কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬৮১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسامہ بن زید (رض)
٣٦٨٠٢۔۔۔ اسامہ بن زید (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں حضرت علی (رض) اور حضرت عباس (رض) آئے اور کہنے لگے : اے اسامہ ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت لو۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! علی اور عباس (رض) اجازت طلب کر رہے ہیں ارشاد فرمایا : جانتے ہو وہ کیوں آئے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : نہیں فرمایا : لیکن میں جانتا ہوں اچھا انھیں اجازت دو وہ دونوں اندر داخل ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ آپ سے پوچھیں کہ آپ کو اپنے خاندان میں سے سب سے زیادہ محبوب کون ہے آپ نے فرمایا : فاطمہ بنت محمد عرض کیا : ہم آپ سے آپ کے گھر والوں کے متعلق پوچھتے ہیں آپ نے فرمایا : مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ وہ شخص محبوب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے اور میں نے انعام کیا ہے یعنی اسامہ بن زید عرض کیا پھر کون ؟ فرمایا : علی بن ابی طالب حضرت عباس (رض) بولے : یا رسول اللہ ! آپنے اپنے چچا کو سب کے آخر میں کردیا۔ اس پر ارشاد فرمایا : چونکہ علی نے آپ سے پہلے ہجرت کی ہے (رواہ الطبرانی والتبر فدی وقال حسن صحیح والرویانی والبغوی والطبرانی والحاکم و سعید بن المنصور

کلام : ۔۔۔ حدیث پر کلام کیا گیا ہے دیکھئے ضعیف الترمذی ٨٠٠ والضعیفۃ ١٨٤٤۔
36802- "أيضا" كنت جالسا إذ جاء علي والعباس يستأذنان فقالا: يا أسامة! استأذن لنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا رسول الله! علي والعباس يستأذنان، فقال: أتدري ما جاء بهما؟ قلت: لا، قال النبي صلى الله عليه وسلم: لكني أدري، ائذن لهما، فدخلا فقالا: يا رسول الله! جئناك نسألك أي أهلك أحب إليك؟ قال: فاطمة بنت محمد، قالا: ما جئناك نسألك عن أهلك، قال: فأحب الناس إلي من أنعم الله عليه وأنعمت عليه أسامة بن زيد، قالا: ثم من؟ قال: ثم علي بن أبي طالب، فقال العباس: يا رسول الله! جعلت عمك آخرهم، قال: إن عليا سبقك بالهجرة. "ط، ت": حسن صحيح1 والروياني والبغوي، "طب، ك، ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسامہ بن زید (رض)
٣٦٨٠٣۔۔۔ اسامہ (رض) کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بوجھل ہوگئے میں لوگوں کے ساتھ۔ (مضافات سے اترکر) مدینہ آگیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش تھے اور باتیں نہیں کر پاتے تھے ۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ مبارک مجھ پر رکھنے شروع کر دئیے ہاتھ مجھ پر رکھ کر اوپر اٹھالیتے میں سمجھ گیا کہ آپ میرے لیے دعا فرما رہے ہیں۔ (رواہ احمد بن حنبل والترمذی وقال حسن غریب والرویانی وسمویہ والباوردی والطبرانی والبغوی والضیاء)
36803- "أيضا" لما ثقل رسول الله صلى الله عليه وسلم هبطت وهبط الناس المدينة فدخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد أصمت فلم يتكلم؛ فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يضع يديه علي ويرفعهما فأعرف أنه يدعو لي. "حم؛ ت": حسن غريب2 والروياني وسمويه والباوردي؛ "طب" والبغوي؛ "ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسامہ بن زید (رض)
٣٦٨٠٤۔۔۔ حضرت اسامہ (رض) کہتے ہیں : جب میرے والد محترم (رض) شہید کر دئیے گئے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دیکھا آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے دوسرے دن پھر میں نے خدمت اقدس میں حاضری دی، ارشاد فرمایا : کل میں تم سے نہیں مل سکا میں آج تم سے ملاقات کرتا ہوں۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وابن منیع والبزار والباوردی والدار قطنی فی الافراد و سعید بن المنصور)
36804- "أيضا" لما قتل أبي أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فلما رآني دمعت عيناه؛ فلما كان من الغد أتيته فقال: ألاقي منك اليوم ما لقيت منك أمس. "ش" وابن منيع والبزار والباوردي؛ "قط" في الأفراد؛ "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسلم مولائے عمر (رض)
٣٦٨٠٥۔۔۔ عبد المنعم بن بشیر عبد الرحمن بن زید بن اسلم اپنے والد اور دادا کی سند سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ان کے دادا اسلم (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دو سفر کیے۔ (رواہ ابن مندہ اور عبد المنعم اس پر ابن معین نے جرح کی ہے الاصابہ میں ہے کہ حضرت عمر (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد اسلم کو خریدا ہے ابن اسحاق وغیرہ نے یہی ذکر کیا ہے اور یہی بات زیادہ مشہور ہے)
36805- "مسنده" عن عبد المنعم بن بشير عن عبد الرحمن بن زيد بن أسلم عن أبيه عن جده أنه سافر مع النبي صلى الله عليه وسلم سفرتين."ابن منده وعبد المنعم جرحه ابن معين؛ قال في الإصابة: والمعروف أن عمر اشترى أسلم بعد وفاة النبي صلى الله عليه وسلم؛ كذلك ذكره ابن إسحاق وغيره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسمر بن ساعد بن ھلوات المازنی (رض)
٣٦٨٠٦۔۔۔ احمد بن داؤد بن اسمر بن ساعد، اپنے والد داؤد سے نقل کرتے ہیں کہ میں اپنے والد ابو ساعد بن ھلوات کے ساتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میرے والد ابو ساعد (رض) نے عرض کیا : میرا والد یعنی ھلوات بہت بوڑھا ہے اس نے آپ کی خبر سنی وہ آپ پر ایمان لے آیا ہے اب اس میں اٹھنے کی طاقت نہیں رہی البتہ آپ کی خدمت میں دیہات کے کچھ سوٖات ہدیۃ بھیجے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہدیہ قبول فرمایا ان کے لیے اور ان کی اولاد کے لیے دعا فرمائی۔ (رواہ ابن مندہ وابو نعیم وقال : لایعرف الا من ھذا الوجہ وفی سندہ نظر)
36806- "مسنده" عن أحمد بن داود بن أسمر بن ساعد قال: حدثني أبي داود ثنا أبي أسمربن ساعد قال: وفدت أنا مع أبي ساعد بن هلوات إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال له: إن أبانا شيخ كبير - يعني هلواث وقد سمع بك وآمن بك وليس به نهوض وقد وجه إليك بلطف الأعراب؛ فقبل منه الهدية ودعا له ولولده.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسود بن سریع (رض)
٣٦٨٠٧۔۔۔ اسود بن سریع (رض) کہتے ہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چار غزوات کئے ہیں۔ (رواہ البخاری فی تاریخہ وابن السکن وابن حبان)
36807- "مسنده" عن أسود بن سريع قال: غزوت مع النبي صلى الله عليه وسلم أربع غزوات.

"خ" في تاريخه وابن السكن، "حب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسود بن عمران البکری (رض)
٣٦٨٠٨۔۔۔ میری نہدی ، ابو محجل ، عمران بن اسود۔ یا ۔ اسود بن عمران کہتے ہیں اپنی قوم کے قاصد کی حیثیت سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا یہ اس وقت کی بات ہے جب میری قوم نے اسلام قبول کیا اور اسلام کا اقرار کیا میری قوم نے مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھیجا تھا۔ (رواہ ابن مندہ وابو نعیم وقال ابن عبد البر فی اسنادہ مقال قال فی الاصابۃ ما فیہ غیر ابی المحجل وھو محجول)
36808- "مسنده" عن ميسرة النهدي عن أبي المحجل عن عمران بن الأسود - أو: الأسود بن عمران - قال: كنت رسول قومي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ووافدهم لما دخلوا في الإسلام وأقروا."ابن منده وأبو نعيم، قال ابن عبد البر: في إسناده مقال، قال في الإصابة: ما فيه غير أبي المحجل وهو محجول".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسود بن بحتری بن خویلد (رض)
٣٦٨٠٩۔۔۔ حسن بن مدرک، یحییٰ بن حماد، ابو عوانہ ابو مالک، ابو حازم کی روایت ہے کہ اسود بحتری (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرا عظیم تراجر یہ ہے کہ میں اپنی قوم سے بےنیاز ہوجاؤں۔ (رواہ ابن مندہ وابو نعیم قال فی الاصابۃ رجالہ ثقات مع ارسالہ)
36809- "مسنده" عن الحسن بن مدرك عن يحيى بن حماد عن أبي عوانة عن أبي مالك حدثني أبو حازم أن الأسود بن البختري قال: يا رسول الله! أعظم لأجري أن أستغني عن قومي."ابن منده وأبو نعيم، قال في الإصابة: رجاله ثقات مع إرساله".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسود بن حارثہ
٣٦٨١٠۔۔۔ ” مسند اسود بن حارثہ “ یزید بن ہارون مسلم بن سعید حبیب بن عبد الرحمن اپنے والد اور دادا کی سند سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک غزوہ پر تشریف لے گئے چنانچہ میں اور ایک اور شخص اسلام لانے سے قبل نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے عرض کیا : یقیناً ہمیں حیاء آتی ہے کہ ہماری قوم جنگ میں شریک ہو اور ہم اس میں حصہ نہ لیں آپ نے فرمایا ! کیا تم نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ ہم نے عرض کیا : جی نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہم مشرکین کے خلاف مشرکین کی مدد نہیں لینا چاہتے، چنانچہ ہم نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئے میں نے ایک شخص کو قتل کیا جب کہ اس نے مجھ پر بھی ایک ضرب لگائی بعد میں میں نے اسی شخص کی بیٹی سے شادی کرلی وہ کہا کرتی تھی : میں ایک شخص کو معدوم نہیں سمجھتی جس نے تمہیں یہ ہار پہنایا ہے۔ (یعنی زخم لگایا ہے) میں آگے سے جواب دیتا تو ایسے شخص کو بھی معدوم نہیں سمجھے گی جس نے تیرے باپ کو واصل جہنم کیا۔ (رواہ الحاکم وقال : حبیب بن عبد الرحمن بن الاسود بن حارثۃ جدہ صحابی معروف قال فی الاصابۃ : کذا قال وھو وھم وھذا الحدیث رواہ احمد بن یزید بن ہارون فوقع عندہ عن حبیب بن عبد الرحمن بن حبیب واوردہ ابن عبد البر فی ترجمۃ شعیب ابن یساف وھو
36810 (مسنده) عن يزيد بن هارون عن المسلم بن سعيد عن حبيب بن عبد الرحمن عن أبيه عن جده قال : خرج النبي صلى الله عليه وسلم في بعض غزواته فأتيته أنا ورجل قبل أن نسلم فقلنا : إنا نستحيي أن يشهد قومنا مشهدا ولا نشهد ، فقال : أسلمتما ؟ قلنا : لا ، قال : فانا لا نستعين بالمشركين على المشركين ، فأسلمنا وشهدنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقتلت رجلا وضربني الرجل ضربة فتزوجت ابنته فكانت تقول : لا عدمت رجلا وشحك هذا الوشاح ! فأقول : لا عدمت رجلا عجل أباك إلى النار (ك ، وقال : حبيب ابن عبد الرحمن بن الاسود بن حارثة جده صحابي معروف ، قال في الاصابة : كذا قال وهو وهم وهذا الحديث رواه حم عن يزيد بن هارون فوقع عنده عن حبيب بن عبد الرحمن بن حبيب ، وأورده ابن عبد البر في ترجمة حبيب ابن يساف وهو الصواب) أسود بن خطامه الكناني اخو زهير بن خطامة رضي الله عنه
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسود بن خطامہ الکنانی (رض) (زبیر بن خطامہ کے بھائی)
٣٦٨١١۔۔۔ اسماعیل بن نضر بن اسود بن خطامہ (جو کہ بنی کنانہ سے ہیں) والد دادا کی سند سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ان کے دادا اسود بن خطامہ (رض) کہتے ہیں زہیر بن خطامہ (رض) ایک وفد کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ پر ایمان لائے اور پھر عرض کیا ہماری ایک چراگاہ ہے جس میں ہم جاہلیت میں بھی اپنے مویشی چراتے تھے وہ چراگاہ آپ اسے ہمارے لیے مقرر کردیں ( رواہ ابن مندہ وابو نعیم قال فی الاصابۃ : الاسناد محجولی
36811- "مسنده" عن إسماعيل بن النضر بن الأسود ابن خطامة من بني كنانة عن أبيه عن جده قال: خرج زهير بن خطامة وافدا حتى قدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم فآمن بالله ورسوله ثم قال: إن لنا حمى كنا نحميها في الجاهلية فاحمه لنا."ابن منده وأبو نعيم، قال في الإصابة: الإسناد مجهول".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسود بن حازم بن صفوان بن عرار (رض) نعہ
٣٦٨١٢۔۔۔ مسند اسود بن حازم “ ابو احمد نجیر بن نضر، ابو جمیل عباد بن ہشام شامی کہتے ہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) میں سے ایک شخص کو دیکھا جسے اسود بن حازم بن صفوان بن عرار کہا جاتا تھا میں ان کے پاس اپنے والد کے ساتھ آتا رہتا تھا اس وقت میری عمر چھ سال یا سات سال تھی اسود بن حازم (رض) مکھن کے ساتھ کھجوریں کھاتے تھے چونکہ ان کے منہ میں دانت نہیں تھے وہ کہا کرتے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں شریک ہوا ہوں اس وقت میری عمر تیس سال تھی اسود بن حازم (رض) سے پوچھا گیا : اب آپ کی کیا عمر ہے ؟ فرماتے اب میری عمر ایک سو پچپن سال ہے۔ (رواہ ابن مندہ وابو نعیم قال فی الاصابۃ اسنادہ ضعیف جدا)
36812- "مسنده" عن أبي أحمد بحير بن النضر سمعت أبا جميل عباد بن هشام الشامي يقول: رأيت رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يقال له: الأسود بن حازم بن صفوان بن عرار، قال: وكنت آتيه مع أبي وأنا يومئذ ابن ست أو سبع سنين وكان يأكل التمر مع السمن ولم يكن في فمه أسنان فسمعته يقول: شهدت غزوة الحديبية مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا ابن ثلاثين سنة فسئل: وكم أتاك؟ فقال: خمس وخمسون ومائة."ابن منده وأبو نعيم، قال في الإصابة: إسناده ضعيف جدا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسید بن حضیر (رض)
٣٦٨١٣۔۔۔ حضرت اسید بن حضیر کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں رات کو سورت بقرہ تلاوت کررہا تھا جب کہ میرا گھوڑا ساتھ ہی باندھا ہوا تھا یکایک گھوڑا گھومنے لگا میں خاموش ہوا گھوڑا بھی سکون میں آگیا، پھر تلاوت شروع کی گھوڑا بھی گھومنے لگا میں خاموش ہوا گھوڑا بھی سکون میں آگیا میں نے پھر تلاوت شروع کی گھوڑا بھی گھومنے لگا میں خاموش ہوا گھوڑا بھی سکون میں آگیا۔ اسید بن حضیر (رض) تلاوت ختم کرکے کھڑے ہوگئے اور قریب ہی ان کا بیٹا یحییٰ تھا اسے دیکھا کہیں اسے کوئی تکلیف نہ پہنچی ہو۔ جب چندان کچھ نہ نظر آیا تو انھوں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی کیا دیکھتے ہیں کہ سائبان کی طرح کوئی چیز اوپر تنی ہوئی ہے اس میں چراغوں کی مانند کوئی چیزیں چمک رہی ہیں وہ سائبان آسمان کی طرف بلند ہوتا گیا، حتیٰ کہ دیکھائی نہ دینے لگا جب صبح ہوئی تو اسد (رض) کے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے واقعہ بیان کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے تین بار فرمایا : اے ابن حضیر تلاوت کرتے رہو تمہیں معلوم ہے وہ کیا چیز تھی ؟ عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے نہیں معلوم ارشاد فرمایا : وہ فرشتے تھے جو تمہاری آواز سن کر تمہارے قریب ہوا چاہتے تھے اگر تم صبح تک تلاوت کرتے رہتے لوگ صبح اٹھتے فرشتوں کو ضرور دیکھتے حتیٰ کہ فرشتے ان کی نظروں سے اوجھل نہ ہوتے۔ (رواہ ابو عبید فی فضائلہ واحمد بن حنبل والبخاری تعلیقا والنسائی والحاکم وابو نعیم فی المعرفۃ والبیہقی فی الدلائل)
36813- عن أسيد بن حضير قال: بينما هو يقرأ من الليل سورة البقرة وفرسه مربوط إذ جالت الفرس فسكت فسكنت ثم قرأ فجالت الفرس فسكت فسكنت ثم قرأ فجالت الفرس فسكت فسكنت فانصرف وان ابنه يحيى قريبا منه فأشفق أن تصيبه ، فلما اجتره رفع رأسه إلى السماء فإذا هي مثل الظلة فيها أمثال المصابيح عرجت إلى السماء حتى ما يراها ! فلما أصبح حدث رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : اقرأ ابن الحضير ثلاث مرات ، فقال : تدري ما ذاك ؟ قال : لا يا رسول الله ! قال : تلك الملائكة دنت لصوتك ولو قرأت لاصبح الناس حتى ينظروا إليها لا تتوارى منهم (أبو عبيد في فضائله ، حم ، خ تعليقا ، ن ، ك وأبو نعيم في المعرفة ، ق في الدلائل).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسید بن حضیر (رض)
٣٦٨١٤۔۔۔ حضرت کعب بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ حضرت اسید بن حضیر (رض) خوبصورت آواز سے قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرتے میں اپنے گھر کی چھت پر تلاوت کررہا تھا میری بیوی حجرہ میں تھی جب کہ گھوڑا حجرے کے دروازے پر باندھا ہوا تھا یکایک بادلوں کی مانند کسی چیز نے مجھے ڈھانپ لیا میں خوفزدہ ہوا کہ کہیں گھوڑا نہ بھاگ جائے اور بیوی ڈر کر حمل نہ ساقط کر بیٹھے میں تلاوت ختم کرتے واپس آگیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اسید تلاوت کرتے رہو یہ فرشتہ تھا جو قرآن سننے آیا تھا۔ (رواہ ابو نعیم)
36814 عن كعب بن مالك أن أسيد بن حضير كان رجلا حسن الصوت بالقرآن وأنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : إني بينما أنا أقرأ على ظهر بيتي والمرأة في الحجرة والفرس مربوط بباب الحجرة إذ غشيتني مثل السحابة فخشيت أن ينفر الفرس فتفزع المرأة فتسقط فانصرفت ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : اقرأ يا أسيد ! فان ذلك ملك استمع القرآن (أبو نعيم).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسید بن حضیر (رض)
٣٦٨١٥۔۔۔ حضرت اسید بن حضیر (رض) کی روایت ہے کہ انھوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آج رات میں سورت بقرہ کی تلاوت کررہا تھا یکایک میں نے اپنے پیچھے گرنے کی آواز سنی میں سمجھا میرا گھوڑا جاتا رہا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے ابوعتیک تلاوت کرتے رہو، اسید (رض) نے عرض کیا : میں نے پیچھے جو مڑ کر دیکھا کیا دیکھتا ہوں کہ روشن چراغ کی مانند کوئی چیز آسمان اور زمین کے درمیان لٹکی ہوئی ہے میں مزید تلاوت نہ کرسکا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ فرشتے تھے جو سورت بقرہ کی تلاوت پر نازل ہوئے تھے ، اگر تم تلاوت جاری رکھتے بہت سے عجائب دیکھتے۔ (رواہ ابن حسان والطبرانی والحاکم والبیہقی فی شعب الایمان)
36815 عن أسيد بن حضير أنه قال : يا رسول الله ! بينما أقرأ الليلة سورة البقرة إذ سمعت وجبة من خلفي فظننت أن فرسي انطلق ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم اقرأ يا أبا عتيك ! قال : فالتفت فإذا مثل المصباح مدلى بين السماء والارض فما استطعت أن أمضي ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : تلك الملائكة نزلت لقراءة سورة البقرة ، أما ! إنك لو مضيت لرأيت العجائب (حب ، طب ، ك ، هب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسید بن حضیر (رض)
٣٦٨١٦۔۔۔ اسید بن حضیر کی روایت ہے وہ کہتے ہیں : ایک مرتبہ چاندنی رات میں میں نماز پڑھ رہا تھا میں نے اپنا گھوڑا قریب ہی باندھ رکھا تھا گھوڑا اچانک گھومنے لگا میں گھبرا گیا تھوڑی دیر بعد گھوڑے نے پھر گھومنا شروع کردیا میں نے سر جو اوپر اٹھا کر دیکھا کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سائبان ہے جس نے مجھے ڈھانپ لیا ہے اور وہ میرے اور چاند کے درمیان حائل ہے میں گھبرا کر گھر میں داخل ہوگیا صبح کو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا : یہ فرشتے جو رات کو پچھلے پہر سورت بقرہ کی تمہاری قرأت سننے آئے تھے۔ (رواہ الطبرانی)
36816 عن أسيد بن حضير قال : كنت أصلي في ليلة مقمرة وقد أوثبت فرسي فجالت جولة ففزعت ثم جالت أخرى فرفعت رأسي وإذا ظلة قد غشيتني وإذا هي قد حالت بيني وبين القمر ففزعت فدخلت البيت ، فلما أصبحت ذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال : تلك الملائكة جاءت تستمع قراءتك من آخر الليل سورة البقرة (طب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسید بن حضیر (رض)
٣٦٨١٧۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ اسید بن حضیر (رض) افاضل صحابہ (رض) میں سے تھے، اور کہا کرتے تھے اگر میں ایسا ہوں جیسا کہ تین حالوں میں سے ایک حال پر ہوں تو میں اہل جنت میں سے ہوں گا اور مجھے اس میں شک بھی نہیں ہوگا جب میں قرآن کی تلاوت کررہا ہوتا ہوں اور جب تلاوت ہو رہی ہو میں سن رہا ہوتا ہوں اور جب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خطبہ سن رہا ہوتا ہوں اور جب میں کسی جنازہ میں حاضر ہوتا ہوں حالانکہ میں کبھی کسی جنازہ میں شریک نہیں ہوا چونکہ میرے دل میں خیال آجاتا ہے کہ جو کچھ اس کے ساتھ کیا جائے گا اور جس ٹھکانے کی طرف جانے والا ہے۔ (رواہ ابو نعیم والبیہقی فی شعب الایمان وابن عساکر)
36817 (أيضا) عن عائشة قالت : كان أسيد بن حضير من أفاضل الناس وكان يقول : لو أني أكون كما اكون على حال من احوال ثلاث لكنت من أهل الجنة وما شككت في ذلك : حين أقرأ القرآن وحين أسمعه يقرأ وإذا سمعت خطبة رسول الله صلى الله عليه وسلم وإذا شهدت جنازة ، وما شهدت جنازة قط فحدثت نفسي سوى ما هو مفعول بها وما هي صائرة إليه (أبو نعيم ، هب ، كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسید بن حضیر (رض)
٣٦٨١٨۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ حضرت اسید بن حضیر (رض) کو کوئی تکلیف ہوئی جس کی وجہ سے وہ بیٹھ کر اپنی قوم کی امامت کرتے تھے۔ (رواہ عبد الرزاق وابن سعد)
36818 (أيضا) عن عروة ان أسيد بن حضير اشتكى وكان يؤم قومه جالسا (عب وابن سعد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسید بن حضیر (رض)
٣٦٨١٩۔۔۔ حضرت اسید بن حضیر (رض) کی روایت ہے کہ ایک رات میں نماز پڑھ رہا تھا اچانک بادلوں کی مانند کسی چیز نے مجھے ڈھانپ لیا اس میں چراغوں کی مانند کوئی چیزیں چمک رہی تھیں جب کہ میری بیوی میرے پہلو میں کھڑی تھی اور وہ حاملہ تھی گھوڑا گھر میں باندھا ہوا تھا میں خوفزدہ ہوگیا کہ گھوڑا بھاگ نہ جائے اور بیوی کا حمل مارے خوف کے ساقط نہ ہوجائے میں نے نماز ختم کردی صبح ہوتے ہی میں نے اس واقعہ کا تذکرہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا آپ نے مجھ سے فرمایا : اسید ! قرات کرتے رہو یہ فرشتہ تھا جو قرآن سننے آیا تھا۔ (رواہ عبد الرزاق)
36819 عن أسيد بن حضير قال : بينما أصلي ذات ليلة غشيتني مثل السحابة فيها مثل المصباح والمرأة قائمة إلى جنبي وهي حامل والفرس مربوط في الدار فخشيت أن ينفر الفرس فتفزع المرأة فتلقي ولدها فانصرفت من صلاتي ، فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم حين اصبحت ، فقال لي : اقرأ يا أسيد ! ذاك ملك استمع القرآن (عب)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسید بن حضیر (رض)
٣٦٨٢٠۔۔۔ ابو سعید خدری (رض) کی روایت ہے کہ حضرت اسید بن حضیر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ابو یحییٰ کی کنیت سے پکارا۔ (رواہ ابن مندہ وابن عساکر)
36820 (أيضا) عن ابي سعيد الخدري عن أسيد بن الحضير قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : يا أبا يحيى (ابن منده ، كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسید بن حضیر (رض)
٣٦٨٢١۔۔۔ عبد الرحمن بن ابی لیل روایت ذکر کرتے ہیں کہ حضرت اسید بن حضیر (رض) کہتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ابو عیسیٰ کہہ کر پکارا۔ (رواہ ابن عساکر)
36821 (أيضا) عن عبد الرحمن بن أبي ليل عن أسيد ابن حضير قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : يا أبا عيسى (كر).
tahqiq

তাহকীক: