কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬৩৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٨٢۔۔۔ ابو مسعر کہتے ہیں میں حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کے سامنے سونا رکھا ہوا تھا فرمایا میں مومنین کی ملکہ مکھی ہوں جب کہ یہ منافقین کی ملکہ مکھی ہے فرمایا کہ مومنین میری پناہ لیتے ہیں جب کہ منافقین اس کی پناہ لیتے ہیں۔ (رواہ ابو نعیم)
36382- عن أبي مسعر قال: دخلت على علي وبين يديه ذهب فقال: أنا يعسوب المؤمنين وهذا يعسوب المنافقين، وقال: بي يلوذ المؤمنون وبهذا يلوذ المنافقون. أبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٨٣۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب ابو طالب نے وفات پائی تو میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! بوڑھا گمراہ آپ کا چچا مرچکا ہے فرمایا جاؤ اور اسے زمین میں دبا دو کوئی اور کام نہیں کرنا کہ میرے پاس آجاؤ میں نے ابو طالب کی نعش زمین میں دبادی اور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے مجھے غسل کرنے کا حکم دیا پھر میرے لیے مختلف دعائیں کیں مجھے پسند نہیں کہ ان کے بدلہ میں میرے لیے زمین پر سے کچھ ہو۔ (رواہ الضبرانی وابن ابی شیبہ واحمد بن حنبل وابو داؤد والنسائی والمروزی فی الجنائز وابن الجار و دوابن حریر)
36383- عن علي قال: لما مات أبو طالب أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله! إن عمك الشيخ الضال قد مات، قال فقال: انطلق فواره ثم لا تحدثن شيئا حتى تأتيني، فواريته ثم أتيته فأمرني فاغتسلت ثم دعا لي بدعوات ما أحب أن لي بهن ما على الأرض من شيء. "ط، ش، حم، د، ن" والمروزي في الجنائز وابن الجارود وابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٨٤۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مواخات قائم کی عمر (رض) ابوبکر (رض) کو آپس میں بھائی بھائی بنایا حمزہ عبد المطلب اور زید بن حارثہ کو عبداللہ بن مسعود اور زبیر بن عوام کو عبد الرحمن بن عوف اور سعد بن مالک کو جب کہ مجھے اپنا بھائی بنایا۔ (رواہ الخلعی فی الخلعیات وفیہ راولم یسم والبیہقی و سعید بن المنصور
36384- عن علي قال: آخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بين عمر وأبي بكر وبين حمزة بن عبد المطلب وزيد بن حارثة، وبين عبد الله بن مسعود والزبير بن العوام، وبين عبد الرحمن بن عوف وسعد بن مالك وبيني وبين نفسه. الخلعي في الخلعيات وفيه راو لم يسم، "ق، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
36385 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا قسم اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑا اور جاندار کو پیدا کیا، عہد نبوی میں مجھ سے محبت نہیں کرتا تھا مگر مومن اور مجھ سے بغض نہیں رکھتا تھا مگر منافق۔ الحمیدی ، ابن ابی شیبہ، مسنداحمد، ترمذی، نسائی، ابن حبان، حلیۃ الاولیاء وابن ابی عاصم۔
36385- عن علي قال: والذي فلق الحبة وبرأ النسمة إنه لعهد النبي صلى الله عليه وسلم إلى أن لا يحبنى إلا مؤمن ولا يبغضني إلا منافق. الحميدي، "ش، حم" والعدني، "ت، ن، هـ، حب، حل" وابن أبي عاصم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
36386 ۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اہل یمن کی طرف روانہ کیا تاکہ میں ان کے درمیان فیصلے کروں۔ (یعنی قاضی بنا کر بھیجا) میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بھیج رہے ہیں حالانکہ میں نوجوان شخص ہوں اور میرے پاس قضاء کا علم بھی نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : یا اللہ ! اس کے دل کو ہدایت سے اور اس کی زبان کو درستی پر گامزن کر دے حضرت علی (رض) فرماتے ہیں اس کے بعد مجھے کبھی قضاء میں شک نہیں ہوا حتیٰ کہ میں اپنی اس جگہ میں بیٹھ گیا۔ (رواہ ابنس عد وابن ابی شیبہ والبیہقی فی الدلائل)
36386- عن علي قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أهل اليمن لأقضي بينهم فقلت: يا رسول الله! بعثتني وأنا شاب لا علم لي بالقضاء، فضرب بيده على صدري فقال: اللهم اهد قلبه وسدد لسانه! فما شككت في قضاء بين اثنين حتى جلست مجلسي هذا. ابن سعد، "ش ق"، في الدلائل.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٨٧۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : جب میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرتا آپ مجھے عطا فرماتے تھے اور جب خاموش رہتا تھا آپ خود ہی ابتداء کرتے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ والترمذی والشاشی وابو نعیم فی الحلیۃ والدورقی والحاکم و سعید بن المنصور)
36387- عن علي قال: كنت إذا سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم أعطاني وإذا سكت ابتدأني. "ش، ت" والشاشي، "حل" والدورقي "ك، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٨٨۔۔۔ عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) سردیوں میں دو ہلکے ہلکے کپڑوں ازار اور چادر میں باہر نکلتے تھے جب کہ گرمیوں میں موٹی قبا اور بھاری کپڑے پہنتے تھے لوگوں نے عبد الرحمن سے کہا اگر تم اپنے والد سے کہو چونکہ وہ رات کو حضرت علی (رض) کے ساتھ گفتگو کرتے رہے ہیں، چنانچہ میں نے والد سے پوچھا کہ لوگوں نے امیر المومنین کی کچھ حالت دیکھی ہے جسے وہ اجنبی سمجھتے ہیں۔ کہا : وہ کیا ہے ؟ کہا : امیر المومنین شدید گرمی میں موٹے قبا اور بھاری کپڑا پہنتے ہیں اور ان میں کچھ پروا نہیں کرتے جب کہ سردیوں میں کپڑے یا چادریں پہن لیتے ہیں اور اس کی انھیں پروا بھی نہیں ہوتی کیا آپ نے یہ بات ان سے سنی ہے لوگوں نے مجھے کہا ہے کہ میں آپ سے سوال کروں اور آپ علی (رض) سے رات کی گفتگو کے دوران پوچھا ہیں چنانچہ ابو لیلی رات کو گفتگو کے دوران پوچھا : اے امیر المومنین ! لوگوں نے آپ سے ایک چیز کو مفقود پایا ہے فرمایا : وہ کیا ہے ؟ عرض کیا : آپ شدید گرمی میں موٹی قبا اور بھاری کپڑے پہنتے ہیں اور شدید سردی میں دو ہلکے کپڑے یا دو چادریں نہیں لیتے ہیں آپ کو اس پر واہ ہی نہیں ہوتی اور نہ ہی آپ سردی سے بچاؤ کا سامان کرتے ہیں حضرت علی (رض) نے فرمایا : اے ابو لیلی ! تم خیبر میں ہمارے ساتھ نہیں تھے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں بخدا ! میں آپ کے ساتھ تھا فرمایا : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کو بھیجا وہ لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر گئے وہ شکست کھا کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس لوٹ آئے پھر عمر (رض) کو بھیجا وہ بھی شکست کھا کر واپس لوٹ آئے تاہم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اللہ کا رسول بھی اس سے محبت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح نصیب فرمائے گا۔ وہ بھاگنے والا نہیں ہے چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے پیغام بھیج کر اپنے پاس بلایا میں خدمت میں حاضر ہوا جب کہ مجھے آشوب چشم کا مرض لاحق تھا آپ نے میری آنکھوں میں تھوک دیا اور فرمایا : یا اللہ ! گرمی و سردی میں اس کی کفایت فرما۔ اس کے بعد گرمی نے اذیت پہنچائی اور نہ ہی سردی نے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ واحمد بن حنبل وابن ماجہ والبزار وابن جریر وصححہ والطبرانی فی الاوسط والحاکم والبیہقی فی الدلائل والضیاء)
36388- عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: كان علي يخرج في الشتاء في إزار ورداء ثوبين خفيفين، وفي الصيف في القباء المحشو والثوب الثقيل، فقال الناس لعبد الرحمن: لو قلت لأبيك فإنه يسمر1 معه، فسألت أبي فقلت: إن الناس قد رأوا من أمير المؤمنين شيئا استنكروه، قال: وما ذاك؟ قال: يخرج في الحر الشديد في القباء المحشو والثوب الثقيل ولا يبالي ذلك، ويخرج في البرد الشديد في الثوبين الخفيفين والملاءتين لا يبالي ذلك ولا يتقي بردا، فهل سمعت في ذلك شيئا فقد أمروني أن أسألك أن تسأله إذا سمرت عنده، فسمر عنده فقال: يا أمير المؤمنين! إن الناس قد تفقدوا منك شيئا، قال: وما هو؟ قال: تخرج في الحر الشديد في القباء المحشو والثوب الثقيل وتخرج في البرد الشديد في الثوبين الخفيفين وفي الملاءتين لا يبالي ذلك ولا تتقي بردا، قال: أو ما كنت معنا يا أبا ليلى بخيبر؟ قلت: بلى والله قد كنت معكم، قال: فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث أبا بكر فسار بالناس فانهزم حتى رجع إليه وبعث عمر فانهزم بالناس حتى انتهى إليه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لأعطين الراية رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله يفتح الله له، ليس بفرار؛ فأرسل إلي فدعاني، فأتيته وأنا أرمد لا أبصر شيئا، فتفل في عيني وقال: اللهم اكفه الحر والبرد! فما آذاني بعده حر ولا برد. "ش، حم، هـ" والبزار وابن جرير وصححه، "طس، ك، ق" في الدلائل، "ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٨٩۔۔۔ عباد بن عبداللہ کہتے ہیں میں نے حضرت علی (رض) کو فرماتے سنا۔ میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول کا بھائی ہوں میں صدیق اکبر ہوں میرے بعد جھوٹا مفتری ہی یہ بات کہے گا میں نے لوگوں سے قبل سات سال نمازیں پڑھی ہیں۔ (رواہ ابن ابی شیبہ والنسائی فی الخصائص وابن ابی عاصم فی السنۃ والعقیلی والحاکم وابو نعیم فی المعرفۃ)
36389- عن عباد بن عبد الله سمعت عليا يقول: أنا عبد الله وأخو رسوله، وأنا الصديق الأكبر، لا يقولها بعدي إلا كذاب مفتر، ولقد صليت قبل الناس سبع سنين. "ش، ن" في الخصائص وابن أبي عاصم في السنة، "عق، ك" وأبو نعيم في المعرفة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٩٠۔۔۔ حبہ بن جوین کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سات سال عبات کی ہے قبل ازیں کہ اس امت کا کوئی فرد عبادت کرتا۔ (رواہ الحاکم وابن مردویہ)
36390- عن حبة بن جوين قال: قال علي: عبدت الله مع رسول الله صلى الله عليه وسلم سبع سنين قبل أن يعبده أحد من هذه الأمة. "ك" وابن مردويه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٩١۔۔۔ حبہ کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ اس امت میں مجھ سے قبل تیری عبادت کسی نے نہیں کی اس امت میں سے کوئی شخص تیری عبادت کرتا اس سے قبل میں نے ٭٭٭٭ سال تیری عبادت کی ہے۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط)
36391- عن حبة أن عليا قال: اللهم! إنك تعلم أنه لم يعبدك أحد من هذه الأمة قبلي ولقد عبدتك قبل أن يعبدك أحد من هذه الأمة ست سنين. "طس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٩٢۔۔۔ ” مسند عمر “ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : علی بن ابی طالب کے ذکر سے رک جاؤ چونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ : علی میں تین خصلتیں ہیں ان میں سے ہر ایک مجھے ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے چنانچہ میں ابوبکر ابو عبیدہ بن الجراح اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) کی ایک جماعت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے جب کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) علی (رض) پر ٹیک لگائے تشریف فرما تھے حتیٰ کہ آپ نے علی (رض) کے کاندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا : اے علی ! تو مومنین میں سب سے پہلے اسلام لایا اور سب سے پہلے اسلام قبول کیا تمہارا میرے ساتھ ایسا ہی تعلق ہے جیسا ہارون کا موسیٰ سے۔ جھوٹا ہے وہ شخص جو میری محبت کا دعوی کرتا ہو اور تجھ سے بغض رکھتا ہو۔ (رواہ الحسن بن بدر فیما رواہ الخلفاء والحاکم فی الکنی والشیرازی فی الالقاب وابن البخار)
36392- "مسند عمر" عن ابن عباس قال: قال عمر بن الخطاب: كفوا عن ذكر علي بن أبي طالب فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: في علي ثلاث خصال لأن يكون لي واحدة منهن أحب إلي مما طلعت عليه الشمس، كنت أنا وأبو بكر وأبو عبيدة ابن الجراح ونفر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم والنبي صلى الله عليه وسلم متكئ على علي بن أبي طالب حتى ضرب بيده على منكبه ثم قال: أنت يا علي! أول المؤمنين إيمانا وأولهم إسلاما! ثم قال: أنت مني بمنزلة هارون من موسى، وكذب علي من زعم أنه يحبني ويبغضك.
"الحسن بن بدر فيما رواه الخلفاء والحاكم في الكنى والشيرازي في الألقاب وابن النجار".
"الحسن بن بدر فيما رواه الخلفاء والحاكم في الكنى والشيرازي في الألقاب وابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٩٣۔۔۔ ضمرہ بن ربیعہ مالک بن انس نافع ابن عمر بن خطاب (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اللہ کے رسول سے محبت کرتا ہے اللہ اور اللہ کا رسول اس سے محبت کرتا ہے وہ بڑھ کر حملہ کرتا ہے بھاگتا نہیں اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح نصیب فرمائے گا جبرائیل امین اس کے دائیں طرف ہوں گے اور میکائل (علیہ السلام) اس کے بائیں طرف ہوں گے لوگوں نے امید و شوق کی حالت میں رات گزاری جب صبح ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : علی کہاں ہے ؟ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! وہ دیکھ نہیں سکتے فرمایا : اسے میرے پاس لے آؤ جب حضرت علی (رض) آپ کے پاس لائے گئے تو فرمایا : میرے قریب ہوجاؤ حضرت علی (رض) قریب ہوگئے آپ نے ان کی آنکھوں میں تھوک دیا اور اپنے دست اقدس سے پونچھ ڈالیں حضرت علی (رض) آپ کے سامنے سے اٹھ کھڑے ہوئے یوں لگا گویا انھیں آشوب چشم کا مرض لاحق ہی نہیں ہوا۔ (رواہ الدار قطنی والخطیب فی رواہ مالک وابن عساکر)
36393- عن ضمرة بن ربيعة عن مالك بن أنس عن نافع عن ابن عمر عن عمر بن الخطاب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لأعطين الراية رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله كرارا غير فرار، يفتح الله عليه، جبريل عن يمينه وميكائيل عن يساره، فبات الناس متشوقين فلما أصبح قال: أين علي؟ قالوا: يا رسول الله! ما يبصر قال: ائتوني به، فلما أتي به فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ادن مني، فدنا منه فتفل في عينيه ومسحها بيده، فقام علي من بين يديه كأنه لم يرمد. "قط": "خط" في رواة مالك، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٩٤۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ ایک شخص حضرت عمر (رض) کی موجودگی میں حضرت علی (رض) کی گستاخی کرنے لگا حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کیا تم اس قبر والے محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب اور علی بن ابی طالب بن عبد المطلب کو جانتے ہو ؟ سوائے خیر و بھلائی کے علی کا تذکرہ مت کرو چونکہ اگر تم نے علی (رض) کو اذیت پہنچائی تو گویا تم نے اس قبر والے کو اذیت پہنچائی۔ (رواہ ابن عساکر)
36394- عن عروة أن رجلا وقع في علي بمحضر من عمر قال عمر: تعرف صاحب هذا القبر محمد بن عبد الله بن عبد المطلب وعلي بن أبي طالب بن عبد المطلب؟ لا تذكر عليا إلا بخير فإنك إن آذيته آذيت هذا في قبره. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٩٥۔۔۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : علی (رض) کو ہرگز برا بھلا مت کہو میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ تین چیزوں میں سے ایک بھی میرے لیے ہو مجھے ہر اس چیز سے محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے میں ابوبکر ابو عبیدہ بن الجراح اور صحابہ (رض) کی ایک جماعت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس موجود تھے، آپ نے علی (رض) کے کاندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا : تو لوگوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والا ہے اور سب سے پہلے ایمان لانے والا ہے۔ تمہارا میرے ساتھ ایسا ہی تعلق ہے جیسا کہ ہارون کا موسیٰ سے تھا۔ (رواہ ابن النجار)
36395- عن عمر قال: لن تنالوا عليا فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ثلاثة لأن يكون لي واحدة منهن أحب إلي مما طلعت عليه الشمس، كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم وعنده أبو بكر وأبو عبيدة ابن الجراح وجماعة من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فضرب بيده على منكب علي فقال: أنت أول الناس إسلاما وأول الناس إيمانا وأنت مني بمنزلة هارون من موسى.
"ابن النجار".
"ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٩٦۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں میں پہلا شخص ہوں جس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی۔ (رواہ الطبرانی وابن ابی شیبہ واحمد بن حنبل وابن سعد)
36396- عن علي قال: أنا أول رجل صلى مع النبي صلى الله عليه وسلم. "ط، ش، حم" وابن سعد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٩٧۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : مجھے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن بھیجا میں کم عمر تھا، میں نے عرض کیا : آپ مجھے ایسی قوم کے پاس بھیج رہے ہیں ان میں نئے نئے مسائل پیدا ہوں گے حالانکہ میرے پاس قضاء کا علم نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہاری زبان کی راہنمائی فرمائے گا اور تمہارے دل کو ثابت قدم رکھے گا چنانچہ اس کے بعد مجھے دو فریقوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں کبھی شک نہیں ہوا۔ (رواہ الطبرانی وابن سعد واحمد بن حنبل والمروزی فی العلم وابن ماجہ وابو یعلی والحاکم وابو نعیم فی الحلیۃ والبیہقی والدروقی و سعید بن المنصور وابن جریر وصححہ)
کلام :۔۔۔ حدیث پر بحث کی گئی ہے دیکھئے المعامۃ ٢٦٨۔
کلام :۔۔۔ حدیث پر بحث کی گئی ہے دیکھئے المعامۃ ٢٦٨۔
36397- عن علي قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى اليمن وأنا حديث السن، قلت: بعثتني إلى قوم يكون بينهم أحداث ولا علم لي بالقضاء! فضرب بيده في صدري وقال: إن الله سيهدي لسانك ويثبت قلبك، فما شككت في قضاء بين اثنين بعد. "ط" وابن سعد، "حم" والعدني والمروزي في العلم، "هـ، ع، ك، حل، ق" والدورقي، "ص" وابن جرير وصححه"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٩٨۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یمن بھیجا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ مجھے ایسی قوم کے پاس بھیج رہے ہیں جو مجھ سے عمر میں بڑے ہیں اور میں نوجوان ہوں قضاء کی بصیرت نہیں رکھتا آپ نے میرا ہاتھ میرے سینے پر رکھا اور فرمایا : یا اللہ ! اس کی زبان کو ثابت قدم رکھ اور اس کے دل کو ہدایت عطا فرما۔ اے علی ! جب فریقین کے درمیان فیصلہ کرنے بیٹھو اس وقت تک فیصلہ مت کرو جب تک دوسرے کا بیان نہ سن لو جیسا کہ پہلے سے سنا ہے جب تم ایسا کرو گے تمہارے لیے فیصلہ کرنا آسان ہوگا چنانچہ اس کے بعد قضاء کے متعلق مجھے کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ (رواہ الحاکم وابن سعد واحمد بن حنبل والعدنی وابو داؤد والترمذی وقال : حسن وابو یعلی وابن جریر وصححہ وابن حبان والحاکم والبیہقی)
36398- عن علي قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى اليمن فقلت: يا رسول الله! بعثتني إلى قوم هم أسن مني وأنا حدث لا أبصر القضاء، فوضع يده على صدري وقال: اللهم! ثبت لسانه واهد قلبه، يا علي! إذا جلس إليك الخصمان فلا تقض بينهما حتى تسمع من الآخر كما سمعت من الأول، فإنك إذا فعلت ذلك تبين لك القضاء، فما أشكل علي قضاء بعد. "ك" وابن سعد، "حم" والعدني، "د، ت" وقال: حسن، "ع" وابن جرير وصححه، "حب، ك، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٣٩٩۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا اور فرمایا : اے علی ! تجھ میں عیسیٰ کی مثال پائی جاتی ہے یہودیوں نے ان سے بغض کیا حتیٰ کہ ان کی ماں پر بہتان باندھا نصاری نے ان سے محبت کی اور انھیں ایسے مقام پر اتارا جس پر وہ نہیں تھے حضرت علی (رض) نے فرمایا : میرے متعلق بھی دو شخص ہلاک ہوں گے میری محبت میں حد سے تجاوز کرنے والا اور میری مخالفت میں مجھ سے بعض و عداوت رکھنے والا خبردار میں نبی نہیں ہوں میرے پاس وحی نہیں آتی لیکن میں کتاب اللہ پر عمل کرتا ہوں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت پر چلتا ہوں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے متعلق جو تمہیں حکم دوں وہ برحق ہے لہٰذا ایسی صورت میں تمہارے اوپر واجب ہے کہ میری اطاعت کرو اور اگر میں یا کوئی اور تمہیں معصیب کا حکم دیں تو اللہ تعالیٰ کی معصیت میں ایسی اطاعت کچھ حیثیت نہیں رکھتی اطاعت تو بھلائی اور نیکی کے کاموں میں ہوتی ہے۔ (رواہ عبداللہ بن احمد بن حنبل وابو یعلی والدورقی والحاکم وابن ابی عاصم وابن شاھین فی السنۃ وابن الجوزی فی الواھایت وروی ابن جریر صندرۃ المرفوع)
36399- عن علي قال: دعاني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا علي! إن فيك من عيسى مثلا أبغضته اليهود حتى بهتوا أمه وأحبته النصارى حتى أنزلوه بالمنزلة التي ليس بها، وقال علي: ألا! وإني يهلك في رجلان محب مطر1 لي يفرطني بما ليس في ومبغض مفتر يحمله شنآني على أن يبهتني، ألا! وإني لست بنبي ولا يوحى إلي ولكني أعمل بكتاب الله وسنة نبيه صلى الله عليه وسلم ما استطعت، فما أمرتكم به من طاعة الله فحق عليكم طاعتي فيما أحببتم أو كرهتم، وما أمرتكم بمعصية أنا وغيري فلا طاعة لأحد في معصية الله، إنما الطاعة في المعروف. "عم ع" والدورق، "ك" وابن أبي عاصم وابن شاهين في السنة وابن الجوزي في الواهيات، وروى ابن جرير صدره المرفوع"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٠٠۔۔۔ ” ایضاً “ حبہ مزنی کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کو منبر پر ہنستے ہوئے دیکھا میں نے اس طرح انھیں ہنستے ہوئے نہیں دیکھا حتیٰ کہ آپ کی ڈاڑھیں بھی دکھائی دینے لگیں پھر فرمایا : مجھے ابو طالب کی بات یاد آگئی چنانچہ ایک مرتبہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا ہم بطن نخلہ میں نماز پڑھنے لگے اتنے میں ابوطالب آئے اور بولے اے بھتیجے تم کیا کر رہے ہو ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں سلام کی دعوت دی وہ بولے : جو تم کہتے ہو اس کے مان لینے میں کوئی حرج نہیں لیکن اس سے میرا مرتبہ کم ہوجائے گا حضرت علی (رض) اپنے والد کی اس بات پر تعجب کرکے ہنسے پھر فرمایا : یا اللہ اس امت میں میں کسی شخص کو نہیں جانتا جس نے تیرے نبی کے علاوہ مجھ سے قبل تیری عبادت کی ہو۔ تین بار یہ بات کہی : میں نے لوگوں سے قبل سات سال نماز پڑھی ہے۔ (رواہ الطبرانی واحمد بن حنبل وابو یعلی والحاکم)
36400- "أيضا" عن حبة العرني قال: رأيت عليا ضحك على المنبر لم أره ضحك ضحكا أكثر منه حتى بدت نواجذه ثم قال: ذكرت قول أبي طالب، ظهر علينا أبو طالب وأنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نصلي ببطن نخلة فقال: ماذا تصنعان يا ابن أخي؟ فدعاه رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الإسلام، فقال: ما بالذي تقولان بأس ولكني والله لا تعلوني استي أبدا - وضحك تعجبا لقول أبيه ثم قال: اللهم! ما أعرف أن عبدا لك من هذه الأمة عبدك قبلي غير نبيك - ثلاث مرات، لقد صليت قبل أن يصلي الناس سبعا. "ط، حم، ع، ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٠١۔۔۔ ” ایضاً “ ابن حنفیہ کی روایت ہے کہ اگر حضرت علی (رض) حضرت عثمان (رض) کے ذکر بد کے خوگر ہوتے تو اس دن ان کا ذکر بدضرور کرتے جس دن لوگوں نے حضرت علی (رض) سے عثمان (رض) کے گورنروں کی شکایت کی تھی حضرت علی (رض) نے مجھے کہا : یہ خط عثمان (رض) کے پاس لے جاؤ اور ان سے کہو کہ اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدقہ کا حکم ہے اپنے گونروں کو حکم دو کہ اسی کے مطابق عمل کریں میں وہ خط لے کر حضرت عثمان (رض) کے پاس حاضر ہوا انھوں نے کہا : اس سے ہم بےنیاز ہیں میں وہ خط لیکر حضرت علی (رض) کے پاس واپس لوٹ آیا اور انھیں اس کی خبر کی انھوں نے فرمایا : تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں اسے جہاں سے اٹھایا ہے وہیں رکھ دو ۔ (رواہ البخاری والعدنی والبیہقی)
36401- "أيضا" عن ابن الحنفية قال: لو كان علي ذاكرا عثمان بسوء ذكره يوم جاءه ناس فشكوا سعاة عثمان فقال لي علي: اذهب بهذا الكتاب إلى عثمان فأخبره أن فيه صدقة رسول الله صلى الله عليه وسلم فمر سعاتك يعملوا بها فأتيته فقال: أغنها عنا، فأتيت بها عليا فأخبرته له فقال: لا عليك، ضعها حيث أخذتها.
"خ" والعدني، "ق".
"خ" والعدني، "ق".
তাহকীক: