কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬৪৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٢٢۔۔۔ بریدہ بن حصیب (رح) کی روایت ہے کہ میں حضرت علی (رض) کے ساتھ یمن گیا میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں قدرے جفا دیکھی جب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پاس واپس لوٹا میں نے آپ سے حضرت علی (رض) کا تذکرہ کیا اور ان کی تنقیص کردی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرا اقدس متغیر ہونے لگا اور فرمایا : اے بریدہ ! میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا ہوں میں نے عرض کیا : جی ہاں کیوں نہیں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : جس شخص کا میں دوست ہوں علی (رض) بھی اس کا دوست ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابو نعیم)
36422- عن بريدة بن الحصيب قال: مررت مع علي إلى اليمن فرأيت منه جفوة فلما قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكرت عليا فتنقصته، فجعل وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم يتغير فقال: يا بريدة! ألست أولى بالمؤمنين من أنفسهم؟ قلت: بلى يا رسول الله! قال: من كنت مولاه فعلي مولاه. "ش وابن جرير وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٢٣۔۔۔ بریدہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاطمہ (رض) سے فرمایا : میں نے اپنے خاندان میں سب سے بہتر سے تمہاری شادی کی ہے جو علم میں سب سے آگے بردباری میں افضل اور سب سے پہلے اسلام لانے والا ہے۔ (رواہ الخطیب فی المتفق)
36423- عن بريدة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لفاطمة: زوجتك خير أهلي! أعلمهم وأفضلهم حلما وأولهم سلما. "خط" في المتفق.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٢٤۔۔۔ بریدہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خالد (رض) کو پیغام بھیجا کہ خمس (مال غنیمت کا پانچواں حصہ) تقسیم کرو۔ ایک روایت میں نے کہ خمس پر قبضہ کرو چنانچہ صبح ہوئی تو علی (رض) کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا حضرت خالد (رض) نے کہا : بھلا دیکھتے نہیں ہو کہ یہ کیا کرتا ہے جب میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس لوٹا تو حضرت علی (رض) نے جو کچھ کیا تھا اس بارے خبر دی اس وقت میں حضرت علی (رض) سے بغض کرتا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بریدہ ! تم علی سے بغض رکھتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس سے بغض مت رکھو ایک روایت میں ہے کہ اس سے محبت کرو۔ چونکہ خمس میں اس سے زیادہ اس کا حصۃ ہے۔ (رواہ ابو نعیم)
36424- عن بريدة قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى خالد ليقسم الخمس - وفي لفظ: ليقبض الخمس - فأصبح علي ورأسه يقطر فقال خالد: ألا ترى ما يصنع هذا؟ فلما رجعت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم أخبرته بما صنع علي فكنت أبغض عليا، فقال: يا بريدة! أتبغض عليا؟ قلت: نعم؛ قال: فلا تبغضه - وفي لفظ: قال: فأحبه - فإن له في الخمس أكثر من ذلك."أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٢٥۔۔۔ بریدہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سریہ روانہ کیا اور اس پر حضرت علی (رض) کو امیر مقرر کیا۔ جب ہم واپس لوٹے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے پوچھا : تم نے اپنے ساتھی کی صحبت کو کیسا پایا ؟ فرمایا : یا تو میں اس کی شکایت کروں یا میرے علاوہ کوئی اور اس کی شکایت کرے۔ میں نے اپنا سر اوپر اٹھایا ، میں اپنا سر جھکائے رکھتا تھا جب مجھ سے کوئی بات کی جاتی میں اپنا سر جھکا لیتا تھا، کیا دیکھتا ہوں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ اقدس متغیر ہوتا جا رہا ہے۔ اور پھر فرمایا : جس کا میں دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے، اس کے بعد میرے دل میں جو کچھ عدورت تھی وہ جاتی رہی میں نے کہا : میں علی (رض) کا ذکر بد نہیں کروں گا۔ (رواہ ابن جریر)
36425- عن بريدة قال: بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية واستعمل علينا عليا، فلما جئنا سألنا رسول الله صلى الله عليه وسلم: كيف رأيتم صحبة صاحبكم؟ قال: فإما شكوته أنا وإما شكاه غيري فرفعت رأسي وكنت رجلا مكبابا وكنت إذا حدثت الحديث أكببت وإذا النبي صلى الله عليه وسلم قد احمر وجهه فقال: من كنت وليه فإن عليا وليه، فذهب الذي في نفسي عليه فقلت: لا أذكره بسوء. ابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٢٦۔۔۔ حضرت بریدہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اپنے قریب کروں اور تمہیں اپنے سے دور نہ کروں اور یہ کہ میں تمہیں علم سکھاتا رہوں تاکہ تم اسے یاد کرلو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ تم یاد رکھو اور یہ آیت نازل ہوئی ” وتعیھا اذن وارعیہ “ اور اسے یاد رکھنے والے کانوں نے یاد رکھا ہے “ فرمایا : کہ جب میں اللہ تعالیٰ سے غافل ہوجاؤ۔ (رواہ ابن عساکر وقال : ھذا اسناد لایعرف

والحدیث شاذ)
36426- عن بريدة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: إن الله أمرني أن أدنيك ولا أقصيك وأن أعلمك وأن تعي، وإن حقا على الله أن تعي، ونزلت {وتعيها أذن واعية} قال: إذا غفلت عن الله. "كر" وقال: هذا إسناد لا يعرف والحديث شاذ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٢٧۔۔۔ ” ایضاً “ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! قیامت کے دن آپ کا جھنڈا کون اٹھائے گا ؟ ارشاد فرمایا : جو شخص اسے اچھی طرح سے اٹھانا جانتا ہوگا۔ البتہ دنیا میں اسے علی بن ابی طالب اٹھائے گا۔ (رواہ الطبرانی)

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الترمیہ ٣٦١ و ذخیرۃ الحفاظ ٣٧٣٩۔
36427- "أيضا" قالوا: يا رسول الله! من يحمل رايتك يوم القيامة؟ قال: من يحسن من يحملها إلا من حملها في الدنيا علي بن أبي طالب. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٢٨۔۔۔ جابر بن سمرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : تم خلیفہ ہو اور قتل کیے جاؤ گے تمہارے سر کا یہ حصہ خون آلود ہوگا۔ یعنی سر سے داڑھی تک کا حصہ۔ (رواہ الطبرانی وابن عساکر) ۔ کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ ٢٠٦٣۔
36428- عن جابر بن سمرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: إنك مستخلف مقتول وإن هذه مخضوبة من هذه - يعني لحيته من رأسه. "طب، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٢٩۔۔۔ حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : وہ پہلے لوگوں میں سب سے زیادہ بدبخت کون ہے عرض کیا : حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کی کونچیں جس شخص نے کاٹی تھیں فرمایا : بعد میں آنے والوں میں سب سے زیادہ بدبخت کون ہے ؟ عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتا ہے۔ ارشاد فرمایا : اے علی ! تمہارا قاتل۔ (رواہ ابن عساکر)
36429- عن جابر بن سمرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: من أشقى الأولين؟ قال: عاقر الناقة، قال: فمن أشقى الآخرين؟ قال: الله ورسوله أعلم، قال: قاتلك يا علي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٣٠۔۔۔ ” ایضا “ جابر بن سمرہ (رض) کی روایت ہے کہ ہم جحفہ میں مقام غدیر خم میں تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور حضرت علی (رض) کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : جس شخص کا میں دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
36430- "أيضا" كنا بالجحفة بغدير خم إذ خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخذ بيد علي فقال: من كنت مولاه فعلي مولاه. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٣١۔” ایضاً “ خیبر کے دن حضرت علی (رض) نے قلعے کا دروازہ اٹھایا حتیٰ کہ صحابہ کرام (رض) قلعہ پر چڑھ گئے اور اندر سے دروازہ کھول دیا چنانچہ بعد میں تجربہ کیا گیا کہ چالیس آدمی مل کر اس دروازے کو اٹھاتے تھے۔ رواہ ابن ابی شیبہ وح
36431- "أيضا" إن عليا حمل الباب يوم خيبر حتى صعد المسلمون ففتحوها، وأنه جرب فلم يحمله إلا أربعون رجلا. "ش" حسن.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٣٢۔۔۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت ہے کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا : بجز علی (رض) کے دروازہ کے ہر دروازہ بند کر دو ۔ آپ نے ہاتھ مبارک سے حضرت علی (رض) کے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔ (رواہ ابن عساکر)

کلام :۔۔۔ حدیث موضوع ہے دیکھئے الموضوعات ١/٣٦٥۔
36432- عن جابر بن عبد الله قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سدوا الأبواب كلها إلا باب علي - وأومى بيده إلى باب علي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٣٣۔۔۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت ہے ہم جحفہ میں مقام غدیرخم میں تھے وہاں قبیلہ جہینہ مزینہ اور غفار کے بہت سے لوگ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ خیمہ سے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور حضرت عمر (رض) کو ہاتھ سے پکڑ کر تین بار اشارہ کیا اور فرمایا : جس شخص کا میں دوست علی بھی اس کا دوست ہیں۔ (رواہ البزار)
36433- عن جابر بن عبد الله قال: كنا بالجحفة بغدير خم وثم ناس كثير من جهينة ومزينة وغفار فخرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم من خباء أو فسطاط فأشار بيده ثلاثا فأخذ بيد علي فقال: من كنت مولاه فعلي مولاه. "ز".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٣٤۔۔۔ جابر (رض) کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) رنہ کو مندرجہ ذیل اشعار پڑھتے ہوئے سنا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کی سماعت کر رہے تھے۔

انا اخو المصطفی لاشک فی نسبی معہ ربیت وسبطا ھما ولدی

میں محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بھائی ہوں میرے نسب میں کوئی شک نہیں ہے میری ان کے ساتھ ترتیب کی گئی ہے اور ان

کے دونواسے میرے بیٹے ہیں۔

جدی وجد رسول اللہ منفرح وفاطم زوجتی لاقول ذی فند

میرا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دادا ایک ہی ہے اور فاطمہ (رض) میری بیوی ہے جھوٹے کی بات کوئی حیثیت نہیں

صدقتہ و جمیع الناس فی بھم من الصلاۃ والاشراک والنکد

میں نے اس وقت ان کی تصدیق کی ہے جب سارے لوگ گمراہی شرک اور مکدر زندگی کے بھنور میں پھنسے ہوئے تھے۔

فالحمدللہ شکرا لا شریک لہ البر بالعبد والباقی بلا امد

تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہیں اور میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں اس کا کوئی شریک نہیں نیکی بندے کا خزانہ ہے اور اس کے علاوہ سب کچھ فضول ہے۔

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دئیے اور فرمایا : اے علی تم سچ کہا : (رواہ ابن عساکر وفیہ عمارۃ ابن زیا، ازدی کہتے ہیں : یہ شخص حدیثیں وضع کرتا تھا میں کہتا ہوں صبح بات یہ ہے کہ یہ اشعار حضرت علی (رض) کے نام پر وضع کئے گئے ہیں حالانکہ یہ اشعار حضرت علی (رض) نے نہیں فرمائے چونکہ جس شخص میں معمولی سی بھی براعت اشعار ہو وہ جانتا ہے کہ یہ اشعار شعری مرتبہ و مقام سے کس قدر پست ہیں حضرت علی (رض) کی ذات ایسے اشعار کہنے سے بالاتر ہے چہ جائیکہ ایسے جھونے وضاع کی سند سے یہ اشعار ان کی طرف منسوب کیے جائیں) ۔
36434- عن جابر قال: سمعت عليا ينشد ورسول الله صلى الله عليه وسلم يسمع:

أنا أخو المصطفى لا شك في نسبي. ... معه ربيت وسبطاهما ولدي

جدي وجد رسول الله منفرد. ... وفاطم زوجتي لا قول ذي فند1

صدقته وجميع الناس في بهم. ... من الضلالة والإشراك والنكد

فالحمد لله شكرا لا شريك له. ... البر بالعبد والباقي بلا أمد

فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: صدقت يا علي. "كر" وفيه عمارة ابن زيد، قال الأزدي: كان يضع الحديث: قلت: الذي أقطع به أن هذا الشعر مصنوع موضوع على علي، ما قاله علي قط لأن من له براعة في نقد الشعر يعلم أن هذا نازل الدرجة في صناعة الشعر، ومقام علي رضي الله عنه أعلى بدرجات من أن يقول هذا الشعر النازل، لا سيما وفي سنده هذا الوضاع.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٣٥۔۔۔ ” ایضاً “ سلیمان بن ربیع کا دح بن رحمہ الزاہد مسعر بن کدام عطیہ کی سند سے حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہیں : میں نے جنت کے دروازے پر لکھا ہوا دیکھا : لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ علی اخو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔ (رواہ ابن عساکر)

کلام :۔۔۔ حدیث موضوع ہے یہ ابن عساکر کی واھیات میں سے ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ ٣٠٢٨۔
36435- "أيضا" عن سليمان بن الربيع ثنا كادح بن رحمة الزاهد ثنا مسعر بن كدام عن عطية عن جابر سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: رأيت على باب الجنة مكتوبا: لا إله إلا الله محمد رسول الله علي أخو رسول الله صلى الله عليه وسلم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٣٦۔۔۔ جبلہ میں حارثہ کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بنفس نفیس خود کسی غزوہ میں شریک نہ ہوتے تو اپنا اسلحہ حضرت علی (رض) کو یا اسامہ بن زید (رض) کو دے دیتے۔ (رواہ ابو یعلی وابو نعیم وابن عساکر)
36436- عن جبلة بن حارثة: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا لم يغز أعطى سلاحه عليا أو أسامة بن زيد. "ع" وأبو نعيم، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٣٧۔۔۔ جریر بجلی (رض) کی روایت ہے حج کے موقع پر ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے یہ حجۃ الوداع تھا ہم مقام غدیرخم پہنچے اتنے میں اعلان ہوا ” الصلوٰۃ جامعہ “ مہاجرین و انصار سب جمع ہوگئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے لوگو تم کسی کی گواہی دیتے ہو لوگوں نے کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ارشاد ہوا پھر کس کی گواہی دیتے ہو۔ لوگوں نے کہا : یہ کہ محمد اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں : ارشاد ہوا : تمہارا ولی کون ہے ؟ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول ہمارا ولی ہے ارشاد فرمایا : تمہارا ولی کون ہے ؟ آپ نے اپنا دست اقدس حضرت علی (رض) کے بازو پر رکھا اور انھیں کھڑا کیا بازو چھوڑ کر ہاتھ پکڑ لیے اور فرمایا : اللہ اور اللہ کا رسول جس کا دوست ہو علی بھی اس کا دوست ہے یا اللہ ! جو علی سے دوستی رکھتا ہو اسے تو بھی اپنا دوست رکھ اور جو علی سے دشمنی رکھتا ہو تو بھی اسے دشمن رکھ یا اللہ ! لوگوں میں سے جو شخص علی سے محبت کرتا ہو تو اسے اپنا حبیب بنا لے جو اس سے بغض رکھتا ہو تو بھی اس سے بغض رکھ یا اللہ ! زمین پر دو نیک بندوں کے بعد علی کے سوا کسی کو نہیں پاتا جسے میں ودیعت سپرد کرکے جاؤ، لہٰذا اس میں بھلائی کا فیصلہ فرمانا۔ (رواہ الطبرانی)

فائدہ :۔۔۔ یہ حدیث مجمع الزوائد میں ہیشمی نے بھی ذکر کی ہے۔ دیکھئے ٩/١٠٦ لیکن اس کی سند میں بشر بن حرب ہے اسے ناقدین حدیث نے لین الحدیث قرار دیا ہے۔
36437- عن جرير البجلي قال: شهدنا الموسم في حجة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي حجة الوداع فبلغنا مكانا يقال له "غدير خم" فنادى: الصلاة جامعة! فاجتمعنا المهاجرون والأنصار فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم وسطنا فقال: أيها الناس! بم تشهدون؟ قالوا: نشهد أن لا إله إلا الله، قال: ثم مه؟ قالوا: وأن محمدا عبده ورسوله، قال: فمن وليكم؟ قالوا: الله ورسوله مولانا، قال: من وليكم؟ ثم ضرب بيده إلى عضد علي فأقامه فنزع عضده فأخذ بذراعيه فقال: من يكن الله ورسوله مولاه فإن هذا مولاه، اللهم! وال من والاه وعاد من عاداه، اللهم! من أحبه من الناس فكن له حبيبا ومن أبغضه فكن له مبغضا، اللهم! إني لا أجد أحدا أستودعه في الأرض بعد العبدين الصالحين غيره فاقض فيه بالحسنى. "طب
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
36438 ۔۔۔ حضرت جندب بن ناجیہ بن جندب سے مروی ہے کہ غزوہ طائف کے دن رسول اللہ حضرت علی کے ساتھ کچھ دیر کھڑے رہے پھر چلے گئے ، حضرت ابوبکر نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرمایا رسول اللہ آپ کی آج کے دن حضرت علی سے مناجات لمبی ہوگئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا میں نے اس سے سرگوشی نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ سرگوشی کی ہے۔ رواہ طبرانی۔
36438- عن جندب بن ناجية أو ناجية بن جندب: لما كان يوم غزوة الطائف قام النبي صلى الله عليه وسلم مع علي مليا ثم مر، فقال له أبو بكر: يا رسول الله! لقد طالت مناجاتك عليا منذ اليوم! فقال: ما أنا انتجيته ولكن الله انتجاه. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
36439 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ جب اہل قباء نے رسول اللہ سے مسجد بنانے کی اجازت مانگی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرامیا تم میں سے کوئی کھڑا ہو اور اونٹنی پر سوار ہو تو حضرت ابوبکر صدیق کھڑے ہوئے اور سوار ہوگئے اور پھر اونٹنی کو حرکت دی مگر وہ کھڑی نہ ہوئی پھر واپس آکر اپنی جگہ بیٹھ گے ان کے بعد حضرت عمر سے سوار ہوئے اور حرکت دی مگر وہ کھڑی نہ ہوئی لہٰذا آپ بھی واپس آئے اور اپنی جگہ پر بیٹھ گئے جس پر حضرت علی کھڑے ہوئے جب انھوں نے اپنا پاؤں ارتکاب کے اندر رکھا اور جم گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے علی اس کی لگام ڈھیلی چھوڑ اور اس کے راستے میں مسجد تعمیر کرو یہ اونٹنی حکم کی پابند ہے۔ رواہ طبرانی۔
36439- عن جابر: لما سأل أهل قباء النبي صلى الله عليه وسلم أن يبني لهم مسجدا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليقم بعضكم فيركب الناقة، فقام أبو بكر فركبها وحركها فلم تنبعث فرجع فقعد، فقام عمر فركبها فحركها فلم تنبعث فرجع فقعد، فقام علي فلما وضع رجله في غرز الركاب وثبت به، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا علي! أرخ زمامها، وابنوا على مدارها فإنها مأمورة. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٤٠۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کے درمیان مواخات قائم کی اور مجھے چھوڑ دیا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اپنے اپنے صحابہ (رض) کے درمیان مواخات قائم کی ہے اور مجھے چھوڑ دیا ہے۔ ارشاد فرمایا : میں نے تمہیں کیسے چھوڑا تمہیں تو اپنے لیے چن رکھا ہے تو میرا بھائی اور میں تیرا بھائی ہوں۔ اگر کوئی شخص تمہارے ساتھ جھگڑا کرے تو کہہ دو ؟ میں اللہ کا بندہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بھائی ہوں۔ اس کا دعوی تمہارے بعد صرف جھوٹا ہی کرے گا۔ (رواہ ابو یعلی)
36440- عن علي قال آخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بين الناس وتركني فقلت: يا رسول الله آخيت بين أصحابك وتركتني! قال: ولم تركتك؟ إنما تركتك لنفسي، أنت أخي وأنا أخوك، قال: فإن حاجك أحد فقل: إني عبد الله وأخو رسول الله، لا يدعيها أحد بعدك إلا كذاب. "ع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৪৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٤١۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ مقام خم میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک درخت کے نیچے تشریف فرما تھے پھر حضرت علی (رض) کو ہاتھ سے پکڑے ہوئے باہر تشریف لائے اور فرمایا : اے لوگو ! تم گواہی نہیں دیتے ہو کہ اللہ تمہارا رب ہے ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں کیوں نہیں فرمایا : کیا تم گواہی نہیں دیتے ہو کہ اللہ اور اللہ کا رسول تمہارے اوپر تمہاری جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں۔ پھر فرمایا : اللہ اور اس کا رسول جس شخص کا دوست ہو علی بھی اس کا دوست ہے میں نے تمہارے اندر دو چیزیں چھوڑی ہیں اگر تم انھیں تھامے رکھو گے کبھی گمراہ نہیں ہوگئے کتاب اللہ اس کا رستہ اس کے ہاتھ میں ہے اور اس کا رستہ تمہارے ہاتھوں میں ہے دوسری چیز میرے اہل بیت۔ (رواہ ابن راھویہ وابن جریر وابن ابی عاصم والمحاملی فی امالیہ واصححہ)
36441- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم حضر الشجرة بخم ثم خرج آخذا بيد علي فقال: أيها الناس! ألستم تشهدون أن الله ربكم؟ قالوا: بلى، قال: ألستم تشهدون أن الله ورسوله أولى بكم من أنفسكم وأن الله ورسوله مولاكم؟ قالوا: بلى، قال: فمن كان الله ورسوله مولاه فإن هذا مولاه، وقد تركت فيكم ما إن أخذتم به لن تضلوا بعده: كتاب الله سببه بيده وسببه بأيديكم، وأهل بيتي.ابن راهويه وابن جرير وابن أبي عاصم والمحاملي في أماليه وصحح.
tahqiq

তাহকীক: