কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬৬৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٢٢۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ خندق کے موقع پر فرمایا کون شخص جائے گا جو میرے پاس بنو قریظہ کی خبر لائے گا ؟ زبیر (رض) گھوڑے پر سوار ہوئے اور خبر لائے چنانچہ تین مرتبہ گئے اور خبر لائے ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زبیر (رض) کے لیے والدین جمع کر کے فرمایا : میرے ماں باپ تم پر فدا جائیں اور فرمایا : ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے میرا حواری زبیر ہے اور وہ میرا پھوپھی زاد بھائی ہے۔ (رواہ ابن ابی عساکر)
36622- عن عروة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوم الخندق: من رجل يذهب فيأتينا بخبر بني قريظة؟ فركب الزبير فجاءه بخبرهم ثم عاد، فقال ثلاث مرات: من يجيئني بخبرهم، فقال الزبير: نعم، قال: وجمع النبي صلى الله عليه وسلم للزبير أبويه فقال: فداك أبي وأمي! وقال للزبير: لكل نبي حواري وحواري الزبير وابن عمتي. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٢٣۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ اسلام میں سب سے پہلی تلوار جو مکہ میں سونتی گئی وہ زبیر (رض) کی تلوار ہے۔ چنانچہ زبیر (رض) کو خبر پہنچی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل کر دئیے گئے ہیں انھوں نے اپنی تلوار نیام سے باہر نکال لی اور کہا : میں جس شخص سے ملوں گا اسے قتل کروں گا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر پہنچی آپ نے تلوار پکڑ لی تلوار پر ہاتھ پھیرا اور زبیر (رض) کو دعا دی۔ (رواہ ابن عساکر)
36623- عن عروة قال: أول سيف سل في الإسلام بمكة سيف الزبير، بلغه أن النبي صلى الله عليه وسلم قتل فسل سيفه وقال: لا ألقى أحدا إلا قتلته! فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فأخذ سيفه فمسحه ودعا له. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٢٤۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ مہاجرین میں سوائے زبیر (رض) کوئی شخص ایسا نہیں جس نے اپنی ماں کے ساتھ ہجرت کی ہو۔ (رواہ ابن عساکر)
36624- عن عروة قال: لم يهاجر أحد من المهاجرين معه أمه إلا الزبير. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٢٥۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ غزوہ بدر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دو گھوڑے تھے ان میں سے ایک پر زبیر (رض) سوار تھے۔ (رواہ ابن سعد وابن عساکر)
36625- عن عروة قال: لم يكن مع النبي صلى الله عليه وسلم يوم بدر غير فرسين أحدهما عليه الزبير. ابن سعد، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٢٦۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ بدر کے موقع پر جبرائیل (علیہ السلام) زبیر (رض) کی صورت میں نازل ہوئے اور انھوں نے زرد رنگ کا عمامہ لپیٹ رکھا تھا ۔ (رواہ ابن عساکر)
36626- عن عروة قال: نزل جبريل عليه السلام يوم بدر على سيماء الزبير وهو معتجر بعمامة صفراء. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٢٧۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ زبیر (رض) نے بدر کے دن زرد رنگ کا عمامہ باندھ رکھا تھا اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فرشتے زبیر کی شکل میں نازل ہو رہے ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
36627- عن عروة قال: كانت على الزبير ريطة1 صفراء متعجرا بها يوم بدر فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن الملائكة تنزل على سيماء الزبير. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٢٨۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زبیر بن عوام (رض) کو بدر کے دن ایک قباء عطا فرمائی تھی جو ریشم کی بنی ہوئی تھی زبیر (رض) نے یہی پہن کر جنگ لڑی۔ (رواہ ابن عساکر)
36628- عن عروة قال: نزلت الملائكة يوم بدر على سيماء الزبير، عليهم عمائم صفر قد أرخوها من ظهورهم، وكانت على الزبير عمامة صفراء. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٢٩۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ فرشتے بدر کے دن زبیر (رض) کی صورت میں نازل ہوئے فرشتوں نے اپنے اوپر زرد رنگ کے عمامے پہن رکھے تھے اور ان کے شملے پیٹھ پیچھے ڈال رکھے تھے حضرت زبیر (رض) پر زرد رنگ کا عمامہ تھا۔ (رواہ ابن عساکر)
36629- عن عروة قال: أعطى رسول الله صلى الله عليه وسلم الزبير ابن العوام يوم بدر يلمق2 حريرا محشوا بالقز يقاتل فيه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٣٠۔۔۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) کی روایت ہے کہ میرے پاس زبیر (رض) کے دو ریشم کے بنے ہوئے بازو بند تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ دونوں حضرت اسماء (رض) کو دئیے ہوئے تھے زبیر (رض) یہی پہن کر جنگ لڑتے تھے۔ (رواہ احمد بن حنبل وابن عساکر)
36630- عن أسماء بنت أبي بكر قالت: عندي للزبير ساعدان من ديباج كان النبي صلى الله عليه وسلم أعطاهما إياها يقاتل فيهما. "حم، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٣١۔۔۔ ابن شہاب کی روایت ہے کہ حضرت زبیر بن عوام (رض) کے سرزمین حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر وہاں سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پھر مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ (رواہ ابو نعیم فی المعرفۃ)
36631- عن ابن شهاب قال: هاجر الزبير بن العوام إلى أرض الحبشة ثم قدم على النبي صلى الله عليه وسلم ثم هاجر إلى المدينة."أبو نعيم في المعرفة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٣٢۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زبیر بن عوام اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے درمیان مواخات قائم کی۔ (رواہ ابن عساکر)
36632- عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم آخى بين الزبير وبين عبد الله بن مسعود. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٣٣۔۔۔ حضرت زبیر (رض) فرماتے ہیں : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ قریظہ کے دن میرے لیے اپنے ماں باپ جمع کرکے فرمایا تم پر میرے ماں باپ فد ہوں۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
36633- عن الزبير قال: جمع لي رسول الله صلى الله عليه وسلم أبويه يوم قريظة فقال: فداك أبي وأمي. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٣٤۔۔۔ ” ایضاً “ جبیر بن مطعم (رض) کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عباس بن عبد المطلب (رض) کو فرماتے سنا وہ زبیر (رض) سے فرما رہے تھے اے ابو عبداللہ ! کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں یہاں حکم دیا تھا کہ جھنڈا گاڑ دو ۔ (رواہ ابو نعیم فی المعرفۃ)
36634- "أيضا" عن جبير بن مطعم قال: سمعت العباس بن عبد المطلب يقول للزبير: يا أبا عبد الله! أههنا أمرك رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تركز الراية."أبو نعيم في المعرفة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٣٥۔۔۔ ” ایضاً “ محمد بن کعب کی روایت ہے کہ زبیر (رض) میں تبدیلی نہیں ہوتی تھی۔ (رواہ ابو نعیم)
36635- "أيضا" عن محمد بن كعب قال: كان الزبير لا يغير."أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٣٦۔۔۔ ” ایضاً “ عروہ کی روایت ہے کہ حضرت زبیر (رض) طویل القامت تھے حتی کہ جب گھوڑے پر سوار ہوتے ان کی ٹانگیں زمین پر گھسٹتی جاتی تھیں۔ (رواہ ابو نعیم ابن عساکر)
36636- "أيضا" عن عروة قال: كان الزبير طويلا تخط رجلاه الأرض إذا ركب الدابة."أبو نعيم كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٣٧۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ سب سے پہلے جس شخص نے تلوار سونتی (اسلام میں) وہ زبیر بن عوام (رض) ہیں چنانچہ زبیر (رض) نے کوئی شیطانی آواز سنی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پکڑ لیے گئے ہیں زبیر (رض) اپنی تلوار لے کر نکل پڑے جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں اوپر کی طرف تھے آپ نے زبیر (رض) سے فرمایا : اے زبیر تمہیں کیا ہوا : زبیر (رض) نے جواب دیا : مجھے خبر دی گئی ہے کہ آپ پکڑے گئے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زبیر (رض) کے لیے دعا کی اور تلوار واپس کی۔ (رواہ ابو نعیم وابن عساکر)
36637- "أيضا" عن عروة قال: إن أول رجل سل السيف الزبير بن العوام، سمع نفخة نفخها الشيطان: أخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم، فخرج الزبير يشق الناس بسيفه والنبي صلى الله عليه وسلم بأعلى مكة فقال له: ما لك يا زبير؟ قال: أخبرت أنك أخذت، فصلى عليه ودعا له ولسيفه. "أبو نعيم، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٣٨۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ حضرت زبیر (رض) نے ایک دفعہ کوئی شیطانی آواز سنی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پکڑ لیے گئے ہیں یہ واقعہ اسلام لانے کے بعد کا ہے اس وقت ان کی عمر بارہ سال تھی زبیر (رض) اپنی تلوار سونتے دوڑ پڑے حتیٰ کہ مکہ کے اوپر والے حصہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچ گئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا تمہیں کیا ہوا عرض کیا میں سنا ہے کہ آپ پکڑ لیے گئے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر معاملہ ایسا ہی ہوتا تم کیا کرتے ؟ عرض کیا : میں اپنی اس تلوار سے آپ کو پکڑنے والے پر حملہ کرتا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زبیر (رض) اور ان کی تلوار کیلئے دعا کی زبیر (رض) واپس لوٹ آئے چنانچہ اللہ تعالیٰ کی رواہ میں یہ پہلی تلوار ہے جو نیام سے نکال گئی۔ (رواہ ابو نعیم وابن عساکر)
36638- "أيضا" عن عروة أن الزبير بن العوام سمع نفخة من الشيطان، أن محمدا أخذ، بعد ما أسلم وهو ابن ثنتي عشرة سنة، فسل سيفه وخرج يشتد الأزقة حتى أتى النبي صلى الله عليه وسلم وهو بأعلى مكة والسيف في يده، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: ما شأنك؟ قال: سمعت أنك قد أخذت، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ما كنت تصنع؟ قال: كنت أضرب بسيفي هذا من أخذك، فدعا له رسول الله صلى الله عليه وسلم ولسيفه وقال: انصرف؛ وكان أول سيف سل في سبيل الله. "أبو نعيم، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٣٩۔۔۔ ” ایضاً ” حفص بن خالد کی روایت ہے کہ مجھے ایک بوڑھے نے حدیث سنائی ہے جو موصل میں ہمارے پاس آیا تھا وہ رہتا ہے ایک دفعہ سفر میں میں زبیر بن عوام (رض) کے ساتھ ہوگیا چنانچہ بیابان جگہ میں زبیر (رض) کو جنابت لاحق ہوگئی انھوں نے مجھے کہا میرے آگے پردہ کرلو میں نے پردہ کرلیا اور میں ان کے قریب ہوگیا جب میں نے ان کی طرف التفات کیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان کا جسم تلواروں کے زخموں سے چھنی ہے میں نے کہا : بخدا میں تمہارے جسم پر نشانات دیکھ رہا ہوں جو میں نے کبھی کسی پر نہیں دیکھے زبیر (رض) نے کہا : کیا تم یہ دیکھ چکے ہو ؟ میں نے کہا : جی ہاں پھر فرمایا : اللہ کی قسم ! جو زخم بھی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رواہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ لگا ہے۔ (رواہ ابو نعیم وابن عساکر)
36639- "أيضا" عن حفص بن خالد قال: حدثني شيخ قدم علينا من الموصل قال: صحبت الزبير بن العوام في بعض أسفاره فأصابته جنابة بأرض قفر فقال: استرني، فسترته فحانت مني إليه التفاتة فرأيته مجدعا بالسيوف، قلت: والله! لقد رأيت بك آثارا ما رأيتها بأحد قط، قال: وقد رأيت ذلك؟ قلت: نعم، قال: أما والله! ما منها جراحة إلا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي سبيل الله.
"أبو نعيم، كر".
"أبو نعيم، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٤٠۔ زبیر (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بنی قریظہ کی خبر لینے کون جائے گا میں نے عرض کیا : میں جاؤں میں خبر لینے چلا گیا اور جب واپس آیا آپ نے مجھے فرمایا : میرے ماں باپ تمہارے فدا جائیں۔ (رواہ ابو نعیم
36640- عن الزبير قال قال النبي صلى الله عليه وسلم: من يأتي بني قريظة؟ قلت: أنا، فذهبت فلما جئت إليه قال لي: فداك أبي وأمي. "أبو نعيم".-
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٤١۔۔۔ زبیر (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ہم نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے اور وہ میرا پھوپھی زاد بھائی ہے زبیر (رض) سے سوال کیا گیا اے ابو عبداللہ ! کیا آپ جانتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حواری کا خطاب آپ کے علاوہ کسی اور کو دیا جائے ؟ جواب دیا نہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
36641۔۔۔۔ عن الزبير قال: أخذ النبي صلى الله عليه وسلم بيدي فقال: لكل نبي حواري وحواري الزبير وابن عمتي؛ فقيل له: يا أبا عبد الله! أتعلم أن النبي صلى الله عليه وسلم قالها لأحد غيرك؟ قال: لا. "كر" وسنده صحيح.
তাহকীক: