কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬৭৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقبہائے عشرہ مبشرہ (رض)
٣٦٧٤٢۔۔۔ حضرت سعید بن زید (رض) کی روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوبکر (رض) کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کرتے سنا : کاش میں اہل جنت سے ہوتا ، ارشاد فرمایا : میں آپ سے سوال نہیں کرتا مجھے معلوم ہے کہ آپ اہل جنت میں سے ہیں ارشاد فرمایا : میں اہل جنت میں سے ہوں تم بھی اہل جتن میں سے ہو عمر اہل جنت میں سے عثمان اہل جنت میں سے علی اہل جنت میں سے طلحہ اہل جنت میں سے زبیر اہل جنت میں سے عبد الرحمن اہل جنت میں سے سعد اہل جنت میں سے اگر میں چاہوں تو دسویں کا بھی نام لے سکتا ہوں حضرت سعید (رض) سے پوچھا گیا : ہم آپ کو واسطہ دیتے ہیں کہ آپ اس کا نام لیں ! فرمایا : وہ میں ہوں۔ (رواہ ابن عساکر)
36742- عن سعيد بن زيد قال: أشهد أني سمعت أبا بكر الصديق يقول لرسول الله صلى الله عليه وسلم: ليتني رجلا من أهل الجنة! قال: ليس عنك أسأل قد عرفت أنك من أهل الجنة، قال: فأنا من أهل الجنة وأنت من أهل الجنة وعمر على؟؟؟ "من" أهل الجنة وعثمان من أهل
الجنة وعلي من أهل الجنة وطلحة من أهل الجنة والزبير من أهل الجنة وعبد الرحمن بن عوف من أهل الجنة وسعد من أهل الجنة، ولو شئت أن أسمي العاشر لسميته! قيل: عزمت عليك لسميته! قال: أنا."كر".
الجنة وعلي من أهل الجنة وطلحة من أهل الجنة والزبير من أهل الجنة وعبد الرحمن بن عوف من أهل الجنة وسعد من أهل الجنة، ولو شئت أن أسمي العاشر لسميته! قيل: عزمت عليك لسميته! قال: أنا."كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقبہائے عشرہ مبشرہ (رض)
٣٦٧٤٣۔۔۔ ” ایضاً “ حضرت سعید بن زید (رض) فرماتے ہیں : ہم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حرا پہاڑ پر تھے آپ نے دس صحابہ کا ذکر فرمایا : کہ وہ جنت میں ہیں وہ یہ ہیں ابوبکر عمر عثمان علی طلحہ زبیر عبد الرحمن بن عوف سعید بن مالک سعید بن زید اور عبداللہ بن مسعود (رض)۔ (رواہ ابن عساکر)
36743- "أيضا" عن سعيد بن زيد قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على حراء فذكر عشرة في الجنة: أبو بكر وعمر وعثمان وعلي وطلحة والزبير وعبد الرحمن بن عوف وسعد بن مالك وسعيد بن زيد وعبد الله بن مسعود. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقب ہائے صحابہ (رض) اجمعین
٣٦٧٤٤۔۔۔ نیا ر اسلمی کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کو اپنے دور خلافت میں جب کوئی مہم پیش آتی، اہل شوریٰ سے مشورہ کرتے اور انصار میں سے حضرت معاذ بن جبل حضرت ابی بن کعب اور زید بن ثابت (رض) سے مشورہ لیتے۔ (رواہ ابن سعد)
36744- عن نيار الأسلمي قال: كان عمر يستشير في خلافته إذا حزبه الأمر أهل الشورى ومن الأنصار معاذ بن جبل وأبي بن كعب وزيد بن ثابت."ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقب ہائے صحابہ (رض) اجمعین
٣٦٧٤٥۔۔۔ سعد بن ابراہیم اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) عبداللہ بن مسعود ابو درداء اور ابو ذر غفاری (رض) سے پوچھتے : اس مسئلہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی حدیث مروی ہے چنانچہ آپ (رض) نے ان صحابہ کرام (رض) کو تاوفات مدینہ سے باہر نہیں جانے دیا۔ (رواہ ابن سعد)
36745- عن سعد بن إبراهيم عن أبيه قال: قال عمر بن الخطاب لعبد الله بن مسعود ولأبي الدرداء ولأبي ذر: ما الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ ولم يدعهم يخرجون من المدينة حتى مات."ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقب ہائے صحابہ (رض) اجمعین
٣٦٧٤٦۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) کی روایت ہے کہ ہم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا : مجھے معلوم نہیں کہ میں تمہارے درمیان کتنی مدت تک زندہ رہوں گا لہٰذا میرے بعد ان لوگوں کی اقتداء کرو جو میرے بعد آئیں گے وہ ابوبکر و عمر ہیں عمار کی سیرت پر چلو اور ابن مسعود تمہیں جو حدیث سنائے اس کی تصدیق کرو۔ رواہ ابن شیبہ
36746- عن حذيفة قال: كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال:إني لا أدري ما قدر بقائي فيكم فاقتدوا باللذين من بعدي: أبو بكر وعمر، واهتدوا بهدي عمار، وما حدثكم ابن مسعود بشيء فصدقوه. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقب ہائے صحابہ (رض) اجمعین
٣٦٧٤٧۔۔۔ ” مسند سعید بن تمیم سکونی والد بلال بن سعد بلال بن سعد اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ کی امت کے کون لوگ افضل ہیں : فرمایا : میں اور میرے زمانہ کے لوگ میں نے عرض کیا : پھر کیا ہے فرمایا : پھر دوسرا زمانہ ہے میں نے عرض کیا : پھر کیا ہے فرمایا : پھر تیسرا زمانہ ہے میں نے عرض کیا : اس کے بعد ؟ فرمایا : اس کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو خود اپنے تئیں گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا وہ قسمیں اٹھائیں گے حالانکہ ان سے قسمیں نہیں لی جائیں گی ان کی پاس امانتیں رکھی جائیں گی اور وہ امانتیں ادا نہیں کریں گے۔ (رواہ ابن عساکر)
36747- "مسند سعد بن تميم السكوني والد بلال بن سعد" عن بلال بن سعد عن أبيه قال: قلت: يا رسول الله! أي أمتك خير؟ قال: أنا وأقراني، قلت: ثم ماذا؟ قال: ثم القرن الثاني، قلت: ثم ماذا؟ قال: ثم القرن الثالث: قلت: ثم ماذا؟ قال: قوم يأتون يشهدون ولا يستشهدون ويحلفون ولا يستحلفون ويؤتمنون ولا يؤدون. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقب ہائے صحابہ (رض) اجمعین
٣٦٧٤٨۔۔۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ (رض) کے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : اے اصحاب محمد ! آج رات اللہ تعالیٰ نے مجھے جنت میں تمہارے ٹھکانے دکھائے ہیں اور یہ بھی دکھایا ہے کہ میرے ٹھکانے کے مقابلہ میں تمہارے ٹھکانوں کا کیا انداز ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت علی (رض) کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے علی کیا تم راضی نہیں ہو کہ جنت میں تمہارا ٹھکانا میرے ٹھکانے کے بالمقابل ہو ؟ عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں کیوں راضی نہیں ہوں پھر آپ ۔۔۔ حضرت ابوبکر (رض) کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : میں ایک شخص کو اس کے نام سے اس کے ماں باپ کے نام سے پہچانتا ہوں جب وہ جنت کے دروازے پر آئے گا تو جنت کے دروازوں میں سے کوئی دروازہ اور جنت کے بالا خانوں میں سے کوئی بالاخانہ نہیں رہے گا مگر ہر ایک سے آواز آئے گی مرحبا مرحبا حضرت سلمان (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ شخص تو خوفزدہ نہیں ہوگا۔ فرمایا : وہ ابوبکر بن ابی قحافہ ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : میں نے جنت میں ایک عظیم الشان محل دیکھا ہے جو سفید موتی سے بنا ہوا ہے اس کا گنبد بھی سفید موتی کا ہے اور اس پر یاقوت جڑے ہوئے ہیں مجھے اس کی خوبصورتی تعجب خیز معلوم ہوئی میں نے کہا : اے رضوان یہ محل کس کا ہے ؟ اس نے جواب دیا : یہ قریش کے ایک نوجوان کا ہے میں سمجھا وہ میرا ہے میں اس میں داخل ہونے لگا رضوان نے مجھے کہا : اے محمد ! یہ عمر بن خطاب کا ہے اے ابو حفص ! اگر تمہاری غیرت کا پاس نہ ہوتا تو میں اس میں ضرور داخل ہوتا حضرت عمر (رض) روپڑے اور پھر عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں آپ پر غیرت کروں گا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عثمان (رض) کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے عثمان (رض) ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ہوتا ہے اور تو جنت میں میرا رفیق ہوگا پھر آپ طلحہ و زبیر (رض) کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے طلحہ ! اے زبیر ! ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور تم دونوں میرے حواری ہو پھر عبد الرحمن بن عوف (رض) کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے عبد الرحمن تم مجھ سے پیچھے رہ گئے مجھے خوف لاحق ہوا کہیں تم ہلاک تو نہیں ہوگئے ہو لیکن تم آہی گئے اور پسینہ میں شرابور تھے میں نے تم سے پوچھا : تمہیں کیوں تاخیر ہوئی میں تو سمجھا کہ تم ہلاک ہوگئے ہو تم نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! کثرت مال نے مجھے تاخیر میں رکھا تاہم میں اپنے مال کے متعلق حساب دینے میں لگاتار کھڑا رہا کہ یہ مال میں نے کہاں سے کمایا اور اسے کہاں خرچ کیا ؟ حضرت عبد الرحمن (رض) رونے لگے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ سو اونٹ کھڑے ہیں جو میرے پاس مصر کی تجارت سے واپس لوٹے ہیں میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ یہ سب اہل مدینہ کی بیواؤں اور یتیموں پر صدقہ ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مجھ پر تخفیف فرمائے۔ (رواہ ابن عساکر)
36748- عن عبد الله بن أبي أوفى قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما على أصحابه فقال: يا أصحاب محمد! لقد أراني الله الليلة منازلكم في الجنة وقدر منازلكم من منزلي، ثم أقبل على علي فقال: يا علي! ألا ترضى أن تكون منزلك مقابل منزلي في الجنة؟ فقال: بلى بأبي أنت وأمي يا رسول الله! قال: فإن منزلك في الجنة مقابل منزلي، ثم أقبل على أبي بكر فقال: إني لأعرف رجلا باسمه واسم أبيه وأمه إذا أتى باب الجنة لم يبق باب من أبوابها ولا غرفة من غرفها إلا قال له: مرحبا مرحبا! فقال له سلمان: إن هذا لغير خائف يا رسول
الله! فقال: هو أبو بكر بن أبي قحافة، ثم أقبل على عمر فقال: يا عمر! لقد رأيت في الجنة قصرا من درة بيضاء شرفه من لؤلؤ أبيض مشيد بالياقوت فأعجبني حسنه فقلت: يا رضوان! لمن هذا القصر؟ فقال: لفتى من قريش، فظننته لي فذهبت لأدخله فقال لي رضوان: يا محمد! هذا لعمر بن الخطاب، فلولا غيرتك يا أبا حفص لدخلته، فبكى عمر ثم قال: أعليك أغار يا رسول الله؟ ثم أقبل على عثمان فقال: يا عثمان! إن لكل نبي رفيقا في الجنة وأنت رفيقي في الجنة، ثم أقبل على طلحة والزبير فقال: يا طلحة! ويا زبير! إن لكل نبي حواري وأنتما حواري، ثم أقبل على عبد الرحمن بن عوف فقال: يا عبد الرحمن لقد بطؤ بك عني حتى خشيت أن تكون قد هلكت ثم جئت وقد عرقت عرقا شديدا، فقلت لك: ما بطأ بك عني لقد خشيت أن تكون قد هلكت، فقلت: يا رسول الله! كثرة مالي، ما زلت موقوفا محتبسا أسأل عن مالي: من أين اكتسبته وفيما أنفقته؟ فبكى عبد الرحمن وقال: يا رسول الله! هذه مائة راحلة جاءتني الليلة عليها من تجارة مصر فأشهدك أنها بين أرامل أهل المدينة وأيتامهم! لعل الله يخفف عني ذلك اليوم. "كر".
الله! فقال: هو أبو بكر بن أبي قحافة، ثم أقبل على عمر فقال: يا عمر! لقد رأيت في الجنة قصرا من درة بيضاء شرفه من لؤلؤ أبيض مشيد بالياقوت فأعجبني حسنه فقلت: يا رضوان! لمن هذا القصر؟ فقال: لفتى من قريش، فظننته لي فذهبت لأدخله فقال لي رضوان: يا محمد! هذا لعمر بن الخطاب، فلولا غيرتك يا أبا حفص لدخلته، فبكى عمر ثم قال: أعليك أغار يا رسول الله؟ ثم أقبل على عثمان فقال: يا عثمان! إن لكل نبي رفيقا في الجنة وأنت رفيقي في الجنة، ثم أقبل على طلحة والزبير فقال: يا طلحة! ويا زبير! إن لكل نبي حواري وأنتما حواري، ثم أقبل على عبد الرحمن بن عوف فقال: يا عبد الرحمن لقد بطؤ بك عني حتى خشيت أن تكون قد هلكت ثم جئت وقد عرقت عرقا شديدا، فقلت لك: ما بطأ بك عني لقد خشيت أن تكون قد هلكت، فقلت: يا رسول الله! كثرة مالي، ما زلت موقوفا محتبسا أسأل عن مالي: من أين اكتسبته وفيما أنفقته؟ فبكى عبد الرحمن وقال: يا رسول الله! هذه مائة راحلة جاءتني الليلة عليها من تجارة مصر فأشهدك أنها بين أرامل أهل المدينة وأيتامهم! لعل الله يخفف عني ذلك اليوم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقب ہائے صحابہ (رض) اجمعین
36749 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ ابوبکر کیا ہی اللہ کا خوب بندہ ہے پھر فرمایا کہ عمر کیا ہی اللہ کا خوب بندہ ہے اور ابوعبیدہ بن الجراح کیا ہی خوب اللہ کا بندے ہیں اور ثابت بن قیس بن شماس کیا ہی اللہ کے خوب بندے ہیں (رض) ۔ رواہ ابن عساکر۔
36749- عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: نعم عبد الله أبو بكر! نعم عبد الله عمر! نعم عبد الله أبو عبيدة بن الجراح! نعم عبد الله أسيد بن حضير نعم عبد الله معاذ بن جبل، نعم عبد الله بن رواحة! نعم عبد الله ثابت بن قيس بن شماس. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقب ہائے صحابہ (رض) اجمعین
٣٦٧٥٠۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں تین انصاری جو بنو عبد الاشھل سے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد فضیلت میں ان پر کوئی فوقیت نہیں رکھتا۔ وہ یہ ہیں سعد بن معاذ اسید بن حضیر اور عباد بن بشر (رض) اجمعین۔ (رواہ ابو یعلی وابن عساکر)
36750- عن عائشة قالت: ثلاثة من الأنصار كلهم من بني عبد الأشهل لم يكن أحد يعتد عليهم فضلا بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم: سعد بن معاذ وأسيد بن الحضير وعباد بن بشر. "ع، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقب ہائے صحابہ (رض) اجمعین
٣٦٧٥١۔۔۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں حضرت عائشہ (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود کسی کو خلیفہ مقرر کرتے تو وہ کون ہوگا ؟ حضرت عائشہ (رض) نے جواب دیا : حضرت ابوبکر (رض) کو ان سے پوچھا گیا : پھر کون ہوتا جواب دیا : عمر (رض) پوچھا گیا : عمر (رض) کے بعد کون ہوتا جواب دیا ابو عبیدہ بن الجراح (رض) پھر عائشہ (رض) خاموش ہوگئیں۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وابن عساکر)
36751- عن ابن أبي مليكة قال: سمعت عائشة وسئلت: من كان رسول الله صلى الله عليه وسلم مستخلفا لو استخلف؟ فقالت: أبو بكر، ثم قيل لها: من بعد أبي بكر؟ قالت: عمر، ثم قيل لها: من بعد عمر؟ قالت: أبو عبيدة بن الجراح، ثم انتهت إلى هذا. "ش، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقب ہائے صحابہ (رض) اجمعین
٣٦٧٥٢۔۔۔ سعید بن جبیر کی روایت ہے کہ ابوبکر عمر عثمان، علی ، طلحہ، زبیر، سعید ، عبد الرحمن بن عوف اور سعید بن زید بن عمرو بن نفیل (رض) اجمعین جنگ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے آگے ہوتے اور نماز میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے پہلی صرف میں کھڑے ہوئے مہاجرین و انصار میں سے کوئی بھی دوسرے کی جگہ (غار میں) کھڑا نہیں ہوتا تھا خواہ وہ غائب ہوجا حاضر ہو۔ (رواہ ابن عساکر)
36752- عن سعيد بن جبير قال: كان مقام أبي بكر وعمر وعثمان وعلي وطلحة والزبير وسعد وعبد الرحمن بن عوف وسعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل كانوا أمام رسول الله صلى الله عليه وسلم في القتال وخلفه في الصلاة في الصف، وليس أحد من المهاجرين والأنصار بقوم أحد منهم غاب أو شهد. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقب ہائے صحابہ (رض) اجمعین
٣٦٧٥٣۔۔۔ محمد ثابت عبدی قتادہ سے روایت نقل کرتے ہیں قتادہ کہتے ہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میری امت میں سب سے زیادہ مہربان اور امت پر رحم کھانے والے ابوبکر ہیں اللہ تعالیٰ کے حکم میں سب سے زیادہ گرفت کرنے والے عمر ہیں میری امت میں سب سے زیادہ حیا دار عثمان ہیں حلال و حرام کا سب سے زیادہ علم رکھنے والے معاذ بن جبل ہیں سب سے زیادہ فرائض سے واقفیت رکھنے والے زید بن ثابت ہیں سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں اور کہا جاتا تھا قضاء کا سب سے زیادہ علم رکھنے والے علی (رض) اجمعین ہیں۔ (رواہ الضیاء)
36753- حدثنا محمد ثابت العبدي حدثنا قتادة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أرحم أمتي بأمتي أبو بكر، وأشدهم وأرقهم في الله عمر، وأشدهم حياء عثمان، وأعلمهم بالحلال والحرام معاذ بن جبل، وأفرضهم زيد بن ثابت، وأقرأهم أبي بن كعب، وكان يقال: أعلمهم بالقضاء علي.
"ض".
"ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقب ہائے صحابہ (رض) اجمعین
٣٦٧٥٤۔۔۔ ابو البحتری کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) سے سوال کیا گیا : آپ ہمیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) کے متعلق بتائیں فرمایا : ان میں سے کس کے متعلق تم پوچھتے ہو لوگوں نے عرض کیا : آپ ہمیں عبداللہ بن مسعود (رض) کے متعلق بتائیں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : انھوں نے قرآن و سنت کا علم حاصل کیا پھر غم خواری کی اور علم میں ان کی کفایت کی گئی لوگوں نے کہا آپ ہمیں ابو موسیٰ (رض) کے متعلق بتائیں۔ فرمایا انھوں نے علم کا بڑا ذخیرہ اپنے پاس محفوظ کیا ہے پھر وہ اس سے نکل گئے لوگوں نے کہا : عمار کے متعلق ہمیں بتائیں حضرت علی (رض) نے فرمایا : وہ مومن ہے اور بھول جاتا ہے لیکن جب اسے یاد دھانی کرائی جاتی ہے اسے یاد ہوجاتا ہے لوگوں نے کہا : سلمان (رض) کے متعلق بتائیں فرمایا : انھوں نے پہلا علم بھی حاصل کیا اور دوسرا علم بھی حاصل کیا وہ بحر پیکراں ہیں اس کی گہرائی کا پانی ختم نہیں ہونے پایا وہ ہم اہل بیت میں سے ہے۔ لوگوں نے کہا : آپ ہمیں اپنے متعلق بتائیں فرمایا : تم کیا جاہتے ہو ؟ چنانچہ جب میں سوال کرتا تھا مجھے عطا کردیا جاتا تھا اور جب خاموش رہتا تھا مجھ سے ابتداء کردی جاتی تھی۔ (رواہ ابن سعد والمروزی فی العلم والدورقی وان عساکر)
36754- عن أبي البختري قال: قيل لعلي: حدثنا عن أصحاب محمد، فقال: عن أيهم؟ فقالوا: حدثنا عن عبد الله بن مسعود، قال: علم القرآن والسنة ثم آسى1 وكفى بذلك علما، فقالوا: حدثنا عن أبي موسى، قال؛ ضبع في العلم ضبعة ثم خرج منه، قالوا: حدثنا عن عمار، قال: مؤمن نسى إذ ذكر ذكر، قالوا: أخبرنا عن سلمان، قال: أدرك العلم الأول والعلم الآخر، بحر لا ينزح قعره، منا أهل البيت، قالوا: أخبرنا عنك، قال: أيها أردتم؟ كنت إذا سألت أعطيت وإذا سكت ابتدئت."ابن سعد والمروزي في العلم والدورقي، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقب ہائے صحابہ (رض) اجمعین
٣٦٧٥٥۔۔۔ ” مسند اسامہ “ اسامہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی (رض) حضرت جعفر اور حضرت زید بن حارثہ (رض) اکٹھے ہوئے جعفر (رض) بولے : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب سے زیادہ محبوب ہوں حضرت علی (رض) نے کہا : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب سے زیادہ محبوب ہوں زید (رض) نے بھی دعویٰ کیا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب سے زیادہ محبوب ہوں۔ سب نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلو ان سے پوچھ لو چنانچہ یہ صحابہ (رض) آئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے اجازے طلب کی آپ نے ارشاد فرمایا : اے اسامہ ! باہر جاؤ اور دیکھو یہ کون لوگ ہیں ؟ میں نے عرض کیا : یہ جعفر علی اور زید ہیں میں نے نہیں کہا کہ میرے اباجان ہیں فرمایا : انھیں اجازت دو یہ حضرات صحابہ کرام (رض) اندر داخل ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ ارشاد فرمایا : فاطمہ (رض) مجھے زیادہ محبوب ہے عرض کیا : ہم آپ سے مردوں کے متعلق پوچھ رہے ہیں۔ ارشاد فرمایا : اے جعفر رہی تمہاری بات سو تم خلقت و اخلاق میں میرے مشابہ ہو اور مجھ سے ہو میرے شجرہ میں سے ہو اے علی ! تم میرے داماد ہو اور میرے دو بچوں کے والد ہو میں تجھ سے ہوں اور تو مجھ سے ہے۔ اور اے زید ! تم میرے آزاد کردہ غلام ہو تم مجھ سے ہو اور قوم میں سب سے زیادہ محبوب ہو۔ (رواہ احمد بن حنبل والطبرانی والحاکم والضیاء)
36755- "مسند أسامة" اجتمع علي وجعفر وزيد بن حارثة فقال جعفر: أنا أحبكم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقال علي: أنا أحبكم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقال زيد: أنا أحبكم إلى رسول الله، فقالوا: انطلقوا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى نسأله، فجاؤوا يستأذنونه، فقال: اخرج فانظر من هؤلاء؟ فقلت: هذا جعفر وعلي وزيد ما أقول أبي، قال: ائذن لهم، فدخلوا فقالوا: يا رسول الله! من أحب إليك؟ قال: فاطمة، قالوا: نسألك عن الرجال، قال: أما أنت يا جعفر! فأشبه خلقك خلقي وأشبه خلقك خلقي وأنت مني وشجرتي، وأما أنت يا علي! فختني وأبو ولدي وأنا منك وأنت مني، وأما أنت يا زيد! فمولاي ومني وإلي وأحب القوم إلي."حم، طب، ك، ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقب ہائے صحابہ (رض) اجمعین
٣٦٧٥٦۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ انصار کے دو قبیلے اوس اور خزرج ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے اوس نے کہا : ہم میں سے چار لوگ بڑے فضائل کے حامل ہیں خزرج والے بولے : ہم میں سے بھی چار ہیں اوس والوں نے کہا : سعد بن معاذ ہم میں سے ہیں جن کے لیے رب تعالیٰ کا عرش جھوم اٹھا ہم میں وہ شخص بھی ہے جس کی نعش کو شہد کی مکھیوں نے ڈھانپ لیا تھا یعنی عاصم بن ثابت بن افلح۔ خزرج والے بولے : ہم میں ایسے چار اشحاص ہیں جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں قرآن جمع کیا حالانکہ آپ کے عہد میں ان کے علاوہ کسی اور نے جمع نہیں کیا : وہ یہ ہیں : ابی بن کعب معاذ بن جبل زید بن ثابت اور ابو زید (رض) اجمعین۔ (رواہ ابو یعلی وابو عوانۃ والطبرانی وابن عساکر وقال ھذا حدیث حسن صحیح)
36756- عن أنس قال: افتخر الحيان من الأنصار الأوس والخزرج فقال الأوس: منا أربعة، وقال الخزرج: منا أربعة: قال الأوس: منا من اهتز له عرش الرحمن سعد بن معاذ، ومنا من عدلت شهادته شهادة رجلين خزيمة بن ثابت، ومنا من غسلته الملائكة حنظلة بن الراهب، ومنا من حمى لحمه الدبر1 عاصم بن ثابت بن الافلح ، وقال الخزرج : منا أربعة جمعوا القرآن على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يجمعه غيرهم : أبي بن كعب ومعاذ بن جبل وزيد ابن ثابت وأبو زيد (ع وأبو عوانة ، طب ، كر وقال ، هذا حديث حسن صحيح).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقب ہائے صحابہ (رض) اجمعین
٣٦٧٥٧۔۔۔ ” ایضاً “ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ جنت چار اشخاص کی مشتاق ہوئی ہے علی ، ابوذر، عمار اور مقداد (رض) کی۔ (رواہ ابن عساکر)
36757 (أيضا) تشتاق الجنة إلى أربعة : إلى علي وأبي ذر وعمار والمقداد (ابن عساكر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقب ہائے صحابہ (رض) اجمعین
٣٦٧٥٨۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جنت میرے صحابہ (رض) میں سے چار کی زیادہ مشتاق ہے۔ میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ان سے محبت کروں۔ چنانچہ اس فضیلت کے حصول کے لیے صہیب رومی بلال بن ابی رباح طلحہ ، زبیر سعد بن ابی وقاص حذیفہ بن الیمان اور عمار بن یاسر (رض) امیدیں کرنے لگے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ کون ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمار ! اللہ تعالیٰ تمہیں منافقین کی پہچان کرائے رہی بات ان چار کی تو ان میں سے ایک علی ہے دوسرا مقداد بن اسود کندی ہے تیسرا سلمان فارسی ہے اور چوتھا ابوذر غفاری ہے۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط)
36758 عن ابن عباس عن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إن الجنة اشتاقت إلى أربعة من أصحابي فأمرني ربي أن أحبهم ، فانتدب صهيب الرومي وبلال بن أبي رباح وطلحة والزبير وسعد بن أبي وقاص وحذيفة بن اليمان وعمار بن ياسر فقالوا : يا رسول الله ! من هؤلاء الاربعة حتى تحبهم ؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يا عمار ! عرفك الله للمنافقين ، وأما هؤلاء الاربعة فأحدهم علي بن أبي طالب ، والثاني المقداد بن الاسود الكندي.والثالث سلمان الفارسي ، والرابع أبو ذر الغفاري (طس).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقب ہائے صحابہ (رض) اجمعین
٣٦٧٥٩۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ جبرائیل (علیہ السلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : اے محمد ! اللہ تعالیٰ تیرے صحابہ (رض) میں سے تین سے محبت کرتا ہے تم بھی ان سے محبت کرو وہ علی ابن ابی طالب ابو ذر اور مقداد ہیں۔ حضرت علی (رض) کہتے ہیں : ایک بار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور کہا : اے محمد تیرے صحابہ (رض) میں سے تین کی جنت زیادہ مشتاق ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حضرت انس (رض) بھی تھے وہ امیدیں کرنے لگے کہ یہ فضیلت انصار میں سے بھی کسی کو حاصل ہو ارادہ کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کے متعلق دریافت کریں لیکن مارے ہیبت کے سوال نہ کیا حضرت انس (رض) باہر نکل آئے اور حضرت ابوبکر (رض) سے ملاقات ہوئی ان سے کہا : اے ابوبکر (رض) میں ابھی ابھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا کہ اتنے میں جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور کہنے لگے : تیرے صحابہ میں سے تین کے لیے جنت مشتاق ہے میں نے امید کی کہ یہ فضیلت کسی انصاری کے حصہ میں بھی آئے لیکن مارے ہیبت کے میں نے سوال نہیں کیا : کیا آپ جائیں گے تاکہ سوال کرلیں ؟ ابوبکر (رض) نے کہا : میں سوال کرنے سے ڈرتا ہوں کہ میں ان میں سے نہ ہوں اور پھر میری قوم مجھ پر خوشیاں کرنے لگے پھر انس (رض) حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور ان سے کہا : انھوں نے بھی ابوبکر (رض) کی طرح انکار کردیا پھر حضرت علی (رض) سے ان کی ملاقات ہوئی حضرت علی (رض) نے حامی بھرلی کہ میں پوچھتا ہوں اگر میں ان میں سے ہوا تو اس پر اللہ کی حمد کرتا ہوں اگر نہ ہوا تو بھی اللہ کی حمد کروں گا۔ علی (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : جنت آپ کے صحابہ میں سے تین کی زیادہ مشتاق ہے یا نبی اللہ وہ کون ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی تم انہی میں سے ہو ایک عمار بن یاسر ہے وہ جنگوں میں تمہارے ساتھ حاضر رہے گا ان جنگوں کی فضیلت واضح ہے اور ان کی بھلائی عظیم تر ہے اور ایک سلمان ہے اور وہ ہم اہل بیت میں سے ہے وہ خیر خواہ ہے اسے اپنا دست راست بنا لو۔ (رواہ ابو یعلی وفیہ نضر بن حمید عن بن طریق الاسکاف وھما ضعیفان)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الضعیفۃ ٢٣٢٨۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الضعیفۃ ٢٣٢٨۔
36759 عن علي قال : أتى جبريل النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يا محمد ! إن الله يحب من أصحابك ثلاثة فأحبهم : علي بن أبي طالب وأبو ذر والمقداد ، قال : وأتاه جبريل فقال : يا محمد ! إن الجنة تشتاق إلى ثلاثة من أصحابك ، وعنده أنس بن مالك فرجا أن يكون لبعض الانصار ، فأراد أن يسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم عنهم فهابه ، فخرج فلقي أبا بكر فقال : يا أبا بكر ! إني كنت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم آنفا فأتاه جبريل فقال : إن الجنة تشتاق إلى ثلاثة من أصحابك ، فرجوت أن يكون لبعض الانصار فهبت أن أسأله فهل لك أن تدخل فتسأله ؟ فقال : إني أخاف أن أسأله فلا أكون منهم فيشمت بي قومي ، ثم أتى عمر بن الخطاب فقال له مثل قول أبي بكر ، فلقي عليا فقال له علي : نعم أنا أسأله فان أكن منهم فأحمد الله وإن لم أكن منهم حمدت الله ، فدخل على نبي الله صلى الله عليه وسلم فقال : إن أنسا حدثني أنه كان عندك آنفا وأن جبريل أتاك فقال : إن الجنة تشتاق إلى ثلاثة من أصحابك : فقال : فمن هم يا نبي اله ؟ قال : أنت منهم يا علي وعمار ابن ياسر وسيشهد معك مشاهد بين فضلها عظيم خيرها وسلمان وهو منا أهل البيت وهو ناصح فاتخذه لنفسك (ع وفيه النضر بن حميد عن سعد بن طريف الاسكاف وهما ضعيفان).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع مناقب ہائے صحابہ (رض) اجمعین
٣٦٧٦٠۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ میں جعفر اور زید (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے زید (رض) سے فرمایا : تم ہمارے بھائی ہو اور ہمارے آزاد کردہ غلام ہو زید (رض) کچھ شرمندہ سے ہوگئے پھر جعفر (رض) سے فرمایا تم خلقت اور اخلاق میں میرے مشابہ ہو زید (رض) کے بعد وہ بھی شرمندہ سے ہوگئے پھر مجھ سے فرمایا : تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں پھر میں بھی جعفر کے بعد شرمندہ سا ہوگیا۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وابو یعلی والبیہقی) فائدہ :۔۔۔ یہ شرمندگی کسی گناہ پر نہیں بلکہ یہ وہ شرمندگی ہے جو بادشاہ کے حضور رعایا کو عزت افزائی پر عارضی طور پر لاحق ہوجاتی ہے۔
36760 عن علي قال : أتيت النبي صلى الله عليه وسلم أنا وجعفر وزيد ، فقال لزيد : أنت أخونا ومولانا ! فحجل ، ثم قال لجفعر : أشبهت خلقي وخلقي ! فحجل وراء حجل زيد ، ثم قال لي : أنت مني وأنا منك ، فحجلت وراء حجل جعفر (ش ، ع ، ق).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض)
٣٦٧٦١۔۔۔ علی بن عبداللہ قرشی اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب (رض) ایک قوم کے پاس سے گزرے جو آپس میں بیٹھے تمنائیں کر رہے تھے آپ (رض) نے فرمایا : میں بھی تمہارے ساتھ تمنا کرتا ہوں میری تمنا ہے کہ اس گھر جیسا کوئی گھر ہو جو ابو عبیدہ بن الجراح اور سالم مولائے ابو حذیفہ جیسے لوگوں سے بھرا ہو چونکہ سالم اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اگر اسے اللہ کا خوف نہ بھی ہو وہ پھر بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کرے گا رہی بات ابو عبیدہ کی سو میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ بن الجراح ہے۔ (رواہ الدینوری وابن عساکر)
36761 عن علي بن عبد الله القرشي عن أبيه قال : مر عمر ابن الخطاب بقوم يتمنون فقال : وأنا أتمني معكم ، أتمنى رجالا ملء هذا البيت مثل أبي عبيدة بن الجراح وسالم مولى أبي حذيفة ، إن سالما شديد الحب لله لو لم يخف الله ما عصاه ، وأما أبو عبيدة فسمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول : لكل أمة أمين وامين هذه الامة أبو عبيدة بن الجراح (الدينوري ، كر).
তাহকীক: