কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬৫৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥٢٢۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ اور ان سے کہو کہ اپنے دروازے بند کردیں میں نے جا کر ان لوگوں سے کہا انھوں نے اپنے دروازے بند کر دئیے لیکن حمزہ (رض) نے دروازہ بند نہ کیا میں نے آکر عرض کیا : یا رسول اللہ ! سوائے حمزہ (رض) کے سب نے دروازے بند کر دئیے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حمزہ سے کہو اپنا دروازہ تبدیل کر دے میں نے حضرت حمزہ (رض) سے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم ہے کہ آپ اپنا دروازہ تبدیل کردیں چنانچہ انھوں نے تبدیل کردیا پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس لوٹا آپ نماز پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا : اپنے گھر کی طرف واپس لوٹ جاؤ۔ (رواہ البزار وفیہ حبۃ العرفی ضعیف جدا)
36522- عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: انطلق فمرهم فليسدوا أبوابهم، فانطلقت فقلت لهم، ففعلوا إلا حمزة، فقلت: يا رسول الله! قد فعلوا إلا حمزة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قل لحمزة فليحول بابه، فقلت: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمرك أن تحول بابك،فحوله، فرجعت إليه وهو قائم يصلي فقال: ارجع إلى بيتك. "البزار وفيه حبة العرني ضعيف جدا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥٢٣۔۔۔ ” ایضاً “ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم مدینہ کی ایک گلی میں چل رہے تھے اتنے میں ہم ایک باغیچہ کے پاس سے گزرے میں نے یا رسول اللہ ! یہ باغیچہ کتنا خوبصورت ہے : آپ نے فرمایا : جنت میں تمہارے لیے اس سے خوبصورت باغیچہ ہے پھر ہم ایک اور باغیچہ کے پاس سے گزرے میں نے عرض کیا رسول اللہ ! یہ باغیچہ کتنا خوبصورت ہے آپ نے فرمایا : جنت میں تمہارے لیے اس سے خوبصورت باغیچہ ہے یوں ہم سات باغیچوں کے پاس سے گزرے ہر بار آپ نے یہی فرمایا : جب آپ صاف کھلے راستے میں آگئے آپ نے مجھے گلے لگا لیا اور دردمندانہ انداز میں رونے لگے : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تمہارے متعلق لوگوں کے دلوں میں کینہ ہے جو میرے بعد ظاہر ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں دین پر سلامت و ثابت رہوں گا فرمایا دین پر تمہارے سلامت رہنے کی وجہ سے ہے۔ (رواہ البزار وابویعلی والحاکم وابو الشیخ فی کتاب القطع والسرقۃ والخطیب وابن الجوزی فی الواھیات وابن النجارفی تاریخ)
36523- "أيضا" بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذ بيدي ونحن نمشي في بعض سكك المدينة فمررنا بحديقة فقلت: يا رسول الله! ما أحسنها من حديقة! قال: لك في الجنة أحسن منها، ثم مررت بأخرى فقلت: يا رسول الله! ما أحسنها من حديقة! قال: لك في الجنة أحسن منها حتى مررنا بالسبع حدائق كل ذلك أقول: ما أحسنها، ويقول: لك في الجنة أحسن منها، فلما خلى له الطريق اعتنقني ثم أجهش1 باكيا: قلت: يا رسول الله! ما يبكيك؛ قال: ضغائن في صدور أقوام لا يدونها لك إلا من بعدي، قلت: يا رسول الله! في سلامة من ديني؟ قال: في سلامة من دينك. "البزار، "ع، ك" وأبو الشيخ في كتاب القطع والسرقة، "خط" وابن الجوزي في الواهيات، وابن النجار في تاريخه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥٢٤۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے وصیت کریں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہو ” اللہ میرا رب ہے “ اور پھر اس پر ثابت قدم رہو۔ میں نے کہا : اللہ میرا رب ہے اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں آپ نے فرمایا : اے ابو الحسن تمہیں یہ علم مبارک ہو تم علم سے بھرپور سیراب ہوئے ہو۔ (رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ وفیہ الکدیسی)
36524- عن علي قال قلت: يا رسول الله! أوصني، قال: قل "ربي الله" ثم استقم، قلت: ربي الله وما توفيقي إلا بالله، عليه توكلت وإليه أنيب، قال: ليهنك العلم أبا الحسن، لقد شربت العلم شربا ونهلته نهلا. "حل" وفيه الكديمي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥٢٥۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ! اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اپنے قریب کروں اور تمہیں علم سکھاؤں جسے تم یاد کرلو اور یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ” وتعیھا اذن واعیہ “ اور اسے یاد کرنے والے کان یاد کرلیں گے تم ہی میرے علم کو یاد کروگے۔ (رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ)
36525- عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا علي! إن الله أمرني أن أدنيك وأعلمك لتعي، وأنزلت هذه الآية "وتعيها أذن واعية" فأنت أذن واعية لعلمي. "حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥٢٦۔۔۔ حضرت علی (رض) نے آیت کریم ” وتعیھا اذن واعیۃ “ کی تفسیر میں فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : اے علی ! میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ تمہیں یاد کرنے والا کان بان دے چنانچہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو بات بھی سنی اسے یاد کرلیا اور نہیں بھولا۔ (رواہ الصباء وابن مردویہ وابو نعیم فی المعرفہ)
36526- عن علي في قوله: "وتعيها أذن واعية" قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: سألت الله أن يجعلها أذنك يا علي! فما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا فنسيته."ض" وابن مردويه وأبو نعيم في المعرفة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥٢٧۔۔۔ ” ایضاً “ شعبی کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : سید المسلمین اور امام المتقین کو خوش آمدید حضرت علی (رض) سے پوچھا گیا آپ کا اس پر شک کیا تھا ؟ جواب دیا : اللہ تعالیٰ نے مجھے جو کچھ عطاء کیا ہے اس پر میں نے اس کا شکر ادا کیا اور میں نے اللہ تعالیٰ سے شکر مانگا ہے جو مجھے دیا اور اس سے مجھے زیادہ عطاء کرے (رواہ ابو نعیم فی الحلیہ
36527- "أيضا" عن الشعبي قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: مرحبا بسيد المسلمين وإمام المتقين! قيل لعلي: فما كان شكرك؟ قال: حمدت الله على ما آتاني وسألته الشكر على ما أولاني وأن يزيدني مما أعطاني. "حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥٢٨۔۔۔ شعبی کی روایت ہے حضرت علی (رض) فرماتے ہیں۔ جب میں اپنے باپ کو دفن کرکے واپس لوٹا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ایک بات ارشاد فرمائی مجھے محبوب نہیں کہ اس کے بدلہ میں میرے لیے دنیا ہو۔ (رواہ الطبرانی ابو یعلی وابو نعیم فی الحلیہ)
36528- "أيضا" عن الشعبي قال: قال علي: لما رجعت إلى النبي صلى الله عليه وسلم وقد دفنته - يعني أباه - قال لي قولا ما أحب أن لي به الدنيا. "ط، ع، حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے فضائل
٣٦٥٢٩۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ فاطمہ (رض) کے دو بیٹوں کی محبت میں فاسق و نیکوکار سب برابر ہیں جب کہ مجھے وصیت کی گئی ہے مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا اور مجھ سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا۔ (رواہ ابونعیم فی الحلیہ)
36529- عن علي قال: إن ابني فاطمة قد استوى في حبها البر والفاجر وإني عهد إلي أن لا يحبك إلا مؤمن ولا يبغضك إلا منافق. "حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی فراست
٣٦٥٣٠۔۔۔ حضرت علی (رض) نے ایک مرتبہ فرمایا : اے اہل کوفہ ! تمہارے سات افضل لوگ قتل کیے جائیں گے ان کی مثال اصحاب مندو (خندقوں والوں) کی سی ہے مجمہ ان میں سے حجر بن ۔۔۔ اس کے ساتھی ہوں گے چنانچہ حضرت معاویہ (رض) نے انھیں دمشق میں مقام عذرار میں قتل کیا وہ سب اہل کوفہ میں سے تھے۔ (رواہ ابن عساکر)
36530- عن علي قال: يا أهل الكوفة! سيقتل منكم سبعة نفر خياركم، مثلهم كمثل أصحاب الأخدود، منهم حجر بن الأدبر وأصحابه، قتلهم معاوية بالعذراء من دمشق، كلهم من أهل الكوفة."كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی سیرت فقر اور تواضع
٣٦٥٣١۔۔۔ ” مسند علی “ علی بن ارقم اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) کو کوفہ کی ایک کشادہ جگہ میں اپنی تلوار فروخت کے لیے پیش کرتے دیکھا آپ (رض) فرما رہے تھے یہ میری تلوار کون خریدے گا ؟ بخدا میں نے اس تلوار کے ذریعے بار ہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بہادری کے جوہر دکھائے ہیں اگر میرے پاس ازار کے پیسے ہوتے ہیں اسے کبھی نہ بیچتا۔ (رواہ یعقوب بن سفیان والطبرانی فی الاوسط وابو نعیم فی الحلیہ وابن عساکر)
36531- "مسند علي" عن علي بن الأرقم عن أبيه قال: رأيت علي بن أبي طالب يعرض سيفا له في رحبة الكوفة ويقول: من يشتري مني سيفي هذا؟ والله لقد جلوت به غير مرة من وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولو أن عندي ثمن إزار ما بعته."يعقوب بن سفيان، "طس، حل، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی سیرت فقر اور تواضع
٣٦٥٣٢۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ میں بھوک نے مجھے بہت تنگ کیا اچانک میں ایک عورت کے پاس پہنچ گیا وہ مٹی کے ڈھلیے جمع کر رہی تھی میرا گمان ہے کہ وہ انھیں تر کرنا چاہتی تھی میں نے اس سے ہر ڈول کے بدلہ میں ایک کھجور پر معاملہ طے کرلیا میں نے سولہ (١٦) ڈول کھینچے جنگی وجہ سے میرے ہاتھ ڈھال بن گئے پھر میں پانی لایا اور اس عورت کے پاس آیا اور کہا : میں نے اتنا پانی نکال دیا ہے ہاتھوں سے اشارہ کیا اسماعیل نے اپنے ہاتھ پھیلا کر اشارہ کیا چنانچہ عورت نے میرے لیے سولہ کھجوریں گنیں، میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو خبر کی آپ نے میرے ساتھ دل کو کھجوریں تناول فرمائیں۔ (رواہ احمد بن حنبل والد ورتی وابن منیع وابو نعیم فی الحلیہ وفیہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اچھی بات کہی اور مجھے دعا دی و صحح)
36532- عن علي قال: جعت مرة بالمدينة فإذا أنا بامرأة قد جمعت مدرا فظننتها تريد بله1 فأتيتها فقاطعتها كل ذنوب على تمرة،فمددت ستة عشر ذنوبا حتى مجلت يداي : ثم أتيت الماء فأصبت منه ثم أتيتها فقلت بكفي هكذا بين يديها وبسط إسمعيل بيديه وجمعهما فعدت لي ستة عشر تمرة ، فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرته بذلك ، فأكل معي منها (حم والدورقي وابن منيع وحل وزاد : وقال لي خيرا ودعا لي وصحح).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی سیرت فقر اور تواضع
٣٦٥٣٣۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دیکھا ہے کہ میں نے بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھ رکھے تھے جب کہ آج میرا صدقہ چالیس ہزار تک پہنچتا ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل وابو نعیم فی الحلیہ والدورقی والضیاء)
36533 عن علي قال : لقد رأيتني مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وإني لاربط الحجر على بطني من الجوع وإن صدقتي اليوم لتبلغ أربعين ألفا (حم ، حل والدورقي ض).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی سیرت فقر اور تواضع
٣٦٥٣٤۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی میرے پاس لائی گئیں اس رات میرے پاس مینڈھے کی کھال کے علاوہ کوئی بستر نہیں تھا۔ (رواہ ابن المبارک فی الزھد وھناد وابن ماجہ وابو یعلی والدینوری فی المجالسۃ)
36534 عن علي قال : أهديت لي ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم فما كان فراشنا ليلة أهديت إلا مسك كبش (ابن المبارك في الزهد وهناد ، ه ، والدينوري في المجالسة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی سیرت فقر اور تواضع
٣٦٥٣٥۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں ڈول سے پانی کھینچتا تھا اور ایک کھجور پر ایک ڈول کھینچتا تھا اور میں شرط لگا لیتا تھا کہ کھجوریں موٹی موٹی ہوں گی۔ (رواہ الضیاء)
36535 عن علي قال : كنت ادلو الدلو بتمرة وأشترط أنها جلدة (ض).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی سیرت فقر اور تواضع
٣٦٥٣٦۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی سے نکاح کیا تو ہمارے پاس مینڈھے کی کھال کے علاوہ کوئی بستر نہیں تھا۔ اسے بچھا کر ہم رات بسر کرلیتے اور صبح کو اسے لپیٹ لیتے اور اسی پر اونٹنی کو چار ا ڈالتے۔ (رواہ العسکری)
36536 عن علي قال : نكحت ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم وليس لنا فراش إلا فروة كبش فإذا كان الليل بتنا عليها وإذا أصبحنا فقلبنا وعلفنا عليها الناضح (العسكري).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی سیرت فقر اور تواضع
٣٦٥٣٧۔۔۔ ” ایضاً “ صالح کی روایت ہے کہ میری دادی کہتی ہیں : میں نے حضرت علی (رض) کو ایک درہم کے بدلہ میں کھجوریں خریدتے دیکھا آپ نے اپنی چادر میں کھجوریں ڈال کر اٹھائیں : کسی نے کہا : امیر المومنین ! آپ کی جگہ ہم کھجوریں اٹھالیتے ہیں آپ (رض) نے فرمایا : صاحب عیال خود بوجھ اٹھانے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36537 (أيضا) عن صالح بياع الاكسية عن جدته قالت : رأيت عليا اشترى تمرا بدرهم فحمله في ملحفته فقيل : يا أمير المؤمنين ! ألا نحمله عنك ؟ فقال : أبو العيال أحق بحمله (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی سیرت فقر اور تواضع
٣٦٥٣٨۔۔۔ ” ایضاً “ زاذان کی روایت ہے ایک مرتبہ حضرت علی (رض) اکیلے ہی بازار میں چل رہے تھے آپ والی تھے گمراہ کو سیدھی راہ دکھاتے گمشدہ چیز کا اعلان کرتے کمزوری کی مدد کرتے نیز دوسرے دو کا نداوں اور سبزی فروشوں کے پاس سے گزرتے انھیں قرآن کی یاد دلاتے اور خود یہ آیت پڑھتے : ” تلک الدار الآخرۃ نجعلھا للذین لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادا “ یہ آخرت کا ٹھکانا ہے ہم یہ ان لوگوں کو عطاء کریں گے جو دنیا میں برتری اور فساد کے درپے نہیں ہوں گے آپ (رض) فرماتے : یہ آیت ان لوگوں کی شان میں نازل ہوئی ہے جو حکمرانوں میں سے اہل عدل اور اہل تواضع ہوں اور باقی لوگوں میں سے اہل قدرت ہوں۔ (رواہ ابن عساکر)
36538 (أيضا) عن زاذان عن علي أنه كان يمشي في الاسواق وحده وهو وال يرشد الضال وينشد الضال ويعين الضعيف ويمر بالبياع والبقال فيفتح عليه القرآن ويقرأ (تلك الدار الآخرة نجعلها للذين لا يريدون علوا في الارض ولا فسادا) ويقول : نزلت هذه الآية في أهل العدل والتواضع من الولاة وأهل القدرة من سائر الناس (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی سیرت فقر اور تواضع
٣٦٥٣٩۔۔۔ ” ایضاً “ ابو بختری کی روایت ہے کہ ایک شخص حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہو اور آپ کی مدح کرنے لگا اور قبل ازیں آپ کو اس شخص کے متعلق کچھ بات پہنچ چکی تھی آپ نے فرمایا : ایسا نہیں جیسے تم کہتے ہو جو بات تمہارے دل میں ہے میں اس سے اوپر ہوں۔ (رواہ ابن ابی الدنیا فی الصمت وابن عساکر)
36539 (أيضا) عن أبي البختري أن رجلا أتى عليا فأثنى عليه وكان قد بلغه عنه قبل ذلك شئ فقال له علي : ليس كا تقول وأنا فوق ما في نفسك (ابن أبي الدنيا في الصمت ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی سیرت فقر اور تواضع
٣٦٥٤٠۔۔۔ عبداللہ بن ابی ھذیل کی روایت ہے میں نے حضرت علی (رض) پر ایک قمیص دیکھی جو قدرے ہلکی سی تھی آپ جب اس کی آستین کھینچتے تو وہ انگلیوں تک پہنچ جاتی اور جب اسے چھوڑ دیتے تو نصف بازو کے قریب پہنچ جاتی۔ رواہ ھناد وابن
36540 (أيضا) (أيضا) عن عبد الله بن أبي الهذيل قال : رأيت على علي بن أبي طالب قميصا رازئا إذا مد ردنه بلغ أطراف الاصابع ، وإذا تركه رجع إلى قريب نصب الذراع (هناد ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی سیرت فقر اور تواضع
٣٦٥٤١۔۔۔ عمرو بن حریث کی روایت ہے ایک مرتبہ میں حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ (رض) اپنے قصد میں تھے اور لوگوں کا آپ کے اردگرد جمگھٹا تھا آپ لوگوں کو اپنے درے سے پیچھے ہٹا رہے تھے اور بولے : اے عمرو بن حریث میں دیکھا کرتا تھا کہ والی رعیت پر ظلم کرتا تھا لیکن اب یہ دیکھا جا رہا ہے کہ رعیت والی پر ظلم کر رہی ہے۔ (رواہ فی کتاب المدارۃ)
36541 (أيضا) عن عمرو بن حريث قال : أتيت عليا في القصر وقد اختلف الناس عليه وهو يزودهم بدرته فقال : يا عمرو ابن حريث ! كنت أرى أن الوالي يظلم الرعية فإذا الرعية تظلم الوالي (في كتاب المداراة).
তাহকীক: