কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬৭৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٢٢۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حراء پہاڑ پر تھے یکایک پہاڑ ہلنے لگا آپ نے فرمایا : اے حراء سکون میں آجا تیرے اوپر تو ایک نبی ہے یا صدیق ہے یا شہید ہے پہاڑ پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر عمرو عثمان (رض) تھے۔ (رواہ ابن عساکر)
36722- عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان على حراء فتحرك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اسكن حراء! فما عليك إلا نبي أو صديق أو شهيد - وكان عليه النبي صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر وعثمان. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٢٣۔۔۔ شعبی بنی مصطلق کے ایک شخص سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میری قوم بنی مصطلق نے مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھیجا کہ میں آپ سے پوچھوں آپ کے بعد بنی مصطلق کسے صدقات دیں میں نے آپ نے پوچھا : فرمایا : ابوبکر کو دیں میری ملاقات حضرت علی (رض) سے ہوئی میں نے ان میں خبر کی انھوں نے کہا : واپس جاؤ اور پوچھو ابوبکر (رض) کے بعد کسے دیں ؟ میں نے آپ سے پوچھا : فرمایا : ابوبکر کے بعد عمر کو دیں میں نے علی (رض) کو بتایا : انھوں نے کہا : واپس جاؤ اور پوچھو ان کے بعد کسے دیں میں نے آپ سے پوچھا : فرمایا : عمر کے بعد عثمان کو دیں میں نے علی (رض) کو خبر کی انھوں نے کہا : واپس جاؤ اور پوچھو ان کے بعد کسے دیں میں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بار بار جانے پر مجھے حیاء آتی ہے۔ (رواہ نعیم بن حماد فی الفتن)
36723- عن الشعبي عن رجل من بني المصطلق قال: بعثني قومي بنو المصطلق إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم أسأله إلى من ندفع صدقاتنا بعده فأتيته فقال: ادفعوها إلى أبي بكر، فلقيت عليا فأخبرته فقال: ارجع إليه فاسأله إلى من يدفعونها بعد أبي بكر؟ فسألته فقال: ادفعوها إلى عمر بعده، فأخبرت عليا فقال: ارجع إليه فاسأله إلى من يدفعونها بعد عمر؟ فسألته فقال: ادفعوها إلى عثمان بعده، فأخبرت عليا فقال: ارجع إليه فاسأله إلى من يدفعونها بعد عثمان: فقلت: إني لأستحيي أن أرجع إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد هذا. "نعيم بن حماد في الفتن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٢٤۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں مسجد کی بنیاد رکھی تو ابوبکر (رض) ایک پتھر لیتے آئے آپ نے وہ پتھر نصب کیا پھر عمر (رض) ایک پتھر لائے آپ نے وہ بھی نصب کیا پھر عثمان (رض) ایک پتھر لائے آپ نے وہ بھی نصب کیا اور پھر ارشاد فرمایا : میرے بعد یہی لوگ بار خلافت اٹھائیں گے۔ (رواہ ابو نعیم)
36724- عن عائشة قالت: لما أسس رسول الله صلى الله عليه وسلم مسجد المدينة جاء أبو بكر بحجر فوضعه، ثم جاء عمر بحجر فوضعه، ثم جاء عثمان بحجر فوضعه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هؤلاء يلون الخلافة بعدي. "نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٢٥۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز پڑھ لیتے صحابہ (رض) کی طرف چہرہ اقدس فرماتے : کیا تمہارے درمیان کوئی مریض ہے جس کی میں عبادت کروں ؟ صحابہ (رض) فرض کرتے نہیں فرماتے : کیا تمہارے درمیان کوئی جنازہ ہے جس کے ساتھ میں بھی چلوں ؟ عرض کرتے : نہیں فرماتے : تم میں سے کسی شخص نے کوئی خواب دیکھا ہے جسے وہ بیان کرے ؟ چنانچہ ایک شخص بولا : میں نے آج رات خواب دیکھا ہے گویا کہ آسمان سے ایک ترازو اترا ہے ایک پلڑے میں آپ رکھ دئیے گئے ہیں اور دوسرے پلڑے میں ابوبکر تاہم ابوبکر (رض) والا پلڑا ہلکا رہا۔ پھر دوسرے پلڑے میں عمر (رض) لائے گئے چنانچہ ابوبکر (رض) والا پلڑا جھک گیا پھر عثمان (رض) لائے گئے ان کے مقابلہ میں عمر (رض) والا پلڑا جھک گیا پھر ترازو اٹھا لیا گیا چنانچہ اس کے بعد رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

نے خواب کے متعلق سوال نہیں کیا۔
36725- عن ابن عمر قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا صلى بالناس الغداة أقبل عليهم بوجهه فقال: هل فيكم مريض أعوده؟ فإن قالوا: لا، قال: هل فيكم جنازة أتبعها؟ فإن قالوا: لا، قال: من رأى منكم رؤيا يقصها علينا، فقال رجل: رأيت البارحة كأنه نزل ميزان من السماء فوضعت في إحدى الكفتين ووضع أبو بكر في الكفة الأخرى فشلت به، ثم أخرج أبو بكر من الكفة الأخرى فجيء بعمر فوضع في الكفة فشال به أبو بكر، ثم جيء بعثمان فوضع في الكفة فشال به عمر، ثم رفع الميزان، فما كان من رسول الله صلى الله عليه وسلم يسألهم عن الرؤيا بعد. " ... ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٢٦۔۔۔ عبداللہ بن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک باغ میں تھے ارشاد فرمایا : تمہارے پاس اہل جنت میں سے ایک شخص آیا چاہتا ہے دوسرا پھر تیسرا اور پھر چوتھا۔ چنانچہ ابوبکر داخل ہوئے پھر عمر پھر عثمان اور پھر علی (رض) داخل ہوئے آپ نے فرمایا : تمہیں جنت کی خوشخبری ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36726- عن ابن مسعود قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في حائط فقال: يدخل عليكم رجل من أهل الجنة والثاني والثالث والرابع، فدخل أبو بكر ثم جاء عمر ثم جاء علي - وقال: أبشر بالجنة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٢٧۔۔۔ شعبی کی روایت ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پانچ سو سے زائد صحابہ (رض) پائے ہیں وہ سب کہتے تھے : ابوبکر (رض) عمر (رض) عثمان (رض) علی (رض)۔ (رواہ ابن عساکر)
36727- عن الشعبي قال: أدركت خمسمائة من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم كلهم يقولون: أبو بكر وعمر وعثمان وعلي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٢٨۔۔۔ عرفحہ اشجعی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی پھر آپ بیٹھ گئے اور فرمایا : آج رات میرے صحابہ (رض) کا وزن کیا گیا ابوبکر کا وزن کیا گیا وہ بھاری نکلے پھر عمر (رض) کا وزن کیا گیا وہ بھی بھاری رہے پھر عثمان (رض) کا وزن کیا گیا تاہم ان میں قدرے نرمی تھی اور وہ نیک آدمی ہیں۔ (رواہ الشیرازی فی الالقاب وابن مندہ وقال : غریب وابن عساکر)
36728- عن عرفجة الأشجعي قال: صلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم الفجر ثم جلس فقال: وزن أصحابي الليلة فوزن أبو بكر فوزن، ثم وزن عمر فوزنه، ثم وزن عثمان فجف وهو صالح.

الشيرازي في الألقاب وابن منده وقال: غريب، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٢٩۔۔۔ عصمہ بن مالک اشجعی (رض) کی روایت ہے کہ بنو خزاعہ کا ایک شخص حضرت علی (رض) سے ملا علی (رض) نے پوچھا : تم کیوں آئے ہو کہا : میں آیا ہوں تاکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھوں کہ جب اللہ تعالیٰ انھیں اپنے پاس بلالے گا پھر تو ہم اپنے صدقات کسے دیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابوبکر (رض) کو دینا ۔ عرض کیا : جب اللہ تعالیٰ ان کی روح قبض کرلے تو پھر ؟ فرمایا : عمر کو دینا اس شخص نے عرض کیا : جب عمر (رض) دنیا سے رخصت ہوگئے تو پھر فرمایا : عثمان (رض) کو دینا عرض کیا : جب عثمان (رض) دنیا سے رخصت ہوجائیں تو پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس وقت تم خود غور خوض کرلو۔ (رواہ ابن عساکر)
36729- عن عصمة بن مالك الحطمى قال: قدم رجل من خزاعة فلقيه علي فقال: ما جاء بك؟ قال: جئت أسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى من ندفع صدقة أموالنا إذا قبضه الله، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إلى أبي بكر، قال: وإذا قبض الله أبا بكر فإلى من؟ قال: إلى عمر، قال: فإذا قبض الله عمر فإلى من؟ قال: إلى عثمان، قال: فإذا قبض الله عثمان فإلى من؟ قال: انظروا لأنفسكم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٣٠۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : جو شخص ابوبکر سے محبت کرے گا وہ قیامت کے دن ابوبکر (رض) کے ساتھ ہوگا جہاں وہ جائیں گے ان کے ساتھ وہ بھی جائے گا جو شخص عمر (رض) سے محبت کرے گا وہ بھی عمر (رض) کے ساتھ ہوگا جہاں جائیں گے ان کے ساتھ ہوگا جو عثمان (رض) سے محبت کرے گا وہ بھی عثمان (رض) کے ساتھ ہوگا اور جو شخص مجھ سے محبت کرے گا وہ میرے ساتھ ہوگا اور جو شخص ان چاروں سے محبت کرے گا جنت کی طرف اسے لے جانے والے یہ چاروں ہوں گے۔ (رواہ ابن عساکر)
36730- عن علي قال: من أحب أبا بكر فإنه يوم القيامة مع أبي بكر وصار معه حيث يصير، ومن أحب عمر كان مع عمر حيث يصير، ومن أحب عثمان كان مع عثمان، ومن أحبني كان

معي، ومن أحب هؤلاء الأربعة كان قائده هؤلاء الأربعة إلى الجنة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٣١۔۔۔ ابو الھیعہ یزید بن ابی حبیب کی سند سے ایک شخص عہد خیر سے روایت نقل کرتا ہے عبد خیر کہتے ہیں میں نے حضرت علی (رض) کو وضو کرایا حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں نے بھی اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کرایا تھا جس طرح تم نے مجھے وضو کرایا ہے میں نے عرض کیا : قیامت کے دن سب سے پہلے حساب کے لیے کسے بلایا جائے گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے بلایا جائے گا پھر میں اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوجاؤں گا جتنی مدت اللہ چاہے گا پھر میں نکل جاؤں گا جب کہ اللہ تعالیٰ نے میری بخشش کردی ہوگی میں نے عرض کیا : پھر کسے حساب کے لیے بلایا جائے گا ؟ فرمایا : ابوبکر کو وہ بھی میری طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں گے پھر چل پڑیں گے اللہ تعالیٰ ان کی بخشش کر دے گا میں نے عرض کیا : پھر حساب کے لیے کسے بلایا جائے گا ؟ فرمایا : عمر کو وہ بھی ابوبکر (رض) کی طرح کھڑے رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی بھی مغفرت کر دے گا میں نے عرض کیا : پھر کون حساب کے لیے لایا جائے گا آپ نے پھر میرا نام لیا میں نے عرض کیا عثمان : کہاں چلے گئے فرمایا : عثمان حیا دار انسان ہے میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ اسے حساب کے لیے کھڑا نہ کرے اللہ تعالیٰ نے میری سفارش قبول فرمائی۔ (رواہ ابن عساکر)
36731- عن أبي لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب عن رجل عن عبد خير قال: وضأت عليا، فقال: وضأت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما وضأتني فقلت: من أول من يدعى إلى الحساب يوم القيامة؟ قال: أنا، أقف بين يدي الله ما شاء الله ثم أخرج وقد غفر الله لي، قلت: ثم من؟ قال: أبو بكر، يقف كما وقفت مرتين ثم يخرج وقد غفر الله له، قلت: ثم من؟ قال: عمر، يقف كما وقف أبو بكر مرتين ثم يخرج وقد غفر الله له، قلت: ثم من؟ قال: ثم أنا، قلت: وأين عثمان يا رسول الله؟ قال: عثمان رجل ذو حياء! سألت ربي أن لا يوقفه الحساب فشفعني. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٣٢۔۔۔ ” مسند علی “ سعد بن طریق اصبغ بن نباتہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے علی (رض) سے عرض کیا : اے امیر المومنین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد لوگوں میں سب سے افضل کون ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : ابوبکر میں نے پوچھا : پھر کون ؟ فرمایا : عمر میں نے پوچھا پھر کون ؟ فرمایا : عثمان میں نے عرض کیا پھر کون ؟ فرمایا : پھر میں ہوں میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان دو آنکھوں سے دیکھا ہے ورنہ یہ آنکھیں اندھی ہوجائیں میں نے آپ کو ان دو کانوں سے سنا ہے ورنہ یہ کان بہرے ہوجائیں۔ چنانچہ آپ (رض) فرماتے تھے : اسلام میں کوئی شخص ایسا نہیں پیدا ہوا جو ابوبکر و عمر سے زیادہ پرہیزگار پاکباز اور افضل ہو۔ (رواہ ابن عساکر)
36732- "مسند علي" عن سعد بن طريف عن الأصبغ بن نباتة قال: قلت لعلي: يا أمير المؤمنين؟ من خير الناس بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: أبو بكر، قلت: ثم من؟ قال عمر، قلت: ثم من؟ قال: عثمان، قلت: ثم من؟ قال: أنا، رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بعيني هاتين وإلا فعميتا وبأذني هاتين وإلا فصمتا يقول: ما ولد في الإسلام مولود أزكى ولا أطهر ولا أفضل من أبي بكر ثم عمر. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٣٣۔۔۔ ” ایضاً “ ابو حفص عمر بن عبد المجید المیانشی (نے مجالس مکیہ میں لکھا) شیخ امام زین الدین ابو محمد عبداللہ شمیلہ بن ابی ہاشم حسنی شیخ امام زاہد ابو سعید محمد بن سعید ریحانی (یہ ١٢٠ سال زندہ رہے) سالم بن عبداللہ بن سالم (یہ ١٣٠ سال زندہ رہے) ابو دینا اشج کہتے ہیں مجھے حضرت علی (رض) نے حدیث بیان کی کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عرش صرف ابوبکر عمر عثمان اور علی (رض) کی محبت ہی سے ثابت رہ سکتا ہے اور عرش کے ارکان صرف جبرائیل ، میکائیل ، اسرافیل اور اللہ عزوجل کے خادم فرشتوں ہی کی محبت سے اٹھایا جاسکتا ہے۔

کلام : ۔۔۔ میانشی کہتے ہیں یہ حدیث درجہ حسن میں ہے اور یہ حسن کے درجہ تک پہنچی ہے مصنف کہتے ہیں : شیخ جلال الدین سیوطی (رح) کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! یہ حدیث نہ حسن ہے اور نہ ہی ضعیف ہے بلکہ باطل ہے چونکہ ابو دنیا بڑے بڑے کذابوں میں سے ایک کذاب ہے چنانچہ تین سو سال کے بعد اس نے دعوی کردیا کہ اس نے حضرت علی (رض) سے سماع کیا ہے تاہم لوگوں نے سختی سے اس کی تکذیب کی ہے تعجب تو میانشی کے قول سے ہوا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔
36733- "أيضا" قال أبو حفص عمر بن عبد المجيد الميانشي في المجالس المكية ثنا الشيخ الإمام زين الدين أبو محمد عبد الله شميلة بن أبي هاشم الحسني حدثنا الشيخ الإمام الزاهد أبو سعيد محمد بن سعيد الريحاني وعاش مائة وعشرين سنة ثنا سالم بن عبد الله بن سالم وعاش مائة وثلاثين سنة ثنى أبو الدنيا الأشج ثنى علي بن أبي طالب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما ثبت العرش إلا بحب أبي بكر وعمر وعثمان وعلي، وما رفع أركان العرش إلا بحب جبريل وميكائيل وإسرافيل وما خدم الله أجل منهم. قال الميانشي: هذا حديث حسن ورد إلينا كما نقلنا وهو خماسي في غاية العلو، قلت: قال الشيخ جلال الدين السيوطي لا والله! ما هو بحسن ولا ضعيف بل باطل وأبو الدنيا أحد الكذابين الكبار، ادعى بعد الثلاثمائة أنه سمع من علي فكذبه الناس، والعجب من قول الميانشي: إنه حسن.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٣٤۔۔۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے اپنے نام اور اپنے آباء کے نام لکھے ہوئے ہیں حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا جائیں ہمیں ان لوگوں کے متعلق بتائیں : آپ نے فرمایا : ہاں تم انہی میں سے ہو عمر بھی انہی میں سے ہے اور عثمان بھی انہی میں سے ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36734- عن عبد الرحمن بن عوف قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن عند الله رجالا مكتوبين بأسمائهم وأسماء آبائهم، فقال أبو بكر: بأبي وأمي يا رسول الله! أخبرنا بهم، قال: أما إنك منهم وعمر منهم وعثمان منهم.

"كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع فضائل ہائے خلفاء
٣٦٧٣٥۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ ان چار صحابہ (رض) کی محبت صرف کسی مومن کے دل ہی میں جمع ہوسکتی ہے یعنی ابوبکر ، عمر، عثمان اور علی (رض) اجمعین کی محبت۔ (رواہ ابن عساکر)
36735- عن أنس قال: لا يجتمع حب هؤلاء الأربعة إلا في قلب مؤمن: أبو بكر وعمر وعثمان وعلي. "كر". جامع العشرة المبشرة رضي الله عنهم
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقبہائے عشرہ مبشرہ (رض)
٣٦٧٣٦۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی روایت ہے کہ جب حضرت عمر (رض) زخمی کر دئیے گئے اور آپ (رض) نے امر خلافت کے متعلق شوریٰ قائم کردی آپ کی خدمت میں حضرت حفصہ (رض) داخل ہوئیں اور عرض کیا : اے ابا جان ! لوگ کہتے ہیں یہ چھ لوگ پسندیدہ نہیں ہیں عمر (رض) نے فرمایا : مجھے سہارا دوں لوگوں نے آپ کو سہارا دے کر بیٹھایا آپ نے فرمایا : علی بن ابی طالب کے متعلق لوگ کچھ نہ کہیں چونکہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ اے علی ! میرے ہاتھ میں ہاتھ دو قیامت کے دن میرے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے عثمان بن عفان کے متعلق بھی کچھ نہ کہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے جس دن عثمان (رض) کو موت آئے گی اس پر آسمان کے فرشتے نماز پڑھیں گے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! خصوصاً عثمان (رض) کے لیے یا سب مومنین کے لیے فرمایا : خصوصاً عثمان کے لیے طلحہ بن عبید اللہ کے متعلق کچھ نہ کہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک رات فرماتے سنا ہے درآنحالیکہ آپ کا کجاوہ گرنے لگا تھا آپ نے فرمایا : میرا کجاوہ جو درست کرے گا جنت میں داخل ہوگا طلحہ (رض) نے بھاگ کر کجاوہ درست کیا اور آپ (رض) سواری پر سوار ہوئے پھر فرمایا : اے طلحہ ! یہ جبرائیل کھڑے ہیں اور تمہیں سلام کہہ رہے ہیں اور کہتے ہیں قیامت کی ہول ناکیوں میں میں تمہارے ساتھ رہوں گا حتیٰ کہ تمہیں ان سے نکال لوں ۔ زبیر بن عوام کے متعلق بھی نہ کہیں چونکہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک دن سوتے ہوئے دیکھا اور آپ کے پاس زبری (رض) چہرہ اقدس سے مکھیاں دفع کرنے بیٹھ گئے حتیٰ کہ جب آپ بیدار ہوئے ارشاد فرمایا : اے ابو عبداللہ : تم یہاں سے گئے نہیں ہو جواب دیا : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں میں نہیں گیا : آپ نے ارشاد فرمایا : یہ جبرائیل کھڑے ہیں تمہیں سلام کہہ رہے ہیں اور کہتے ہیں : قیامت کے دن میں تمہارے ساتھ ہوں گا حتیٰ کہ جہنم کو تم سے دور کردوں سعد بن ابی وقاص کے متعلق بھی کچھ نہ کہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے بدر کے دن جب کہ سعد نے اپنی کمان میں چودہ مرتبہ و تر ڈالا فرمایا : تم پر میرے ماں باپ فدا جائیں تیر برساؤ عبد الرحمن بن عوف کے بارے میں بھی کچھ نہ کہیں چنانچہ میں نے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فاطمہ (رض) کے گھر میں دیکھا جب کہ حسن (رض) اور حسین (رض) مارے بھوک کے رو رہے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارے پاس کون شخص کوئی چیز لائے گا ؟ چنانچہ عبد الرحمن بن عوف (رض) ایک برتن لیے نمودار ہوئے اس میں حلوا اور دو روٹیاں تھیں روٹیوں کے درمیان چربی رکھی تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ دنیا میں تمہاری کفایر کرے اور تمہاری آخرت کا میں ضامن ہوں۔ (رواہ اماذ بن المثنی فی زیارات مسند مسدد والطبرانی فی الاوسط وابو نعیم فی الفضائل للصحابۃ وابو بکر الشافعی فی الغیلانیات وابو الحسن بن بشران فی فوائدہ والخطیب فی تلخیص المتشابہ وابن عساکر والدیلمی وسندہ صحیح)
36736- عن عبد الله بن عمر قال: لما طعن عمر بن الخطاب وأمر بالشورى دخلت عليه حفصة فقالت له: يا أبت! إن الناس يزعمون أن هؤلاء الستة ليسوا برضا، فقال: اسندوني، فأسندوه، فقال: ما عسى أن يقولوا في علي بن أبي طالب! سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: يا علي! مد يدك في يدي تدخل معي يوم القيامة حيث أدخل؟ ما عسى أن يقولوا في عثمان بن عفان! سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: يوم يموت عثمان تصلي عليه ملائكة السماء، قلت: يا رسول الله! لعثمان خاصة أم للناس عامة؟ قال: لعثمان خاصة، ما عسى أن يقولوا في طلحة بن عبيد الله! سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول ليلة وقد سقط رحله: من يسوي لي رحلي وهو في الجنة؟ فبدر طلحة بن عبيد الله فسواه له حتى ركب، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: يا طلحة! هذا جبريل يقرئك السلام ويقول: أنا معك في أهوال يوم القيامة حتى أنجيك منها! ما عسى أن يقولوا في الزبير بن العوام! رأيت النبي صلى الله عليه وسلم وقد نام فجلس الزبير يذب عن وجهه حتى استيقظ فقال له: يا أبا عبد الله! لم تزل؟ فقال: لم أزل بأبي أنت وأمي! قال: هذا جبريل يقرئك السلام ويقول: أنا معك يوم القيامة حتى أذب عن وجهك جهنم، ما عسى أن يقولوا في سعد بن أبي وقاص! سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول يوم بدر وقد أوتر قوسه أربع عشرة مرة يدفعها إليه ويقول: ارم فداك أبي وأمي! ما عسى أن يقولوا في عبد الرحمن بن عوف! رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: وهو في منزل فاطمة والحسن والحسين يبكيان جوعا ويتضوران فقال النبي صلى الله عليه وسلم: من يصلنا بشيء؟ فطلع عبد الرحمن بن عوف بصحفة فيها حيسة ورغيفان بينهما إهالة فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: كفاك الله أمر دنياك! وأما أمر الآخرة فأنا لها ضامن. "معاذ بن المثنى في زيادات مسند مسدد، "طس" وأبو نعيم في فضائل الصحابة وأبو بكر الشافعي في الغيلانيات وأبو الحسين بن بشران في فوائده، "خط" في تلخيص المتشابه، "كر" والديلمي وسنده صحيح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقبہائے عشرہ مبشرہ (رض)
٣٦٧٣٧۔۔۔ ” مسند عثمان “ ابان بن عثمان بن عفان کی روایت ہے کہ میرے والد محترم نے مجھے حدیث سنائی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حراء پہاڑ پر چڑھے پہاڑ ہلنے لگا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے حراء سکون میں آجا تجھ پر تو ایک نبی ہے یا صدیق ہے یا شہید ہے حراء پہاڑ پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر عمر عثمان ، علی طلحہ ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف ، سعد بن ابی وقاص سعید بن زید بن عمرو بن نفیل (رض) اجمعین تھے۔ (رواہ الباغندی فی مسند عمر بن عبد العزیز

وابن عساکر)
36737- "مسند عثمان" عن أبان بن عثمان بن عفان قال: حدثني أبي أن النبي صلى الله عليه وسلم صعد حراء فارتج بهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اسكن حراء! فما عليك إلا نبي أو صديق أو شهيد! وعليه رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر وعثمان وعلي وطلحة والزبير وعبد الرحمن بن عوف وسعد بن أبي وقاص وسعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل.

"الباغندي في مسند عمر بن عبد العزيز، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقبہائے عشرہ مبشرہ (رض)
٣٦٧٣٨۔۔۔ حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دس صحابہ ابوبکر، عمر عثمان علی بیر طلحہ وغیرھم (رض) اجمعین کے ساتھ حراء پہاڑ پر تھے یکایک پہاڑ ہلنے لگا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے حراء رک جا تیرے اوپر یا تو نبی ہے یا صدیق ہے یا شہید ہے۔ (رواہ الحسن بن سفیان و یعقوب بن سفیان وابن مندہ وابن عساکر)
36738- عن عبد الله بن سعد بن أبي سرح قال: بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم في عشرة من أصحابه معه أبو بكر وعمر وعثمان وعلي والزبير وطلحة وغيرهم على جبل حراء إذ تحرك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اسكن حراء! فإنما عليك نبي أو صديق أو شهيد. "الحسن بن سفيان ويعقوب بن سفيان وابن منده، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقبہائے عشرہ مبشرہ (رض)
٣٦٧٣٩۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حراء پہاڑ پر تھے یکایک ہلنے لگا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے حراء رک جا تجھ پر یا تو نبی ہے یا صدیق ہے یا شہید ہے پہاڑ پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر عمر، عثمان ، علی ، طلحہ، زبیر ، عبد الرحمن بن عوف سعد بن ابی وقاص اور سعید بن زید بن عمرو بن نفیل (رض) تھے۔ (رواہ ابو یعلی والبغوی ، وابن شاھین فی الافراد والطبرانی وابن عساکر)
36739- عن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم على حراء فتزلزل الجبل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أثبت حراء! فما عليك إلا نبي أو صديق أو شهيد! وعليه رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر وعثمان وعلي وطلحة والزبير وعبد الرحمن بن عوف وسعد بن أبي وقاص وسعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل. "ع والبغوي وابن شاهين في الأفراد، طب، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقبہائے عشرہ مبشرہ (رض)
٣٦٧٤٠۔۔۔ ” مسند سعید بن زید “ رجاح بن حارث کی روایت ہے کہ ہم کوفہ کی بڑی مسجد میں تھے، حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) چارپائی پر تشریف فرما تھے حضرت سعید بن زید (رض) بولے : میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ ابوبکر جنت میں عمر جنت میں عثمان جنت میں علی جنت میں طلحہ جنت میں زبیر جنت میں عبد الرحمن بن عوف جنت میں سعد جنت میں اگر نویں مومن کا میں نام لینا چاہوں تو لے سکتا ہوں لوگوں نے کہا : ہم آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتے ہیں کہ وہ نویں مومن کون ہیں ؟ سعد (رض) بولے : جب تم مجھے واسطہ دیتے ہو تو مومنین میں سے نواں شخص میں ہوں اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دسویں ہیں۔ پھر کہا : بخدا صحابہ (رض) میں سے کسی ایک کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ گھڑی بھر کے لیے کھڑا ہونا اس سے بدرجہا افضل ہے کہ اگر تم میں سے کسی کو عمر نوح دی جائے۔ (رواہ احمد بن حنبل وابو نعیم فی المعرفۃ وابن عساکر)
36740- "مسند سعيد بن زيد" عن رباح بن الحارث قال: كنا في المسجد الأكبر بالكوفة والمغيرة بن شعبة جالس على السرير فقال سعيد بن زيد: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: أبو بكر في الجنة وعمر في الجنة وعثمان في الجنة وعلي في الجنة وطلحة في الجنة والزبير في الجنة وعبد الرحمن بن عوف في الجنة وسعد في الجنة، وتاسع المؤمنين لو شئت أن أسميه لسميته، فقال الناس: نشدناك الله! من تاسع المؤمنين؟ فقال: أما إذ نشدتموني فأنا تاسع المؤمنين ورسول الله صلى الله عليه وسلم العاشر، ثم قال: لموقف أحدهم مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يغير فيه وجهه أفضل من عمر أحدكم ولو عمر عمر نوح."حم" وأبو نعيم في المعرفة، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقبہائے عشرہ مبشرہ (رض)
٣٦٧٤١۔۔۔ ” ایضاً “ حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل (رض) کی روایت ہے کہ میں نو آدمیوں پر گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنت میں جائیں گے اگر میں دسویں پر گواہی دوں تو میں گناہ گار نہیں ہوگا آپ سے پوچھا گیا وہ کیسے ؟ سعید (رض) نے فرمایا : ایک مرتبہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حراء پہاڑ پر تھے اچانک پہاڑ ہلنے لگا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پاؤں مارا اور فرمایا : اے حراء رک جا چونکہ تجھ پر یا تو نبی ہے یا صدیق ہے یا شہید ہے پوچھا گیا وہ کون ہیں فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر عمر، عثمان، علی ، طلحہ، زبیر ، سعد اور عبد الرحمن عوف (رض) اجمعین ہیں۔ پوچھا گیا : دسواں کون ہے فرمایا : وہ میں ہوں۔ (رواہ الترمذی وقال حسن صحیح وابو نعیم وابن النجار)

کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ ٥٢٧۔
36741- "أيضا" عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل قال: أشهد على التسعة أنهم في الجنة ولو شهدت على العاشر لم آثم، قيل له: وكيف ذاك؟ قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بحراء فتحرك فضربه برجله - وفي لفظ: بكفه - ثم قال: اثبت حراء! فإنه ليس عليك إلا نبي أو صديق أو شهيد، قيل: ومن هم؟ قال: رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر وعثمان وعلي وطلحة والزبير وسعد وعبد الرحمن بن عوف، قيل: فمن العاشر؟ قال: أنا. "ت" وقال: حسن صحيح وأبو نعيم وابن النجار.
tahqiq

তাহকীক: