কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬৫১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥٠٢۔۔۔ ابو معتمر بن اوس اور جاریہ بن قدامہ سعدی حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ (رض) لوگوں سے خطاب کر رہے تھے اور فرما رہے تھے مجھے تم کرنے سے پہلے پہلے سوال کرلو چونکہ عرش تلے مجھ سے جس چیز کے متعلق سوال کیا جائے گا میں اس کا ضرور جواب دوں گا۔ (رواہ ابن النجار)
36502- عن أبي المعتمر مسلم بن أوس وجارية بن قدامة السعدي أنهما حضرا علي بن أبي طالب يخطب وهو يقول: سلوني قبل أن تفقدوني! فإني لا أسأل عن شيء دون العرش إلا أخبرت عنه."ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥٠٣۔۔۔ ابو صادق کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : میرا خاندان وہی ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خاندان ہے میرا دین وہی ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دین ہے جس نے مجھے گستاخی کی نظر سے دیکھا اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گستاخی کی۔ (رواہ الخطیب فی المتفق وابن عساکر)
36503- عن أبي صادق قال: قال علي: حسبي حسب رسول الله صلى الله عليه وسلم وديني دينه، فمن تناوله مني شيئا فإنما تناول من رسول الله صلى الله عليه وسلم. "خط" في المتفق، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥٠٤۔۔۔ ” مسند انس “ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ میں اور علی (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مدینہ کے ایک باغ میں داخل ہوئے اتنے میں ہم ایک باغیچے کے پاس سے گزرے علی (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ باغیچہ کتنا خوبصورت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ! جنت میں تمہارا باغیچہ اس سے حد درجہ خوبصورت ہے حتیٰ کہ سات باغیچوں کے پاس سے گزرے ہر باغیچے کے پاس سے گزرتے ہوئے حضرت علی (رض) نے یہی کہا : یا رسول اللہ ! یہ کتنا خوبصورت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : جنت میں تمہارا باغیچہ اس سے خوبصورت ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وفیہ یحییٰ بن یعلی الاسلمی عن یونس بن خباب وھما ضعیفان)
36504- "مسند أنس" خرجت أنا وعلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حائط المدينة فمررنا بحديقة فقال علي: ما أحسن هذه الحديقة يا رسول الله! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: حديقتك في الجنة أحسن منها يا علي! حتى مر بسبع حدائق كل ذلك يقول علي: ما أحسن هذه الحديقة يا رسول الله! فيقول: حديقتك في الجنة أحسن من هذه. "ش" وفيه يحيى بن يعلى الأسلمي عن يونس بن خباب وهما ضعيفان".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥٠٥۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ ام سلیم (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں چکوریں لائیں ام سلمہ (رض) نے انھیں بازوؤں سمیت بھون دیا تھا انھیں کپڑے سے ڈھانپ دیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یا اللہ میرے پاس اپنی مخلوق میں سے محبوب میں سے محبوب ترین شخص کو لاؤ جو میرے ساتھ مل کر یہ پرندے کھائے حضرت انس (رض) کہتے ہیں : چنانچہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) آگئے جب کہ میں چاہتا تھا کہ انصار میں سے کوئی شخص آئے حضرت علی (رض) واپس لوٹ گئے اور پھر واپس پلٹ آئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علی (رض) کی آواز سنی اور فرمایا : اے علی داخل ہوجاؤ۔ یا اللہ ! اسے اپنا دوست بنالے تین بار فرمایا۔ (رواہ ابن عساکر)
36505- عن أنس أن أم سليم أتت رسول الله صلى الله عليه وسلم بحجلات قد شوتهن بأضباعهن وخمرتهن، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اللهم ائتني بأحب خلقك إليك يأكل معي هذا الطائر! قال أنس: فجاء علي بن أبي طالب فقال: استأذن لي على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: هو على حاجة - وأحببت أن يجئ رجل من الأنصار، فرجع ثم عاد فسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم صوته فقال: ادخل يا علي! اللهم! وال، اللهم! وال، اللهم! وال. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥٠٦۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ جب کوئی ثقہ شخص ہمیں حضرت علی (رض) کا کوئی فتوی سناتا ہے ہم اس سے نہیں بھاگتے۔ (رواہ ابن سعد)
36506- عن ابن عباس قال: إذا حدثنا ثقة عن علي بفتيا لا نعدوها."ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥٠٧۔۔۔ ” مسند انس (رض) “ عمرو بن دینار حضرت انس (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک باغ میں تھے ہمیں بھونا ہوا ایک پرندہ ہدیہ کیا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مخلوق میں سے اپنے محبوب شخص کو میرے پاس لا چنانچہ حضرت علی (رض) تشریف لائے میں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشغول ہیں علی (رض) واپس لوٹ گئے پھر تھوڑی دیر بعد دوبارہ لوٹ آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا میں نے انھیں پھر واپس کردیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے انس تم نے اسے بہت واپس کردیا ہے اب اس کے لیے دروازہ کھول دو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں چاہتا تھا کہ انصار میں سے کوئی شخص آجائے چنانچہ علی بن ابی طالب (رض) اندر داخل ہوئے اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پرندہ کھایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدمی اپنی قوم سے محبت کرتا ہے۔ (رواہ ابن عساکر وابن النجار)
36507- "مسند أنس" عن عمرو بن دينار عن أنس قال: كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في بستان فأهدي لنا طائر مشوي فقال: اللهم ائتني بأحب الخلق إليك! فجاء علي بن أبي طالب، فقلت: رسول الله صلى الله عليه وسلم مشغول، فرجع ثم جاء بعد ساعة ودق الباب ورددته مثل ذلك، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أنس! افتح له فطال ما رددته، فقلت: يا رسول الله! كنت أطمع أن يكون رجلا من الأنصار؛ فدخل علي بن أبي طالب فأكل معه من الطير، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: المرء يحب قومه. "كر" وابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥٠٨۔۔۔ ” ایضاً “ عبداللہ قشیری حضرت انس (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے دربان کی حیثیت سے تھا میں نے آپ کو فرماتے سنا : یا اللہ ہمیں جنت کے کھانوں میں سے کھلا دے چنانچہ آپ کے پاس بھونے ہوئے پرندے کا گوشت لایا گیا اور آپ کے شامنے رکھ دیا گیا : آپ نے فرمایا : یا اللہ ! ہمارے پاس ایسے شخص کو لا جس سے تو محبت کرتا ہو اور وہ تجھ سے اور تیرے نبی سے محبت کرتا ہو حضرت انس (رض) کہتے ہیں میں دروازے سے باہر نکلا کیا دیکھتا ہوں کہ علی (رض) کھڑے ہیں اور اندر داخل ہونے کی اجازت طلب کر رہے ہیں میں نے انھیں اجازت نہ دی واپس لوٹ گئے ہیں اندر واپس لوٹ آیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہی کچھ فرماتے سنا عبداللہ قشیری کہتے ہیں : میرا گمان ہے کہ انس (رض) سے تین بار کا ذکر کیا ہے تاہم علی (رض) میرے اجازت کے بغیر اندر داخل ہوگئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ! تم نے تاخیر کیوں کردی ؟ عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں داخل ہونا چاہتا تھا لیکن انس مجھے روک دیتا تھا آپ نے فرمایا : اے انس اسے کیوں روکا ہے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ جب میں نے آپ کی دعا سنی۔ میں نے چاہا کہ میری قوم میں سے کوئی شخص آجائے اور یہ دعا اس کے حق میں ہوجائے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدمی کو اس کی محبت ضرور نہیں پہنچاتی جب تک کہ وہ ان کے علاوہ کسی اور سے بغض نہ کرتا ہو۔ (رواہ ابن عساکر)
36508- "أيضا" عن عبد الله القشيري قال: حدثني أنس بن مالك قال: كنت أحجب النبي صلى الله عليه وسلم فسمعته يقول: اللهم! أطعمنا من طعام الجنة، فأتي بلحم طير مشوي فوضع بين يديه فقال: اللهم ائتنا بمن تحبه ويحبك ويحب نبيك! قال أنس: فخرجت فإذا علي بالباب! فاستأذنني فلم آذن له، ثم عدت فسمعت من النبي صلى الله عليه وسلم مثل ذلك، فخرجت فإذا علي بالباب! فاستأذنني فلم آذن له، ثم عدت فسمعت من النبي صلى الله عليه وسلم مثل ذلك أحسب أنه قال: ثلاثا، فدخل بغير إذني فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ما الذي أبطأ بك يا علي؟ قال:يا رسول الله! جئت لأدخل فحجبني أنس، قال: يا أنس! لم حجبته؟ قال: يا رسول الله! لما سمعت الدعوة أحببت أن يجيء رجل من قومي فتكون له، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا يضر الرجل محبة قومه ما لم يبغض سواهم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥٠٩۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ قیامت کے دن میں لوگوں سے نو چیزوں کے متعلق جھگڑا کروں گا نماز قائم کرنے میں ادائےزکوۃ میں امر بالمعروف نہی عن المنکر رعیت میں عدل کرنے میں مساوی تقسیم میں جہاد فی سبیل اللہ اقامت حدود اور ان جیسی دوسری چیزوں میں۔ (رواہ ابو یعلی فی الزھد)
36509- عن علي قال: أحاج الناس يوم القيامة بتسع: بإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، والأمر بالمعروف، والنهي عن المنكر، والعدل في الرعية، والقسم بالسوية، والجهاد في سبيل الله، وإقامة الحدود وأشباهها. "ع" في الزهد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥١٠۔۔۔ ” ایضاً “ ابو عمرو بن علاء کی روایت ہے کہ میرے والد کہتے ہیں : حضرت علی (رض) نے لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا : اے لوگو ! قسم اللہ تعالیٰ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! میں نے تمہارے مال میں نہ قلیل نقصان کیا ہے نہ کثیر سوائے اس چیز کے چنانچہ آپ (رض) نے قمیص کی آستین سے خوشبو کی ایک شیشی نکالی اور فرمایا : یہ شیشی مجھے ایک دہقان نے ہدیہ کی ہے۔ (رواہ عبد الرزاق وابو عبید فی الاموال ومسدد والحاکم فی الکنی وابن الاباری فی المصاحف وابو نعیم فی الحلیۃ)
36510- "أيضا" عن أبي عمرو بن العلاء عن أبيه قال: خطب علي فقال: يا أيها الناس! والله الذي لا إله إلا هو ما رزأت من مالكم قليلا ولا كثيرا إلا هذه - وأخرج قارورة من كم قميصه فيها طيب فقال: أهداها إلي دهقان "عب" وأبو عبيد في الأموال ومسدد والحاكم في الكنى وابن الأنباري في المصاحف، "حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥١١۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غدیرخم کے دن ان کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : یا اللہ ! میں جس کا دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے فرمایا : اس کے بعد لوگوں نے کثرت سے یہ کہا شروع کردیا : جو اس کا دوست ہے تو بھی اسے دوست رکھ اور جو اس سے بغض رکھے تو بھی اس سے بغض رکھ۔ (رواہ ابن راھویہ وابن جریر)
36511- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم أخذ بيده يوم غدير خم فقال: اللهم! من كنت مولاه فعلي مولاه، قال: فزاد الناس بعده: اللهم! وال من والاه وعاد من عاداه. "ابن راهويه وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥١٢۔۔۔ ” ایضاً “ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے فرمایا : اے ابو الحسن ! بسا اوقات تم حاضر ہوتے ہم غائب ہوتے اور بسا اوقات ہم حاضر ہوتے تم غائب ہوتے میں تین (٣) چیزوں کے متعلق تم سے سوال کرنا چاہتا ہوں یا ان کے متعلق تمہارے اس علم ہے ؟ حضرت علی (رض) نے کہا : وہ کیا ہیں ؟ حضرت عمر نے کہا : ایک شخص کسی دوسرے شخص سے محبت کرتا ہے حالانکہ اس سے وہ بھلائی نہیں دیکھ پاتا اور ایک شخص دوسرے سے بغض کرتا ہے حالانکہ اس سے وہ برائی نہیں دیکھ پاتا حضرت علی (رض) نے کہا : جی ہاں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہے کہ روحین ہوا میں ہوتی ہیں جو جمع شدہ لشکر ہیں۔ وہ آپس میں ملتی جلتی ہیں جن کا آپس میں تعارف ہوجاتا ہے وہ آپس میں محبت کرنے لگتی ہیں اور جو آپس میں اجنبیت محسوس کرتی ہیں وہ ایک دوسرے کے خلاف ہوجاتی ہیں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : یہ ایک چیز ہوئی : بسا اوقات ایک شخص کوئی بات کرتا ہے وہ اسے یاد رہتی ہے یا بھول جاتا ہے حضرت علی (رض) نے جواب دیا : ہر دل کے بادل ہوتے ہیں جیسے چاند کے بادل کہ چاند چمک رہا ہوتا ہے یکایک اس پر بادل چھا جاتا ہے اور اس کی روشنی ماند پڑجاتی ہے اور پھر چمکنے لگتا ہے حضرت عمر (رض) کے کہا : یہ دو چیزیں ہوئیں آدمی خوابین دیکھتا ہے کوئی سچی ہوتی ہے کوئی جھوٹی ؟ حضرت علی (رض) نے کہا : جی ہاں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ جو بھی بندہ یا بندی سوتا ہے اس کی نیند گہری ہوجاتی ہے اس کی روح عرش کی طرف چڑھ جاتی ہے اور جو روح عرش کے پاس بیدار ہوتی ہے تو یہ خواب سچا ہوجاتا ہے اور جو روح عرش کے علاوہ کہیں اور بیدار ہوتی ہے تو یہ خواب جھوٹا ہوتا ہے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یہ تین چیزیں تھیں میں جنکی تلاش میں تھا اللہ کا شکر ہے میں نے مرنے سے قبل پالیں۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط وقال تفرد بہ عبد الرحمن بن مغرا وابو نعیم فی الحلیۃ والدیلمی
36512- "أيضا" عن ابن عمر قال: قال عمر بن الخطاب لعلي بن أبي طالب: يا أبا الحسن! ربما شهدت وغبنا وربما شهدنا وغبت، ثلاث أسألك عنهن هل عندك منهن علم؟ قال علي: وما هن؟ قال الرجل يحب الرجل ولم ير منه خيرا والرجل يبغض الرجل ولم ير منه شرا، قال علي، نعم، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الأرواح في الهواء جنود مجندة تلتقي فتشام فما تعارف منها ائتلف وما تناكر منها اختلف، قال: واحدة؛ والرجل يتحدث بالحديث نسيه أو ذكره؟ قال علي: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ما من القلوب قلب إلا وله سحابة كسحابة القمر، بينا القمر يضيء إذ علته سحابة فأظلم إذ تجلت، قال عمر: اثنتان؛ والرجل يرى الرؤيا فمنها ما يصدق ومنها ما يكذب؟ قال: نعم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ما من عبد ولا أمة ينام فيستثقل نوما إلا يعرج بروحه في العرش، فالتي لا تستيقظ إلا عند العرش فتلك الرؤيا التي تصدق، والتي تستيقظ دون العرش فهي الرؤيا التي تكذب فقال عمر: ثلاث كنت في طلبهن فالحمد لله الذي أصبتهن قبل الموت. "طس" وقال: تفرد به عبد الرحمن بن مغرا، "حل" والديلمي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥١٣۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ مجھے بدن میں درد ہوگیا، میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ضرورت میں حاضر ہوا آپ نے مجھے اپنی جگہ ٹھہرایا اور خود نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے اور اپنی چادر کا ایک حصہ مجھ پر ڈال دیا پھر فرمایا : اے ابن ابی طالب ! تم تندرست ہوچکے ہو اب تمہارا درد جاتا رہا میں نے اپنے رب سے جو چیز مانگی ہے اسی کی بمثل تمہارے لیے بھی مانگی ہے میں نے اپنے رب سے جو چیز مانگی مجھے ضرور عطاء کی البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا میں اسی جگی سے اٹھا مجھے یوں لگا گویا مجھے کوئی شکایت رہی ہی نہیں۔ (رواہ ابن ابی عاصم وابن جریر وصححہ والطبرانی فی الاوسط وابن شاھین فی السنہ)
36513- عن علي قال: وجعت وجعا فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فأقامني في مكانه وقام يصلي وألقى علي طرف ثوبه ثم قال: برئت يا ابن أبي طالب فلا بأس عليك! ما سألت الله لي شيئا إلا سألت لك مثله ولا سألت الله شيئا إلا أعطانيه غير أنه قيل لي: لا نبي بعدك؛ فقمت فكأني ما اشتكيت.ابن أبي عاصم وابن جرير وصححه، "طس" وابن شاهين في السنة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥١٤۔۔۔ ” ایضاً “ زاذان ابی عمر کی روایت ہے کہ میں نے ایک وسیع جگہ حضرت علی (رض) کو لوگوں کو واسطہ دیتے ہوئے سنا : کون شخص غدیر خم کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر تھا اور آپ نے جو کچھ فرمایا تھا چنانچہ ١٣ شخص کھڑے ہوئے انھوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غدیرخم کے دن فرمایا : جس شخص کا میں دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل وابن ابی عاصم)
36514- "أيضا" عن زاذان أبي عمر قال: سمعت عليا في الرحبة وهو ينشد الناس: من شهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم غدير خم وهو يقول ما قال، فقام ثلاثة عشر رجلا فشهدوا أنهم سمعوا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم غدير خم يقول: من كنت مولاه فعلي مولاه. "حم" وابن أبي عاصم في السنة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥١٥۔۔۔ ” ایضا “ عبد الرحمن بن ابی یعلی کہتے ہیں میں ایک کشادہ میدان میں حضرت علی (رض) کے پاس حاضر تھا جب آپ نے لوگوں کو واسطہ دے کر پوچھا کس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غدیر خم کے دن فرماتے سنا ہے کہ میں جس کا دوست ہوں علی اس کا دوست ہے۔ چنانچہ بارہ بدری صحابہ (رض) نے کھڑے ہو کر گواہی دی کہ ہم نے غدیرخم کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کیا میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا اور میری ازواج (مطہرات) مومنین کی مائیں نہیں ؟ ہم نے عرض کیا : جی ہاں کیوں نہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کا میں دوست ہوں علی (رض) بھی اس کا دوست ہے یا اللہ ! جو شخص علی کو دوست رکھتا ہو تو بھی اسے دوست رکھ اور جو علی سے عداوت رکھتا ہو تو بھی اس سے عداوت رکھ۔ (رواہ عبداللہ بن احمد بن حنبل و ابو یعلی وابن جریر والخطیب و سعید بن المنصور)
36515- "أيضا" عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: شهدت عليا في الرحبة ينشد الناس: أنشد الله من سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول يوم غدير خم: من كنت مولاه فعلي مولاه - لما قام فشهد اثنا عشر بدريا قالوا: نشهد أنا سمعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول يوم غدير خم: ألست أولى بالمؤمنين من أنفسهم وأزواجي أمهاتهم؟ فقلنا: بلى، قال: فمن كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم! وال من والاه وعاد من عاداه. "عم، ع" وابن جرير، "خط، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥١٦۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کی طرف چل پڑے جب ہم کعبہ کے پاس پہنچے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : بیٹھ جاؤ پھر آپ میرے کاندھے پر چڑھ گئے میں آپ کو لے کر اٹھنے لگا لیکن آپ نے مجھ میں ضعف دیکھا اور نیچے اتر آئے اور خود بیٹھ گئے فرمایا : میرے کاندھوں پر چڑھ جاؤ۔ میں آپ کے کاندھوں پر چڑھ گیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے لے کر اٹھ کھڑے ہوئے مجھے خیال گزرا کہ اگر میں چاہوں تو آسمان کے کنارے چھو لیتا حتیٰ کہ میں بیت اللہ پر چڑھ گیا بیت اللہ پر تانبے یا پیتل کی بنی ہوئی ایک مورتی رکھی تھی میں اسے دائیں بائیں اور آگے پیچھے گھوم گھوم کر دیکھنے لگا حتیٰ کہ میں نے اس پر اپنی گرفت مضبوط کرلی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے اٹھالو پھر فرمایا : اسے پٹخ دو میں نے اسے دے مارا اور وہ شیشے کی طرح چکنا چور ہوگئی پھر میں نیچے اتر آیا میں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھاگنے لگے حتیٰ کہ ہم گھروں کی اوٹ میں آگئے تاکہ ہمیں کوئی پکڑ نہ لے چنانچہ اس کے بعد بیت اللہ پر کوئی نہیں چڑھا۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وابو یعلی واحمد بن حنبل وابن جریر والحاکم وصححہ والخطیب)
36516- عن علي قال: انطلقت أنا والنبي صلى الله عليه وسلم حتى أتينا الكعبة فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: اجلس - وصعد على منكبي، فذهبت لأنهض به فرأى مني ضعفا فنزل وجلس لي نبي الله صلى الله عليه وسلم وقال: اصعد على منكبي، فصعدت على منكبيه، فنهض بي فإنه يخيل إلي أني لو شئت لنلت أفق السماء حتى صعدت على البيت وعليه تمثال صفر أو نحاس فجعلت أزاوله عن يمينه وعن شماله وبين يديه ومن خلفه، ورسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: هيه هيه! وأنا أعالجه حتى استمكنت منه، قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: اقذف به، فقذفت به فتكسر كما تتكسر القوارير، ثم نزلت فانطلقت أنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم نستبق حتى توارينا بالبيوت خشية أن يلقانا أحد من الناس فلم يرفع عليها بعد. "ش، ع، حم" وابن جرير، "ك" وصححه، "خط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥١٧۔۔۔ ” ایضاً “ عبداللہ بن بکر غنوی حکیم بن جبیر مولائے علی حسن بن سعد حضرت علی (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک غزوہ پر جانے کا ارادہ کیا اور آپ نے جعفر (رض) کو اپنے پاس بلایا اور انھیں حکم دیا کہ وہ مدینہ میں نائب کی حیثیت سے رہیں انھوں نے کہا : یا رسول اللہ ! میں آپ کے بعد مدینہ میں ہرگز نہیں رہ سکتا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنے پاس بلایا اور مجھے نائب مقرر کرنے کا عزم ظاہر کیا میں بات کرنے سے پہلے رو دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ! تم کیوں رو رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے بہت سی خصلتیں رلا رہی ہیں۔ کل قریش کہیں گے : تم اپنے چچا زاد بھائی کو پیچھے کیوں چھوڑ آئے وہ اور اسے کیوں رسوا کیا ہے مجھے ایک اور چیز بھی رلا رہی ہے میرا ارادہ تھا کہ میں جہاد فی سبیل اللہ کے لیے تعرض کروں چونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے ” لایطؤن موطأ یغیظ الکفار “ الآیۃ ارادہ تھا کہ میں اجر وثواب کیلئے پیش رفت کروں مجھے ایک اور چیز بھی رلا رہی ہے میرا ارادہ تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کا فضل لینے کے لیے آگے بڑھوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رہا تمہارا یہ کہنا کہ قریش کہیں گے : تم اپنے چچا زاد بھائی کو اپنے پیچھے کیوں چھوڑ آئے ہو اور اسے رسواء کیا : بلاشبہ اس میں تمہارے لیے ایک نمونہ ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ جادو گر نجومی اور جھوٹا ہے رہا تمہارا یہ کہنا کہ میں اللہ تعالیٰ کے اجر وثواب کیلئے پیش رفت کروں سو تم راضی نہیں ہو کہ تمہارا میرے ہاں وہی مقام ہو جو ہارون کا موسیٰ کے ہاں تھا۔ رہا تمہارا یہ کہنا کہ میں بھی اللہ کے فضل (مال) کو لینے کیلئے آگے بڑھوں سو یہ رہے دو بہار (ایک بہار برابر ہے تین سو رطل بغدادی کے) کالی مرچ کے جو ہمارے پاس یمن سے آئے ہیں انھیں بیچو اور ان سے نفع اٹھاؤ تم بھی اور فاطمہ (رض) بھی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اپنا فضل مال تمہیں عطا کر دے بلاشبہ مدینہ یا میرے شایان شان ہے یا تمہارے۔ (رواہ البزار وقال لایحفظ عن علی الا بھذا لاسناد وابن مردویہ وقال ابن حجر فی الاطراق بل ھو شبہ الموضوع وعبداللہ بن بکیر وشیحہ ضعیفان وقال۔ فی تجرید زوائد البراز و حکیم بن جبیر متروک قال : والبھار ثلاثمائۃ رطل بالبغدادی)
36517- "ايضا" عن عبد الله بن بكر الغنوي عن حكيم ابن جبير عن الحسن بن سعد مولى علي عن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أراد أن يغزو غزاة له فدعا جعفرا فأمره أن يتخلف على المدينة فقال: لا أتخلف بعدك يا رسول الله أبدا، فدعاني رسول الله صلى الله عليه وسلم فعزم علي لما تخلفت قبل أن أتكلم فبكيت، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما يبكيك يا علي؟ قلت: يا رسول الله! يبكيني خصال غير واحدة! تقول قريش غدا: ما أسرع ما تخلف عن ابن عمه وخذله، ويبكيني خصلة أخرى كنت أريد أن أتعرض للجهاد في سبيل الله لأن الله يقول: {وَلا يَطَأُونَ مَوْطِئاً يُغِيظُ الْكُفَّارَ} إلى آخر الآية، فكنت أريد أن أتعرض للأجر، ويبكيني خصلة أخرى كنت أريد أن أتعرض لفضل الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أما قولك: تقول قريش: ما أسرع ما تخلف عن ابن عمه وخذله، فإن لك بي أسوة قالوا؛ ساحر وكاهن وكذاب، وأما قولك: أتعرض للأجر من الله، أما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي، وأما قولك: أتعرض لفضل الله، فهذان بهاران من فلفل جاءنا من اليمن فبعه واستمتع به أنت وفاطمة حتى يؤتيكم الله من فضله، فإن المدينة لا تصلح إلا بي أو بك. "البزار وقال: لا يحفظ عن علي إلا بهذا الإسناد الضعيف، وأبو بكر العاقولي في فوائده، "ك" وقال: صحيح الإسناد، وابن مردويه، وقال ابن حجر في الأطراف: بل هو شبه الموضوع، وعبد الله بن بكير وشيخه ضعيفان، وقال في تجريد زوائد البزار: حكيم بن جبير متروك، قال: والبهار ثلاثمائة رطل بالبغدادي"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥١٨۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر مشرکین میں سے کچھ لوگ ہمارے پاس آئے ان میں ایک سہیل بن عمرو اور کچھ مشرکین کے سردار بھی تھے کہنے لگے یا رسول اللہ ! ہمارے بیٹوں بھائیوں اور غلاموں میں سے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے ہیں وہ دین میں کچھ سمجھ بوجھ نہیں رکھتے وہ تو ہمارے اموال اور جائدادوں سے بھاگ کر آئے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے جماعت قریش ! تم لوگ باز آجاؤ ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ایسے شخص کو مسلط کرے گا جو تلوار سے تمہاری گردنیں اڑائے گا اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کا ایمان سے جانچ لیا ہے صحابہ (رض) نے کہا : یا رسول اللہ وہ کون ہے ؟ ابوبکر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ ! وہ کون ہے ؟ عمر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ ! (رح) وہ کون ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ جوتے گانٹھنے والا ہے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علی (رض) کو گا ٹھننے کے لیے جوتا دے رکھا تھا پھر علی (رض) نے کہا : یا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا ہے جہنم میں اپنا ٹھکانا بنا لینا چاہیے (رواہ الترمذی وقال حسن صحیح غریب وابن جریر وصحہ والضیاء)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الترمذی ٧٦٨۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الترمذی ٧٦٨۔
36518- عن علي قال: لما كان يوم الحديبية خرج إلينا ناس من المشركين فيهم سهيل بن عمرو وأناس من رؤساء المشركين فقالوا: يا رسول الله! خرج إليك ناس من أبنائنا وإخواننا وأرقائنا وليس بهم فقه في الدين وإنما خرجوا فرارا من أموالنا وضياعنا فارددهم إلينا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا معشر قريش! لتنتهن أو ليبعثن الله عليكم من يضرب رقابكم بالسيف على الدين قد امتحن الله قلبه على الإيمان قالوا: من هو يا رسول الله؟ وقال له أبو بكر: من هو يا رسول الله؟ وقال عمر: من هو يا رسول الله؟ قال: هو خاصف النعل - وكان أعطى عليا نعله يخصفها - ثم قال علي: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار."ت وقال: حسن صحيح غريب2، وابن جرير وصححه، ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥١٩۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ فتح کیا تو آپ کے پاس قریش کے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے یا محمد ! ہم آپ کے حلیف اور آپ کی قوم ہیں۔ چنانچہ ہمارے کچھ غلام تمہارے پاس آگئے ہیں انھیں اسلام میں کچھ رغبت نہیں ہے وہ تو ہمارے کام کاج سے بھاگ گئے ہیں لہٰذا آپ انھیں واپس کردیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) سے مشورہ کیا انھوں نے کہا ۔ یا رسول اللہ ! یہ لوگ سچ کہتے ہیں پھر آپ نے عمر (رض) سے مشورہ کیا : انھوں نے بھی حضرت ابوبکر (رض) جیسا مشورہ دیا : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے جماعت قریش اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ایسے شخص کو مسلط کرے گا جس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لیے جانچ لیا ہے وہ تمہاری گردنیں اڑائے گا ابوبکر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ میں ہوں فرمایا : نہیں عمر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ وہ میں ہوں فرمایا : نہیں لیکن یہ وہ شخص ہے جو مسجد میں جوتے گانٹھ رہا ہے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو اپنے جوتے گانٹھنے کے لیے دئیے ہوئے تھے پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا : مجھ پر جھوٹ مت بولو چونکہ جس شخص نے مجھ پر جھوٹ بولا دوزخ میں داخل ہوگا۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وابن جریر والحاکم ویحیی بن سعید فی ایضاح الاشکال)
36519- عن علي قال: لما افتتح رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة أتاه أناس من قريش فقالوا: يا محمد! إنا حلفاؤك وقومك وإنه لحق بك أرقائنا وليس لهم رغبة في الإسلام وإنهم فروا من العمل فارددهم علينا، فشاور أبا بكر في أمرهم فقال: صدقوا يا رسول الله! وقال لعمر: ما ترى؟ فقال مثل قول أبي بكر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا معشر قريش! ليبعثن الله عليكم رجلا منكم امتحن الله قلبه للإيمان أن يضرب رقابكم على الدين، فقال أبو بكر: أنا هو يا رسول الله؟ قال: لا، قال عمر: أنا هو يا رسول الله؟ قال: لا ولكن خاصف النعل في المسجد - وقد كان ألقى نعله إلى علي يخصفها - ثم قال: أما! إني سمعته يقول: لا تكذبوا علي فإنه من كذب علي يلج النار."ش" وابن جرير، "ك"، ويحيى بن سعيد في إيضاح الإشكال.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥٢٠۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا : تم اپنے چچا زاد بھائی کے وارث کس طرح بنتے ہو اور تمہارے چچا وارث نہیں بن رہے ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ بنی عبد المطلب کو جمع کیا وہ سب بکری کا بچہ کھا رہے تھے اور پانی پی رہے تھے ان کے لیے کھانا پکایا گیا اور انھوں نے سیر ہو کر کھایا اور مشکیزے سے پانی پیا حتیٰ کہ کھانا اور پانی جوں کا توں باقی بچا رہا گویا انھوں نے نہ کھانا کھایا ہو اور نہ ہی پانی پیا ہو پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنی عبد المطلب مجھے خصوصیت کے ساتھ تمہاری طرف اور نامعلوم لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے تم یہ آیت دیکھ رہے ہو تم میں سے کون میرے ہاتھ پر بیعت کرے گا کہ وہ میرا بھائی میرا دوست اور میرا وارث ہوگا۔ آپ کی طرف کوئی نہ اٹھا میں ہی آپ کی طرف اٹھا میں حاضرین میں سب سے چھوٹا تھا آپ نے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ آپ نے پھر تین بار یہی فرمایا : ہر بار میں کھڑا ہوا اور مجھ سے فرمایا : بیٹھ جاؤ حتیٰ کہ تیسری بار بیعت کے لیے آپ نے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مارا اور حضرت علی (رض) نے فرمایا : اسی لیے آپ کا وارث میں ہوں میرا چچا نہیں ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل وابن جریر واضیاء)
36520- عن علي قال: إنه قيل له: كيف ورثت ابن عمك دون عمك؟ فقال: جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم بني عبد المطلب وهم رهط كلهم يأكل الجذعة ويشرب الفرق1 فصنع لهم مدا من طعام فأكلوا حتى شبعوا وبقي الطعام كما هو كأنه لم يمس أو لم يشرب فقال: يا بني عبد المطلب! إني بعثت إليكم خاصة وإلى الناس عامة وقد رأيتم من هذه اية ما رأيتم فأيكم يبايعني على أن يكون أخي وصاحبي ووارثي؛ فلم يقم إليه أحد فقمت إليه وكنت من أصغر القوم فقال: اجلس، ثم قال ثلاث مرات كل ذلك أقوم إليه فيقول لي: اجلس، حتى كان في الثالثة ضرب بيده على يدي، قال: فلذلك ورثت ابن عمي دون عمي. "حم" وابن جرير، "ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥٢١۔۔۔ ” ایضاً “ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : موسیٰ (علیہ السلام) نے رب تعالیٰ سے سوال کیا تھا کہ ہارون (علیہ السلام) نے ذریعے اپنی مسجد کی تطہیر کریں اور میں اپنے رب سے سوال کرتا ہوں کہ تیرے اور تیری اولاد کے ذریعے میری مسجد کی تطہیر فرمائے پھر آپ نے حضرت ابوبکر (رض) کی طرف پیغام بھیجا کہ تمہارا دروازہ بند کیا جائے انھوں نے اناللہ پڑھا اور کہا : ہم نے حکم سنا اور اسے مانا انھوں نے اپنا دروازہ بند کردیا پھر آپ نے عمر (رض) اور عباس (رض) کو بھی یہی پیغام بھیجا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تمہارے دروازے بند نہیں کیے اور علی کا دروازہ میں نے نہیں کھلا رہنے دیا : لیکن اللہ تعالیٰ نے علی کا دروازہ کھول دیا ہے اور تمہارے دروازے بند کر دئیے ہیں۔ (رواہ البزار وفیہ ابو میمنۃ مجھول)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے اللآلی ١/٣٤٧۔۔۔ ٣٥١۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے اللآلی ١/٣٤٧۔۔۔ ٣٥١۔
36521- "أيضا" أخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدي فقال: إن موسى سأل ربه أن يطهر مسجده بهارون وإني سألت ربي أن يطهر مسجدي بك وبذريتك، ثم أرسل إلى أبي بكر أن سد بابك، فاسترجع ثم قال: سمعا وطاعة، فسد بابه: ثم أرسل إلى عمر ثم أرسل إلى العباس بمثل ذلك، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما أنا سددت أبوابكم وفتحت باب علي ولكن الله فتح باب علي وسد أبوابكم. "البزار وفيه أبو ميمونة مجهول".
তাহকীক: