কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬৬১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض)
٣٦٦٠٢۔۔۔ ابو سعید کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض) کا گزر ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ شہید ہے جو سطح زمین پر چل رہا ہے۔ رواہ ابن عساکر
36602- عن أبي سعيد قال: كنا جلوسا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فمر طلحة بن عبيد الله، فقال: هذا شهيد يمشي على وجه الأرض. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض)
٣٦٦٠٣۔۔۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) کی روایت ہے کہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے فرمایا : اے طلحہ ! تم ان لوگوں میں سے ہو جنہوں نے اپنی حاجت پوری کرلی ہے۔ (رواہ ابن مندہ وابن عساکر)
36603- عن أسماء بنت أبي بكر قالت: دخل طلحة بن عبيد الله على النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا طلحة أنت ممن قضى نحبه.ابن منده، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض)
٣٦٦٠٤۔۔۔ حضرت طلحہ (رض) کی روایت ہے کہ میرے اور عبد الرحمن بن عوف (رض) کے درمیان کچھ مال تھا کجو ہم نے اپنے اپنے حصہ کا آپس میں تقسیم کرلیا عبد الرحمن (رض) نے میری زمین سے پانی پینا چاہا میں نے انھیں منع کردیا چنانچہ عبد الرحمن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میری شکایت کردی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم ایسے شخص کی شکایت کرتے ہو جس نے اللہ کی راہ میں گھوڑے دوڑائے ہیں ؟ عبد الرحمن میرے پاس آئے اور مجھے بشارت دی میں نے کہا : اے میرے بھائی اس مال کی وجہ سے تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میری شکایت کی کہا : ہاں ایسی بات ہوئی ہے پھر کہا میں اللہ اور اللہ کی رسول کو گواہ بناتا ہوں کہ یہ مال تمہارا ہے۔ (رواہ ابو نعیم وابن عساکر وفیہ سلیمان الطلحی)
36604- عن طلحة قال: كان بيني وبين عبد الرحمن بن عوف مال فقاسمته إياه فأراد شربا في أرضي فمنعته فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فشكاني إليه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أتشكو رجلا قد أوجف؟ فأتاني فبشرني فقلت: يا أخي! بلغ من هذا المال ما تشكوني إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: قد كان ذلك، قال فإني أشهد الله وأشهد رسول الله أنه لك."أبو نعيم، كر وفيه سليمان الطلحي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض)
٣٦٦٠٥۔۔۔ حضرت طلحہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مجھے دیکھتے فرماتے تھے یہ دنیا و آخرت میں میرا خزانہ ہے۔ (رواہ ابو نعیم وابن عساکر وفیہ سلیمان الطلحی)

کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ : ٣٩٥١۔
36605- عن طلحة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا رآني قال: سلفي في الدنيا وسلفي في الآخرة.أبو نعيم، "كر" وفيه سليمان الطلحي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض)
٣٦٦٠٦۔۔۔ حضرت طلحہ (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے کاندھوں پر اٹھا کرلے آیا اور ایک چٹان پر آپ کو رکھ دیا آپ مشرکین کی طرف سے چٹان کی اوٹ میں ہوگئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ سے پیٹھ پیچھے اشارہ کیا کہ یہ جبرائیل (علیہ السلام) ہیں اور یہ مجھے بتا رہے ہیں کہ قیامت کے دن تمہیں جس قسم کی ہول ناکی میں دیکھیں گے وہاں سے تمہیں نکال دیں گے۔ (رواہ ابن عساکر)
36606- عن طلحة قال: لما كان يوم أحد حملت النبي صلى الله عليه وسلم على عنقي حتى وضعته على الصخرة فاستتر بها عن المشركين فقال لي - هكذا وأومأ بيده إلى وراء ظهره - هذا جبريل يخبرني أنه لا يراك يوم القيامة في هول إلا أنقذك منه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض)
٣٦٦٠٧۔۔۔ حضرت طلحہ (رض) فرماتے ہیں غزوہ احد کے دن میں یہ رجز یہ اشعار پڑھتا رہا ہوں۔

نحن حماۃ غالب ومالک نذب عن رسولنا المبارک

نضرب عنہ القوم فی المعارک صرب صفاح الکوم فی المبارک

ہم غالب ومالک خدا تعالیٰ کے حمایتی ہیں اور اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو مبارک ہیں ان کا دفاع کر رہے ہیں ہم ان کی طرف سے معرکوں میں لوگوں کے سروں پروار کرتے ہیں۔

چنانچہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد سے واپس لوٹے حضرت حسان (رض) سے فرمایا : طلحہ کی مدح میں اشعار کہو حضرت حسان (رض) نے یہ اشعار پڑھے۔

وطلحۃ یوم الشعب آسی محمدا علی ساعۃ ضاقت علیہ وشقت

گھانی والے دن طلحہ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بھرپور غمخواری کی ایک ایسی گھڑی میں جو سخت تنگی اور مشقت والی تھی۔

یقیہ بکفیہ الرماح واسلمت اشاجعہ تحت السیوف فشت

اپنے ہاتھوں سے تیروں کو روکتا رہا جس کی وجہ سے اس کی انگلیاں تلواروں تلے شل ہوگئیں۔

وکان امام الناس الا محمدا اقام رحی الاسلام حتی استقلت

محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے امام تھے اسلام کی چکی کو قائم و دائم رکھنا حتی کہ اسلام میں استقلال آگیا حضرت ابوبکر صدیق (رض) ونہ نے حضرت طلحہ (رض) کی مدح میں یہ اشعار کہے۔

حمی نبی الھدی والخیل تتبعہ حتی اذا ما لقو حامی عن الدین

اس نے ہدایت دینے والے نبی کی حفاظت کی جب کہ گھوڑے اس کے پیچھے لگے ہوئے تھے حتیٰ کہ جب مقابلہ ہوا تو وہ دین کی

حفاظت کرچکے تھے۔

صبر اعلی الطعن اذولت حماتھم والناس من بین مھدی ومفتون

نیزوں کی زخموں پر صبر کیا جب حفاظت کرنے والے منہ پھیر چکے جب کہ لوگ ہدایت ملنے اور فتنہ میں پڑنے کے بین بین تھے۔

حضرت عمر (رض) طلحہ (رض) کی مدح میں یہ شعر کہا :

حمی نبی الھدی بالسیف منصلتا لما تولی جمیع الناس وانکشفوا

ہدایت پہنچانے والے نبی کی تلوار سے حفاظت کی جب لوگ پیٹھ پھیر کر ادھر ادھر ہوگئے۔

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ! اے عمر : تم نے سچ کہا : (رواہ ابن عساکر وفیہ سلیمان بن ایوب الطلحی)
36607- عن طلحة قال: لما كان يوم أحد ارتجزت بهذا

الشعر:

نحن حماة غالب ومالك. ... نذب عن رسولنا المبارك

نضرب عنه القوم في المعارك. ... ضرب صفاح الكوم في المبارك

وما انصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أحد حتى قال لحسان: قل في طلحة فقال:

وطلحة يوم الشعب آسى محمدا. ... على ساعة ضاقت عليه وشقت

يقيه بكفيه الرماح وأسلمت. ... أشاجعه تحت السيوف فشلت

وكان إمام الناس إلا محمدا. ... أقام رحى الإسلام حتى استقلت

وقال أبو بكر الصديق رضي الله عنه:

حمى نبي الهدى والخيل تتبعه. ... حتى إذا ما لقوا حامي عن الدين

صبرا على الطعن إذ ولت حماتهم. ... والناس من بين مهدي ومفتون

يا طلحة بن عبيد الله قد وجبت. ... لك الجنان وزوجت المها العين

وقال عمر رضي الله عنه:

حمى نبي الهدى بالسيف منصلتا. ... لما تولى جميع الناس وانكشفوا

قال: فقال النبي صلى الله عليه وسلم: صدقت يا عمر.

"كر" وفيه سليمان بن أيوب الطلحي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض)
٣٦٦٠٨۔۔۔ ” مسند زبیر “ حضرت زبیر (رض) کی روایت ہے کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا۔ (یعنی غزوہ احد کے دن) طلحہ نے اپنے لیے جنت واجب کردی ہے جب طلحہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اپنے آپ کو ڈھال بنا لیا تھا۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وابو یعلیٰ )
36608- "مسند الزبير" سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول يومئذ يعني يوم أحد: أوجب طلحة - حين صنع برسول الله صلى الله عليه وسلم ما صنع.

"ش، ع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٠٩۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ مطیع بن اسود کہتے ہیں میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو فرماتے ہوئے سنا : اگر میں کوئی وعدہ کرتا یا کوئی ترکہ چھوڑتا مجھے زیادہ محبوب تھا کہ اس کا ذمہ دار میں زبیر (رض) کو بناتا چونکہ وہ ارکان دین میں سے ایک رکن ہیں۔ (رواہ یعقوب بن سفیان وابو نعیم فی المعرفہ وابن عساکر)
36609- عن عروة أن مطيع بن الأسود قال سمعت عمر بن الخطاب يقول: لو عهدت عهدا أو تركت تركة لكان أحب إلي من أن أجعلها إليه الزبير فإنه ركن من أركان الدين.

يعقوب بن سفيان وأبو نعيم في المعرفة، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦١٠۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) ، ابن مسعود (رض) عبد الرحمن بن عوف (رض) مطیع بن اسود (رض) نے حضرت زبیر (رض) کو وصیت کی زبیر (رض) نے مطیع سے کہا میں تمہاری وصیت قبول نہیں کرتا ۔ اس پر مطیع نے کہا میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اس سے میں نے صرف حضرت عمر (رض) کا قول مراد لیا ہے چنانچہ میں نے حضرت (رض) کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر میں کوئی وعدہ کرتا یا کوئی ترکہ چھوڑتا میں اس کی وصیت صرف زبیر کو کرتا۔ چونکہ زبیر ارکان دین میں سے ایک رکن ہے۔ (رواہ یعقوب بن سفیان وابو نعیم والبیہقی)
36610- عن عروة قال: أوصى عثمان بن عفان إلى الزبير بن العوام وكذلك ابن مسعود وعبد الرحمن بن عوف ومطيع بن الأسود، فقال الزبير لمطيع: لا أقبل لك وصية، قال أنشد اللهّ! ما أبتغي في ذلك إلا قول عمر، سمعت عمر يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو عهدت عهدا أو تركت تركة ما أوصيت إلا إلى الزبير، إن الزبير ركن من أركان الدين. "يعقوب بن سفيان وأبو نعيم، "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦١١۔۔۔ مطیع بن اسود کہتے ہیں میں نے حضرت عمر (رض) کو فرماتے سنا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص زبیر کو وصی مقرر کرے بلاشبہ زبیر اسلام کے ستونوں میں سے ایک ستون ہے۔ (رواہ الدار قطنی فی الافراد وابو نعیم وابن عساکر)
36611- عن مطيع بن الأسود قال؛ سمعت عمر بن الخطاب يقول: من عهد منكم إلى الزبير فإن الزبير عمود من عمد الإسلام. "قط" في الأفراد وأبو نعيم، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦١٢۔۔۔ ” مسند عمر (رض) “ ابو لھیعہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک شخص کو کہتے سنا : میں حواری کا بیٹا ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے اس سے کہا : کیا مردوں کی طرف سے زبیر تمہارا باپ ہے ؟ جواب دیا : نہیں فرمایا : کیا عورتوں کی طرف ہے ؟ جواب دیا : نہیں آپ (رض) نے فرمایا : میں تمہیں ہرگز یہ نہ کہتا سنوں کہ میں حواری کا بیٹا ہوں چونکہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ زبیر میرا حوری ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36612- "مسند عمر رضي الله عنه" عن أبي لهيعة قال:سمع عمر بن الخطاب رجلا يقول: أنا ابن الحواري، فقال له: ولدك الزبير من قبل الرجال؟ قال: لا، قال: فمن قبل النساء؟ قال: لا، قال: فلا أسمعنك تقول: أنا ابن الحواري، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول للزبير: الحواري. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦١٣۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : جو مسلمان شخص کوئی ترکہ چھوڑے اس کا سب سے اچھا ذمہ دار زبیر ہے۔

(رواہ ابن عساکر)
36613- عن عمر قال: نعم، ولي تركة المرء المسلم الزبير. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦١٤۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے ایک مرتبہ زبیر (رض) حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور کہا : مجھے اجازت دیں تاکہ میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کروں حضرت عمر (رض) نے فرمایا : آپ کو کافی ہے جو تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد کرچکے ہو اگر میں اس کھائی کے منہ کو بند نہیں کروں گا تو امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہلاک ہوجائے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
36614- عن ابن عمر قال: جاء الزبير إلى عمر فقال، ائذن لي أن أخرج فأقاتل في سبيل الله، قال: حسبك قد قاتلت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، لولا أني ممسك لفم هذا الشعب لهلكت أمة محمد صلى الله عليه وسلم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦١٥۔۔۔ ذر کی روایت ہے کہ ابن جرموز جو کہ زبیر بن عوام (رض) کا قاتل تھا نے حضرت علی (رض) کے پاس آنے کی اجازت طلب کی حضرت علی (رض) نے فرمایا : ابن صفیہ کا قاتل دوزخ میں داخل ہوگیا ہے۔ چونکہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے میرا حواری زبیر ہے۔ (رواہ الطبرانی والشاشی وابو یعلی وابن جریر وصححہ)
36615- عن ذر قال: استأذن ابن جرموز قاتل الزبير بن العوام على علي بن أبي طالب، فقال علي: ليدخلن قاتل ابن صفية النار، إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لكل نبي حواري وحواري الزبير. "ط، ش" والشاشي، "ع" وابن جرير وصححه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦١٦۔۔۔ موسیٰ بن عبیدہ ، عبداللہ بن عبیدہ کی سند سے حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ خندق کے موقع پر فرمایا : کوئی شخص ہے جو ہمارے پاس بنی قریظہ کی خبر لائے ؟ زبیر (رض) نے فرمایا : یہ کام میں کروں گا چنانچہ حضرت زبیر (رض) اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور بنو قریظہ کی خبر لائے ، دوسری بار پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہی مطالبہ کیا حضرت زبیر (رض) نے دوسری بار بھی آمادگی ظاہر کی پھر تیسری بار بھی آمادگی ظاہر کی اس کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے میرا حواری زبیر ہے۔ (رواہ البراز)
36616- عن موسى بن عبيدة عن عبد الله بن عبيدة عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال يوم الخندق: هل من رجل يأتينا بخبر بني قريظة؟ قال الزبير: أنا، فذهب على فرسه فجاء بخبرهم، ثم قال الثانية فقال الزبير: أنا، فذهب، ثم قال الثالثة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لكل نبي حواري وحواري الزبير. "ز".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦١٧۔۔۔ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ خندق کے موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون شخص جائے گا جو ہمارے پاس لوگوں کی خبر لائے گا ؟ چنانچہ زبیر (رض) گھوڑے پر سوار ہوئے اور خبرلائے چنانچہ دو یا تین مرتبہ ایسا کیا : جب آخری بار زبیر (رض) گھوڑے پر سوار ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہی نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری میرا پھوپھی زاد بھائی زبیر ہے۔ راوی کہتے ہیں اس دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زبیر (رض) کے لیے اپنے ماں باپ دونوں جمع کرکے فرمایا : میرے ماں اور باپ تجھ پر قربان ہوں۔ (رواہ ابن عساکر
36617- عن عبد الله بن الزبير: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال يوم الخندق من رجل يذهب فيأتينا بخبر القوم؟ فركب الزبير فجاء بخبرهم من بين الناس كلهم، فعل ذلك مرتين أو ثلاثا، فلما ركب الزبير في آخر مرة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لكل نبي حواري وحواري الزبير وابن عمتي، قال: وجمع النبي صلى الله عليه وسلم يومئذ للزبير أبويه فقال: فداك أبي وأمي، ورسول الله صلى الله عليه وسلم أمن وأفضل. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦١٨۔۔۔ عبداللہ بن زبیر (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے اور وہ میرا پھوپھی زاد بھائی بھی ہے۔ (رواہ ابن جریر)
36618- عن عبد الله بن الزبير أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن لكل نبي حواريا والزبير حوارى وابن عمتي. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦١٩۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ مشرکین میں سے ایک آدمی نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری طرف سے میرے دشمن کی کون کفایت کرے گا ؟ حضرت زبیر (رض) نے عرض کیا : یہ کام میں کروں گا زبیر (رض) نے اس مشرک کو للکارا اور اسے قتل کردیا۔ (رواہ ابن جریر)
36619- عن ابن عباس أن رجلا من المشركين شتم النبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم: من يكفيني عدوي؟ فقام الزبير فقال: أنا فبارزه فقتله. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٢٠۔۔۔ اسماء بنت ابی بکر (رض) کی روایت ہے کہ مشرکین کا ایک آدمی اپنے اوپر اسلحہ سجا کر ایک اونچی جگہ پر کھڑا ہوا اور للکار کر کہنے لگا : میرے مقابلہ میں کون آئے گا ؟ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ (رض) میں سے ایک شخص سے فرمایا : کیا تم اس کی طرف کھڑے ہوئے ہو ؟ اس شخص نے کہا : یا رسول اللہ اگر آپ چاہیں تو میں تیار ہوں۔ اچانک زبیر (رض) نے آمادگی ظاہر کی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زبیر (رض) کی طرف دیکھا اور فرمایا : اے ابن صفیہ کھڑے ہوجاؤ ؟ زبیر (رض) چل کر مشرک کے پاس جا پہنچے اور اس کے ساتھ کھڑے ہوگئے دونوں نے آپس میں دو دو ہاتھ کئے پھر ایک دوسرے سے چمٹ گئے اور لڑھکنے لگے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو بھی ٹک گیا وہ قتل کردیا جائے گا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ (رض) نے دعا کرنی شروع کردی چنانچہ کافر نیچے ہوا اور زبیر (رض) اس کے سینے پر چڑھ گئے اور اسے قتل کردیا۔ (رواہ ابن جریر)
36620- عن أسماء بنت أبي بكر قالت: أقبل رجل من المشركين وعليه السلاح حتى صعد على مكان مرتفع من الأرضفقال من يبارز؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لرجل من القوم: أتقوم إليه؟ فقال له الرجل: إن شئت يا رسول الله! فأخذ الزبير يتطلع، فنظر إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: قم يا ابن صفية! فانطلق إليه حتى استوى معه فاضطربا ثم عانق أحدهما الآخر ثم تدحرجا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أيهما وقع الحضيض أولا فهو المقتول، فدعا النبي صلى الله عليه وسلم ودعا الناس، فوقع الكافر ووقع الزبير على صدره فقتله. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৬৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٢١۔۔۔ سعید بن مسیب (رح) کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں سب سے پہلے حضرت زبیر بن عوام (رض) نے تلوار سونتی ہے چنانچہ زبیر (رض) ایک رات سو رہے تھے کہ اچانک آواز سنی ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل کر دئیے گئے ہیں “ زبیر (رض) ننگی تلوار لے کر باہر نکل آئے اور دیوار کے چھجے تلے انھیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مل گئے اور فرمایا : اے زبیر تمہیں کیا ہوا ؟ عرض کیا ؟ عرض کیا : میں نے سنا ہے کہ آپ قتل کر دئیے گئے ہیں فرمایا : تم نے کیا کرنے کا ارادہ کرلیا ہے عرض کیا : میں نے ارادہ کیا ہے کہ اہل مکہ سے دو چار ہاتھ کھیل لوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زبیر (رض) کے لیے دعائے خیر کی چنانچہ اسدی نے اسی کے متعلق یہ اشعار کہے ہیں :

ھذاک آول سیف سل فی ضغب للہ سیف الزبیر المنضی انقا

حمیۃ سبقت من فضل بخدتہ قدیضس البخدات المجس الارفا

یہ پہلی تلوار جو اللہ تعالیٰ کے لیے غصہ میں سونتی گئی جو کہ زبیر کی سونت ہوئی تلوار ہے یہ وہ نسبت ہے جو اس کی بہادری پر سبقت لے گئی کبھی کبھی بہادروں کو نرمی روک دیتی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36621- عن سعيد بن المسيب قال: إن أول من سل سيفا في الله الزبير ابن العوام، بينا هو ذات يوم قائل إذ سمع نغمة: قتل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فخرج متجردا بالسيف صلتا، فلقيه النبي صلى الله عليه وسلم كنة كنة1 فقال: ما لك يا زبير؟ قال: سمعت أنك قتلت، قال: فما أردت أن تصنع؟ قال: أردت والله أستعرض أهل مكة! فدعا له النبي صلى الله عليه وسلم بخير، وفي ذلك يقول الأسدي:

هذاك أول سيف سل في غضب. ... لله سيف الزبير المنتضي أنفا

حمية سبقت من فضل نجدته. ... قد يحبس النجدات المحبس الأرفا

"كر".
tahqiq

তাহকীক: