কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬৫৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٦٢۔۔۔ ” ایضاً “ صعصعہ بن صوحان کی روایت ہے کہ جب حضرت علی (رض) کو ابن ملجم نے زخمی کیا ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : اے امیر المومنین ! آپ ہمارے اوپر کسی کو خلیفہ مقرر کر جائیں آپ نے کہا : میں تمہیں اسی طرح چھوڑتا ہوں جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں چھوڑا تھا اور ارشاد فرمایا تھا : اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے اندر بھلائی دیکھی تمہارے اوپر کسی بہترین شخص کو والی مقرر کرے گا حضرت علی رضی الہ عنہ نے کہا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اندر بھلائی دیکھی تو ہمارے اوپر ابوبکر (رض) کو والی مقرر کیا۔ (رواہ الحاکم وابن السنی فی کتاب الاخرۃ)
36562- "أيضا" عن صعصعة بن صوحان قال: دخلنا على علي حين ضربه ابن ملجم فقلنا: يا أمير المؤمنين! استخلف علينا، قال: أترككم كما ترككم رسول الله صلى الله عليه وسلم، قلنا: يا رسول الله! استخلف علينا، قال: إن يعلم الله فيكم خيرا يول عليكم خياركم، قال علي: فعلم الله فينا خيرا فولي علينا أبا بكر. "ك وابن السني في كتاب الأخوة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٦٣۔۔۔ ” ایضاً “ صہیب حضرت علی (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : پہلے لوگوں میں سب سے بڑا بدبخت کون تھا ؟ میں نے عرض کیا : اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا آپ نے فرمایا : تم نے سچ کہا : بعد میں آنے والوں میں سب سے بڑا بدبخت کون ہوگا ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ مجھے اس کا علم نہیں ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ شخص ہے جو تمہیں یہاں ضرب لگائے گا اور آپ نے کنپٹی کی طرف اشارہ کیا فرمایا کرتے تھے : میں چاہتا ہوں کہ تمہارا بدبخت یوں اٹھے کہ اس کی داڑھی بھی سر کے خون سے آلود ہو رہی ہو۔ (رواہ ابو یعلی وابن عساکر)
36563- "أيضا" عن صهيب عن علي قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أشقى الأولين؟ قلت: عاقر الناقة، قال: صدقت، فمن أشقى الآخرين؟ قلت: لا علم لي يا رسول الله! قال: الذي يضربك على هذه - وأشار بيده إلى يافوخه وكان يقول: وددت أنه قد انبعث أشقاكم يخضب هذه من هذه - يعني لحيته من دم رأسه. "ع، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٦٤۔۔۔ زہری کی روایت ہے کہ ابن ملجم نے حضرت علی (رض) کو زخمی کیا جب آپ (رض) نے نماز سے سر اوپر اٹھایا اور فرمایا : اپنی نماز پوری کرلو اور آپ (رض) نے کسی کو آگے نہیں بڑھایا۔ (رواہ عبد الرزاق فی امالیہ)
36564- عن الزهري أن ابن ملجم طعن عليا حين رفع رأسه من الركعة فانصرف وقال: أتموا صلاتكم - ولم يقدم أحدا. "عب في أماليه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٦٥۔۔۔ جعفر کی روایت ہے کہ جب رمضان کا مہینہ داخل ہوا حضرت علی (رض) ایک رات حضرت حسن (رض) کے پاس افطار کرتے ایک رات حضرت حسین (رض) کے پاس افطار کرتے اور ایک رات عبداللہ بن جعفر کے ہاں جب کہ افطاری کے وقت دو یا تین لقموں سے زیادہ نہ کھاتے آپ سے اس کی وجہ دریافت کی گئی آپ نے فرمایا : یہ تھوڑی سی راتیں میں اللہ تعالیٰ کا حکم آنا چاہتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میں بھوکے پیٹ رہوں چنانچہ آپ (رض) اسی رات قتل کر دئیے گئے۔ (رواہ العسکری)
36565- عن جعفر: لما دخل رمضان كان علي يفطر عند الحسن ليلة، وعند الحسين ليلة، وليلة عند عبد الله بن جعفر، لا يزيد على اللقمتين أو ثلاث فقيل له فقال: إنما هي ليال قلائل يأتي أمر الله وأنا خميص، فقتل من ليلته."العسكري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٦٦۔۔۔ حضرت حسن (رض) یا حضرت حسین (رض) کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : مجھ سے میرے حبیب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خواب میں ملاقات ہوئی میں نے آپ سے اہل عراق کی طرف سے پیش آنے والے مصائب کی شکایت کی تاہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے عنقریب راحت ملنے کا وعدہ کیا۔ چنانچہ اس کے بعد آپ (رض) تین دن ہی زندہ رہے۔ (رواہ العدنی)
36566- عن الحسن أو الحسين أن عليا قال: لقيني - يعني حبيبي - في المنام نبي الله صلى الله عليه وسلم فشكوت إليه ما لقيت من أهل العراق بعده، فوعدني الراحة منهم إلى قريب، فما لبث إلا ثلاثا."العدني".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٦٧۔۔۔ ابو صالح حضرت علی (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خواب میں دیکھا میں نے آپ سے امت کی طرف سے پیش آنے والے مصائب و شدائد کی شکایت کی اور میں رونے لگا آپ نے فرمایا : اے علی رو نہیں۔ میں نے ایک طرف التفات کیا، کیا دیکھتا ہوں کہ دو شخص اوپر چڑھ رہے ہیں اور پھر یکایک چٹانوں سے ان کے سر کچلے جا رہے ہیں سر کچل دئیے جاتے ہیں اور پھر ٹھیک ہوجاتے ہیں ابو صالح کہتے ہیں میں ہر صبح حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضری دیتا تھا آج صبح ہوتے ہی خدمت حاضر ہونے کے لیے چل پڑا حتیٰ کہ جب میں جزارین پہنچا لوگوں سے ملاقات ہوئی لوگوں نے کہا : امیر المومنین قتل کر دئیے گئے ہیں۔ (رواہ ابو یعلیٰ )
36567- عن أبي صالح عن علي قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم في منامي فشكوت إليه ما لقيت من أمته من الأود واللدد فبكيت فقال لي: لا تبك يا علي! والتفت، فالتفت فإذا رجلان يتصعدان وإذا جلاميد1 يرضخ بها رؤسهما حتى تفضخ2، ثم يعود قال: فغدوت إلى علي كما كنت أغدو عليه كل يوم حتى إذا كنت في الجزارين لقيت الناس فقالوا: قتل أمير المؤمنين. "ع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٦٨۔۔۔ عبیدہ کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) جب بن املجم کو دیکھتے یہ شعر پڑھتے تھے : ارید حباءہ یرید قتلی عذیرک من خلیک من مرادی

میں اسے عطا کرنا چاہتا ہوں اور رہ میرا قتل چاہتا ہے تیری ضیافت تیرے مرادی دوست کی طرف سے ہوگی۔ (رواہ ابن سعد وعبد الرزاق ووکیع فی الغرر)
36568- عن عبيدة قال: كان إذا رأى ابن ملجم قال:أريد حباءه ويريد قتلي. ... عذيرك3 من خليلك من مرادي "عب" وابن سعد ووكيع في الغرر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٦٩۔۔۔ ابو وائل بن سعد کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) کے پاس مشک تھی آپ (رض) نے وصیت کی آپ کو یہی خوشبو لگائی جائے علی (رض) فرماتے تھے : یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خوشبوئے حنوط سے بچی ہوئی ہے۔ (رواہ ابن سعد والبیہقی وابن عساکر)
36569- عن أبي وائل بن سعد قال: كان عند علي مسك فأوصى أن يحنط به، وقال علي: هو فضلة حنوط رسول الله صلى الله عليه وسلم."ابن سعد ق، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٧٠۔۔۔ عبید کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کو خطاب میں فرماتے ہوئے سنا : یا اللہ میں نے انھیں فلاں میں ڈالا اور انھوں نے مجھے فلاں میں ڈالا اور میں نے انھیں اکتایا ہے اور انھوں نے مجھے اکتایا ہے انھیں مجھ سے راحت پہنچا اور مجھے ان سے راحت پہنچا۔ تمہارا سب سے بڑا بدبخت میری داڑھی کو خون آلود کرنے سے نہیں رکے گا۔ (رواہ عبد الرزاق وابن سعد)
36570- عن عبيد قال: سمعت عليا يخطب يقول: اللهم إني قد سئمتهم وسئموني ومللتهم وملوني فأرحني منهم وأرحهم مني، ما يمنع أشقاكم أن يخضبها بدم ووضع يده على لحيته. "عب وابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٧١۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ مجھے صادق و مصدوق (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبردی ہے کہ اس وقت تک نہیں مروں گا جب تک مجھے یہاں ضرب نہ لگائی جائے اور آپ (رض) نے سر کے آگے والے حصہ کی طرف اشارہ کیا اور اس کے خون سے داڑھی نہ آلودہ ہوجائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : تجھے اس امت کا سب سے بڑا بدبخت قتل کرے گا جیسا کہ ثمود کے سب سے بڑے بدبخت نے اللہ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالی تھیں۔ (رواہ عبد بن حمید وابن عساکر)
36571- عن علي قال: أخبرني الصادق المصدوق صلى الله عليه وسلم أني لا أموت حتى أضرب على هذه - وأشار إلى مقدم رأسه الأيسر - فتخضب هذه منها بدم، وأخذ بلحيته وقال لي: يقتلك أشقى هذه الأمة كما عقر ناقة الله أشقى بني فلان من ثمود؛ فنسبه رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى فخذه الدنيا دون ثمود. عبد بن حميد، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٧٢۔۔۔ حبشی بن جنادہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : تمہارا میرے ہاں ایسا ہی مقام ہے جیسا کہ ہارون (علیہ السلام) کا موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاں تھا۔ البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ (رواہ ابو نعیم)
36572- عن حبشي بن جنادة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٧٣۔۔۔ ” مسند سید الحسن “ عاصم بن ضمرہ کی روایت ہے کہ جب حضرت علی (رض) قتل کر دئیے گئے حضرت حسن بن علی (رض) نے خطاب کیا اور کہا : اے اہل عراق آج رات تمہارے درمیان موجود ایک شخص کو قتل کردیا گیا ہے اور آج اس مصیبت سے واسطہ پڑا ہے نہ اولین کو اس کا علم تھا اور نہ ہی آخرین اس کا ادراک کر پائیں گے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں کسی سر یہ پر بھیجتے تھے جبرائیل (علیہ السلام) ان کی دائیں طرف ہوتے اور میکائیل (علیہ السلام) بائیں طرف۔ اس وقت تک واپس نہ لوٹتے جب تک اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ پر فتح نصیب نہ فرماتا۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
36573- "مسند السيد الحسن" عن عاصم بن ضمرة قال: خطب الحسن بن علي حين قتل علي فقال: يا أهل العراق! لقد كان فيكم بين أظهركم رجل قتل الليلة وأصيب اليوم لم يسبقه الأولون بعلم ولا يدركه الآخرون، كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا بعثه في سرية كان جبريل عن يمينه وميكائيل عن يساره فلا يرجع حتى يفتح الله عليه. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٧٤۔۔۔ ” ایضاً “ ہبیرہ بن مریم کی روایت ہے کہ میں نے حضرت حسن (رض) کو خطاب میں فرماتے سنا ہے : اے لوگو ! گزشتہ کل تم سے ایک شخص جدا ہوگیا ہے نہ اولین اس پر سبقت لے سکے ہیں اور نہ ہی آخرین نے اس کا ادراک کیا ہے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں کسی مہم پر بھیجتے تھے اور جھنڈا انھیں عطا کرتے وہ اس وقت واپس لوٹتے جب اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ پر فتح عطاء فرما دیتے جبرائیل امین ان کی دائیں طرف ہوتے اور میکائیل بائیں طرف آپ نے ترکہ میں نہ سونا چھوڑا نہ چاندی بجز سات سو دراہم کے وہ بھی آپ کے عطایا سے باقی بچے تھے آپ نے ان سے ایک خادم خریدنے کا ارادہ کر رکھا تھا۔ (رواہ ابن ابی شیبہ واحمد بن حنبل وابو نعیم وابن عساکر واوردہ ابن جریر من طریق الحسن عن الحسین)
36574- "أيضا" عن هبيرة بن يريم قال: سمعت الحسن قام خطيبا فخطب الناس فقال: يا أيها الناس! لقد فارقكم أمس رجل ما سبقه الأولون ولا يدركه الآخرون، ولقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يبعثه المبعث فيعطيه الراية فما يرجع حتى يفتح الله عليه،جبريل عن يمينه وميكائيل عن شماله، وما ترك بيضاء ولا صفراء إلا سبعمائة درهم فضلت من عطائه، أراد أن يشتري بها خادما. "ش، حم" وأبو نعيم، "كر" وأورده ابن جرير من طريق الحسن عن الحسين.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٧٥۔۔۔ حضرت حسن (رض) کی روایت ہے کہ جب حضرت حسین (رض) قتل کر دئیے گئے تو حضرت حسن (رض) لوگوں سے خطاب کرنے کھڑے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمدوصلوٰۃ کے بعد فرمایا : امابعد ! تم نے آج رات ایسے شخص کو قتل کیا ہے ایسی رات میں جس میں قرآن نازل ہوا ہے اسی رات عیسیٰ (علیہ السلام) آسمانوں پر اٹھائے گئے اسی رات یوشع بن نون موسیٰ (علیہ السلام) کے خادم قتل کئے گئے اور اسی رات میں بنی اسرائیل کی توبہ قبول کی گئی۔ (رواہ ابو یعلی وابن جریر وابن عساکر)
36575- عن الحسن أنه لما قتل علي قام خطيبا فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: أما بعد والله! لقد قتلتم الليلة رجلا في ليلة نزل فيها القرآن، وفيها رفع عيسى ابن مريم، وفيها قتل يوشع بن نون فتى موسى، وفيها تيب على بني إسرائيل. "ع" وابن جرير، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٧٦۔۔۔ محمد بن عبداللہ بن ابی رافع اپنے دادا سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ (علیہ السلام) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : تمہیں میری سنت پر قتل کیا جائے گا۔ (رواہ ابن عدی وابن عساکر)
36576- عن محمد بن عبد الله بن أبي رافع عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لعلي: أنت تقتل على سنتي. "عد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٧٧۔۔۔ صہیب کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے فرمایا : اولین میں سب سے بڑا بدبخت شخص کون تھا ؟ عرض کیا : اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا : آخرین میں سب سے بڑا بدبخت کون ہوگا ؟ عرض کیا : میں نہیں جانتا، ارشاد فرمایا : وہ شخص جو تمہیں اس سر پر مارے گا چنانچہ حضرت علی (رض) فرمایا کرتے تھے اے اہل عراق میں چاہتا ہوں ایک بدبخت ترین شخص اٹھ کھڑا ہو جو سر سے داڑھی کو خون آلود کرے گا۔ (رواہ الرویانی وابن عساکر)
36577- عن صهيب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لعلي بن أبي طالب: من أشقى الأولين؟ قال: عاقر الناقة، قال: فمن أشقى الآخرين؟ قال: لا أدري، قال: الذي يضربك على هذا - وأشار إلى رأسه، قال: فكان علي يقول: يا أهل العراق! ولوددت أن لو قد انبعث أشقاها يخضب هذه من هذه. الروياني، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٧٨۔۔۔ عثمان بن صہیب عبداللہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : اولین میں بڑا شقی کون تھا ؟ عرض کیا : اونٹنی کو قتل کرنے والا۔ فرمایا : تم نے سچ کہا : آخرین میں بڑا شقی کون ہوگا ؟ عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نہیں جانتا فرمایا : جو تمہیں یہاں (یعنی سر پر (ضرب لگائے گا اور آپ نے کنپٹی کی طرف اشارہ کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
36578- عن عثمان بن صهيب عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: من أشقى الأولين؟ قال: عاقر الناقة، قال: صدقت فمن أشقى الآخرين، قال: لا أعلم يا رسول الله! قال: الذي يضربك على هذه وأشار بيده إلى يافوخه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٧٩۔۔۔ ” مسند علی (رض) “ عبید اللہ بن ابی رافع کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کو فرماتے سنا جب کہ لوگ آپ (رض) کی ایڑیوں پر چڑھے ہوئے تھے اور آپ کی ایڑیوں کو خون آلود کردیا تھا آپ نے فرمایا : یا اللہ ! میں نے لوگوں کو ملال میں ڈال دیا ہے اور انھوں نے مجھے ملال میں ڈال دیا ہے یا اللہ مجھے ان کی طرف سے بھلائی عطاء فرما اور میری طرف سے انھیں شر میں مبتلا کر چنانچہ یہی دن ہوا حتیٰ کہ آپ کے سر پر ضرب لگا دی گئی۔ (رواہ ابن عساکر)
36579- "مسند علي رضي الله عنه" عن عبيد الله بن أبي رافع قال: سمعت عليا وقد وطئ الناس على عقبيه حتى أدموهما وهو يقول: اللهم! إني قد مللتهم وملوني فأبدلني بهم خيرا منهم وأبدلهم بي شرا مني؛ فما كان إلا ذلك اليوم حتى ضرب على رأسه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٨٠۔۔۔ ” ایضاً “ سعید بن مسیب کی روایت ہے میں نے حضرت علی (رض) کو منبر پر دیکھا آپ فرما رہے تھے ضرر اس سے اس کو رنگدار کیا جائے گا آپ نے اپنی داڑھی اور ماتھے کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا کس چیز نے بدبخت کو روکے رکھا ہے میں نے کہا : حضرت علی (رض) نے یہ بات کہہ کر علم غیب کا دعویٰ کردیا ہے جب آپ (رض) قتل کر دئیے گئے تب میں سمجھا کہ آپ سے اس وقوعہ کا وعدہ کیا گیا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36580- "أيضا" عن سعيد بن المسيب قال: رأيت عليا على المنبر وهو يقول: لتخضبن هذه من هذه - وأشار بيده إلى لحيته وجبينه، فما حبس أشقاها، فقلت لقد ادعى علي به علم الغيب، فلما قتل علمت أنه قد كان عهد إليه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٨١۔۔۔ ابو صالح حنفی کی روایت ہے کہ میں حضرت علی بن ابی طالب (رض) کو ہاتھ میں قرآن مجید پکڑے ہوئے دیکھا اور اسے اپنے سر پر رکھ کر فرمایا : یا اللہ ! لوگوں نے مجھے اس سے منع کر رکھا ہے جو کچھ اس میں ہے یا اللہ ! یا اللہ ! میں نے انھیں ملال میں ڈال دے اور انھوں نے مجھے ملال میں ڈالا ہے میں نے ان سے بغض کیا ہے اور انھوں نے مجھ سے بغض کیا ہے انھوں نے میری طبیعت کے خلاف کرنے پر مجھے ابھارا حالانکہ میری عادت اور میرے اخلاق ایسے نہیں ہیں مجھے ان کے متعلق بھلائی سے بدل دے اور انھیں مجھ سے شر سے بدل دے یا اللہ ! ان کے دلوں کو مردہ کر دے یعنی اہل کوفہ کے دلوں کو۔ (رواہ ابن عساکر)
36581- عن أبي صالح الحنفي قال: رأيت علي بن أبي طالب أخذ المصحف فوضعه على رأسه ثم قال: اللهم! إنهم منعوني ما فيه فأعطني ما فيه، ثم قال: اللهم! إني قد مللتهم وملوني وأبغضتهم وأبغضوني وحملوني على غير طبيعتي وخلقي وأخلاق لم تكن تعرف لي فأبدلني بهم خيرا منهم وأبدلهم بي شرا مني، اللهم! أمت قلوبهم ميت الملح في الماء - يعني أهل الكوفة. "كر".
tahqiq

তাহকীক: