কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬৬৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٨٢۔۔۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) کی روایت ہے کہ میرا نام عبد عمرو تھا جب میں نے اسلام قبول کیا میں نے اپنا نام عبد الرحمن رکھ لیا۔ (رواہ ابو نعیم)
36682- عن عبد الرحمن بن عوف قال: كان اسمي "عبد عمرو" فتسميت حين أسلمت "عبد الرحمن".أبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٨٣۔۔۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) کی روایت ہے کہ میرا نام ” عبد عمرو “ تھا تاہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا نام عبد الرحمن رکھ دیا۔ (رواہ ابو نعیم وابن عساکر)
36683- عن عبد الرحمن بن عوف قال: كان اسمي "عبد عمرو" فسماني رسول الله صلى الله عليه وسلم "عبد الرحمن".أبو نعيم، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٨٤۔۔۔ ابن سیرین (رح) کی روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن کا جاہلیت ہیں ” عبد الکعبہ “ نام تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کا نام عبد الرحمن رکھ دیا ۔ (رواہ ابو نعیم وابن عساکر وھو مرسل صحیح الاسناد)
36684- "أيضا" عن ابن سيرين أن عبد الرحمن كان اسمه في الجاهلية "عبد الكعبة" فسماه رسول الله صلى الله عليه وسلم "عبد الرحمن".أبو نعيم، "كر" وهو مرسل صحيح الإسناد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٨٥۔۔۔ سعید بن عبد الرزیز کی روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن (رض) کا نام ” عبدعمرو “ تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کا نام عبد الرحمن تجویز کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
36685- "مسند سعد بن عبد العزيز قال: كان اسم عبد الرحمن بن عوف "عبد عمرو" فسماه رسول الله صلى الله عليه وسلم "عبد الرحمن". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٨٦۔۔۔ ابراہیم بن سعد کی روایت ہے کہ مجھے حدیث پہنچی ہے کہ غزوہ احد میں حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) کو اکیس (٢١) زخم آئے ان میں سے اکثر ٹانگ پر آئے تو جس کی وجہ سے ٹانگ میں لنگڑا پن پیدا ہوگیا تھا۔ رواہ ابو نعیم وابن عساکر
36686- "أيضا" عن إبراهيم بن سعد قال: بلغني أن عبد الرحمن بن عوف جرح يوم أحد إحدى وعشرين جراحة، وجرح في رجله فكان يعرج منها. أبو نعيم، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٨٧۔۔۔ سعد بن ابراہیم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) اپنے سر اور داڑھی کو خضاب وغیرہ سے تبدیل نہیں کرتے تھے۔ (رواہ ابو نعیم)
36687- "أيضا" عن سعد بن إبراهيم عن أبيه قال: كان عبد الرحمن بن عوف لا يغير رأسه ولا لحيته. أبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٨٨۔۔۔ یعقوب بن ابراہیم اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حواری بھی کہا جاتا تھا۔ (رواہ ابو نعیم وابن عساکر)
36688- "أيضا" عن يعقوب بن إبراهيم عن أبيه أن عبد الرحمن بن عوف كان يقال له "حواري النبي" صلى الله عليه وسلم.أبو نعيم، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٨٩۔۔۔ ابراہیم بن عبد الرحمن کی روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن (رض) پر بیہوشی طاری ہوئی اور پھر افاقہ ہوا اور فرمایا : میرے پاس تندخو سخت مزاج دو فرشتے آئے اور کہنے لگے : ہمارے ساتھ چلو ہم تمہیں غالب و امین کی عدالت میں فیصلے کے لیے لے چلتے ہیں تاہم ان دونوں سے ایک اور فرشتے کی ملاقات ہوئی اس نے ان سے پوچھا تم اسے لیے کہاں جا رہے ہو ؟ وہ بولے : ہم اسے غالب و امین کی عدالت میں فیصلہ کے لیے لے جا رہے ہیں وہ فرشتہ بولا : اسے چھوڑ دو چونکہ یہ ابھی اپنی ماں کے پیٹ میں تھا کہ سعادت اس کا مقدر بن چکی تھی۔ (رواہ ابو نعیم وابن عساکر)
36689- "أيضا" عن إبراهيم بن عبد الرحمن قال: أغمي على عبد الرحمن بن عوف ثم أفاق فقال: إنه أتاني ملكان فظان غليظان فقالا لي: انطلق بنا نحاكمك إلى العزيز الأمين، فلقيهما ملك فقال لهما: أين تذهبان به؟ فقالا: نحاكمه إلى العزيز الأمين، قال: خليا عنه! فإنه ممن سبقت له السعادة وهو في بطن أمه. أبو نعيم، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٩٠۔۔۔ ” عبد الرحمن بن حمید بن عبد الرحمن بن عوف اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو فرماتے سنا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے ایک سال قبل یمن کا سفر کیا اور میں عسکلا ن بن عواکر حمیری کے ہاں مہمان بنا عسکلان بہت بوڑھا ہوچکا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے طویل عمر عطاء کی تھی حتیٰ کہ وہ چڑیا کے بچے جتنا ہوگیا تھا میں جب بھی یمن جاتا اسی کے ہی ٹھہرتا اور وہ مجھ سے اہل مکہ کی خبریں دریافت کرتا اور کہتا : کیا تمہارے درمیان کسی ایسے شخص کا ظہور ہوا ہے جو نئی خبر اور نئی بات لایا ہو کیا تم میں سے کوئی شخص اپنے دین کے متعلق خوفزدہ تو نہیں ؟ میں نفی میں جواب دے دیتا۔ حتیٰ کہ میں اس بار یمن آیا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوچکے تھے عسکلان نے مجھے کہا : کیا میں تمہیں ایک خوشخبری نہ سناؤں وہ تمہارے لیے تجارت سے بدرجہا افضل ہے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ضرور سناؤ۔ وہ بولا : اللہ تعالیٰ نے پہلے مہینہ میں تمہاری قوم میں سے ایک نبی مبعوث کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے لیے پسند فرمایا ہے ، اس پر کتاب نازل کی ہے اور اس پر ثواب کا وعدہ کیا ہے وہ بتوں کی پرستش سے روکتا ہے اور اسلام کی دعوت دیتا ہے وہ حق کا حکم دیتا ہے اور حق بجا لاتا ہے باطل سے روکتا ہے اور باطل کو ختم کرتا ہے اے عبد الرحمن وہ بنی ہاشم میں سے ہے اور تم لوگ اس کے ماموں ہو، اس واقعہ کو مخفی رکھنا اور جلدی جلدی واپس جاؤ اور اس کا ہاتھ تھام لو اس کے دست راست بن جاؤ اس کی تصدیق کرو اور میری طرف سے اسے یہ اشعار پہنچاؤ۔
اشھد باللہ ذی المعالی وفالق اللیل والصباح
میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہوں جو عالیشان ہے جو رات اور دن کو پھاڑ کر لانے والا ہے۔
انک فی السرو من قریش یا ابن المفدی من الذباح
بلاشبہ تم قریش کے رئیس سخی اور شریف انسان ہوا اے ذبح کرکے فدا ہونے والے کے بیٹے۔
ارسلت تدعو الی یقین ترشد للحق والفلاح
تجھے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے تو یقین کی دعوت دیتا ہے حق و فلاح و کامیابی کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔
ھد کرور السنین رکنی عن بکر السیر والرواح
سالھا سال کی جنگوں کا خاتمہ ہوا جب کہ ہوا اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔
فصرت حلسا لارض بیتی قدقص من قوتی جناحی
میں اپنے گھر کے فرش کی چٹائی بن کے رہ گیا ہوں اور میرے باز و قوت ابو یوت سے قاصر ہوچکے ہیں۔
اذا نای بالدیار بعد فانت حرزی ومستراحی
جب گھروں میں کوئی دور کی خبر قریب ہوجائے گی تو ہی میری حفاظت اور سامان راحت ہوگا۔
اشھد با اللہ رب موسی انک ارسلت بالنطاح
میں اللہ تعالیٰ کو جو موسیٰ کا رب ہے گواہ بناتا ہوں یقیناً تجھے غالب بنا کر بھیجا گیا ہے۔
فکن شفیعی الی ملیک یدعو البرایا الی الفلاح
لہٰذا رب تعالیٰ کے ہاں میرے سفارشی بن جاؤ اور اللہ تعالیٰ مخلوق کو فلاح کی طرف بلاتا ہے۔
حضرت عبد الرحمن (رض) کہتے ہیں میں نے اشعار یاد کرلیے اور مکہ واپس لوٹ آیا ابوبکر (رض) سے میری ملاقات ہوئی میں نے انھیں سارا واقعہ کہہ سنایا اور ابوبکر (رض) بولے : یہ ہیں محمد بن عبداللہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے ان کے پاس جاؤ چنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ خدیجہ (رض) کے گھر میں تھے جب آپ نے مجھے دیکھا ہنسنے لگے اور فرمایا : میں کھلے ہوئے چہرے کو دیکھ رہا ہوں اور اس کے لیے بھلائی کی امید کرتا ہوں تم اپنے پیچھے کیا چھوڑ کر آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا : اے محمد ! بھلا وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم میرے پاس ایک امانت لائے ہو یا بدست تمہارے میری طرف کسی نے پیغام بھیجا ہے وہ لاؤ، خبردار حمیر کے بیٹے خاص مومنین میں سے ہیں۔ عبد الرحمن (رض) کہتے ہیں : میں نے کلمہ شہادت پڑھا اور آپ کو مسکلان کے اشعار سنائے اور سارا واقعہ بھی سنایا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہت سارے لوگ ہیں جو مجھ پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ انھوں نے مجھے نہیں دیکھا اور بہت سارے لوگ میری تصدیق کرنے والے ہیں حالانکہ انھوں نے مجھے نہیں پایا یہ میرے سچے بھائی ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
اشھد باللہ ذی المعالی وفالق اللیل والصباح
میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہوں جو عالیشان ہے جو رات اور دن کو پھاڑ کر لانے والا ہے۔
انک فی السرو من قریش یا ابن المفدی من الذباح
بلاشبہ تم قریش کے رئیس سخی اور شریف انسان ہوا اے ذبح کرکے فدا ہونے والے کے بیٹے۔
ارسلت تدعو الی یقین ترشد للحق والفلاح
تجھے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے تو یقین کی دعوت دیتا ہے حق و فلاح و کامیابی کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔
ھد کرور السنین رکنی عن بکر السیر والرواح
سالھا سال کی جنگوں کا خاتمہ ہوا جب کہ ہوا اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔
فصرت حلسا لارض بیتی قدقص من قوتی جناحی
میں اپنے گھر کے فرش کی چٹائی بن کے رہ گیا ہوں اور میرے باز و قوت ابو یوت سے قاصر ہوچکے ہیں۔
اذا نای بالدیار بعد فانت حرزی ومستراحی
جب گھروں میں کوئی دور کی خبر قریب ہوجائے گی تو ہی میری حفاظت اور سامان راحت ہوگا۔
اشھد با اللہ رب موسی انک ارسلت بالنطاح
میں اللہ تعالیٰ کو جو موسیٰ کا رب ہے گواہ بناتا ہوں یقیناً تجھے غالب بنا کر بھیجا گیا ہے۔
فکن شفیعی الی ملیک یدعو البرایا الی الفلاح
لہٰذا رب تعالیٰ کے ہاں میرے سفارشی بن جاؤ اور اللہ تعالیٰ مخلوق کو فلاح کی طرف بلاتا ہے۔
حضرت عبد الرحمن (رض) کہتے ہیں میں نے اشعار یاد کرلیے اور مکہ واپس لوٹ آیا ابوبکر (رض) سے میری ملاقات ہوئی میں نے انھیں سارا واقعہ کہہ سنایا اور ابوبکر (رض) بولے : یہ ہیں محمد بن عبداللہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے ان کے پاس جاؤ چنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ خدیجہ (رض) کے گھر میں تھے جب آپ نے مجھے دیکھا ہنسنے لگے اور فرمایا : میں کھلے ہوئے چہرے کو دیکھ رہا ہوں اور اس کے لیے بھلائی کی امید کرتا ہوں تم اپنے پیچھے کیا چھوڑ کر آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا : اے محمد ! بھلا وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم میرے پاس ایک امانت لائے ہو یا بدست تمہارے میری طرف کسی نے پیغام بھیجا ہے وہ لاؤ، خبردار حمیر کے بیٹے خاص مومنین میں سے ہیں۔ عبد الرحمن (رض) کہتے ہیں : میں نے کلمہ شہادت پڑھا اور آپ کو مسکلان کے اشعار سنائے اور سارا واقعہ بھی سنایا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہت سارے لوگ ہیں جو مجھ پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ انھوں نے مجھے نہیں دیکھا اور بہت سارے لوگ میری تصدیق کرنے والے ہیں حالانکہ انھوں نے مجھے نہیں پایا یہ میرے سچے بھائی ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
36690- عن عبد الرحمن بن حميد بن عبد الرحمن بن عوف عن أبيه قال سمعت أبي يقول: سافرت إلى اليمن قبل مبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم بسنة فنزلت على عسكلان بن عواكر الحميري وكان شيخا كبيرا قد أنسئ له في العمر حتى كاد كالفرخ، وكنت لا أزال إذا قدمت اليمن أنزل عليه فيسائلني عن مكة ويقول: هل ظهر فيكم رجل له نبا1 له ذكر؟ هل خالف أحد منكم عليكم في دينكم؟ فأقول: لا، حتى قدمت القدمة التي بعث فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لي: ألا أبشرك ببشارة وهي خير لك من التجارة؟ قلت: بلى،قال: إن الله بعث في الشهر الأول من قومك نبيا ارتضاه صفيا، وأنزل عليه كتابا وجعل له ثوابا، ينهى عن الأصنام ويدعو إلى الإسلام، يأمر بالحق ويفعله وينهى عن الباطل ويبطله، هو من بني هاشم وأنتم أخواله يا عبد الرحمن! أخف الوقعة وعجل الرجعة، ثم امض ووازره وصدقه واحمل إليه هذه الأبيات:
أشهد بالله ذي المعالي ... وفالق الليل والصباح
إنك في السرو1 من قريش ... يا ابن المفدى من الذباح
أرسلت تدعو إلى يقين ... ترشد للحق والفلاح
هد كرور السنين ركني ... عن بكر السير والرواح
فصرت حلسا لأرض بيتي ... قد قص من قوتي جناحي
إذا نأى بالديار بعد ... فإنت حرزي ومستراحي
السرو: ومنه حديث أم زرع "فنكحت بعده سريا" أي نفيسا شريفا. وقيل: سخيا ذا مروءة، والجمع سراة بالفتح على غير قياس، وقد تضم السين، والاسم منه السرو.
ومنه حديث عمر "أنه مر بالنخع فقال: أرى السرو فيكم مربعا" أي أرى الشرف فيكم متمكنا.
وفي حديثه الآخر "لئن بقيت إلى قابل ليأتين الراعي بسرو حمير حقه لم يعرف جبينه فيه "السرو: ما انحدر من الجبل وارتفع عن الوادي في الأصل. النهاية 2/363. ب.
أشهد بالله رب موسى ... أنك أرسلت بالنطاح
فكن شفيعي إلى مليك ... يدعو البرايا إلى الفلاح
قال عبد الرحمن: فحفظت الأبيات ورجعت فقدمت مكة فلقيت أبا بكر فأخبرته الخبر، فقال: هذا محمد بن عبد الله قد بعثه الله رسولا إلى خلقه فأته، فأتيته وهو في بيت خديجة فأستأذنت عليه، فلما رآني ضحك فقال: أرى وجها خليقا أرجو له خيرا، ما وراءك يا أبا محمد؟ قلت: وما ذاك يا محمد؟ قال: حملت إلي وديعة أو أرسلك إلي مرسل برسالته فهاتها، أما! إن أبناء حمير من خواص المؤمنين، قال عبد الرحمن: فأسلمت وشهدت أن لا إله إلا الله وأنشدته شعره وأخبرته بقوله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: رب مؤمن لي ولم يرني ومصدق بي وما شهدني، أولئك إخواني حقا. "كر".
أشهد بالله ذي المعالي ... وفالق الليل والصباح
إنك في السرو1 من قريش ... يا ابن المفدى من الذباح
أرسلت تدعو إلى يقين ... ترشد للحق والفلاح
هد كرور السنين ركني ... عن بكر السير والرواح
فصرت حلسا لأرض بيتي ... قد قص من قوتي جناحي
إذا نأى بالديار بعد ... فإنت حرزي ومستراحي
السرو: ومنه حديث أم زرع "فنكحت بعده سريا" أي نفيسا شريفا. وقيل: سخيا ذا مروءة، والجمع سراة بالفتح على غير قياس، وقد تضم السين، والاسم منه السرو.
ومنه حديث عمر "أنه مر بالنخع فقال: أرى السرو فيكم مربعا" أي أرى الشرف فيكم متمكنا.
وفي حديثه الآخر "لئن بقيت إلى قابل ليأتين الراعي بسرو حمير حقه لم يعرف جبينه فيه "السرو: ما انحدر من الجبل وارتفع عن الوادي في الأصل. النهاية 2/363. ب.
أشهد بالله رب موسى ... أنك أرسلت بالنطاح
فكن شفيعي إلى مليك ... يدعو البرايا إلى الفلاح
قال عبد الرحمن: فحفظت الأبيات ورجعت فقدمت مكة فلقيت أبا بكر فأخبرته الخبر، فقال: هذا محمد بن عبد الله قد بعثه الله رسولا إلى خلقه فأته، فأتيته وهو في بيت خديجة فأستأذنت عليه، فلما رآني ضحك فقال: أرى وجها خليقا أرجو له خيرا، ما وراءك يا أبا محمد؟ قلت: وما ذاك يا محمد؟ قال: حملت إلي وديعة أو أرسلك إلي مرسل برسالته فهاتها، أما! إن أبناء حمير من خواص المؤمنين، قال عبد الرحمن: فأسلمت وشهدت أن لا إله إلا الله وأنشدته شعره وأخبرته بقوله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: رب مؤمن لي ولم يرني ومصدق بي وما شهدني، أولئك إخواني حقا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٩١۔۔۔ ” ایضاً “ ابراہیم بن سعد اپنے والد و دادا کی سند سے حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عبد الرحمن (رض) کے پاس پہنچے تو وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ چنانچہ عبد الرحمن (رض) نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد کیا کہ اپنی جگہ پر ٹکے رہو چنانچہ عبد الرحمن نے نماز پڑھائی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے پیچھے نماز پڑھی۔ (رواہ ابو یعلی وابن عساکر)
36691- "أيضا" عن إبراهيم بن سعد عن أبيه عن جده عن عبد الرحمن بن عوف أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما انتهى إلى عبد الرحمن بن عوف وهو يصلي بالناس أراد عبد الرحمن بن عوف أن يتأخر فأومى إليه النبي صلى الله عليه وسلم أن مكانك! فصلى وصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بصلاة عبد الرحمن. "ع، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٩٢۔۔۔ ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے عبد الرحمن ! تم مالدار لوگوں میں سے تم جنت میں گھسٹتے ہوئے داخل ہوگئے لہٰذا اللہ تعالیٰ کو قرض دو تاکہ وہ تمہارے قدموں کو آزاد کرے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو قرض دینا کیا ہے ؟ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبد الرحمن (رض) کو پیغام بھیجا کہ میرے پاس جبرائیل امین آئے اور کہا : عبد الرحمن کو حکم دو کہ وہ مہمان کی مہمان نوازی کرے جنگوں کے موقع پر مال دے اور مسکینوں کو کھانا کھلائے ۔ (رواہ ابن عدی وابن عساکر)
36692- عن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يا عبد الرحمن! إنك من الأغنياء ولن تدخل الجنة إلا زحفا، فأقرض الله يطلق لك قدميك، قال ابن عوف: يا رسول الله! فما الذي أقرض الله؟ فأرسل إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أتاني جبريل فقال: مر ابن عوف فليضف الضيف وليعط في النائبة ويطعم المسكين. "عد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٩٣۔۔۔ عبد الرحمن بن عوف (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے ابن عوف ! تم مالدار لوگوں میں سے ہو اور جنت میں گھسٹتے ہوئے داخل ہوگئے لہٰذا اللہ تعالیٰ کو قرض دو تاکہ تمہارے قدموں کو آزاد کر دے عرض کیا : میں کیا چیز اللہ تعالیٰ کو قرض دوں ؟ فرمایا : ایسا کرنے سے تم اس مشکل سے آزاد ہوجاؤ گے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا ساری مشکلات سے میں بےخوف ہوجاؤں گا فرمایا : جی ہاں ابن عوف (رض) دل میں یہ فکر لیے باہر نکلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس جبرائیل امین آئے اور فرمایا : ابن عوف کو حکم دو کہ مہمان کی مہمان نوازی کرے مسکینوں کو کھانا کھلائے سائل کو عطاء کرے اور اپنے عیال سے ابتداء کرے یوں جب وہ اس طرح کرے گا اپنی مشکل سے نکل جائے گا۔ (رواہ ابن عدی وابن عساکر)
36693- عن عبد الرحمن بن عوف أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ابن عوف! إنك من الأغنياء ولن تدخل الجنة إلا زحفا، فأقرض الله يطلق لك قدميك، قال: فما الذي أقرض الله يا رسول الله؟ قال: تبرأ مما أنت فيه، قال: أمن كلها جميع يا رسول الله؟ قال: نعم، فخرج ابن عوف وهو يهم بذلك، فأرسل إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أتاني جبريل قال: مر ابن عوف فليضف الضيف وليطعم المساكين وليعط السائل ويبدأ بمن يعول، فإذا فعل ذلك كان تزكية ما هو فيه. "عد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض)
٣٦٦٩٤۔۔۔ روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) ظہر سے قبل طویل نماز پڑھتے تھے۔ (رواہ ابن جریر)
36694- عن عبد الرحمن بن عوف أنه كان يطيل الصلاة قبل الظهر. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٦٩٥۔۔۔ ” مسند علی (رض) “ عبد خیر کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے خطاب کیا اور فرمایا : لوگوں میں سب سے افضل نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ابوبکر (رض) ہیں ابوبکر (رض) کے بعد عمر (رض) افضل ہیں اگر میں چاہوں تو تیرے کا بھی نام لے سکتا ہوں چنانچہ بعد میں آپ سے تیرے کے متعلق پوچھا گیا کہ وہ کون ہے آپ (رض) نے فرمایا : وہ شخص ہے جسے گائے کی طرح ذبح کردیا گیا ہے۔ (رواہ العدنی وابن ابی داؤد و ابو یعلی وابو نعیم فی الحلیۃ وابن عساکر)
36695- "مسند علي كرم الله وجهه" عن عبد خير قال: خطب علي فقال إن أفضل الناس بعد النبي صلى الله عليه وسلم أبو بكر، وأفضلهم بعد أبي بكر عمر، ولو شئت أن أسمي الثالث لسميته، فسئل عن الذي شئت أن تسميه؟ قال: المذبوح كما تذبح البقرة. العدني وابن أبي داود، "ع، حل، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٦٩٦۔۔” ایضاً “ عمرو بن حریث کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) کو منبر پر فرماتے سنا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ابوبکر عمر اور عثمان (رض) ہیں۔ رواہ ابو نعیم فی الحلیب وابن شامعین فی السنۃ وابن عساکر
36696- "أيضا" عن عمرو بن حريث قال سمعت علي بن أبي طالب على المنبر يقول: إن أفضل الناس بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم أبو بكر وعمر وعثمان - وفي لفظ: ثم عمر ثم عثمان."حل" وابن شاهين في السنة، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٦٩٧۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت تک دنیا سے رخصت نہیں ہوئے جب تک کہ مجھے بتا نہیں دیا کہ ان کے بعد خلیفہ ابوبکر ہوں گے پھر ان کے بعد عمر اور ان کے بعد عثمان پھر عثمان (رض) بعد خلافت کا بار میں اٹھاؤں گا۔ (رواہ ابن شاہین والفازی فی فضائل الصدیق وابن عساکر)
36697- عن علي قال: لم يقبض النبي صلى الله عليه وسلم حتى أسر إلي أن الخليفة من بعده أبو بكر، ثم من بعده عمر، ثم من بعده عثمان، ثم إلي الخلافة - وفي لفظ: ثم تلي الخلافة.
ابن شاهين والغازي في فضائل الصديق، "كر".
ابن شاهين والغازي في فضائل الصديق، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٦٩٨۔۔۔ نزال بن سبرہ کی روایت ہے ایک دن ہم نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) کو خوش خوش پایا ہم نے عرض کیا : اے امیر المومنین ہمیں اپنے اصحاب کے متعلق کچھ بتلائیے آپ (رض) نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہر صحابی میرا دوست ہے ہم نے کہا آپ ہمیں ابوبکر (رض) کے متعلق بتلائیں فرمایا : ابوبکر (رض) ایسے شخص تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے جبرائیل امین اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے صدیق کہلوایا ہے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ تھے اللہ نے انھیں ہمارے دین کے لیے پسند فرمایا اور ہم نے انھیں اپنی دنیا کے لیے پسند کیا : ہم نے عرض کیا : آپ ہمیں عمر بن خطاب (رض) کے متعلق بتلائیں آپ (رض) بولے : میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے : یا اللہ ! اسلام کو عمر بن خطاب (رض) کے ذریعے عزت عطا فرما۔ ہم نے کہا : آپ ہمیں عثمان بن عفان (رض) کے متعلق بتائیں : فرمایا اس شخص کو آسمانوں میں ” ذوالنورین “ کے نام سے پکارا جاتا ہے انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دو بیٹیوں سے شادی کی ہوئی تھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں جنت کی ضمانت دی ہوئی تھی۔ (رواہ خیثمۃ واللالکانی والعشاری فی فضائل الصدیق وابن عساکر)
36698- عن النزال بن سبرة قال: وافقنا من علي بن أبي طالب ذات يوم طيب نفس فقلنا: يا أمير المؤمنين حدثنا عن أصحابك، قال: كل أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أصحابي، قلنا: حدثنا عن أصحابك خاصة، فقال ما كان لرسول الله صلى الله عليه وسلم صاحب إلا كان لي صاحبا، قلنا: حدثنا عن أبي بكر الصديق: قال: ذاك امرؤ سماه الله صديقا على لسان جبريل ومحمد صلى الله عليه وسلم، كان خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم رضيه لديننا فرضيناه لدنيانا، قلنا: فحدثنا عن عمر بن الخطاب، قال: ذاك امرؤ سماه الله الفاروق ففرق بين الحق والباطل، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب، قلنا: فحدثنا عن عثمان بن عفان، قال: ذاك امرؤ يدعى في الملأ الأعلى "ذا النورين" كان ختن رسول الله صلى الله عليه وسلم على ابنتيه، ضمن له بيتا في الجنة."خيثمة واللالكائي والعشاري في فضائل الصديق، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٦٩٩۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت تک وفات نہیں پائی جب تک کہ ہم نے جان نہیں لیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد لوگوں میں سب سے افضل ابوبکر ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت تک وفات نہیں پائی جب تک کہ ہم نے پہچان نہیں لیا کہ ابوبکر کے بعد افضل عمر بن خطاب ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت تک وفات نہیں پائی جب تک کہ ہم نے پہچان نہیں لیا کہ عمر کے بعد افضل ایک اور شخص ہے چنانچہ حضرت علی (رض) نے اس شخص کا نام نہیں لیا۔ یعنی وہ عثمان (رض) ہیں۔ (رواہ ابی عاصم وابن النجار)
36699- عن علي قال: ما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى عرفنا أن أفضلنا بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم أبو بكر، وما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى عرفنا أن أفضلنا بعد أبي بكر عمر، وما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى عرفنا أن أفضلنا بعد عمر رجل آخر لم يسمه - يعني عثمان."ابن أبي عاصم وابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٠٠۔۔۔ سعد بن طرین اصبغ بن نباتہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی (رض) سے عرض کیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : اے اصبغ ابوبکر صدیق پھر عمر پھر عثمان اور پھر میں ہوں۔ تم نے سن لیا ورنہ تمہارے دونوں کان بہرے ہوجائیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے ورنہ دونوں آنکھیں اندھی ہوجائیں اور وہ فرماتے تھے اللہ تعالیٰ نے اسلام میں کوئی مولود نہیں پیدا کیا جو ابوبکر صدیق سے افضل ہو صاف ہو حقیقی ہو پرہیزگار ہو یا ان کے برابر ہو۔ (رواہ ابو العباس الولید بن احمد الزوزنی فی کتاب شجرۃ العقل)
36700- عن سعد بن طريف عن الأصبغ بن نباتة قال قلت لعلي: من خير الناس بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: أبو بكر الصديق ثم عمر ثم عثمان ثم أنا يا أصبغ! سمعت وإلا فصمتا ورأيت النبي صلى الله عليه وسلم وإلا فعميتا وهو يقول: ما خلق الله مولودا في الإسلام أنقى ولا أتقى ولا أزكى ولا أعدل ولا أفضل من أبي بكر الصديق."أبو العباس الوليد بن أحمد الزوزني في كتاب شجرة العقل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٠١۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن سب سے پہلے زمین مجھ سے ہٹے گی اور اس میں فخر نہیں : اللہ تعالیٰ مجھے ایسی کرامت و عزت عطاء فرمائے گا جو مجھے پہلے نہیں عطاء کی گئی پھر ایک منادی آواز لگائے گا : اے محمد ! اپنے خلفاء کو قریب لاؤ میں کہوں گا خلفاء کون ہیں اللہ جل جلالہ فرمائے گا عبداللہ ابوبکر صدیق چنانچہ میرے بعد ابوبکر (رض) پہلے شخص ہوں گے جن سے زمین ہٹے گی ابوبکر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں گے ان کا معمولی سا حساب ہوگا پھر انھیں سبز رنگ کے دو جوڑے پہنچا دئیے جائیں گے پھر انھیں فرش کے سامنے کھڑا کردیا جائے گا منادی ایک بار پھر آواز لگائے گا کہاں ہیں عمر بن خطاب (رض) ؟ چنانچہ عمر بن خطاب (رض) آئیں گے اور ان کی رگوں سے خون رس رہا ہوگا میں پوچھوں گا : اے عمر تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا ہے ؟ وہ کہیں گے : مغیرہ بن شعبہ کے غلام کے انھیں بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کردیا جائے گا اور ان کا بھی تھوڑا سا حساب ہوگا پھر انھیں دو سبز رنگ کے جوڑے پہنا دئیے جائیں گے پھر انھیں بھی عرش کے سامنے کھڑا کردیا جائے گا پھر حضرت علی (رض) لائے جائیں گے ان کے رگوں سے بھی خون رس رہا ہوں گا میں کہوں گا اے علی ! تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا ہے ؟ وہ جواب دیں گے : عبد الرحمن بن ملجم نے۔ انھیں بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور ان کا بھی تھوڑا سا حساب ہوگا پھر انھیں دو سبز جوڑے پہنا دئیے جائیں گے پھر انھیں عرش کے سامنے کھڑا کردیا جائے گا۔ (رواہ الزوزنی وفیہ علی بن صالح وقال الذھبی : لا یعرف ولہ خبر باطل وقال فی اللسان ذکرہ ابن حبان فی الثقات وقال روی عنہ اھل العراق مستقیم الحدیث)
36701- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنا أول من تنشق الأرض عنه ولا فخر! فيعطيني الله من الكرامة ما لم يعطني قبل! ثم ينادى مناد: يا محمد! قرب الخلفاء، فأقول: ومن الخلفاء؟ فيقول جل جلاله: عبد الله أبو بكر الصديق، فأول من تنشق الأرض عنه بعدي أبو بكر، ويقف بين يدي الله فيحاسب حسابا يسيرا ويكسى حلتين خضراوين ثم يوقف أمام العرش، ثم ينادي مناد: أين عمر بن الخطاب؟ فيجيء وأوداجه تشخب دما فأقول: عمر! من فعل هذا بك؟ فيقول: مولى المغيرة بن شعبة، فيوقف بين يدي الله فيحاسب حسابا يسيرا ثم يكسى حلتين خضراوين ثم يوقف أمام العرش؛ ثم يؤتى بعثمان بن عفان وأوداجه دما فأقول: عثمان! من فعل بك هذا؟ فيقول: فلان وفلان، فيوقف بين يدي الله فيحاسب حسابا يسيرا ثم يكسى حلتين خضراوين ثم يوقف أمام العرش؛ ثم يؤتى بعلي وأوداجه تشخب دما فأقول: علي! من فعل بك هذا؟ فيقول: عبد الرحمن بن ملجم، فيوقف
بين يدي الله فيحاسب حسابا يسيرا ثم يكسى حلتين خضراوين ثم يوقف أمام العرش مع أصحابه.الزوزني وفيه علي بن صالح، قال الذهبي: لا يعرف وله خبر باطل، وقال في اللسان ذكره "حب" في الثقات وقال: روى عنه أهل العراق، مستقيم الحديث.
بين يدي الله فيحاسب حسابا يسيرا ثم يكسى حلتين خضراوين ثم يوقف أمام العرش مع أصحابه.الزوزني وفيه علي بن صالح، قال الذهبي: لا يعرف وله خبر باطل، وقال في اللسان ذكره "حب" في الثقات وقال: روى عنه أهل العراق، مستقيم الحديث.
তাহকীক: