কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬৮৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسید بن حضیر (رض)
٣٦٨٢٢۔۔۔ حضرت اسید بن حضیر (رض) کہتے ہیں : میرے پاس میری قوم کے دو خاندان آئے ایک بنی ظفر سے تھا اور دوسرا بنی معاویہ سے کہنے لگے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کرو کہ ہمیں بھی کچھ عطا کریں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں میں ہر خاندان کیلئے کچھ حصہ تقسیم کروں گا بشرطیکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کچھ لٹا دیا ہم بھی ان پر لٹا دیں گے اسید بن حضیر (رض) کہتے ہیں میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا کرے چونکہ جب تک میں تمہیں حرام سے رکے ہوئے اور صبر کرتے ہوئے دیکھوں گا (رواہ ابو یعلی وابن عساکر)
36822 عن أسيد بن حضير قال : أتاني اهل بيتين من قومي من أهل بيت من بني ظفر وأهل بيت من بني معاوية فقالوا : كلم رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقسم لنا أو يعطينا أو نحوا من هذا فكلمته ، فقال : نعم أقسم لاهل كل بيت منهم شطرا ، فان عاد الله علينا عدنا عليهم ، قال : فقلت : جزاك الله خيرا يا رسول الله ! قال : وأنتم فجزاكم الله خيرا ! فانكم ما علمتكم أعفة صبر (ع ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اسید بن ابی ایاس (رض)
٣٦٨٢٣۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بنی عبد بن عدی کا وفد آیا، وفد میں حارث بن وھبان وعمویمربن احرم حبیب ربیعہ اور ایک جماعت شامل تھی اہل وفد نے کہا : یا محمد ! ہم اہل حرم ہیں اور حرم کے رہنے والے ہیں ہم حرم کی وجہ سے عزت مند ہیں ہم آپ سے جنگ نہیں کرنا چاہتے اگر قریش کے علاوہ کسی اور قبیلے نے آپ سے جنگ کی ہم آپ کا ساتھ دیتے ہوئے لڑیں گے لیکن ہم قریش کے مقابلہ میں نہیں لڑیں گے ہم آپ سے اور آپ کے قبیلہ سے محبت کرتے ہیں۔ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوچکے ہیں اگر آپ نے ہم میں سے کسی کو خطاء قتل کردیا آپ پر اس کی دیت واجب ہوگی لیکن اگر ہم نے آپ کے کسی ساتھی کو خطاء قتل کردیا ہمارے اوپر دیت نہیں ہوگی۔ پھر اہل وفد نے اسلام قبول کرلیا۔ عویمر بن اضرم نے کہا : مجھے چھوڑ میں اس سے (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) پختہ عہد لے لوں اس کے ساتھیوں نے کہا : نہیں محمد غدر نہیں کرتا اور نہ ہی غدر کروانے کی اس کی خواہش ہے حبیب اور ربیعہ نے کہا : یا رسول اللہ ! سید بن ابی ایاس وہی ہے جو بھاگ گیا تھا ہم اس کی طرف سے آپ کے سامنے برأت کا اظہار کرتے ہیں۔ نیز اس نے آپ کی گستاخی بھی کی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا خون مباح قرار دیا اسید (رض) کو جب ان دونوں کی بات پہنچی تو انھوں نے طائف میں اقامت اختیار کرلی ربیعہ اور حبیب کے لیے یہ شعر کہا :
فاما اھلکن وتعیش بعدی فانھما عدو کا شحان
اگر میں ہلاک ہوجاؤں تم میرے بعد زندہ رہو گے حالانکہ وہ دونوں دشمن پوشیدہ رکھنے والے دشمن ہیں چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر اسید بن ابی ایاس ان لوگوں میں سے تھے جنہیں مباح الدم قرار دیا گیا تھا، اس اثناء میں ساریہ بن زنیم طائف گئے اسید نے ان سے پوچھا : تم اپنے پیچھے کیسے حالات چھوڑ کر آئے ہو ؟ ساریہ (رض) نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غلبہ عطا فرمایا ہے۔ اے بھتیجے اللہ کے نبی کے قدموں میں قربان چونکہ جو شخص ان کے پاس حاضر ہوجاتا ہے وہ اسے قتل نہیں کرتے چنانچہ اسید نے اپنی حاملہ بیوی اٹھائی جو وضع حمل کے انتظار میں تھی اور چل پڑے۔ چنانچہ بیوی نے مقام قرن ثعالب میں بچہ جنم دیا اسید اپنے گھر والوں کے پاس آئے ایک قمیص پہنی عمامہ باندھا اور پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ ساریہ اسید (رض) کے سر پر تلوار لیے ان کا پہرہ دے رہا تھا اسید (رض) چل پڑے۔ حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیٹھ گئے اور عرض کیا : اے محمد کیا تم نے اسید کو مباح الدم قرار دیا ہے ؟ فرمایا : جی ہاں۔ عرض کیا : اگر وہ مومن بن کر حاضر ہو آپ اس کے ایمان کو قبول فرمائیں گے ؟ فرمایا : جی ہاں۔ چنانچہ اسید (رض) نے اپنا ہاتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس میں دے دیا اور عرض کیا : اے محمد ! میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سواء کوئی عبادت کے لائق نہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو حکم دیا کہ اعلان کرو اسید بن ابی ایاس ایمان لے آیا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے امن دے دیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسید (رض) نے چہرے پر ہاتھ پھرا اور اس کے ہاتھ کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ اسید (رض) تاریک گھر میں داخل ہوتے وہ روشنی سے چمک اٹھتا، اسید بن ابی ایاس (رض) نے یہ اشعار کہے :
انت الذی تھدی معد الدینھا بل اللہ یھدیھا وقال لک اشھد
کیا آپ ہی نے قوم معد کو ان کے اصلی دین کی طرف راہنمائی کی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہدایت دی ہے
اور آپ کے سامنے انھوں نے گواہی دی ہے۔
فما حملت من ناقۃ فوق کو رھا ابر واوفی ذمۃ من محمد
کوئی اونٹنی بھی اپنے پالان پر بوجھ ہی اٹھاتی اس قدر کہ جتنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ذمہ داری نبھائی ہے۔
وا کسی لبر دالحال قبل ابتذالہ واعطی لراس السابق المتجرد
سردی کے حال کے موافق اس کے آنے سے قبل کپڑا پہنایا اور پہلے والے ننگے سر کو عطا کیا۔
تعلیم رسول اللہ انک قادر علی کل حی متھمین ومنجد
یا رسول اللہ ! آپ کو معلوم ہے کہ آپ ہر زندہ غمزدہ و خوش پر قادر ہیں۔
تعلیم بان الرکب رکب عویمر ھم الکاذبون المخلفو کل موعد
آپ جانتے ہیں کہ یہ سواء عویمر کے سوار ہیں وہ جھوٹے ہیں اور ہر وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
انبوار رسول اللہ ان قدھجوتہ فلا ارفعت سوطی الی اذا یدی
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر کر دو کہ میں نے ان کی ھجو کی ہے سو میرے ہاتھ کی طرف کوڑا نہیں اٹھ سکتا۔
سوی انی قد قلت ویلم فتیۃ اصیبوا بنحس لایطائرا سعد
البتہ میں نے اتنی بات کہی کہ چند نوجوانوں کے لیے ہلاکت ہے جو نحوست کو پہنچ چکے ہیں اور سعادت ان کے مقدر میں ہیں
اصابھم من لم یکن لدمانھم کفاء فقرت حسرتی وتبلدی
مصیبت انھیں پہنچی ہے جس کے خون کا کوئی ہمسر نہیں میری حسرت اور کند خاطر ٹھنڈی ہوئی
ذوایب و کلکثوم وسلمی تتابعوا جمیعا فان لاتد مع العین اکمد
وہ ذؤیب کلثوم اور سلمی ایک کے بعد دوسرا ہیں سو بدلے رنگ کی آنکھ سے آنسو نہیں بہتا۔
جب اسد (رض) نے پہلے شعر میں کہا : انت الذی تھدی معد الدینھا
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسرا مصرح کہا : بل اللہ یدیھا
شاعر نے بھی کہا : بل اللہ یھدیھا وقال لک اشھد۔ (رواہ المداثنی وابن عساکر)
فاما اھلکن وتعیش بعدی فانھما عدو کا شحان
اگر میں ہلاک ہوجاؤں تم میرے بعد زندہ رہو گے حالانکہ وہ دونوں دشمن پوشیدہ رکھنے والے دشمن ہیں چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر اسید بن ابی ایاس ان لوگوں میں سے تھے جنہیں مباح الدم قرار دیا گیا تھا، اس اثناء میں ساریہ بن زنیم طائف گئے اسید نے ان سے پوچھا : تم اپنے پیچھے کیسے حالات چھوڑ کر آئے ہو ؟ ساریہ (رض) نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غلبہ عطا فرمایا ہے۔ اے بھتیجے اللہ کے نبی کے قدموں میں قربان چونکہ جو شخص ان کے پاس حاضر ہوجاتا ہے وہ اسے قتل نہیں کرتے چنانچہ اسید نے اپنی حاملہ بیوی اٹھائی جو وضع حمل کے انتظار میں تھی اور چل پڑے۔ چنانچہ بیوی نے مقام قرن ثعالب میں بچہ جنم دیا اسید اپنے گھر والوں کے پاس آئے ایک قمیص پہنی عمامہ باندھا اور پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ ساریہ اسید (رض) کے سر پر تلوار لیے ان کا پہرہ دے رہا تھا اسید (رض) چل پڑے۔ حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیٹھ گئے اور عرض کیا : اے محمد کیا تم نے اسید کو مباح الدم قرار دیا ہے ؟ فرمایا : جی ہاں۔ عرض کیا : اگر وہ مومن بن کر حاضر ہو آپ اس کے ایمان کو قبول فرمائیں گے ؟ فرمایا : جی ہاں۔ چنانچہ اسید (رض) نے اپنا ہاتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس میں دے دیا اور عرض کیا : اے محمد ! میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سواء کوئی عبادت کے لائق نہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو حکم دیا کہ اعلان کرو اسید بن ابی ایاس ایمان لے آیا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے امن دے دیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسید (رض) نے چہرے پر ہاتھ پھرا اور اس کے ہاتھ کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ اسید (رض) تاریک گھر میں داخل ہوتے وہ روشنی سے چمک اٹھتا، اسید بن ابی ایاس (رض) نے یہ اشعار کہے :
انت الذی تھدی معد الدینھا بل اللہ یھدیھا وقال لک اشھد
کیا آپ ہی نے قوم معد کو ان کے اصلی دین کی طرف راہنمائی کی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہدایت دی ہے
اور آپ کے سامنے انھوں نے گواہی دی ہے۔
فما حملت من ناقۃ فوق کو رھا ابر واوفی ذمۃ من محمد
کوئی اونٹنی بھی اپنے پالان پر بوجھ ہی اٹھاتی اس قدر کہ جتنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ذمہ داری نبھائی ہے۔
وا کسی لبر دالحال قبل ابتذالہ واعطی لراس السابق المتجرد
سردی کے حال کے موافق اس کے آنے سے قبل کپڑا پہنایا اور پہلے والے ننگے سر کو عطا کیا۔
تعلیم رسول اللہ انک قادر علی کل حی متھمین ومنجد
یا رسول اللہ ! آپ کو معلوم ہے کہ آپ ہر زندہ غمزدہ و خوش پر قادر ہیں۔
تعلیم بان الرکب رکب عویمر ھم الکاذبون المخلفو کل موعد
آپ جانتے ہیں کہ یہ سواء عویمر کے سوار ہیں وہ جھوٹے ہیں اور ہر وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
انبوار رسول اللہ ان قدھجوتہ فلا ارفعت سوطی الی اذا یدی
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر کر دو کہ میں نے ان کی ھجو کی ہے سو میرے ہاتھ کی طرف کوڑا نہیں اٹھ سکتا۔
سوی انی قد قلت ویلم فتیۃ اصیبوا بنحس لایطائرا سعد
البتہ میں نے اتنی بات کہی کہ چند نوجوانوں کے لیے ہلاکت ہے جو نحوست کو پہنچ چکے ہیں اور سعادت ان کے مقدر میں ہیں
اصابھم من لم یکن لدمانھم کفاء فقرت حسرتی وتبلدی
مصیبت انھیں پہنچی ہے جس کے خون کا کوئی ہمسر نہیں میری حسرت اور کند خاطر ٹھنڈی ہوئی
ذوایب و کلکثوم وسلمی تتابعوا جمیعا فان لاتد مع العین اکمد
وہ ذؤیب کلثوم اور سلمی ایک کے بعد دوسرا ہیں سو بدلے رنگ کی آنکھ سے آنسو نہیں بہتا۔
جب اسد (رض) نے پہلے شعر میں کہا : انت الذی تھدی معد الدینھا
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسرا مصرح کہا : بل اللہ یدیھا
شاعر نے بھی کہا : بل اللہ یھدیھا وقال لک اشھد۔ (رواہ المداثنی وابن عساکر)
36823- عن ابن عباس وغيره قال: قدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم وفد بني عبد بن عدي فيهم الحارث بن وهبان وعويمر بن الأخرم وحبيب وربيعة ابنا ملة ومعهم رهط من قومهم فقالوا: يا محمد! نحن أهل الحرم وساكنه وأعز من به ونحن لا نريد قتالك، ولو قاتلك غير قريش قاتلنا معك ولكنا لا نقاتل قريشا وإنا لنحبك ومن أنت منه وقد أتيناك فإن أصبت منا أحد خطأ فعليك ديته، وإن أصبنا أحدا من أصحابك فليس علينا ولا عليك، وأسلموا؛ فقال عويمر بن الأخرم: دعوني آخذ عليه، قالوا: لا، محمد لا يغدر ولا يريد أن يغدر به، فقال حبيب وربيعة يا رسول الله! إن أسيد بن أبي إياس هو الذي هرب وتبرأنا إليك منه وقد نال منك، فأباح رسول الله صلى الله عليه وسلم دمه، وبلغ أسيدا قولهما لرسول الله صلى الله صلى الله عليه وسلم فأتى الطائف فأقام به وقال لربيعة وحبيب: فأما أهلكن وتعيش بعدي ... فإنهما عدو كاشحان فلما كان عام الفتح كان أسيد بن أبي إياس فيمن أهدر دمه، فخرج سارية بن زنيم إلى الطائف فقال له أسيد: ما وراءك؟ قال: أظهر الله نبيه ونصره على عدوه فاخرج يا ابن أخي إليه فإنه لا يقتل من أتاه، فحمل أسيد امرأته وخرج وهي حامل تنتظر وأقبل فألقت غلاما عند قرن الثعالب، وأتى أسيد أهله فلبس قميصا واعتم ثم أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم وسارية قائم بالسيف عند رأسه يحرسه، فأقبل أسيد حتى جلس بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا محمد! أنذرت دم أسيد؟ قال: نعم، قال: أفتقبل منه إن جاءك مؤمنا؟ قال: نعم، فوضع يده في يد النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا محمد هذه يدي في يدك أشهد أنك رسول الله صلى الله عليه وسلم وأن لا إله إلا الله فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا يصرخ أن أسيد بن أبي إياس قد آمن وقد أمنه رسول الله صلى الله عليه وسلم! ومسح رسول الله صلى الله عليه وسلم وجهه وألقى يده على صدره فيقال: إن أسيدا كان يدخل البيت المظلم فيضيء، وقال أسيد بن
أبي إياس:
أأنت الذي تهدي معدا لدينها. ... بل الله يهديها وقال لك أشهد
فما حملت من ناقة فوق كورها. ... أبر وأوفى ذمة من محمد
وأكسى لبرد الحال قبل ابتذاله. ... وأعطى لرأس السابق المتجرد
تعلم رسول الله أنك قادر. ... على كل حي متهمين ومنجد
تعلم بأن الراكب ركب عويمر. ... هم الكاذبون المخلفو كل موعد
أنبوا رسول الله أن قد هجوته. ... فلا رفعت سوطي إلى إذا يدي
سوى أنني قد قلت ويلم فتية. ... أصيبوا بنحس لا بطائر أسعد
أصابهم من لم يكن لدمائهم. ... كفاء فقرت حسرتي وتبلدي
ذؤيب وكلثوم وسلمى تتابعوا. ... جميعا فإن لا تدمع العين أكمد
فلما أنشده: أأنت الذي تهدي معدا لدينها، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بل الله يهديها، فقال الشاعر: بل الله يهديها وقال لك أشهد."المدائني، كر".
أبي إياس:
أأنت الذي تهدي معدا لدينها. ... بل الله يهديها وقال لك أشهد
فما حملت من ناقة فوق كورها. ... أبر وأوفى ذمة من محمد
وأكسى لبرد الحال قبل ابتذاله. ... وأعطى لرأس السابق المتجرد
تعلم رسول الله أنك قادر. ... على كل حي متهمين ومنجد
تعلم بأن الراكب ركب عويمر. ... هم الكاذبون المخلفو كل موعد
أنبوا رسول الله أن قد هجوته. ... فلا رفعت سوطي إلى إذا يدي
سوى أنني قد قلت ويلم فتية. ... أصيبوا بنحس لا بطائر أسعد
أصابهم من لم يكن لدمائهم. ... كفاء فقرت حسرتي وتبلدي
ذؤيب وكلثوم وسلمى تتابعوا. ... جميعا فإن لا تدمع العين أكمد
فلما أنشده: أأنت الذي تهدي معدا لدينها، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بل الله يهديها، فقال الشاعر: بل الله يهديها وقال لك أشهد."المدائني، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اشج منذر بن عامر (رض)
٣٦٨٢٤۔۔۔ اشج عبد قیس (رض) کہتے ہیں : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : تجھ میں دو عادتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ بہت پسند فرماتا ہے۔ میں نے عرض کیا وہ کون کون سی ہیں ؟ آپ نے فرمایا : بردباری اور حیاء میں نے عرض کیا : یہ عادتیں مجھ میں پرانی چلی آرہی ہیں یا نئی نئی پیدا ہوئی ہیں ؟ ارشاد فرمایا : بلکہ پرانی چلی آرہی ہیں۔ میں نے کہا : تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ان عادتوں پر پیدا کیا جنہیں وہ محبوب رکھتا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وابو نعیم)
36824- عن الأشج أشج عبد القيس قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن فيك لخلقين يحبهما الله! قلت: ما هما؟ قال الحلم والحياء، قلت: قديما كان في أو حديثا؟ قال: بل قديما؛ قلت الحمد لله الذي جبلني على خلقين يحبهما الله. "ش" وأبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اصید بن سلمہ (رض)
٣٦٨٢٥۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سریہ روانہ کیا سریہ کے شرکاء نے بنی سلیم کا ایک آدمی پکڑ لیا اسے اصید بن سلمہ کہا جاتا تھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے دیکھا تو آپ کا دل پسیج گیا اور اسے اسلام کی دعوت دی اس نے اسلام قبول کرلیا اس شخص کا باپ بہت بوڑھا شخص تھا اس نے یہ اشعار لکھ بھیجے :
من رکاب نحو المدینۃ سالمنا حتی یبلغ ما اقولا الا صیدا
کون سوار ہے جو مدینہ صحیح وسالم پہنچے اور میری بات اصید تک پہنچا دے۔
ترکت دین ابیک والشیم العلی اودو ابو بایعت الغداۃ محمدا
کیا تو نے اپنے باپ دادا کا دین اور بلند پایا عادات کو ترک کردیا ہے مجھے لے جاؤ تاکہ صبح کو میں محمد کے ہاتھ پر بیعت کرلوں
ان اشعار کا جواب دینے کے لیے اصید (رض) نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب کی آپ نے انھیں اجازت دی اور یہ اشعار لکھ بھیجے۔
ان الذی سمک السماء بقدۃ حتی علافی ملکہ ونوحدا
بلاشبہ ذات جس نے اپنی قدرت سے آسمان کو بلند عطا کی حتی کہ وہ اپنی بادشاہت میں بلند وبالا ہے اور اکیلا ہے۔
بعث الذی ما مثلہ فیما مضی یدعو لرحمتہ النبی محمداً
اس نے ایسا نبی مبعوث کیا ہے جس کی مثال اس سے قبل نہیں ملتی وہ اسے اپنی رحمت سے نبی محمد کے نام سے بلاتا ہے۔
جب باہ نے بیٹے کے یہ اشعار پڑھے فوراً نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے چل پڑا اور بچپنے ہی سے اسلام قبول کرلیا۔ (رواہ ابو موسیٰ فی الدلائل وابو النجار بن اللیثی فی مشبخۃ وفیہ عبید اللہ بن الویعد الوصافی ضعیف)
من رکاب نحو المدینۃ سالمنا حتی یبلغ ما اقولا الا صیدا
کون سوار ہے جو مدینہ صحیح وسالم پہنچے اور میری بات اصید تک پہنچا دے۔
ترکت دین ابیک والشیم العلی اودو ابو بایعت الغداۃ محمدا
کیا تو نے اپنے باپ دادا کا دین اور بلند پایا عادات کو ترک کردیا ہے مجھے لے جاؤ تاکہ صبح کو میں محمد کے ہاتھ پر بیعت کرلوں
ان اشعار کا جواب دینے کے لیے اصید (رض) نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب کی آپ نے انھیں اجازت دی اور یہ اشعار لکھ بھیجے۔
ان الذی سمک السماء بقدۃ حتی علافی ملکہ ونوحدا
بلاشبہ ذات جس نے اپنی قدرت سے آسمان کو بلند عطا کی حتی کہ وہ اپنی بادشاہت میں بلند وبالا ہے اور اکیلا ہے۔
بعث الذی ما مثلہ فیما مضی یدعو لرحمتہ النبی محمداً
اس نے ایسا نبی مبعوث کیا ہے جس کی مثال اس سے قبل نہیں ملتی وہ اسے اپنی رحمت سے نبی محمد کے نام سے بلاتا ہے۔
جب باہ نے بیٹے کے یہ اشعار پڑھے فوراً نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے چل پڑا اور بچپنے ہی سے اسلام قبول کرلیا۔ (رواہ ابو موسیٰ فی الدلائل وابو النجار بن اللیثی فی مشبخۃ وفیہ عبید اللہ بن الویعد الوصافی ضعیف)
36825- عن علي قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية فأسروا رجلا من بني سليم يقال له: الأصيد بن سلمة، فلما رآه رسول الله صلى الله عليه وسلم رق له وعرض عليه الإسلام فأسلم، وكان له أب شيخ كبير فبلغه ذلك فكتب إليه:
من راكب نحو المدينة سالما. ... حتى يبلغ ما أقول الأصيدا
أتركت دين أبيك والشم العلى. ... أودوا وبايعت الغداة محمدا
في أبيات، فاستأذن النبي صلى الله عليه وسلم في جوابه فأذن له فكتب إليه:
إن الذي سمك السماء بقدرة. ... حتى علا في ملكه وتوحدا
بعث الذي ما مثله فيما مضى. ... يدعو لرحمته النبي محمدا
في أبيات، فلما قرأ كتاب ولده أقبل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأسلم.
"أبو موسى في الدلائل وأبو المنجا بن الليثي في مشيخته، وفيه عبيد الله ابن الوليد الوصافي ضعيف".أصيرم بن عبد الأشهل رضي الله عنه
من راكب نحو المدينة سالما. ... حتى يبلغ ما أقول الأصيدا
أتركت دين أبيك والشم العلى. ... أودوا وبايعت الغداة محمدا
في أبيات، فاستأذن النبي صلى الله عليه وسلم في جوابه فأذن له فكتب إليه:
إن الذي سمك السماء بقدرة. ... حتى علا في ملكه وتوحدا
بعث الذي ما مثله فيما مضى. ... يدعو لرحمته النبي محمدا
في أبيات، فلما قرأ كتاب ولده أقبل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأسلم.
"أبو موسى في الدلائل وأبو المنجا بن الليثي في مشيخته، وفيه عبيد الله ابن الوليد الوصافي ضعيف".أصيرم بن عبد الأشهل رضي الله عنه
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اصیرم بن عبد الأشھل (رض)
٣٦٨٢٦۔۔۔ حصین بن عبد الرحمن بن عمرو بن معاذ، ابو سفیان مولائے ابن ابی احمد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) فرمایا کرتے تھے : مجھے اس شخص کے بارے میں بتاؤ جو جنت میں داخل ہوگیا اور اس نے کبھی نماز نہیں پڑھی ؟ لوگ جب پہچان نہ کر پاتے پوچھتے کہ وہ کون ہے ؟ آپ (رض) کہتے وہ اصیرم بن اشھل عمرو بن ثابت بن وقش (رض) ہیں، حصین کہتے ہیں : میں نے محمود بن لبید سے پوچھا اصیرم کے حالات کا کیا قصہ ہے ؟ انھوں نے کہا : اصیرم اپنی قوم کے سامنے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیتے تھے چنانچہ غزوہ احد کے موقع پر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ سے باہر تشریف لائے اصیرم (رض) پر اسلام کی حقانیت واضح ہوگئی اور انھوں نے اسلام قبول کرلیا پھر اپنی تلوار اٹھائی اور چل پڑے اپنی قوم کے پاس آئے اور لوگوں میں گھس گئے لڑنا شروع کردیا دوران جنگ آپ (رض) کو کاری ضرب لگی اسی اثناء میں بنی عبد الاشھل کے لوگ اپنے مقتولین کو میدان جنگ میں تلاش کر رہے تھے کہ وہ یکایک اصیرم (رض) کے پاس جا پہنچے لوگوں نے کہا یہ تو اصیرم ہے یہ جنگ میں کیسے آگیا ؟ ہم تو اسے گھر چھوڑ کر آئے تھے اور وہ اسلام کا انکار کرتا تھا لوگوں نے اصیرم (رض) سے پوچھا تم کیسے آئے ہو ؟ اے عمرو تمہیں کونسی چیز یہاں لائی ہے ؟ محض اپنی قوم کا ساتھ دینے آئے ہو یا اسلام کی طرف رغبت ہوگئی ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : بلکہ مجھے اسلام کی طرف رغبت ہوئی ہے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ پر ایمان لے آیا ہو میں نے اسلام قبول کرلیا ہے میں نے اپنی تلوارلی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت میں لڑنا شروع کردیا حتیٰ کہ مجھے کاری زخم آیا چنانچہ اس کے بعد آپ (رض) تھوڑی ہی دیر میں لوگوں کے ہاتھوں میں جان جان آفریں کے سپرد کردی ، صحابہ کرام (رض) نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس واقعہ کا ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا : بلاشبہ وہ اہل جنت میں سے ہے۔ (رواہ ابن اسحاق وابو نعیم فی المعرفۃ)
وسلم نے فرمایا : بلاشبہ وہ اہل جنت میں سے ہے۔ (رواہ ابن اسحاق وابو نعیم فی المعرفۃ)
36826- عن الحصين بن عبد الرحمن بن عمرو بن معاذ عن أبي سفيان مولى ابن أبي أحمد أن أبا هريرة كان يقول: حدثوني عن رجل دخل الجنة لم يصل قط صلاة، فإذا لم يعرفه الناس فسألوه من هو؟ فيقول: أصيرم بن الأشهل عمرو بن ثابت بن وقش، قال الحصين: فقلت لمحمود بن لبيد: كيف كان شأن الأصيرم؟ قال: كان يأبى الإسلام على قومه فلما كان يوم أحد وخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم بدا له الإسلام فأسلم ثم أخذ سيفه فغدا حتى أتى القوم فدخل في عرض الناس فقاتل حتى أثبته الجراح، فبينا رجال بني عبد الأشهل يلتمسون قتلاهم في المعرك إذا هم به، فقالوا: إن هذا أصيرم! ما جاء به؟ لقد تركناه وإنه لمنكر لهذا الحديث، فسألوه ما جاء به فقالوا له: ما جاء بك يا عمرو؟ أحدبا1 على قومك أم رغبة في الإسلام؟ فقال: بل رغبة في الإسلام، فآمنت بالله ورسوله وأسلمت وأخذت سيفي فقاتلت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى أصابني ما أصابني؛ ثم لم يلبث أن مات في أيديهم، فذكروه لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إنه لمن أهل الجنة. "ابن إسحاق وأبو نعيم في المعرفة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اعرش (یا) اعوس بن عمرو یشکری (رض)
٣٦٨٢٧۔۔۔ ” مسند اعرس “ عبد الرحمن بن عرم و بن جبلہ عبداللہ بن یزید بن اعرس یزید اعرس کی سند سے مروی ہے کہ اعرس (رض) کہتے ہیں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک ہدیہ لے کر حاضر ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ھدیہ قبول فرمایا اور ہمارے لیے دعا فرمائی۔ (رواہ ابن مندہ وابو نعیم وقالا ، تفردہ بن حبیب قال فی الاصابۃ وھو۔
36827- "مسنده" عن عبد الرحمن بن عمرو بن جبلة عن عبد الله بن يزيد بن الأعرس عن أبيه عن جده قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بهدية فقبلها مني ودعا لنا في مرعانا.
"ابن منده وأبو نعيم وقالا: تفرد به ابن جبلة، قال في الإصابة: وهو أحد المتروكين".
"ابن منده وأبو نعيم وقالا: تفرد به ابن جبلة، قال في الإصابة: وهو أحد المتروكين".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض)
٣٦٨٢٨۔۔۔ ثابت کی روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : میں نے ابن ام سلیم یعنی انس (رض) سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشابہ نماز پڑھتا ہے۔ (رواہ البغوی فی الجعد پات وابن عساکر)
36828- عن ثابت قال قال أبو هريرة: ما رأيت أحدا أشبه صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم من ابن أم سليم يعني أنسا."البغوي في الجعديات، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض)
٣٦٨٢٩۔۔۔ ” مسند انس (رض) “ حضرت انس (رض) کہتے ہیں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے میں اس وقت آٹھ سال کا تھا میری والدی مجھے لے کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : یا رسول اللہ میرے علاوہ انصار کے مرد اور عورتیں آپ کو تحائف پیش کرتے ہیں جب کہ میرے پاس آپ کو تحفہ دینے کے لیے کوئی چیز نہیں سوائے میرے اس بیٹے کے آپ اسے میری طرف سے قبول فرمائیں یہ آپ کی خدمت کرتا رہے گا چنانچہ میں نے دس سال تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کی آپ نے مجھے کبھی نہیں مارا مجھے گالی نہیں دی اور نہ ہی آپ کبھی چیں بہ جبیں ہوئے۔ (رواہ ابن عساکر)
36829- "مسند أنس" قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة وأنا يومئذ ابن ثمان سنين فذهبت بي أمي إليه فقالت: يا رسول الله! إن رجال الأنصار ونساءهم قد أتحفوك غيري، وإني لم أجد ما أتحفك به إلا ابني هذا فتقبله مني يخدمك ما بدا لك! فخدمت رسول الله صلى الله عليه وسلم عشر سنين لم يضربني قط ولم يسبني ولم يعبس في وجهي. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض)
٣٦٨٣٠۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ میرے گیسو تھے میری والدہ نے مجھے کہا : انھیں مت کاٹو چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں پکڑتے تھے اور کھینچتے تھے۔ (رواہ ابو نعیم)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف لابی داؤد ٨٩٩۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف لابی داؤد ٨٩٩۔
36830 عن أنس قال : كانت لي ذؤابة فقالت لي أمي : لا أجزها ، كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمدها ويأخذ بها (أبو نعيم).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض)
٣٦٨٣١۔۔۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں میرے گیسو تھے جنہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پکڑ کر کھینچتے تھے۔ (رواہ الطبرانی عن انس)
36831 (أيضا) كانت لي ذؤابة وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمدها ويأخذ بها (طب ، عنه).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض)
٣٦٨٣٢۔۔۔ زہری کی روایت ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک (رض) کو فرماتے سنا : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت میں دس سال کا تھا اور جب آپ دنیا سے رخصت ہوئے اس وقت میری عمر بیس سال تھی میرے گھر کی عورتیں مجھے آپ کی خدمت پر ابھارتی تھیں۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وابو نعیم)
36832 (أيضا) عن الزهري قال : سمعت أنس بن مالك يقول : قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة وأنا ابن عشر سنين ومات وأنا ابن عشرين سنة وكن أمهاتي يحثنني على خدمته (ش وأبو نعيم).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض)
٣٦٨٣٣۔۔۔ ” ایضاً “ سعید بن مسیب کی روایت ہے کہ حضرت انس (رض) کہتے ہیں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت میری عمر ٩ سال تھی۔ (رواہ ابو نعیم)
36833 (أيضا) عن سعيد بن المسيب عن أنس قال : قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة وأنا ابن تسع سنين (أبو نعيم).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض)
٣٦٨٣٤۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ ام سلیم (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! انس کے لیے دعا فرمائیں چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یہ دعا دی یا اللہ ! اس کے مال اور اولاد میں کثرت عطا فرما اور اسے برکت عطا فرما چنانچہ میں اپنی صلبی اولاد میں سے سوائے اپنے پوتوں کے ایک سو پچیس کو دفن کرچکا ہوں میرا باغ سال میں دو مرتبہ پھل لاتا ہے جب کہ شہر بھر میں کوئی ایسا باغ نہیں جو دو مرتبہ پھل لاتا ہو۔ (رواہ ابو نعیم)
36834 عن أنس قال : قالت أم سليم ، يا رسول الله ادع لانس ! فقال : اللهم ! أكثر ماله وولده وبارك له فيه ! فلقد دفنت من صلبي سوى ولد ولدي خمسا وعشرين ومائة ، وإن أرضي لتثمر في السنة مرتين وما في البلد شئ يثمر مرتين غيرها (أبو نعيم).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض)
٣٦٨٣٥۔۔۔ ” ایضاً “ حضرت انس (رض) کہتے ہیں ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ام سلیم (رض) کے پاس تشریف لائے ام سلیم نے کہا یا رسول اللہ ! میرے پاس ایک خاص چیز ہے آپ نے فرمایا : اے ام سلیم وہ کیا چیز ہے ؟ عرض کیا : آپ کا خادم انس، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی کی دعا فرمائی، اور ارشاد فرمایا : یا اللہ، اسے مال اور اولاد عطا فرما اور اس میں برکت بھی عطا فرما۔ چنانچہ انصار میں میری اولاد سب سے زیادہ ہوئی ہے میری بیٹی امینہ نے مجھے بتایا کہ بصرہ میں حجاج کے آنے تک ایک سو بیس سے زائد میری صلبی اولاد فنا ہوچکی ہے۔ (رواہ الحارث وابو نعیم)
36835 (أيضا) دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على أم سليم فقالت : يا رسول الله ! إن لي خويصة ، قال : وما هي يا أم سليم ؟ قالت : خادمك أنس ، فدعا لي بخير الدنيا والآخرة وقال : اللهم ارزقه مالا وولدا وبارك له فيه ! فاني أكثر الانصار ولدا فأخبرتني ابنتي أمينة أنها قد دفنت من صلبي إلى مدقم الحجاج البصرة بعضا وعشرين ومائة (الحارث وأبو نعيم).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض)
٣٦٨٣٦۔۔۔ ” ایضاً “ حضرت انس (رض) کہتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے ” یاذا الاذنین “ یعنی اے دو کانوں والے کہا کرتے تھے۔ (رواہ ابو نعیم وابن عساکر)
36836 (أيضا) كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول لي : يا ذا الاذنين (أبو نعيم ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض)
٣٦٨٣٧۔۔۔ ” ایضاً “ حضرت انس (رض) کہتے ہیں ایک مرتبہ ام سلیم (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں آپ انس کے لیے دعا فرما دیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے تین دعائیں کیں ان میں سے دو کو پوری ہوتی دیکھ چکا ہوں اور تیسری کی مجھے امید ہے۔ (رواہ عبد الرزاق)
36837 (أيضا) جاءت أم سليم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت : يا رسول الله ! بأبي وأمي أنت أنيس لو دعوت له ! فدعا لي بثلاث دعوات قد رأيت الثنتين أنا وأرجو الثالثة (عب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض)
٣٦٨٣٨۔۔۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں : مجھے امید ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کروں گا میں کہوں گا یا رسول اللہ ! میں آپ کا چھوٹا سا خادم ہوں۔ (رواہ ابن عساکر)
36838 عن أنس قال : إني لارجو أن ألقى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأقول : يا رسول الله ! خويدمك (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض)
٣٦٨٣٩۔۔۔ ” ایضاً “ ثمامہ کی روایت ہے کہ حضرت انس (رض) سے پوچھا گیا : کیا آپ غزوہ بدر میں شریک تھے ؟ انس (رض) نے جواب دیا : تیری ماں نہ رہے میں بدر سے کہاں غائب ہوسکتا تھا محمد بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کی طرف نکلے تو انس (رض) بھی ان کے ساتھ تھے انس (رض) اس وقت لڑکے تھے اور رسول اللہ کی خدمت کرتے تھے۔ (رواہ ابن سعد وابن عساکر)
36839 (أيضا) عن ثمامة قال : قيل لانس : أشهدت بدرا ؟ قال : وأين أغيب عن بدر لا أم لك ! قال محمد بن عبد الله الانصاري : خرج أنس بن مالك مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حين توجه إلى بدر وهو غلام يخدم النبي صلى الله عليه وسلم (ابن سعد ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض)
٣٦٨٤٠۔۔۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حدیبیہ عمرہ، حج ، فتح مکہ غزوہ حنین ، غزوہ طائف اور غزوہ خیبر میں شریک رہا ہوں۔ (رواہ ابن عساکر)
36840 عن أنس قال : شهدت مع النبي صلى الله عليه وسلم الحديبية وعمرته والحج والفتح وحنينا والطائف وخيبر (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض)
٣٦٨٤١۔۔۔ ” ایضاً “ یحییٰ بن سعید اپنی والدہ سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتی ہیں : میں نے انس بن مالک کو خلوق خوشبو لگائے ہوئے دیکھا میں نے کہا : یہ تو سہل بن سعد سے طاقتور ہے حالانکہ سعد اس سے بڑا ہے انس نے میری بات سن کر کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے دعا کی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36841 (أيضا) عن يحيى بن سعيد عن أمه قالت : رأيت أنس بن مالك متخلقا بالخلوق فقلت : لهذا أجلد من سهل بن سعد وهو أكبر منه ، فسمعني فقال : إن رسول الله صلى الله عليه وسلم دعا لي (كر).
তাহকীক: