কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬৮৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بشیر بن عقربہ جہنی (رض)
٣٦٨٦٢۔۔۔ بشیر بن عقربہ (رض) کی روایت ہے کہ میرے والد عقربہ (رض) غزوہ احد میں شہید کر دئیے گئے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں رو رہا تھا آپ نے فرمایا : اے حبیب ! کیوں رو رہے ہوں کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کر میں تمہارا والد ہوں اور عائشہ تمہاری ماں ہے میں نے کہا : جی ہاں یا رسول اللہ ! میرے باپ آپ پر قربان جائیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا آپ کے یاتھ پھیرنے کا نشان سیاہ تھا جب کہ باقی سارا جسم سفید تھا میری زبان میں لکنت تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے منہ میں تھوکا جس سے لکنت جاتی رہی مجھ سے میرا نام پوچھا : میں نے کہا : میرا نام بحیر ہے فرمایا : بلکہ تمہارا نام بشیر ہے۔ (رواہ البخاری فی تاریخہ وابن مندہ)
36862- "مسنده" عن بشير بن عقربة قال: لما قتل أبي عقربة يوم أحد أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وأنا أبكي فقال: يا حبيب! ما يبكيك؟ أما ترضى أن أكون أنا أباك وعائشة أمك؟ قلت: بلى يا رسول الله بأبي أنت وأمي! فمسح على رأسي فكان أثر يده من رأسي أسود وسائره أبيض، وكانت لي رتة1 فتفل فيها فانحلت، وقال لي: ما اسمك؟ قلت: بحير، قال: بل أنت بشير. "خ في تاريخه وابن منده
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بشیر بن خصاصیہ (رض)
٣٦٨٦٣۔۔۔ حضرت بشیر بن خصاصیہ (رض) کہتے ہیں : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا : تم کس قبیلہ سے ہو میں نے جواب دیا اربیعہ سے ہوں فرمایا : وہ ربیعہ الفرس جو کہتے ہیں : اگر وہ نہ ہوتے زمین اہل زمین سمیٹ پلٹ جاتی میں اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہوں جس نے ربیعہ میں سے صرف تم پر احسان کیا۔ (رواہ ابو یعلی وابن عساکر)
36863- عن بشير بن الخصاصية قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: ممن أنت؟ قلت: من ربيعة، قال: من ربيعة الفرس الذين يقولون: لولاهم لائتفكت1 الأرض بأهلها، أحمد الله الذي من عليك من بين ربيعة. "ع، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بشیر بن خصاصیہ (رض)
٣٦٨٦٤۔۔۔ حضرت بشیر بن خصاصیہ (رض) کہتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے مجھے اسلام کی دعوت دی پھر فرمایا : تمہارا نام کیا ہے ؟ میں نے کہا : نذیر فرمایا : بلکہ تمہارا نام بشیر ہے مجھے صفہ میں ٹھہرایا چنانچہ جب آپ کے پاس کوئی ہدیہ آتا ہمیں بھی اس میں شریک کرتے اور اگر صدقہ آتا سارا ہمارے حوالے کردیتے ایک دفعہ رات کو آپ گھر سے باہر نکلے میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے چل دیا آپ بقیع میں آئے اور فرمایا : السلام علیکم ! اے مومنین کی قوم : ہم بھی آپ کے ساتھ لاحق ہونے والے ہیں ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گے ، تم نے بہت بھلائی پالی ہے اور برائی و شر سے پہلے پہلے کوچ کرتے رہے ہو پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا : میں بشیر ہوں فرمایا : کیا تم راضی نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کان تمہارا دل تمہاری آنکھوں کو اسلام کے لیے قبول فرمایا ہے تمام ربیعہ الفرس میں سے جو کہتے ہیں : اگر ہم نہ ہوتے زمین اہل زمین کو لے کر الٹ جاتی میں نے کہا : جی ہاں یا رسول اللہ ! آپ نے پوچھا : تم کیوں آئے ہو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے خوف ہوا آپ کو کوئی گزند نہ پہنچے یا حشرات الارض میں سے کوئی چیز آپ کو تکلیف نہ پہنچائے۔ (رواہ ابن عساکر)
36864- عن بشير بن الخصاصية قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فدعاني إلى الإسلام ثم قال: ما اسمك؟ قلت: نذير، قال: بل أنت بشير، فأنزلني في الصفة، فكان إذا أتته هدية أشركنا فيها وإذا أتته صدقة صرفها إلينا، قال: فخرج ذات ليلة فتبعته فأتى البقيع فقال: ال سلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا بكم لاحقون وإنا لله وإنا إليه راجعون، لقد أصبتم خيرا بجيل2 وسبقتم شرا طويلا، ثم التفت إلي فقال: من هذا؟ فقلت: بشير، فقال: أما ترضى أن أخذ الله سمعك وقلبك وبصرك إلى الإسلام من بين ربيعة الفرس الذين يقولون إن لولاهم لائتفكت الأرض بأهلها، قلت: بلى يا رسول الله! قال: ما جاء بك؟ قلت: خفت أن تنكب أو تصيبك هامة من هوام الأرض. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بشیر بن خصاصیہ (رض)
٣٦٨٦٥۔۔۔ حضرت بشیر بن خصاصیہ (رض) کہتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کس شرائط پر بیعت لیتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور فرمایا : یہ کہ تم گواہی دو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں یہ کہ محمد اس کا بندہ اور اس کا رسول ہے یہ کہ ہر وقت نماز پنجگانہ ادا کرو فرض زکوۃ ادا کرو رمضان کے روزے رکھو بیت اللہ کا حج کرو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں بجز دو کے سب ارکان کی طاقت رکھتا ہوں میں زکوۃ نہیں دے سکتا چونکہ بخدا میرے پاس دس اونٹ بکریاں ہیں جو میرے گھر والوں کی ضرورت ہیں اور بوجھ لادنے کے کام آتے ہیں میں جہاد کی طاقت نہیں رکھتا چونکہ میں بزدل شخص ہوں جب کہ لوگوں کا کہنا ہے جو میدان جنگ سے بھاگ جائے وہ اللہ تعالیٰ کے غصہ کا مستحق ہوجاتا ہے میں خوفزدہ ہوں کہ اگر جنگ چھڑ جائے مجھے اپنی جان کے لالے پڑجائیں زور میں میدان جنگ سے بھاگ جاؤں یوں میں اللہ تعالیٰ کے غضب و غصہ کا مستحق ہوجاؤں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ مند کرلیا پھر ہاتھ کو حرکت دی اور فرمایا : اے بشیر ! جب نہ صدقہ ہو نہ ہی جہاد ہو پھر تم جنت میں کیسے داخل ہوگے ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہاتھ بڑھائیں میں بیعت کرتا ہوں چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ پھیلا دیا اور میں نے تمام ارکان کو بجالانے پر بیعت کرلی۔ (رواہ الحسن بن سفیان والطبرانی فی الاوسط و ابونعیم والحاکم والبیہقی وابن عساکر)
36865- عن بشير بن الخصاصية قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبايعه فقلت: علام تبايعني؟ يا رسول الله! فمد رسول الله صلى الله عليه وسلم يده فقال: تشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله، وتصلي الصلوات الخمس لوقتها، وتؤدي الزكاة المفروضة، وتصوم رمضان، وتحج البيت وتجاهد في سبيل الله، قلت: يا رسول الله! كلا نطيق إلا اثنتين فلا أطيقهما: الزكاة، والله مالي إلا عشر ذود هن رسل1 أهلي وحمولتهن، وأما الجهاد فإني رجل جبان ويزعمون أنه من ولى فقد باء بغضب من الله وأخاف إن حضر القتال أن أخشع بنفسي فأفر فأبوء بغضب من الله، فقبض رسول الله صلى الله عليه وسلم يده ثم حركها ثم قال: يا بشير! لا صدقة ولا جهاد فبم إذن تدخل الجنة؟ قلت: يا رسول الله! ابسط يدك أبايعك، فبسط يده فبايعته عليهن كلهن. "الحسن بن سفيان، "طس" وأبو نعيم، ك ق، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بشیر بن خصاصیہ (رض)
٣٦٨٦٦۔۔۔ حضرت بشیر بن خصاصیہ (رض) کی روایت ہے کہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں آپ کے ساتھ بقیع میں آیا میں نے سنا کہ آپ فرما رہے تھے : اے مومنین کے گھر والوں السلام علیکم ! میرا تسمہ ٹوٹ گیا فرمایا : اسے گانٹھ لو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرا غزوہ طویل ہوگیا میں اپنے گھر سے دور رہا۔ ارشاد فرمایا : اے بشیر ! کیا تم اللہ تعالیٰ کی حمد نہیں کرتے جو تمہیں اسلام کی طرف لایا ربیعہ میں سے جو کہتے ہیں اگر ہم نہ ہوتے زمین اہل زمین کو لے کر آلٹ گئی ہوتی۔ (رواہ ابو نعیم)
36866- عن بشير بن الخصاصية قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتيته بالبقيع فسمعته يقول: السلام على أهل الديار من المؤمنين، فانقطع شسعي فقال: أنعشك - وفي لفظ: أنعش - قدمك، قلت: يا رسول الله! طال غزوي - وفي لفظ: طالت غزوتي - ونأيت عن دار قومي، فقال: يا بشير! ألا تحمد الله الذي أخذ بناصيتك إلى الإسلام من بين ربيعة قوم يرون أن لولاهم لائتفكت الأرض بمن عليها. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بشیر بن خصاصیہ (رض)
٣٦٨٦٧۔۔۔ خالد بن سمیر بشیر بن ٹھیک سے مروی ہے کہ بشیر بن خصاصیہ (رض) حدیث بیان کرتے ہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا نام ” بشیر “ رکھا ہے جب کہ اس سے قبل ان کا نام بحر تھا کہتے ہیں ایک مرتبہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چہل قدمی کررہا تھا میں نے آپ کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا یا کہا کہ آپ نے میرا ہاتھ پکڑ رکھا تھا۔ مجھ سے فرمایا : اے ابن خساصیہ، تو نے جو صبح کی تو اللہ پر عیب لگائے ہوئے صبح کی اور اللہ کے رسول کے ساتھ چہل قدمی کر رہے ہو میں نے عرض کیا میں نے اللہ تعالیٰ عیب نہیں لگایا میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں ! اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ ہر طرح کی بھلائی کی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین کے قبرستان میں آگئے اور فرمایا : یہ لوگ خیر کثیر لے کر سبقت لے گئے ہیں یہ لوگ خیر کثیر لے کر سبقت لے گئے ہیں پھر آپ نے ایک نظر سے دوسری طرف دیکھا ایک شخص جوتوں سمیت قبروں کے درمیان چل رہا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے سبتی جوتوں والے : اپنے جوتے ایک طرف ڈال دو جب اس شخص نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا اس نے جوتے ڈال دئیے۔ (رواہ الطبرانی و ابو نعیم)
36867- عن خالد بن سمير قال حدثني بشير بن نهيك قال: حدثني بشير بن الخصاصية وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم سماه بشيرا وكان اسمه قبل ذلك زحما قال: بينا أماشي رسول الله صلى الله عليه وسلم آخذا بيده - أو قال: آخذا بيدي - إذ قال لي: يا ابن الخصاصية! ما أصبحت تنقم على الله أصبحت تماشي رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قلت: لا أنقم على الله شيئا بأبي أنت وأمي! كل خير صنع بي الله كل خير صنع الله بي، فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم قبور المشركين فقال: سبق هؤلاء خيرا كثيرا، سبق هؤلاء خيرا كثيرا، ثم كانت من رسول الله نظرة فإذا رجل يمشي بين القبور بالنعلين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا صاحب السبتين! ألق سبتيك، فلما رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم رمى بهما. "ط" وأبو نعيم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بشیر بن خصاصیہ (رض)
٣٦٨٦٨۔۔۔ لیلی زرجہ بشیر، بشیر بن خصاصیہ (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی حمد کرو جس نے ربیعہ میں سے تمہیں توفیق دی کہ تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے آپ سے قبل موت دے دے فرمایا : میں یہ دعا کسی کے لیے نہیں کرتا۔ (رواہ ابو نعیم)
36868- عن ليلى امرأة بشير عن بشير بن الخصاصية قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: احمد الله الذي جاء بك من ربيعة القشعم حتى أسلمت على يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا رسول الله! ادع الله أن يميتني قبلك، قال: لست أدعو بهذا لأحد. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بشیر ابو عصام کعبی حارثی (رض)
٣٦٨٦٩۔۔۔ معام بن بشیر حارثی کعبی (یہ ایک سو بیس سال کی عمر تک پہنچے ہیں) کہتے ہیں : میرے والد (رض) نے مجھے حدیث سنائی کہ میری قوم بنو حارث بن کعب نے مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھیجا آپ نے پوچھا : تم کہاں سے آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا : میری قوم نے مجھے آپ کے پاس اسلام کی خاطر بھیجا ہے فرمایا : مرحبا : تمہارا نام کیا ہے ؟ میں نے کہا : میرا نام اکبر ہے فرمایا : تمہارا نام بشیر ہے۔ (رواہ البخاری فی تاریخہ والنسائی وابن السکن وابن مندہ وقال عزیب لا اعرفہ الا من حدیث اہل الجن یرۃ من مصام وابو نعیم)
36869- "مسنده" عن عصام بن بشير الحارثي الكعبي وكان بلغ مائة وعشر سنة قال: حدثني أبي قال: وفدني قومي بنو الحارث ابن كعب إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: من أين أقبلت؟ قلت: أنا وافد قومي إليك بالإسلام، قال: مرحبا! ما اسمك؟ قلت: اسمي أكبر، قال: أنت بشير. "خ في تاريخه، ن وابن السكن وابن منده وقال: غريب لا نعرفه إلا من حديث أهل الجزيرة عن عصام، وأبو نعيم".

بكر بن جبلة رضي الله عنه
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بکر بن جبلہ (رض)
٣٦٨٧٠۔۔۔ ہشام بن محمد بن سائب، حارث بن عمرو کلبی ابو یعلی بن عطیہ عمارہ بن جریر کی سند سے حدیث مروی ہے کہ عبد عمرو بن جبلہ بن وائل کے پاس ایک بت تھا جسے ” عیر “ کہا جاتا تھا قبیلہ والے اس کی تعظیم کرتے تھے کہتے ہیں : ایک دن ہم اس بت کے پاس سے گزرے ہم نے ایک آواز سنی کوئی عبد عمرو سے کہہ رہا تھا : اے بکر بن جبلہ ! تم محمد کو جانتے ہو۔ پھر اسلام کا ذکر کیا۔ (رواہ ابن مندہ وابو نعیم)
36870- "مسنده" عن هشام بن محمد بن السائب ثنا الحارث بن عمرو الكلبي وأبو ليلى بن عطية عن عمه عمارة بن جرير قالا قال: عبد عمرو بن جبلة بن وائل: وكان له صنم يقال له عير وكانوا يعظمونه قال: فعبرنا عنده فسمعنا صوتا يقول لعبد عمرو: يا بكر بن جبلة! تعرفون محمدا ثم - ذكر إسلامه بطوله."ابن منده وأبو نعيم
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بکر بن حارثہ جہنی (رض)
٣٦٨٧١۔۔۔ حضرت بکر بن حارثہ جہنی (رض) کہتے ہیں : میں نے مشرکین کے ساتھ جنگ کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اے بکر ! آج تم نے کیا کیا ہے ؟ میں نے غسہ سے ان پر اچھی طرح سے تیر برسائے اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا نام بربیر رکھ دیا۔ (رواہ المعری)
36871- عن بكر بن حارثة الجهني أنه قاتل المشركين فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: أي شيء صنعت اليوم يا بكر؟ قلت:بربرتهم بالقنا بربرة جيدة، فسماني رسول الله صلى الله عليه وسلم البربير.

المعمري.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بکر بن شداج لیشی (رض)
٣٦٨٧٢۔۔۔ عبد الملک بن یعلی لیثی کی روایت ہے کہ حضرت بکر بن شداج لیثی (رض) ان صحابہ (رض) میں سے تھے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کرتے تھے یہ لڑکپن میں خدمت کا فریضہ انجام دیتے تھے چنانچہ جب سن بلوغت کو پہنچے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے آپ کے اہل خانہ کے پاس داخل ہونا پڑتا ہے حالانکہ میں سن بلوغت کو پہنچ چکا ہوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دعا دی اور فرمایا : یا اللہ اس کی بات کو سچ کر دے اور فتح مندی سے اسے ہم کنار کر چنانچہ حضرت عمر (رض) کے دور خلافت میں کسی یہودی نے ایک مقتول پایا عمر (رض) نے اس کو امر عظیم سمجھا اور اس پر بڑے رنج کا اظہار کیا پھر منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا : کیا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مجھے ولایت دی ہے اور اسی لیے مجھے خلافت عطا کی ہے کہ مردوں کو یوں ناحق قتل کیا جائے ؟ میں اللہ تعالیٰ سے ایسے شخص کا سوال کرتا ہوں جس کے پاس اس کا کوئی علم ہو اور مجھے بتائے بکر بن شداج (رض) کھڑے ہوئے اور فرمایا : مجھے اس کا علم ہے حضرت عمر (رض) نے کہا : اللہ اکبر تم اس مقتول کے خون کے ذمہ دار ہو ورنہ اس سے نکلنے کی کوئی حجت بیان کرو عرض کیا : جی ہاں فلاں شخص جہاد میں شرکت کی غرض سے نکلا اور مجھے اپنے اہل و عیال کا وکیل بنا گیا میں اس کے دروازے پر پہنچا تو میں نے اس یہودی کو اس کے گھر میں پایا اور یہ کہہ رہا تھا :

واشعث غرۃ الاسلام منی خلوت بعرسہ لیل التمام

میری وجہ سے اسلام کی چمک دھیمی پڑگئی میں نے اس کے جلوہ کے لیے پوری پوری رات خلوت میں گزار دی۔

ابیت علی نرابھا ویمسی علی جرداء لا حقۃ الخرام

میں اس کے سینے پر حملہ کرنے سے بار رہا ہوں لیکن اس نے بےبالوں کے شام کی کہ وہ وسط راستہ پر جا چکا تھا۔

کان مجامع الربلات منھا فنام ینھفون الی فنام

گویا کہ اس کی ہڈیوں کے جوڑا انسانوں کی جماعت کی مانند تھے جو کسی دوسری جماعت کی طرف اٹھ رہے ہوں۔

چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کی وجہ سے ان کی بات سچ قرار دی اور مقتول کا خون رائیگاں قرار دیا۔ (رواہ ابن مندہ وابو نعیم)
36872- عن عبد الملك بن يعلى الليثي أن بكر بن شداخ الليثي وكان ممن يخدم النبي صلى الله عليه وسلم وهو غلام فلما احتلم جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول! إني كنت أدخل على أهلك وقد بلغت مبلغ الرجال، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اللهم صدق قوله ولقه الظفر! فلما كان في ولاية عمر وجد يهودي قتيلا فأعظم ذلك عمر وجزع وصعد على المنبر فقال: أفيما ولاني الله واستخلفني يفتك بالرجال؟ أذكر الله رجلا كان عنده علم إلا أعلمني! فقام إليه بكر بن شداخ فقال: أنا به عليم فقال: الله أكبر! بؤت بدمه فهات المخرج، فقال: بلى، خرج فلان غازيا ووكلني بأهله فجئت إلى بابه فوجدت

هذا اليهودي في منزله وهو يقول:

وأشعث غرة الإسلام مني. ... خلوت بعرسه ليل التمام

أبيت على ترائبها ويمسي. ... على جرداء لا حقة الحزام

كأن مجامع الربلات منها. ... فئام ينهضون إلى فئام

فصدق عمر قوله وأبطل دمه بدعاء النبي صلى الله عليه وسلم."ابن منده وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بلال موذن (رض)
٣٦٨٧٣۔۔۔ ” مسند صدیق “ محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی کی روایت ہے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی اور ابھی دفنائے نہیں گئے تھے حضرت بلال (رض) نے اذان دی اور جب اشھد ان محمد ا رسول اللہ کہتے تو مسجد میں لوگوں پر گریہ طاری ہوجاتی جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دفن کر دئیے گئے بلال (رض) سے ابوبکر (رض) نے فرمایا : اذان دو بلال (رض) نے کہا : اگر آپ نے مجھے اس لیے آزاد کیا ہے کہ میں آپ کے ساتھ رہوں تو بلاشبہ آپ کو اس کا حق حاصل ہے اور اگر مجھے محض اللہ کے لیے آزاد کیا ہے تو پھر میرا راستہ چھوڑ دیں ابوبکر (رض) نے فرمایا : میں نے تمہیں محض اللہ کے لیے آزاد کیا ہے بلال (رض) نے کہا : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کسی کے لیے اذان نہیں دوں گا ابوبکر (رض) نے فرمایا : ٹھیک ہے اس کا تمہیں اختیار ہے بلال (رض) نے مدینہ میں اقامت اختیار کی اور جب فتوحات شام کے لیے لشکروں کا خروج ہونے لگا بلال (رض) لشکروں کے ساتھ ہوئے اور شام میں جا پہنچے (رواہ ابن سعد)
36873- "مسند الصديق" عن محمد بن إبراهيم بن الحارث التيمي قال: لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم أذن بلال ورسول الله صلى الله عليه وسلم لم يقبر فكان إذا قال: أشهد أن محمدا رسول الله، انتحب الناس في المسجد، فلما دفن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له أبو بكر: أذن، فقال: إن كنت إنما أعتقتني لأن أكون معك فسبيل ذلك، وإن كنت أعتقتني لله فخلني ومن أعتقتني له، فقال: ما أعتقتك إلا لله، قال: فإني لا أؤذن لأحد بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فذاك إليك، فأقام حتى خرجت بعوث الشام فسار معهم حتى انتهى إليها."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بلال موذن (رض)
٣٦٨٧٤۔۔۔ سعید بن مسیب (رح) کی روایت ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) جمعہ کے دن منبر پر بیٹھے ان سے بلال (رض) نے کہا : اے ابوبکر (رض) آپ نے مجھے اللہ کے لیے آزاد کیا ہے یا اپنے لیے ؟ فرمایا : اللہ کے لیے آزاد کیا ہے بلال (رض) نے کہا : آپ مجھے اجازت دیں تاکہ میں اللہ کی راہ میں جہاد کرسکوں ابوبکر (رض) نے انھیں اجازت مرحمت فرمائی بلال (رض) شام چلے گئے اور وہیں وفات پائی۔ (رواہ ابن سعد وابو نعیم فی الحلیۃ)
36874- عن سعيد بن المسيب أن أبا بكر لما قعد على المنبر يوم الجمعة قال له بلال: يا أبا بكر! قال: لبيك، قال: أعتقتني لله أو لنفسك؟ قال: لله، قال: فأذن لي حتى أغزو في سبيل الله فأذن له فذهب إلى الشام فمات ثم."ابن سعد، حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بلال موذن (رض)
٣٦٨٧٥۔۔۔ قیس بن ابی حازم کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پاگئے حضرت بلال (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) سے کہا : اگر آپ نے مجھے اپنی ذات کے لیے خریدا ہے تو مجھے اپنے پاس روک لیں اور اگر محض اللہ کے لیے خریدا ہے تو پھر مجھے چھوڑ دیں تاکہ میں اللہ کے لیے عمل کرسکوں ابوبکر (رض) روپڑے اور فرمایا : میں نے تمہیں اللہ کے لیے آزاد کیا ہے جاؤ اور اللہ کے لیے عمل کرو۔ (رواہ ابن سعد وابو نعیم فی الحلیۃ)
36875- عن قيس بن أبي حازم قال قال بلال لأبي بكر حين توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن كنت إنما اشتريتني لنفسك فأمسكني وإن كنت إنما اشتريتني لله فذرني وعملي لله، فبكى أبو بكر وقال: إنما أعتقتك لله فاذهب فاعمل لله."ابن سعد، حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بلال موذن (رض)
٣٦٨٧٦۔۔۔ عبداللہ بن محمد بن عمار بن سعد و عمار بن حفص بن عمر بن سعد و عمر بن حفص بن عمر بن سعد اپنے آباؤ اجداد سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے خبر کی ہے کہ نجاشی حبشی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف تین عصا۔ (لاٹھیاں) بھیجیں ان میں سے ایک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے لیے رکھ لی ایک حضرت علی (رض) کو دی اور ایک حضرت عمر بن خطاب (رض) کو دی جو لاٹھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے لیے رکھی تھی بلال (رض) اسے لے کر عیدین کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے آگے چلتے اور عیدگاہ میں آکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے نصب کردیتے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بد بلال (رض) اسی طرح ابوبکر (رض) کے آگے چلتے پھر ان کے بعد حضرت سعد قرظ عیدین کے موقع پر عمر بن خطاب (رض) اور حضرت عثمان بن عفان (رض) کے آگے چلے اور عیدگاہ میں اسے نصب کردیتے وہ دونوں بھی اسی کی طرف نماز پڑھتے تھے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوگئے تو بلال (رض) حضرت ابوبکر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا : اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ ! میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ مومن کا افضل ترین عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اے بلال تم کیا چاہتے ہو بلال (رض) نے عر ض کیا : میں فی سبیل اللہ جہاد کرنا چاہتا ہوں حتیٰ کہ مجھے موت آجائے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اے بلال (رض) میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں اپنے احترام اور حق کا واسطہ دیتا ہوں کہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں جسمانی لحاظ سے کمزور ہوگیا ہوں اور میری وفات کا وقت بھی قریب ہوچکا ہے۔ (لہٰذا میرے پاس رہو) بلال (رض) حضرت ابوبکر (رض) کے پاس مقیم رہے حتیٰ کہ ابوبکر (رض) دنیا سے رخصت ہوگئے ابوبکر (رض) کے بعد حضرت عمر (رض) خلیفہ بنے بلال (رض) ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہی مطالبہ رکھا جو ابوبکر (رض) کے سامنے رکھا تھا حضرت عمر (رض) نے بھی ابوبکر (رض) کی طرف بلال (رض) کا مطالبہ رد کردیا لیکن بلال (رض) نہ مانے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم اپنی جگہ کسے موذن مقرر کرتے ہو ؟ عرض کیا میں سعد کو موذن مقرر کرتا ہوں چونکہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اذان دیتے رہے ہیں حضرت عمر (رض) نے سعد (رض) کو بلایا اور انھیں اذان کی ذمہ داری سونپی اور ان کے بعد انہی کی اولاد کو یہ فریضہ نبھانے کی تاکید کی۔ (رواہ ابن سعد)
36876- عن عبد الله بن محمد بن عمار بن سعد وعمار بن حفص بن عمر بن سعد وعمر بن حفص بن عمر بن سعد عن آبائهم عن أجدادهم أنهم أخبروهم أن النجاشي الحبشي بعث إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بثلاث عنزات1 فأمسك النبي صلى الله عليه وسلم واحدة لنفسه وأعطى علي بن أبي طالب واحدة وأعطى عمر بن الخطاب واحدة، فكان بلال يمشي بتلك العنزة التي أمسكها رسول الله صلى الله عليه وسلم بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم في العيدين يوم الفطر ويوم الأضحى حتى يأتي المصلى فيركزها بين يديه فيصلي إليها، ثم كان يمشي بها بين يدي أبي بكر بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم كذلك، ثم كان سعد القرظ يمشي بها بين يدي عمر بن الخطاب وعثمان بن عفان في العيدين فيركزها بين أيديهما ويصليان إليها، ولما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء بلال إلى أبي بكر الصديق فقال له: يا خليفة رسول الله! إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يقول: أفضل عمل المؤمن الجهاد في سبيل الله، فقال أبو بكر: فما تشاء يا بلال؟ قال: أردت أن أرابط في سبيل الله حتى أموت، فقال أبو بكر: أنشدك الله يا بلال وحرمتي وحقي فقد كبرت وضعفت واقترب أجلي، فأقام بلال مع أبي بكر حتى توفي أبو بكر، فلما توفي أبو بكر جاء بلال إلى عمر بن الخطاب فقال له كما قال لأبي بكر، فرد عليه عمر كما رد عليه أبو بكر، فأبى بلال عليه، فقال عمر: فإلى من ترى أن أجعل النداء؟ فقال: إلى سعد فإنه قد أذن لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فدعا عمر سعدا فجعل الأذان إليه وإلي عقبه من بعده."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بلال موذن (رض)
٣٦٨٧٧۔۔۔ ” مسند بریدہ بن حصیب اسلمی (رض) “ بریدہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ایک مرتبہ میں نے اپنے آگے پاؤں کی چاب سنی میں نے کہا : یہ کون ہے فرشتوں نے جواب دیا : یہ بلال ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال (رض) سے پوچھا : تم کونسا عمل کرتے ہو جس کی وجہ سے تم جنت تک جا پہنچے ہو۔ عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے جب بھی حدث لاحق ہوا ہے میں نے وضو کیا ہے، اور میں جب بھی وضو کرتا ہوں سمجھتا ہوں کہ میرے ذمہ اللہ کے لیے دو رکعتیں واجب ہیں، چنانچہ میں اس وضو سے ضرور دو رکعتیں پڑھتا ہوں۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
36877- "مسند بريدة بن الحصيب الأسلمي رضي الله عنه" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: سمعت خشخشة أمامي فقلت: من هذا؟ قالوا: بلال، فأخبره قال: بما سبقتني إلى الجنة؟ قال: يا رسول الله! ما أحدثت إلا توضأت ولا توضأت إلا رأيت أن لله علي ركعتين

أصليهما، قال: بها. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت بلال موذن (رض)
٣٦٨٧٨۔۔۔ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ سب سے پہلے سات لوگوں نے اسلام کا اظہار کیا ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر، عمر عمار ، ان کی والدہ سمیہ بلال اور مقداد (رض) اجمعین اپنی بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سو اللہ تعالیٰ نے آپ کا دفاع آپ کے چچا طالب کے ذریعے کیا رہی بات ابوبکر (رض) کی اللہ تعالیٰ نے ان کا وفاع ان کی قوم کے ذریعے کیا، ان کے علاوہ بقیہ حضرات صحابہ (رض) کو مشرکین نے پکڑ کر لوہے زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑ دیا اور انھیں تپتی ہوئی دھوپ میں ڈال دیا ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں مگر انھوں نے مشرکین کے ارادے کو قبول کیا سوائے بلال (رض) کے چنانچہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے آپ کو ذلیل کیا اور مشرکین ان کے ساتھ ہر طرح کا حربہ استعمال کر گزرے بالآخر مشرکین نے بلال (رض) کو لڑکوں کے حوالے کیا لڑکے آپ (رض) کو گھسیٹتے ہوئے مکہ کی گلیوں میں چکر لگانے لگے جب کہ بلال (رض) کی زبان پر ایک ہی نام تھا احد، احد۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
36878- عن ابن مسعود قال: كان أول من ظهر إسلامه سبعة: رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر وعمار وأمه سمية وبلال والمقداد، فأما رسول الله صلى الله عليه وسلم فمنعه الله بعمه أبي طالب، وأما أبو بكر فمنعه الله بقومه، وأما سائرهم فأخذهم المشركون فألبسوهم أدراع الحديد وصهروهم في الشمس، فما منهم من أحد إلا وأتاهم على ما أرادوا إلا بلال فإنه هانت عليه نفسه في الله وهان على قومه فأخذوه فأعطوه الولدان فجعلوا يطوفون به في شعاب مكة وهو يقول: أحد أحد. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف تاء ۔۔۔ حضرت تلب بن ثعلبہ (رض)
٣٦٨٧٩۔۔۔ غالب بن حجیرہ کی روایت ہے کہ مجھے ھلقام بن تلب نے حدیث سنائی کہ تلب (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! جب آپ کو اجازت ملے میرے لیے اور استغفار کردیں چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھوڑی دیر ٹھہرے رہے اور پھر میرے لیے دعا کی اور دعا کے بعد اپنا ہاتھ چہرہ اقدس پر پھیر دیا اور فرمایا : یا اللہ ! تلب کی مغفرت کر اور اس پر رحم فرما۔ تین بار یہی دعا کی۔ (رواہ ابو نعیم)
36879- "مسنده" عن غالب بن حجيرة قال: حدثني هلقام بن التلب أن التلب حدثه أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! استغفر لي إذا أذن لك أو حين يؤذن لك، قال: فغبر1 ما شاء الله ثم دعاه فمسح يده على وجهه وقال: اللهم اغفر للتلب وارحمه - ثلاثا." أبو نعيم"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف جیم ۔۔۔ حضرت جابر بن سمرہ
٣٦٨٨٠۔۔۔ حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی روایت ہے کہ جب بچے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرتے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں سے بعض کے ایک رخسار پر دست شفقت پھیرتے ان میں سے بعض کے دونوں رخساروں پر پھیرتے میں آپ کے پاس سے گزرا آپ نے میرے ایک رخسار پر دست شفقت پھیرا چنانچہ جابر بن سمرہ (رض) کا وہ رخسار جس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دست شفقت پھیرا تھا وہ دوسرے کی نسبت زیادہ خوبصورت تھا۔ (رواہ الطبرانی)
.36880- عن جابر بن سمرة قال: كان الصبيان يمرون بالنبي صلى الله عليه وسلم فمنهم من يمسح خده ومنهم من يمسح خديه، فمررت به فمسح خدي فكان الخد الذي مسحه النبي صلى الله عليه وسلم أحسن من الخد الآخر. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جارود (رض)
٣٦٨٨١۔۔۔ ” مسند جابر بن سمرہ (رض) جابر بن سمرہ (رض) کی روایت ہے کہ جب اہل بحرین کا وفد آیا تو ان کے ساتھ جارود (رض) بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور انھیں اپنے قریب بٹھایا۔ (رواہ الطبرانی عن انس)
36881- "مسند جابر بن سمرة" لما قدم أهل البحرين وقدم الجارود وافدا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فرح به وقربه وأدناه. "طب" عن أنس1
tahqiq

তাহকীক: