কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬৬৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض)
٣٦٦٦٢۔۔۔ حضرت ابو عبیدہ (رض) بن الجراح (رض) کی روایت ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور انھیں روتے ہوئے پایا، اس نے کہا : اے ابو عبیدہ آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ فرمایا : مجھے یہ بات رلا رہی ہے کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں یاد دلایا کہ جب اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر فتوحالت کے دروازے کھول دے گا اور غنیمتیں ان کے پاس آنے لگیں گی حتیٰ کہ آپ نے شام کا بھی ذکر کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو عبیدہ ! اگر اللہ تعالیٰ نے تمہاری عمر بڑھا دی تمہارے لیے تین خادم کافی ہوں گے ایک خادم جو تمہاری خدمت کرے گا ایک خادم جو تمہارے ساتھ سفر میں ہوگا اور ایک خادم جو تمہارے گھر والوں کی خدمت کرے گا۔ تمہیں تین سواریوں کے جانور کافی ہیں ایک سواری تمہارے اپنے چلنے کے لیے ایک سواری تمہارے بوجھ کے لیے اور ایک سواری تمہارے لڑکے کے لیے پھر میں ہوں کہ اپنے گھر کی طرف دیکھ رہا ہوں جو غلاموں سے بھرا پڑا ہے اور میں اپنے اصطبل کی طرف دیکھتا ہوں جو گھوڑوں اور چوپایوں سے اٹا پڑا ہے اب میں اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیسے ملاقات کروں گا جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں وصیت کی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ تم میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب اور میرے قریب تر وہ شخص ہے جو مجھ سے اس حال پر ملاقات کرے گا جس حال پر اس نے مجھے چھوڑا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36662- عن أبي عبيدة بن الجراح أن رجلا دخل عليه فوجده يبكي فقال له: ما يبكيك يا أبا عبيدة؟ قال: يبكيني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكرنا يوما ما يفتح الله على المسلمين ويفيء عليهم حتى ذكر الشام فقال: إن ينسأ الله في أجلك يا أبا عبيدة فحسبك من الخدم
ثلاثة: خادم يخدمك وخادم يسافر معك وخادم يخدم أهلك ويرد عليهم، وحسبك من الدواب ثلاثة: دابة لرجلك ودابة لثقلك ودابة لغلامك، ثم هذا أنا أنظر إلى بيتي قد امتلأ رقيقا وأنظر إلى مربطي قد امتلأ خيلا ودواب فكيف ألقى رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد هذا وقد عهد إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إن أحبكم إلي وأقربكم مني من لقيني على مثل الحال التي فارقني عليها."كر".
ثلاثة: خادم يخدمك وخادم يسافر معك وخادم يخدم أهلك ويرد عليهم، وحسبك من الدواب ثلاثة: دابة لرجلك ودابة لثقلك ودابة لغلامك، ثم هذا أنا أنظر إلى بيتي قد امتلأ رقيقا وأنظر إلى مربطي قد امتلأ خيلا ودواب فكيف ألقى رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد هذا وقد عهد إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إن أحبكم إلي وأقربكم مني من لقيني على مثل الحال التي فارقني عليها."كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض)
٣٦٦٦٣۔۔۔ ” ایضاً “ قتادہ کی روایت ہے کہ ابو عبیدہ بن الجراح (رض) نے فرمایا : بخدا مجھے پسند ہے کہ میں ایک مینڈھا ہوتا جیسے میرے گھر والے ذبح کرکے میرا گوشت کھالیتے اور میرے ہٹورے کے خم پی لیتے عمران بن حصین (رض) فرماتے ہیں : بخدا مجھے پسند ہے کہ میں کسی اونچے ٹیلے پر پڑی ہوئی خاک ہوتا جسے تندوتیز ہوا اڑا دیتی ۔ (رواہ ابن عساکر)
36663- "أيضا" عن قتادة قال قال أبو عبيدة بن الجراح: لوددت أني كبش يذبحني أهلي فيأكلون لحمي ويحسون مرقي! قال: وقال عمران بن حصين: لوددت أني كنت رمادا على أكمة تسفيني الريح في يوم عاصف. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض)
٣٦٦٦٤۔۔۔ ” ایضاً “ عروہ بن زبیر کی روایت ہے کہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور ان کے اہل خانہ طاعون عموا اس سے محفوظ تھے تاہم ابو عبیدہ (رض) نے فرمایا : یا اللہ ! اپنا حصہ ابو عبیدہ کی آل کو بھی عطا فرما چنانچہ ابو عبیدہ (رض) کی چنگل پر طاعون کا دانہ نکل آیا اور آپ (رض) اس کی طرف دیکھنے لگے کسی نے کہا : یہ تو معمولی سنا ہے یہ کچھ بھی نہیں فرمایا : مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت عطا کرے گا جب قطل میں برکت کرتا ہے تو وہ کثیر ہوجاتا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36664- "أيضا" عن عروة بن الزبير أن وجع عمواس كان معافى منه أبو عبيدة بن الجراح ثم أهله، فقال: اللهم! نصيبك في آل أبي عبيدة، فخرجت بأبي عبيدة في خنصره بثرة فجعل ينظر إليها فقيل: إنها ليست بشيء، فقال: إني أرجو أن يبارك الله فيها إذا بارك في القليل كان كثيرا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض)
٣٦٦٦٥۔۔۔ حارث بن عمیرہ حارثی کی روایت ہے کہ حضرت معاذ بن جبل (رض) نے انھیں ابو عبیدہ بن الجراح (رض) کی طرف بھیجا تاکہ ان کا حال دریافت کر آئیں جب کہ ان پر طاعون کا حملہ ہوچکا تھا چنانچہ حضرت ابو عبیدہ (رض) نے حارث کو طاعون کا دانہ دکھا کر ان کی کف دست پر نکلا ہوا تھا حارث کے دل میں اس کی کیفیت بڑھ گئی اور اس کو دیکھتے ہی الگ ہوگئے حضرت ابو عبیدہ (رض) نے قسم کھائی کہ انھیں یہ بات محبوب نہیں کہ اس کی جگہ ان کے لیے سرخ اونٹ
ہوں۔ (رواہ ابن عساکر)
ہوں۔ (رواہ ابن عساکر)
36665- "أيضا" عن الحارث بن عميرة الحارثي أن معاذ بن جبل أرسله إلى أبي عبيدة بن الجراح يسأله كيف هو وقد طعن فأراه أبو عبيدة طعنة خرجت في كفه، فتكاثر شأنها في نفس الحارث وفرق منها حين رآها، فأقسم أبو عبيدة بالله ما يحب أن له مكانها حمر النعم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض)
٣٦٦٦٦۔۔۔ ” ایضاً “ سعید بن ابی سعید مقبری کی روایت ہے جب حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض) طاعون میں مبتلا ہوئے آپ اردن میں تھے اور وہیں آپ کی قبر بھی ہے آپ نے مسلمانوں میں سے جو وہاں موجود تھا اسے اپنے پاس بلایا اور کہا : میں تمہیں وصیت کرتا ہوں اگر تم اسے قبول کروگے خیر و بھلائی پر قائم ہوگے نماز قائم کرتے رہو زکوۃ دیتے رہو رمضان کے روزے رکھو صدقہ و حج وعمرہ کرو ایک دوسرے کی بھلائی چاہو اپنے امراء کے لیے خیر خواہ رہو ان سے دھوکا مت کرو اور تمہیں دنیا غافل نہ کرنے پائے اگر کسی کو ہزار سال عمر بھی مل جائے اسے ضرور موت کا سامنا کرتا ہے جسے تم اب دیکھ رہے ہو اللہ تعالیٰ نے بنی آدم پر موت فرض کردی ہے وہ ضرور مرکر رہیں گے بنی آدم میں سب سے زیادہ عقلمند وہ ہے جو اپنے رب کی زیادہ اطاعت کرنے والا ہے اور اپنے آخری دن کیلئے زیادہ عمل کرتا ہے۔ والسلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
اے معاذ بن جبل ! لوگوں کو نماز پڑھاؤ چنانچہ ابو عبیدہ بن الجراح (رض) نے جان جان آفریں کے سپرد کردی اور حضرت معاذ (رض) نے لوگوں کو نظام سنبھال لیا اور فرمایا : اے لوگو ! اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں سے پکی اور سچی توبہ کرو چونکہ جو شخص اپنے گناہوں سے توبہ تائب ہو کر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرتا ہے اللہ کا حق ہوجاتا ہے کہ اس بندے کو معاف کرے الایہ کہ اس پر کسی کا قرض ہو چونکہ بندہ قرض میں پکڑا جاتا ہے تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو چھوڑتے ہوئے صبح کرے (یعنی اس سے ناراض ہو) وہ اس سے مل لے اور اس سے مصافحہ کرے کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زائد چھوڑے اور یہ کبیرہ گناہ ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
اے معاذ بن جبل ! لوگوں کو نماز پڑھاؤ چنانچہ ابو عبیدہ بن الجراح (رض) نے جان جان آفریں کے سپرد کردی اور حضرت معاذ (رض) نے لوگوں کو نظام سنبھال لیا اور فرمایا : اے لوگو ! اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں سے پکی اور سچی توبہ کرو چونکہ جو شخص اپنے گناہوں سے توبہ تائب ہو کر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرتا ہے اللہ کا حق ہوجاتا ہے کہ اس بندے کو معاف کرے الایہ کہ اس پر کسی کا قرض ہو چونکہ بندہ قرض میں پکڑا جاتا ہے تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو چھوڑتے ہوئے صبح کرے (یعنی اس سے ناراض ہو) وہ اس سے مل لے اور اس سے مصافحہ کرے کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زائد چھوڑے اور یہ کبیرہ گناہ ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36666- "أيضا" عن سعيد بن أبي سعيد المقبري قال: لما طعن أبو عبيدة بن الجراح بالأردن - وبها قبره - دعا من حضره من المسلمين فقال: إني موصيكم بوصية إن قبلتموها لن تزالوا بخير! أقيموا الصلاة وآتوا الزكاة وصوموا شهر رمضان وتصدقوا وحجوا واعتمروا وتواصوا، وانصحوا لأمرائكم ولا تغشوهم، ولا تلهكم الدنيا فإن امرءا لو عمر ألف حول ما كان له بد من أن يصير إلى مصرعي هذا الذي ترون، إن الله كتب الموت على بني آدم فهم ميتون، وأكيسهم أطوعهم لربه، وأعملهم ليوم معاده - والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته؛ يا معاذ بن جبل! صل بالناس. ومات، فقام معاذ في الناس! فقال: أيها الناس! توبوا إلى الله من ذنوبكم توبة نصوحا، فإن عبدا لا يلقى الله تائبا من ذنبه إلا كان حقا على الله أن يغفر له إلا من كان عليه دين فإن العبد مرتهن بدينه، ومن أصبح منكم مهاجرا أخاه فليلقه فليصافحه، ولا ينبغي لمسلم أن يهجر أخاه أكثر من ثلاث، فهو الذنب العظيم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٦٧۔۔۔ ” مسند عثمان (رض) “ ابن مسیب کی روایت ہے کہ اصحاب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چاہتے تھے کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) اور حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) آپس میں خریدو فروخت کا مقابلہ کریں تاکہ ہم جانچ سکیں کہ ان میں سے برا تاجر کون ہے چنانچہ عبد الرحمن (رض) نے حضرت عثمان (رض) سے ایک گھوڑا خریدا جو کسی دوسری جگہ تھا اور وہ گھوڑا چالیس ہزار درہم میں خریدا سودے میں یہ تہہ ہوا کہ گھوڑا صحیح وسالم پا لیا گیا تب معاملہ بے ہونے پر عبد الرحمن (رض) آگے بڑھ کر تھوڑا دور جانے پر واپس لوٹ آئے اور کہا میں آپ کو چھ ہزار درہم زیادہ دوں گا بشرطیکہ میرے قاصد نے اگر اسے صحیح وسالم پالیا عثمان (رض) نے کہا جی ہاں ٹھیک ہے چنانچہ قاصد نے گھوڑا مردہ پایا اور یوں دوسری شرط کے ذریعے بیع سے نکل گئے۔ (رواہ عبد الرزاق والبیہقی)
36667- "مسند عثمان رضي الله عنه" عن ابن المسيب قال قال أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم: وددنا لو أن عثمان بن عفان وعبد الرحمن بن عوف تبايعا حتى ننظر أيهما أعظم جدا في التجارة، فاشترى عبد الرحمن من عثمان فرسا بأرض أخرى بأربعين ألف درهم إن أدركتها الصفقة وهي سالمة، ثم أجاز قليلا فرجع فقال: أزيدك ستة آلاف إن وجدها رسولي سالمة، قال: نعم فوجدها رسول عبد الرحمن قد هلكت وخرج منها بالشرط الآخر. "عب، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٦٨۔۔۔ ” ایضا “ ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف کی روایت ہے کہ ہم حضرت عثمان بن عفان (رض) کے ساتھ مکہ کے راستے میں جا رہے تھے۔ عثمان (رض) نے عبد الرحمن (رض) کو دیکھا اور فرمایا : کسی شخص کے بس میں نہیں کہ وہ اس بوڑھے کی دو ہجرتوں کی فضیلت حاصل کرسکے یعنی ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ۔ (رواہ ابن عساکر)
36668- "أيضا" عن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف قال: كنا نسير مع عثمان بن عفان في طريق مكة فرأى عبد الرحمن بن عوف فقال عثمان: ما يستطيع أحد أن يعتد على هذا الشيخ فضلا في الهجرتين جميعا - يعني هجرته إلى الحبشة وهجرته إلى المدينة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٦٩۔۔۔ ” مسند علی (رض) “ ابراہیم بن قارضہ کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کو فرماتے سنا جب عبد الرحمن (رض) وفات پاگئے میں نے ان کے خالص و صاف عمل کو پالیا اور ان کی نرمی سے آگے نکل گیا۔ (رواہ الحاکم)
36669- "مسند علي رضي الله عنه" عن إبراهيم بن قارظ قال سمعت عليا يقول حين مات عبد الرحمن بن عوف: أدركت صفوها وسبقت رفقها. "ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٧٠۔۔۔ حارث بن ۔۔ انصاری (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک گھاٹی میں تھے آپ نے مجھ سے پوچھا کیا تم نے عبد الرحمن بن عوف و دیکھا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں یا رسول اللہ ! میں نے انھیں پہاڑ کے دامن میں دیکھا ہے اور ان پر مشرکین کا ایک گروہ چھایا ہوا ہے۔ میں چاہا کہ ان کی طرف جاؤں اور ان کا دفاع کروں لیکن میں نے آپ کو دیکھا تو آپ کی طرف پلٹ آیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خبردار ! فرشتے اس کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں۔ چنانچہ میں عبد الرحمن (رض) کی طرف چل پڑا میں نے انھیں سات آدمیوں کے درمیان پایا جو مقتول پچھاڑے گئے تھے میں نے کہا : آپ تو صحت مند رہے کیا ان سب کو آپ نے قتل کیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : اس کو اسطات بن عبد سرجیل نے قتل کیا ہے اور یہ دو میں نے قتل کیے ہیں رہی بات ان مقتولین کی سو یہ اس نے قتل کیے ہیں جسے میں دیکھ نہیں سکتا۔ میں نے کہا : اللہ اور اللہ کے رسول نے سچ فرمایا۔ (رواہ ابن مندہ والطبرانی وابو نعیم)
36670- عن الحارث بن الصمة الأنصاري قال: سألني رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أحد وهو في الشعب هل رأيت عبد الرحمن بن عوف؟ قلت: نعم يا رسول الله! رأيته إلى حر الجبل وعليه عكر من المشركين فهويت إليه لأمنعه فرأيتك فعدلت إليك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أما! إن الملائكة تقاتل معه، فرجعت إلى عبد الرحمن فأجده بين نفر سبعة صرعى فقلت له، ظفرت يمينك أكل هؤلاء قتلت؟ قال: أما هذا الأرطأة بن عبد شرحبيل وهذان فأنا قتلتهما، وأما هؤلاء فقتلهم من لم أره، قلت: صدق الله ورسول الله صلى الله عليه وسلم. ابن منده، "طب"، وأبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٧١۔۔۔ عمرو بن وھب ثقفی کی روایت ہے کہ ہم حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کے پاس تھے ان سے پوچھا گیا، کیا اس امت میں سے ابوبکر (رض) کے علاوہ کسی اور نے بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امامت کرائی ہے حضرت مغیرہ (رض) نے جواب دیا : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے ایک دن سحری کے قریب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری سواری کی گردن پر ماری میں سمجھا آپ کو کوئی کام ہے میں آپ کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا ہم چل پڑے حتیٰ کہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوگئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے آگے بڑھ گئے حتیٰ کہ میری نظروں سے غائب ہوگئے تھوڑی دیر ٹھہرے اور پھر واپس آگئے مجھ سے فرمایا : اے مغیرہ تمہیں کوئی کام ہے ؟ میں نے عرض کیا : مجھے کوئی کام نہیں فرمایا : تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں میں لپکا اور کجاوے سے مشکیزہ کھول کرلے آیا میں نے آپ پر پانی بہایا آپ نے ہاتھ دھوئے اور اچھی طرح سے دھوئے مجھے شک ہے کہ آیا مٹی پا ہاتھ رگڑے یا نہیں آپ نے دوبارہ ہاتھ دھوئے اور پھر اپنے بازؤوں سے پانی جھاڑنے لگے آپ نے شامی جبہ پہن رکھا تھا اس کی آستین تنگ تھیں جیسے کے نیچے سے آپ نے ہاتھ نکالے اور چہرہ دھویا۔ حدیث میں ذکر کیا دو مرتبہ چہرہ دھویا مجھے معلوم نہیں اسی طرح ہے یا نہیں۔ آپ نے سر مبارک پر مسح کیا اور عمامہ پر بھی مسح کیا اور پھر موزوں پر مسح کیا پھر ہم اونٹنی پر سوار ہو لیے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی کی جاچکی تھی اور عبد الرحمن بن عوف آگئے کھڑے۔ (امامت کرا رہے) تھے۔ ایک رکعت ہوچکی تھی اور وہ دوسری رکعت میں تھے میں عبد الرحمن بن عوف (رض) کو بتلانے لگا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لاچکے ہیں لہٰذا پیچھے ہٹ جاؤ لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے منع فرما دیا : جو رکعت ہم نے پائی وہ امام کے ساتھ پڑھ لی اور جو ہم سے فوت ہوچکی تھی وہ ہم نے قضاء کرلی۔ (رواہ سعید بن المنصور)
36671- عن عمرو بن وهب الثقفي قال: كنا عند المغيرة بن شعبة فقيل له: هل أم أحد من هذه الأمة النبي صلى الله عليه وسلم غير أبي بكر؟ فقال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فلما كان في وجه السحر ضرب عنق راحلتي فظننت أن له حاجة فعدلت معه، فانطلقنا حتى برزنا عن الناس، فانطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم فتغيب عني حتى ما أراه، فمكث مليا ثم جاء فقال: حاجتك يا مغيرة؟ فقلت: ما لي حاجة، فقال: هل معك ماء؟ قلت: نعم، فقمت إلى قربة - أو قال: سطيحة - معلقة في مؤخرة الرحل فأتيته بها فصببت عليه، فغسل يديه وأحسن غسلهما - وأشك أن قال: أدلكهمابالتراب أم لا ثم غسل، ثم ذهب يحسر عن ساعديه وعليه جبة شامية ضيقة الكمين فضاقت فأخرج يديه من تحتهما إخراجا فغسل وجهه ويديه - فذكر في الحديث غسل الوجه مرتين - لا أدري أهكذا أم لا - فمسح رأسه ومسح العمامة ومسح على الخفين، ثم ركبنا فأدركنا الناس وقد أقيمت الصلاة، فتقدمهم عبد الرحمن بن عوف وقد صلى بهم ركعة وهو في الثانية، فأخذت أوذنه فنهاني وصلينا الركعة التي أدركنا ثم قضينا الذي سبقنا. "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٧٢۔۔۔ حضرت مغیرہ (رض) کی روایت ہے کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ (رض) نے مغیرہ (رض) سے وضو کا پانی مانگا، پانی لائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا موزوں پر مسح کیا اور پھر لوگوں کے پاس آگئے اتنے میں حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جب عبد الرحمن بن عوف (رض) نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہونے کا ارادہ کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اپنی جگہ پر رہو، ہم نے عبد الرحمن بن عوف (رض) کے پیچھے نماز پڑھی جو رکعت ملی وہ پڑھ لی اور جو فوت ہوگی اس کی قضاء کرلی۔ (رواہ الضیاء)
36672- عن المغيرة أنه كان مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فأتاه بوضوء فتوضأ ومسح على الخفين، ثم لحق بالناس فإذا عبد الرحمن بن عوف يصلي بهم، فلما رآه عبد الرحمن هم أن يرجع فأومأ إليه النبي صلى الله عليه وسلم أن مكانك! فصلينا خلفه ما أدركنا وقضينا ما فاتنا. "ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٧٣۔۔۔ عبداللہ بن دینار اسلمی اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) ان اشخاص میں سے ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں فتویٰ دیتے تھے چنانچہ ابوبکر عمر اور عثمان (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو کچھ سنتے اس کے مطابق فتویٰ دیتے تھے۔ (رواہ ابن عساکر)
36673- عن عبد الله بن دينار الأسلمي عن أبيه قال: كان عبد الرحمن بن عوف ممن يفتي في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر وعثمان بما سمع من النبي صلى الله عليه وسلم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٧٤۔۔۔ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کی روایت ہے کہ حضرت خالد بن ولید (رض) نے بنی خزیمہ کے ساتھ جو کچھ کیا سو کیا اس کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئے عبد الرحمن بن عوف (رض) حضرت خالد (رض) پر بنی خزیمہ کے ساتھ کیے گئے واقعے کا عیب لگایا حضرت خالد (رض) نے کہا : تو نے امر جاہلیت کو تھاما ہے تو نے انھیں اپنے پرانے غم کی وجہ سے قتل کردیا ہے اللہ تجھے کبھی قتل کرے چنانچہ حضرت عمر (رض) نے حضرت خالد (رض) کے خلاف حضرت عبد الرحمن (رض) کی مدد کی خالد (رض) نے کہا : تم نے اپنے باپ کے بدلہ میں انھیں قتل کیا ہے حضرت عبد الرحمن (رض) نے کہا : تم نے جھوٹ بولا : بخدا میں اپنے باپ کے قاتل کو خود قتل کیا ہے اور اس پر عثمان بن عفان (رض) کو گواہ بنایا تھا پھر عثمان (رض) نے جواب دیا : جی ہاں پھر عبد الرحمن (رض) نے کہا : اے خالد ! افسوس ہے اگر میں نے اپنے باپ کے قاتل کو قتل کیا ہوتا تو جاہلیت میں تم میرے باپ کے بدلہ میں ایک قوم کو قتل کرچکے ہوتے حضرت خالد نے کہا : تمہیں کس نے خبر کی ہے کہ وہ اسلام لاچکے تھے ؟ عبد الرحمن (رض) نے جواب دیا : سر یہ میں شریک لوگ سب کہتے ہیں کہ تم نے انھیں اس حال میں پایا کہ وہ مساجد بنا رہے تھے اور اسلام کا اقرار کرتے تھے پھر تم نے ان پر تلوار چلائی حضرت خالد (رض) نے کہا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم ملا تھا کہ میں ان پر حملہ کردوں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر حملہ کیا ہے عبد الرحمن (رض) نے کہا : تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھوٹ بولا عبد الرحمن (رض) نے بہت غصہ کیا اور برا بھلا کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خالد (رض) سے منہ پھیرلیا اور ان پر غصہ کا اظہار کیا آپ کو یہ خبر بھی پہنچی کہ انھوں نے حضرت عبد الرحمن (رض) کے ساتھ بحث و مباحثہ بھی کیا ہے۔ آپ نے فرمایا : اے خالد ! میرے صحابہ (رض) کو چھوڑو جب کسی آدمی کی ناک زخمی کی جاتی ہے گویا وہ آدمی ہی زخمی ہوجاتا ہے اگر کسی شخص کے پاس ڈھیروں سونا ہو اور وہ اللہ کی راہ میں ایک قیراط خرچ کرتا رہے وہ عبد الرحمن کی ایک صبح یا ایک شام کو نہیں پہنچ سکتا۔ (رواہ الوافدی وابن عساکر)
36674- عن سلمة بن الأكوع قال: لما قدم خالد بن الوليد على النبي صلى الله عليه وسلم بعد ما صنع ببني جذيمة ما صنع عاب عبد الرحمن بن عوف على خالد ما صنع، قال: يا خالد! أخذت بأمر الجاهلية قتلتهم بعمك الفاكه قاتلك الله! وأعانه عمر بن الخطاب على خالد، فقال خالد: أخذتهم بقتل أبيك، فقال عبد الرحمن: كذبت والله لقد قتلت قاتل أبي بيدي وأشهدت على قتله عثمان بن عفان، ثم التفت إلي عثمان فقال: أنشدك الله هل علمت أني قتلت قاتل أبي؟ فقال عثمان: اللهم! نعم، ثم قال عبد الرحمن: ويحك يا خالد! ولو لم أقتل قاتل أبي كنت تقتل قوما من المسلمين بأبي في الجاهلية؟ قال خالد: ومن أخبرك أنهم أسلموا؟ فقال: أهل السرية كلهم يخبرون أنك قد وجدتهم قد بنوا المساجد وأقروا بالإسلام ثم حملتهم على السيف! قال: جاءني أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أغير عليهم، فأغرت بأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال عبد الرحمن: كذبت على رسول الله صلى الله عليه وسلم - وغالظ عبد الرحمن، وأعرض رسول الله صلى الله عليه وسلم عن خالد وغضب عليه، وبلغه ما صنع بعبد الرحمن فقال: يا خالد! ذروا لي أصحابي، متى ينك أنف المرء ينكأ المرء، ولو كان أحد ذهبا تنفقه قيراطا قيراطا في سبيل الله لم تدرك غدوة أو روحة من غدوات أو روحات عبد الرحمن. الواقدي، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٧٥۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) اور حضرت خالد بن ولید (رض) کے درمیان کچھ ناچاقی تھی اس پر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے صحابہ کو میرے لیے چھوڑ دو اگر تم میں سے کوئی شخص اگر احد کے برابر سونا خرچ کردے وہ میرے صحابہ (رض) کے مدیا نصف مد تک بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ (رواہ ابن عساکر)
36675- عن أبي هريرة قال: كان بين عبد الرحمن بن عوف وبين خالد بن الوليد بعض ما يكون بين الناس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:دعوا لي أصحابي، فإن أحدكم لو أنفق مثل أحد ذهبا لم يدرك - وفي لفظ: لم يبلغ - مد أحدهم ولا نصيفهم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٧٦۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ (رض) اپنے گھر میں تشریف فرما تھیں یکایک میں نے آواز سنی جس سے پورا مدینہ گونج اٹھا۔ عائشہ (رض) نے کہا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : عبد الرحمن (رض) کا تجارتی قافلہ شام سے واپس لوٹا ہے چنانچہ قافلہ میں سات سو اونٹ تھے حضرت عائشہ (رض) نے کہا : خبردار ! میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے : میں عبد الرحمن بن عوف کو سرین کے بل چلتے ہوئے جنت میں داخل ہوتے دیکھ رہا ہوں یہ حدیث عبد الرحمن (رض) کو پہنچی وہ فوراً حضرت عائشہ (رض) کے پاس حاضر ہوئے اور اس سے یہی حدیث پوچھی عائشہ (رض) نے انھیں حدیث سنائی عبد الرحمن (رض) بولے : میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ یہ قافلہ بمعہ سازو سامان اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں۔ (رواہ احمد بن حنبل وابو نعیم)
36676- عن أنس قال: بينا عائشة في بيتها إذ سمعت صوتا رجت منه المدينة فقالت: ما هذا؟ فقالوا: عير قدمت لعبد الرحمن بن عوف من الشام وكانت سبعمائة فقالت عائشة: أما! إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: رأيت عبد الرحمن بن عوف يدخل الجنة حبوا1، فبلغ ذلك عبد الرحمن فأتاها فسألها عما بلغه فحثثته، قال: فإني أشهدك أنها بأحمالها وأقتابها وأحلاسها في سبيل الله. "حم" وأبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٧٧۔۔ عبد الرحمن بن عبداللہ بن مجمع بن حارثہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے عبد الرحمن بن عوف (رض) کی بیوی ام کلثوم بنت عقبہ (رض) سے پوچھا : کیا تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ مسلمانوں کے سردار عبد الرحمن بن عوف سے نکاح کرلو ؟ ام کلثوم (رض) نے جواب دیا جی ہاں (رواہ بن مندہ وابن عساکر)
36677- عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مجمع بن حارثة أن عمر قال لأم كلثوم بنت عقبة امرأة عبد الرحمن بن عوف: أقال لك النبي صلى الله عليه وسلم: انكحى سيد المسلمين عبد الرحمن بن عوف؟ قالت: نعم. ابن منده، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٧٨۔۔۔ زہری کی روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں اپنے مال کا ایک بڑا حصہ صدقہ کیا چنانچہ پہلے چار ہزار درہم صدقہ کیے پھر چالیس ہزار پھر چالیس ہزار دینار صدقہ کیے پھر سواری کے لیے پانچ سو گھوڑے پیش کئے پھر ڈیڑھ ہزار اونٹ سواری کے لیے فی سبیل اللہ صدقہ کیے آپ (رض) کا مال تجارت سے مفاد تھا۔ (رواہ ابو نعیم)
36678- عن الزهري قال: تصدق عبد الرحمن بن عوف بشطر ماله في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم أربعة آلاف، ثم تصدق بأربعين ألفا، ثم تصدق بأربعين ألف دينار، ثم حمل على خمسمائة فرس في سبيل الله، ثم حمل على ألف وخمسمائة راحلة في سبيل الله وكانت عامة ماله من التجارة."أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٧٩۔۔۔ زہری کی روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں اپنے مال کا بڑا حصہ صدقہ کیا چنانچہ پہلے چار ہزار درہم ہم صدقہ کئے پھر چالیس ہزار پھر چالیس ہزار دینار صدقہ کیے پھر سواری کے لیے پانچ سو گھوڑے فی سبیل اللہ دئیے پھر ڈیڑھ ہزار اونٹ سواری کے لیے صدقہ کیے آپ (رض) کا عام مال تجارت سے تھا۔ (رواہ ابن عساکر)
36679- عن الزهري قال: تصدق عبد الرحمن بن عوف على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم بشطر ماله أربعة آلاف، ثم تصدق بأربعين ألفا، ثم تصدق بأربعين ألفا دينار، ثم حمل على خمسمائة فرس في سبيل الله، ثم حمل على ألف وخمسمائة راحلة في سبيل الله وكان عامة ماله من التجارة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٨٠۔۔۔ ” مسند احمد (رض) “ ابراہیم بن سعد اپنے والد اور دادا کی سند سے روایت نقل کرتے ہیں کہ جس دن حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) نے وفات پائی حضرت علی (رض) نے فرمایا : ابن عوف جاؤ بلاشبہ تم نے صاف و شفاف ماحول پالیا اور ۔۔۔ سے آگے نکل گئے۔ (رواہ ابراہیم بن سعد بن نسختہ
36680- "مسند علي رضي الله عنه" عن إبراهيم بن سعد عن أبيه عن جده قال: سمعت علي بن أبي طالب يوم مات عبد الرحمن بن عوف يقول: اذهب ابن عوف! فقد أدركت صفوها وسبقت رنقها1 إبراهيم بن سعد في نسخته.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٨١۔۔۔ ” مسند ابن عوف “ عروہ کی روایت ہے کہ جنگ بدر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بنوزہرہ میں سے عبد الرحمن بن عوف (رض) شریک ہوئے تھے۔ (رواہ ابو نعیم)
36681- "مسند ابن عوف" عن عروة قال: شهد بدرا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من بني زهرة عبد الرحمن بن عوف. أبو نعيم.
তাহকীক: