কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬৪৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٦٢۔۔۔ ” مسند علی “ ترمذی وابن جریر دونوں روایت کرتے ہیں اسماعیل بن موسیٰ سعدی محمد بن عمر رومی شریک سلمہ بن کہیل عن سوید بن غفلہ صنا بحی علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں حکمت کا خزانہ ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ (رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ امام ترمذی کہتے ہیں ایک نسخہ کے اعتبار سے یہ حدیث غریب اور منکر ہے بعض محدثین نے یہ حدیث شریک کے واسطہ سے روایت کی ہے لیکن اس کی سند میں صنابحی کا ذکر نہیں کیا جب کہ ثقہ راویوں میں سے شریک کے علاوہ کسی سے معروف نہیں ہے وفی الباب عن ابن عباس انتھی۔ ابن جریر کہتے ہیں یہ حدیث صحیح و مسند ہے ہاں البتہ دوسرے محدثین کے نقطہ نظر سے اگرچہ سقیم و ضعیف ہے اور اس کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں۔ (١) اس کا مخرج عن علی عن (رض) اس طریق کے علاوہ کسی اور طریق سے ثابت نہیں (٢) سلمہ بن کہیل محدثین کے نزدیک ایسا راوی ہے جس کی مرویات کسی طرح حجت نہیں۔ جب کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اور بھی روایات اس کی موافقت میں روایت کی گئی ہیں
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الاتقان : ٣١٢ والتزکرۃ ١٦٣۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الاتقان : ٣١٢ والتزکرۃ ١٦٣۔
36462- "مسند علي" قال الترمذي وابن جرير معا: حدثنا إسماعيل بن موسى السدي نبأنا محمد بن عمر الرومي عن شريك عن سلمة بن كهيل عن سويد بن غفلة عن الصنابحي عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنا دار الحكمة وعلي بابها. "حل"، قال الترمذي: هذا حديث غريب وفي نسخة، منكر، وروى بعضهم هذا الحديث عن شريك1 ولم يذكروا فيه: عن الصنابحي، ولم يعرف هذا الحديث عن أحد من الثقات غير شريك وفي الباب عن ابن عباس انتهى وقال ابن جرير هذا خبر صحيح مسنده وقد يجب أن يكون على مذهب آخرين سقيما غير صحيح لعلتين: إحداهما أنه خبر لا يعرف له مخرج عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم إلا من هذا الوجه، والأخرى أن سلمة بن كهيل عندهم ممن لا يثبت بنقله حجة، وقد وافق عليا في رواية هذا الخبر عن النبي صلى الله عليه وسلم غيره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٦٣۔۔۔ محمد بن اسماعیل ضراری عبد السلام بن صالح ھروی ابو معاویہ اعمش مجاہد کی سند سے ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے جو شخص شہر میں آنا چاہے وہ اس کے دروازے سے آئے۔
36463- ثنا محمد بن إسماعيل الضراري ثنا عبد السلام بن صالح الهروي ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنا مدينة العلم وعلي بابها، فمن أراد المدينة فليأتها من بابها.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٦٤۔۔۔ ابراہیم بن موسیٰ رازی (یہ فراء نہیں ہے) ابو و معاویہ باسناد مثل بالا میں اس شیخ کو نہیں جانتا اور نہ ہی اس سے اس حدیث کے علاوہ کوئی اور حدیث سنی ہے۔ انتھی یہ کلام ابن جریر ابن جوزی نے علی (رض) اور ابن عباس (رض) کی حدیث (میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے) کو موضوعات میں ذکر کیا ہے جب کہ ابن عساکر نے ابن عباس (رض) کی حدیث ذکر کی ہے اور اسے صحیح الاسناد کہا ہے خطیب نے اپنی تاریخ میں روایت کیا ہے کہ یحییٰ بن معین سے ابن عباس (رض) کی حدیث کے متعلق استفسار کیا گیا۔ انھوں نے جواب دیا۔ یہ حدیث صحیح ہے جب کہ ابن عدی نے ابن عباس (رض) کی حدیث کو موضوع قرار دیا ہے حافظ صلاح الدین علائی کہتے ہیں : میزان میں ذہبی وغیرہ نے بھی اس حدیث کے بطلان کا قول اختیار کیا ہے لیکن سوائے اس کے موضوع ہونے کے اس میں کوئی علت قادحہ نہیں بیان کی جب کہ حافظ ابن حجر (رح) کہتے ہیں : مستدرک میں اس حدیث کے بہت سے طرق نقل کیے گئے ہیں جو کم از کم اس بات پر دال ہیں کہ اس حدیث کی کوئی نہ کوئی اصل ہے لہٰذا اس کے موضوع ہونے کا اطلاق مناسب نہیں ہے اس حدیث پر فتوی یا نہ رویہ اختیار کرتے ہوئے کہتے ہیں : حاکم نے مستدرک میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اور ابن جوزی نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے یہ جھوٹ ہے تاہم حق بات ان دونوں کے خلاف ہے چنانچہ یہ حدیث قسم حسن سے ہے صحیح تک نہیں پہنچی اور خذب تک مرتبہ میں نہیں کرتی اس میں بحث طویل ہے لیکن قابل اعتماد بات اتنی ہی ہے مصنف (رح) کہتے ہیں میں عرصہ تک اس حدیث کا یہی جواب دیتا رہا حتیٰ کہ مجھے تہذیب الآثار میں علی (رض) کی حدیث سے متعلق ابن جریر کی تصحیح پر واقفیت ہوئی جب کہ حاکم نے ابن عباس (رض) کی حدیث کو صحیح گردانا ہے میں نے اللہ تعالیٰ سے استخارہ کیا پھر مجھے جزم و یقین ہوگیا کہ یہ حدیث مرتبہ حسن سے مرتبہ صحیح تک پہنچی ہوئی ہے۔ واللہ اعلم۔
36464- ثنا إبراهيم بن موسى الرازي - وليس بالفراء - ثنا أبو معاوية - بإسناد مثله هذا الشيخ لا أعرفه ولا سمعت منه غير هذا الحديث - انتهى كلام ابن جرير. وقد أورد ابن الجوزي في الموضوعات حديث علي وابن عباس وأخرج "ك" حديث ابن عباس وقال: صحيح الإسناد، وروى "خط" في تاريخه عن يحيى بن معين أنه سئل عن حديث ابن عباس فقال: هو صحيح، وقال: "عد" في حديث ابن عباس: إنه موضوع، وقال الحافظ صلاح الدين العلائي: قد قال ببطلانه أيضا الذهبي في الميزان وغيره ولم يأتوا في ذلك بعلة قادحة سوى دعوى الوضع دفعا بالصدر، وقال الحافظ ابن حجر في لسانه: هذا الحديث له طرق كثيرة في مستدرك الحاكم أقل أحوالها أن يكون الحديث أصلا فلا ينبغي أن يطلق القول عليه بالوضع، وقال في فتوى هذا الحديث: أخرجه "ك" في المستدرك وقال: إنه صحيح وخالفه ابن الجوزي فذكره في الموضوعات وقال: إنه كذب والصواب خلاف قولهما معا وأن الحديث من قسم الحسن لا يرتقى إلى الصحة ولا ينحط إلى الكذب، وبيان ذلك يستدعي طولا ولكن هذا هو المعتمد في ذلك انتهى. وقد كنت أجيب بهذا الجواب دهرا إلى أن وقفت على تصحيح ابن جرير لحديث علي في تهذيب الآثار مع تصحيح "ك" لحديث ابن عباس فاستخرت الله وجزمت بارتقاء الحديث من مرتبة الحسن إلى مرتبة الصحة - والله أعلم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٦٥۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب آیت کریم ” وانذر عشیرتک الاقربین “ نازل ہوئی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی عبد المطلب کو دعوت دی اور ان کے لیے کھانا تیار کیا۔ کھانا اتنا زیادہ نہیں تھا آپ نے فرمایا : اللہ کا نام لے کر برتن کے اطراف سے کھاؤ چونکہ برتن کے درمیان پر برکت نازل ہوتی ہے آپ نے اپنا دست اقدس پہلے رکھا پھر لوگوں نے کھایا حتی کہ سیر ہوگئے پھر آپ نے پانی کا پیالہ پہلے خود پیا پھر لوگوں کو دیا لوگ پانی پی کر سیراب ہوگئے۔ ابو لہب نے کہا۔ تمہیں جادو لے آیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تمہارے پاس ایک پیغام لایا ہوں جو کبھی میں کوئی نہیں لایا میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ تم گواہی دو ۔۔ میں تمہیں اللہ تعالیٰ اور اس کی کتاب کی طرف بلاتا ہوں لوگوں نے آپ سے نفرت کی اور اٹھ کر چلے گئے آپ نے پھر دوسری مرتبہ لوگوں کو اسی طرح دعوت دی ابولہب نے وہی کچھ کہا جو پہلے کہا تھا آپ نے انھیں دعوت دی اور پھر فرمایا : میرے ہاتھ پر کون بیعت کرے گا جو میرا بھائی میرا دوست اور میرے بعد تمہارا ولی ہوگا ؟ آپ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ میں نے بھی اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا اور عرض کیا میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں اس وقت میں لوگوں میں سب سے چھوٹا تھا اور میرا پیٹ بڑا تھا میں نے اس شرط پر بیعت کیا کہ یہ کھانا میں نے ہی تیار کیا تھا۔ (رواہ ابن مردویہ
36465- عن علي قال: لما نزلت هذه الآية {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} دعا بني عبد المطلب وصنع لهم طعاما ليس بالكثير فقال: كلوا بسم الله من جوانبها فإن البركة تنزل من ذروتها، ووضع يده أولهم فأكلوا حتى شبعوا، ثم دعا بقدح فشرب أولهم ثم سقاهم فشربوا حتى رووا، فقال أبو لهب: لقدما سحركم، وقال: يا بني عبد المطلب! إني جئتكم بما لم يجيء به أحد قط، أدعوكم إلى شهادة أن لا إله إلا الله وإلى الله وإلى كتابه، فنفروا وتفرقوا، ثم دعاهم الثانية على مثلها، فقال أبو لهب كما قال المرة الأولى، فدعاهم ففعلوا مثل ذلك ثم قال لهم - ومد يده: من يبايعني على أن يكون أخي وصاحبي ووليكم من بعدي؟ فمددت وقلت: أنا أبايعك - وأنا يومئذ أصغر القوم عظيم البطن، فبايعني على ذلك، قال: وذلك الطعام أنا صنعته. "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٦٦۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے جب آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین “ نازل ہوئی ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا علی میرا قرض ادا کرئے گا اور وعدہ پورا کرے گا۔ (رواہ ابن مردویہ)
36466- عن علي قال: لما نزلت {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: علي يقضي ديني وينجز بوعدي.ابن مردويه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٦٧۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا تاکہ مجھے یمن کا امیر مقرر کرکے بھیجیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نوجوان اور کم سن ہوں میں قضاء کا علم نہیں رکھتا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سینے پر دو یا تین بار ہاتھ مارا اور فرمایا : یا اللہ ! اس کے دل کو ہدایت سے سرفراز فرما اور اس کی زبان کو ثابت قدمی عطا فرما۔ مجھے یوں لگا گویا ہر علم مجھے مل گیا ہے اور میرا دل علم و فہم سے بھر گیا ہے۔ اس کے بعد دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے مجھے شک نہیں ہوا۔ (رواہ الخطیب ومسند ضعیف)
36467- عن علي قال: دعاني رسول الله صلى الله عليه وسلم ليستعملني على اليمن فقلت له: يا رسول الله! إني شاب حدث السن ولا علم لي بالقضاء فضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم في صدري مرتين - أو قال: ثلاثا - وهو يقول: اللهم! اهد قلبه وثبت لسانه، فكأنما كل علم عندي وحشي قلبي علما وفهما، فما شككت في قضاء بين اثنين. "خط"، وسنده ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٦٨۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اے علی ! تم میرے بھائی میرے صاحب اور جنت میں میرے رفیق ہو۔ (رواہ الخطیب)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الضعیفۃ ٣٥٢۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الضعیفۃ ٣٥٢۔
36468- عن علي قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا علي! أنت أخي وصاحبي ورفيقي في الجنة. "خط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٦٩۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اے علی ! پورا وضو کرو اگرچہ تمہیں گراں گزرے صدقہ مت کھاؤ گدھوں کو گھوڑیوں پر مت کدواؤ اور نجومیوں کے پاس مت بیٹھو۔ (رواہ الخطیب فی کتاب النجوم)
36469- عن علي قال: قال لي النبي صلى الله عليه وسلم: يا علي! أسبغ الوضوء وإن شق عليك، ولا تأكل الصدقة ولا تنزي الحمير على الخيل، ولا تجالس أصحاب النجوم. "خط" في كتاب النجوم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٧٠۔۔۔ ابراہیم بن سعید جوہری، امیر المومنین مامون امیر المومنین رشید امیر المومنین مہدی کی روایت ہے کہ سفیان ثوری (رح) میرے پاس تشریف لائے میں نے کہا : امیر المومنین علی (رض) کے فضائل میں سے کوئی اچھا سا سنائیں۔ وہ بولے : سلمہ بن کہیل نے حجیہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا مجھ سے ایسا ہی تعلق ہے جیسا ہارون کا موسیٰ سے تھا۔ (رواہ ابن مردویہ)
36470- "أيضا"عن إبراهيم بن سعيد الجوهري قال: حدثني أمير المؤمنين المأمون ثني أمير المؤمنين الرشيد ثني أمير المؤمنين المهدي قال: دخل علي سفيان الثوري فقلت: حدثني بأحسن فضيلة عندك لأمير المؤمنين علي، فقال: حدثني سلمة بن كهيل عن حجية عن علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنت مني بمنزلة هارون من موسى. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٧١۔۔۔ ” ایضاً “ جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ دو شخص کسی کیس میں حضرت علی (رض) کے سامنے پیش کئے گئے آپ (رض) فیصلہ کرنے دیوار کے نیچے بیٹھے گئے ایک شخص بولا : دیوار گر رہی ہے آپ (رض) نے فرمایا : تم اپنا کام کرو اللہ تعالیٰ ہماری چوکیداری کو کافی ہے۔ آپ نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیا اور جونہی اٹھے دیوار گرگئی۔ (رواہ ابو نعیم الدلائل)
36471- "أيضا" عن جعفر بن محمد عن أبيه قال: عرض لعلي رجلان في خصومة فجلس في أصل جدار، فقال رجل: الجدار يقع! فقال: أمض كفى بالله حارسا! فقضى بينهما وقام ثم سقط الجدار. "أبو نعيم في الدلائل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٧٢۔۔۔ مجھے یہ بات خوش نہیں کرتی کہ میں بچپن میں مرجاتا اور جنت میں میں داخل کردیا جاتا اور بڑا نہ ہوتا کہ اپنے رب کی معرفت حاصل کرلیتا۔ (رواہ ابو نعیم فی الحلیہ)
36472- عن علي قال: ما يسرني لو مت طفلا وأدخلت الجنة ولم أكبر فأعرف ربي عز وجل. "حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٧٣۔۔۔ ” ایضاً “ عبد خیر کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوگئے میں نے قسم کھائی کہ اس وقت تک چادر اپنی کمر سے نہیں ہٹاؤں گا جب قرآن یاد نہیں کرلوں گا چنانچہ جب تک میں نے قرآن یاد نہ کرلیا چادر نہیں ہٹائی۔ (رواہ ابو نعیم فی الحلیہ)
36473- "أيضا" عن عبد خير عن علي قال: لما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم أقسمت أن لا أضع ردائي عن ظهري حتى أجمع ما بين اللوحين فما وضعت ردائي عن ظهري حتى جمعت القرآن. "حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٧٤۔۔۔ ” ایضاً “ عبداللہ بن حارث کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے عرض کیا : مجھے بتائیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک آپ کا افضل مقام کیا تھا ؟ فرمایا : جی ہاں ایک مرتبہ میں آپ کے پاس سو رہا تھا آپ نماز میں مشغول ہوئے اور جب فارغ ہوئے فرمایا : اے علی ! میں نے جب بھی اللہ تعالیٰ سے خیر و بھلائی کا سوال کیا ہے اسی طرح میں نے تمہارے لیے بھی اللہ سے سوال کیا ہے اور جس شہر سے پناہ مانگی ہے تمہارے لیے بھی شر سے پناہ مانگی ہے۔ (رواہ لمحاملی فی امالیہ)
36474- "أيضا" عن عبد الله بن الحارث قال: قلت لعلي بن أبي طالب: أخبرني بأفضل منزلتك من رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: نعم، قال: بينا أنا نائم عنده وهو يصلي فلما فرغ من صلاته قال: يا علي! ما سألت الله من الخير إلا سألت لك مثله، وما استعذت من الشر إلا استعذت مثله. "المحاملي في أماليه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٧٥۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ میں قسیم نار ہوں۔ (رواہ شاذان الفضیلی فی رد الشمس)
کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ٧٥٣۔
کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ٧٥٣۔
36475- عن علي قال: أنا قسيم النار."شاذان الفضيلي في رد الشمس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٧٦۔۔۔ شاذان، ابوطالب عبداللہ بن محمد بن عبداللہ کاتب، ابو قاسم عبداللہ بن محمد بن عیاث خراسانی احمد بن عامر بن سلیم طائی علی بن موسیٰ رضا ابو موسیٰ ابو جعفر ابو محمد، ابو علی، حسین (رض) کے سلسلہ سند سے حضرت علی بن ابی طالب (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے علی ! میں نے رب تعالیٰ سے تمہارے لیے پانچ خصلتیں مانگی ہیں اللہ تعالیٰ نے وہ مجھے عطا کردی ہیں۔ پہلی یہ کہ میں نے اپنے رب تعالیٰ سے مانگی کہ زمین مجھ سے ہٹ جائے اور میرے سر سے مٹی چھٹ جائے اور میرے ساتھ ہو۔ دوسری یہ کہ میزان کے پلڑے میں اعمال تلنے کے وقت تو میرے پاس ہو یہ بھی مجھے عطا ہوئی تیسری یہ کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ تجھے میرا جھنڈا اٹھانے والا بنائے اور وہ اللہ تعالیٰ کا بڑا جھنڈ رہے اس کے نیچے وہ لوگ ہوں گے جو جنت کے حصول میں کامیاب و کامران ہوں گے چوتھی یہ کہ میں نے رب تعالیٰ سے سوال کیا کہ میری امت کا تمہیں قائم بنائے مجھے یہ خصلت بھی عطا کردی تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھ پر احسان کیا۔
36476- "أيضا" قال شاذان: أنبأنا أبو طالب عبد الله بن محمد بن عبد الله الكاتب بعكبري أنبأنا أبو قاسم عبد الله بن محمد بن غياث الخراساني حدثنا أحمد بن عامر بن سليم الطائي حدثنا علي بن موسى الرضا حدثني أبي موسى حدثني أبي جعفر حدثني أبي محمد حدثني أبي علي حدثني الحسين حدثني أبي علي بن أبي طالب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا علي! إني سألت ربي عز وجل فيك خمس خصال فأعطاني، أما الأولى فإني سألت ربي أن تنشق عني الأرض وأنفض التراب عن رأسي وأنت معي، وأما الثانية فسألته أن يوفقني عند كفة الميزان وأنت معي فأعطاني، وأما الثالثة فسألته أن يجعلك حامل لوائي - وهو لواء الله الأكبر عليه المفلحون والفائزون بالجنة - فأعطاني، وأما الرابعة فسألت ربي أن تسقي أمتي من حوضي فأعطاني، وأما الخامسة فسألت ربي أن يجعلك قائد أمتي إلى الجنة فأعطاني، فالحمد لله الذي من به علي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٧٧۔۔۔ سند مذکور بالا سے حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے علی ! اگر تم نہ ہوتے میرے بعد مومن نہ پہچانے جاتے۔
فائدہ :۔۔۔ خوارج دین کا اصلی حلیہ بگاڑنے کے درپے تھا خوارج اور سبائیوں نے کیا کچھ نہیں کیا حضرت علی (رض) نے سبائیوں کا قلع قمع کرکے دین کو تقویت بخشی۔
فائدہ :۔۔۔ خوارج دین کا اصلی حلیہ بگاڑنے کے درپے تھا خوارج اور سبائیوں نے کیا کچھ نہیں کیا حضرت علی (رض) نے سبائیوں کا قلع قمع کرکے دین کو تقویت بخشی۔
36477- وبهذا الإسناد عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لولاك يا علي ما عرف المؤمنون من بعدي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٧٨۔۔۔ اسی اسناد سے حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ! قیامت کے دن ہم چار کے علاوہ کوئی شخص سوار نہیں ہوگا انصار میں سے ایک شخص کھڑا ہو اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں وہ چار اشخاص کون ہوں گے ؟ ارشاد فرمایا : میں براق پر سوار ہوں گا، میرے بھائی صالح (علیہ السلام) اس اونٹنی پر سوار ہوں گے جس کی کونچیں کاٹ دی گئیں تھیں میرے چچا حمزہ (رض) عضباء پر سوار ہوں گے میرا بھائی علی جنت کی اونٹنی پر سوار ہوگا اس کے ہاتھ میں لوائے حمد ہوگا اور اعلان کررہا ہوگا : لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، آدمی کہیں گے یہ کوئی مقرب فرشتہ ہے یا نبی مرسل ہے یا عرش کا اٹھانے والا فرشتہ ہے چنانچہ عرش کے نیچے سے ایک فرشتہ انھیں جواب دے گا اے آدمیوں کی جماعت یہ مقرب فرشتہ نہیں ہے نہ نبی مرسل ہے اور نہ ہی حامل عرش ہے بلکہ یہ صدیق اکبر علی بن ابی طالب ہے۔
کلام :۔۔۔ مصنف کہتے ہیں۔ جلال الدین سیوطی (رح) نے تبصرہ کیا ہے ہماری اسناد میں اسی طرح احمد بن عامر واقع ہوا ہے جب کہ اس کے علاوہ دوسری روایتوں میں ابنی عنہ کا طریقہ ہے حافظ ذہبی کہتے ہیں عبداللہ ابن احمد بن عامر عن ابیہ اہل بیت میں سے ہے اس کا ایک باطل نسخہ ہے تہمت بیٹے پر لگائی گئی ہے باپ پر نہیں لگائی گئی یہ روایت بیٹے کے علاوہ ہے جب کہ باپ کی توثیق کی گئی ہے اگر یہ سند بیٹے کی متابعت میں ہو تو وہ تہمت سے نکل جاتا ہے یہ باطل نسخہ اور اس کے علاوہ دوسرے باطل نسخے مکمل طور پر بطلان کا شکار نہیں بلکہ ان کی اکثریت باطل ہے۔ بلکہ ان میں بعض احادیث ایسی ہیں کہ ان کی اصل موجود ہے اگرچہ یہ تابع سرقہ حدیث سے ہو تو بیٹے۔ (ابن) سے اس کا سرقہ ہوا ہے اور واسطہ کے بغیر باپ کی طرف منسوب کردیا گیا ہے جیسا کہ سارقین حدیث کی عادت ہے میں دس شخص کے حالات سے واقف نہیں ہوں دوسری حدیث کا ابن عباس کی حدیث شاہد ہے البتہ اسے ابن جوزی نے موضاعات میں شمار کیا ہے اور پہلی حدیث کا شاہد بھی ہے۔
کلام :۔۔۔ حدیث قریب الوضع ہے دیکھئے اللآلی ١/٣٧٧۔
کلام :۔۔۔ مصنف کہتے ہیں۔ جلال الدین سیوطی (رح) نے تبصرہ کیا ہے ہماری اسناد میں اسی طرح احمد بن عامر واقع ہوا ہے جب کہ اس کے علاوہ دوسری روایتوں میں ابنی عنہ کا طریقہ ہے حافظ ذہبی کہتے ہیں عبداللہ ابن احمد بن عامر عن ابیہ اہل بیت میں سے ہے اس کا ایک باطل نسخہ ہے تہمت بیٹے پر لگائی گئی ہے باپ پر نہیں لگائی گئی یہ روایت بیٹے کے علاوہ ہے جب کہ باپ کی توثیق کی گئی ہے اگر یہ سند بیٹے کی متابعت میں ہو تو وہ تہمت سے نکل جاتا ہے یہ باطل نسخہ اور اس کے علاوہ دوسرے باطل نسخے مکمل طور پر بطلان کا شکار نہیں بلکہ ان کی اکثریت باطل ہے۔ بلکہ ان میں بعض احادیث ایسی ہیں کہ ان کی اصل موجود ہے اگرچہ یہ تابع سرقہ حدیث سے ہو تو بیٹے۔ (ابن) سے اس کا سرقہ ہوا ہے اور واسطہ کے بغیر باپ کی طرف منسوب کردیا گیا ہے جیسا کہ سارقین حدیث کی عادت ہے میں دس شخص کے حالات سے واقف نہیں ہوں دوسری حدیث کا ابن عباس کی حدیث شاہد ہے البتہ اسے ابن جوزی نے موضاعات میں شمار کیا ہے اور پہلی حدیث کا شاہد بھی ہے۔
کلام :۔۔۔ حدیث قریب الوضع ہے دیکھئے اللآلی ١/٣٧٧۔
36478- وبهذا الإسناد عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا علي! ليس في القيامة راكب غيرنا ونحن أربعة، فقام رجل من الأنصار فقال: فداك أبي وأمي! فمن هم؟ قال: أنا على البراق: وأخي صالح على ناقته التي عقرت، وعمي حمزة على ناقتي العضباء، وأخي علي على ناقة من نوق الجنة بيده لواء الحمد ينادي: لا إله إلا الله محمد رسول الله، فيقول الآدميون: ما هذا إلا ملك مقرب أو نبي مرسل أو حامل عرش، فيجيبهم ملك من بطنان العرش: يا معشر الآدميين! ليس هذا ملكا مقربا ولا نبيا مرسلا ولا حامل عرش، هذا الصديق الأكبر علي بن أبي طالب.قلت: قال الشيخ جلال الدين السيوطي: هكذا وقع لنا في هذا الإسناد أحمد بن عامر رواية غير ابنه عنه، وقد قال الذهبي: عبد الله بن أحمد بن عامر عن أبيه، من أهل البيت، له نسخة باطلة، فما اتهم إلا الابن دون الأب، وهذا الطريق من رواية غير الابن والأب موثق، فأما أن تكون هذه متابعة للابن فيخرج عن التهمة فإن هذه النسخة وغيرها من النسخ المحكوم ببطلانها ليس كلها باطلة بل غالبها، وفيها أحاديث لها أصل، وإما أن يكون هذا التابع ممن يسرق الحديث فسرقه من الأبن وحدث به عن الأب بغير واسطة كما هو دأب سراق الأحاديث،ولم أقف لهذا الرجل على ترجمة، وللحديث الأخير شاهد من حديث ابن عباس إلا ابن الجوزي أورده في الموضوعات وللحديث الأول شاهد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٧٩۔۔۔ خلف بن مبارک شریک، ابو اسحاق ، حارث کی سند سے حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : علی (رض) کے متعلق مجھے پانچ خصلتیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے قبل کسی نبی کو کسی کے لیے عطا نہیں ہوئیں ہیں پہلی یہ کہ وہ میرا قرض ادا کرے گا اور میری ستر پوشی کرے گا دوسری یہ کہ حوض کوثر سے لوگوں کو پیچھے ہٹائے گا تیسری یہ کہ قیامت کے دن حشر کے راستے پر میرا سہارا ہوگا قیامت کے دن میرا جھنڈا اس کے پاس ہوگا دوسری یہ کہ حوض کوثر سے لوگوں کو پیچھے ہٹائے گا تیسری یہ کہ قیامت کے دن حشر کے راستے پر میرا سہارا ہوگا قیامت کے دن میرا جھنڈا اس کے پاس ہوگا اس کے نیچے آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد ہوگی پانچویں یہ کہ مجھے خوف نہیں کہ وہ محض ہونے کے بعد زانی ہوگا یا ایمان لانے کے بعد کافر ہوجائے گا۔ (رواہ العقیلی وقال : اس حدیث کی اصل نہیں ہے اس حدیث کا ثابت شدہ تابع ہیں ہے اور خلف بن مبارک مجہول راوی ہے ابن جوزی نے اسے واھیات میں ذکر کیا ہے اس حدیث کا ایک شاھد بھی ہے جو حدیث ابی سعید ہے اور سند مذکور سے شاذان نے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی قیامت کے دن تم اور تمہاری اولاد چتکبرے گھوڑوں پر سوار ہو کر آؤ گے تمہارے سروں پر موتیوں اور یاقوت کے تاج سچے ہوں گے اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں داخل ہونے کا حکم دے گا جب کہ لوگ دیکھ رہے ہوں گے۔
36479- عن خلف بن المبارك حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: في علي خمس خصال لم يعطها نبي في أحد قبلي، أما خصلة فإنه يقضي ديني ويواري عورتي، وأما الثانية فإنه الذائد عن حوضي، وأما الثالثة فإنه متكأة لي في طريق الحشر يوم القيامة، وأما الرابعة فإن لوائي معه يوم القيامة وتحته آدم وما ولد، وأما الخامسة فإني لا أخشى أن يكون زانيا بعد إحصان ولا كافرا بعد إيمان. "عق" وقال: ليس له أصل وخلف لا يتابع على حديثه من وجه يثبت وهو مجهول في النقل وابن الجوزي في الواهيات وله شاهد من حديث أبي سعيد يأتي شاذان بالسند المذكور إلى علي قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: يا علي! إذا كان يوم القيامة أتيت أنت وولدك على خيل بلق متوجين بالدر والياقوت فيأمر الله بكم إلى الجنة والناس ينظرون.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٨٠۔۔۔ عمیر بن سعد کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے لوگوں کو وسیع جگہ میں جمع کیا اور میں بھی ان میں حاضر تھا آپ (رض) نے کہا : میں اس شخص کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہو کہ جس شخص کا میں دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے چنانچہ اٹھارہ آدمی کھڑے ہوئے اور گواہی دی کہ انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط)
36480- عن عمير بن سعد أن عليا جمع الناس في الرحبة وأنا شاهد فقال: أنشد الله رجلا سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من كنت مولاه فعلي مولاه، فقام ثمانية عشر رجلا فشهدوا أنهم سمعوا النبي صلى الله عليه وسلم يقول ذلك. "طس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٨١۔۔۔ ” مسند علی “ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اے علی ! کیا تم راضی نہیں ہو کہ جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک میدان میں پاؤں سے ننگے بدن سے ننگے پیادہ یا چلتے ہوئے جمع کرے گا پیاس سے ان کی گردنیں کٹی جا رہی ہوں گی سب سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو بلایا جائے گا انھیں دو سفید کپڑے پہنائے جائیں گے پھر وہ عرش کی دائیں جانب کھڑے ہوجائیں گے پھر جنت کی طرف سے میرے حوض کی جانب پانی کا ایک سیلاب سا امڈ آئے گا میرے حوض کا عرض بصری سے صنعاء تک کے درمیانی فاصلہ سے زیادہ ہوگا اس میں آسمان کے ستاروں کی مانند پیالے ہوں گے جو چاندی کے ہوں گے میں یہ پانی پیؤں گا اس سے وضو کروں گا اور مجھے دو سفید کپڑے پہنائے جائیں گے تم میرے ساتھ کھڑے ہوجاؤ گے جس خبر کے لیے مجھے بلایا جائے گا تمہیں بھی اس کی طرف ضرور بلایا جائے گا۔ میں نے عرض کیا جی ہاں میں اس سے راضی ہوں۔ (رواہ ابن شاہین فی السنۃ والطبرانی فی الاوسط وابو نعیم کی فضائل الصحابۃ وابو الحسن المیثی یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ (بلکہ موضوع ہے) اس کی آفت عمران بن میثم ہے عقیلی کہتے ہیں : عمران بن میثم کبار رافضیوں میں سے ہے وہ جھوٹی حدیث میں روایت کرتا تھا۔
36481- "مسند علي" قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا ترضى يا علي إذا جمع الله الناس في صعيد واحد حفاة عراة مشاة قد قطع أعناقهم العطش فكان أول من يدعى إبراهيم فيكسى ثوبين أبيضين ثم يقوم عن يمين العرش، ثم يفجر لي مثعب من الجنة إلى حوضي وحوضي أعرض مما بين بصرى وصنعاء فيه نجوم السماء قدحان من فضة فأشرب وأتوضأ وأكسى ثوبين أبيضين ثم أقوم عن يمين العرش، ثم تدعى فتشرب وتتوضأ وتكسى ثوبين أبيضين فتقوم معي ولا أدعى لخير إلا دعيت إليه؟ قلت: بلى. "ابن شاهين في السنة، "طس" وأبو نعيم في فضائل الصحابة، أبو الحسن الميثمي هذا حديث لا يصح وآفته عمران بن ميثم، وقال "عق": عمران بن ميثم من كبار الرافضة يروي أحاديث سوء كذب"
তাহকীক: