কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬৪৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٤٢۔۔۔ ” مسند عمار “ عمار (رض) کہتے ہیں : میں اور علی (رض) غزوہ ذی العشیرہ میں ایک دوسرے کے رفیق سفر تھے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تمہیں ایسے دو شخصوں کے بارے میں نہ بتاؤں جو لوگوں میں سب سے زیادہ بدبخت ہیں ؟ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! جی ہاں ارشاد فرمایا : ایک قوم ثمود کا احمیر جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹی تھیں دوسرا وہ شخص جو اے علی ! تمہارے سر پر زخم لگائے گا حتیٰ کہ خون سے تمہاری داڑھی بھیگ جائے گی۔ (رواہ احمد بن حنبل والبغوی والطبرانی والحاکم وابن مرویہ وابو نعیم فی المعرفۃ وابن عساکر)
36442- "مسند عمار" كنت أنا وعلي بن أبي طالب رفيقين في غزوة ذي العشيرة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أحدثكما بأشقى الناس رجلين؟ قلنا: بلى يا رسول الله؟ قال: أحيمر ثمود الذي عقر الناقة، والذي يضربك يا علي على هذا - يعني قرنه - حتى تبل
هذه - يعني لحيته. "حم" والبغوي، "طب، ك" وابن مردويه وأبو نعيم في المعرفة، "كر".
هذه - يعني لحيته. "حم" والبغوي، "طب، ك" وابن مردويه وأبو نعيم في المعرفة، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٤٣۔۔۔ حضرت عمار بن یاسر (رض) کی روایت ہے کہ میں اور علی (رض) غزوہ عشیرہ میں بطن ینبوع کے مقام پر ایک دوسرے کے رفیق سفر تھے چنانچہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہاں نزول کیا تو ایک ماہ تک ٹھہرے رہے اور اس دوران بنی مدلج اور ان کے خلفاء قبیلے بنی ضمرہ سے صلح کی پھر آپ ان سے رخصت ہوگئے حضرت علی (رض) نے مجھے کہا : اے ابو یفظان ! تمہیں شوق ہے کہ ہم بنی مدلج کے ان لوگوں کے پاس جائیں جو کنواں کھودنے کے کام میں مصروف ہیں ذرا ہم انھیں دیکھیں کہ یہ لوگ کیسے کام کرتے ہیں ؟ ہم ان لوگوں کے پاس آئے تھوڑی دیر انھیں دیکھتے رہے پھر ہمارے اوپر نیند طاری ہوگئی ہم کھجودوں کے درختوں تلے خاکدارسی جگہ پر آگئے ہم اس جگہ سوگئے بخدا ! ہم صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدموں کی چاپ سن کر بیدار ہوئے اس خاکدار جگہ کی وجہ سے ہمارے بدن بھی خاک آلود ہوگئے تھے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : اے ابو تراب ! چونکہ علی (رض) کے بدن پر تراب (خاک) اٹی پڑی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں کچھ بتایا اور پھر فرمایا میں تمہیں ایسے دو شخصوں کی خبر نہ دوں جو سب سے زیادہ بدبخت ہیں ہم نے عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : قوم ثمود کا احیمر جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹی تھیں اے علی دوسرا وہ شخص جو تمہیں یہاں ضرب لگائے گا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کے سر پر اپنا ہاتھ رکھ کر اشارہ کیا۔ حتیٰ کہ تمہاری یہ جگہ خون آلود ہوجائے گی آپنے حضرت علی (رض) کی داڑھی پر ہاتھ رکھا۔ رواہ ابن عساکر وابن النجار
36443- عن عمار بن ياسر قال: كنت أنا وعلي رفيقين في غزوة العشيرة من بطن ينبع، فلما نزلها رسول الله صلى الله عليه وسلم أقام بها شهرا فصالح فيها بين بني مدلج وحلفائهم من ضمرة فوادعهم، فقال لي علي: هل لك يا أبا اليقظان أن تأتي هؤلاء نفر من بني مدلج يعملون في عين لهم فننظر كيف يعملون؟ فأتيناهم فنظرنا إليه ساعة ثم غشينا النوم فعمدنا إلى صور من النخل في دقعاء من الأرض فنمنا فيه، فوالله ما أهبنا إلا رسول الله صلى الله عليه وسلم بقدمه! فجلسنا وقد تتربنا من تلك الدقعاء فيومئذ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: يا أبا تراب! لما عليه من التراب، فأخبرناه بما كان من أمرنا، فقال: ألا أخبركما بأشقى رجلين؟ قلنا: بلى يا رسول الله! قال: أحيمر ثمود الذي عقر الناقة والذي يضربك يا علي على هذه - ووضع رسول يده على رأسه - حتى تبل منها هذه - ووضع يده على لحيته. "كر" وابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٤٤۔۔۔ عمران حصین کی روایت ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سریہ روانہ کیا اور ان پر حضرت علی (رض) کو امیر مقرر کیا سریہ کو کافی مقدار میں مال غنیمت ملا علی (رض) نے مال غنیمت سے کچھ لے لیا جسے لوگوں نے اچھا نہ سمجھا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی (رض) نے باندی لے لی تھی چنانچہ لشکر میں سے ایک کے بعد دوسرا لگاتار چار آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتانے کی غرض سے آئے صحابہ (رض) جب کبھی سفر سے واپس لوٹتے تھے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوتے اور آپ کو سلام کرتے تھے اور آپ کا دیدار کرکے واپس لوٹ جاتے تھے جب سریہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس آیا چار میں سے ایک کھڑا ہوا اور کہا : یا رسول اللہ ! آپ نہیں دیکھتے کہ علی (رض) نے مال غنیمت میں سے ایک باندی لے لی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منہ پھیرلیا دوسرا کھڑا ہو اس نے بھی یہی بات کہی آپ نے اس سے بھی منہ پھر لیا پھر تیسرا کھڑا ہو اس نے بھی یہی بات کی آپ نے اس سے بھی منہ پھیرلیا پھر چوتھا کھڑا ہو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرف متوجہ ہوئے آپ کے چہرے اقدس پر غصہ کے اثرات پہنچانے جاسکتے تھے آپ نے فرمایا : تم علی سے کیا چاہتے ہو ؟ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں میرے بعد علی ہر مومن کا ولی ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وابن حریر و صحیحہ)
36444- عن عمران بن حصين قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية واستعمل عليهم عليا فغنموا فصنع علي شيئا أنكروه - وفي لفظ: فأخذ علي من الغنيمة جارية - فتعاقد أربعة من الجيش إذا قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يعلموه، وكانوا إذا قدموا من سفر بدؤا برسول الله صلى الله عليه وسلم فسلموا عليه ونظروا إليه ثم ينصرفون إلى رحالهم، فلما قدمت السرية سلموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام أحد الأربعة فقال: يا رسول الله! ألم تر أن عليا قد أخذ من الغنيمة جارية؟ فأعرض عنه، ثم قام الثاني فقال مثل ذلك فأعرض عنه، ثم قام الثالث فقال مثل ذلك فأعرض عنه، ثم قام الرابع فأقبل إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم يعرف الغضب في وجهه فقال: ما تريدون من علي؟ علي مني وأنا من علي وعلي ولي كل مؤمن بعدي. "ش" وابن جرير وصححه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٤٥۔۔۔ ” مسند عمرو بن شاش “ عمرو بن شاش کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : تم نے مجھے اذیت پہنچائی ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں آپ کو اذیت پہنچاؤں۔ آپ نے فرمایا : جس نے علی کو اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی (رواہ ابن ابی شیبہ وابن سعد واحمد بن حنبل والبخاری فی تاریخہ والطبرانی والحاکم)
36445- "مسند عمرو بن شاش"قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: قد آذيتني، قلت: يا رسول الله! ما أحب أن أوذيك، فقال: على آذى عليا فقد آذاني. "ش" وابن سعد، "حم، خ" في تاريخه، "طب، ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٤٦۔۔۔ حضرت عمرو بن العاص (رض) کی روایت ہے کہ جب میں غزوہ ذات السلاسل سے واپس لوٹا میرا خیال تھا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب سے زیادہ محبوب ہوں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! لوگوں میں سب سے زیادہ آپ کو کون محبوب ہے ؟ ارشاد فرمایا : عائشہ (رض) میں نے عرض کیا : میں نے عورتوں کے متعلق سوال نہیں کیا آپ نے فرمایا : عائشہ کے والد مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں میں نے عرض کیا : ابوبکر (رض) کے بعد آپ کو کون سب سے زیادہ محبوب ہے ؟ فرمایا : حفصہ (رض) میں نے عرض کیا : میں عورتوں کے متعلق نہیں پوچھ رہا فرمایا : حفصہ (رض) کے والد میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ : علی کہاں ہیں : آپ نے صحابہ کی طرف التفات کیا اور فرمایا : یہ شخص ایک ہی
جان کے متعلق پوچھ رہا ہے۔ (رواہ ابن النجار)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے اللآلی : ١/٣٨٢۔
جان کے متعلق پوچھ رہا ہے۔ (رواہ ابن النجار)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے اللآلی : ١/٣٨٢۔
36446- عن عمرو بن العاص قال: لما قدمت من غزوة ذات السلاسل - وكنت أظن أن ليس أحد أحب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم مني - فقلت: يا رسول الله! أي الناس أحب إليك؟ قال: عائشة، قال: إني لست أسالك عن النساء، قال: أبوها إذن، قلت: فأي الناس أحب إليك بعد أبي بكر؟ قال: حفصة، قلت: لست أسألك عن النساء، قال: أبوها إذن، قلت: يا رسول الله! فأين علي؟ فالتفت إلى أصحابه فقال: إن هذا يسألني عن النفس. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٤٧۔۔۔ ابو اسحاق کی روایت ہے کہ قثم سے کسی نے پوچھا : حضرت علی (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمہارے علاوہ کیسے وارث بن گئے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا : وہ ہم میں سے پہلے آپ کے ساتھ لاحق ہوئے اور ہم سے زیادہ آپ کے ساتھ چمٹے رہتے تھے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
36447- عن أبي إسحاق قال: قيل لقثم: كيف ورث علي النبي صلى الله عليه وسلم دونكم؟ قال: إنه كان أولنا به لحوقا وأشدنا به لزوقا. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٤٨۔۔۔ ” مسند السید الحسن “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عرب کے سردار کو میرے پاس بلا لاؤ میں نے عرض کیا : آپ عرب کے سردار نہیں ہیں ؟ ارشاد فرمایا : میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور علیعرب کا سردار ہے جب آپ تشریف لائے فرمایا : اے جماعت انصار ! کیا میں ایسی چیز پر تمہاری رہنمائی نہ کردوں جسے اگر تم پکڑے رکھو تو میرے بعد گمراہ نہیں ہوگے یہ علی (رض) ہے اس سے محبت کرو اور اس کی عزت و اکرام کرو جبرائیل امین نے مجھے اسی کا حکم دیا ہے جو میں نے تم سے کہہ دیا ہے۔ (رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ)
36448- "مسند السيد الحسن" ادعوا لي سيد العرب، قلت: ألست سيد العرب؟ قال: أنا سيد ولد آدم وعلي سيد العرب، فلما جاء قال: يا معشر الأنصار! ألا أدلكم على ما إن تمسكتم به لن تضلوا بعده أبدا؟ هذا علي فأحبوه بحبي وأكرموه بكرامتي فإن جبريل أمرني بالذي قلت لكم عن الله عز وجل. "حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٤٩۔۔۔ ” مسند رافع بن خدیج “ غزوہ احد میں جب علی (رض) نے اصحاب الویہ کو قتل کیا تو جبرائیل امین نے آکر کہا : یا رسول اللہ ! یہ غمخواری ہے جو اپنی مثال آپ ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ مجھ سے ہے میں اس سے ہوں جبرائیل امین نے کہا : میں تم دونوں سے ہوں۔ (رواہ الطبرانی)
36449- "مسند رافع بن خديج" لما قتل علي يوم أحد أصحاب الألوية قال جبريل: يا رسول الله! إن هذه لهي المواساة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إنه مني وأنا منه، قال جبريل: وأنا منكما يا رسول الله. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٥٠۔۔۔ ابو رافع کی روایت ہے کہ ابو امامہ (رض) کہتے ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کے درمیان مواخات قائم کی تو آپ نے علی (رض) کو اپنا بھائی بنایا۔ (رواہ ابن عساکر)
36450- عن أبي رافع عن أبي أمامة قال: لما آخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بين الناس آخى بينه وبين علي. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٥١۔۔۔ زید بن ارقم (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سب سے پہلے اسلام لانے والے علی (رض) ہیں۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
36451- عن زيد بن أرقم قال: أول من أسلم مع رسول الله صلى الله عليه وسلم علي. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٥٢۔۔۔ سلمان فارسی (رض) کی روایت ہے کہ اس امت میں سب سے پہلے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس وارد ہونے والا اور سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والا شخص علی (رض) ہیں۔ رواہ ابن ابی شیبہ)
36452- عن سلمان الفارسي قال: إن أول هذه الأمة ورودا على نبيها أولها إسلاما علي بن أبي طالب. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٥٣۔۔۔ ” مسند شداد بن اوس “ شرجیل بن مرہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی : خوش ہوجاؤ ، تمہاری موت وحیات میرے ساتھ ہوگی۔ (رواہ ابن مندہ وابن قانع وابن عساکر)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے سیکھئے ذخیرۃ الحفاظ ١٨۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے سیکھئے ذخیرۃ الحفاظ ١٨۔
36453- "مسند شداد بن أوس" عن شرحبيل بن مرة قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: أبشر يا علي! حياتك معي وموتك معي.ابن منده وابن قانع، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٥٤۔۔۔ ” مسند عبداللہ بن اسود “ حجاج بن حسان عبداللہ بن احجم خزاعی کی روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی ابن ابی طالب (رض) کو یمن بھیجا علی (رض) یمن میں ظفر مند غنیمت سے کامران اور محفوظ سالم رہے انھوں نے بریدہ (رض) کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بشارت سنانے بھیجا جب بریدہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو لشکر کی سلامتی کامیابی اور کثیر مال غنیمت کے حصول کی خوشخبری سنائی پھر عرض کیا : علی (رض) نے قیدیوں میں سے ایک خادم یا باندی اپنے لیے منتخب کرلی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ اقدس غصہ سے سرخ ہوگیا حتیٰ کہ بریدہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے پر غصے کے اثرات پر کھ لیے اور بولے : میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے غصہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں۔ میں پسند کرتا ہوں کہ اس سے قبل زمین مجھے نگل لے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ریدہ ! علی نے اپنے حق میں سے زیادہ باقی چھوڑا ہے۔ آُ نے تین بار یہ ارشاد فرمایا۔ (رواہ ابن النجار)
36454- "مسند عبد الله بن الأسود" عن الحجاج بن حسان قال: حدثني عبد الله بن أحجم الخزاعي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث عليا ابن أبي طالب إلى اليمن فظفر وغنم وسلم، فبعث بريدة بشيرا إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فلما أتى بريدة رسول الله صلى الله عليه وسلم أخبره بسلامة الجند وظفرهم وغنيمتهم ثم قال: إن عليا قد اصطفى من السبي خادما أو وليدة! فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم واحمر وجهه حتى عرف بريدة الغضب في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال بريدة: أعوذ بالله من غضب الله وغضب رسوله؟ ولوددت أن الأرض ساخت بي قبل هذا، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أي بريدة! لما يدع علي من حقه أكثر مما يأتيه، لما يدع علي من حقه أكثر مما يأتيه ثلاث مرات.
ابن النجار.
ابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٥٥۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : تم قیامت کے دن میرے آگے آگے ہوگے مجھے لواء حمد دی آجائے گا وہ میں تمہیں دے دوں گا اور تم حوض کوثر پر لوگوں کو ہٹانے میں میری مدد کروگے۔ (رواہ ابن عساکر وقال : فیہ ابو حذیفۃ اسحاق بن بشر ضعیف)
36455- عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: أنت أمامي يوم القيامة فيدفع إلي لواء الحمد فأدفعه إليك، وأنت تذود الناس عن حوضي. "كر" وقال: فيه أبو حذيفة إسحاق بن بشر ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٥٦۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ تو سید العرب ہیں آپ نے فرمایا : میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور علی عرب کا سردار ہے۔ (رواہ ابن النجار)
36456- عن عائشة قالت قلت: يا رسول الله! أنت سيد العرب، قال: أنا سيد ولد آدم وعلي سيد العرب. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٥٧۔۔۔ جمیع بن عمیر کی روایت ہے کہ انھوں نے حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا : لوگوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کون زیادہ محبوب ہے ؟ آپ (رض) نے کہا : فاطمہ (رض) عرض کیا : ہم عورتوں کے متعلق نہیں پوچھ رہے بلکہ مردوں کے متعلق پوچھا ہے حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : ان کے خاوند ۔ (رواہ الخطیب فی المتفق والمفترق وابن النجار وقال الذھبی : کہ جمیع بن عمیر تیمی کوفی مشہور تابعی ہے لیکن وہ متہم بالکذب ہے)
36457- عن جميع بن عمير أنه سأل عائشة: من كان أحب الناس إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: فاطمة، قال: لسنا نسألك عن النساء بل الرجال، قالت: زوجها. "خط" في المتفق والمفترق وابن النجار، قال الذهبي: جميع بن عمير التيمي الكوفي تابعي مشهور أتهم بالكذب.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٥٨۔۔۔ ” ایضاً “ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر فخر کیا ہے اللہ تعالیٰ نے تم میں سے عام لوگوں کو بخش دیا ہے اور علی کو خصوصاً میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں میں اپنے قریبی رشتہ داروں کے متعلق چشم پوشی کرنے والا نہیں ہوں۔ یہ جبرائیل ہیں انھوں نے مجھے خبر دی ہے کہ خوش بخت انسان وہ ہے جو علی سے محبت رکھتا ہو خواہ علی زندہ ہو یا مردہ اور بدبخت انسان وہ ہے جو علی سے محبت رکھتا ہو خواہ علی زندہ ہو یا مردہ اور بدبخت انسان وہ ہے جو علی سے بغض رکھتا ہو خواہ علی زندہ ہو یا مردہ۔ (رواہ الطبرانی والبیہقی فی فضائل الصحابۃ وابن الجوزی فی الواھیات)
36458- "أيضا" إن الله عز وجل باهى بكم وغفر لكم عامة وغفر لعلي خاصة وإني رسول الله إليكم غير محاب1 لقرابتي، هذا جبريل يخبرني أن السعيد حق السعيد من أحب عليا في حياته وبعد موته، وأن الشقي كل الشقي من أبغض عليا في حياته وبعد موته. "طب، ق" في فضائل الصحابة وابن الجوزي في الواهيات.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٥٩۔۔۔ حضرت فاطمہ (رض) کی روایت ہے کہ ام سلمہ (رض) کہتی ہیں : بخدا حضرت علی (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہت قریب تھے چنانچہ جس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوئے ہم آپ کی تیمارداری کے لیے حاضر ہوئیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عائشہ (رض) کے گھر میں تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باربار فرماتے۔ کیا علی آگیا ہے ؟ ام سلمہ (رض) کہتی ہیں میرا خیال ہے کہ آپ نے علی (رض) کو کسی کام سے بھیجا تھا تھوڑی دیر بعد حضرت علی (رض) واپس لوٹ آئے ہم سمجھے کہ آپ کو علی (رض) سے کوئی ضروری کام ہے ہم باہر نکل آئے اور دروازے پر بیٹھ گئے میں دوسروں کی نسبت آپ اور علی (رض) کے زیادہ قریب تھی، میں نے دیکھا کہ علی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھکے ہوئے ہیں اور آپ نے علی سے سرگوشیاں کوئی شروع کردیں پھر اسی دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کو پیارے ہوگئے یوں اس اعتبار سے علی (رض) آپ کے زیادہ قریب تھے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
36459- عن فاطمة الزهراء عن أم سلمة قالت: والذي أحلف به! إن كان علي لأقرب الناس عهدا برسول الله صلى الله عليه وسلم، قالت عدنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم قبض في بيت عائشة فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم غداة بعد غداة يقول: جاء علي؟ مرارا، قالت وأظنه كان بعثه في حاجة فجاء بعد، فظننا أنه له إليه حاجة فخرجنا من البيت فقعدنا بالباب فكنت من أدناهم من الباب فأكب عليه علي، فجعل يساره ويناجيه، ثم قبض من يومه ذلك فكان أقرب الناس به عهدا. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٦٠۔۔۔ ابو عبداللہ جدلی کی روایت ہے کہ مجھے ام سلمہ (رض) نے کہا : اے ابو عبداللہ ! تمہیں غیرت نہیں آتی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمہارے اندر گالیاں دی جاتی ہیں ؟ میں نے کہا : بھلا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کون گالیاں دیتا ہے ؟ ام سلمہ (رض) نے کہا : حضرت علی اور ان کے محبین کو گالیاں دی جا رہی ہیں جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرتے تھے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
36460- عن أبي عبد الله الجدلي قال: قالت لي أم سلمة: يا أبا عبد الله! أيسب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيكم ثم لا تغيرون؟ قلت: ومن يسب رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: يسب علي ومن يحبه وقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحبه. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٦١۔۔۔ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا آپ سے علی (رض) بارے میں پوچھا گیا۔ آپ نے فرمایا : حکمت دس حصوں میں تقسیم کی گئی ہے نو حصے علی کئے گئے ہیں اور ایک حصہ باقی لوگوں میں تقسیم کیا گیا ہے جب کہ علی لوگوں سے زیادہ اس کا علم رکھتا ہے۔ (رواہ الازدی فی الضعفاء وابو نعیم فی الحلیۃ وابن النجار وابن الجوزی فی الواھیات وابو علی الحسین بن علی البردعی فی معجمہ)
36461- عن ابن مسعود قال: كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم فسئل عن علي، قال: قسمت الحكمة عشرة أجزاء: فأعطى علي تسعة أجزاء والناس جزأ واحدا، وعلي أعلم بالواحد منهم. الأزدي في الضعفاء، "حل"، وابن النجار وابن الجوزي في الواهيات، وأبو علي الحسين بن علي البردعي في معجمه.
তাহকীক: