কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬৫৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی سیرت فقر اور تواضع
٣٦٥٤٢۔۔۔ عمرو بن قیس کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) پر ایک ازار دیکھا گیا جس پر پیوند لگے ہوئے تھے آپ سے اس کی وجہ دریافت کی گئی آپ نے فرمایا : اس سے مومن کی اقتداء کی جاتی ہے اور اس کے ذریعے دل میں خشوع پیدا ہوتا ہے۔ (رواہ ھناد وابو نعیم فی الحلیہ)
36542 (أيضا) عن عمرو بن قيس قال : رؤي على علي إزار مرقوع فقيل له ، فقال : يقتدي به المؤمن ويخشع به القلب (هناد ، حل).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی سیرت فقر اور تواضع
٣٦٥٤٣۔۔۔ عطاء ابو محمد کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) پر کر بوس کی قمیص دیکھی جو دھوئی ہوئی نہیں تھی۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وھناد)
36543 (أيضا) عن عطاء أبي محمد قال : رأيت على علي قميصا من هذه الكرابيس غير غسيل (ش وهناد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی سیرت فقر اور تواضع
٣٦٥٤٤۔۔۔ عنترہ کی روایت ہے ایک تن میں حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اتنے میں قنبر آگیا اور عرض کیا : اے امیر المومنین آپ مال میں سے اپنا حصہ نہیں لیتے حالانکہ آپ کے گھروں کا اس مال میں حصہ ہے میں نے آپ کے لیے ایک چیز چھپا رکھی رہے فرمایا : وہ کیا ہے ؟ کہا : چلیں اور دیکھ لیں کہ وہ کیا ہے چنانچہ آپ (رض) کو قنبر نے ایک گھر میں داخل کیا اس میں کچھ برتن ہیں جو سونا اور چاندی سے بھرے ہوئے ہیں جب حضرت علی (رض) نے یہ مال دیکھا تو فرمایا : تیری ماں تجھے گم پائے ! تم نے ارادہ کیا ہے کہ میرے گھر میں ایک بڑی آگ داخل کرو۔ پھر آپ (رض) نے سونے چاندی کو تولنا شروع کردیا اور جو بھی آتا اسے حصہ کے مطابق دیتے گئے پھر فرمایا : یہ میرا کام ہے اور یہ مستحق مسلمانوں تک پہنچ گیا ہے اور ہر کام کرنے والے کا ہاتھ اپنے منہ میں ہوتا ہے۔ اے مال : تو مجھے دھوکا مت دے بلکہ میرے علاوہ کسی اور کو دھوکا میں ڈال۔ (رواہ ابو عبید)
36544 عن عنترة قال : أتيت عليا يوما فجاء قنبر فقال : يا أمير المؤمنين ! إنك رجل لا تليق شيئا وإن لاهل بيتك في هذا المال نصيبا وقد خبأت لك خبيئة ، قال : وما هي ؟ قال : انطلق فانظر ما هي ؟ قال فأدخله بيتا فيه باسنة مملؤة آنية ذهب وفضة مموهة بالذهب فلما رآها علي قال : ثكلتك أمك ! لقد أردت أن تدخل بيتي نارا عظيمة ، ثم جعل يزنها ويعطي كل عريف بحصته ثم قال : هذا جناي وخياره فيه وكل جان يده إلى فيه ، ولا تغريني وغري غيري (أبو عبيد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی سیرت فقر اور تواضع
٣٦٥٤٥۔۔ جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی (رض) کے پاس بہت سا مال آیا آپ نے وزن اور پرکھ کے ماہرین کو اپنے سامنے بٹھایا آپ نے ایک ڈھیر سونے کا لگایا اور ایک ڈھیر چاندی کا لگایا اور فرمایا : اے سونا چاندی ! تو اپنی شعائیں بکھیرتا رہ اور چمک پھیلاتا رہ اور میرے علاوہ دوسروں کو دھوکا دے یہی میرا کام ہے میں مسلمانوں کے مال سے اپنے آپ کو آلودہ نہیں کروں گا۔ (رواہ ابو عبید وابو نعیم فی الحلیۃ وابن عساکر)
36545 عن جعفر بن محمد عن أبيه أن عليا أتى بالمال فأقعد بين يديه الوزان والنقاد فكوم كومة من ذهب وكومة من فضة فقال : يا حمراء ويا بيضاء ! احمري وابيضي وغري غيري ، هذا جناي وخياره فيه ، وكل جان يده إلى فيه (أبو عبيد ، حل ، كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی سیرت فقر اور تواضع
٣٦٥٤٦۔۔۔ مجمع کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) بیت المال میں جھاڑ و دیتے اور پھر اس میں نماز پڑھتے تاکہ قیامت کے دن گواہی دی جائے کہ آپ (رض) نے مسلمانوں سے بچا کر مال بیت المال میں نہیں روکے رکھا ۔ (رواہ احمد بن حنبل فی الزھد ومسد وابو نعیم فی الحلیہ)
36546 عن مجمع أن عليا كان يكنس بيت المال ثم يصلي فيه رجاء أن يشهد له يوم القيامة أنه لم يحبس فيه المال عن المسلمين (حم في الزهد ومسدد ، حل).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی سیرت فقر اور تواضع
٣٦٥٤٧۔۔۔ ” مسند علی “ ابو سطر کی روایت ہے ایک مرتبہ میں مسجد سے باہر نکلا اچانک مجھے پیچھے سے کوئی آواز دے رہا ہے اپنی شلوار اوپر کرو چونکہ یہ چیز اللہ تعالیٰ کا ڈر دل میں زیادہ ڈالتی ہے اور اس سے تمہارے کپڑے صاف ستھرے رہیں گے اگر تم مسلمان ہو تو اپنے بال کٹوا دو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ علی (رض) ہیں اور آپ کے پاس ڈرہ ہے آپ چلتے چلتے بازار میں جا پہنچے آپ (رض) نے فرمایا : بیچو مگر قسمیں مت کھاؤ چونکہ قسم سے مال تو بک جاتا ہے لیکن برکت جاتی رہتی ہے پھر آپ (رض) کھجور فروش کے پاس آئے کیا دیکھتے ہیں کہ ایک خادمہ کھڑی رو رہی ہے آپ (رض) نے اس سے رونے کی وجہ پوچھی : وہ بولی : اس شخص نے مجھے ایک درہم کی کھجوریں فروخت کی ہیں لیکن میرے آقا نے قبول کرنے سے انکار کردیا ہے آپ (رض) نے فرمایا : یہ لو اور اسے درہم واپس کرو چونکہ معاملہ اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ اس شخص نے انکار کردیا میں نے کہا : تم جانتے ہو یہ کون ہے کہا : نہیں میں نے کہا : یہ امیر المومنین حضرت علی (رض) ہیں دوکاندار نے کھجوریں انڈیل دیں اور درہم خادمہ کو واپس کردیا اور کہنے لگا : امیر المومنین مجھے پسند ہے کہ آپ مجھ سے راضی ہوجائیں تو آپ (رض) نے فرمایا : مسکینوں کو کھلاؤ تمہاری کمائی بڑھے گی پھر آپ چل پڑے۔ حتی کہ مچھلی فروشوں کے پاس جا پہنچے اور فرمایا : ہمارے بازاروں میں طافی مچھلی۔ (جو مردہ ہو کر پانی میں الٹی تیرنے لگے) نہ بیچی جائے پھر آپ (رض) کپڑا فروشوں کے بازار میں آئے اور فرمایا : اسے شیخ مجھے ایک اچھی سی قمیص قین دراہم میں دے دو جب آپ نے اسے پہچان لیا آپ نے اس سے کچھ نہ خریدا پھر آپ (رض) ایک دوسرے شخص کے پاس آئے اور جب اسے پہچان لیا تو اس سے بھی کچھ نہ خریدا پھر آپ ایک نوجوان لڑکے کے پاس آئے آپ نے اس سے تین دراہم میں قمیص خریدلی آپ نے قمیص پہنی اس کی آستیں کلائیوں تک پہنچتی تھیں اتنے میں کپڑے کا مالک آگیا اس سے کہا گیا تمہارے بیٹے نے امیر المومنین کو تین دراہم میں قمیص بیچی ہے مالک نے لڑکے سے کہا : تم نے دو درہم میں قمیص کیوں نہیں بیچی مالک نے ایک درہم لیا اور حضرت علی (رض) کے پا سآ گیا اور کہا : یہ درہم لے لیں آپ (رض) نے فرمایا : کیا وجہ ہے ؟ مالک نے کہا : ہماری اس قمیص کی قیمت دو درہم ہے جب کہ میرے بیٹے نے تین درہم لیے ہیں : آپ (رض) نے فرمایا : لڑکے نے مجھے رضا مندی سے قمیص بیچی ہے اور میں نے اس کی رضا مندی حاصل کی ہے۔ (رواہ ابن راھویہ واحمد بن حنبل فی الزھد وعباس حمید وابو یعلی والبیہقی وابن عساکر و ضعف)
36547 (مسند علي) عن أبي مطر قال : خرجت من المسجد فإذا رجل ينادي خلفي : ارفع إزارك ، فانه أتقى لربك وأنقى لثوبك ، وخذ من رأسك إن كنت مسلما ، فإذا هو علي ومعه الدرة فانتهى إلى سوق الابل فقال : بيعوا ولا تحلفوا فن اليمين تنفق السلعة وتمحق البركة ، ثم أتى صاحب التمر فإذا خادم تبكي فقال : ما شأنك ؟ قالت : باعني هذا تمرا بدرهم فأبى مولاي أن يقبله ، فقال : خذه وأعطها درهما فانه ليس لها أمر ، فكأنه أبى ، فقلت : ألا تدري من هذا ؟ قال : لا ، قلت : علي أمير المؤمنين ، فصب تمره وأعطاها درهمها وقال : أحب أن ترضى عني يا أمير المؤمنين ! قال : ما أرضاني عنك إذا وفيتهم ، ثم مر مجتازا بأصحاب التمر فقال : أطعموا المسكين يربو كسبكم ، ثم مر مجتازا حتى انتهى إلى أصحاب السمك فقال : لا يباع في سوقنا طافي ، ثم أتى دار بزاز وهي سوق الكرابيس فقال : يا شيخ ! أحسن بيعي في قميص بثلاثة دراهم ، فلما عرفه لم يشتر منه شيئا ، ثم أتى آخر فلما عرفه لم يشتر منه شيئا ، ثم أتى غلاما حدثا فاشترى منه قميصا بثلاثة دراهم ولبسه ما بين الرسغين إلى الكعبين فجاء صاحب الثوب فقيل له : إن ابنك باع من أمير المؤمنين قميصا بثلاثة دراهم ، قال : فهلا أخذت منه درهمين ؟ فأخذ الدرهم ثم جاء به إلى علي فقال : أمسك هذا الدرهم ، قال : ما شأنه ؟ قال : كان قميصنا ثمن درهمين باعك ابني بثلاثة دراهم ، قال : باعني برضاي وأخذت رضاه (ابن راهويه ، حم في الزهد وعبد بن حميد ، ع ، ق ، كر وضعف).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا زہد
٣٦٥٤٨۔۔۔ ایک شخص روایت نقل کرتا ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کو ایک ازر پہنے دیکھا جو موٹا دبیز تھا آپ (رض) فرما رہے تھے میں نے یہ پانچ درہم میں خریدا ہے جو مجھے ایک درہم کا فائدہ دے میں اسے بیچ دوں گا۔ (رواہ البیہقی)
36548- عن رجل قال: رأيت على علي إزارا غليظا قال: اشتريته بخمسة دراهم فمن أربحني فيه درهما بعته إياه. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا زہد
٣٦٥٤٩۔۔۔ ” مسند علی (رض) “ عبداللہ بن شریک اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی (رض) کے پاس فالودہ لایا گیا اور آپ کے سامنے رکھ دیا گیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : بلاشبہ تیری خوشبو بہت اچھی ہے تیرا رنگ بڑا خوبصورت ہے اور تیرا ذائقہ بھی بہت پیارا ہے لیکن مجھے ناپسند ہے کہ میں اپنے نفس کو ایسی چیز کا عادی بناؤں جس کا وہ عادی نہیں ہے۔ (رواہ عبداللہ بن احمد بن حنبل فی الزھد وابو نعیم فی الحلیۃ)
36549- "مسند علي كرم الله وجهه" عن عبد الله بن شريك عن جده أن علي بن أبي طالب أتي بفالوذج فوضع قدامه فقال: إنك طيب الريح حسن اللون طيب الطعم ولكن أكره أن أعود نفسي ما لم تعتد. "عم" في الزهد، "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا زہد
٣٦٥٥٠۔۔۔ عدی بن ثابت روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی (رض) کے پاس فالودہ لایا گیا آپ (رض) نے کھانے سے انکار کردیا۔ (رواہ ھناد وابو نعیم فی الحلیہ)
36550- "أيضا" عن عدي بن ثابت أن عليا أتي بفالوذج فلم يأكل. هناد، "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا زہد
٣٦٥٥١۔۔۔ ” ایضاً “ زیادہ بن میح کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) کے پاس ایک قسم کا حلوہ لایا گیا آپ (رض) نے حاضرین کے سامنے رکھ دیا اور انھوں نے کھانا شروع کردیا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا اسلام کوئی گم گشتہ اونٹ نہیں ہے لیکن قریش اسے دیکھ کر بھڑنے لگے۔ (رواہ عبداللہ)
36551- "أيضا" عن زياد بن مليح أن عليا أتي بشيء من خبيص فوضعه بين أيديهم فجعلوا يأكلون فقال علي: إن الإسلام ليس ببكر ضال ولكن قريش رأت هذا فتناحرت عليه. "عم" في الزهد، "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا زہد
٣٦٥٥٢۔۔۔ زید بن وھب کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی (رض) ہمارے پاس تشریف لائے آپ ایک چادر اس میں آپ نے پیوند لگا رکھا تھا آپ صلی (رض) سے اس کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ (رض) نے فرمایا میں نے یہ دو ۔۔۔ تاکہ میں فخر وتکبر سے دور ہوں اور میری نماز کے لیے بہتر ہو اور مومنین ایک سنت ہو۔ (رواہ ابن المبارک)
36552- عن زيد بن وهب قال: خرج علينا علي وعليه رداء وإزار قد رقعه بخرقة فقيل له، فقال: إنما ألبس هذين الثوبين ليكون أبعد لي من الزهو1 وخيرا لي في صلاتي وسنة للمؤمنين."ابن المبارك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے مراسلات
٣٦٥٥٣۔۔۔ مہاجرین عامری کی روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے اپنے ایک گورنر کو وصیت نامہ لکھا جس کا مضمون یہ ہے : امابعد ! رعیت سے زیادہ عرصہ روپوش مت رہو چونکہ حکمرانوں کا رعیت سے روپوش رہنا تنگی اور امور سے ناواقفیت کا ایک حصہ ہے۔ روپوشی لوگوں کے احوال سے واقفیت کو ختم کردیتی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے ہاں بڑا آدمی کمتر ہوجاتا ہے اور کمتر بڑا ہوجاتا ہے اچھائی برائی بن جاتی ہے اور برائی اچھائی بن جاتی ہے والی انسان ہے جب تک لوگوں کے معاملات اس سے مخفی رہیں وہ معروف نہیں ہوسکتا بات کی ایسی علامات نہیں ہوتیں جن کے ذریعے سچ جھوٹ سے ممتاز ہو سکے لہٰذا لوگوں سے حجاب کرلینا ایک ایسی چیز ہے جو لوگوں کو جائز حقوق ملنے میں آڑے آجاتا ہے۔ تم دو قسم کے آدمیوں میں سے ایک ہو یا تو ایسا شخص ہے کہ حق میں خرچ کرنے پر تیرا نفس سخاوت کرتا ہوں لہٰذا تمہارا حجاب کرنا کسی قسم کے حق سے ہوگا جو تم عطا کرتے ہو یا پھر کسی اچھی عادت کو تم روکنا چاہتے ہو۔ یا تو ایسا شخص ہے جو منع میں مبتلا کردیا گیا ہو لوگوں کا رک جانا تیرے سوال سے کشا جلد ہے جب وہ اس سے مایوس ہوں جب کہ لوگوں کے اکثر ضروری امور تجھ تک منتہی ہوتے ہیں شکایت میں تجھ پر کوئی تاوان نہیں ہے کسی ظلم میں یا طلب انصاف میں، میں نے تم سے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے نفع اٹھاؤ اور صرف اپنے حصہ پر اکتفاء کرو اور شدو ہدایت کا دامن ہاتھ سے مت چھوڑو۔ انشاء اللہ ۔ (رواہ الدینوری وابن عساکر)
36553- عن مهاجر بن عامري قال: كتب علي بن أبي طالب عهدا لبعض أصحابه على بلد فيه: أما بعد فلا تطولن حجابك على رعيتك فإن احتجاب الولاة عن الرعية شعبة من الضيق وقلة علم من الأمور، والاحتجاب يقطع عنهم علم ما احتجبوا دونه فيصغر عندهم الكبير ويعظم الصغير ويقبح الحسن ويحسن القبيح ويشاب الحق بالباطل، إنما الوالي بشر لا يعرف ما توارى عنه الناس به من الأمور، وليست على القول سمات يعرف بها صروف الصدق من الكذب، فيحصن من الإدخال في الحقوق بلين الحجاب، فإنما أنت أحد رجلين: إما امرؤ سخت نفسك بالبذل في الحق ففيم احتجابك من حق تعطيه أو خلق كريم تسد به، وإما مبتلى بالمنع، فما أسرع كف الناس عن مسألتك إذا يئسوا عن ذلك مع أن أكثر حاجات الناس إليك لا مؤنة فيه عليك من شكاة مظلمة أو طلب إنصاف، فانتفع بما وصفت لك واقتصر على حظك ورشدك إن شاء الله."الدينوري، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کے مراسلات
٣٦٥٥٤۔۔۔ مداینی کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے اپنے کسی گورنر کو خط لکھا جس کا مضمون یہ ہے : رک جاؤ گویا تم آخری حد تک پہنچ چکے ہو اور تمہارے اوپر تمہارے اعمال پیش کیے جا چکے ہیں ایک ایسی جگہ جہاں دھوکا کھانے والے کو پکارا جاتا ہے اور حسرت میں ڈوب جاتا ہے جہاں وقت ضائع کرنے والا توبہ کی تمنا کرتا ہے اور ظالم رجوع کا خواہشمند ہوتا ہے۔ (رواہ الدینوری وابن عساکر)
36554- عن المدايني قال: كتب علي بن أبي طالب إلى بعض عماله: رويدا فكأن قد بلغت المدى وعرضت عليك أعمالك بالمحل الذي ينادي المغتر بالحسرة ويتمنى المضيع التوبة والظالم الرجعة."الدينوري، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٥٥۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میرے پاس عبداللہ بن سلام (رض) آئے اور میں اپنے پاؤں رکابوں میں داخل کرچکا تھا انھوں نے مجھ سے کہا : آپ کہا جانا چاہتے ہیں ؟ میں نے کہا عراق وہ بولے : آپ وہاں اس لیے جا رہے ہیں تاکہ آپ وہاں تلوار کے دندانوں سے زخمی ہوں حضرت علی (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نے قبل ازیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہی فرماتے سنا ہے۔ (رواہ الحمیدی والعدنی والبزار و یعقوب بن سفیان وابو یعلی وابن حبان والحاکم وابو نعیم فی المعرفۃ وابن عساکر و سعید بن المنصور)
36555- عن علي قال: أتاني عبد الله بن سلام وقد أدخلت رجلي في الغرز1 فقال لي: أين تريد؟ فقلت: العراق، فقال: أما إنك إن جئتها ليصيبك بها ذباب السيف، قال علي: وايم الله، لقد سمعت النبي صلى الله عليه وسلم قبله يقوله."الحميدي والعدني والبزار ويعقوب ابن سفيان، ع، حب، ك"، أبو نعيم في المعرفة، كر، ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٥٦۔۔۔ فضالہ بن ابی فضالہ انصاری کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ ینبع کی طرف حضرت علی (رض) کی عیادت کرنے گئے آپ (رض) ینبع میں بیمار تھے حتیٰ کہ بیماری کی وجہ سے آپ سخت بوجھل ہوچکے تھے آپ (رض) سے میرے والد نے کہا : آپ یہاں کیوں مقیم ہوچکے ہیں اگر آپ یہاں مرجاتے ہیں آپ کے پاس تو صرف قبیلہ جہینہ کے اعراب ہی آنے پائیں گے لہٰذا آپ سوار ہو کر مدینہ پہنچ جائیں اگر آپ کا وقت پورا ہو بھی چکا ہے تو وہاں آپ کے ساتھ آپ سے مل پائیں گے اور آپ پر نماز بھی پڑھیں گے ابو فضالہ بدری صحابہ (رض) میں سے تھے حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں اس بیماری سے نہیں مروں گا چونکہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میں اس وقت تک نہیں مروں گا جب تک کہ میری داڑھی سر کے خون سے آلود نہ ہوجائے۔ (رواہ عبداللہ بن احمد بن حنبل وابن ابی شیبہ والبزار والحارث وابو نعیم والبیہقی فی الدلائل وابن عساکر ورجالہ ثقات)
36556- عن فضالة بن أبي فضالة الأنصاري قال: خرجت مع أبي إلى ينبع عائدا لعلي بن أبي طالب وكان مريضا بها حتى ثقل، فقال له أبي: ما يقيمك بهذا المنزل؟ ولو مت لم يلك إلا أعراب جهينة، احتمل حتى تأتي المدينة، فإن أصابك أجلك وليك أصحابك وصلوا عليك - وكان أبو فضالة من أصحاب بدر - فقال علي: إني لست ميتا من وجعي هذا، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم عهد إلي أن لا أموت حتى أؤمر ثم تختضب هذه - يعني لحيته - من دم هذه - يعني هامته.

"عم، ش" والبزار والحارث وأبو نعيم، "ق" في الدلائل، "كر" ورجاله ثقات.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٥٧۔۔۔ ابو طفیل کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے پاس تھا آپ کے پاس عبد الرحمن بن ملجم آیا آپ نے اس کے لیے عطاء کا حکم دیا اور پھر فرمایا : اس داڑھی کا بدبخت نہیں رک پائے گا اور اسے اوپر سے خون آلود کرے گا اور آپ نے داڑھی کی طرف اشارہ کیا : اور پھر یہ اشعار پڑھے۔

اشد صیا ریمک للموت فان الموت آتیک

ولا تجزع من القتل اذا حل بوادیک

موت کے سامنے صبر کرلو اگر تجھے موت آجائے اور قتل سے گھبرانا نہیں جب تمہیں قتل سے پالا پڑے۔ رواہ ابن سعد وابو نعیم
36557- عن أبي الطفيل قال: كنت عند علي بن أبي طالب فأتاه عبد الرحمن بن ملجم فأمر له بعطائه ثم قال: ما يحبس أشقاها يخضبها من أعلاها، يخضب هذه من هذه - وأومأ إلى لحيته ثم قال علي:اشدد حيازيمك للموت ... فإن الموت آتيك

ولا تجزع من القتل ... إذا حل بواديك

"ابن سعد وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٥٨۔۔۔ ” مسند علی (رض) “ عبداللہ بن سبع کہتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ہمیں خطاب کیا اور فرمایا : قسم اس ذات کی جو دانے کو پھاڑتی ہے اور جان کو پیدا کرتی ہے میرے بدن کا یہ حصہ اس حصہ سے خون آلود ہوگا لوگوں نے کہا : آپ ہمیں بتادیں وہ کون ہوگا جو آپ کو قتل کرے گا تاکہ ہم اس کا صفایا کرلیں فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کہ میرے قاتل کے علاوہ کوئی اور قتل نہ دیا جائے لوگوں نے کہا : اگر یہی بات ہے تو آپ اسی وقت اپنا خلیفہ مقرر کردیں فرمایا : نہیں لیکن میں تمہیں اسی طرح حوالے کرتا ہوں جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حوالے کیا تھا لوگوں نے کہا : جب آپ اپنے رب کے پاس پہنچ جائیں گے اس سے کیا کہیں گے ، جواب دیا : میں کہوں گا ” میں ان پر گواہ رہا ہوں جب تک ان میں رہا حتیٰ کہ تو نے مجھے وفات دی اور وہ تیرے بندے ہیں اگر تو چاہے تو ان کی درستی فرما چاہے تو ان کو بگاڑ دے۔ (رواہ ابن سعد وابن ابی شیبہ واحمد بن حنبل والحسن بن سفیان وابویعلی والدورقی لہ فی الدلائل والالکائی فی السنۃ والاصبھانی فی الحجۃ والضیاء)
36558- "مسند علي" عن عبد الله بن سبع قال: خطبنا علي فقال: والذي فلق الحبة وبرأ النسمة لتخضبن هذه من هذه! قال الناس: فأعلمنا من هو لنبيرنه1، قال: أنشدكم بالله أن يقتل بي غير قاتلي، قالوا: إن كنت علمت ذلك فاستخلف الآن، قال: لا ولكن أكلكم إلى ما وكلكم إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم، قالوا: فما تقول لربك إذا قدمت عليه، قال: أقول: "وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم" حتى توفيتني وهم عبادك، إن شئت أصلحتهم وإن شئت أفسدتهم."ابن سعد، ش، حم والحسن بن سفيان، "ع" والدورقي له الدلائل واللالكائي في السنة والأصبهاني في الحجة، "ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٥٩۔۔۔ ” ایضاً “ ابو تجی کی روایت ہے کہ جب ابن ملجم نے حضرت علی (رض) پر حملہ کیا تو آپ (رض) نے فرمایا : اس کے ساتھ وہی کچھ کرو جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کے ساتھ کیا تھا جس نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے قتل کرو اور پھر اسے آگ میں جلاؤ۔ (رواہ احمد بن حنبل وابن جریر وصححہ والحاکم وابن عساکر)
36559- "أيضا" عن أبي يحيى قال: لما ضرب ابن ملجم عليا الضربة قال: افعلوا به كما أراد رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يفعل برجل أراد قتله، فقال: اقتلوه ثم حرقوه. "حم" وابن جرير وصححه، "ك، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٦٠۔۔۔ ” ایضاً “ عبیدہ کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : بدبخت نہیں رکے گا آئے گا اور مجھے قتل کرے گا یا اللہ ! لوگوں کو میں نے اکتایا ہے اور انھوں نے مجھے اکتا سے اٹھیں مجھ سے راحت پہنچا اور مجھے ان سے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ
36560- "أيضا" عن عبيدة قال: قال علي: ما يحبس أشقاها أن يجيء فيقتلني، اللهم! إني قد سئمتهم وسئموني فأرحهم مني وأرحني منهم. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٦١۔۔۔ ابو سنان وؤلی کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) بیمار ہوگئے اور وہ ان کی عیادت کے لیے آئے ابوسنان کہتے ہیں میں نے حضرت علی (رض) سے عرض کیا : اے امیر المومنین ! آپ کو اس بیماری میں دیکھ کر ہمیں خوف ہو رہا ہے آپ (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم مجھے خوف نہیں ہے چونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کہ صادق و مصدوق ہیں کہ فرماتے سنا ہے کہ تجھے ایک زخم یہاں لگے لگا اور ایک زخم یہاں لگے گا اور آپ نے کنپٹی کی طرف اشارہ کیا پھر تمہاری داڑھی خون آلود ہوجائے گی زخم لگانے والا سب سے زیادہ بدبخت ہوگا جیسا کہ اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا قوم ثمود میں سب سے زیادہ بدبخت ہوا ہے۔ (رواہ الحاکم والبیہقی واخرجہ الحاکم فی المستدرک، ١١٣)
36561- عن أبي سنان الدؤلي أنه عاد عليا في شكوى له اشتكاها قال: قلت له: قد تخوفنا عليك يا أمير المؤمنين في شكواك هذا، فقال: لكني والله ما تخوفت على نفسي منه! لأني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم الصادق المصدوق يقول: إنك ستضرب ضربة ههنا وضربة ههنا وأشار إلى صدغيه فيسيل دمها حتى تخضب لحيتك ويكون صاحبها أشقاها كما كان عاقر الناقة أشقى ثمود.

"ك، ق"
tahqiq

তাহকীক: