কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬৭৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح اور حضرت معاذ بن جبل (رض)
٣٦٧٦٢۔۔۔ ” مسند عمر “ مالک بن اوس کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے چار سو دینار لیے اور ایک تھیلی میں ڈال کر غلام سے کہا : یہ ابو عبیدہ بن الجراح کے پاس لے جاؤ پھر تم تھوڑی دیر گھر ہی میں ٹھہرو اور دیکھو کہ وہ کیا کریں گے چنانچہ غلام ابو عبیدہ (رض) کے پاس گیا اور کہا : امیر المومنین کہتے ہیں کہ یہ اپنے کام میں صرف کرلو۔ ابو عبیدہ (رض) بولے : اللہ تعالیٰ امیر المومنین پر رحم فرمائے پھر بولے : اے لڑکی یہ سات دینار فلاں کے پاس لے جاؤ یہ پانچ فلاں کے پاس لے جاؤ حتیٰ کہ اسی طرح سب ختم کر دئیے غلام عمر (رض) کے پاس واپس لوٹ آیا اور انھیں خبر دی غلام نے عمر (رض) کو اس حال میں پایا کہ انھوں نے اسی طرح حضرت معاذ بن جبل (رض) کے لیے بھی دینار تھیلی میں ڈال کر تیار کر رکھے تھے فرمایا اے غلام یہ معاذ بن جبل کے پاس لے جاؤ اور تھوڑی دیر گھر میں ٹھہرو دیکھو کہ وہ کیا کریں گے چنانچہ غلام دینار لے کر حضرت معاذ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا آپ یہ دینار اپنی ضرورت میں صرف کریں یہ امیر المومنین نے بھیجے ہیں۔ فرمایا : اللہ تعالیٰ امیر المومنین پر رحم فرمائے اے لڑکی یہ لے جاؤ فلاں کے پاس یا فرمایا فلاں کے گھر میں کچھ دیر بعد معاذ (رض) کی بیوی نمودار ہوئی اور کہا : بخدا ! ہم مسکین لوگ ہیں ہمیں بھی کچھ دی جائیے چنانچہ تھیلی میں صرف دو دینار بچے تھے معاذ (رض) وہ لے کر اپنی بیوی کے پاس چلے گئے غلام واپس لوٹ آیا اور عمر (رض) کو ساری خبر سنائی عمر (رض) سن کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا : بلاشبہ یہ صحابہ (رض) آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ایک قسم کی عادات کے حاملین ہیں۔ (رواہ ابن المبارک)
36762-"مسند عمر" عن مالك بن أوس أن عمر بن الخطاب أخذ أربعمائة دينار فجعلها في صرة ثم قال للغلام اذهب بها إلى أبي عبيدة بن الجراح ثم تله ساعة في البيت حتى تنظر ما يصنع، فذهب بها الغلام إليه فقال: يقول لك أمير المؤمنين: اجعل هذه في بعض حوائجك، فقال: وصله الله ورحمه، ثم قال: تعالي يا جارية! اذهبي بهذه السبعة إلى فلان وبهذه الخمسة إلى فلان - حتى أنفدها، فرجع الغلام إلى عمر فأخبره ووجده قد أعد مثلها لمعاذ بن جبل،

فقال: اذهب بها إلى معاذ بن جبل وتله في البيت ساعة حتى تنظر ما يصنع، فذهب بها إليه فقال: يقول لك أمير المؤمنين: اجعل هذه في بعض حاجاتك، فقال: وصله الله ورحمه! تعالي يا جارية اذهبي إلى فلان بكذا أو إلى بيت فلان بكذا، فاطلعت امرأة معاذ فقالت: ونحن والله مساكين! فأعطنا ولم يبق في الخرقة إلا ديناران، فجاء بهما إليها: فرجع الغلام فأخبره، فسر بذلك عمر وقال: إنهم إخوة بعضهم من بعض."ابن المبارك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابی بن کعب اور جندب بن جنادہ ابو ذر غفاری (رض)
٣٦٧٦٣۔۔۔ ابن جریج عمر بن دینار سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نجالہ تمیمی کہتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب (رض) نے مسجد میں ایک لڑکا پایا اس نے اپنی گود میں ایک صحیفہ کھول رکھا تھا جس میں لکھا تھا : نبی مومنین پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتا ہے اور وہ مومنین کا باپ ہوتا ہے عمر (رض) نے فرمایا : مٹادو لڑکا بولا : بخدا ! میں نہیں مٹاؤں گا چونکہ یہ ابی بن کعب کے مصحف میں ہے دونوں اٹھے اور حضرت ابی بن کعب کے پاس چلے گئے ابی (رض) نے کہا : میں قرآن میں مشغول رہتا تھا جب کہ آپ بازاروں میں خریدو فروخت میں مشغول رہتے تھے جب کہ آپ کی چادر جو آپ کے کاندھے پر ہوتی تھی اور ابن عجماء کے دروازے کے ساتھ اٹک جاتی تھی عمرو بن دینار کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) مجوسیوں سے جزیہ نہیں لینا چاہتے تھے حتیٰ کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) نے گواہی دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا عمرو بن دینار کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) بن خطاب کے حضرت جزء بن معاویہ (رض) احنف بن قیس کے چچا کو خط لکھا وہ عمر (رض) کی وفات سے ایک سال قبل کسی جگہ کے گورنر تھے لکھا کہ جادو گر کو قتل کر اور مجوسیوں کو رمن کے رشتہ سے ردکرو اور انھیں آگ جلانے سے منع کرو۔ فرمایا : ابو بستان کا کیا حال ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جندب سے فرمایا : جندب اور جندب کیا ہے وہ ایک وار کرتا ہے جس سے حق و باطل میں فرق کرتا ہے یکایک ابو بستان قلعہ کے نچلے حصہ میں ولید بن عقبہ کے پاس کھیل رہے ہیں اور وہ کوفہ کے امیر تھے جبکہ لوگ سمجھتے تھے کہ وہ محل کی فصیل پر ہیں اس پر جندب (رض) نے فرمایا : اے لوگو تمہاری ہلاکت کھیل تو تمہارے ساتھ کیا جا رہا ہے وہ تو محل کے نچے حصہ میں ہے پھر چل پڑے اپنی تلوار لی اور اسے مار دیا۔ (رواہ عبد الرزاق)
36763- عن ابن جريج عن عمرو بن دينار قال: سمعت بجالة التميمي قال: وجد عمر بن الخطاب مصحفا في حجر غلام في المسجد فيه: النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم وهو أبوهم، فقال: احككها يا غلام! فقال: والله لا أحكها وهي في مصحف أبي بن كعب! فانطلقا إلى أبي فقال له أبي: شغلني القرآن وشغلك الصفق بالأسواق إذ تعرض رداءك على عنقك بباب ابن العجماء، قال: ولم يكن عمر يريد أن يأخذ الجزية من المجوس حتى شهد عبد الرحمن بن عوف أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذها من مجوس هجر، قال: وكتب عمر بن الخطاب إلى جزء بن معاوية عم الأحنف بن قيس وكان عاملا لعمر قبل موته بسنة: اقتلوا كل ساحر وفرقوا بين كل ذي محرم من المجوس وانههم عن الزمزمة، قال: وما شأن أبي بستان فإن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لجندب: جندب وما جندب! يضرب ضربة يفرق بها بين الحق والباطل، فإذا أبو بستان يلعب في أسفل الحصن عند الوليد بن عقبة وهو أمير الكوفة والناس يحسبون أنه على سور القصر فقال جندب: ويلكم أيها الناس! إنما يلعب بكم والله إنه لفي أسفل القصر! ثم انطلق فاشتمل على سيفه فضربه. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سماک بن مخرمہ وسماک بن عبیدہ وسماک بن خرشہ (رض)
٣٦٧٦٤۔۔۔ ” مسند عمر “ سیف بن عمر ، محمد و طلحہ و مہلب و عمرو سعید سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سماک بن مخرمہ وسماک بن عبیدہ اور سماک بن خرشہ (رض) حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا فرمائے ! اللہ ! ان کے ذریعے اسلام کو بلندی عطا فرما اور ان سے اسلام کی تائید فرما دے۔ (رواہ ابن عساکر)
36764- "مسند عمر" عن سيف بن عمر عن محمد وطلحة والمهلب وعمر وسعيد قالوا: قدم ساك بن مخرمة وسماك بن عبيد وسماك بن خرشة على عمر فقال: بارك الله فيكم! اللهم1 اسمك بهم الإسلام وأيد بهم الإسلام. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصل فضائل صحابہ (رض) کے بیان میں حروف معجم کی ترتیب پر حرف الف ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض)
٣٦٧٦٥۔۔۔ ابو نضرہ کی روایت ہے ہمارا ایک شخص جسے جبریا جبیر کہا جاتا تھا کہتا ہے میں حضرت عمر (رض) کے دور خلافت میں مدینہ پہنچا اور آپ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا مجھے اللہ تعالیٰ نے سمجھ داری اور بات کرنے کا سلیقہ عطا کر رکھا تھا میں دنیا داری کی باتیں کرنے لگا اور دنیا کی خوب تحقیر بیان کی کہ دنیا کی ہر شے ذلیل ہے آپ (رض) کے پہلو میں ایک سفید رنگت والا شخص بیٹھا ہوا تھا جب میں بات کرکے فارغ ہوا آپ (رض) نے فرمایا : تمہاری ہر بات درست ہے سوائے اس کے کہ تم دنیا کے پیچھے پڑگئے ہوں کیا تم جانتے ہو دنیا کیا ہے ؟ اسی دنیا ہی میں ہمارا گزر بسر ہے اور آخرت کے لیے ہمارا توشہ ہے اسی دنیا میں تمہارے اعمال ہیں جن کا تمہیں آخرت میں بدلہ دیا جائے گا۔ چنانچہ ایک شخص دنیا میں رہتا ہے جو مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہے میں نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! یہ کون شخص ہے جو آپ کے پہلو میں بیٹھا ہوا ہے ؟ فرمایا : یہ مسلمانوں کے سردار ابی بن کعب ہیں۔ (رواہ البخاری فی الادب وابن عساکر)
36765- عن أبي نضرة قال قال: رجل منا يقال له جبر أو جبير قال: طلبت حاجة إلى عمر في خلافته فانتهيت إلى المدينة ليلا فقدمت عليه وقد أعطيت فطنة ولسانا - أو قال: منطقا - فأخذت في الدنيا فصغرتها فتركتها لا تسوى شيئا وإلى جنبه رجل أبيض فقال لما فرغت: كل قولك كان مقاربا إلا وقوعك في الدنيا، وهل تدري ما الدنيا؟ إن الدنيا فيها بلاغنا - أو قال زادنا - إلى الآخرة وفيها أعمالك التي تجزى بها في الآخرة، قال: فأخذ في الدنيا رجل هو أعلم بها مني فقلت: يا أمير المؤمنين من هذا الرجل الذي إلى جنبك؟ قال: سيد المسلمين أبي بن كعب. "خ" في الأدب، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصل فضائل صحابہ (رض) کے بیان میں حروف معجم کی ترتیب پر حرف الف ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض)
٣٦٧٦٦۔۔۔ حسن بصری (رح) کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت ابی بن کعب پر ایک آیت کی قرات رد کروں حضرت ابی (رض) نے کہا : میں نے یہ آیت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح سنی ہے جب کہ آپ کو بقیع میں خریدو فروخت غافل کیے ہوئے تھی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم نے سچ کہا میں تمہیں آزمانا چاہتا تھا تم میں ایسا شخص کوئی ہے جو حق بات کہے اس امیر میں کوئی بھلائی نہیں جس کے پاس حق بات نہ کہی جاتی ہو اور وہ امیر خود بھی حق بات نہ کہتا ہو۔ (رواہ ابن راھویہ)
36766- عن الحسن أن عمر بن الخطاب رد على أبي بن كعب قراءة آية فقال أبي: لقد سمعتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنت يلهيك يا عمر الصفق بالبقيع! فقال عمر: صدقت! إنما أردت أن أجربكم هل منكم من يقول الحق، فلا خير في أمير لا يقال عنده الحق ولا يقوله. ابن راهويه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصل فضائل صحابہ (رض) کے بیان میں حروف معجم کی ترتیب پر حرف الف ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض)
٣٦٧٦٧۔۔۔ ابو حبہ بدری کہتے ہیں : ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حضرت ابی بن کعب (رض) کی ملاقات ہوگئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں سورت لم یکن الذین کفرو “ سناؤں ابی (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہاں میرا تذکرہ کیا گیا ہے ؟ فرمایا : جی ہاں ابی بن کعب (رض) رونے لگے۔ (رواہ ابو نعیم وابن عساکر)
36767- عن أبي حبة البدري قال: لما أن لقي النبي صلى الله عليه وسلم أبي بن كعب قال: إن جبريل أمرني أن أقرئك "لم يكن الذين كفروا" فقال أبي: يا رسول الله! أو قد ذكرت هناك؟ قال: نعم فبكى. أبو نعيم، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصل فضائل صحابہ (رض) کے بیان میں حروف معجم کی ترتیب پر حرف الف ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض)
٣٦٧٦٨۔۔۔ ” سند ابی (رض) “ حضرت ابی (رض) کہتے ہیں : مجھے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو منذر ! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہیں قرآن سناؤں میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور آپ ہی سے علم حاصل کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابی (رض) کی بات رد کردی ابی (رض) نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا میرا ذکر کیا گیا ہے ؟ فرمایا : جی ہاں تمہارے نام اور نسب کا ملا اعلی میں ذکر کیا گیا ہے۔ عرض کیا : یا رسول اللہ تب سنائیں۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط وابن عساکر)
36768- "مسند أبي رضي الله عنه" قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أبا المنذر! إني أمرت أن أعرض عليك القرآن، قلت: يا رسول الله! بالله آمنت وعلى يديك أسلمت ومنك تعلمت، فرد النبي صلى الله عليه وسلم القول، قال: يا رسول الله! وذكرت هنالك؟ قال: نعم باسمك ونسبك في الملأ الأعلى، قال: فاقرأ إذن يا رسول الله. "طس، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصل فضائل صحابہ (رض) کے بیان میں حروف معجم کی ترتیب پر حرف الف ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض)
٣٦٧٦٩۔۔۔ ” ایضاً “ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ابی (رض) نے حضرت عمر (رض) سے کہا : اے امیر المومنین میں نے اس ہستی سے قرآن حاصل کیا ہے جس نے جبرائیل سے حاصل کیا ہے اور یہ تازہ تازہ ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل والحاکم وابن عساکر و سعید بن المنصور)
36769- "أيضا" عن ابن عباس قال قال أبي لعمر: يا أمير المؤمنين! إني تلقيت القرآن ممن تلقاه من جبريل وهو رطب. "حم، ك، كر، ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصل فضائل صحابہ (رض) کے بیان میں حروف معجم کی ترتیب پر حرف الف ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض)
٣٦٧٧٠۔۔۔ ” ایضاً “ حضرت ابی (رض) کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! بخار کی کیا جزاء ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بخار والے کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں جب تک وہ کپکپی میں مبتلا رہتا ہے یا پسینہ سے شرابور رہتا ہے ابی (رض) کہنے لگے : یا اللہ ! میں تجھ سے ایسے بخار کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیرے راہ میں نکالنے سے نہ روکے مجھے تیرے گھر (بیت اللہ) کی طرف جانے سے نہ روکے اور مجھے تیرے نبی کی مسجد میں جانے سے نہ روکے چنانچہ اس کے بعد جب بھی ابی (رض) کو چھوا گیا انھیں بخار کی حالت میں پایا گیا۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط وھو حسن وابن عساکر)
36770- "أيضا" قال قلت: يا رسول الله! ما جزاء الحمى؟ قال تجري الحسنات على صاحبها ما اختلج عليه قدم أو ضرب عليه عرق، فقال أبي اللهم: إني أسألك حمى لا تمنعني خروجا في سبيلك ولا خروجا إلى بيتك ولا إلى مسجد نبيك؛ فلم يمس أبي قط إلا وبه حمى. "طس" وهو حسن، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصل فضائل صحابہ (رض) کے بیان میں حروف معجم کی ترتیب پر حرف الف ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض)
٣٦٧٧١۔۔۔ عکرمہ کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابی (رض) سے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہیں قرآن سناؤں عرض کیا : میرے رب نے میرا ذکر کیا ہے ؟ فرمایا جی ہاں : عرض کیا : آپ مجھے ایک آیت سنائیں میں آپ کو دوبارہ وہی سناؤں گا ۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
36771- "أيضا" عن عكرمة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبي بن كعب: إني أمرت أن أقرئك القرآن، قال: وذكرني ربي؟ قال: نعم، قال أبي: فأقرأني آية فأعدتها عليه ثانية. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصل فضائل صحابہ (رض) کے بیان میں حروف معجم کی ترتیب پر حرف الف ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض)
٣٦٧٧٢۔۔۔ عبد الرحمن بن ابزی کی روایت ہے کہ حضرت ابی بن کعب (رض) نے مجھے کہا : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہیں ایک سورت سناؤں ایک روایت میں ہے کہ مجھ پر ایک سورت نازل کی گئی ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ وہ میں تمہیں سناؤں۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کیلئے میرا نام لیا گیا ہے ؟ فرمایا : جی ہاں عبد الرحمن بن ابزی کہتے ہیں : میں نے ابی (رض) سے کہا : کیا آپ اس پر خوش ہوئے ؟ فرمایا : مجھے خوش ہونے سے کیا چیز روکتی حالانکہ فرمان باری تعالیٰ ہے ” قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذالک فلتفرحوا “ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے فضل و رحمت سے اور اس پر تم خوش ہوجاؤ، ابی بن کعب (رض) نے یہ آیت اسی طرح ” فلتفرحوا “ کی تاء کے ساتھ پڑھی تھی ( رواہ ابن عساکر
36772- "أيضا" عن عبد الرحمن بن أبزى قال: قال لي أبي بن كعب: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: أمرت أن أقرئك سورة - وفي لفظ: أنزلت علي سورة وأمرت أن أقرئكها - قلت: يا رسول الله! وسميت لك؟ قال نعم، قلت لأبي: ففرحت لذلك؟ قال: وما يمنعني وهو يقول: "قل بفضل الله وبرحمته فبذلك فلتفرحوا" قال: هكذا قرأ أبي بن كعب بالتاء. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصل فضائل صحابہ (رض) کے بیان میں حروف معجم کی ترتیب پر حرف الف ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض)
٣٦٧٧٣۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض) کی روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا : فلاں شخص اپنے باپ کی بیوی کے پاس جاتا ہے۔ ابی (رض) بولے : اگر میں ہوتا تلوار سے اس کی گردن اڑا دیتا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے اور فرمایا : اے ابی تم کتنے غیرت مند ہو میں تم سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36773- عن أبي بن كعب قال جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن فلانا يدخل على امرأة أبيه، فقال أبي: لو أنا لضربته بالسيف فضحك النبي صلى الله عليه وسلم، قال: ما أغيرك يا أبي! إني لأغير منك والله لأغير مني. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصل فضائل صحابہ (رض) کے بیان میں حروف معجم کی ترتیب پر حرف الف ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض)
٣٦٧٧٤۔۔۔ ” ابو ادریس خولانی کی روایت ہے کہ حضرت ابی بن کعب (رض) نے حضرت عمر (رض) سے عرض کیا : اے عمر ! اللہ کی قسم آپ جانتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر رہتا تھا اور تم لوگ آتے رہتے تھے مجھے قریب کیا جاتا تھا جب کہ لوگوں کے آگے پردہ کردیا جاتا تھا میرے ساتھ یہ اور یہ ہوتا تھا بخدا اگر میں چاہتا اپنے گھر ہی سے چمٹا رہتا اور کوئی حدیث نہ سناتا اور کسی کو نہ پڑھتا تاوقتیکہ مجھے موت آجاتی حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یا اللہ ! تیری مغفرت یقیناً ہم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے پاس علم رکھا ہے لیکن جتنا علم بھی رکھتے ہو لوگوں کو سکھاتے جاؤ۔ (رواہ ابن ابی داؤد فی المصاحف وابن عساکر)
36774- "أيضا" عن أبي ادريس الخولاني أن أبي بن كعب قال لعمر: والله يا عمر! إنك لتعلم أني كنت أحضر وتغيبون وأدني وتحجبون ويصنع بي ويصنع بي والله لئن أحببت لألزمن بيتي فلا أحدث شيئا ولا أقرئ أحدا حتى أموت، فقال عمر بن الخطاب اللهم! غفرا، إنا لا نعلم أن الله قد جعل عندك علما فعلم الناس ما علمت. ابن أبي داود في المصاحف، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصل فضائل صحابہ (رض) کے بیان میں حروف معجم کی ترتیب پر حرف الف ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض)
٣٦٧٧٥۔۔۔ ” ایضاً “ ابو العالیہ (رح) کی روایت ہے کہ حضرت ابی بن کعب (رض) عبادت گزار شخص تھے جب آپ کی لوگوں کو ضرورت پڑتی عبادت چھوڑ دیتے اور لوگوں کی ضرورت پوری کرنے بیٹھ جاتے۔ (رواہ ابن عساکر)
36775- "أيضا" عن أبي العالية قال كان أبي بن كعب صاحب عبادة فلما احتاج إليه الناس ترك العبادة وجلس للقوم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصل فضائل صحابہ (رض) کے بیان میں حروف معجم کی ترتیب پر حرف الف ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض)
٣٦٧٧٦۔۔۔ ” مسند عمر (رض) “ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : ہمارے ساتھ ہماری قوم کی سر زمین کی طرف چلو چنانچہ ہم لوگ آپ (رض) کے ساتھ چل نکلے میں اور ابی بن کعب لوگوں کے پیچھے پیچھے تھے اچانک بادل چھاگئے ابی (رض) ع نہ بولے : یا اللہ ! بادلوں کی اذیت کو ہم سے دور رکھنا چنانچہ جب ہم آگے والے لوگوں کے ساتھ ملے ان کے کجاوے بھیگے ہوئے تھے عمر (رض) نے فرمایا : کیوں بارش تمہارے اوپر نہیں برسی ؟ میں نے عرض کیا : ابو منذر نے اللہ تعالیٰ سے دعا کرلی تھی کہ یا اللہ ! بارش کی اذیت کو ہم سے دور رکھنا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کیا تم نے ہمارے لیے دعا نہ کی۔ (رواہ ابن ابی الدنیا فی مجابی الدعوۃ وابن عساکر)
36776- "مسند عمر رضي الله عنه" عن ابن عباس قال قال عمر بن الخطاب: اخرجوا بنا إلى أرض قومنا، فخرجنا فكنت أنا وأبي بن كعب في مؤخر الناس فهاجت سحابة فقال أبي: اللهم اصرف عنا أذاها! فلحقناهم وقد ابتلت رحالهم، فقال عمر: أما أصابكم الذي أصابنا؟ قلت: إن أبا المنذر دعا الله أن يصرف عنا أذاها، فقال عمر: ألا دعوتم لنا معكم."ابن أبي الدنيا في كتاب مجابي الدعوة كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصل فضائل صحابہ (رض) کے بیان میں حروف معجم کی ترتیب پر حرف الف ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض)
٣٦٧٧٧۔۔۔ ” ایضاً “ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں مدینہ کی گلیوں میں سے ایک گلی میں کتاب اللہ کی ایک آیت پڑھا جا رہا تھا یکایک میں نے اپنے پیچھے ایک آواز سنی کہ : اے ابن عباس اس آیت کی سند بیان کرو میں نے جو پیچھے مڑ کر دیکھا تو عمر بن خطاب (رض) ہیں میں نے کہا : میں آپ کو ابی بن کعب کی سند پیش کرتا ہوں۔ آپ (رض) نے اپنے غلام سے فرمایا : اس کے ساتھ ابی بن کعب کے پاس چلو اور اس سے کہو کیا تم ہی نے یہ آیت ابن عباس کو پڑھائی ہے ؟ ہم حضرت ابی (رض) کے پاس پہنچے ابھی ہم دروازے پر ہی پہنچے تھے کہ اتنے میں عمر (رض) تشریف لے آئے اور اجازت طلب کی ہم تینوں ابی (رض) کے پاس داخل ہوئے اتنے میں زید (رض) بھی کھرچن سے سرکھر چتے ہوئے آن پہنچے عمر (رض) کے لیے ایک تکیہ پھینک دیا اور آپ اس پر بیٹھ گئے جب کہ ابی (رض) یوں بیٹھے تھے کہ ان کا منہ دیوار کی طرف تھا اور پست حضرت عمر (رض) کی طرف عمر (رض) کی طرف عمر (رض) نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : یہ شخص ہمیں کچھ نہیں سمجھتا۔ پھر ابی (رض) عمر (رض) کی طرف منہ کرکے متوجہ ہوئے اور کہا : اے امیر المومنین ! مرحبا کیا آپ ہم سے ملاقات کرنے آئے ہیں یا کوئی کام سے ؟ فرمایا : نہیں بلکہ کام ہے۔ اے ابی ! لوگوں کو کیوں ناامید کرتے ہو ؟ ابن عباس کہتے ہیں : یہ آیت کی طرف اشارہ تھا جس میں شدت تھی، ابی (رض) نے جواب دیا : میں نے اس ہستی سے قرآن حاصل کیا ہے جس نے براہ راست جبرائیل امین سے حاصل کیا ہے اور قرآن اس وقت تازہ تازہ تھا حضرت عمر (رض) نے تالی بجائی اور اٹھ کھڑے ہوئے اور کہتے جا رہے تھے : اللہ کی قسم ! تم باز نہیں آؤ گے اور میں صبر کرنے والا بھی نہیں ہوں اللہ کی قسم ! تم باز نہیں آؤ گے اور میں صبر کرنے والا بھی نہیں ہوں۔ (رواہ ابن عساکر)
36777- "أيضا" عن ابن عباس قال: بينما أنا أقرأ آية من كتاب الله في سكة من سكك المدينة إذ سمعت صوتا من خلفي:أتبع يا ابن عباس! أتبع يا ابن عباس! يعني أسند، فالتفت فإذا عمر بن الخطاب فقلت: أتبعك على أبي بن كعب، فقال لمولى له: اذهب معه إلى أبي فقل له: أنت أقرأته هذه الآية؟ فانطلقنا إلى أبي فأنا لببابه إذ جاء عمر فاستأذن له فدخلنا على أبي وجاء زيد يدري رأسه بمدرى1 فطرح لعمر وسادة من أدم فجلس عليها وأبي مقبل بوجهه على حائط وظهره إلى عمر، قال فالتفت إلينا عمر وقال: ما يرانا هذا شيئا! ثم أقبل أبي عليه بوجهه وقال: مرحبا يا أمير المؤمنين! أزائرا جئت أو طالب حاجة؟ قال: لا بل طالب حاجة، علام تقنط الناس يا أبى؟ قال: وكأنها آية فيها شدة فقال أبي: إني تلقيت القرآن ممن تلقاه من جبريل وهو رطب، قال فصفق عمر وقام وهو يقول: بالله ما أنت بمنته وما أنا بصابر! والله ما أنت بمنته وما أنا بصابر. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصل فضائل صحابہ (رض) کے بیان میں حروف معجم کی ترتیب پر حرف الف ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض)
٣٦٧٧٨۔۔۔ ” مسند ابی “ عبد الرحمن بن ابزی اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے حکم ہوا ہے کہ تمہیں قرآن سناؤں میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے میرا ذکر کیا ہے اور میرا نام بھی لیا ہے ؟ فرمایا : جی ہاں ابی (رض) رونے بھی لگے اور ہنسنے بھی لگے : پھر ابی (رض) نے یہ آیت پڑھی : ” بفضل اللہ وبرحمتہ فبذالک فلتفرحوا “ چنانچہ ابی (رض) نے تاء کے ساتھ آیت پڑھی۔ (رواہ ابن عساکر)
36778- "مسند أبي" عن عبد الرحمن بن أبزى عن أبيه عن أبي بن كعب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إني أمرت أن أقرئك القرآن، قلت: يا رسول الله! وذكرني وسماني باسمي؟ قال: قال نعم، فجعل أبي يبكي ويضحك ثم قال: "بفضل الله وبرحمته فبذلك فلتفرحوا" قال: قرأها بالتاء. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصل فضائل صحابہ (رض) کے بیان میں حروف معجم کی ترتیب پر حرف الف ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض)
٣٦٧٧٩۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سال قرآن سنایا جس سال آپ دنیا سے رخصت ہوئے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابی ! جبرائیل نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن سناؤں۔ اور وہ تمہیں سلام بھی کہہ رہے تھے۔ (رواہ ابن مندہ فی تاریخ اصبھان)
36779- عن أبي بن كعب قال: عرض رسول الله صلى الله عليه وسلم القرآن في السنة التي قبض فيها فقال: يا أبي! إن جبريل أمرني أن أقرأ عليك القرآن وهو يقرئك السلام. "ابن منده في تاريخ أصبهان".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصل فضائل صحابہ (رض) کے بیان میں حروف معجم کی ترتیب پر حرف الف ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض)
٣٦٧٨٠۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن ابی کعب (رض) سے فرمایا : میرے رب تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن سناؤں ابی (رض) نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے ابی (رض) رونے لگے لوگوں کا خیال ہے کہ انھوں نے سورت ” لم یکن “ پڑھی تھی۔ (رواہ ابو یعلی وابن عساکر)
36780- عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لأبي بن كعب: أمرني ربي أن أقرأ عليك، قال: وسماني لك، فبكي أبي، فزعموا أنه قرأ {لمْ يَكُنْ} "ع، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصل فضائل صحابہ (رض) کے بیان میں حروف معجم کی ترتیب پر حرف الف ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض)
٣٦٧٨١۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابی بن کعب (رض) سے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں سورت ” لم یکن الذین کفروا “ سناؤں ابی (رض) نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے ؟ فرمایا : جی ہاں ابی (رض) رونے لگے۔ (رواہ احمد بن حنبل والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابو یعلی)
36781- عن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبي بن كعب: إن الله أمرني أن أقرأ عليك {لم يكن الذين كفروا} قال: وسماني؟ قال نعم، فبكى. "حم، خ، م، ت، ن، ع".
tahqiq

তাহকীক: