কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬৭১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٠٢۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے وصیت کی تھی کہ میرے بعد بار خلافت ابوبکر اٹھائیں گے اور بس لوگ ان پر اکٹھے ہوجائیں گے پھر ان کے بعد عمر (رض) بار خلافت اٹھائیں گے اور سب لوگ ان پر اتفاق کرلیں گے پھر عثمان بار خلافت اٹھائیں گے۔ (رواہ الزوزنی)
36702- عن علي قال: عهد إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أبا بكر يلي الخلافة من بعده فيجتمع الناس عليه، ثم يليها بعد أبي بكر عمر فيجتمع الناس عليه، ثم يليها عثمان."الزوزني".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٠٣۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے علی اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ابوبکر کو سربراہ بناؤں عمر کو مشیر مقرر کروں عثمان کو سہارا بناؤں اور اے علی تمہیں اپنا پشت پناہ بناؤں تم چار لوگ ہو تمہارا پختہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے کتاب میں لیا ہے تم سے صرف مومن ہی محبت کرے گا اور تم سے صرف فاجر و بدبخت بغض کرے گا تم میری نبوت کے خلفاء ہو میرے ذمہ کو پورا کرنے والے ہو میری امت پر محبت ہو ایک دوسرے سے قطع تعلقی مت کرو اور نہ ہی ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرو۔ (رواہ الزوزنی والخطیب وابو نعیم فی معجم شیوخہ وفی فضائل الصحابۃ والدیلمی وابن عساکر وابن النجار من طرق کلھا ضعفیہ)

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے اللآلی ١/٣٨٤۔
36703- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا علي: إن الله أمرني أن أتخذ أبا بكر والدا وعمر مشيرا وعثمان سندا وأنت يا علي ظهيرا، فأنتم أربعة قد أخذ الله ميثاقكم في أم الكتاب، لا يحبكم إلا مؤمن تقي ولا يبغضكم إلا فاجر شقي، أنتم خلائف نبوتي وعقد ذمتي وحجتي على أمتي، لا تقاطعوا ولا تدابروا. "الزوزني، خط وأبو نعيم في معجم شيوخه وفي فضائل الصحابة والديلمي، "كر" وابن النجار من طرق كلها ضعيفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٠٤۔۔۔ قاضی شریح کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اس امت کا سب سے افضل آدمی ابوبکر ہے پھر عمر پھر عثمان (رض) اور پھر میں ہوں۔ (رواہ ابن شاذان فی مشیختہ والخطیب وابن عساکر)
36704- عن شريح القاضي قال: سمعت علي بن أبي طالب يقول على المنبر: خير هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر ثم عمر ثم عثمان ثم أنا."ابن شاذان في مشيخته خط، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٠٥۔۔۔ عبد خیز کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کو وضو کرایا آپ (رض) نے فرمایا : میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح وضو کرایا تھا میں نے آپ سے عرض کیا یا رسول اللہ مخلوق میں سب سے پہلے حساب کے لیے کسے بلایا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : اے علی ! میں بلایا جاؤں گا پھر میں رب تعالیٰ کے حضور تھوڑے دیر کھڑا رہوں گا پھر جنت کی طرف دائیں جانب کا حکم ہوگا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر بلایا جائے گا ؟ پھر ابوبکر صدیق (رض) کو بلایا جائے گا اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے تھوڑی دیر کھڑے رہیں گے پھر انھیں دائیں جانب جنت کی طرف کا حکم ہوگا میں نے عرض کیا : پھر کسے بلایا جائے گا ؟ فرمایا : پھر عمر (رض) کو بلایا جائے گا اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے ابوبکر کی طرح کھڑے رہیں گے پھر انھیں بھی دائیں جانب جنت کی طرف حکم ہوگا ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! پھر کسے بلایا جائے گا ؟ فرمایا : اے علی ! پھر تمہیں بلایا جائے گا میں نے عرض کیا : عثمان بن عفان کہاں گئے فرمایا : وہ ایسا شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حیاء عطا کی ہے میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ اسے قیامت کے دن حساب کے لیے پیشی نہ ہوں اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق میری سفارش قبول فرمائی۔ (رواہ السلفی فی انتخاب حدیث الفداء وابن عساکر)
36705- عن عبد خير قال: وضأت علي بن أبي طالب فقال: يا عبد خير! وضأت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما وضأتني فقلت: يا رسول الله! من أول الخلق يدعى به إلى الحساب يوم القيامة؟ قال أنا يا علي! أقف بين يدي الله ساعة فيأمر بي ذات اليمين إلى الجنة قلت: ثم من يا رسول الله؟ قال: ثم أبو بكر الصديق، يقف بين يدي الله ساعة ثم يأمر به ذات اليمين إلى الجنة، قلت: ثم من يا رسول الله؟ قال: ثم عمر بن الخطاب فيقف بين يدي الله مثل ما وقف أبو بكر ثم يأمر به ذات اليمين، قلت: ثم من يا رسول الله؟ قال: ثم أنت يا علي! قلت: فأين عثمان بن عفان؟ قال: ذاك رجل رزق حياء، سألت الله ألا يوقفه للحساب فشفعني فيه. "السلفي في انتخاب حديث القراء، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٠٦۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب میں اسراء کے موقع پر ساتویں آسمان پر پہنچا مجھے جبرائیل امین نے کہا : اے محمد ! آگے ہوجائیں اللہ کی قسم یہ عزت و شرف نہ کسی نبی مرسل کو میرے رب تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی جب میں واپس لوٹا پردے کے پیچھے سے کسی منادی نے آواز لگائی : سب سے اچھا باپ تمہارا باپ ابراہیم ہے اور سب سے اچھا بھائی تمہارا بھائی علی ہے لہٰذا اس سے بھلائی کا معاملہ کرو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے جبرائیل : کیا میں قریش کے خبر دے دوں کہ میں نے رب تعالیٰ سے ملاقات کی ہے فرمایا : جی ہاں آپ نے فرمایا : قریش تو میری تکذیب کردیں گے جبرائیل امین نے اس پر کہا : ہرگز نہیں چونکہ ان میں ابوبکر صدیق بھی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاں صدیق کے لقب سے لکھا ہے وہ تمہاری تصدیق کرے گا۔ اے محمد ! میری طرف سے عمر کو سلام کہنا۔ (رواہ البیہقی فی فضائل الصحابی وابن الجوزی فی الواھیات وقال لایصح۔ چونکہ اس حدیث کی سند میں مسلم بن خالد رنحی ہے : ابن المدینی کہتے ہیں گولیس بشئ مصہ کہتے ہیں : وہ وہ شافعی مذہب کا مشہور امام ہے امام بخاری نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ابو حاتم نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے سابی کہتے ہیں : اس کی اکثر روایات غلط ہیں جب کہ ابن معین کہتے ہیں : لیس بہ باس ابن معین نے بسا اوقات اسے ثقہ اور کبھی ضعیف کہا ہے ابن عدی کہتے ہیں اس کی روایات لینے میں کوئی حرج نہیں اور وہ حدیث حسن کا راوی ہے)
36706- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لما أسري بي إلى السماء السابعة قال لي جبريل: تقدم يا محمد! فوالله ما نال هذه الكرامة ملك مقرب ولا نبي مرسل! فأوحى إلي ربي شيئا، فلما أن رجعت نادى مناد من وراء حجاب: نعم الأب أبوك إبراهيم! ونعم الأخ أخوك علي! فاستوص به خيرا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا جبريل! أخبر قريشا أني زرت ربي؟ قال: نعم، قال: تكذبني قريش، قال جبريل: كلا! فيهم أبو بكر وهو مكتوب عند الله الصديق وهو يصدقك، يا محمد! أقرئ عمر مني السلام. "ق في فضائل الصحابي وابن الجوزي في الواهيات وقال: لا يصح، فيه مسلم بن خالد الزنجي، قال ابن المديني: ليس بشيء، قلت: هو الفقيه المشهور الإمام الشافع ضعفه "خ، د" وأبو حاتم، وقال الساجي: كثير الغلط، وقال ابن معين: ليس به بأس، وقال مرة ثقة، وقال مرة: ضعيف، وقال "عد": أرجو أنه لا بأس به، هو حسن الحديث".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٠٧۔۔۔ براء بن عازب کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے فرمایا : تم جانتے ہو کہ عرش پر کیا ہے ؟ عرش پر لکھا ہے لالہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر الصدیق عمر الفاروق عثمان الشھید علی (رض) عہ الرضی۔ (رواہ ابن عساکر وفیہ محمد بن عامر کذاب)

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے اللآلی : ٢٩٩١۔
36707- عن البراء بن عازب قال: قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم: تدرون ما على العرش؟ مكتوب لا إله إلا الله محمد رسول الله، أبو بكر الصديق، عمر الفاروق، عثمان الشهيد، علي الرضي. "كر" وفيه محمد بن عامر كذاب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٠٨۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میرے صحابہ (رض) کو سوائے انبیاء مرسلین کے سارے عالم پر فوقیت بخشی ہے اور میرے صحابہ (رض) میں سے چار کو میرے لیے خصوصاً منتخب فرمایا : ابوبکر، عمر، عثمان، علی کو انھیں میرے صحابہ (رض) میں سب سے بہتر قرار دیا ہے یہ سب اہل علم ہیں میری امت کو ساری امتوں پر فوقیت بخشی ہے میری امت میں سے چار زمانوں کو منتخب فرمایا ہے۔ پہلا زمانہ دوسرا زمانہ اور تیسرا زمانہ پے در پے اور چوتھا زمانہ الگ ہے۔ (رواہ ابن عساکر)

کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الفاضلہ ٧٢
36708- عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله اختار أصحابي على جميع العالمين سوى النبيين والمرسلين واختار لي من أصحابي أربعة: أبا بكر وعمر وعثمان وعليا، فجعلهم خير أصحابي، كلهم خير، واختار أمتي على سائر الأمم، واختار من أمتي أربعة قرون بعد أصحابي: القرن الأول والثاني والثالث تترى، والرابع فرادى. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٠٩۔۔۔ ” مسند حذیفہ (رض) بن الیمان “ سالم بن ابی جعد حذیفہ (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے امارت کا تذکرہ کیا گیا آپ (رض) نے فرمایا : اگر تم اسے (ابوبکر کو) اپنا والی مقرر کرو تو بلاشبہ وہ امین مسلمان اور اللہ تعالیٰ کے حکم میں قوی ہے جب کہ اپنی ذات کے معاملہ میں کمزور ہے اگر عمر کو والی مقرر کرو تو وہ بھی امین مسلمان ہے اس کی راہوں میں کسی علامت گر کی ملامت آڑے نہیں آتی اگر تم علی کو والی مقرر کرو تو وہ ہدایت یافتہ ہے اور ہدایت دینے والا ہے وہ تمہیں بالکل سیدھی راہ پر لے جائے گا۔ (رواہ الخطیب وابن عساکر)
36709- "مسند حذيفة بن اليمان" عن سالم بن أبي الجعد عن حذيفة قال: ذكرت الإمارة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إن تولوه أمينا مسلما قويا في أمر الله ضعيفا في أمر نفسه، وإن تولوا عمر تولوه أمينا مسلما لا تأخذه في الله لومة لائم، وإن تولوا عليا تولوه هاديا مهديا يحملكم على المحجة. "خط، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧١٠۔۔۔ ” ایضاً “ زید بن یشع حذیفہ (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تم لوگ ابوبکر کو خلافت کے لیے منتخب کرو تو وہ دنیا سے الگ رہنے والا ہے اور آخرت کی طرف مائل ہونے والا ہے البتہ ان کے جسم میں کمزوری ہے اگر تم عمر کو اپنا والی مقرر کرو تو وہ قوی اور امانتدار شخص ہے اور اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی ملامت گر کی ملامت آڑے نہیں آتی اگر تم علی کو والی مقرر کرو وہ سیدھی راہ پر تمہاری مدد کرے گا۔ (رواہ ابن عساکر)

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ : ٢٠٤٥۔
36710- "أيضا" عن زيد بن يثيع عن حذيفة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن وليتموها أبا بكر فزاهد في الدنيا وراغب في الآخرة، في جسمه ضعف، وإن وليتموها عمر فقوي أمين لا تأخذه في الله لومة لائم، وإن وليتموها عليا يعنكم على طريق مستقيم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧١١۔۔۔ قطبہ (رض) کی حدیث ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا دراں حالیکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد قباء کی بنیاد رکھ رہے تھے آپ کے ساتھ ابوبکر (رض) عمر اور عثمان (رض) بھی تھے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کے ساتھ ان تین کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے آپ نے فرمایا : یہی لوگ میرے بعد بار خلافت اٹھائیں گے۔ (رواہ ابن عدی وابن عساکر وابن النجار)
36711- عن قطبة قال: مررت برسول الله صلى الله عليه وسلم وقد أسس أساس مسجد قباء ومعه أبو بكر وعمر وعثمان فقلت: يا رسول الله! أسست هذا المسجد وليس معك غير هؤلاء النفر الثلاثة، قال: إنهم ولاة الخلافة من بعدي - وفي لفظ: إن هؤلاء أولياء الخلافة بعدي. "عد، كر وابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧١٢۔۔۔ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے آپ کو دایاں ہاتھ حضرت ابوبکر (رض) کے ہاتھ میں تھا بایاں ہاتھ عمر (رض) نے ہاتھ میں تھا علی (رض) نے آپ کی چادر کا پلو پکڑ رکھا تھا جب کہ عثمان (رض) آپ کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے آپ نے فرمایا : رب کعبہ کی قسم ! ہم اسی طرح جنت میں داخل ہوں گے۔ (رواہ ابن عساکر)

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ : ٦٧٥٣ والمتناھیہ۔
36712- عن معاذ بن جبل قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ويمينه في يد أبي بكر ويساره في يد عمر وعلي آخذ بطرف ردائه وعثمان من خلفه فقال: هكذا ورب الكعبة ندخل الجنة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧١٣۔۔۔ حضرت معاذ بن جبل (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیا گیا اور دوسرے پلڑے میں میری امت رکھ دی گئی میرا پلڑا جھک گیا پھر ابوبکر (رض) کو ایک پلڑے میں رکھا گیا دوسرے پلڑے میں میری امیت رکھ دی گئی ابوبکر (رض) والا پلڑا جھک گیا پھر عمر (رض) کو ایک پلڑے میں رکھا گیا دوسرے پلڑے میں میری امت رکھی گئی۔ عثمان (رض) والا پلڑا جھک گیا پھر ترازو اٹھا لیا گیا۔ (رواہ ابن عساکر)
36713- عن معاذ بن جبل قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إني رأيت أني وضعت في كفة وأمتي في كفة فعدلتها، ثم وضع أبو بكر في كفة وأمتي في كفة فعدلها، ثم وضع عمر في كفة وأمتي في كفة فعدلها، ثم وضع عثمان في كفة وأمتي في كفة فعدلها؛ ثم رفع الميزان. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧١٤۔۔۔ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرہ کی روایت ہے کہ ہم حضرت معاویہ (رض) کے پاس وفد کی شکل میں حاضر ہوئے ہمارے ساتھ ابوبکر (رض) بھی تھے معاویہ (رض) نے کہا : اے ابوبکر (رض) ہمیں کوئی حدیث سناؤ جو تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہو ابوبکر (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اچھا خوب سنا دل کو بیانا تھا آپ سے خواب کی تعبیر لی جاتی تھی چنانچہ ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کسی شخص نے خواب دیکھا ہے ؟ صحابہ (رض) میں سے ایک شخص بولا : یا رسول اللہ ! میں نے آج رات خواب میں ترازو دیکھا جو آسمان سے لٹکا ہوا تھا۔ چنانچہ آپ کو اور ابوبکر کو ترازو میں تو لا گیا آپ کا پلڑا بھاری نکلا پھر ابوبکر و عمر (رض) کو ترازو میں رکھا گیا ابوبکر عمر (رض) پر بھاری نکلے پھر عمرو عثمان (رض) کا وزن کیا گیا عمر (رض) عثمان (رض) پر بھاری نکلے پھر ترازو اٹھا لیا گیا یا رسول اللہ ! آپ مجھے اس کی تعبیر بتلاوں چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی تعبیر بتلائی کہ اس سے مراد نبوت کی خلافت ہے پھر اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا بادشاہت عطا فرمائے گا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے ناحق کسی کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا حالانکہ جنت کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے پائی جاتی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمائی : حوض پر میرے پاس میرے صحابہ (رض) میں سے بہت سے لوگ وارد ہوں گے وہ جب میرے پاس لائے جائیں گے مجھ سے پرے ہی روک دئیے جائیں گے میں کہوں گا میرے صحابہ (رض) تو بہت سارے ہیں جواب دیا جائے گا : تمہیں نہیں معلوم کہ تمہارے بعد انھوں نے کہا کیا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36714- عن عبد الرحمن بن أبي بكرة قال: وفدنا إلى معاوية ومعنا أبو بكرة فقال: يا أبا بكرة! حدثنا بشيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال أبو بكرة: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم تعجبه الرؤيا الحسنة ويسأل عنها وأنه قال ذات يوم: أيكم رأى رؤيا؟ فقال رجل من القوم: أنا رأيت ميزانا دلي من السماء فوزنت أنت وأبو بكر فرجحت بأبي بكر ووزن فيه أبو بكر وعمر فرجح أبو بكر بعمر، ووزن فيه عمر وعثمان فرجح عمر بعثمان، ثم رفع الميزان؛ فاستأولها نبي الله صلى الله عليه وسلم أي أولها فقال: خلافة نبوة ويؤتي الله الملك من يشاء، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قتل نفسا معاهدة بغير حقها لم يجد ريح الجنة وإن ريحها ليوجد من مسيرة خمسمائة سنة، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليردن علي الحوض رجال ممن صحبني ورآني وإذا رفعوا إلي ورأيتهم اختلجوا دوني فأقول: رب! أصحابي - وفي لفظ: أصحابي - فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧١٥۔۔۔ حسن (رح) ابوبکر (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کے وقت فرماتے تم میں سے کسی شخص نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ ایک شخص بولا : میں نے خواب دیکھا ہے میں نے دیکھا گویا کہ آسمان سے ایک ترازو اترا ہے اس میں آپ کا اور ابوبکر (رض) کا وزن کیا گیا لیکن آپ وزن میں ابوبکر پر بھاری ہے، پھر عمر (رض) اور ابوبکر (رض) کا وزن کیا گیا لیکن ابوبکر (رض) عمر (رض) پر وزن میں بھاری نکلے پھر عمر (رض) اور عثمان (رض) کا وزن کیا گیا عمر (رض) والا پلڑا جھک گیا پھر ترازو اٹھا لیا گیا چنانچہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ اقدس پر ناپسندیدگی کے آثار نمایاں دیکھے۔ (رواہ الترمذی وابو یعلی والریانی ابن عساکر)
36715- عن الحسن عن أبي بكرة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أصبح قال: من رأى منكم رؤيا؟ فقال رجل: أنا رأيت كأن ميزانا نزل من السماء فوزنت أنت وأبو بكر فرجحت أنت بأبي بكر، ووزن عمر وأبو بكر فرجح أبو بكر بعمر، ووزن عمر وعثمان فرجح عمر، ثم رفع الميزان؛ فرأيت الكراهية في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ت1، ع والروياني، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧١٦۔۔۔ حضرت ابوبکر (رض) کی روایت ہے کہ ایک شخص رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اپنا صدقہ کسے ادا کروں ؟ فرمایا : مجھے ادا کرو۔ عرض کیا : اگر میں آپ کو نہ پاؤں ؟ فرمایا : ابوبکر کو دینا عرض کیا : اگر انھیں بھی نہ پاؤں تو فرمایا : عمر کو دینا عرض کیا اگر انھیں بھی نہ پاؤں ؟ فرمایا : عثمان کو دینا پھر وہ شخص منہ پھیر کر واپس چلا گیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہی اشخاص میرے بعد میرے خلفاء ہوں گے۔ (رواہ نعیم بن صحار فی الفتن والبیہقی فی فضائل الصحابہ وابن عساکر)
36716- عن أبي بكرة قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له: إلى من أؤدي صدقة مالي! قال: إلي، قال: فإن لم أجدك؟ قال: إلى أبي بكر، قال: فإن لم أجده؟ قال: إلى عمر، قال: فإن لم أجده؟ قال: إلى عثمان؛ ثم ولى منصرفا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: هؤلاء الخلفاء من بعدي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
36717 ۔۔۔ حضرت سفینہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ نے مسجد تعمیر فرمائی اور پتھر رکھنے پر فرمایا کہ میرے پتھر کے برابر میں ابوبکر کو چاہیے کہ وہ پتھر رکھیں پھر فرمایا کہ ابوبکر کے برابر میں عمر کو پتھر رکھنا چاہیے ، پھر فرمایا کہ عثمان کو عمر کے پتھر کے برابر پتھر رکھنا چاہیے پھر فرمایا کہ یہ خلفاء ہیں میرے بعد اور ایک روایت میں ہے کہ یہی لوگ خلافت کے والی ہیں میرے بعد۔ رواہ نعیم بن حماد فی الفتن متفق علیہ فی فضائل الصحابۃ ابن عساکر۔
36717- عن سفينة قال: لما بنى رسول الله صلى الله عليه وسلم مسجد المدينة جاء أبو بكر بحجر فوضعه، ثم جاء عمر بحجر فوضعه، ثم جاء عثمان بحجر فوضعه؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هؤلاء الخلفاء من بعدي - وفي لفظ: هؤلاء ولاة الأمر من بعدي.نعيم بن حماد في الفتن، "ق" في فضائل الصحابة، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧١٨۔۔۔ حضرت سفینہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد کی بنیاد رکھی اور ایک پتھر نصب کیا پھر ارشاد فرمایا : میرے پتھر کے ساتھ ابوبکر پتھر رکھے پھر فرمایا : ابوبکر (رض) کے پتھر کے ساتھ عمر (رض) پتھر رکھے پھر فرمایا : عمر کے پتھر کے ساتھ عثمان پتھر رکھے پھر فرمایا : میرے بعد یہی لوگ میرے خلفاء ہوں گے۔ (رواہ ابو یعلی وابن عدی والبیہقی فی فضائل الصحاب وابن عساکر)
36718- عن سفينة قال: بنى رسول الله صلى الله عليه وسلم المسجد ووضع حجرا وقال: ليضع أبو بكر حجرا إلى جنب حجري، ثم قال: ليضع عمر حجرا إلى جنب حجر أبي بكر، ثم قال: ليضع عثمان حجرا إلى جنب حجر عمر؛ ثم قال: هؤلاء الخلفاء من بعدي. "ع، عد، ق" في فضائل الصحابة، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧١٩۔۔۔ حضرت ابو درداء (رض) کی روایت ہے کہ جب حراء پہاڑ ہلنے لگا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے حرا ! رک جا تیرے اوپر یا تو ایک نبی ہے یا ایک صدیق یعنی ابوبکر ہے یا فاروق یعنی عمر (رض) ہے یا پرہیزگار شخص یعنی عثمان ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36719- عن أبي الدرداء أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لما اهتز الجبل: اهدأ حراء! فما عليك إلا نبي أو صديق أبو بكر أو الفاروق عمر أو التقي عثمان. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٢٠۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ صبح صبح رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : میں نے صبح سے قبل ایک خواب دیکھا گویا کہ مجھے کنجیاں اور بہت سارے ترازو دے دئیے گئے ہیں رہیں کنجیاں سو یہ وہی ہیں جنہیں تم چابیاں کہتے ہو اور ترازو ہی ہیں جن سے تم وزن کرتے ہو چنانچہ مجھے ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور دوسرے پلڑے میں میری امت رکھ دی گئی میں امت پر راجح رہا پھر ابوبکر (رض) لائے گئے اور وہ بھی میری امت پر بھاری نکلے پھر عمر لائے گئے ان کا پلڑا بھی جھک گیا پھر عثمان لائے گئے اور وہ بھی میری امت پر بھاری رہے پھر میں بیدار ہوگیا اور ترازو اٹھا لیا گیا۔ (رواہ ابن عساکر)
36720- عن عائشة رضي الله عنها قالت: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم غداة فقال: رأيت قبل الغداة كأنما أعطيت المقاليد والموازين، فأما المقاليد فهذه المفاتيح، وأما الموازين فهذه التي يزنون بها، فوضعت في إحدى الكفتين ووضعت أمتي في أخرى فوزنت فرجحت بهم، ثم جيء بأبي بكر فوزن فوزنهم، ثم جيء بعمر فوزن فوزنهم، ثم جيء بعثمان فوزن فوزنهم، ثم استيقظت ورفعت. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٢١۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) جو کہ کثیر تعداد میں تھے کہا : کرتے تھے : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اس امت میں سب سے افضل ابوبکر ہیں پھر عمر اور پھر عثمان اس کے بعد ہم خاموش ہوجاتے تھے۔ (رواہ الشاشی وابن عساکر)

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ : ٥٨٨۔
36721- عن أبي هريرة قال: كنا معاشر أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن متوافرون نقول: أفضل هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر ثم عمر ثم عثمان - ثم نسكت. الشاشي، "كر".
tahqiq

তাহকীক: