কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬৬৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٤٢۔۔۔ ” ایضا “ عروہ کی روایت ہے کہ زبیر (رض) فرماتے ہیں میں مسلمانوں کے کسی غزوہ سے پیچھے نہیں رہا اور یہ کہ ۔۔۔ ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو معصیت میں مبتلا ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
36642- "أيضا" عن عروة قال قال الزبير: ما تخلفت عن غزوة غزاها المسلمون إلا أن أقبل فألقى ناسا يعصون. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زبیر بن عوام (رض)
٣٦٦٤٣۔۔۔ ” ایضاً “ زبیر بن عوام (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے میری اولاد کے لیے میری اولاد کی اولاد کے لیے دعا فرمائی ہے۔ (رواہ ابو یعلی وابن عساکر)
36643- عن الزبير بن العوام قال: دعا لي رسول الله صلى الله عليه وسلم ولولدي ولولد ولدي."ع، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض)
٣٦٦٤٤۔۔۔ ” مسند صدیق (رض) “ حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا ہے کہ آپ سعد (رض) کے لیے فرما رہے تھے یا اللہ ! اس کے تیر کو نشانے پر درست لگا اس کی دعا قبول فرما فوراً اسے اپنا دوست بنا لے۔ (رواہ ابن عساکر وابن النجار)
36644- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي بكر: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول لسعد: اللهم! سدد سهمه وأجب دعوته وحببه. "كر" وابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض)
٣٦٦٤٥۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں سنا کہ حضرت سعد (رض) کے علاوہ کسی پر اپنے ماں باپ کو فدا کیا ہو چنانچہ احد کے دن میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے : اے سعد تیر برساؤ میرے ماں باپ تمہارے اوپر فدا جائیں۔ (رواہ الطبرانی وابن ابی شیبہ واحمد بن حنبل والعدنی واحمد بن حنبل والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابو عوانۃ وابو یعلی وابن حسان وابن جریر)
36645- عن علي قال: ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفدي أحدا بأبويه إلا سعدا، وإني سمعته يقول له يوم أحد: ارم سعد! فداك أبي وأمي. "ط، ش، حم" والعدني، "حم، خ1، م، ت، ن، هـ"وأبو عوانة، "ع، حب" وابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض)
٣٦٦٤٦۔۔۔ ” مسند عمر (رض) “ سعید بن مسیب (رض) کی روایت ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کی ایک لڑکی باہر نکلی لڑکی نے نئی قمیص پہن رکھی تھی تیز ہوا چلنے کی وجہ سے قمیص بدن سے ہٹ گئی۔ (اور بدن کا کچھ حصہ ظاہر ہوگیا) حضرت عمر (رض) نے لڑکی کو کوڑا دے مارا اتنے میں حضرت سعد (رض) آگئے تاکہ عمر (رض) کو منع کریں حضرت عمر (رض) نے کوڑے سے ان کی خبر لے لی سعد (رض) عمر (رض) کے لیے بد دعا کرنے لگے حضرت عمر (رض) نے یہ دیکھ کر کوڑا سعد (رض) کو دیا اور کہا : چلو بدلہ لے لو۔ سعد (رض) نے عمر (رض) کو معاف کردیا۔ (رواہ ابن عساکر)
36646- "مسند عمر رضي الله عنه" عن سعيد بن المسيب قال: خرجت جارية لسعد بن أبي وقاص وعليها قميص جديد فكشفها الريح، فشد عليها عمر بالدرة، وجاء سعد ليمنعه فتناوله بالدرة، فذهب سعد يدعو على عمر، فناوله الدرة وقال: اقتص، فعفا عن عمر. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض)
٣٦٦٤٧۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک رات رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پہلو میں لیٹے ہوئے تھے اور فرمانے لگے : کاش کوئی نیک آدمی ہوتا جو آج رات میری چوکیداری کرتا ہم اسی حالت میں تھے کہ ہم نے اسلحہ کی آواز (جھنکار) سنی آپ نے فرمایا : یہ کون ہے ؟ غرض کیا : میں سعد بن ابی وقاص ہوں آیا ہوں تاکہ آپ کی چوکیداری کروں سعد (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چوکیداری کرنے بیٹھ گئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوگئے حتیٰ کہ میں آپ کے خزانوں کی آواز سننے لگے۔ (رواہ ابو نعیم)
36647- عن عائشة قالت: بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم مضطجع إلى جنبي ذات ليلة فقال: ليت رجلا صالحا من أصحابي يحرسني الليلة! فبينما أنا على ذلك إذ سمعنا صوت السلاح فقال: من هذا؟ قال: أنا سعد بن أبي وقاص جئت لأحرسك، فجلس يحرسه ونام رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى سمعت غطيطه. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض)
٣٦٦٤٨۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں دیکھا کہ بجز سعد (رض) کے کسی کو فدا کہا ہو چنانچہ سعد (رض) سے فرمایا : میرے پاں باپ تم پر فدا ہوں۔ (رواہ ابن عساکر)
36648- عن علي قال: ما سمعت النبي صلى الله عليه وسلم فدى أحدا غير سعد فإنه قال له: فداك أبي وأمي. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض)
٣٦٦٤٩۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سعد (رض) کے علاوہ کسی کے لیے اپنے والدین کو جمع کرکے فدا نہیں کہا چنانچہ احد کے دن آپ نے فرمایا : تیر برساؤ میرے ماں باپ تمہارے اوپر فد جائیں مزید ان سے فرمایا اے بہادر لڑکے تیر برساؤ مجھے نہیں معلوم کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سعد (رض) کے علاوہ کسی اور کو بہادر لڑکے کے خطاب سے پکارا ہو۔ (رواہ ابن شھاب)
مصنف کہتے ہیں حضرت سعد (رض) کے بقیہ فضائل صرف میں نے عن اسماء صحابہ (رض) میں آئیں گے۔
مصنف کہتے ہیں حضرت سعد (رض) کے بقیہ فضائل صرف میں نے عن اسماء صحابہ (رض) میں آئیں گے۔
36649- عن علي قال: ما جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم أبويه لأحد إلا لسعد، قال له يوم أحد: ارم فداك أبي وأمي! وقال له: ارم أيها الغلام الحزور! ولا أعلم قال النبي صلى الله عليه وسلم لأحد: أيها الغلام الحزور، غيره."ابن شهاب". قلت: وبقية فضائله ذكر في حرف السين في أسماء الصحابة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض)
٣٦٦٥٠۔۔۔ ” مسند صدیق (رض) “ حضرت سہیل بن سعد (رض) کی روایت ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض) کو شام روانہ کیا تو ان سے فرمایا : میں چاہتا ہوں تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میرے نزدیک تمہاری کتنی عزت ہے اور میرے پاں تمہارا کتنا مقام ہے قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے سطح زمین پر مہاجرین و انصار میں کوئی شخص ایسا نہیں جسے میں تمہارے برابر سمجھتا ہوں اور نہ ہی اس شخص کو یعنی عمر (رض) کو جب کہ اس شخص کا میرے ہاں عظیم مقام ہے لیکن تمہارا ایک الگ مقام ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36650- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن سهل بن سعد قال قال أبو بكر الصديق لأبي عبيدة لما وجهه إلى الشام: إني أحب أن تعلم كرامتك علي ومنزلتك مني، والذي نفسي بيده! ما على الأرض رجل من المهاجرين ولا غيرهم أعدله بك ولا هذا - يعني عمر - وله من المنزلة عندي إلا دون ما لك. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض)
٣٦٦٥١۔۔۔ موسیٰ بن عقبہ کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کہتے ہیں : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو عبیدہ بن الجراح (رض) کے لیے تین باتیں ارشاد فرمائیں وہ مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ لوگوں نے عرض کیا : اے خلیفہ رسول وہ کیا ہیں ؟ ابوبکر (رض) نے فرمایا : ہم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ابو عبیدہ (رض) کھڑے ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں پیچھے سے دیکھنے لگے اور پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : یقیناً یہاں دو مومن کاندھے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے گمان کیا کہ ہم کسی ایسی چیز میں پڑے ہوئے ہیں جسے سننا ناپسند کرتے ہیں ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے اور ہم خاموش ہوگئے پھر آپ نے فرمایا : میں اپنے ایک صحابی کے متعلق کچھ کہنا چاہتا تھا الایہ کہ وہ ابو عبیدہ ہے ہمارے پاس اہل نجران کا وفد آیا ہوا تھا وفد نے کہا : اے محمد ! ہمارے پاس ایک آدمی بھیجو جو تمہارے لیے حق قبضہ کر لائے اور ہم اسے دیں گے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں تمہارے ساتھ طاقتور اور امانتدار شخص کو بھیجوں گا حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : مجھے اس مرتبہ کے علاوہ کبھی امارت کا شوق نہیں ہوا میں نے اس امید میں سر اوپر اٹھایا تاکہ میں دیکھ سکوں چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو عبیدہ کھڑے ہوجاؤ آپ نے ابو عبیدہ (رض) کو اہل نجران کے ساتھ روانہ کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
36651- عن موسى بن عقبة قال قال أبو بكر الصديق: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لأبي عبيدة: ثلاث كلمات لأن يكون قالهن لي أحب إلي من حمر النعم، قالوا: وما هن يا خليفة رسول الله؟ قال: كنا جلوسا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام أبو عبيدة فأتبعه رسول الله صلى الله عليه وسلم بصره ثم أقبل علينا فقال: إن هنا لكتفين مؤمنتين: وخرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نتحدث فسكتنا، فظن أنا كنا في شيء كرهنا أن يسمعه فسكت ساعة لا يتكلم ثم قال: ما من أصحابي إلا وقد كنت قائلا فيه لا بد إلا أبا عبيدة، وقدم علينا وفد نجران فقالوا: يا محمد! ابعث لنا من يأخذ لك الحق ويعطيناه، فقال: والذي بعثني بالحق! لأرسلن معكم القوي الأمين، قال أبو بكر: فما تعرضت للإمارة غيرها فرفعت رأسي لا ريه نفسي فقال: قم يا أبا عبيدة! فبعثه معهم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض)
٣٦٦٥٢۔۔۔ ” مسند عمر (رض) “ شرع بن عبید و راشد بن سعد وغیرہ ہما کی روایت ہے کہ جب حضرت عمر بن خطاب (رض) مقام سرغ پہنچے انھیں بتایا گیا کہ شام میں سخت وبا (طاعون) پھیلی ہوئی ہے آپ (رض) نے فرمایا : مجھے خبر پہنچی ہے کہ شام میں سخت وبا پھیلی ہوئی ہے اگر مجھے موت نے آن لیا اور ابو عبیدہ بن الجرح زندہ ہوں میں انھیں خلیفہ مقرر کرتا ہوں اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے پوچھا کہ امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ابوعبیدہ کو کیوں خلیفہ مقرر کیا ہے ؟ میں کہونگا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے : ہر نبی کا ایک امین ہوتا ہے اور میرا امین ابو عبیدہ بن الجراح ہے لوگوں نے آپ (رض) کی بات کو اوپر تصور کیا اور کہنے لگے : قریش کے اونچے طبقہ کا کیا ہوا ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر مجھے موت نے آن لیا دراں حالیکہ ابو عبیدہ بھی وفات پاجائیں تو میں معاذ بن جبل (رض) کو خلیفہ مقرر کرتا ہوں اگر میرے رب تعالیٰ نے مجھ سے پوچھا کہ اسے کیوں خلیفہ مقرر کیا ہے ؟ میں کہوں گا کہ میں نے میرے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے : قیامت کے دن وہ چند علماء کے آگے آگے لایا جائے گا یعنی قیامت کے دن معاذ (رض) علماء کی قیامت کر رہے ہوں گے۔ (رواہ احمد بن حنبل وابن جریر وھو صحیح ورواہ ابو نعیم فی الحلیۃ من طرق عن عمر)
36652- "مسند عمر رضي الله عنه" عن شريح بن عبيد وراشد بن سعد وغيرهما قالوا: لما بلغ عمر بن الخطاب سرغ حدث أن بالشام وباء شديدا فقال: بلغني أن شدة الوباء بالشام فقلت: إن أدركني أجلي وأبو عبيدة بن الجراح حي استخلفته، فإن سألني الله: لم استخلفته على أمة محمد صلى الله عليه وسلم؟ قلت: إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن لكل نبي أمينا وأميني أبو عبيدة بن الجراح، فأنكر القوم ذلك وقالوا: ما بال عليا قريش - يعنون بني فهر؟ ثم قال فإن أدركني أجلي وقد توفي أبو عبيدة استخلفت معاذ بن جبل فإن سألني ربي عز وجل: لم استخلفته؟ قلت: سمعت رسولك صلى الله عليه وسلم يقول: إنه يحشر يوم القيامة بين يدي العلماء نبذة. "حم وابن جرير وهو صحيح ورواه حل من طرق عن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض)
٣٦٦٥٣۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے اپنے آپ کو امارت کے لیے کبھی پیش نہیں کیا بجز ایک بار کے وہ اس طرح کہ ایک بار اہل نجران رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اپنے عامل کی شکایت کی آپ نے فرمایا : میں تمہارے اوپر ایسے شخص کو عامل مقرر کرکے روانہ کروں گا جو نہایت امین ہے چنانچہ میں ان لوگوں میں شامل تھا جو اس فضیلت کو حاصل کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے رہے تھے تاہم آپ (رض) نے ابو عبیدہ (رض) کو بھیجا اور مجھے چھوڑ دیا۔ (رواہ ابو یعلی والحاکم وابن عساکر)
36653- عن عمر قال: ما تعرضت للإمارة وما أحببتها غير أن ناسا من أهل نجران أتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاشتكوا إليه عاملهم فقال: لأبعثن عليكم الأمين - وفي لفظ: لأبعثن عليكم رجلا أمينا حق أمين - وفي لفظ: سأبعث عليكم أمينا، فكنت فيمن تطاول رجاء أن يبعثني، فبعث أبا عبيدة وتركني. "ع، ك، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض)
٣٦٦٥٤۔۔۔ ثابت بن حجاج کی روایت ہے کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : اگر میں ابو عبیدہ بن الجراح (رض) کو پالیتا میں اسے خلیفہ مقرر کرتا اور کسی سے مشورہ بھی نہ لیتا اگر اس کا مجھ سے سوال کیا جاتا میں کہتا : میں نے اللہ اور اس کے رسول کے امین کو خلیفہ مقرر کیا ہے۔ (رواہ ابن سعد وابن عساکر)
36654- عن ثابت بن الحجاج قال: بلغني أن عمر بن الخطاب قال: لو أدركت أبا عبيدة بن الجراح لاستخلفته وما شاورت، فإن سئلت عنه قلت: استخلفت أمين الله وأمين رسوله. ابن سعد، "ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض)
٣٦٦٥٥۔۔۔ ابن ابی صبیح کی روایت کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اپنے ہم جلیسوں سے فرمایا : تم لوگ کوئی تمنا کرو لوگوں نے اپنے سوچ کے مطابق تمنا کی آپ (رض) نے فرمایا : لیکن میں نے یہ تمنا کی ہے کہ ایک ایسا گھر ہو جو ابو عبیدہ بن الجراح جیسے لوگوں سے بھرا ہوا ہو سنیان (رح) کہتے ہیں : ایک شخص نے حضرت عمر (رض) سے پوچھا : کیا آپ نے اسلام کی پروا نہیں کی ؟ فرمایا : یہی تو ہے جس کا میں نے ارادہ کیا ہے۔ (رواہ ابن سعد)
36655- عن ابن أبي نجيح قال قال عمر بن الخطاب لجلسائه: تمنوا، فتمنوا فقال عمر بن الخطاب: لكني أتمنى بيتا ممتلئا رجالا مثل أبي عبيدة ابن الجراح، قال سفيان فقال له رجل: ما ألوت الإسلام؟ فقال: ذاك الذي أردت."ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض)
٣٦٦٥٦۔۔۔ شہر بن خوشب کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : اگر میں ابو عبیدہ بن الجراح (رض) کو پالیتا میں انھیں خلیفہ مقرر کرتا میرا رب مجھ سے ان کے متعلق سوال کرتا میں کہتا : میں نے تیرے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ وہ اس امت کے امین ہیں۔ (رواہ ابن سعد)
36656- عن شهر بن حوشب قال قال عمر بن الخطاب: لو أدركت أبا عبيدة فاستخلفته فسألني عنه ربي لقلت: سمعت نبيك يقول: هو أمين هذه الأمة. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض)
٣٦٦٥٧۔۔۔ حضرت جابر (رض) ع نہ کی روایت ہے کہ حضرت ابو عبیدہ (رض) کے پہلو میں نیزہ لگا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یقیناً یہاں بھی مومن پہلو ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36657- عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم طعن في خاصرة أبي عبيدة وقال: إن ههنا خويصرة مؤمنة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض)
٣٦٦٥٨۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور ہماری امت کا امین ابو عبیدہ بن الجراح ہے۔ فرمایا کہ ابو عبیدہ (رض) کے پہلو میں نیزے کا کچوکا لگا فرمایا یہ مومن کا پہلو ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36658- عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لكل أمة أمين وإن أميننا أبو عبيدة بن الجراح - قال: وطعن في خاصرته وقال: هذه خاصرة مؤمنة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض)
٣٦٦٥٩۔۔۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : کچھ لوگ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے عرض کیا : ہمارے ساتھ اپنے کسی امانتدار شخص کو روانہ کریں جسے ہم اپنے صدقات دیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ (رض) پر نظر دوڑائی مجھے شوق ہوا کہ آپ مجھے دیکھیں اور بلا لیں تاہم آپ کی نظر مجھ سے تجاوز کرگئی اس وقت میں چاہتا تھا کہ زمین پھٹ جائے اور میں اس میں گھس جاؤں۔ چنانچہ آپ نے ابو عبیدہ (رض) کو بلایا اور فرمایا : یہ اس امت کا امین ہے ابو عبیدہ (رض) کو ان کے ساتھ بھیجا۔ (رواہ ابن عساکر)
36659- عن عمر بن الخطاب قال: جاء قوم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا له: ابعث معنا أمينك ندفع إليه صدقاتنا، فرمى ببصره إلى القوم فجعلت أتشوف ليراني فيدعوني، فتجاوزني ببصره، فلوددت أن الأرض انشقت ودخلت فيها! فدعا أبا عبيدة بن الجراح فقال: هذا أمين هذه الأمة! فبعثه معهم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض)
٣٦٦٦٠۔۔۔ حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نجران کے دو سردار عاقب اور سید آئے عرض کیا : ہمارے ساتھ ایک ایسا شخص بھیجیں جو نہایت درجے کا امین ہو آپ نے فرمایا : میں تمہارے ساتھ ضرور ایسے شخص کو بھیجوں گا جو سچا امین ہوگا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) نے اس فضیلت کے لیے اپنے سر اوپر اٹھالیے تاہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو عبیدہ کھڑے ہوجاؤ چنانچہ آپ نے ابوعبیدہ (رض)
کو ان کے ہمراہ بھیجا۔ (رواہ ابن شیبہ)
کو ان کے ہمراہ بھیجا۔ (رواہ ابن شیبہ)
36660- عن حذيفة بن اليمان قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم أسقفا نجران العاقب والسيد فقالا: ابعث معنا رجلا أمينا حق أمين، فقال: لأبعثن معكم رجلا أمينا حق أمين، فاستشرف لها أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فقال: قم يا أبا عبيدة بن الجراح؟ فأرسله معهم. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض)
٣٦٦٦١۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) کی روایت ہے کہ اہل نجران حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ہمارے لیے ایک شخص بھیجیں جو امین (امانتدار) ہو ارشاد فرمایا : میں آپ کے ساتھ ایسے شخص کو بھیجوں گا جو سچا امین امین ہوگا۔ تین بار فرمایا لوگ سر اٹھا کر دیکھنے لگے تاہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو عبیدہ بن جراح (رض) کو بھیجا۔ (رواہ احمد بن حنبل والدویانی وابو یعلی و ابونعیم وابن عساکر)
36661- عن حذيفة قال: جاء أهل نجران إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: ابعث لنا رجلا أمينا، فقال: لأبعثن إليكم أمينا حق أمين أمينا حق أمين أمينا حق أمين - قالها ثلاث مرات، فاستشرف الناس لها، فبعث أبا عبيدة بن الجراح. "حم" والروياني، "ع" وأبو نعيم، "كر".
তাহকীক: