কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬৪৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٨٢۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے پہلے جس شخص کو کپڑے پہنائے جائیں گے وہ میرے باپ ابراہیم (علیہ السلام) ہوں گے انھیں دو سفید کپڑے پہنا کر عرش کی دائیں جانب کھڑا کردیا جائے گا پھر مجھے بلایا جائے گا اور مجھے دو سبز کپڑے پہنا کر عرش کی بائیں جانب کھڑا کردیا جائے گا اے علی پھر تمہیں بلایا جائے گا اور تمہیں بھی دو سبز رنگ کے کپڑے پہنا کر میرے دائیں جانب کھڑا کردیا جائے گا کیا تم راضی نہیں ہو کہ جب مجھے بلایا جائے اسی وقت تمہیں بھی بلایا جائے اور جب مجھے کپڑے پہنائے جائیں تمہیں بھی کپڑے پہنائے جائیں اور جب میں سفارش کروں تم بھی سفارش کرو۔ (رواہ الدارقطنی فی العلل واوردہ ابن الجوزی فی الموضاعات وقال : تفرد بہ میسرۃ بن حبیب النھدی والحکم بن طھیر عنہ جب کہ حکم جھوٹا کذاب ہے میں کہتا ہوں ترمذی نے حکم کی روایت ذکر کی ہے جب کہ امام بخاری نے اسے منکر الحدیث کہا ہے وروی عنہ القدماء سفیان الثوری ومالک والمحاکم تصحح لہ وقد تابع میسرۃ عن المنھال عمران بن میثم وھو الحدیث الذی قبلہ)
کلام :۔۔۔ حدیث موضوع ہے دیکھئے التنزیۃ ١/٣٦٥۔۔۔ واللآلی ٣٧٨١۔
کلام :۔۔۔ حدیث موضوع ہے دیکھئے التنزیۃ ١/٣٦٥۔۔۔ واللآلی ٣٧٨١۔
36482- عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن أول خلق الله يكسى يوم القيامة أبي إبراهيم فيكسى ثوبين أبيضين ثم يقام عن يمين العرش، ثم أدعى فأكسى ثوبين أخضرين ثم أقام عن يسار العرش، ثم تدعى أنت يا علي فتكسى ثوبين أخضرين ثم تقام عن يميني، أفما ترضى أن تدعى إذا دعيت وتكسى إذا كسيت وأن تشفع إذا شفعت. "قط" في العلل، وأورده ابن الجوزي في الموضوعات وقال: تفرد به ميسرة بن حبيب النهدي والحكم بن ظهير عنه والحكم كذاب: قلت: الحكم روى له "ت"، وقال فيه "خ": منكر الحديث، وروى عنه القدماء سفيان الثوري ومالك و "ك" فصحح له وقد تابع ميسرة عن المنهال عمران بن ميثم وهو الحديث الذي قبله.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٨٣۔۔۔ عبداللہ بن یحییٰ کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) بصرہ کے موقع پر بہت سا سونا اور چاندی لے کر آئے اور فرمایا : تو چمکتا رہ زردی اپنی بکھیرتا رہ میرے علاوہ دوسروں اہل شام کی رونق بنتا رہ آئندہ کل جب وہ تجھ پر غلبہ پالیں گے حضرت علی (رض) کا یہ فرمان لوگوں پر بہت گراں گزرا حضرت علی (رض) سے اس کا تذکرہ کیا گیا آپ نے لوگوں میں اعلان کروا کر اپنے پاس بلوایا جب لوگ حاضر ہوگئے تو آپ (رض) نے فرمایا : میرے خلیل (رض) نے فرمایا : اے علی ! تو عنقریب لوگوں کے پاس آئے گا تیری جماعت تجھ سے راضی ہوگی تو ان سے راضی ہوگا تیرے دشمن تیرے پاس اپنی گردنیں اوپر اٹھائے کھڑے ہوں گے پھر حضرت علی (رض) نے اپنا ہاتھ گردن پر لے گئے اور لوگوں کو سراوپر اٹھانے کی کیفیت دکھانے لگے۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط وقال لم یروہ عن ابی الطفیل الا جابر تفرد بہ عبد الکریم ابو یعفور و جابر الجعفی شیعی عال وثقہ شعبہ والثوری وقال ابوداؤد لیس بالقوی وقال النسائی متروک وعبد الکریم ابو یعفور قال فیہ ابو حاتم من عین الشیعۃ وذکرہ ابن حبان فی الثقات)
36483- عن عبد الله بن يحيى أن عليا أتى يوم البصرة بذهب وفضة فقال: أبيضي وأصفري غري غيري، غري أهل الشام غدا إذا ظهروا عليك، فشق قوله ذلك على الناس فذكر ذلك له فأذن في الناس فدخلوا عليه فقال: إن خليلي صلى الله عليه وسلم قال: يا علي! إنك ستقدم على الناس وشيعتك راضين مرضيين، ويقوم عليك عدوك غضابا مقمحين1، ثم جمع علي يده إلى عنقه يريهم الأقماح. "طس" وقال: لم يروه عن أبي الطفيل إلا جابر، تفرد به عبد الكريم أبو يعفور، وجابر الجعفي شيعي غال وثقه شعبة والثوري، وقال "د": ليس بالقوي، وقال "ن": متروك، وعبد الكريم أبو يعفور قال فيه أبو حاتم: من عين الشيعة، وذكره "حب" في الثفات.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٨٤۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوض سے اپنے ان چھوٹے ہاتھوں سے کفار و منافقین کو پیچھے ہٹاؤں گا جس طرح پانی پلانے والے اجنبی اونٹوں کو اپنے حوضوں سے پیچھے دھکیلے ہیں۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط)
36484- عن علي قال: إني أذود عن حوض رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدي هاتين القصيرتين الكفار والمنافقين كما يذود السقاة غريبة الإبل عن حياضهم. "طس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٨٥۔۔۔ زید بن ارقم (رض) کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے لوگوں کو واسطہ دے کر پوچھا کس نے غدیرخم میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں لوگوں نے کہا : جی ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں جس کا دوست ہوں علی (رض) بھی اس کا دوست ہے یا اللہ ! جو شخص علی سے دوستی رکھتا ہو تو بھی اس سے دوستی رکھ جو علی سے دشمنی رکھتا ہو تو بھی اس سے دشمن رکھ چنانچہ بارہ (١٢) آدمی کھڑے ہوئے اور انھوں نے اس کی گواہی دی۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط)
36485- عن زيد بن أرقم قال: نشد علي الناس من سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول يوم غدير خم: ألستم تعلمون أني أولى بالمؤمنين من أنفسهم! قالوا: بلى، قال: فمن كنت مولاه فعلي مولاه! اللهم وال من والاه وعاد من عاداه، فقام اثنا عشر رجلا فشهدوا بذلك. "طس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٨٦۔۔۔ عمیر بن سعد کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کو منبر پر دیکھا آپ اصحاب رسول کو واسطہ دے رہے تھے کہ جس شخص نے ” غدیر خم “ کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا ہو وہ گواہی دے چنانچہ بارہ (١٢) آدمی کھڑے ہوئے ان میں ابوہریرہ (رض) ابو سعید اور انس بن مالک (رض) بھی تھے انھوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انھوں نے فرماتے سنا ہے۔ کہ میں جس کا دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے یا اللہ جو شخص علی سے دوستی رکھتا ہو تو بھی اس سے دوستی رکھ اور جو علی سے دشمنی رکھتا ہو تو بھی اس سے دشمنی رکھ۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط)
36486- عن عمير بن سعد قال: شهدت عليا على المنبر ناشد أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم من سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم غدير خم يقول ما قال فيشهد، فقام اثنا عشر رجلا منهم أبو هريرة وأبو سعيد وأنس بن مالك فشهدوا أنهم سمعوا رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم! وال من والاه وعاد من عاداه. "طس"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٨٧۔۔۔ اسحاق ، عمروذی مرو سعید بن وھب وزید بن مثیع کی روایت ہے کہ ہم نے حضرت علی (رض) کو فرماتے سنا میں اس شخص کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں جس نے غدیرخم میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہو چنانچہ بارہ آدمی کھڑے ہوئے اور انھوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا ہوں ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں یا رسول اللہ ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علی (رض) کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : جس شخص کا میں دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے اے اللہ ! جو علی سے دوستی رکھتا ہو تو بھی اس سے دوستی رکھ جو علی (رض) سے دشمنی رکھتا ہو تو بھی اس سے دشمنی رکھ جو علی سے محبت رکھتا ہو تو بھی اس سے محبت رکھ جو علی سے بغض رکھتا ہو تو بھی اس سے بغض رکھ جو علی کی مدد کرتا ہو تو بھی اس کی مدد کی اور جع رلی کو بےیارومددگار چھوڑتا ہو تو بھی اسے بےیارو مددگار چھوڑ۔ (رواہ البزار وابن جیر والخلعی فی المخلعیات وقال : رجال اسنادہ ثقاۃ وقال ابن حجر ولکنھم شیعۃ)
36487- عن إسحاق عن عمرو ذي مر وسعيد بن وهب وزيد بن يثيع قالوا: سمعنا عليا يقول: نشدت الله رجلا سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول يوم غدير خم ما قال لما قام، فقام ثلاثة عشر رجلا فشهدوا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ألست أولى بالمؤمنين من أنفسهم؟ قالوا: بلى يا رسول قال فأخذ بيد علي قال: من كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم! وال من والاه، وعاد من عاداه، وأحب من أحبه، وأبغض من أبغضه، وأنصر من نصره، وأخذل من خذله."البزار وابن جرير والخلعي في الخلعيات؛ قال الهيثمي: رجال إسناده ثقات، قال ابن حجر: ولكنهم شيعة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٨٨۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں اپنے پیچھے چھوڑتا ہوں کہ تم میرے خلیفہ ہوگے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں آپ کا خلیفہ ہوں گا ؟ ارشاد فرمایا : کیا تم راضی نہیں ہو کہ میرے ہاں تمہارا مقام ایسا ہی ہے جیسا کہ ہارون (علیہ السلام) کا موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاں تھا البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط)
36488- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: خلفتك أن تكون خليفتي، قلت: أتخلف عنك يا رسول الله؟ قال: ألا ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي. "طس"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٨٩۔۔۔ سعد (رض) کی روایت ہے کہ غزرہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) کو۔ (مدینہ میں) اپنا نائب مقرر کیا حضرت علی (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! عورتوں اور بچوں میں آپ مجھے اپنا نائب مقرر کرکے جا رہے ہیں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم راضی نہیں ہو کہ میرے ہاں تمہارا وہی مقام ہو جو ہارون کا موسیٰ کے ہاں تھا۔ الآیہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
36489- عن سعد قال: خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم علي بن أبي طالب في غزوة تبوك فقال: يا رسول الله! تخلفني في النساء والصبيان؟ فقال: أما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى غير أنه لا نبي بعد. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٩٠۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب میں خیبر سے واپس لوٹا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ایک بات کہی جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔ (رواہ ابو یعلیٰ )
36490- عن علي قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم حين رجعت من خيبر قولا ما أحب أن لي به الدنيا جميعا. "ع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٩١۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایات ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ مجھے تلاش کیا اور مجھے ایک نالی میں سویا ہوا پایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں لوگوں کو ملامت نہیں کروں گا اگر وہ تمہیں ابو تراب کے نام سے یاد کریں آپ نے اس کے متعلق میرے دل میں کچھ ناگواری سمجھ لی تھی فرمایا : کھڑے ہوجاؤ اللہ کی قسم میں تم سے راضی ہوں تم میرے بھائی اور میرے دو بیٹوں کے باپ ہو تم میری سنت کے لیے قتال کروگے اور میرے ذمہ کو ادا کروگے جو میرے عہد میں مرے گا وہ اللہ کا خزانہ ہے جو تمہارے عہد میں مرے گا اس نے اپنی حاجت پوری کرلی ہوگی جو تمہارے مرنے کے بعد میری محبت میں مرے گا اللہ تعالیٰ اس کا خاتمہ ایمان پر کرے گا جب تک سورج طلوع ہو یا غروب ہو جو شخص تم سے بغض کرتے ہوئے مرا وہ جاہلیت کی موت مرا اور اسلام میں اس نے جو اعمال کیے ہوں گے ان کا اس سے حساب لیا جائے گا۔ (رواہ ابو یعلی وقال
البوصیری رواتہ ثقات)
البوصیری رواتہ ثقات)
36491- عن علي قال: طلبني رسول الله صلى الله عليه وسلم فوجدني في جدول نائما فقال: قم ما ألوم الناس يسمونك أبا تراب، قال فرآني كأني وجدت في نفسي من ذلك: قم والله لأرضينك! أنت أخي وأبو ولدي، تقاتل عن سنتي وتبرئ ذمتي، من مات في عهدي فهو كنز الله، ومن مات في عهدك فقد قضى نحبه، ومن مات بحبك بعد موتك ختم الله له بالأمن والإيمان ما طلعت شمس أو غربت، ومن مات يبغضك مات ميتة جاهلية وحوسب بما عمل في الإسلام. "ع، قال البوصيري: رواته ثقات".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٩٢۔۔۔ زاذان کی روایت ہے ایک دن لوگ حضرت علی (رض) کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے لوگوں نے جب آپ (رض) کو خوش خوش دیکھا تو کہنے لگے : اے امیر المومنین اپنے دوستوں کے متعلق کچھ ہمیں حدیثیں سنائیں فرمایا : اپنے کس دوست کے متعلق لوگوں نے کہا : اصحاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق فرمایا : نبی کا ہر صحابی میرا دوست ہے ان میں سے کس کے متعلق تم چاہتے ہو ؟ لوگوں نے کہا : وہ جنہیں ہم آپ کے ساتھ دیکھتے ہیں اور جن کا آپ ذکر کرتے ہیں دوسرے لوگوں کے علاوہ فرمایا : ان میں سے کون ؟ لوگوں نے کہا : عبداللہ بن مسعود (رض) حضرت علی (رض) نے فرمایا : انھوں نے سنت کا علم حاصل کیا قرآن پڑھا اور علم میں کفایت کی پھر اسی پر ان کا خاتمہ ہوا چنانچہ لوگ نہ سمجھے کہ علم میں کفایت سے کیا مراد ہے اللہ کے بندے کی کفایت یا قرآن کی کفایت ؟ لوگوں نے پھر حضرت حذیفہ (رض) کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا : وہ منافقین کے نام جانتے تھے انھوں نے پیچیدہ امور کے متعلق سوال کیا حتیٰ کہ انھیں بھی سمجھ لیا اگر تم نے اس کے متعلق سوال کیا ہے تو اسے عالم پاؤ گے لوگوں نے کہا : ابو ذر (رض) نے فرمایا : انھوں نے علم یاد کیا ہے دین و علم کے حریص تھے وہ کثرت سے سوال کرتے تھے تاہم انھیں عطا کردیا جاتا تھا اور منع بھی کردیا جاتا تھا ان کا برتن علم بھر تارہا حتیٰ کہ علم سے بھر گیا لوگوں نے کہا سلمان (رض) نے فرمایا : انھوں نے علم اول ( توراۃ کا علم) بھی حاصل کیا اور علم آخر (قرآن و سنت) بھی کتاب اول بھی پڑھی کتاب آخر بھی پڑھی، علمی اعتبار سے سمندر تھے، کس میں کمی نہیں ہوئی لوگوں نے کہا : عمار بن یاسر ؟ فرمایا : یہ ایسا آدمی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے گوشت خون ہڈی بال و کھال میں ایمان ملا دیا ہے وہ حق سے گھڑی بھر کے لیے بھی الگ نہیں ہوا جہاں بھی حق تھا وہ اس کے ساتھ رہے آگے کے لیے جائز نہیں کہ وہ اسے کھائے لوگوں نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! اپنے متعلق میں بتائیں فرمایا : رک جاؤ اللہ تعالیٰ نے اپنا تزکیہ کرنے سے منع فرمایا : ایک شخص نے کہا : فرمان باری تعالیٰ ہے۔ ” اما بنعمۃ ربک فحدث “ اپنے رب کی نعمت کو بیان کرو فرمایا : میں تمہیں اپنے رب کی نعمت بیان کرتا ہوں جب میں سول کرتا تھا مجھے عطا کیا جاتا تھا اور جب میں خاموش رہتا تھا مجھ سے ابتداء کرلی جاتی تھی میرا دل علم کثیر سے بھر دیا گیا عبداللہ بن بنی بکر بن وائل سے تھا کھڑا ہوا اور کہا : اے امیر المومنین ! الذاریات ذروا سے کیا مراد ہے فرمایا : اس سے مراد ہوائیں ہیں کہا : الحاملات وقرا سے کیا مراد ہے فرمایا : بادل کہا : الجاریات یسر سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : کشتیاں پوچھا مقسمات امرا سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : فرشتے دوبارہ ایسا نہیں کرنا اور نہ ہی اسے جیسے سوالات کرنے ہیں۔ پھر پوچھا : السماذات الحبک سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : اندھا تاریکی کے بارے میں سوال کررہا ہے جو تم نے ارادہ کیا ہے اس میں علم نہیں ہے۔ تیری ہلاکت ! تفقہ کے لیے سوال کرو کھیل کود اور ہٹ دھرمی کے لیے سوال نہ کر بامقصد سوال کرو فضول سوال مت کرو عبداللہ بن کوا نے کہا : بخدا میری یہی مراد ہے آپ (رض) نے فرمایا : فرمان باری تعالیٰ ہے ” وجعلنا اللیل والنھار آیتن قمحونا آیۃ اللیل “ ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا ہے اور رات کی نشانی کو مٹا ڈالا۔ یہ وہی سیاہی ہے جو چاند کے درمیان ہے عبداللہ نے کہا : مجرہ سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : یہ آسمان کی ایک نوع ہے اس سے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے بہنے والے پانی سے اور اسی سے قوم نوح کو غرق کیا گیا کہا : قوس قزح سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : ایسے مت کہو قزوح تو شیطان ہے لیکن قوس غرق سے بچنے کی علامت ہے کہا : آسمان سے زمین تک کتنا فاصلہ ہے فرمایا : بندے کی دعا کے بقدر جو وہ اپنے رب تعالیٰ سے کرتا ہے میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہتا ۔ مشرق اور مغرب کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ فرمایا : سورج کے ایک دن کے چلنے کی مسافت کے بقدر جو شخص تمہیں اس کے علاوہ کچھ اور بتائے اس نے جھوٹ بولا : کہا : وہ کون ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” واحملوا قومھم دار البورا “ اور انھوں نے اپنی قوم کو ہلاکت کے ٹھکانے پر جا اترا “ فرمایا : انھیں چھوڑو ان کی کفایت کردی گئی ہے پوچھا : ذوالقرنین کون ہے ؟ فرمایا : ایک شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے کافر گورنروں کی طرف بھیجا تھا ، ان کے پہلے لوگ حق پر تھے پھر انھوں نے اپنے رب کے ساتھ شریک ٹھہرایا اپنے دین میں بدعات جاری کیں انھوں نے باطل میں اجتہاد کیا وہ گمان کرتے تھے کہ وہ حق پر ہیں گمراہ پر اجتہاد کرتے اور ہدایت پر ہونے کا گمان کرتے دنیاوی زندگی میں ان کی سعی تباہ ہوئی اہل نہروان (خوارج) ان سے دور نہیں ہیں ابن کو اء نے کہا : میں آپ کے علاوہ کسی سے سوال نہیں کروں گا اور نہ آپ کے علاوہ کسی اور کی پیروی کروں گا۔ فرمایا : اگر معاملہ تمہارے ہاتھ میں ہے تو کر گزرو۔ (رواہ ابن منیع والضیاء)
36492- عن زاذان قال: بينا الناس ذات يوم عند علي إذ وافقوا منه نفسا طيبة فقالوا: حدثنا عن أصحابك يا أمير المؤمنين! قال: عن أي أصحابي؟ قالوا: عن أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، قال: كل أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أصحابي، فأيهم تريدون؟ قالوا: النفر الذين رأيناك تلفظهم بذكرك والصلاة عليهم دون القوم، قال: أيهم؟ قالوا: عبد الله بن مسعود، قال: علم السنة وقرأ القرآن وكفى به علما ثم ختم به عنده، فلم يدروا ما يريد بقوله: كفى به علما، كفى بعبد الله أم كفى بالقرآن؟ قالوا: فحذيفة؟ قال: علم - أو علم اسماء المنافقين - وسأل عن المعضلات حتى عقل عنها، فإن سألتموه عنها تجدوه بها عالما، قالوا: فأبو ذر؟ قال: وعى علما وكان شحيحا حريصا على دينه حريصا على العلم وكان يكثر السؤال فيعطي ويمنع، أما! إنه قد ملئ له في وعائه حتى امتلأ، قالوا: فسلمان؟ قال: امرؤ منا وإلينا أهل البيت، من لكم بمثل لقمان الحكيم؟ علم العلم الأول وأدرك العلم الآخر وقرأ الكتاب الأول وقرأ الكتاب الآخر وكان بحرا لا ينزف، قالوا: فعمار بن ياسر؟ قال: ذاك امرؤ خلط الله الإيمان بلحمه ودمه وعظمه وشعره وبشره، لا يفارق الحق ساعة، حيث زال زال معه، لا ينبغي للنار أن تأكل منه شيئا؛ قالوا: فحدثنا عنك يا أمير المؤمنين! قال: مهلا! نهى الله عن التزكية، فقال قائل: فإن الله عز وجل يقول: {وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ} . قال: فإني أحدثكم بنعمة ربي، كنت إذا سألت أعطيت وإذا سكت ابتدئت، فبين الجوانح مني ملئ علما جما؛ فقام عبد الله بن الكوا الأعور من بني بكر بن وائل فقال: يا أمير المؤمنين! ما الذاريات ذروا؟ قال: الرياح، قال: فما الحاملات وقرا؟ قال: السحاب، قال: فما الجاريات يسرا؟ قال: السفن، قال فما المقسمات أمرا؟ قال: الملائكة، ولا تعد لمثل هذا ولا تسألني عن مثل هذا، قال: فما السماء ذات الحبك؟ قال: ذات الخلق الحسن، فما السواد الذي في جوف القمر؟ قال: أعمى سأل عن عمياء، ما العلم أردت بهذا! ويحك! سل تفقها ولا تسأل تعبثا - أوقال: تعنتا - سل عما يعنيك ودع مالا يعنيك، قال: فوالله! إن هذا ليعنيني، قال: فإن الله تعالى يقول: {وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ} السواد الذي في جوف القمر، قال: فما المجرة؟ شرج السماء، ومنها فتحت أبواب السماء بماء منهمر زمن الغرق على قوم نوح، قال: فما قوس قزح؟ قال: لا تقل: قوس قزح، فإن قزح هو الشيطان ولكنه القوس وهي أمان من الغرق، قال: فكم بين السماء إلى الأرض؟ قال: قدر دعوة عبد دعا الله لا أقول غير ذلك، قال: فكم بين المشرق والمغرب؟ قال: مسيرة يوم للشمس، من حدثك غير هذا فقد كذب، قال: فمن الذين قال الله تعالى: {وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ} قال: دعهم فقد كفيتهم، قال: فما ذو القرنين؟ قال: رجل بعثه الله إلى قوم عمالا كفرة أهل الكتاب، كان أوائلهم على حق فأشركوا بربهم وابتدعوا في دينهم وأحدثوا على أنفسهم فهم الذين يجتهدون في الباطل ويحسبون أنهم على حق ويجتهدون في الضلالة ويحسبون أنهم على هدى فضل سعيهم في الحياة الدنيا وهم يحسبون أنهم يحسنون صنعا ورفع صوته وقال: وما أهل النهروان منهم بعيد؛ فقال ابن الكوا: لا أسأل سواك ولا أتبع غيرك، قال: إن كان الأمر إليك فافعل. ابن منيع، "ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٩٣۔۔۔ حضرت سعد (رض) کی روایت ہے کہ جب مجھے خیبر کا دن یاد آتا ہے میں علی (رض) کو برا بھلا نہیں کہتا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں کل یہ جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ میں فتح نصیب فرمائے گا صحابہ اس فضیلت کو حاصل کرنے کی امیدیں کرنے لگے، چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : علی کہاں ہے صحابہ نے عرض کیا : وہ آشوب چشم میں مبتلا ہیں فرمایا : اسے میرے پاس بلاؤ صحابہ (رض) آپ (رض) کو بلا کرلے آئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کی آنکھوں میں تھوکا اور پھر انھیں جھنڈا عطا کیا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر فتح عطاء فرمائی۔ (رواہ ابن جریر)
36493- عن سعد قال: لا أسب عليا ما ذكرت يوم خيبر حين قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لأعطين هذه الراية غدا رجلا يحب الله ورسوله، ويحبه الله ورسوله، يفتح الله على يديه، فتطاولوا لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: أين علي؟ فقالوا: هو رمد، قال: ادعوه فدعوه فبصق في عينيه ثم أعطاه الراية ففتح الله عليه.ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٩٤۔۔۔ ” ایضاً “ سعد (رض) فرماتے ہیں اگر میرے سر پر آرا رکھ دیا جائے کہ میں علی (رض) کو برا بھلا کہوں میں ایسا نہیں کروں گا اس کے بعد جب میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہ بات سنی جو میں نے سنی ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وبقی بن مخلد)
36494- "أيضا" عن سعد قال: لو وضع المنشار على مفرقي على أن أسب عليا ما سببته أبدا بعد ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم ما سمعت. "ش" وبقي بن مخلد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٩٥۔۔۔ حضرت سعد (رض) کی روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت علی (رض) سے فرماتے ہوئے سنا : تین خصلتیں ہیں کہ ان میں سے ایک بھی میرے لیے ہو وہ دنیا ومافیہا سے زیادہ مجھے محبوب ہے۔ میں نے آپ کو فرماتے سنا تمہارا مقام میرے ہاں ایسا ہی ہے جیسا ہارون کا موسیٰ کے ہاں تھا الآیہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا میں نے آپ کو فرماتے سنا کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں میں نے آپ کو فرماتے سنا : جس شخص کا میں دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے۔ (رواہ ابن جریر)
36495- عن سعد قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لعلي: ثلاث خصال لأن يكون لي واحدة منها أحب إلي من الدنيا وما فيها، سمعته يقول: أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي، وسمعته يقول: لأعطين الراية غدا رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله، ليس بفرار، وسمعته يقول: من كنت مولاه فعلي مولاه.ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٩٦۔۔۔ عامر بن سعد کی روایت ہے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : تین خصلتیں ہیں کہ وہ میرے لیے ان میں سے ایک بھی محبوب ہے مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہوئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علی (رض) فاطمہ (رض) اور ان کے دو بیٹوں کو اپنی چادر کے نیچے داخل کیا فرمایا یا اللہ ! یہ میرا خاندان اور اہل بیت ہیں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک غزوہ کے لیے روانہ ہوئے تو پیچھے حضرت علی (رض) کو نائب بنایا حضرت علی (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم راضی نہیں ہو کہ تمہارا میرے ہاں وہی مقام ہو جو ہارون کا موسیٰ کے ہاں تھا۔ الآیہ کہ میرے بعد نبوت نہیں ہوئی اور خیبر کے دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فرمایا کہ میں ایسے شخص کو جھنڈا عطا کروں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح نصیب فرمائے گا چنانچہ مہاجرین اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے لگے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : علی کہاں ہے صحابہ (رض) نے عرض کیا وہ آشوب چشم میں مبتلا ہیں : فرمایا : اسے بلا لاؤ صحابہ علی (رض) کو بلا لائے آپ نے حضرت علی (رض) کی آنکھوں میں تھوکا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر فتح نصیب فرمائی
36496- "أيضا" عن عامر بن سعد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: ثلاث خصال لأن يكون لي واحدة منهن أحب إلي من حمر النعم، نزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم الوحي فأدخل عليا وفاطمة وابنيها تحت ثوبه ثم قال: اللهم! هؤلاء أهلي وأهل بيتي، وقال له حين خلفه في غزاة فقال علي: يا رسول الله! خلفتني مع النساء والصبيان! فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبوة بعدي، وقوله يوم خيبر: لأعطين الراية رجلا يحب الله ورسوله، ويحبه الله ورسوله، يفتح الله على يديه، فتطاول المهاجرون لرسول الله صلى الله عليه وسلم ليراهم فقال: أين علي؟ فقالوا: هو رمد، قال: ادعوه، فدعوه، فبصق في عينيه ففتح الله على يديه. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٩٧۔۔۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ فتح کیا تو آپ طائف کی طرف روانہ ہوگئے اور اٹھارہ یا انیس دن تک طائف کا محاصرہ کیے رکھا آپ نے طائف کو فتح نہ کیا پھر کوچ کرتے صبح کے وقت یا شام کے وقت پھر پڑاؤ کیا پھر ہجرت کرنے اور فرمایا : اے لوگو ! میں تمہارا آگے بھیجا ہوا اجر وثواب ہوں میں تمہیں اپنی عشرت کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کرتا ہوں تمہاری وعدے کی جگہ حوض ہے قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یا تم نماز ادا کرتے رہو اور زکوۃ ادا کرتے رہو ورنہ میں تمہاری طرف ایک شخص بھیجوں گا جو تمہارے فوجیوں کی گردنیں اڑائے گا اور تمہاری اولاد کو قیدی بنائے گا وہ لوگ سمجھے کہ یہ ابوبکر و عمر ہوسکتے ہیں تاہم آپ (رض) نے حضرت علی (رض) کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : وہ شخص یہ ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
36497- عن عبد الرحمن بن عوف قال: لما افتتح رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة انصرف إلى الطائف فحاصرها تسع عشرة أو ثمان عشرة فلم يفتحها ثم ارتحل روحة أو غدوة فنزل ثم هجر ثم قال: أيها الناس! إني فرط لكم وأوصيكم بعترتي خيرا وإن موعدكم الحوض، والذي نفسي بيده! لتقيمن الصلاة ولتؤتن الزكاة أو لأبعثن إليكم رجلا مني - أو: لنفسي - فليضربن أعناق مقاتليهم وليسبن ذراريهم، فرأى الناس أنه أبو بكر أو عمر، فأخذ بيد علي فقال: هذا. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٩٨۔۔۔ سلیمان بن عبداللہ معاذہ عدویہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی (رض) کو سنا آپ بصرہ کے منبر پر خطاب فرما رہے تھے میں صدیق اکبر ہوں میں ابوبکر (رض) سے پہلے ایمان لایا اور ان کے اسلام لانے سے قبل اسلام لایا۔ (رواہ محمد بن ایوب الرازی فی جزہ والعقیلی وقال : قال البخاری : یا یتابع سلیمان علیہ ولا یعرف سماعہ عن معاذۃ)
36498- عن سليمان بن عبد الله عن معاذ العدوية قالت: سمعت عليا وهو يخطب على منبر البصرة يقول: أنا للصديق الأكبر! آمنت قبل أن يؤمن أبو بكر، وأسلمت قبل أن يسلم.
"محمد بن أيوب الرازي في جزئه، "عق" وقال: قال "خ": لا يتابع سليمان عليه ولا يعرف سماعه عن معاذة.
"محمد بن أيوب الرازي في جزئه، "عق" وقال: قال "خ": لا يتابع سليمان عليه ولا يعرف سماعه عن معاذة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٤٩٩۔۔ عبداللہ بن نجی کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کو فرماتے سنا : میں گمراہ نہیں ہوا اور نہ ہی گمراہی کی طرف مجھے لایا گیا جب سے مجھے حکم دیا گیا تب سے میں نہیں بھولا میں اپنے رب کی واضح دلیل پر ہوں جو رب تعالیٰ نے اپنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیلئے قائم کی تھی اور میرے لیے بھی واضح فرمائی میں بلاشبہ سیدھے راستے پر ہوں۔ رواہ العقیلی وابن عساکر
36499- عن عبد الله بن نجى قال: سمعت عليا يقول: ما ضللت ولا ضل بي وما نسيت ما عهد إلي، وإني لعلى بينة من ربي بينها لنبيه صلى الله عليه وسلم وبينها لي، وإني لعلى الطريق. "عق، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥٠٠۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا اے لوگو ! یہ کیسے برے جنگجو ہیں جو تمہاری طرف سے مجھے پہنچے ہیں اللہ کی قسم تم طلحہ (رض) وزبیر (رض) کو ضرور قتل کرو گے تم ضرور بصرہ فتح کروگے تمہارے پاس وفد سے بطوکمک کے چھ ہزار پانچ سو ساٹھ (٦٥٦٠) یا پانچ ہزار چھ سو پچاس (٥٦٥٠) جنگجو ضرور پہنچیں گے ابن عباس (رض) کہتے ہیں : جناب ایک دھوکا ہے کہتے ہیں میں باہر نکلا لوگوں سے پوچھنے لگا تم کتنے تھے ؟ کہنے لگے : ہم اتنے ہی تھے جتنے حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے میں نے کہا یہ وہی راز ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کو بتایا تھا کہ آپ (رض) نے انھیں ایک لاکھ کلمہ بتایا ہر کلمہ ایک ہزار کلموں میں مفتوح ہوتا
ہے۔ (رواہ الاسماعیلی فی معجمہ وفیہ الا خلج صدوق جلد)
ہے۔ (رواہ الاسماعیلی فی معجمہ وفیہ الا خلج صدوق جلد)
36500- عن ابن عباس قال: إن عليا خطب الناس فقال: يا أيها الناس! ما هذه المقالة السيئة التي تبلغني عنكم؟ والله! لتقتلن طلحة والزبير ولتفتحن البصرة ولتأتينكم مادة من الكوفة ستة آلاف وخمسمائة وستين أو خمسة آلاف وستمائة وخمسين، قال ابن عباس: فقلت: الحرب خدعة، قال: فخرجت فأقبلت أسأل الناس: كم أنتم؟ فقالوا كما قال، فقلت: هذا مما أسره إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم، إنه علمه ألف ألف كلمة كل كلمة تفتح ألف كلمة."الإسماعيلي في معجمه وفيه الأجلح صدوق شيعي جلد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥٠١۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ یہ آیت کریمہ ” انما ولیکم اللہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الخ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تشریف لائے اور لوگ بھی آکر نماز پڑھنے لگے چنانچہ کوئی رکوع میں سے کوئی سجدہ میں سے اور کوئی قیام میں سے اچانک ایک سائل پر آپ کی نظر پڑی اور فرمایا : اے سائل : تمہیں کسی نے کچھ عطا کیا ہے ؟ کیا نہیں : البتہ اس رکوع کرنے والے نے یعنی علی بن ابی طالب نے مجھے اپنی انگوٹھی دی ہے۔ (رواہ الشیخ ابن مردویہ وسندہ ضعیف)
36501- عن علي قال: نزلت الآية على رسول الله صلى الله عليه وسلم في نعته {إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ} إلى آخر الآية خرج النبي صلى الله عليه وسلم فدخل المسجد وجاء الناس يصلون بين راكع وساجد وقائم يصلي، فإذا سائل، فقال: يا سائل! هل أعطاك أحد شيئا؟ قال: لا إلا ذاك الراكع - لعلي بن أبي طالب - أعطاني خاتمه. "الشيخ وابن مردويه وسنده ضعيف".
তাহকীক: