কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬৮৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض)
٣٦٨٤٢۔۔۔ محمد بن سیرین حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک (رض) کے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک چھوٹی سی چھڑی تھی جب انس (رض) کی وفات ہوئی تو وہ چھڑی ان کے پہلو اور قمیص کے درمیان رکھ کر ان کے ساتھ دفنا دی گئی۔ (رواہ البیہقی وابن عساکر)
36842 (أيضا عن محمد بن سيرين عن أنس بن مالك أنه كان عنده عصية لرسول الله صلى الله عليه وسلم فمات فدفنت معه بين جنبيه وبين قميصه (ق ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض)
٣٦٨٤٣۔۔۔ ” ایضاً “ انس بن سیرین کہتے ہیں بوقت وفات حضرت انس (رض) کے پاس میں حاضر تھا ، انس (رض) کہتے جا رہے تھے مجھے لا الہ الا اللہ کی تلقین کرو آپ یہی کہتے رہے، حتیٰ کہ روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی (رض) ۔ (رواہ ابن ابی الدنیا فی المختفر ین وابن عساکر)
36843 (أيضا) عن أنس بن سيرين قال شهدت أنس بن مالك وحضره الموت فجعل يقول : لقنوني لا إله إلا الله ، فلم يزل يقولها حتى قبض (ابن أبي الدنيا في المحتضرين ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن نضر (رض)
٣٦٨٤٤۔۔۔ ” مسند انس بن مالک “ حضرت انس بن مالک (رض) کہتے ہیں میرے چچا انس بن نضر (رض) بدر کی جنگ میں شریک نہیں ہوسکتے تھے انھیں اس کا شدید صدمہ رہتا تھا اور اپنے نفس کو ملامت کرتے تھے جب آپ مدینہ واپس آئے کہنے لگے میں پہلی لڑائی میں شریک نہیں ہوسکا جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کو تہ تیغ کیا ہے اگر آئندہ میں کسی لڑائی میں شریک ہوا اللہ تعالیٰ ضرور دیکھ لے گا کہ میں کیا کرتا ہوں چنانچہ غزوہ احد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو انس بن نضر (رض) کہنے لگے : یا اللہ جو کچھ یہ مشرکین لائے ہیں میں اس سے بری الذمہ ہوں اور جو کچھ مسلمانوں نے کیا ہے میں اس سے تیرے حضور معذرت کرتا ہوں پھر اپنی تلوار لی اور میدان کا رزار کی طرف چل پڑے سامنے سے ایک دوسرے صحابی حضرت ابن معاذ (رض) آرہے ہیں ان سے کہا : اے سعد ! قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے احد کے پہاڑ سے جنت کی خوشبو آرہی ہے وہ مجھے جنت کی خوشبو لگتی ہے پھر آپ (رض) بھرپور حملہ کرنے کے لیے میدان میں کود پڑے۔ سعد (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! جو کچھ انس بن نضر نے کیا ہے جو کچھ کرنے کی مجھ میں طاقت نہیں تھی حضرت انس بن مالک (رض) کہتے ہیں ہم نے انس بن نضر (رض) کو مقتولین میں پایا ان پر تلواروں نیزوں اور تیروں سے اسی (٨٠) سے زائد زخم تھے اور ان کی لاش کا مثلہ کردیا گیا تھا ہم انھیں نہیں پہچان سکے تھے حتیٰ کہ ان کی بہن نے انھیں انگلیوں سے پوروں نے پہچانا۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں : ہم کہا کرتے تھے۔ یہ آیت ” من المومنین رجال صدقوا ما عاھد وا اللہ علیہ “ انس بن نضر اور ان کے ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (رواہ الطبرانی وابن سعد وابن ابی شیبہ والحارث والترمذی وقال صحیح والنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم مردویۃ وابو نعیم)
36844- "مسند أنس بن مالك" غاب عمي أنس بن النضر عن قتال بدر فلما قدم قال: غبت عن أول قتال قاتل رسول الله صلى الله عليه وسلم المشركين، لئن أشهدني الله قتالا ليرين الله ما أصنع! فلما كان يوم أحد انكشف الناس فقال: اللهم! إني أبرأ إليك مما جاء به هؤلاء - يعني المشركين - وأعتذر إليك مما صنع هؤلاء - يعني المسلمين - ثم مشى بسيفه فلقيه سعد بن معاذ فقال: أي سعد! والذي نفسي بيده إني لأجد ريح الجنة دون أحد! واها لريح الجنة! قال سعد: فما استطعت يا رسول الله ما صنع! قال أنس:
فوجدناه بين القتلى، به بضع وثمانون من بين ضربة بسيف وطعنة برمح ورمية بسهم قد مثلوا به فما عرفناه حتى عرفته أخته ببنانه؛ قال أنس: فكنا نقول: أنزلت هذه الآية {من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه} أنها فيه وفي أصحابه. "ط" وابن سعد، "ش" والحارث، "ت" وقال: صحيح1، "ن" وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه وأبو نعيم".
فوجدناه بين القتلى، به بضع وثمانون من بين ضربة بسيف وطعنة برمح ورمية بسهم قد مثلوا به فما عرفناه حتى عرفته أخته ببنانه؛ قال أنس: فكنا نقول: أنزلت هذه الآية {من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه} أنها فيه وفي أصحابه. "ط" وابن سعد، "ش" والحارث، "ت" وقال: صحيح1، "ن" وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن ابی مرثد (رض)
٣٦٨٤٥۔۔۔ حضرت سہل بن حنظلیہ عیشمی (رض) کہتے ہیں صحابہ کرام (رض) اجمعین رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حنین کے دن چلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آج رات ہمارا پہرہ کون دے گا حضرت انس بن ابی مرثد غنوی (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں پہرہ دوں گا حکم ہوا : گھوڑے پر سوار ہوجاؤ چنانچہ انس (رض) بن ابی مرثر گھوڑے پر سوار ہوئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس گھاءی کے اوپر چلے جاؤ اور اپنی طرف سے دھوکا میں نہیں رہنا صبح ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی جائے نماز پر تشریف لائے اور دو رکعتیں ادا کیں پھر فرمایا : کیا تم نے اپنے شہسوار کو محسوس کیا ہے ؟ ایک شخص بولا : یا رسول اللہ ! ہم نے اسے محسوس نہیں کیا نماز کے لیے اقامت کہی گئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں تھے اور آپ نے گھاٹی کی طرف دیکھنا شروع کردیا حتیٰ کہ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے اور سلام پھیرا، ارشاد فرمایا : خوش ہوجاؤ تمہارے گھڑ سوار آچکے ہیں ہم گھاٹی میں درختوں کے سائے تلے دیکھنے لگے چنانچہ وہ سامنے سے آرہے تھے اور آتے ہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھڑے ہوگئے اور عرض کیا : میں آپ کے پاس سے چل کر گھاٹی کے اوپر پہنچ گیا جہاں کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا صبح کو جب سورج طلوع ہوا میں نے دائیں بائیں دیکھا مجھے کوئی نہ دکھائی دیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : کیا تم رات کو نیچے اترے تھے ؟ عرض کیا : نہیں البتہ نماز کے لیے اور قضائے حاجت کے لیے نیچے آیا ہوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے اپنے اوپر جنت واجب کردی اب تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں کہ اس کے بعد کوئی عمل بھی نہ کرو۔ (رواہ ابو نعیم فی المعرفۃ)
36845- عن سهل بن الحنظلية العبشمي أنهم ساروا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من يحرسنا الليلة؟ فقال أنس بن أبي مرثد الغنوي: أنا يا رسول! فقال: اركب، فركب فرسا فجاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: استقبل هذا الشعب حتى تكون في أعلاه ولا تغرر من قبلك الليلة فلما صبح خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى مصلاه فصلى ركعتين ثم قال: هل أحسستم فارسكم؟ فقال رجل: يا رسول الله! ما أحسسناه، فثوب بالصلاة فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في الصلاة يلتفت إلي الشعب حتى إذا قضى صلاته وسلم قال: أبشروا فقد جاء فارسكم، فجعلنا ننظر إلى ظلال الشجر في الشعب فإذا هو قد جاء حتى وقف على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني قد انطلقت حتى كنت في أعلى هذا الشعب حيث أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما أصبحت طلعت الشمس فنظرت فلم أر أحدا، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: نزلت الليلة؟ قال: لا إلا مصليا أو قاضي حاجة، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: فقد أوجبت فلا عليك أن لا تعمل غيرها.
"أبو نعيم في المعرفة
"أبو نعيم في المعرفة
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اوفی بن مولیٰ تمیمی غبری (رض)
٣٦٨٤٦۔۔۔ حضرت اوفی بن مولیٰ (رض) کہتے ہیں میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاجر ہو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے غمیم میں جائیدار عنایت فرمائی اور مجھ پر شرط عائد کی کہ میں پہلی سیرابی سے حاصل کرنے والا غلہ اللہ تعالیٰ کی میں صدقہ کر دوں ہمارے ایک اور آدھی ساعدہ کو بیابان میں کنواں بطور جائدار دیا اسے جعرانہ کا کنواں کہا جاتا تھا اس کنویں میں پانی آتا تھا اور پانی شیریں نہیں تھا جب کہ ایاس بن قتادہ عنبری کو جابیہ میں جائداد تھی ہم سب آپ کی خدمت میں حاضری دیتے رہتے تھے آپ نے ہم میں سے ہر ایک کے لیے عطا نامہ چمڑے کے ٹکڑے پر رکھا تھا۔ (رواہ ابن مندہ والطبرانی وابو نعیم وقال : ابن عبد البر لیس اسنادہ بالقوی)
36846- "مسنده" أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فأقطعني الغميم وشرط علي وابن السبيل أول ريان، وأقطع ساعدة رجلا منا بئرا بالفلاة يقال لها الجعرانية وهو بئر يجيء فيها الماء وليست بالماء العذب، وأقطع إياس بن قتادة العنبري الجابية وهي دون اليمامة، وكنا أتيناه جميعا؛ وكتب لكل رجل منا بذلك في أديم."ابن منده، "طب" وأبو نعيم وقال ابن عبد البر: ليس إسناده بالقوي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت اوس کلابی (رض)
٣٦٨٤٧۔۔۔ ” مسندہ “ معلیٰ بن صاحب بن اوس کلابی اپنے والد اور دادا سے نقل کرتے ہیں ان کے دادا اوس (رض) کہتے ہیں میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔
36847- "مسنده" عن المعلى بن حاجب بن أوس الكلابي عن أبيه عن جده قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم1
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ایمن (رض)
٣٦٨٤٨۔۔۔ ” مسند بلال (رض) “ ابو مسیرہ (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ایمن (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسواک اور جوتے تیار باش رکھتے تھے جب کہ ہم آپ کو قضائے حاجت کے لیے جاتے تھے۔ (رواہ الطبرانی)
36848- "مسند بلال رضي الله عنه" عن أبي ميسرة: كان أيمن على مطهرة النبي صلى الله عليه وسلم ونعليه ونعاطيه حاجته. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ایاس بن معاذ (رض)
٣٦٨٤٩۔۔۔ بنی عبد الاشھل کے بھائی محمود بن لبید (رض) کہتے ہیں جب ابو حیسر انس بن رافع مکہ آیا اس کے ساتھ بنی عبد الاشھل کے چند نوجوان بھی تھے ان میں ایک ایاس بن معاذ (رض) بھی تھے ، یہ لوگ قریش کو اپنی قوم خزرج کے خلاف حلیف بنانا چاہتے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی خبر ہوئی آپ ان لوگوں کے پاس آئے اور ان کے ساتھ مل بیٹھے آپ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیز کی دعوت نہ دوں جو تمہارے حلف بندی سے بدرجہا افضل ہے ؟ وہ بولے : وہ کیا چیز ہے ارشاد فرمایا : میں اللہ کا رسول ہوں اللہ تعالیٰ نے مجھے بندوں کی طرف بھیجا ہے تاکہ میں انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاؤں وہ صرف اللہ کی عبادت کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتاب نازل فرمائی ہے پھر آپ نے ان لوگوں سے اسلام کے محاسن ذکر کیے اور قرآن پڑھ کر سنایا ایاس بن معاذ (رض) بولے : (یہ اس وقت نوجوان لڑکے تھے) بخدا جس کام کے لیے تم آئے ہو یہ چیز اس سے بدرجہا افضل ہے ابو چیر اس بن رافع نے مٹھی بھر کنکریاں اٹھائیں اور ایاس بن معاذ (رض) کے منہ پر ماریں اور کہا تم ہمیں چھوڑو میری عمر کی قسم ہم تو کسی اور مقصد کے لیے آئے ہیں اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھ کھڑے ہوئے اور وہ لوگ تھی مدینہ واپس چلے گئے، چنانچہ بعاث کی لڑائی اوس اور خزرج کے درمیان ہوئی تھی اس کے بعد تھوڑی مدت میں ایاس بن معاذ (رض) وفات پاگئے محمود بن لبید کہتے ہیں : میری قوم کے جو لوگ ایاس بن معاذ (رض) کے پاس بوقت وفات موجود تھے انھوں نے مجھے بتایا ہے کہ ہم ایاس بن معاذ کو لگاتار اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تکبیر کہتے اور تسبیح کرتے سنتے رہے ہیں حتیٰ کہ وہ دنیا سے رخصت ہوگیا ان لوگوں نے شک نہیں کیا کہ وہ مسلمان ہی مرے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے مدینہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس کرنے اسلام کی سمجھ بوجھ اپنے اندر پیدا کرلی تھی۔ (رواہ ابو نعیم)
36849- عن محمود بن لبيد أخي بني عبد الأشهل قال: لما قدم أبو الحيسر أنس بن رافع مكة ومعه فتية من بني عبد الأشهل فيهم إياس بن معاذ يلتمسون الحلف من قريش على قومهم من الخزرج سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم بهم فأتاهم فجلس إليهم فقال لهم: هل لكم إلى خير مما جئتم له؟ فقالوا: وما ذاك؟ قال: أنا رسول الله بعثني الله إلى العباد أدعوهم إلى الله أن يعبدوا الله ولا يشركوا به شيئا ونزل علي الكتاب! ثم ذكر الإسلام وتلا عليهم القرآن، فقال إياس بن
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف باء ۔۔۔ حضرت باقوم رومی (رض)
٣٦٨٥٠۔۔۔ صالح مولائے تو امہ کہتے ہیں : مجھے حضرت باقوم مولائے سعید بن عاص (رض) کہتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے منبر بنایا جو جنگلی لکڑی کا تھا تین زینے بنائے ایک بیٹھنے کا اور دو دوسرے۔ (رواہ ابو نعیم)
36850- عن صالح مولى التوأمة قال: حدثني باقوم مولى سعيد بن العاص قال: صنعت لرسول الله صلى الله عليه وسلم منبرا من طرفاء الغابة ثلاث درجات المقعد ودرجتين."أبو نعيم"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت براء بن معرور (رض)
٣٦٨٥١۔۔۔ محمد بن مغنی غفاری اپنے دادا سے روایت نقل کرتے ہیں کہ بنی غفار کا ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تیرا کیا نام ہے ؟ جواب دیا : نبھان فرمایا : بلکہ تمہارا نام مکرم ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ تشریف لانے کے بعد براء بن معرور (رض) کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا : یا اللہ ! براء بن معرور پر رحمت نازل فرما اور قیامت کے دن اسے اپنے سے دور نہ رکھنا اسے جنت میں داخل کر دے اور تو نے ایسا کر بھی دیا ہے۔ (رواہ مندہ ابن عساکر)
36851- عن محمد بن معن الغفاري عن أبيه عن جده نضلة بن عمرو الغفاري أن رجلا من بني غفار أتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: ما اسمك؟ قال: نبهان، قال: أنت مكرم، وأن النبي صلى الله عليه وسلم صلى على البراء بن معرور بعد ما قدم المدينة فقال: اللهم صل على البراء بن معرور ولا تحجبه عنك يوم القيامة وأدخله الجنة وقد فعلت. "ابن منده، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت براء بن معرور (رض)
٣٦٨٥٢۔۔۔ زہری کہتے ہیں : حضرت براء بن معرور (رض) پہلے شخص ہیں جنہوں نے تہائی مال کی وصیت کی ہے اور کعبہ کا استقبال کیا ہے حالانکہ وہ اپنے گاؤں میں تھے نیز براء (رض) بڑے متقی انسان تھے۔ (رواہ ابو نعیم)
36852- عن الزهري قال: البراء بن معرور أول من أوص بثلث ماله واستقبل الكعبة وهو ببلاده وكان نقيبا."أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم
٣٦٨٥٣۔۔۔ ابو اسحاق کہتے ہیں : میں نے براء بن عازب (رض) کو کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پندرہ غزوات کیے ہیں۔ میں نے حضرت زید بن ارقم (رض) کو کہتے سنا ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سترہ (١٧) غزوات کیے ہیں۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وابو یعلی وابن عساکر)
36853- عن أبي إسحاق قال: سمعت البراء يقول: غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم خمس عشرة غزوة، قال: وسمعت زيد بن أرقم يقول: غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم سبع عشرة غزوة. "ش، ع، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت براء بن مالک (رض)
٣٦٨٥٤۔۔۔ محمد بن سیرین کہتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عاملین کو خط لکھا کہ براء بن مالک کو مسلمانوں کے لشکروں میں سے کسی لشکر کا عامل مقرر نہ کرو چونکہ یہ ہلاکتوں میں سے ایک ہلاکت ہے۔ (رواہ ابن سعد)
فائدہ : ۔۔۔ عامل نہ مقرر کرنے کی وجہ مندرجہ ذیل حدیث سے واضح ہوجاتی ہے۔ وہ یہ کہ حضرت براء بن مالک (رض) اگر رب اللہ کی قسم اٹھالیتے اللہ تعالیٰ اسے ضرور پوری فرماتے تھے۔
فائدہ : ۔۔۔ عامل نہ مقرر کرنے کی وجہ مندرجہ ذیل حدیث سے واضح ہوجاتی ہے۔ وہ یہ کہ حضرت براء بن مالک (رض) اگر رب اللہ کی قسم اٹھالیتے اللہ تعالیٰ اسے ضرور پوری فرماتے تھے۔
36854- عن محمد بن سيرين قال: كتب عمر بن الخطاب أن لا تستعملوا البراء بن مالك على جيش من جيوش المسلمين فانه مهلكة من الهلكة تقدم بهم (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت براء بن مالک (رض)
٣٦٨٥٥۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بہت سارے چادر پوش ہیں جن کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا جاتا اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم کھالیں اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو ضرور پوری کر دے ان میں سے ایک براء بن مالک (رض) بھی ہیں۔ چنانچہ تستر کے معرکے میں مسلمانوں کو پہلے عارضی سی شکست ہوئی مسلمانوں نے کہا : اے براء اپنے رب پر قسم کھاؤ کہنے لگے : اے میرے رب میں تجھ پر قسم کھاتا ہوں کہ جب تو ہمیں کفار پر غلبہ عطا فرمائے اس سے قبل مجھے اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لاحق کر دے۔ (رواہ ابو نعیم)
36855 عن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : رب ذي طمرين لا يؤبه له لو أقسم على الله لابره ، منهم البراء بن مالك.فلما كان يوم تستر انكشف الناس فقالوا : يا براء ! أقسم على ربك ، فقال : أقسم عليك أي رب لما منحتنا أكتافهم وألحقتني بنبيك صلى الله عليه وسلم ، فاستشهد (أبو نعيم) بسر المازني رضي الله عنه
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بسر مازنی (رض)
٣٦٨٥٦۔۔۔ یزید بن حمیز، عبداللہ بن یسر سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے والد بسر (رض) کے ہاں تشریف لائے۔ (رواہ النسائی وابو نعیم)
36856- "مسند بسر المازني والد عبد الله بن بسر رضي الله عنهما" عن يزيد بن خمير عن عبد الله بن بسر عن أبيه أن النبي صلى الله عليه وسلم نزل بهم. "ن" وأبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بسر مازنی (رض)
٣٦٨٥٧۔۔۔ معاویہ بن صالح ابن عبد احمد بن بسر عبداللہ بن بسر (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خچر پر سوار ہو کر ہمارے یہاں تشریف لائے ہم خچر کو شامی گدھا کہتے تھے۔ (رواہ ابن السکن)
36857- "أيضا" عن معاوية بن صالح عن ابن عبد الله بن بسر عن أبيه عبد الله عن أبيه بسر أن النبي صلى الله عليه وسلم أتاهم وهو راكب على بغلة كنا نسميها حمارة شامية. ابن السكن1
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بشر بن براء بن معرور (رض)
٣٦٨٥٨۔۔۔ حضرت کعب بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنی سلمہ تمہارے سردار کون ہے ؟ بنی سلمہ نے کہا : جد بن قیس لیکن ہم بخل سے اس کا موازنہ کرتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بخل سے بڑھ کر اور کونسی بیماری ہوسکتی ہے ؟ لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ ! پھر ہمارا سردار کون ہے ؟ فرمایا : بشر بن براء بن معرور تمہارا سردار ہے۔ (رواہ ابو نعیم)
کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ ٥٣٦٨۔
کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ ٥٣٦٨۔
36858- عن كعب بن مالك أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من سيدكم يا بني سلمة! قال الجد بن قيس على أنا نزنه ببخل، فقال: وأي داء أدوأ من البخل؟ قالوا: فمن سيدنا يا رسول الله؟ قال: بشر بن البراء بن معرور. "أبو نعيم"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بشر بن براء بن معرور (رض)
٣٦٨٥٩۔۔۔ ابو سلمہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے بنی عبیدہ ! تمہارا سردار کون ہے ؟ بنی عبید نے جواب دیا : جد بن قیس ہمارا سردار ہے لیکن اس میں بخل ہے آپ نے فرمایا : اور کونسی بیماری بخل سے بڑھ کر ہوسکتی ہے ؟ بلکہ تمہارا سردار تمہارے پہلے سردار کا بیٹا بشر بن براء بن معرور (رض) ہے۔ (رواہ ابن جریر)
کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ : ٥٣٦٨۔
کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ : ٥٣٦٨۔
36859- عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من سيدكم يا بني عبيد؟ قالوا الجد بن قيس على أن فيه بخلا، فقال: وأي داء أدوأ من البخل؟ بل سيدكم وابن سيدكم وابن سيدكم بشر بن البراء بن معرور. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بشر بن معاویہ بکائی (رض)
٣٦٨٦٠۔۔۔ عمران بن صاعد بن عداء بن بشر بن معاویہ بکائی اپنے والد سے وہ اپنے والد بشر بن معاویہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت بشر بن معاویہ بن ثور (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے ان سے تین باتیں حاضر ہوئے معاویہ بن ثور (رض) نے اپنے بیٹے بشر (رض) سے کہہ رکھا تھا کہ جب تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچو ان سے تین باتیں کہنی ہیں اور ان میں کوئی کمی یا زیادتی نہیں کرنی کہنا السلام علیک یا رسول اللہ ! ہم اس لیے حاضر ہوئے ہیں تاکہ آپ کو سلام کریں اور ہم اسلام کا اقرار کریں اور آپ میرے لیے برکت کی دعا کریں۔ بشر (رض) کہتے ہیں میں نے یہ سب کچھ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سرپردست شفقت پھیرا اور میرے لیے دعائے برکت کی بشر (رض) کے چہرے پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مسخ کا نشان تھا یوں کہتا تھا جیسا کہ وہ غرہ (چمکدار چیز) ہے اس پر جس چیز کو بھی مسخ کیا جاتا وہ چمک اٹھتی تھی بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاویہ بن ثور (رض) کے لیے خط لکھا اور انھیں صدقہ میں ہے بارہ عدد دو سالہ اونٹ کے بچھڑے دئیے یہ ان کے لیے بطور معونت تھے جب حضرت معاویہ بن ثور (رض) آپ کے پاس سے اٹھ کر چلنے لگے عرض کیا : میں آج یا کل کا مہمان ہوں میرے پاس کثیر مال ہے اور میرے صرف دو پٹھے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف واپس پلٹے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ مال آپ میری طرف سے قبول فرمائیں اور دشمن کی مکر بازیوں کے خلاف جہاں بہتر سمجھیں صرف کردیں میں مالدار ہوں اور میرے پاس بہت مال ہے آپ نے فرمایا : اے معاویہ تم درست و صواب رائے رکھتے ہو آپ نے مال واپس قبول فرما لیا۔ (رواہ البخاری فی تاریخہ والبغوی وقال عمر ان محمول ورواہ ابن مندہ وابو نعیم)
36860- "مسنده" عن عمران بن صاعد بن العلاء بن بشر بن معاوية البكائي حدثني أبي عن أبيه عن بشر بن معاوية أنه قدم مع أبيه معاوية بن ثور وافدين على رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان معاوية بن ثور قال لابنه بشر يوم قدم وله ذؤابة : إذا جئت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقل ثلاث كلمات لا تنقص منهن ولا تزد عليهن ، قل : السلام عليك يا رسول الله ! أتيتك يا رسول الله لاسلم عليك ونسلم إليك وتدعو لي بالبركة ، قال بشر : ففعلتهن ، فمسح رسول الله صلى الله عليه وسلم على رأسي ودعا لي بالبركة. وكانت في وجهه مسحة النبي صلى الله عليه وسلم كأنها غرة فكان لا يمسح شيئا إلا برأ ، وكتب النبي صلى الله عليه وسلم لمعاوية بن ثور كتابا ووهب له من صدقة عامه ثنتي عشرة مسنة معونة له ، فلما خرج من عنده قال : أنا هامة اليوم اليوم أو غدا ولي مال كثير وإنما لي ابنان ، فرجع إليه فقال : يا رسول الله ! خذها مني فضعها حيث ترى من مكائدة العدو فاني موسر كثير المال ، فقال : أصبت يا معاوية ! فقبلها منه (خ في تاريخه والبغوى وقال : عمران مجهول ، وابن منده وأبو نعيم)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৮৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بشر بن معاویہ بکائی (رض)
٣٦٨٦١۔۔۔ ” ایضاً “ ابی ھیشم بکائی صاعد بن طالب اپنے والد سے وہ اپنے والد نواس سے وہ اپنے والد رباط سے وہ اپنے والد واصل سے وہ اپنے والد کا ھل سے مجالد ثور بن بشر بن معاویہ اور یہ صاعد کے نانا ہیں کی سفر سے مروی ہے کہ وہ دونوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں سورت یسٓ سورت فاتحہ سورت اخلاص سورت فلق اور سورت ناس تعلیم کی نیز انھیں کہا کہ نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم قرات جہرا کرو۔۔ الحدیث بطولہ۔ (رواہ ابو نعیم قال فی الاصابہ : صاعد سے اوپر کی سند مجہول ہے)
(36861) - (أيضا) عن أبي الهيثم البكائي صاعد بن طالب حدثني أبي عن أبيه نواس عن أبيه رباط عن أبيه واصل عن أبيه كاهل عن مجالد بن ثور عن بشر بن معاوية بن ثور وهو جد صاعد لامه أنهما وفدا على النبي صلى الله عليه وسلم فعلمهما يس والحمد لله رب العالمين والمعوذات الثلاث : قل هو الله احد والفلق وقل اعوذ برب الناس ، وعلمهم الابتداء ببسم الله الرحمن الرحيم والجهر بها في الصلاة والقراءة ، الحديث بطوله (أبو نعيم ، قال في الاصابة : إسناده مجهول من صاعد فصاعدا).
তাহকীক: