কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬৮৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جثامہ بن مساحق (رض)
٣٦٨٨٢۔۔۔ یحییٰ بن ایوب کنانی جنہیں حضرت عمر (رض) نے ھرقل کے پاس بطور قاصد بھیجا تھا انھیں جثامہ بن مساحق بن ربیع بن ربیع بن قیس کنانی کہا جاتا تھا جثامہ (رض) کہتے ہیں میں ہرقل کے پاس بیٹھ گیا میں سمجھا تھا کہ میرے نیچے کوئی چیز۔ (کرسی یا گدی وغیرہ) نہیں لیکن کیا دیکھتا ہوں کہ میرے نیچے سونے کی کرسی ہے جب میں نے سونے کی کرسی دیکھی میں اس سے نیچے اتر گیا ہرقل ہنس پڑا اور کہا : تم اس کرسی سے کیوں اتر گئے ہو حالانکہ ہم نے یہ تمہارے اکرام کے لیے رکھی تھی۔ میں نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس جیسی اشیاء کے استعمال سے منع فرماتے سنا ہے۔ رواہ ابو نعیم
36882- عن يحيى بن أيوب عن الكناني رسول عمر إلى هرقل وكان يقال له جثامة بن مساحق بن الربيع بن قيس الكناني قال: جلست فلم أدر ما تحتي فإذا تحتي كرسي من ذهب، فلما رأيته نزلت عنه : فضحك فقال لي : لم نزلت عن هذا الذي أكرمناك به ؟ فقلت : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهي عن مثل هذا (أبو نعيم)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حجدم بن فضالہ (رض)
٣٦٨٨٣۔۔۔ محمد بن عمر وبن عبداللہ بن حجدم جہنی کی سند سے مروی ہے کہ ان کے پر دادا حجد (رض) کہتے ہیں : میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سر پر دست شفقت پھیرا اور فرمایا : اللہ تعالیٰ حجدم میں برکت عطا فرمائے۔ نیز آپ نے میرے لیے ایک نوشتہ بھی لکھا۔۔۔ پھر راوی نے طویل حدیث ذکر کی۔ (رواہ ابو نعیم)
36883- عن محمد بن عمرو بن عبد الله بن جحدم الجهني حدثني أبي عن أبيه عن جده جحدم أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم فمسح رأسه وقال: بارك الله في جحدم! وكتب له كتابا- فذكر الحديث بطوله."أبو نعيم
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جحش جہنی (رض)
٣٦٨٨٤۔۔۔ عبداللہ بن جحش جہنی اپنے والد جحش (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں دیہات میں رہتا ہوں اور وہی نماز پڑھتا ہوں مجھے آپ کسی رات کا حکم دیں تاکہ اس رات میں اس مسجد میں آکر نماز پڑھوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تیرھویں تاریک کی رات آجاؤ اگر چاہو تو اس کے بعد نماز پڑھو چاہو تو چھوڑ دو ۔ (رواہ الطبرانی وابو نعیم)
36884- عن عبد الله بن جحش الجهني عن أبيه قال قلت: يا رسول الله! إن لي بادية أنزلها أصلي فيها فمرني بليلة أنزلها في هذا المسجد فأصلي به، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: انزل ليلة ثلاث وعشرين وإن شئت فصل بعد وإن شئت فدع. "طب وأبو نعيم"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جراد بن عیسیٰ (رض)
٣٦٨٨٥۔۔۔ قرہ بنت مزاحم کہتی ہیں ام عیسیٰ اپنے والد جراد بن عیسیٰ (رض) سے روایت نقل کرتی ہیں وہ کہتے ہیں : ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہمارے بہت سارے کنویں ہیں جن سے پانی ابلتا ہے ہمارے کنوؤں کا شیریں پانی ہے ہمارے لیے کیا حکم ہے۔ الحدیث ۔ (رواہ ابو نعیم)
36885- عن قره بنت مزاحم قالت: سمعنا من أم عيسى عن أبيها الجراد بن عيسي أو عيسى قال قلنا، يا رسول الله! إن لنا ركايا تنبع فكيف لنا أن تعذب ركايانا - ثم ذكر الحديث."أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جندب بن جنادہ ابو ذر غفاری (رض)
٣٦٨٨٦۔۔۔ حضرت ابو درداء (رض) کی روایت ہے کہ انھوں نے ابو ذر غفاری (رض) کا تذکرہ کیا اور کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی کے پاس امانت نہ رکھتے تو اس وقت حضرت ابو ذر غفاری (رض) کے پاس امانت رکھتے تھے اور جب کسی کو راز نہ بتاتے اس وقت ابو ذر غفاری (رض) کو راز بتاتے تھے۔ (رواہ ابن جریر)
36886- عن أبي الدرداء أنه ذكر أبا ذر فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يأتمنه حين لا يأتمن أحدا ويسر إليه حين لا يسر إلى أحد."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جندب بن جنادہ ابو ذر غفاری (رض)
٣٦٨٨٧۔۔۔ ضعیف بن حارث کہتے ہیں میں نے ابو درداء (رض) سے ابو ذر (رض) کا ذکر کیا انھوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ابو ذر جب حاضر ہوئے انہی کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے قریب کرتے اور جب غائب ہوتے ان کا پوچھتے تھے مجھے معلوم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ زمین نے اپنے اوپر کسی بشر کو اٹھایا نہ ہی آسمان نے کسی پر سایہ کیا جو ابوذر سے بڑھ کر بات میں سچا ہو۔ (رواہ احمد بن حنبل کما ذکرہ ابن حجر فی الاصابۃ، ٦٤٤)
36887- عن غضيف بن الحارث قال: قال أبو الدرداء وذكرت له أبا ذر: والله! إن كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليدنيه دوننا إذا حضر ويتفقده إذا غاب، ولقد علمت أنه قال: ما تحمل الغبراء ولا تظل الخضراء للبشر بقول أصدق لهجة من أبي ذر
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جندب بن جنادہ ابو ذر غفاری (رض)
٣٦٨٨٨۔۔۔ حضرت ابو ذر غفاری (رض) کہتے ہیں میں چوتھے نمبر پر اسلام لایا مجھے سے قبل تین آدمی اسلام لائے تھے اور میں چوتھا تھا۔ (رواہ ابو نعیم)
36888- عن أبي ذر قال: كنت رابع الإسلام، أسلم قبلي ثلاثة وأنا الرابع."أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جندب بن جنادہ ابو ذر غفاری (رض)
٣٦٨٨٩۔۔۔ ابو ذر (رض) کی روایت ہے کہ گویا میں اپنے آپ کو اسلام کو چوتھا دیکھ رہا ہوں مجھ سے قبل صرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر اور بلال (رض) اسلام لائے تھے۔ (رواہ ابو نعیم)
36889- عن أبي ذر قال: لقد رأيتني رابع الإسلام، ولم يسلم قبلي إلا النبي صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وبلال."أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جندب بن جنادہ ابو ذر غفاری (رض)
٣٦٨٩٠۔۔۔ ابو ذرغفاری (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے فرمایا : نہ آسمان نے کسی انسان پر سایہ کیا نہ زمین نے اسے اٹھایا جو ابو ذر سے زیادہ سچا ہو ابو ذر ابن مریم کے مشابہ ہے۔ (رواہ ابو نعیم)
36890- عن أبي ذر قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما تظل الخضراء ولا تقل الغبراء على ذي لهجة أصدق من أبي ذر شبيه ابن مريم. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جندب بن جنادہ ابو ذر غفاری (رض)
٣٦٨٩١۔۔۔ حضرت ابو ذر (رض) کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے : قیامت کے دن تم میں سے زیادہ میرے قریب وہ شخص بیٹھا ہوگا جو دنیا سے اس حالت میں جائے جس حالت پر میں نے اسے چھوڑا ہے۔ ابو ذر (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم تم میں سے کوئی شخص نہیں سوائے میرے جو دنیا کے ساتھ کسی نہ کسی درجہ میں چمٹ نہ گیا ہو میں قیامت کے دن تمہاری نسبت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زیادہ قریب ہوں گا۔ (رواہ ابو نعیم)
36891- عن أبي ذر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن أقربكم مني مجلسا يوم القيامة من خرج من الدنيا كهيئته يوم تركته وإنه والله ما منكم من أحد إلا وقد تشبث بشيء منها غيري وإني لأقربكم مجلسا يوم القيامة من رسول الله صلى الله عليه وسلم. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جندب بن جنادہ ابو ذر غفاری (رض)
٣٦٨٩٢۔۔۔ ” مسند عمر “ مدائنی کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت ابو ذر غفاری (رض) سے پوچھا : لوگوں میں دل کے اعتبار سے کون زیادہ خوش قسمت ہے ؟ ابو ذر غفاری (رض) نے جواب دیا : وہ بدن جو مٹی میں آلودہ ہوں عذاب سے مامون ہو اور ثواب کا منتظر ہو عمر (رض) نے فرمایا : اے ابوذر تم نے سچ کہا۔ (رواہ الدینوری)
36892- "مسند عمر" عن المدائني قال قال عمر بن الخطاب لأبي ذر: من أنعم الناس بالا؟ قال: لدن في التراب، قد أمن من العقاب ينتظر الثواب؛ قال: صدقت يا أبا ذر."الدينوري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جندب بن جنادہ ابو ذر غفاری (رض)
٣٦٨٩٣۔۔۔ حضرت ابو ذر غفاری (رض) کی بیوی ام ذر (رض) کہتی ہیں : جب ابو ذر (رض) کی وفات کا وقت آیا میں رونے لگی : ابو ذر (رض) بولے : تم کیوں رو رہی ہو ؟ میں نے کہا : میں کیوں نہ روؤں حالانکہ آپ قریب الموت ہیں اور ہم ہیں بھی بیابان میں جہاں اور کوئی نہیں میرے پاس اتنا کپڑا بھی نہیں جو آپ کے کفن کی کفایت کرسکے ؟ ابو ذر (رض) بولے : رد نہیں چونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک جماعت سے فرماتے سنا ہے میں بھی ان میں تھا فرمایا : کہ ضرور تم میں سے ایک شخص بیاباں میں مرے گا اس کے پاس مسلمانوں کی ایک تگڑی جماعت حاضر ہوگی چنانچہ اس وقت آپ (رض) کے پاس حاضرین میں سے جتنے لوگ تھے ان میں سے کوئی بھی میرے علاوہ بیاباں میں نہیں مرا ہر ایک بستی میں یا جماعت میں مرا ہے سو میں ہی ہوں جو بیاباں میں مر رہا ہوں اللہ کی قسم میں جھوٹ نہیں بول رہا اور نہ ہی میں نے جھوٹ بولا ہے جاؤ راستہ دیکھو۔ ام ذر کہتی ہیں : میں نے کہا : یہ کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ لوگ حج کے لیے جا چکے ہیں اور راستے منقطع ہوچکے ہیں۔ ابو ذر (رض) نے کہا : تم جاؤ دیکھ تو لونا، ام ذر کہتی ہیں : میں ریت کے ایک ٹیلے پر آگئی اور ادھر ادھر دیکھنے لگی : پھر میں ابو ذر (رض) کے پاس لوٹ آتی اور ان کی تیمار داری کرتی اسی دوران میں چکر لگا رہی تھی کیا دیکھتی ہوں۔ کہ کچھ لوگ کجاو وں پر سوار پرندوں کے جھنڈ کی طرف سامنے سے آرہے ہیں۔ میں کپڑا لے کر انھیں اپنی طرف بلانے لگی وہ میری طرف آنے لگے اور میرے پاس آکر رک گئے اور پوچھا : اے اللہ کی بندی تمہیں کیا ہوا ؟ میں نے کہا : مسلمانوں میں سے ایک شخص مرا جا رہا ہے تم لوگ اس کی تجہیزو تکفین کا بند و بست کر دو ۔ راہ گیروں نے پوچھا : وہ کون شخص ہے ؟ میں نے کہا : وہ ابو زر غفاری ہیں۔ وہ بولے : ابو ذر جو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی ہیں ؟ میں نے کہا : جی ہاں ام ذر کہتی ہیں انھوں نے ابو ذر (رض) پر اپنے ماں باپ کو قربان کیا اور جلدی سے ابوذر کے پاس آئے ابو ذر (رض) نے انھیں مرحبا کہا اور بولے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک جماعت سے فرماتے سنا میں بھی اس جماعت میں تھا فرمایا کہ ایک شخص بیاباں میں ضرور مرے گا اور اس کے پاس مسلمانوں کی ایک تگڑی جماعت آئے گی چنانچہ اس وقت آپ کے پاس حاضرین میں سے ہر شخص بستی میں یا جماعت میں مرا ہے اور میں ہی وہ شخص ہوں جو بیاباں میں مر رہا ہوں تم لوگ میری بات سن رہے ہو اگر میرے پاس اتنا کپڑا ہوا جو میرے کفن کے لیے کافی ہو مجھے اسی میں کفن دو اور تم یہ بھی سن رہے ہو کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں مجھے وہ شخص کفن نہ دے جو امیر ہو یا سرکاری جاسوس ہو یا ایلچی ہو یا نقیب ہو، چنانچہ راہگیروں کی جماعت میں ہر شخص کسی نہ کسی عہدے پر فی الوقت فائز تھا یا قبل ازیں کسی عہدے پر رہ چکا تھا البتہ ایک انصاری نوجوان لڑکا تھا اس نے کسی قسم کا کوئی عہدہ نہیں قبول کیا تھا وہ لڑکا کہنے لگا : اے چچا جان، میں آپ کو کفن دوں گا میں آپ کے ذکر کردہ عہدوں میں سے کسی عہدے پر نہیں ہوں میں آپ کو اس چادر میں کفن دوں گا یا ان دو کپڑوں میں کفن دوں گا جو میرے تھیلے میں پڑے ہوئے ہیں جن کی سوت میری امی نے کاٹی ہے اور اسی نے وہ بنائے ہیں۔ چنانچہ اسی انصاری نوجوان نے ابو ذر غفاری (رض) کو کفن پہنایا۔ (رواہ ابو نعیم)
36893- عن أم ذر قالت: لما حضر أبا ذر الوفاة بكيت فقال: ما يبكيك؟ فقلت: مالي لا أبكى وأنت تموت بفلاة من الأرض وليس عندي ثوب يسعك كفنا؟ قال: فلا تبكي فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لنفر أنا فيهم: ليموتن رجل منكم بفلاة من الأرض يشهده عصابة من المسلمين، وليس من أولئك النفر أحد إلا وقد هلك في قرية وجماعة وأنا الذي أموت بفلاة، والله ما كذبت ولا كذبت فأبصري الطريق، قالت فقلت: وأنى وقد ذهب الحاج وانقطعت الطرق، قال: اذهبي فتبصري، قالت: فكنت أجيء إلى كثيب1 فأتبصر ثم أرجع إليه فأمرضه فبينا أنا كذلك إذا أنا برجال على رحالهم كأنهم الرخم2 فألحت لهم بثوبي، فأقبلوا حتى وقفوا علي وقالوا: مالك يا أمة الله؟ قلت: امرؤ من المسلمين يموت تكفنونه؟ قالوا: ومن هو؟ قلت: أبو ذر، قالوا: صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قلت: نعم، قالت: ففدوه بآبائهم وأمهاتهم وأسرعوا إليه فدخلوا عليه، فرحب بهم وقال: إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لنفر أنا فيهم: ليموتن رجل بفلاة من الأرض يشهده عصابة من المسلمين وليس من أولئك النفر أحد إلا وقد هلك في قرية وجماعة وأنا الذي أموت بالفلاة، أنتم تسمعون أنه لو كان عندي ثوب يسعني كفنا لم أكفن إلا فيه، أنتم تسمعون أني أشهدكم أن لا يكفنني رجل منكم كان أميرا أو عريفا أو بريدا أو نقيبا؛ فليس من القوم أحد إلا قارف بعض ما قال إلا فتى من الأنصار قال: يا عم! أنا أكفنك، لم أصب مما ذكرت شيئا، أكفنك في ردائي هذا أو ثوبين في عيبتي من غزل أمي حاكتهما لي. فكفنه الأنصاري في النفر الذين شهدوه."أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جندب بن جنادہ ابو ذر غفاری (رض)
٣٦٨٩٤۔۔۔ ابو یزید مدنی ابن عباس (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابو ذر غفاری (رض) نے فرمایا : میرا ایک بھائی تھا جس کا نام انیس تھا اور وہ پائے کا شاعر تھا حدیث میں اس کے اسلام لانے کا واقعہ ذکر کیا اور اس میں یہ بھی ہے۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سے گزرے اور ابوبکر آپ کے پیچھے پیچھے چلے آرہے تھے میں نے کہا : السلام علیک یا رسول اللہ ! فرمایا : وعلیک و رحمۃ اللہ (تین بار کہا) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا : تم کون ہو ؟ کہاں سے آئے ہو ؟ اور کیوں آئے ہو ؟ میں نے آپ کو سارا واقعہ سنانا شروع کردیا۔ اس کے بعد آپ نے پوچھا : تم کہاں سے کھاتے پیتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : آب زمزم پی لیتا ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاشبہ آب زم زم کھانے کی چیز بھی ہے اور پینے کی بھی اور یہ بابرکت پانی ہے۔ آپ نے تین بار یہ بات ارشاد فرمائی۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مقیم رہا میں نے اسلام کی تعلیم حاصل کیا ور کچھ قرآن بھی پڑھ لیا پھر میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ میں چاہتا ہوں میں اپنے دین اور اسلام کا برسر عام اعلان کروں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے خوف ہے تمہیں کہیں قتل نہ کردیا جائے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں گو مجھے قتل ہی کیوں نہ کردیا جائے، چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے۔ میں مسجد حرام میں آگیا جب کہ قریش مختلف حلقے بنائے ہوئے گفتگو میں مشغول تھے۔ میں نے کہا : اشھد ان لا الہ اللہ وان محمدا رسول اللہ قریش نے حلقے برخاست کر دئیے اور غصہ میں میری طرف کھڑے ہوگئے مجھے مارنے لگے حتیٰ کہ جب مجھے چھوڑا میں ایسا تھا جیسا کہ سرخ رنگ کا بت ہوتا ہے جس پر منت کے جانوروں کو ذبح کرکے خون کے ساتھ لتھیڑ دیا گیا ہو۔ وہ سمجھے انھوں نے مجھے قتل کردیا ہے تھوڑی دیر بعد مجھے افاقہ ہوا اور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے میری کیفیت دیکھ کر فرمایا : کیوں میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ میرے دل میں ایک حاجت تھی جس میں نے پورا کردیا کچھ عرصہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہی مقیم رہا پھر آپ نے فرمایا : اپنی قوم کے پاس واپس چلے جاؤ اور جب تمہیں میرے غلبہ کی خبر ہو میرے پاس آجانا۔ (رواہ ابو نعیم)
36894- عن أبي يزيد المدني عن ابن عباس عن أبي ذر قال: كان لي أخ يقال له أنيس وكان شاعرا فذكر إسلامه وقال فيه: إذ مر رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر يمشي وراءه فقلت: السلام عليك يا رسول الله! قال: وعليك ورحمة الله - قالها ثلاثا، فقال من أنت؟ ومن أين جئت "وما جاء بك؟ فأنشأت أعلمه الخبر، فقال: من أين كنت تأكل وتشرب؟ فقلت: من ماء زمزم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنها طعام وشراب وإنها مباركة - قالها ثلاثا، فأقمت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة فعلمني الإسلام وقرأت من القرآن شيئا فقلت: يا رسول الله! إني أريد أن أظهر ديني، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إني أخاف عليك أن تقتل، قال: لا بد منه يا رسول الله وإن قتلت فسكت عني، فجئت وقريش حلقا يتحدثون في المسجد فقلت: أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، فانتفضت الحلق فقاموا فضربوني حتى تركوني كأني نصب1 أحمر وكانوا يرون أنهم قد قتلوني، فأفقت فجئت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فرأى ما بي من الحال فقال لي: ألم أنهك؟ فقلت: يا رسول الله! كانت حاجة في نفسي فقضيتها؛ فأقمت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال الحق بقومك فإذا بلغك ظهوري فأتني. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جندب بن جنادہ ابو ذر غفاری (رض)
٣٦٨٩٥۔۔۔ حضرت ابو ذر غفاری (رض) فرماتے ہیں : جس چیز نے سب سے پہلے مجھے اسلام کی طرف بلایا وہ یہ ہے کہ ہم تنگدست لوگ تھے ہمیں قحط سالی نے دبوچ لیا میں نے اپنے ساتھ اپنی والدہ اور بھائی انیس کو سوار کیا اور اپنے سسرال کے ہاں سر زمین نجد میں چلا گیا۔ ابو ذر (رض) نے اپنے بھائی اور شاعر درید بن صمہ کی باہمی منافرتی رسہ کشی اور خساء کے متعلق ان دونوں کی رقابت کا ذکر کیا : اور کہا : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا : آپ نے یکلخت مجھ سے یہ سوالات کر ڈالے : تو کون ہے کس قبیلہ سے تعلق ہے کہاں سے آئے ہو اور کیوں آئے ہو ؟ میں نے آپ کو سارا واقعہ سنانا شروع کردیا آپ نے فرمایا : ابھی تک کہاں سے کھاتے پیتے رہے ہو میں نے عرض کیا : آب زم زم پیتا رہا ہوں فرمایا : بلاشبہ آب زم زم کھانا بھی ہے جو انسان کی پیٹ کو بھر دیتا ہے میں نے عرض کیا : مجھے اجازت دیں تاکہ کچھ کھالوں فرمایا جی ہاں اتنے میں ابوبکر (رض) اپنے گھر میں داخل ہوئے اور طائف کی کشمش لائے آپ ہمارے لیے تھوڑی تھوڑی بھر کشمش ڈالتے رہے اور ہم کھاتے رہے حتیٰ کہ ہم شکم سیر ہوگئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اے ابو ذر ! میں نے عرض کیا : جی ہاں فرمایا : میرے لیے میری سر زمین اٹھالی گئی ہے اور وہ کوئی پانی والی زمین ہے میں سمجھتا ہوں کہ وہ سرزمین تہامہ ہی ہوسکتی ہے لہٰذا تم اپنی قوم کے پاس واپس چلے جاؤ اور انھیں بھی اسلام کی دعوت دو ۔ (رواہ ابو نعیم)
36895- عن أبي ذر قال: إن أول ما دعاني إلى الإسلام أنا كنا قوما غربا فأصابتنا السنة فحملت أمي وأخي أنيسا إلى أصهار لنا بأعلى نجد - وذكر قصة منافرة أخيه والشاعر دريد بن الصمة ومقاضاة أنيس ودريد إلى خنساء وقال: وأقبلت وجئت رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلمت عليه، فقال: من أنت وممن أنت ومن أين جئت وما جاء بك؟ فأنشأت أعلمه الخبر، فقال: من أين كنت تأكل وتشرب؟ فقلت: من ماء زمزم، فقال: أما إنه طعام طعم1: ومعه أبو بكر فقال: ائذن لي أعيشه، قال: نعم، فدخل أبو بكر ثم أتى بزبيب من زبيب الطائف فجعل يلقيه لنا قبصا قبصا ونحن نأكل منه حتى تملأنا منه؛ فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم يا أبا ذر! قلت: لبيك: فقال: أما إنه قد رفعت لي أرضي وهي ذات ماء لا أحسبها إلا تهامة فاخرج إلى قومك فادعهم إلى ما دخلت فيه. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جندب بن جنادہ ابو ذر غفاری (رض)
٣٦٨٩٦۔۔۔ حسن فردوسی کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) ابو زر غفاری (رض) سے ملے عمر (رض) نے ان کا ہاتھ پکڑ کر دبا لیا۔ ابو ذر (رض) بولے : اے فتنے کے تالے میرا ہاتھ چھوڑ دو حضرت عمر (رض) پہچان گئے کہ ابو ذر کی اس بات کی ضرور کوئی حقیقت ہے لہٰذا پوچھا اے ابو ذر فتنے کے تالے سے کیا مراد ہے ابو ذر (رض) نے کہا : ایک دن ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں آپ بھی ادھر آنکلے اور آپ نے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانا ناپسند سمجھا لہٰذا آپ وہیں لوگوں کے پیچھے پڑگئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے فرمایا جب تک یہ شخص تمہارے درمیان موجود ہے اس وقت تک تم کسی فتنہ کا شکار نہیں بنو گے۔ (رواہ ابن عساکر)
36896- عن الحسن الفردوسي قال: لقي عمر أبا ذر فأخذ بيده فعصرها، فقال أبو ذر: دع يدي يا قفل الفتنة! فعرف عمر أن لكلمته أصلا فقال: يا أبا ذر! ما قفل الفتنة؟ قال: جئت يوما ونحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فكرهت أن تتخطى رقاب الناس فجلست في أدبارهم فقال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تصيبكم فتنة ما دام هذا فيكم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جندب بن جنادہ ابو ذر غفاری (رض)
٣٦٨٩٧۔۔۔ حضرت معاویہ (رض) کی دربان قنبر کی روایت ہے کہ حضرت ابو ذر غفاری (رض) حضرت معاویہ (رض) کیلئے سخت رویہ رکھتے تھے حضرت معاویہ (رض) نے عبادہ بن صامت ابو درداء اور عمرو بن العاص (رض) کو حضرت ابو ذر (رض) کے پاس بھیجا تاکہ یہ حضرات انسے بات کریں چنانچہ ان حضرات صحابہ کرام نے ابو ذر (رض) سے بات کی ابو ذر (رض) نے عبادہ (رض) سے کہا : اے ابو ولید ! رہی تمہاری بات سو تمہیں مجھ پر فضیلت حاصل ہے اور مجھ پر سبقت بھی حاصل ہے اور میں تمہاری وجہ سے اس سرزمین سے اعراض بھی کرچکا تھا رہی تمہاری بات اے ابو درداء سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کا وقت قریب ہوا تم نے اسلام کی طرف سبقت کی پھر تم اسلام لے آئے اور تم نیکو کار مومنین میں سے ہو۔ اے عمرو بن العاص رہی تمہاری بات سو تم نے اسلام قبول کیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد میں شریک رہے حالانکہ اس وقت تو اپنے گھر کے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ تھا۔ (رواہ یعقوب بن سفیان وابن عساکر
36897- عن قنبر حاجب معاوية قال: كان أبو ذر يغلظ لمعاوية فأرسل إلى عبادة بن الصامت وأبي الدرداء وعمرو بن العاص وقال كلموه، فكلموه، فقال لعبادة: أما أنت يا أبا الوليد فلك علي الفضل والسابقة وقد كنت أرغب بك عن هذا الموطن، وأما أنت يا أبا الدرداء فلقد كادت وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تسبق إسلامك ثم أسلمت فكنت من صالحي المؤمنين، وأما أنت يا عمرو بن العاص فلقد أسلمنا وجاهدنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنت أضل من جمل أهلك."يعقوب بن سفيان، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جندب بن جنادہ ابو ذر غفاری (رض)
٣٦٨٩٨۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : آسمان نے کسی ایسے شخص پر سایہ کیا اور نہ ہی زمین نے کسی کو اپنے اوپر اٹھایا ابو ذر سے زیادہ قول کا سچا ہو جس شخص کو یہ بات خوش کرتی ہو کہ وہ عیسیٰ بن مریم کی تواضع کی طرف دیکھے اسے چاہیے کہ وہ ابو ذر (رض) کو دیکھ لے۔ ایک روایت ہے کہ ابو ذر زہد وتقوی نیکوکاری اور دنیا سے بےرغبتی میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔ (رواہ ابو نعیم)
36898- عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما أظلت الخضراء ولا أقلت الغبراء على ذي لهجة أصدق من أبي ذر! من سره أن ينظر إلى تواضع عيسى ابن مريم فلينظر إلى أبي ذر - وفي لفظ: أشبه الناس بعيسى نسكا وزهدا وبرا. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جندب بن جنادہ ابو ذر غفاری (رض)
٣٦٨٩٩۔۔۔ ابو جمرہ کی روایت ہے کہ ابن عباس (رض) نے انھیں ابو ذر غفاری (رض) کے اسلام لانے کا واقعہ بیان کیا ہے ابو ذر (رض) کو خبر پہنچی کہ مکہ میں ایک شخص کا ظہور ہوا ہے اس کا دعویٰ ہے کہ وہ نبی ہے ابو ذر (رض) نے اپنا بھائی بھیجا کہ میرے پاس اس شخص کی خبر لاؤ۔ پھر ان کے اسلام لانے کا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ ابو ذر (رض) مکہ پہنچے ان کے پاس ایک مشکیز ہ تھا جس میں زاردارہ اور پانی تھا مسجد میں داخل ہوئے اور کسی سے کچھ نہ پوچھا اور نہ ہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملے مسجد کے ایک کونہ میں جا بیٹھے اور شام تک بیٹھے رہے۔ کچھ دیر بعد حضرت علی بن ابی طالب (رض) ابو ذر (رض) کے پاس سے گزرے اور کہا : کیا ابھی تک وقت نہیں آیا کہ یہ شخص اپنی منزل کی پہچان کرسکے ابو ذر (رض) اٹھ کر علی (رض) کے پیچھے ہو لیے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آن پہنچے ابو ذر (رض) نے اپان واقعہ سنایا اور اسلام لے آئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے آپ جو چاہیں حکم دیں حکم ہوا : اپنے اہل خانہ کے پاس واپس لوٹ جاؤ حتیٰ کہ تمہارے پاس میری کوئی خبر پہنچے ابو ذر (رض) نے کہا : اللہ کی قسم میں اس وقت تک واپس نہیں جاؤں گا جب تک کہ سرعام اسلام کا اعلان نہ کردوں۔ چنانچہ ابو ذر (رض) مسجد میں چلے گئے اور بآواز بلند کہا : اشھد ان لا الہ الا اللہ وان محمدا عبدہ ورسولہ مشرکین کہنے لگے : اس شخص نے اپنا آبائی دین ترک کردیا پھر اٹھ کھڑے ہوئے اور ابو ذر کو مارنے لگے، حتیٰ کہ ابو ذر ادھ موئے ہو کر گرپڑے۔ (رواہ ابو نعیم)
36899- عن أبي جمرة أن ابن عباس أخبرهم عن بدء إسلام أبي ذر قال: بلغه أن رجلا خرج بمكة يزعم أنه نبي فبعث أخاه فقال: انطلق إلى مكة حتى تأتيني بخبره - وذكر قصة إسلامه أنه انطلق حتى أتى مكة معه شنة1 فيها ماؤه وزاده فدخل المسجد ولم يسأل أحدا عن شيء ولم يلق رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان في ناحية المسجد حتى أمسى فمر به علي بن أبي طالب فقال: أما آن للرجل أن يعرف منزله، فمضى معه على أثره حتى دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وأخبر خبره ثم أسلم فقال: يا رسول الله! مرني بما شئت، قال: ارجع إلى أهلك حتى يأتينك خبري، فقال: والله ما كنت لأرجع حتى أصرخ بالإسلام! فخرج إلى المسجد فصاح بأعلى صوته: أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله، فقال المشركونصبأ الرجل صبأ الرجل! ثم قاموا إليه فضربوه حتى سقط."أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جندب بن جنادہ ابو ذر غفاری (رض)
٣٦٩٠٠۔۔۔ زید بن اسلم کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو ذر (رض) سے فرمایا : اے بریر تمہارا کیا حال ہے۔ (رواہ ابو نعیم)
36900- عن زيد بن أسلم أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لأبي ذر: كيف أنت يا برير. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جندب بن جنادہ ابو ذر غفاری (رض)
٣٦٩٠١۔۔۔ ابو ذر غفاری کہتے ہیں میں چوتھے نمبر پر اسلام لایا مجھ سے قبل تین اشخاص نے اسلام قبول کیا تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر اور بلال (رض) ے اور میں چوتھا شخص تھا میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : السلام علیک یا رسول اللہ ! اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ اقدس میں خوشی کے اثرات نمایاں دیکھ لیے ارشاد فرمایا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا : میں جندب بنی غفار کا ایک شخص ہوں گویا آپ کو میرا انتساب ناپسند آیا اور آپ چاہتے تھے کہ میں کسی قبیلہ سے ہوتا۔ چونکہ میرا قبیلہ حاجیوں کو لوٹ لیتا تھا اور قبیلہ کے لوگ ڈنڈے لے کر حاجیوں کے راستے میں کھڑے ہوجاتے۔ (رواہ الطبرانی وابو نعیم عن ابی ذر)
36901- كنت ربع الإسلام، أسلم قبلي ثلاثة نفر: النبي صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وبلال، وأنا الرابع؛ أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: السلام عليك يا رسول الله! أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، فرأيت الاستبشار في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: من أنت؟ قال: أنا جندب رجل من بني غفار، فكأنه صلى الله عليه وسلم ارتدع وود أني كنت من قبيلة غير التي أنا منهم، وذاك أني كنت من قبيلة يسرقون الحاج بمحاجن لهم. "طب" وأبو نعيم عن أبي ذر".
tahqiq

তাহকীক: