔ (رواہ ابن ابی الدنیا فی کتاب الاشراف وابن مردویہ والحاکم)
36375- عن الشعبي قال: رأى أبو بكر عليا فقال: من سره أن ينظر إلى أعظم الناس منزلة من رسول الله صلى الله عليه وسلم وأقربه قرابة وأفضله دالة وأعظمه غناء1 عن نبيه فلينظر إلى هذا، فبلغ عليا قول أبي بكر فقال: أما إذا قال ذاك إنه لأواه وإنه لأرحم الأمة وإنه لصاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم في الغار وإنه لأعظم الناس غناء عن نبيه صلى الله عليه وسلم في ذات يده."ابن أبي الدنيا في كتاب الأشراف وابن مردويه، ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٧٦۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : علی بن ابی طالب (رض) کی تین خصلتیں عطا کی گئی ہیں مجھے اگر ان میں سے ایک بھی مل جائے تو وہ سرخ اونٹوں سے زیادہ افضل ہوگی عرض کیا گیا : وہ کیا ہیں ؟ فرمایا : علی (رض) نے فاطمہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شادی کی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مسجد میں علی (رض) کی سکونت تھی جو نبی کے لیے حلال تھا وہ ان کے لیے بھی حلال تھا اور خیبر کے موقع پر چھنڈا انھیں ملا۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
36376- عن علي قال: قال عمر بن الخطاب: لقد أعطي علي بن أبي طالب ثلاث خصال لأن تكون في خصلة منها أحب إلي من أن أعطى حمر النعم، قيل: وما هي يا أمير المؤمنين؟ قال: تزوج فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم، وسكناه المسجد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يحل له ما فيه يحل له، والراية يوم خيبر. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٧٧۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : صبح میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اللہ کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر خیبر کو فتح کرے گا حضرت عمر (رض) کہتے ہیں : میں نے اس دن کے علاوہ امارت کی کبھی تمنا نہیں کی چنانچہ صبح ہوئی میں اس کا امیدوار تھا تاہم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی کھڑے ہوجاؤ اور حملہ کر دو اور ادھر ادھر التفات نہیں کرنا حتی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھ پر فتح نصیب فرمائے حضرت علی (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں کس شرط پر ان سے قتال کروں ارشاد فرمایا : ان سے قتال کرو حتیٰ کہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کریں جب وہ اقرار کریں ان کی جانیں اور ان کے اموال محفوظ و محترم ہوگئے الا یہ کہ کسی حق کے ساتھ ۔ (رواہ ابن عندہ فی تاریخ اصبھان)
36377- عن أبي هريرة قال: قال عمر: إن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لأدفعن اللواء غدا إلى رجل يحب الله ورسوله يفتح الله به، قال عمر: ما تمنيت الإمرة إلا يومئذ، فلما كان الغد تطاولت لها، فقال: يا علي! قم اذهب فقاتل ولا تلتفت حتى يفتح الله عليك، فلما قفى كره أن يلتفت فقال: يا رسول الله! علام أقاتلهم؟ قال: حتى يقولوا: لا إله إلا الله، فإذا قالوها حرمت دماؤهم وأموالهم إلا بحقها. "ابن منده في تاريخ أصبهان".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٧٨۔۔۔ اسلم بن فضل بن سہل، حسین بن عبید اللہ ابزاری بغدادی، ابراہیم بن سعید جوہری، امیر المومنین مامون رشید مھدی منصور اپنے والد سے عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت ہے کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) کو فرماتے سنا : علی بن ابی طالب کے تذکرہ سے رک جاؤ چونکہ میں ان میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حاصل کی ہوئی خصلتیں دیکھ چکا ہوں ان میں سے اگر ایک بھی آل خطاب میں ہوئی مجھے وہ اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے میں ابوبکر ابو عبیدہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) کی ایک جماعت میں تھے میں ام سلمہ (رض) کے دروازے تک جا پہنچا۔ دروازے پر علی (رض) کھڑے تھے ہم نے عرض کیا : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارادہ سے آئے ہیں حضرت علی (رض) نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر آنا چاہتے ہیں۔ آپ تشریف لائے اور علی بن ابی طالب (رض) کا سہارا لے لیا پھر علی (رض) کاندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا : تجھ سے خصومت اور جھگڑا کیا جائے گا تو ایمان کے اعتبار سے پہلا مومن ہے سب سے زیادہ اللہ کے امام کا علم رکھتا ہے سب سے زیادہ وعدہ وفا ہے درستی پر زیادہ چلنے والا ہے رعیت پر سب سے زیادہ مہربان ہے تو میرا بازو ہے مجھے غسل دینے والا ہے مجھے دفن کرنے والا ہے ہر سختی اور پریشانی کی طرف آگے بڑھنے والا ہے میرے بعد کافر نہیں ہوگا تو حمد کا جھنڈا اٹھائے مجھ سے آگے چلے گا اور حوض کوثر میں میرے ساتھ ہوگا پھر ابن عباس (رض) نے فرمایا : علی (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سسرالی رشتہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے خاندان میں ان کا غلبہ ہے عام استعمال کی چیزیں دینے والے ہیں تنزیل و تاویل کا علم رکھتے ہیں ہم عمروں سے آگے بڑھنے والے ہیں۔ کلام :۔۔۔ حدیث موضوع ہے محدثین نے آبزار کو کذاب کہا ہے۔
36378- أنا أسلم بن الفضل بن سهل ثنا الحسين بن عبيد الله الأبزاري البغدادي ثنا إبراهيم بن سعيد الجوهري حدثني أمير المؤمنين المأمون حدثني الرشيد حدثني المهدي حدثني المنصور حدثني أبي حدثني عبد الله بن عباس قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: كفوا عن ذكر علي بن أبي طالب فقد رأيت من رسول الله صلى الله عليه وسلم فيه خصالا لأن تكون لي واحدة منهن في آل الخطاب أحب إلي مما طلعت عليه الشمس، كنت أنا وأبو بكر وأبو عبيدة في نفر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فانتهيت إلى باب أم سلمة وعلي، قائم على الباب فقلنا: أردنا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: يخرج إليكم، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فسرنا إليه فاتكأ على علي بن أبي طالب ثم ضرب بيده منكبه ثم قال: إنك مخاصم تخاصم، أنت أول المؤمنين إيمانا، وأعلمهم بأيام الله، وأوفاهم بعهده، وأقسمهم بالسوية، وأرأفهم بالرعية وأعظمهم رزية، وأنت عاضدي، وغاسلي، ودافني، والمتقدم إلى كل شديدة وكريهة، ولن ترجع بعدي كافرا وأنت تتقدمني بلواء الحمد وتذود عن حوضي، ثم قال ابن عباس من نفسه: ولقد فاز علي بصهر رسول الله صلى الله عليه وسلم وبسطة في العشيرة وبذلا للماعون وعلما بالتنزيل وفقها للتأويل ونيلا للأقران."البزاري كذاب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٧٩۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ میں نے ارادہ کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی بیٹی کا پیغام نکاح دوں میں نے عرض کیا ، میرے پاس کوئی چیز نہیں پھر میں نے آپ کی صلہ رحمی اور رشتہ داری کا ذکر کیا اور پیغام نکاح بھیج دیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے پاس کچھ ہے ؟ میں نے عرض کیا نہیں ارشاد فرمایا : تمہاری وہ حطمی زرہ کہاں ہے ج و میں نے تمہیں فلاں فلاں موقع پر دی تھی میں نے عرض کیا وہ میرے پاس ہے فرمایا وہ فاطمہ (رض) کو دو میں نے ذرہ فاطمہ (رض) کو دے دی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری شادی کرادی جب حضرت علی (رض) فاطمہ (رض) کو اپنے پاس لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی کام میں مصروف نہیں ہونا حتیٰ کہ میں تمہارے پاس آجاؤں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے اپنے اوپر ایک چادر اوڑھ رکھی تھی جب ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو ہم اپنی جگہ سے ہلنے لگے اپ نے فرمایا : اپنی جگہ پر رہو پھر آپ نے پانی کا ایک برتن منگوایا اس پر دعا پڑھ کر پھونکا اور پھر پانی ہمارے اوپر چھڑک دیا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! فاطمہ (رض) زیادہ محبوب ہے یا میں آپ نے جواب دیا فاطمہ (رض) مجھے تم سے زیادہ محبوب ہے اور تم مجھے اسے سے زیادہ عزیز ہو۔ (رواہ الحمدی واحمد بن حنبل والعدنی ومسدد والدورفی والبیہقی)
36379- عن علي قال: أردت أن أخطب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ابنته فقلت: مالي من شيء ثم ذكرت صلته وعائدته؛ فخطبها إليه، فقال: هل لك من شيء؟ قلت: لا، قال: فأين درعك الحطمية التي أعطيتك يوم كذا وكذا؟ فقلت: هي عندي، قال: فأعطها، فأعطيتها إياها فزوجنيها؛ فلما أدخلها علي قال: لا تحدثا شيئا حتى آتيكما، فجاءنا وعلينا كساء أو قطيفة، فلما رأيناه تحشحشنا فقال: مكانكما! فدعا بإناء فيه ماء فدعا فيه ثم رشه علينا، فقلت: يا رسول الله! أهي أحب إليك أم أنا؟ قال: هي أحب إلي منك وأنت أعز إلي منها.الحميدي، "حم" والعدني ومسدد والدورقي، "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٨٠۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یمن بھیجا چنانچہ ہم ایسی قوم کے پاس جا پہنچے کہ انھوں نے سیر کو ہلاک کرنے کے لیے گڑھا کھود رکھا تھا وہ اسی راستے سے آتے جاتے تھے اچانک ایک شخص گڑھے میں جا گرا وہ دوسرے کے ساتھ لٹکا اور دوسرے تیسرے کے ساتھ یوں چار آدمی ہوگئے شیر نے انھیں سخت زخمی کردیا اسی اثناء میں ایک شخص نے حربے سے شیر کو ہلاک کردیا۔ (چنانچہ زخموں کی تاب نہ لاکر چاروں مرگئے) پہلے مقتول کے ورثاء نے دوسرے مقتول کے ورثاء سے مطالبہ کردیا فریقین نے تلواریں نکال لیں ، قریب تھا کہ ان میں خنجر پر جنگ چھڑ جاتی اتنے میں حضرت علی (رض) نے انھیں آن لیا اور فرمایا : تم آپس میں لڑنا چاہتے ہو حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زندہ ہیں میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں بشرطیکہ تم اسے مان لو ورنہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلے جاؤ اور وہ جو فیصلہ کردیں وہی فیصلہ ہوگا۔ اس کے بعد بھی جو شخص روگردانی کرے پھر اسے کوئی حق نہیں ۔ چنانچہ وہ قبایل جنہوں نے یہ کنواں کھودا ہے وہ چوتھائی دیت تہائی دیت نصف دیت اور کامل دیت جمع کرلیں پہلے مقتول کے لیے چوتھائی دیت ہے چونکہ وہ اپنے اوپر والوں کی وجہ سے ہلاک ہوا ہے دوسرے کے لیے تہائی دیت تیسرے کے لیے نصف دیت اور چوتھے کے لیے کامل دیت لوگوں نے یہ فیصلہ ماننے سے انکار کردیا اور وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پاس آگئے اور آپ اس وقت مقام ابراہیم کے پاس تھے لوگوں نے سارا واقعہ سنا دیا ارشاد فرمایا : میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں آپ (رض) ہاتھ باندھ کر بیٹھ گئے قوم میں سے ایک شخص بولا علی (رض) نے ہمارے درمیان فیصلہ کردیا ہے لوگوں نے فیصلے کا بھی پورا قصہ سنایا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کے فیصلہ کی توثیق فرمائی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فیصلہ وہی ہے جو علی (رض) نے کردیا ہے۔ (رواہ الطبرانی وابن ابی شیبہ وابن منیع جریر و صحیح والبیہقی وضعفہ)
36380- عن علي قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى اليمن فانتهينا إلى قوم قد بنوا زيبة للأسد، فبينا هم يتدافعون إذ سقط رجل فتعلق بآخر ثم تعلق رجل آخر حتى صاروا فيها أربعة فجرحهم الأسد فانتدب له رجل بحربة فقتله وماتوا من جراحهم كلهم، فقام أولياء المقتول الأول إلى أولياء المقتول الثاني فأخرجوا السلاح ليقتتلوا، فأتاهم على تفيئة ذلك فقال: تريدون أن تقتتلوا ورسول الله صلى الله عليه وسلم حي؟ إني أقضي بينكم بقضاء إن رضيتم فهو القضاء وإلا حجز بعضكم عن بعض حتى تأتوا النبي صلى الله عليه وسلم فيكون هو الذي يقضي بينكم، فمن عدا بعد ذلك فلا حق له، اجمعوا من قبائل هؤلاء الذين حفروا البئر ربع الدية وثلث الدية ونصف الدية والدية كاملة، فللأول الربع لأنه هلك بمن فوقه وللثاني ثلث الدية وللثالث نصف الدية وللرابع الدية كاملة؛ فأبوا أن يرضوا فأتوا النبي صلى الله عليه وسلم وهو عند مقام إبراهيم فقصوا عليه القصة فقال: أنا أقضي بينكم واحتبى، فقال: رجل من القوم: إن عليا قضى بيننا، فقصوا عليه القصة فأجازه النبي صلى الله عليه وسلم - وفي لفظ: فقال النبي صلى الله عليه وسلم: القضاء كما قضى علي. "ط، ش، حم" وابن منيع وابن جرير وصححه، "ق" وضعفه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৩৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٨١۔۔۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں مومنین کی ملکہ مکھی ہوں جبکہ مال ظالموں کی ملکہ مکھی ہے۔ (رواہ ابو نعیم
36381- عن علي قال: أنا يعسوب المؤمنين والمال يعسوب الظلمة. أبو نعيم.
tahqiq

তাহকীক: