কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬৭৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصل فضائل صحابہ (رض) کے بیان میں حروف معجم کی ترتیب پر حرف الف ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض)
٣٦٧٨٢۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ جب سورت ” لم یکن الذین کفروا “ نازل ہوئی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابی بن کعب (رض) سے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں یہ سورت سناؤں۔ ابی (رض) نے عرض کیا : کیا وہاں میرا نام لیا گیا ہے یا رسول اللہ ابی (رض) نے رونا شروع کردیا۔ (رواہ ابن عساکر)
36782- عن أنس قال: لما نزلت {لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا} قال النبي صلى الله عليه وسلم لأبي بن كعب: إن الله أمرني أن أقرأ عليك، قال: وذكرت هناك يا رسول الله؟ وجعل يبكي. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصل فضائل صحابہ (رض) کے بیان میں حروف معجم کی ترتیب پر حرف الف ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض)
٣٦٧٨٣۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابی بن کعب (رض) سے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن سناؤں۔ عرض کیا : اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے میرا نام لیا ہے فرمایا جی ہاں عرض کیا : رب العالمین کے حضور میرا تذکرہ کیا گیا ہے فرمایا : جی ہاں اس پر ابی (رض) کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبانے لگیں۔ (رواہ ابن عساکر وابن النجار)
36783- عن أنس بن مالك أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لأبي بن كعب: إن الله أمرني أن أقرئك القرآن - أو أقرأ عليك القرآن، قال: الله سماني لك؟ قال نعم، قال: وقد ذكرت عند رب العالمين؟ قال نعم، فذرفت عيناه. "كر" وابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصل فضائل صحابہ (رض) کے بیان میں حروف معجم کی ترتیب پر حرف الف ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض)
٣٦٧٨٤ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابی (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن سناؤں عرض کیا : اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے ؟ فرمایا : جی ہاں عرض کیا : رب العالمین کے حضور میرا ذکر کیا گیا ہے ؟ فرمایا جی ہاں چنانچہ ابی (رض) کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبانے لگیں ( رواہ ابن النجار
36784- عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لأبي بن كعب إن الله أمرني أن أقرئك القرآن - أو أقرأ عليك القرآن، قال: الله سماني لك؟ قال نعم، قال: وقد ذكرت عند رب العالمين؟ قال نعم، فذرفت عيناه. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفصل فضائل صحابہ (رض) کے بیان میں حروف معجم کی ترتیب پر حرف الف ۔۔۔ حضرت ابی بن کعب (رض)
٣٦٧٨٥۔۔۔ ” مسند ابی المنتفق “ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو منذر ! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پیش کروں عرض کیا : یا رسول اللہ ! وہاں میرا ذکر کیا گیا ہے ؟ فرمایا : جی ہاں چنانچہ ملاء اعلیٰ میں تمہارا نام اور نسب ذکر کیا گیا ہے۔ (رواہ الطبرانی عن ابی)
36785- "مسند أبي المنتفق" يا أبا المنذر! إني أمرت أن أعرض عليك القرآن، قال: يا رسول الله! ذكرت هناك؟ قال: نعم، باسمك ونسبك في الملأ الأعلى. "طب" - عن أبي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابیض بن حمال مآربی السبائی (رض)
٣٦٧٨٦۔۔۔ ” مسندہ “ ابیض بن جمال (رض) کی روایت ہے کہ انھوں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صدقہ کے متعلق بات کی جب وہ وفد کی صورت میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے آپ نے ارشاد فرمایا : اے سبا کے بھائی صدقہ کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم کپاس کاشت کرتے ہیں جب کہ سبا قوم مارک سے ہلاک ہوچکی ہے اور ان میں سے تھوڑے لوگ ہی باقی بچے ہیں تاہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر سال ستر جوڑوں کی قیمت جو معافر کپڑے کی قیمت کے برابر ہو دینے پر صلح کرلی یہ ٹیکس ان لوگوں پر لاگو کیا تھا جو سبا قوم میں سے ابھی باقی تھے اہل صبا لگاتار ٹیکس دیتے رہے حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوگئے چنانچہ گورنروں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد ستر جوڑوں کی صلح کا معاہدہ توڑ دیا لیکن ابوبکر (رض) نے اس معاہدہ کو جوں کا توں رہنے دیا۔ حتیٰ کہ ابوبکر (رض) بھی دنیا سے رخصت ہوگئے ان کے بعد پھر یہ معاہدہ ٹوٹ گیا اور صدقہ کے طور پر قائم رہا۔ (رواہ ابوداؤد والطبرانی والضیاء)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ابی داؤد میں ذکر کی گئی ہے دیکھئے ٦٥٤۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ابی داؤد میں ذکر کی گئی ہے دیکھئے ٦٥٤۔
36786- "مسنده" عن أبيض بن حمال أنه كلم رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصدقة حين وفد عليه، قال: يا أخا سبأ لا بد من صدقة فقال: إنما زرعنا القطن يا رسول الله صلى الله عليه وسلم! وقد تبددت سبأ ولم يبق منهم إلا قليل بمأرب، فصالح نبي الله صلى الله عليه وسلم سبعين حلة من قيمة وفاء بز المعافر كل سنة عمن بقي من سبأ بمأرب، فلم يزالوا
يؤدونها حتى قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأن العمال انتقضوا عليهم بعد قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما صالح أبيض بن حمال رسول الله صلى الله عليه وسلم في الحلل السبعين، فرد ذلك أبو بكر على ما وضعه رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى مات أبو بكر، فلما مات أبو بكر انتقض ذلك وصارت على الصدقة. "د،1، طب، ض".
يؤدونها حتى قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأن العمال انتقضوا عليهم بعد قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما صالح أبيض بن حمال رسول الله صلى الله عليه وسلم في الحلل السبعين، فرد ذلك أبو بكر على ما وضعه رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى مات أبو بكر، فلما مات أبو بكر انتقض ذلك وصارت على الصدقة. "د،1، طب، ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابیض بن حمال مآربی السبائی (رض)
٣٦٧٨٧۔۔۔ ” ایضاً “ روایت ہے کہ حضرت ابیض (رض) کے چہرہ پر پھوڑا نما داغ تھا جس سے ناک میں قدرے بدنمائی پیدا ہوگئی تھی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اپنے پاس بلایا اور چہرے پر ہاتھ پھیرا چنانچہ اس دن کے بعد ابیض (رض) کے چہرے پر داغ نہیں دیکھا گیا۔ (رواہ الباوردی والطبرانی وابو نعیم والضیاء)
36787- "أيضا" أنه كان بوجهه حرارة يعني قوبا قد التقمت أنفه فدعاه رسول الله صلى الله عليه وسلم فمسح وجهه، فلم يمس ذلك اليوم في وجهه أثر. الباوردي، "طب" وأبو نعيم، "ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابراہیم بن ابی موسیٰ اشعری (رض)
٣٦٧٨٨۔۔۔ ” مسند ابی موسیٰ “ ابو موسیٰ (رض) کہتے ہیں میرے گھر ایک لڑکا پیدا ہوا میں اسے لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور کھجور چبا کر اسے گھٹی دی، بچے کے لیے برکت کی دعا کی اور پھر بچہ مجھے دے دیا۔ (رواہ ابو نعیم) کلام :۔۔۔ بچے کے لیے برکت کی دعا ۔۔۔ ذخیرۃ الحفاظ میں نہیں ہے۔
36788- "مسند أبي موسى" ولد لي غلام فأتيت به رسول الله صلى الله عليه وسلم فسماه إبراهيم وحنكه بتمرة ودعا له بالبركة ودفعه إلي. أبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اثال بن نعمان حنفی (رض)
٣٦٧٨٩۔۔۔ اثال بن نعمان (رض) کی روایت ہے کہ میں اور فرات بن حبان نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے سلام کیا آپ نے سلام کا جواب دیا ہم اس کے بعد اسلام نہیں لائے تھے۔ (رواہ عبدان)
36789- "مسنده" أتيت النبي صلى الله عليه وسلم أنا وفرات بن حيان فسلمنا عليه فرد علينا ولم نكن أسلمنا بعد فأقطع فرات بن حيان.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احمر بن سواء سدوسی (رض)
٣٦٧٩٠۔۔۔ احمر بن سواء سدوسی (رض) کہتے ہیں کہ ان کے پاس ایک بت تھا جس کی وہ پوجا کرتے تھے چنانچہ آپ (رض) نے بت اٹھا کر کنویں میں پھینک دیا اور خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے دست اقدس پر بیعت کرلی۔ (رواہ ابن مندہ وقال : حدیث غریب ورواہ ابو نعیم واورد ابن الاثیر فی اسد الغابۃ ٦٧١)
36790- عن أحمر بن سواء السدوسي أنه كان له صنم يعبده فعمد إليه فألقاه في بئر ثم أتى النبي صلى الله عليه وسلم فبايعه."ابن منده، وقال: حديث غريب، وأبو نعيم"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ارطبان (رض)
٣٦٧٩١۔۔۔ حضرت ارطبان (رض) کہتے ہیں جب مجھے آزادی مل گئی میں نے بہت سارا مال کمایا اور مال کی زکوۃ لے کر حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ (رض) نے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : یہ میرے مال کی زکوۃ ہے عمر (رض) نے فرمایا : تمہارے پاس مال ہے میں نے جواب دیا : جی ہاں آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہارے مال میں برکت عطا فرمائے۔ میں نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! میری اولاد کے لیے بھی دعا کریں فرمایا : تمہاری اولاد ہے ؟ میں نے عرض کیا : امیر المومنین ! آئندہ ہوگی فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہارے مال اور اولاد میں برکت عطا فرمائے۔
36791- عن أرطبان قال: لما عتقت اكتسبت مالا فأتيت عمر بن الخطاب بزكاته، فقال لي: ما هذا؟ قلت: زكاة مالي، فقال: ولك مال؟ قلت: نعم، فقال: بارك الله لك في مالك! فقلت: يا أمير المؤمنين! وفي ولدي، قال: ولك ولد؟ قلت: يا أمير المؤمنين! يكون، قال: بارك الله لك في مالك وولدك."ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ارقم بن ابی ارقم (عبد مناف) مخزومی (رض)
٣٦٧٩٢۔۔۔ عبداللہ بن عثمان بن ارقم اپنے دادا ارقم (رض) جو کہ بدری صحابی میں روایت نقل کرتے ہیں کہ ارقم (رض) کہتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھر میں تھے جو صفا کے قریب تھا حتیٰ کہ لوگ اسلام قبول کرکے پورے چالیس ہوچکے تھے اور ان میں آخری میں عمر (رض) نے اسلام قبول کیا تھا چنانچہ جب چالیس آدمی پورے ہوگئے تو مسلمان مشرکین کی طرف نکلنے لگے۔ (رواہ الطبرانی وابن مندہ والحاکم و ابونعیم ازداد وقیل : یراد بن عیسیٰ ابو نعیم کہتے ہیں : بعض مورخین نے ارقم بن ابی ارقم کو صحابہ (رض) میں شمار کیا ہے جب کہ امام بخاری (رح) کہتے ہیں یہ حدیث مرسل ہے چونکہ ارقم بن ابی ارقم کو صحبت کا شرف حاصل نہیں ہوا)
36792- عن عبد الله بن عثمان بن الأرقم عن جده وكان بدرياوكان رسول الله صلى الله عليه وسلم في داره التي عند الصفا حتى تكاملوا أربعين رجلا مسلمين وكان آخرهم إسلاما عمر فلما تكاملوا أربعين رجلا خرجوا إلى المشركين (طب وابن منده ، ك وأبو نعيم ، ازداد وقيل : يزداد بن عيسى ، قال أبو نعيم : من الناس من عده من الصحابة ، وقال خ ، هو مرسل لا صحبة له).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسامہ بن زید (رض)
٣٦٧٩٣۔۔۔ ” مسند عمر (رض) “ اسلمہ روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے اسامہ بن زید (رض) کے لیے تین ہزار پانچ سو (٣٥٠٠) درہم وظیفہ مقرر کیا جب کہ عبداللہ بن عمر (رض) کے لیے تین ہزار (٣٠٠٠) دراہم مقرر کیے اس تقسیم پر عبداللہ بن عمر (رض) کو اعتراض ہوا اور عرض کیا : ابا جان ! آپ نے اسامہ کو مجھ پر فوقیت کیوں دی ہے ؟ اللہ کی قسم وہ کسی جنگ میں مجھ پر سبقت نہیں لے گیا عمر (رض) نے فرمایا : چونکہ زید (اسامہ (رض) کے والد) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تیرے باپ سے زیادہ محبوب تھے اور اسامہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تجھ سے زیادہ محبوب تھا لہٰذا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے محبوب کو اپنے محبوب پر ترجیح دی ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وابو سعد وابو عبید فی الاموالی والترمذی وقال حسن غریب ورواہ ابو یعلی وابن صبان والبیہقی)
36793- "مسند عمر" عن أسلم أن عمر فرض لأسامة في ثلاثمائة آلاف وخمسمائة، وفرض لعبد الله بن عمر في ثلاثة آلاف، فقال عبد الله بن عمر لأبيه: لم فضلت أسامة علي؟ فوالله ما سبقني إلى مشهد! قال: لأن زيدا كان أحب إلى رسول الله من أبيك وكان أسامة أحب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم منك، فآثرت حب رسول الله صلى الله عليه وسلم على حبي.
"ش" وأبو سعد وأبو عبيد في الأموال، "ت" وقال: حسن1 غريب، "ع حب، ق".
"ش" وأبو سعد وأبو عبيد في الأموال، "ت" وقال: حسن1 غريب، "ع حب، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسامہ بن زید (رض)
٣٦٧٩٤۔۔۔ محمد بن قیس کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) جب بھی اسامہ (رض) سے ملے انھیں کہا : السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ اے امیر ! ایسا امیر جسے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امیر مقرر فرمایا : وفات سے قبل اسے معزول نہیں کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
36794- عن محمد بن قيس قال: لم يلق عمر أسامة بن زيد قط إلا قال: السلام عليك أيها الأمير ورحمة الله وبركاته أمير أمره رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم لم ينزعه حتى مات. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسامہ بن زید (رض)
٣٦٧٩٥۔۔۔ عبداللہ بن دینار کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) جب اسامہ (رض) کو دیکھتے تو کہتے اے امیر السلام علیکم ! اسامہ (رض) کہتے : اے امیر المومنین ! اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے آپ مجھے امیر کیوں کہتے ہیں ؟ عمر (رض) انھیں جواب دیتے میں جب تک زندہ رہوں گا تمہیں اسی خطاب سے پکاروں گا چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوئے جب کہ تم مجھ پر امیر تھے۔ (رواہ ابن عساکر)
36795- عن عبد الله بن دينار قال: كان عمر بن الخطاب إذا رأى أسامة بن زيد قال: السلام عليك أيها الأمير! فيقول أسامة: غفر الله لك يا أمير المؤمنين! تقول لي هذا؟ قال: فكان يقول له: لا أزال أدعوك ما عشت؛ أيها الأمير، مات رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنت علي أمير. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسامہ بن زید (رض)
٣٦٧٩٦۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں : ایک مرتبہ اسامہ (رض) دروازے کی چوکھٹ سے ٹکر کھا کر گرگئے جس سے ان کا چہرہ زخمی ہوگیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا : اس سے گرد و غبار جھاڑو میں نے گرد جھاڑ دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسامہ کے چہرے سے خون چوس کر تھوک دیتے اور فرمایا : اگر اسامہ لڑکی ہوتی ہیں اسے اچھے اچھے کپڑے پہناتا اور زیورات سے اسے آراستہ کرتا حتیٰ کہ اسے بیاہ دیتا۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وابن سعد)
36796- عن عائشة قالت: عثر أسامة بعتبة الباب فشج في وجهه، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: أميطي عنه الأذى، فقذرته فجعل يمص الدم ويمجه عن وجهه ويقول: لو كان أسامة جارية لكسوته وحليته حتى أنفقه. "ش" وابن سعد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسامہ بن زید (رض)
٣٦٧٩٧۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس خوش خوش تشریف لائے آپ کا چہرہ اقدس مسرت سے کھلا ہوا دکھائی دے رہا تھا آپ کھڑے ہوگئے اور فرمایا : کیا تم نے نہیں سنا محرز مدلجی کیا کہتا ہے ؟ چنانچہ محرز نے اسامہ اور زید کو سوئے ہوئے دیکھا ان دونوں نے ایک ہی کپڑے سے۔ یا فرمایا : ایک ہی چادر سے سر ڈھانپ رکھے تھے جب کہ ان کے پاؤں ننگے تھے اور ظاہری نظر آتے تھے محرز بولا : یہ پاؤں ایک دوسرے سے کتنے مشابہ ہیں۔ (رواہ عبد الرزاق والبخاری ومسلم وابو داؤد والترمذی والنسائی وابن ماجہ)
36797- عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل عليها مسرورا يبرق وجهه قام: ألم تسمعني ما قال محرز المدلجي ورأى أسامة وزيدا نائمين في ثوب واحد أو في قطيفة قد غطيا رؤسهما وبدت أقدامهما فقال: إن هذه الأقدام بعضها من بعض. "عب، خ، م، د، ت، ن، هـ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسامہ بن زید (رض)
٣٦٧٩٨۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن مجھے حکم دیا کہ میں اسامہ بن زید (رض) کا منہ دھلادوں اسامہ ابھی بچہ تھا جب کہ میرے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا میں نہیں جانتی تھی کہ بچوں کو کیسے دھویا جاتا ہے میں نے اسامہ پکڑا اور اس کا منہ دھلا دیا چنانچہ کوئی اچھی طرح سے اس کا منہ نہ دھل اس کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود اسامہ کو پکڑا اور اس کا منہ دھلا دیا آپ اس دوران فرمائے جا رہے تھے کہ اچھا ہوا جو یہ لڑکی نہ ہوئی اگر تو لڑکی ہوتی میں تجھے زیورات سے آراستہ کرتا اور تجھے بیاہ دیتا۔ (رواہ ابو یعلی وابن عساکر)
36798- عن عائشة قالت: أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أغسل وجه أسامة بن زيد يوما وهو صبي وما ولدت ولا أعرف كيف يغسل الصبيان! فأخذته فغسلته غسلا ليس بذاك، فأخذه فجعل يغسل وجهه ويقول: لقد أحسن بنا إذ لم يكن جارية، ولو كنت جارية لحليتك وأعطيتك. "ع، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسامہ بن زید (رض)
٣٦٧٩٩۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوچ کرنے میں تاخیر ہوگئی سبب تاخیر کہ اسامہ بن زید (رض) قضائے حاجت کے لیے چلے گئے تھے جب اسامہ آگئے تو لوگوں نے دیکھا کہ ایک کالا چپٹی ناک والا لڑکا ہے۔ اہل یمن کہنے لگے : اس حقیر سے لڑکے کی وجہ سے کوچ کرنے میں ہمیں تاخیر ہوئی عروہ کہتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد اہل یمن اسامہ کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہوگئے۔ (رواہ ابن عساکر)
36799- عن عروة أن النبي صلى الله عليه وسلم أخر الإفاضة بعض التأخير من أجل أسامة بن زيد ذهب يقضي حاجته، فلما جاء جاء غلام أفطس أسود فقال أهل اليمن: ما حبسنا بالأفاضة اليوم إلا من أجل هذا. قال عروة: إنما كفرت اليمن بعد وفاة النبي صلى الله عليه وسلم من أجل أسامة.
"كر".
"كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسامہ بن زید (رض)
٣٦٨٠٠۔۔۔ عطاء بن یسار کی روایت ہے کہ حضرت اسامہ (رض) جب پہلی پہلی بار مدینہ آئے انھیں خارش کی شکایت ہوگئی وہ ابھی چھوٹے لڑکے تھے چنانچہ ان کی ناک سے رینٹ بہہ کر منہ میں آجاتی تھی عائشہ (رض) اسامہ (رض) سے گھن کرنے لگیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں تشریف لائے اور اسامہ (رض) کا منہ دھونا شروع کردیا اور بوسے لینے لگے حضرت عائشہ (رض) بولیں : اچھا اللہ کی قسم میں اسے اپنے سے دور کبھی نہیں کروں گا۔ (رواہ الواقدی وابن عساکر)
36800- عن عطاء بن يسار قال: كان أسامة بن زيد قد أصابه الجدري أول ما قدم المدينة وهو غلام مخاطه يسيل على فيه فتقذرته عائشة، فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم فطفق يغسل وجهه ويقبله، فقالت عائشة: أما والله بعد هذا فلا أقصيه أبدا. الواقدي، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسامہ بن زید (رض)
٣٦٨٠١۔۔۔ ” مسند اسامہ بن زید “ اسامہ (رض) کہتے ہیں : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے پکڑتے اور اپنی ایک ران پر مجھے بیٹھا لیتے اور دوسری ران پر حسن بن علی (رض) کو بٹھا لیتے پھر ہمیں اپنے ساتھ چمٹا لیتے اور فرماتے یا اللہ ! میں ان پر مہربان ہوں تو بھی ان پر مہربان ہوجا۔ (رواہ احمد بن حنبل وابو یعلی والنسائی والرویانی وابن حبان والضیاء)
36801- "مسند أسامة بن زيد" كان النبي صلى الله عليه وسلم يأخذني فيقعدني على فخذه ويقعد الحسن بن علي على فخذه الأخرى ثم يضمنا ثم يقول: اللهم! إني أرحمهما فارحمهما. "حم، ع، ن" والروياني، "حب، ض".
তাহকীক: