কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬৫৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٨٢۔۔۔ ” مسند علی (رض) “ کی روایت ہے کہ معاویہ بن جوین حضرمی کہتے ہیں : حضرت علی (رض) ایک مرتبہ گھوڑوں کا معائنہ فرما رہے تھے ، آپ کے پاس سے ابن ملجم گزرا آپ (رض) نے اس سے اس کا نام دریافت کیا۔ یا اس کے نسب کے متعلق پوچھا۔ اس نے اپنے آپ کو غیر باپ کی طرف منسوب کردیا آپ (رض) نے فرمایا : تم نے جھوٹ بولا پھر اس نے باپ کی طرف نسبت ظاہر کی فرمایا : تم نے سچ کہا خبردار مجھے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیث بیان فرمائی ہے کہ میرا قاتل یہودیوں کے مشابہ ہوگا چنانچہ ابن ملجم یہودی تھا یہ سن کر آگے چل پڑا۔ (رواہ ابن عساکر)
36582- "مسند علي" عن معاوية بن جوين الحضرمي قال: عرض علي الخيل فمر عليه ابن ملجم فسأله عن اسمه - أو قال: نسبه - فانتمى إلى غير أبيه، فقال له: كذبت - حتى انتسب إلى أبيه، فقال: صدقت، أما! إن رسول الله صلى الله عليه وسلم حدثني أن قاتلي شبه اليهود وهو يهودي فامضه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٨٣۔۔۔ ” ایضاً “ عثمان بن مغیرہ کی روایت ہے کہ جب رمضان کا مہینہ داخل ہوا حضرت علی (رض) کبھی حضرت حسن (رض) کے ہاں شام کا کھانا کھاتے کبھی حسین (رض) کے ہاں اور کبھی ابن عباس (رض) کے ہاں لیکن آپ تین لقموں سے زیادہ نہ تناول فرماتے۔ اور کہتے : میرے پاس اللہ تعالیٰ کا حکم آنا چاہتا ہے اور میں بھوکا رہنا چاہتا ہوں چنانچہ ایک یا دو راتیں گزرنے پائی تھیں کہ آپ رات کے آخری حصہ میں شہید کر دئیے گئے۔ (رواہ یعقوب بن سفیان وابن عساکر)
36583- "أيضا" عن عثمان بن المغيرة قال: لما دخل رمضان كان علي يتعشى ليلة عند الحسن والحسين وابن عباس لا يزيد على ثلاث لقم يقول: يأتيني أمر الله وأنا خميص وإنما هي ليلة أو ليلتان، فأصيب من آخر الليل."يعقوب بن سفيان، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٨٤۔۔۔ ” ایضاً “ حسن بن کثیر اپنے و الد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نماز فجر کے لیے گھر سے باہر نکلے اتنے میں بہت سارے گرگٹ سامنے آگئے اور چیخنے لگے۔ لوگوں نے گرگٹوں کو دور بھگایا اور آپ (رض) نے فرمایا : انھیں چھوڑ دو یہ نوحہ کر رہے ہیں چنانچہ ابن ملجم نے آپ کو زخمی کردیا۔ (رواہ ابن عساکر)
36584- "أيضا" عن الحسن بن كثير عن أبيه قال: خرج علي إلى الفجر فأقبل الوز يصحن في وجهه فطردوهن عنه فقال: ذروهن فإنهن نوائح، فضربه ابن ملجم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٨٥۔۔۔ ” ایضاً “ اصبغ حنطلی کی روایت ہے کہ جس رات حضرت علی (رض) زخمی کئے گئے طلوع فجر کے وقت ابن بناح آیا اور آپ (رض) کو نماز کی اطلاع کی آپ (رض) لیٹے ہوئے تھے اور بدن بوجھل ہو رہا تھا ابن بناح دوسری بار پھر آیا اور پھر تیسری بار آیا حضرت علی (رض) اٹھ کر چل پڑے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے :

شدحب اس یسمک للموت فان المو لاقیک

ولا تجزع من الموت اذا حل بوادیک

موت کے آگے سینہ سپر رہو یقیناً تمہیں موت کا سامنا کرنا ہوگا جب موت آجائے اس سے مت گھبراؤ۔

چنانچہ جب آپ (رض) باب صغیر تک پہنچے ابن ملجم نے آپ پر حملہ کردیا اور آپ کو زخمی کردیا۔ رواہ ابن عساکر
36585- "أيضا" عن الأصبغ الحنظلي قال: لما كانت الليلة التي أصيب فيها علي أتاه ابن النباح حين طلع الفجر يؤذنه بالصلاة هو مضطجع فتثاقل، فعاد إليه الثانية وهو كذلك ثم عاد الثالثة، فقام علي يمشي وهو يقول:

شد حيازيمك للموت. ... فإن الموت لا قيكا

ولا تجزع من الموت. ... إذا حل بواديكا

فلما بلغ الباب الصغير شد عليه ابن ملجم فضربه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٨٦۔۔۔ ” ایضاً “ ابن حنفیہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حمام میں ہمارے پاس ابن ملجم آیا میں حسن اور حسین (رض) حمام میں بیٹھے ہوئے تھے جب داخل ہوا تو وہ دونوں۔ (حسن (رض) و حسین (رض)) اس سے کھٹک گئے پوچھا کہ تمہیں ہمارے پاس آنے کی جرات کیسے ہوئی۔ میں نے ان دونوں سے کہا : اسے چھوڑ دو کیونکہ میری عمر کی قسم ! وہ جو کچھ تمہارے ساتھ کرنا چاہتا ہے وہ اس سے زیادہ تکلیف دہ ہے جو اس نے کیا جب وہ دن آیا کہ اسے گرفتار کرکے لایا گیا تو ابن حنفیہ نے کہا آج کے دن میں اس کو اس دن سے زیادہ پہچاننے والا نہیں ہوں جس دن ہمارے پاس حمام میں داخل ہوا تھا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : یہ اسیر ہے اس لیے اس کی ضیافت اچھی طرح سے کرو اور اس سے اچھا ٹھکانا دو اگر میں بچ گیا تو اسے قتل کروں گا یا معاف کر دوں گا اگر میں مرگیا تو اسے میرے قصاص میں قتل کر دو حد سے آگے نہ بڑھو چونکہ حد سے آگے بڑھنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ (رواہ ابن سعد)
36586- "أيضا" عن ابن الحنفية قال: دخل علينا ابن ملجم الحمام وأنا وحسن وحسين جلوس في الحمام، فلما دخل كأنهما اشمأزا منه وقالا: ما أجرأك تدخل علينا! قال فقلت لهما: دعاه عنكما فلعمري ما يريد بكما أحشم من هذا، فلما كان يوم أتي به أسيرا قال ابن الحنفية: ما أنا اليوم بأعرف به مني يوم دخل علينا الحمام، فقال علي: إنه أسير فأحسنوا نزله وأكرموا مثواه، فإن بقيت قتلت أو عفوت، وإن مت فاقتلوه قتلتي ولا تعتدوا إن الله لا يحب المعتدين."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٨٨۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا : پہلے لوگوں میں سب سے بڑا بدبخت کون ہوا ہے ؟ میں نے عرض کیا : اونٹنی کو زخمی کرنے والا۔ فرمایا : تم نے سچ کہا : پوچھا : بعد میں آنے والوں میں سب سے بڑا بدبخت کون ہوگا ؟ میں نے عرض کیا : مجھے معلوم نہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ شخص جو تمہیں یہاں ضرب لگائے گا جیسا کہ اونٹنی کو زخمی کرنے والا قوم ثمود کے بنی فلاں کا سب سے بڑا بدبخت تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بدبخت کی نسبت نچلے خاندان کی طرف کی ہے نہ کہ ثمود کی طرف۔ (رواہ ابن مردویہ)
36587- عن علي قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا علي! من أشقى الأولين؟ قلت: عاقر الناقة، قال: صدقت، قال: فمن أشقى الآخرين؟ قلت: لا أدري، قال: الذي يضربك على هذه كما عاقر الناقة أشقى بني فلان من ثمود، ونسبه صلى الله عليه وسلم إلى فخذه الأدنى دون ثمود - أو كما قال.ابن مردويه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٨٩۔۔۔ ” ایضاً “ جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) جب صبح کے وقت گھر سے باہر تشریف لانے آپ کے پاس درہ ہوتا جس سے آپ لوگوں کو بیدار کرتے تھے آپ نے وہی درہ ابن ملجم کے مارا اور فرمایا : اسے کھانا کھلاؤ پانی پلاؤ اور اس کی قید و بند کو اچھا کرو اگر میں زندہ رہا تو اس کے خون کا میں خود مالک ہوں گا اگرچہ ہوں گا اسے معاف کردوں گا اگر چاہوں گا تو اس پر اقدم کرلوں گا اور اگر میں مرگیا اسے قتل کردینا اور اس کی لاش کا مثلہ نہ کرنا۔ (رواہ

الشافعی والبیہقی)
36588- "أيضا" عن جعفر بن محمد عن أبيه أن عليا كان يخرج إلى الصبح ومعه درة يوقظ بها الناس، فضربه ابن ملجم، فقال علي: أطعموه واسقوه وأحسنوا إساره، فإن عشت فأنا ولي دمي، أعفو إن شئت، وإن شئت استقدمت وإن مت فقتلتموه فلا تمثلوا.الشافعي، "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৫৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٤٨٩۔۔۔ ” ایضاً “ زہیر بن اقمر کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے ہمیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا : خبردار ! کچھ لوگ معاویہ کی طرف سے نمودار ہونے والے ہیں میں یہی سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ مجتمع ہو کر تمہارے اوپر غالب آجائیں گے اور وہ اپنا باطل تمہارے اوپر مسلط کردیں گے اور تمہیں حق سے علیحدہ کردیں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے امیر کی اطاعت کرتے ہیں اور تم اپنے امیر کی نافرمانی کرتے ہو وہ لوگ امانتدار ہیں اور تم خائن ہو، چنانچہ میں نے فلاں شخص کو عامل مقرر کیا اس نے دھوکا دیا اور سارا مال معاویہ کے پاس لے گیا۔ میں نے فلاں شخص کو عامل مقرر کیا اس نے بھی خیانت کی دھوکا دیا اور مال معاویہ کے پاس لے گیا حتیٰ کہ اگر میں کسی کے پاس لکڑ کا ایک پیالہ بھی امانت رکھوں وہ اس میں بھی ضافت کرے گا اور مجھے اس پر بھروسہ نہیں یا اللہ ! میں نے ان لوگوں سے بغض کیا انھوں نے مجھ سے بغض کیا انھیں مجھ سے راحت پہنچا اور مجھے ان سے راحت پہنچا۔ (رواہ ابن عساکر)
36589- "أيضا" عن زهير بن الأقمر قال: خطبنا علي بن أبي طالب فقال: ألا! إن بشرا قد طلع من قبل معاوية ولا أرى هؤلاء القوم إلا سيظهرون عليكم باجتماعهم على باطلهم وتفرقكم عن حقكم وبطاعتهم أميرهم ومعصيتكم أميركم وبأدائهم الأمانة وبخيانتكم، استعملت فلانا فغل وغدر وحمل المال إلى معاوية، واستعملت فلانا فخان وغدر وحمل المال إلى معاوية، حتى أني لو ائتمنت أحدهم على قدح خشب غل علاقته ما آمنه، اللهم! إني أبغضتهم وأبغضوني فأرحهم مني وأرحني منهم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کا قتل
٣٦٥٩٠۔۔۔ اصبغ بن نباتہ کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : میرے خلیل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بتایا ہے کہ میں سترہ رمضان میں زخمی کیا جاؤں گا اسی رات موسیٰ (علیہ السلام) نے وفات پائی اور میں بائیس (٢٢) رمضان میں وفات پاؤں گا اسی رات عیسیٰ (علیہ السلام) آسمانوں پر اٹھائے گئے۔ (رواہ العقیلی وابن الجوزی فی الواھیات)

کلام :۔۔۔ حدیث موضوع ہے دیکھئے التنزیۃ ١/٣٦٤ والفوائد المجموعۃ ١١٢١۔
36590- عن الأصبغ بن نباتة قال قال علي: إن خليلي صلى الله عليه وسلم حدثني أن أضرب لسبع عشرة تمضي من رمضان وهي الليلة التي مات فيها موسى وأموت لاثنتين وعشرين تمضي من رمضان وهي الليلة التي رفع فيها عيسى. "عق" وابن الجوزي في الواهيات.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض)
٣٦٥٩١۔۔۔ ” مسند عمر (رض) “ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر (رض) سے طلحہ (رض) کا ذکر کیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جب اس کا ہاتھ زخمی ہوا ہے اس وقت سے اس میں تعظیم آگئی ہے۔ (رواہ الطبرانی)
36591- "مسند عمر رضي الله عنه" عن ابن عباس قال: ذكرت طلحة لعمر فقال: ذاك رجل فيه بأو1 منذ أصيبت يده مع رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض)
٣٦٥٩٢۔۔۔ طلحہ بن عبید اللہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ام ابان بنت عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس کو پیغام نکاح بھیجا ام ابان نے انکار کردیا اس سے انکار کی وجہ دریافت کی گئی کہنے لگی : اگر گھر میں داخل ہو خوف سے داخل ہوتا ہے باہر نکلے تب بھی خوف برپا کرتا ہے اس پر ایسی کیفیت طاری ہے کہ دنیا کے معاملات سے اسے غافل کردیا ہے یوں لگتا ہے گویا وہ اپنی آنکھ سے اپنے رب تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے پھر حضرت زبیر بن عوام (رض) نے ام ابان کو پیغام نکاح بھیجا اس نے انکار کردیا انکار کی وجہ دریافت کی گئی تو کہنے لگی : اس کی بیوی کی صرف اون کی لٹوں سے شہد میسر ہوسکتا ہے پھر حضرت علی (رض) نے اسے پیغام نکاح بھیجا لیکن ام ابان نے انکار کردیا اس سے انکار کی وجہ سے دریافت کی گئی کہنے لگی اس کی بیوی اس سے صرف اپنی خواہش ہی پوری کرسکتی ہے اور کہتا ہے کہ میں تھا اور میں تھا اور وہ تھا پھر اسے طلحہ (رض) نے پیغام بھیجا کہنے لگی : جی ہاں یہی میرا خاوند بن سکتا ہے وجہ دریافت کی گئی کہ یہ کیسے ؟ کہنے لگی : میں اس کی عمدہ عادات سے بخوبی واقف ہوں اگر گھر میں داخل ہوتا ہے تو ہنستا ہوا داخل ہوتا ہے اور باہر جاتا ہے تو مسکراتے ہوئے نکلتا ہے اگر میں اس سے کچھ مانگوں گی وہ مجھے عطا کرے گا اگر میں خاموش رہوں تو وہ خود ابتدا کر دے گا اگر میں کام کروں گی تو وہ شکر ادا کرے گا اور اگر مجھ سے غلطی سرزد ہوئی تو معاف کر دے گا چنانچہ جب حضرت طلحہ (رض) ام ابان کو۔ (بعد از نکاح) اپنے گھر لائے حضرت علی (رض) نے طلحہ (رض) سے کہا : اے ابو محمد ! اگر مجھے اجازت دو میں ام ابان سے بات کرلوں ؟ کہا : جی ہاں اجازت ہے حضرت علی (رض) نے حجلہ عروسی کا پردہ اٹھایا اور پھر کہا : السلام علیکم ! اے اپنے آپ کو بالاتر سمجھنے والی ! ام ابان نے کہا : وعلیکم السلام حضرت علی (رض) بولے : تجھے امیر المومنین سید المسلمین نے پیغام نکاح بھیجا تم نے انکار کردیا ام ابان بولی : جی ہاں یہی بات ہے حضرت علی (رض) نے کہا : تجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پھوپھی زاد بھائی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حواری ہیں نے پیغام نکاح بھیجا تم نے انکار کردیا بولی : جی ہاں یہی بات ہے پھر کہا : میں نے تجھے پیغام نکاح بھیجا حالانکہ میری رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ قرابتداری بھی ہے لیکن تم نے انکار کردیا بولی جی ہاں بات ایسی ہی ہے حضرت علی (رض) نے فرمایا : بخدا ! تم نے ایسے شخص سے شادی کی ہے جو ہم سب سے زیادہ خوبصورت ہے زیادہ سخی ہے وہ یوں اور یوں عطاء کرتا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36592- عن طلحة بن عبيد الله قال: خطب عمر بن الخطاب أم أبان بنت عتبة بن ربيعة بن عبد شمس فأبته، فقيل لها: ولم؟ قالت: إن دخل دخل ببأس وإن خرج خرج بباس، قد داخله أمر أذهله عن أمر دنياه كأنه ينظر إلى ربه بعينه؛ ثم خطبها الزبير بن العوام فأبته، فقيل لها: ولم؟ قالت: ليس لزوجته منه إلا شارة في قراملها؛ ثم خطبها علي فأبت، فقيل لها: ولم؟ قالت: ليس لزوجته منه إلا قضاء حاجته ويقول: كنت وكنت وكان وكان؛ ثم خطبها طلحة فقالت: زوجي حقا، فقيل: وكيف ذلك؟ قالت: إني عارفة بخلائقه، إن دخل دخل ضحاكا وإن خرج خرج بساما، إن سألت أعطى، وإن سكت ابتدأ، وإن عملت شكر، وإن أذنبت غفر؛ فلما أن ابتنى بها قال علي:يا أبا محمد! إن أذنت لي أن أكلم أم أبان! قال كلمها، فأخذ سجف1 الحجلة ثم قال: السلام عليك يا عزيزة نفسها! فقالت: وعليك السلام، قال: خطبك أمير المؤمنين وسيد المسلمين فأبيته، قالت: كان ذلك، قال: وخطبك الزبير ابن عمة رسول الله صلى الله عليه وسلم وأحد حواريه فأبيته، قالت: وقد كان ذلك، قال: وخطبتك أنا وقرابتي من رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت: قد كان ذلك، قال أما والله! لقد تزوجت أحسننا وجها وأسمحنا كفا يعطي هكذا وهكذا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض)
٣٦٥٩٣۔۔۔ نزال بن سیرہ کی روایت ہے کہ لوگوں نے حضرت علی (رض) سے کہا : آپ ہمیں طلحہ (رض) کے بارے میں کچھ بتائیں حضرت علی (رض) نے فرمایا : اس شخص کے متعلق کتاب اللہ میں یہ آیت کریم نازل ہوئی ہے ” فمنھم من قضی تحبہ ومنھم من ینتظر ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو اپنی حاجت پوری کرچکے اور کچھ انتظار میں ہیں۔ چنانچہ طلحہ (رض) ان لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے اپنی حاجت پوری کرلی ہے اور مستقبل میں اس پر کوئی حساب نہیں ہوگا۔ (رواہ ابن عساکر)
36593- عن النزال بن سبرة قال: قالوا لعلي: حدثنا عن طلحة، قال: ذاك امرؤ نزل فيه آية من كتاب الله "فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر" طلحة ممن قضى نحبه لا حساب عليه فيما يستقبل. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض)
٣٦٥٩٤۔۔۔ ” مسند جابر بن عبداللہ “ غزوہ احد میں جب لوگ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دور ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صرف طلحہ (رض) باتی رہے مشرکین نے ان دونوں کو گھیر لیارسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان مشرکین کا سامنا کون کرے گا ؟ حضرت طلحہ (رض) نے فرمایا : ان کا سامنا میں کروں گا چنانچہ طلحہ (رض) ہر طرف سے مشرکین کو پیچھے دھکیلنے لگے اور اسی دوران حضرت طلحہ (رض) کی انگلیاں کٹ گئیں اس پر کہا : حسن (یہ ایک کلمہ ہے جو تکلیف پہنچنے پر غفلت میں انسان کے منہ سے نکل جاتا ہے) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے طلحہ ! اگر تم ” بسم اللہ “ کہہ دیتے یا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرلیتے فرشتے تمہیں اوپر اٹھالیتے لوگ تمہیں دیکھتے رہ جاتے اور تم ہوا کے دوش پر فضا کو چیرتے ہوئے آسمان میں داخل ہوجاتے۔ (رواہ ابو نعیم)
36594- "مسند جابر بن عبد الله" لما انهزم الناس عن رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أحد حتى لم يبق معه إلا طلحة فغشوهما، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من لهؤلاء؟ فقال طلحة: أنا، فقاتل فأصيب بعض أنامله فقال: حس، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا طلحة لو قلت "بسم الله" أو ذكرت الله لرفعتك الملائكة والناس ينظرون حتى تلج بك في جو السماء. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض)
٣٦٥٩٥۔۔۔ ” مسند سلمہ بن اکوع “ حضرت طلحہ بن عبید (رض) نے پہاڑ کے دامن میں ایک کنواں خریدا اور لوگوں کو کھانا کھلایا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے طلحہ ! یقیناً تم بڑے فیاض ہو۔ (رواہ الحسن بن سفیان وابو نعیم فی المعرفۃ وابن عساکر) ۔ کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرہ الحفاظ ١٥۔
36595- "مسند سلمة بن الأكوع" ابتاع طلحة بن عبيد الله بئرا بناحية الجبل وأطعم الناس، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنك يا طلحة الفياض. "الحسن بن سفيان وأبو نعيم في المعرفة، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض)
٣٦٥٩٦۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منیٰ میں حضرت طلحہ (رض) کی طرف دیکھا اور فرمایا : یہ شہید ہے جو سطح زمین پر چل رہا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36596- عن أبي هريرة قال: نظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى طلحة بمنى فقال: هذا شهيد يمشي على وجه الأرض. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض)
٣٦٥٩٧۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : طلحہ جنت میں داخل ہوگا حضرت عمر (رض) طلحہ (رض) کی طرف متوجہ ہوئے اور انھیں مبارک بار دینے لگے۔ (رواہ ابن عدی وابن عساکر) ۔ کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ : ٣٤٦٧۔
36597- عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: طلحة في الجنة، فأقبل عمر على طلحة يهنيه. "عد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض)
٣٦٥٩٨۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : بخدا ! ایک دن میں اپنے گھر میں تھی جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کرام (رض) صحن میں تھے ہمارے درمیان پردہ حائل تھا اتنے میں طلحہ بن عبید اللہ (رض) آنکلے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جیسے یہ بات خوش کرتی ہو کہ وہ سطح زمین پر چلتے ہوئے ایسے شخص کو دیکھے جو اپنی جاحت پوری کرچکا ہے اسے چاہیے کہ وہ طلحہ کو دیکھ لے۔ (رواہ ابو یعلی وابن عساکر)
36598- عن عائشة قالت: والله! إني لفي بيتي ذات يوم ورسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه في الفناء والستر بيني وبينهم إذ أقبل طلحة بن عبيد الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من سره أن ينظر إلى رجل يمشي على ظهر الأرض وقد قضى نحبه فلينظر إلى طلحة. "ع، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض)
٣٦٥٩٩۔۔۔ مجاہد کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض) کی طرف دیکھا اور فرمایا : یہ ان لوگوں میں سے ہے جو اپنی حاجت پوری کرچکے ہیں۔ (رواہ ابو افدی وابن عساکر)
36599- عن مجاهد قال: نظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى طلحة بن عبيد الله فقال: هذا ممن قضى نحبه."الواقدي، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض)
٣٦٦٠٠۔۔۔ زہری کی روایت ہے غزوہ احد کے موقع پر جب مسلمانوں کو شکست ہوئی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دور ہوگئے حتیٰ کہ آپ کے پاس مہاجرین و انصار میں سے صرف بارہ آدمی باقی رہے ان میں سے ایک طلحہ (رض) بھی تھے ایک مشرک تلوار لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ اقدس پر ضرب لگانے کے لیے آگے بڑھا حضرت طلحہ (رض) نے تلوار کا وار اپنے ہاتھ پر روکا اور جب تلوار ہاتھ پر لگی کہا : ” حسن “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے طلحہ ! رک جا تم نے بسم اللہ “ کیوں نہیں کہا اگر تم بسم اللہ کہہ دیتے یا اللہ کا ذکر کردیتے فرشتے تمہیں اوپر اٹھالیتے اور لوگ تمہیں دیکھتے رہ جاتے۔ (رواہ ابن عساکر)
36600- عن الزهري قال: لما كان يوم أحد وانهزم المسلمون عن رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بقي في اثني عشر من المهاجرين والأنصار منهم طلحة بن عبيد الله، فذهب رجل من المشركين يضرب وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم بالسيف، فوقاه طلحة بيده، فلما أصاب طلحة السيف قال: حس، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: مه يا طلحة! ألا قلت "بسم الله" لو قلت "بسم الله" وذكرت الله لرفعتك الملائكة والناس ينظرون. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض)
٣٦٦٠١۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ احد کے دن حضرت طلحہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے ڈھال بنے کھڑے تھے اتنے میں ایک مشرک آگے بڑھاتا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حملہ کردے اس کے وار کو طلحہ (رض) نے اپنے ہاتھ پر روکا جب تلوار ہاتھ پر لگی تو حضرت طلحہ (رض) کے منہ سے نکل گیا ” حس “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم بسم اللہ کہہ دیتے تو فرشتے اوپر اٹھالیتے۔ (رواہ ابن عساکر)
36601- عن أنس قال: بينا طلحة يوم أحد واقف على النبي صلى الله عليه وسلم يستره من المشركين، فأقبل رجل من المشركين يريد أن يضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فوقاه طلحة بيده، فضرب المشرك يد طلحة فقال: حس، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لو قلت "بسم الله" لحملتك الملائكة. "كر".
tahqiq

তাহকীক: