কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬৪১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٠٢۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں قریش کے کچھ لوگ حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا محمد ! ہم آپ کے پڑوسی اور حلیف ہیں ہمارے کچھ غلام تمہارے پاس آگئے ہیں انھیں دین وفقہ کی کچھ رغبت نہیں ہے وہ ہماری جائیداروں اور اموال سے بھاگ آئے ہیں لہٰذا آپ ہمیں واپس کردیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) سے فرمایا : تم کیا کہتے ہو انھوں نے جواب دیا : یہ لوگ سچ کہتے ہیں : وہ آپ کے پڑوسی اور حلیف ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ اقدس متغیر ہوگیا پھر عمر (رض) سے فرمایا : اے عمر ! تم کیا کہتے ہو ؟ انھوں نے کہا : یہ سچ کہتے ہیں یہ آپ کے جیران اور حلیف ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ اور متغیر ہوگیا۔ پھر ارشاد فرمایا : اے جماعت قریش اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ضرور ایک ایسے شخص کو بھیجے گا جس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے ایمان سے جا نچ لیا ہے وہ دین پر تمہاری گردنیں مارے گا ابوبکر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ وہ میں ہوں فرمایا نہیں حضرت عمر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ وہ میں ہوں فرمایا : نہیں لیکن یہ وہ شخص ہے جو جوتا گانٹھ رہا ہے چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو جوتا گانٹھنے کے لیے دیا ہوا تھا۔ (رواہ احمد بن حنبل وابن جریر وصححہ و سعید بن المنصور)
36402- عن علي قال: جاء النبي صلى الله عليه وسلم أناس من قريش فقالوا: يا محمد! إنا جيرانك وحلفاؤك وإن ناسا من عبيدنا قد أتوك ليس بهم رغبة في الدين ولا رغبة في الفقه، إنما فروا من ضياعنا وأموالنا فارددهم إلينا، فقال لأبي بكر: ما تقول: قال: صدقوا، إنهم لجيرانك وأحلافك، فتغير وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال لعمر: ما تقول؟ قال: صدقوا إنهم لجيرانك وحلفاؤك، فتغير وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا معشر قريش! والله ليبعثن الله عليكم رجلا قد امتحن الله قلبه بالإيمان فيضربكم على الدين أو يضرب بعضكم، فقال أبو بكر: أنا يا رسول الله! قال: لا، قال عمر: أنا يا رسول الله؟ قال: لا، ولكنه الذي يخصف النعل وكان أعطى عليا نعلا يخصفها. "حم" وابن جرير، وصححه، "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٠٣۔۔۔ ” ایضاً “ محمد بن سیرین کی روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوگئے تو حضرت علی (رض) نے قسم کھائی کہ وہ جمعہ کے دن چادر نہیں اوڑھیں گے حتیٰ کہ قرآن مجید کو ایک مصحف میں جمع نہ کرلیں چنانچہ حضرت علی (رض) نے قرآن جمع کرنے میں مصروف ہوگئے کچھ دنوں کے بعد حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے حضرت علی (رض) کی طرف پیغام بھیجا کہ اے ابو الحسن ! آپ میری خلافت کو ناپسند کرتے ہیں ؟ حضرت علی (رض) نے جواب دیا : اللہ کی قسم ایسی بات نہیں لیکن میں نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ جمعہ کے علاوہ کسی دن چادر نہیں اوڑھوں کا حضرت علی (رض) نے ابوبکر (رض) کے ہاتھ پر بیعت کی اور واپس لوٹ آئے۔ (رواہ ابن ابی داؤد فی المصاحف وقال : کہ اشعب کے علاوہ مصحف کا ذکر کسی نے نہیں کیا اور وہ ” لین الحدیث “ ہیں وانما دو وہ : حی اجمع القرآن یعنی حفظ قرآن مکمل کیا بسا اوقات حفظ قرآن کو جمع قرآن سے بھی تعبیر کردیا جاتا ہے)
36403- "أيضا" عن محمد بن سيرين قال: لما توفي النبي صلى الله عليه وسلم أقسم علي أن لا يرتدي برداء إلا الجمعة حتى يجمع القرآن في مصحف، ففعل، وأرسل إليه أبو بكر بعد أيام: أكرهت إمارتي يا أبا الحسن؟ قال: لا والله إلا أني أقسمت أن لا أرتدي برداء إلا الجمعة! فبايعه ثم رجع.ابن أبي داود في المصاحف وقال: إنه لم يذكر المصحف أحد إلا أشعب وهو لين الحديث وإنما رووه: حتى أجمع القرآن - يعني أتم حفظه، فإنه يقال للذي حفظ القرآن: قد جمع القرآن.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٠٤۔۔۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں بخدا : اللہ تعالیٰ نے جو آیت بھی نازل فرمائی ہے میں جانتا ہوں کہ وہ کس میں نازل ہوئی کہاں نازل ہوئی اور کس پر نازل ہوئی رب تعالیٰ نے مجھے سمجھدار دل اور لسان طلق عطا کی ہے۔ (رواہ ابن سعد وابن عساکر)
36404- عن علي قال: والله! ما نزلت آية إلا وقد علمت فيما نزلت وأين نزلت وعلى من نزلت، إن ربي وهب لي قلبا عقولا ولسانا طلقا سؤولا. ابن سعد، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٠٥۔۔۔ ” ایضا “ محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) سے کہا گیا کیا وجہ ہے آپ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سب سے زیادہ احادیث بیان کرتے ہیں حضرت علی (رض) نے جواب دیا : جب میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرتا تھا آپ مجھے بتاتے تھے اور جب میں خاموش رہتا تھا آپ خود ابتداء کرتے تھے۔ (رواہ ابن سعد)
36405 "أيضا" عن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب أنه قيل لعلي: مالك أكثر أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا؟ فقال: إني كنت إذا سألته أنبأني وإذا سكت ابتدأني. ابن سعد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٠٦۔۔۔ ھبیرہ کی روایت ہے کہ میں حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ (رض) سے حضرت حذیفہ (رض) کے متعلق سوال کیا گیا : فرمایا : حذیفہ (رض) نے منافقین کے ناموں کے متعلق سوال کیا تھا انھیں منافقین کے متعلق خبر دی گئی ہے پھر حضرت علی (رض) سے اپنی ذات کے متعلق سوال کیا گیا : فرمایا : جب میں سوال کرتا مجھے جواب دیا جاتا اور جب میں خاموش رہتا کلام کی ابتداء کرلی جاتی تھی۔ (رواہ الحاکم)
36406- "أيضا" عن هبيرة قال: شهدت عليا وسئل عن حذيفة قال: سأل عن أسماء المنافقين فأخبر بهم، وسئل عن نفسه قال: كنت إذا سألت أجبت وإذا سكت ابتدئت. "ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٠٧۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بروز سوموار نبی بنا کر بھیجا گیا اور میں منگل کے دن اسلام لایا۔ (رواہ ابو یعلیٰ وابو القاسم بن الجراح فی امالیہ)
36407- عن علي قال: بعث النبي صلى الله عليه وسلم يوم الإثنين وأسلمت يوم الثلاثاء. "ع" وأبو القاسم بن الجراح في أماليه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٠٨۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ” وانذر عشیرتک الاقربین “ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرسنائیے “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اہل بیت کو جمع کیا چنانچہ تیس (٣٠) لوگ جمع ہوگئے انھوں نے کھایا پیا اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص میری طرف سے میرے دین اور میرے مواعید کی ضمانت دے گا وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا اور میرے اہل میں خلیفہ ہوگا ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ تو بحر ہیں۔ اس امر کا قیام کون کرے گا ؟ پھر ایک اور شخص نے اسی طرح کی بات کی پھر اہل بیت میں سے ہر شخص پر پیش کیا گیا : حضرت علی (رض) نے فرمایا : اس کے لیے میں تیار ہوں۔ (رواہ احمد بن حنبل وابن جریر وصححہ والطحاوی ابو الضیاء)
36408- عن علي قال: لما نزلت هذه الآية {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} جمع النبي صلى الله عليه وسلم من أهل بيته، فاجتمع ثلاثون فأكلوا وشربوا، فقال لهم: من يضمن عني ديني ومواعيدي ويكون معي في الجنة ويكون خليفتي في أهلي، وقال رجل: يا رسول الله! أنت كنت بحرا! من يقوم بهذا؟ ثم قال الآخر، فعرض هذا على أهل بيته واحدا واحدا فقال علي أنا. "حم" وابن جرير وصححه والطحاوي، "ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٠٩۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : فیصلے کرتے رہو جس طرح کہ تم فیصلے کرتے ہو میں اختلاف کرنے کو مکروہ سمجھتا ہوں حتیٰ کہ لوگوں کی ایک جماعت ہوجائے یا مجھے موت آجائے جس طرح کہ میرے ساتھیوں کو موت آگئی ابن سیرین رحمۃ اللہ عنہ فرماتے ہیں عام طور پر حضرت علی (رض) سے جو فیصلے روایت کیے جاتے ہیں وہ جھوٹ ہیں۔ (رواہ البخاری وابو عبید فی کتاب الاموال والصبھانی فی الحجۃ)
36409- عن علي قال: اقضوا كما كنتم تقضون، فإني أكره الخلاف حتى يكون للناس جماعة أو أموت كما مات أصحابي، فكان ابن سيرين يرى أن عامة ما يروون عن علي كذبا. "خ" وأبو عبيد في كتاب الأموال والأصبهاني في الحجة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤١٠۔۔۔ ” ایضاً “ ابو یحییٰ کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کو فرماتے سنا : میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کے رسول کا بھائی ہوں۔ میرے بعد جو شخص بھی یہ دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہے چنانچہ ایک شخص نے یہی بات کہی وہ پاگل ہوگیا۔ (رواہ العدنی)
36410- "أيضا" عن أبي يحيى قال: سمعت عليا يقول: أنا عبد الله وأخو رسوله، لا يقولها أحد بعدي إلا كاذب، فقالها رجل فأصابته جنة."العدني".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤١١۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں نے تمہارے متعلق اللہ تعالیٰ سے پانچ چیزوں کا سوال کیا ان میں سے چار مجھے مل گئیں اور ایک سے انکار ہوگیا میں نے سوال کیا کہ قیامت کے ان زمین سے نکلنے والا تو پہلا شخص ہو اور میرے ساتھ ہو تمہارے پاس لوائے حمد ہو اور تم ہی نے وہ اٹھا رکھا ہو اور مجھے عطا کیا کہ تم میرے بعد مومنین کے ولی ہو۔ (رواہ ابن الجوزی فی الواھیات)
کلام :۔۔۔ حدیث موضوع سے دیکھئے المتناھیۃ ٣٩٤۔
کلام :۔۔۔ حدیث موضوع سے دیکھئے المتناھیۃ ٣٩٤۔
36411- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: سألت الله فيك خمسا فأعطاني أربعا ومنعني واحدة: سألته أنك أول من تنشق عنه الأرض يوم القيامة، وأنت معي، معك لواء الحمد وأنت تحمله، وأعطاني أنك ولي المؤمنين من بعدي. "ابن الجوزي في الواهيات".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤١٢۔۔۔ قیس کی روایت ہے کہ اشعث بن قیس حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور انھیں موت سے ڈرانے لگا حضرت علی (رض) نے فرمایا : تم جھے موت سے ڈراتے ہو ؟ مجھے کوئی پروا نہیں موت مجھ پر پڑے یا میں موت پر جا پڑوں۔ (رواہ ابن عساکر)
36412- عن قيس قال: دخل الأشعث بن قيس على علي في شيء فتهدده بالموت، فقال علي: بالموت تهددني؟ ما أبالي سقط علي أو سقطت عليه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤١٣۔۔۔ ابوزعراء کی روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) فرمایا کرتے تھے میں میرے کریم الاصل اور میری عترت کے نیکوکار لوگ بچپن میں لوگوں میں سب سے زیادہ بردبار اور کبرسنی میں سب سے زیادہ علم والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ذریعے ظالم بھیڑئیے کے دانت توڑے گا اللہ تعالیٰ ہمارت ذریعے تمہارے غلبے کو ختم کرے گا تمہاری گردنوں کی کجی کو ختم کرے گا اور ہمارے ذریعے اللہ تعالیٰ خیر کا دروازہ کھولے گا اور اسے بند کرے گا۔ (رواہ عبد الغنی بن سعید فی ایضاخ الاشکال)
36413- عن أبي الزعراء قال: كان علي بن أبي طالب يقول: إني وأطايب أرومتي وأبرار عترتي أحلم الناس صغارا وأعلم الناس كبارا، بنا ينفي الله الكذب، وبنا يعقر1 الله أنياب الذئب الكلب، وبنا يفك الله عنوتكم2 وينزع ربق أعناقكم، وبنا يفتح الله ويختم."عبد الغني بن سعيد في إيضاح الإشكال".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤١٤۔۔۔ علی ابن ابی ربیعہ کہتے ہیں : ایک شخص نے حضرت علی (رض) سے مقابلہ کیا : آپ (رض) نے اسے پچھاڑ دیا وہ بولا : اے امیر المومنین ! اللہ تعالیٰ آپ کے سینے کو ثابت قدم رکھے حضرت علی (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہارے سینے کو ثابت قدم رکھے۔ (رواہ وکیع وابن عساکر)
36414- عن علي بن أبي ربيعة قال: صارع علي رجلا فصرعه، فقال الرجل لعلي: ثبتك الله يا أمير المؤمنين! قال علي: صدرك. وكيع، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤١٥۔۔۔ سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں : لوگوں میں سے حضرت علی (رض) کے سواء کسی نے نہیں کہا کہ مجھ سے سوال کرو۔ (رواہ ابن عبد البر)
36415- عن سعيد بن المسيب قال: ما كان أحد من الناس يقول: سلوني، غير علي بن أبي طالب."ابن عبد البر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤١٦۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (رح) قیامت کے دن جنت کی اونٹیوں میں سے ایک اونٹنی لائی جائے گی تمہارا گھٹنہ میرے گھٹنے کے ساتھ ہوگا تمہارا ران میری ران سے ملی ہوگی حتیٰ کہ ہم جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ (رواہ الحسن بن بدر)
36416- عن علي قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: تؤتى يوم القيامة بناقة من نوق الجنة وركبتك مع ركبتي وفخذك مع فخذى حتى ندخل الجنة جميعا. "الحسن بن بدر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤١٧۔۔۔ عبد الرحمن بن ابی لیلی کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا : میں اس شخص کو اللہ تعالیٰ اور اسلام کا واسطہ دیتا ہوں جس نے غدیر خم کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا ہو وہ ضرور گواہی دے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری ہاتھ پکڑ کر فرمایا : اے مسلمانو کی جماعت ! میں تمہاری جانوں سے زیادہ تمہارا حق نہیں رکھتا ہوں ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں یا رسول اللہ ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کا میں دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے یا اللہ ! جو علی کا دوست رکھتا ہو تو بھی اسے دوست رکھ جو علی کا دشمن ہو تو بھی اس کا دشمن ہوجا جو اس کی مدد کرے تو بھی اس کی مدد کر اور جو علی کو بےیار چھوڑتا ہو تو بھی اسے بےیار کر دے چنانچہ اس سے کچھ زیادہ لوگوں نے گواہی دی جب کہ بہت سارے لوگ گواہی چھپا گئے چنانچہ وہ دنیا میں اندھے اور برص زدہ ہو کر فنا ہوئے۔ (رواہ الخطیب فی الافراد)
36417- عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: خطب علي فقال: أنشد الله امرأ نشدة الإسلام سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم غدير خم أخذ بيدي يقول: ألست أولى بكم يا معشر المسلمين من أنفسكم؟ قالوا: بلى يا رسول الله! قال: من كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم! وال من والاه وعاد من عاداه، وانصر من نصره واخذل من خذله - إلا قام فشهد! فقام بضعة عشر رجلا فشهدوا وكتم قوم؛ فما فنوا من الدنيا إلا عموا وبرصوا. "خط" في الأفراد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤١٨۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا میں مومنی کا ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا ہوں ؟ صحابہ (رض) نے جواب دیا : جی ہاں۔ ارشاد فرمایا : جو شخص میرا دوست ہے وہ علی (رض) کا بھی دوست ہے۔ (رواہ ابن ابی عاصم)
36418- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألست أولى بالمؤمنين من أنفسهم؟ قالوا: بلى، قال: فمن كنت وليه فهو وليه. "ابن أبي عاصم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤١٩۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین “ نازل ہوئی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنے پاس بلایا اور فرمایا : اے علی ! مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈر سناؤں لیکن اس پر میری قدرت نہیں ہے بسا اوقات میں اس کا اعلان کرتا ہوں لیکن جب ان کی طرف سے ناگواری دیکھتا ہوں تو خاموش ہوجاتا ہوں حتیٰ کہ میرے پاس جبرائیل امین تشریف لائے اور فرمایا : اے محمد ! جو تمہیں حکم ملا ہے اسے اگر بجا نہیں لاؤ گے تو رب تعالیٰ تمہیں عذاب دے گا لہٰذا تم میرے لیے ایک صاع کھانا تیار کرو اس پر بکری کی ایک دستی رکھو ہمارے لیے دودھ سے مشروب تیار کرو پھر میرے پاس بنی عبد المطلب کو جمع کرو تاکہ میں ان سے بات کروں اور جو مجھے حکم ملا ہے میں اس کی تبلیغ کروں چنانچہ میں نے کھانا تیار کیا اور بنی عبد المطلب کو دعوت دی، اس وقت ان کی تعداد چالیس کے لگ بھگ تھی ان میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابو طالب حمزہ عباس ابو لھب بھی شامل تھے جب یہ لوگ جمع ہوگئے تو آپ نے مجھے کھانا حاضر کرنے کو کہا میں نے کھانا حاضر کردیا آپ نے قدرے گوشت میں سے قدرے سخت ٹکڑا اٹھایا اسے دانتوں سے چبایا اور برتن کے کناروں میں ڈال دیا پھر فرمایا : بسم اللہ ! کھانا شروع کرو لوگوں نے جی بھر کر کھانا کھایا حتیٰ کہ بےنیاز ہوگئے کھانا بھی باقی تھا برتن میں ہم صرف انگلیوں کے نشانات ہی دیکھتے تھے حالانکہ جو کھانا پیش کیا تھا وہ ایک ہی آدمی کے لیے کافی تھا پھر فرمایا : اے علی ! قوم کو مشروب پلاؤ میں لوگوں کے پاس مشروب لے آیا لوگوں نے اس میں سے پیا اور سیر ہوگئے حالانکہ وہ ایک ہی آدمی کے لیے کافی تھا چنانچہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بات کرنے کا ارادہ کیا ابو لہب جلدی سے بول اٹھا : کہ تمہارا صاحب بات کرچکا ہے لہٰذا چلو لوگ اٹھ کر چلے گئے تاہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے سامنے بات نہ رکھ سکے دوسرے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ! یہ شخص مجھ پر سبقت لے گیا جس کی وجہ سے لوگ اٹھ کر چلے گئے اور میں بات نہ کرسکا لہٰذا کل کی طرح آج بھی کھانا اور مشروب تیار کرو پھر انھیں ہمارے پاس جمع کرو۔ میں نے کھانا تیار کیا پھر لوگوں کو بلایا آپ نے ایسے ہی کیا جیسے کل کیا تھا لوگوں نے کھایا پیا اور سیر ہوگئے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کلام کیا اور فرمایا : اے بنی عبد المطلب میں نہیں جانتا کہ عرب میں کوئی نوجوان ان تعلیمات سے افضل لائے جو میں لایا ہوں میں تمہارے پاس دنیا و آخرت کی بھلائی لایا ہوں ۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اس کی دعوت دوں تم میں سے کون اس معاملہ میں مجھے تقویت پہنچائیے گا ؟ میں نے عرض کیا اس کام کے لیے میں تیار ہوں حالانکہ میں قوم میں سب سے چھوٹا میری آنکھوں میں سب سے زیادہ کیچڑا میرا پیٹ بڑا اور میری پنڈلیاں تاریک تھیں میں نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! اس معاملہ میں میں آپ کا وزیر بنتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے گردن سے پکڑ لیا اور فرمایا : یہ میرا بھائی ، میرا وصی اور خلیفہ ہے اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ لوگ ہنستے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابو طالب سے کہنے لگے : اس نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم علی کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ (رواہ ابن اسحاق وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی فی الدلائل)
36419- عن علي قال: لما نزلت هذه الآية على رسول الله صلى الله عليه وسلم {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} دعاني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا علي! إن الله أمرني أن أنذر عشيرتي الأقربين، فضقت بذلك ذرعا وعرفت أني مهما أناديهم بهذا الأمر أرى منهم ما أكره فصمت عليها حتى جاءني جبريل فقال: يا محمد! إنك إن لم تفعل ما تؤمر به يعذبك ربك، فاصنع لي صاعا من طعام واجعل عليه رجل شاة واجعل لنا عسا من لبن ثم اجمع لي بني عبد المطلب حتى أكلمهم وأبلغ ما أمرت به، ففعلت ما أمرني به ثم دعوتهم له وهم يومئذ أربعون رجلا يزيدون رجلا أو ينقصونه، فيهم أعمامه: أبو طالب وحمزة والعباس وأبو لهب، فلما اجتمعوا إليه دعاني بالطعام الذي صنعته لهم فجئت به، فلما وضعته تناول النبي صلى الله عليه وسلم جشب1 حزبة من اللحم فشقها بأسنانه ثم ألقاها في نواحي الصحفة ثم قال: كلوا بسم الله، فأكل القوم حتى نهلوا عنه، ما نرى إلا آثار أصابعهم، والله! إن كان الرجل الواحد منهم ليأكل مثل ما قدمت لجميعهم، ثم قال: اسق القوم يا علي! فجئتهم بذلك العس، فشربوا منه حتى رووا جميعا، وأيم الله! إن كان الرجل منهم ليشرب مثله. فلما أراد النبي صلى الله عليه وسلم أن يكلمهم بدره2 أبو لهب إلى الكلام فقال: لقد شحركم صاحبكم، فتفرق القوم ولم يكلمهم النبي صلى الله عليه وسلم، فلما كان الغد فقال: فقال: يا علي! إن هذا الرجل قد سبقني إلى ما سمعت من القول فتفرق القوم قبل أن أكلمهم فعد لنا مثل الذي صنعت بالأمس من الطعام والشراب ثم اجمعهم لي، ففعلت ثم جمعتهم، ثم دعاني بالطعام فقربته، ففعل به كما فعل بالأمس، فأكلوا وشربوا حتى نهلوا، ثم تكلم النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا بني عبد المطلب! إني والله ما أعلم شابا في العرب جاء قومه بأفضل ما جئتكم به! إني قد جئتكم بخير الدنيا والآخرة وقد أمرني الله أن أدعوكم إليه، فأيكم يؤازرني على أمري هذا؟ فقلت وأنا أحدثهم سنا وأرمصهم1 عينا وأعظمهم بطنا وأحمشهم2 ساقا: أنا يا نبي الله أكون وزيرك عليه! فأخذ برقبتي فقال: إن هذا أخي ووصيي وخليفتي فيكم فاسمعوا له وأطيعوا، فقام القوم يضحكون ويقولون لأبي طالب: قد أمرك أن تسمع وتطيع لعلي. "ابن إسحاق وابن جرير وابن أبي حاتم وابن مردويه وأبو نعيم، "حق" معا في الدلائل.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٢٠۔۔۔ ” مسند براء بن عازب “ ہم ایک سفر میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے اتنے میں منادی نے اعلان کیا : الصلاۃ جامعۃ ایک درخت کے نیچے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے جگہ صاف کی گئی آپ نے ظہر کی نماز پڑھی اور پھر حضرت علی (رض) کو ہاتھ میں پکڑ کر فرمایا : تمہیں معلوم نہیں کہ میں مومنین پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتا ہوں ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا : جی ہاں کیوں نہیں۔ پھر فرمایا : تمہیں معلوم نہیں کہ میں ہر مومن پر اس کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا : جی ہاں کیوں نہیں۔ پھر فرمایا : تمہیں معلوم نہیں کہ میں ہر مومن پر اس کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہو ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا : جی ہاں کیوں نہیں پھر فرمایا : تمہیں معلوم نہیں کہ میں ہر مومن پر اس کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہو ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا : جی ہاں : کیوں نہیں۔ آپ نے حضرت علی (رض) کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : یا اللہ ! میں جس کا دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے یا اللہ ! جو علی کو دوست رکھتا ہو تو بھی اسے دوست رکھ جو علی کا دشمن ہو تو بھی اس کا دشمن ہوجا۔ اس کے بعد حضرت عمر (رض) کی حضرت علی (رض) سے ملاقات ہوئی عمر (رض) نے فرمایا : اے علی تجھے مبارک ہو صبح و شام تم ہر مومن مردو ہر مومن عورت کے دوست ہو۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
36420- "مسند البراء بن عازب" قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فنزلنا بغدير خم فنودي: الصلاة جامعة! وكسح لرسول الله صلى الله عليه وسلم تحت شجرة فصلى الظهر فأخذ بيد علي فقال: ألستم تعلمون أني أولى بالمؤمنين من أنفسهم؟ قالوا: بلى، فقال: ألستم تعلمون أني أولى بكل مؤمن؟ من نفسه، قالوا: بلى، فأخذ بيد علي فقال؛ اللهم! من كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم! وال من والاه وعاد من عاداه؛ فلقيه عمر بعد ذلك فقال: هنيئا لك يا ابن أبي طالب! أصبحت وأمسيت مولى كل مؤمن ومؤمنة. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٢١۔۔۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو لشکر روانہ کئے ان میں سے ایک پر حضرت علی بن ابی طالب (رض) کو امیر مقرر کیا اور دوسرے پر خالد بن ولید کو فرمایا کہ اگر قتال ہو تو علی لوگوں پر امیر ہے چنانچہ حضرت علی (رض) نے ایک قلعہ فتح کرلیا اور اس میں سے ایک باندی اپنے لیے رکھ لی حضرت خالد (رض) نے اسے براسمجھتے ہوئے خط لکھا جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خط پڑھا تو فرمایا : تم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہو اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتا ہو۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
36421- بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم جيشين: على أحدهما علي ابن أبي طالب، وعلى الآخر خالد بن الوليد، فقال: إن كان قتال فعلي على الناس، فافتتح علي حصنا فاتخذ جارية لنفسه، فكتب خالد يسوء به، فلما قرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم الكتاب قال: ما تقول في رجل يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله. "ش".
তাহকীক: