কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬৯১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو راشد عبد الرحمن بن عبید ا زدی (رض)
٣٦٩٠٢۔۔۔ ” مسند احمد مندہ “ محمد بن رافع خزاعی ، محمد بن احمد بن حماد ویعہ بن حماد رملی، ابو عثمان عبد الرحمن بن خالد بن عثمان، ابو خالد ، عثمان بن محمد ، محمد بن عثمان بن عبد الرحمن عثمان بن عبد الرحمن ابو راشد عبد الرحمن بن عبیدہ (رض) کہتے ہیں میں سو آدمیوں کے قافلہ کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا جب ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہوئے ہم کھڑے ہوگئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اے ابو معاویہ آگے بڑھو۔ (رواہ ابن عساکر والعقیلی)
36902- "مسند ابن منده" ثنا محمد بن رافع الخزاعي ثنا محمد بن أحمد بن حماد ثنا الوليد بن حماد الرملي ثنا أبو عثمان عبد الرحمن بن خالد بن عثمان من كورة حد ثنا أبي خالد عن أبيه عثمان بن محمد عن جده محمد بن عثمان بن عبد الرحمن عن أبيه عثمان بن عبد الرحمن

عن أبيه أبي راشد عبد الرحمن بن عبيد قال: قدمت على النبي صلى الله عليه وسلم في مائة راكب من قومي فلما قربنا من النبي صلى الله عليه وسلم وقفنا فقال لي: تقدم أنت يا أبا معاوية. "كر، عق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو راشد عبد الرحمن بن عبید ا زدی (رض)
٣٦٩٠٣۔۔۔ محمد بن احمد، نضر بن سلمہ مروزی شاذان ، عبد الرحمن بن خالد بن عثمان بن محمد بن عثمان بن ابی راشد ، اپنے آباؤ اجداد کی سند سے ابو راشد ازدی (رض) کہتے ہیں : میں اور میرا بھائی ابو عاصیہ ازر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم سب نے اسلام قبول کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمیع ازدیوں کے لیے ایک نوشتہ لکھ کر میرے سپرد کیا جس کا مضمون یہ ہے کہ : محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اس شخص کی طرف جس پر خط پڑھا جائے جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں نماز قائم کرے اس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کا امان ہے یہ خط عباس بن عبد المطلب نے لکھا تھا۔ (رواہ ابن عساکر عقیلی کہتے ہیں نصر بن سلمہ جھوٹا کذاب سے اپنی طرف سے حدیثیں گھڑ لیتا تھا۔ (رواہ الدولابی فی النی)
36903- ثنا محمد بن أحمد ثنا النضر بن سلمة المرزي شاذان ثنا عبد الرحمن بن خالد بن عثمان بن محمد بن عثمان بن أبي راشد ثني أبي عن أبيه عثمان بن محمد عن جده عثمان بن أبي راشد عن أبي راشد الأزدي قال: قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم أنا وأخي أبو عاصية من سروات الأزد فأسلمنا جميعا فكتب لي رسول الله صلى الله عليه وسلم كتابا إلى جميع الأزد: من محمد رسول الله إلى من يقرأ عليه كتابي هذا من شهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وأقام الصلاة فله أمان الله وأمان رسوله. وكتب هذا الكتاب العباس بن عبد المطلب. "كر"، قال "عق": النضر بن سلمة كذاب يضع الحديث، الدولابي في الكنى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو راشد عبد الرحمن بن عبید ا زدی (رض)
٣٦٩٠٤۔۔۔ ابو العباس ویعد بن حماد بن جابر ابو عثمان عبد الرحمن بن خالف بن عثمان ، ابو خالد بن عثمان، عثمان بن محمد، محمد بن عثمان بن عبد الرحمن عثمان بن عبد الرحمن کی سند سے ابو راشد عبد الرحمن بن عبید (رض) کی روایت ہے وہ کہتے ہیں : میں اپنی قوم کے سو (١٠٠) آدمیوں کے ساتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا جب ہم آپ کے قریب پہنچے تو آپ نے مجھے فرمایا : اے ابو مغویہ، آگے بڑھو۔ چونکہ آگر تم اپنی محبوب چیز دیکھو گے ہمارے پاس واپس لوٹ گئے اور اگر اپنی محبوب چیز نہیں دیکھو گے واپس نہیں لوٹو گے۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب تر ہوگیا جب کہ میں اپنی قوم کے افراد میں سے سب سے چھوٹا تھا۔ میں نے کہا : یا محمد ! آنعم صیاحا (یہ لفظ جاہلیت کا سلام سمجھا جاتا تھا) یعنی صبح بخیر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ مسلمانوں کا سلام نہیں ہے، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! پھر مسلمانوں کا سلام کیا ہےَ فرمایا : جب مسلمانوں کے پاس جاؤ تو کہو : السلام علیکم و رحمۃ اللہ میں نے کہا : السلام علیکم یا رسول اللہ و رحمۃ اللہ جواب میں فرمایا ” وعلیک السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : تمہارا کیا نام ہے ؟ میں نے عرض کیا : میدا نام ابو مغویہ عبد الات والعزی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلکہ تمہارا نام ابو راشد عبد الرحمن ہے۔ آپ نے میرا اکرام کیا اور مجھے اپنے پاس بٹھایا اپنی چادر مجھے پہنائی اپنے جوتے مجھے عطا کیے اور اپنا عصا بھی مجھے دیا میں نے اسلام قبول کرلیا، حاضرین میں سے بعض لوگوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے اس شخص کا اکرام کیا ہے ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چونکہ یہ قوم کا شریف آدمی ہے جب تمہارے پاس کسی قوم کا شریف آدمی آئے اس کا اکرام کرو۔ ابو راشد (رض) کہتے ہیں : میرے ساتھ میرا غلام ” سرخان “ بھی تھا وہ بھی میرے ساتھ اسلام لے آیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے ساتھ یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا : یہ میرا غلام سرخان ہے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو راشد کیا تم اسے آزاد کرسکتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں تمہارے ہر عضو کو دوزخ کی آگ سے آزاد فرمائے گا ابو راشد (رض) کہتے ہیں : میں نے غلام آزاد کردیا : اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آزاد ہے پھر میں اپنے ساتھیوں کی طرف واپس لوٹ آیا اور انھوں نے بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں

حاضر ہو کر اسلام قبول کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
36904- ثنا أبو العباس الوليد بن حماد بن جابر ثني أبو عثمان عبد الرحمن بن خالد بن عثمان ثني أبي خالد بن عثمان عن أبيه عثمان بن محمد عن جده محمد بن عثمان بن عبد الرحمن عن أبيه عثمان بن عبد الرحمن عن أبي راشد عبد الرحمن بن عبيد قال: قدمت على النبي صلى الله عليه وسلم في مائة رجل من قومي فلما دنونا من النبي صلى الله عليه وسلم وقالوا لي: تقدم أنت يا أبا مغوية! فإن رأيت ما تحب رجعت إلينا حتى نتقدم إليه، وإن لم تر مما تحب شيئا انصرفت إلينا حتى ننصرف، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وكنت أصغر القوم فقلت: أنعم صباحا يا محمد! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ليس هذا سلام المسلمين بعضهم على بعض، فقلت له: فكيف يا رسول الله؟ فقال: إذا أتيت قوما من المسلمين قلت: السلام عليكم ورحمة الله، فقلت: السلام عليكم يا رسول الله ورحمة الله، قال: وعليك السلام ورحمة الله وبركاته، فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم: ما أسمك ومن أنت؟ فقلت: أنا أبو مغوية عبد اللات والعزى، فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم: بل أنت أبو راشد عبد الرحمن، فأكرمني وأجلسني إلى جانبه وكساني رداءه وأعطاني حذاءه ودفع إلي عصاه وأسلمت، فقال للنبي صلى الله عليه وسلم قوم من جلسائه: يا رسول الله! إنا نراك قد أكرمت هذا الرجل، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: هذا شريف قوم، فإذا أتاكم شريف قوم فأكرموه؛ قال أبو راشد: وكان معي عبد لي يقال له "سرحان" فأسلم معي، فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم: من هذا معك يا أبا راشد؟ فقلت: هذا عبد لي يقال له: سرحان، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: هل لك يا أبا راشد أن تعتقه فيعتق الله منك بكل عضو منه عضوا منك من النار، قال أبو راشد: فأعتقته وقلت: اشهد يا رسول الله أنه حر لوجه الله! وانصرفت إلى أصحابي فأدركت منهم قوما وفاتني منهم قوم فأتوا النبي صلى الله عليه وسلم فأسلموا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جعفر (رض)
٣٦٩٠٥۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جعفر (رض) سے فرمایا : تم خلقت صورت اور اخلاق میں میرے مشابہ ہو۔ (رواہ ابن ابی شیبہ والحاکم)
36905- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لجعفر: أشبهت خلقي وخلقي. "ش، ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جعفر (رض)
٣٦٩٠٦۔۔۔ ” مسند براء بن عازب “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جعفر (رض) سے فرمایا : تم میری خلق اور اخلاق میں مشابہ ہو۔ (رواہ ابن ابی شیبہ واحمد بن حنبل والبخاری ومسلم والترمذی)
36906- "مسند البراء بن عازب" أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لجعفر: أشبهت خلقي وخلقي. "ش، حم خ، م، ت".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جعفر (رض)
٣٦٩٠٧۔۔۔ ” مسند بلال “ حضرت جعفر (رض) مسکینوں کے ساتھ مل بیٹھے ان کے ساتھ گفتگو کرتے اسی وجہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جعفر (رض) کا نام ابو مساکین رکھا تھا۔ (رواہ الطبرانی عن ابوہریرہ )

حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف ابن ماجہ ٩٠١۔
36907- "مسند بلال" كان جعفر يحب المساكين ويجلس إليهم يحدثهم ويحدثونه وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسميه أبا المساكين. "طب" عن أبي هريرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جعفر (رض)
٣٦٩٠٨۔۔۔ ” مسند جابر بن عبداللہ “ مکی بن عبداللہ رعینی، سفیان بن عینیہ ، ابن زبیر کی سند سے مروی ہے کہ حضرت جابر (رض) کہتے ہیں : جب حضرت جعفر رضیا للہ عنہ سر زمین حبشہ سے واپس لوٹے تو ان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ملے جب جعفر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو آپ کی تعظیم کی خاطر شرمندہ سے ہوگئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جعفر (رض) کی آنکھوں کے درمیان بوسہ لیا اور فرمایا : اے میرے حبیب ! تم میری خلق صورت اور اخلاق میں سب سے زیادہ مشابہ ہو اے میرے حبیب ! تم بھی اسی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس مٹی سے میں پیدا کیا گیا ہوں (رواہ العقیلی وابو نعیم قال العقیلی : غیر محفوظ وقال فی المیزان : مکی لہ منا کرے وقال فی المغنی : تفرح عن ابن عیینۃ عدیث عبد الرزاق)

کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الممتاھیۃ ٩٦٢۔
36908- "مسند جابر بن عبد الله" عن مكي بن عبد الله الرعيني ثنا سفيان بن عيينة عن ابن الزبير عن جابر قال: لما قدم جعفر من أرض الحبشة تلقاه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما نظر جعفر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم حجل إعظاما منه لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم بين عينيه وقال: يا حبيبي! أنت أشبه الناس بخلقي وخلقي وخلقت من الطينة التي خلقت منها يا حبيبي. "عق" وأبو نعيم قال عق: غير محفوظ، وقال في الميزان: مكي له مناكير، وقال في المغنى: تفرد عن ابن عيينة بحديث "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جعفر (رض)
٣٦٩٠٩۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ حضرت جعفر (رض) مسکینوں سے محبت کرتے تھے ان کے ساتھ مل بیٹھے ان سے گفتگو کرتے مساکین بھی ان سے گفتگو کرتے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابو المساکین کہتے تھے۔ (رواہ ابو نعیم)

کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف ابن ماجہ ٩٠١۔
36909- عن أبي هريرة؛ كان جعفر يحب المساكين، يجلس إليهم يحدثهم ويحدثونه، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسميه أبا المساكين."أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جعفر (رض)
٣٦٩١٠۔۔۔ ” مسند عبداللہ بن عباس “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جعفر (رض) سے فرمایا : تم میری خلق اور اخلاق میں مشابہ ہو۔ (رواہ ابن ابی شیبہ واحمد بن حنبل)
36910- "مسند عبد الله بن عباس" أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لجعفر اشبهت خلقي وخلقي. "ش، حم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جعفر (رض)
٣٦٩١١۔۔۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : جب جعفر بن ابی طالب (رض) کی وفات کی خبر پہنچی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت اسماء بنت عمیس (رض) کے پاس تشریف لائے اور جعفر (رض) کے دو بیٹوں عبداللہ اور محمد کو اپنی رانوں پر بٹھایا اور پھر فرمایا : جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جعفر (رض) کو شہادت عطا کی ہے اب جعفر کے دوپر ہیں جن کے ذریعے وہ فرشتوں کے ساتھ جنت میں اڑ رہے ہیں پھر فرمایا : یا اللہ ! جعفر کی اولاد میں اچھے لوگوں کو پیدا فرما۔ (رواہ الطبرانی وابو نعیم وابن عساکر وفیہ عمر بن ہارون متروک)
36911- عن ابن عباس قال: لما جاء نعي جعفر بن أبي طالب دخل النبي صلى الله عليه وسلم على أسماء بنت عميس فوضع عبد الله ومحمدا ابني جعفر على فخذيه ثم قال: إن جبريل أخبرني أن الله تعالى استشهد جعفرا وأن له جناحين يطير بهما مع الملائكة في الجنة ثم قال: اللهم اخلف جعفرا في ولده. "طب" وأبو نعيم، "كر" وفيه: عمر بن هارون متروك.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جعفر (رض)
٣٦٩١٢۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ جب جعفر کی شہادت کی خبر آئی ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ اقدس پر غم و حزن کے اثرات نمایاں دیکھ رہے تھے۔ (رواہ الطبرانی)
36912- عن عائشة قالت: لما أتت وفاة جعفر عرفنا في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم الحزن. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جعفر (رض)
٣٦٩١٣۔۔۔ اسماعیل بن ابی خالد شعبی کی روایت ہے کہ جب جعفر (رض) سر زمین حبشہ سے واپس لوٹے تو حضرت عمر (رض) کی ملاقات اسماء بنت عمیس (رض) سے ہوئی عمر (رض) نے اسماء (رض) سے کہا : ہم ہجرت میں تمہارے اوپر سبقت لے گئے ہیں لہٰذا ہم تم سے افضل ہیں اسماء (رض) بولیں میں واپس (گھر) نہیں جاؤں گی حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھ نہ لوں۔ چنانچہ اسماء (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں عمر (رض) سے ملی وہ کہتے ہیں ہم تم سے افضل ہیں چونکہ ہم نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلکہ تم نے دو مرتبہ ہجرت کی ہے اسماعیل کہتے ہیں : سعد بن ابی بردہ نے مجھے حدیث سنائی کہ اسماء (رض) نے اسی دن عمر (رض) سے کہا : یہ بات اس طرح نہیں ہیں ہم تو دور اور اجنبی سرزمین میں پھینکے گئے تھے جب کہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس موجود تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے جاہل کو نصیحت کرتے اور تمہارے بھوکے کو کھانا کھلاتے تھے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
36913- عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي قال: لما قدم جعفر من أرض الحبشة لقي عمر بن الخطاب أسماء بنت عميس فقال لها: سبقناكم بالهجرة ونحن أفضل منكم، قالت: لا أرجع حتى آتي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فدخلت عليه فقالت: يا رسول الله! لقيت عمر فزعم أنه أفضل منا وأنهم سبقونا بالهجرة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: بل أنتم هاجرتم مرتين. قال إسماعيل: فحدثني سعيد بن أبي بردة قال قالت يومئذ لعمر: ما هو كذلك، كنا مطرودين بأرض البعداء والبغضاء وأنتم عند رسول الله صلى الله عليه وسلم يعظ جاهلكم ويطعم جائعكم. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جعفر (رض)
٣٦٩١٥۔۔۔ شعبی کی روایت ہے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر فتح کیا تو آپ کو خبر دی گئی کہ جعفر (رض) نجاشی کے پاس سے واپس لوٹ آئے ہیں۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نہیں جانتا کہ کس چیز پر خوشی کروں جعفر کی آمد پر فتح خیبر پر پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جعفر سے ملے اور ان کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔ (رواہ ابن ابی شیبہ والطبرانی)
36914- عن الشعبي قال: أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم حين افتتح خيبر فقيل له: قد قدم جعفر من عند النجاشي، قال: ما أدري بأيهما أنا أفرح: بقدوم جعفر أم بفتح خيبر! ثم تلقاه والتزمه وقبل ما بين عينيه. "ش، طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جعفر (رض)
٣٦٩١٥۔۔۔ شعبی کی روایت ہے کہ غزوہ موتہ کے موقع پر مقام بلقاء میں حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) شہید کر دئیے گئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یا اللہ ! جعفر کے خاندان میں نیکوکار بندوں کو پیدا فرما۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
36915- عن الشعبي أن جعفر بن أبي طالب قتل يوم مؤتة بالبلقاء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم اخلف جعفرا في أهله بأفضل ما خلفت عبادك الصالحين. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جعفر (رض)
٣٦٩١٦۔۔۔ شعبی کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جعفر (رض) کے قتل ہوجانے کی خبر پہنچی تو آپ نے جعفر (رض) کی بیوی اسماء بنت عمیس (رض) کو اپنے حال پر چھوڑ دیا حتیٰ کہ جب اسماء (رض) آنسو بہا چکیں اور حزن و ملال میں قدرے کمی واقع ہوئی تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس تشریف لائے اور تعزیت کی جعفر (رض) کے بیٹوں کو اپنے پاس بلایا اور عبداللہ بن جعفر (رض) کے لیے دعا فرمائی کہ یا اللہ اس کے ہاتھ کی خرید فروخت میں برکت عطا فرما۔ چنانچہ جعفر (رض) جو چیز بھی خریدتے تھے اس میں انھیں کثیر نفع ملتا حضرت اسماء (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا رسول اللہ : یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم مہاجرین نہیں ہیں : ارشاد فرمایا : جھوٹ بولتے ہیں : بلکہ تم نے دو ہجرتیں کی ہیں ایک نجاشی کی طرف اور دوسری میری طرف۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
36916- عن الشعبي قال: لما آتى رسول الله صلى الله عليه وسلم قتل جعفر بن أبي طالب ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم امرأته أسماء بنت عميس حتى أفاضت عبرتها فذهب بعض حزنها، ثم أتاها فعزاها ودعا بني جعفر فدعا لهم ودعا لعبد الله بن جعفر أن يبارك في صفقة يده؛ فكان لا يشتري شيئا إلا ربح فيه، فقالت له أسماء: يا رسول الله! إن هؤلاء يزعمون أنا لسنا من المهاجرين، فقال: كذبوا، لكم الهجرة مرتين: هاجرتم إلى النجاشي وهاجرتم إلي. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جعفر (رض)
٣٦٩١٧۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ابو طالب کے خیمہ میں تھا اچانک ابو طالب آدھمکے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اپنے قریب بٹھایا اور کہا : اے چچا ! کیا آپ ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھتے ؟ ابو طالب نے کہا : سے بھتیجے ! مجھے معلوم ہے کہ تم حق پر ہو لیکن میں سجدہ کرنا اچھا نہیں سمجھتا کہ میری سرین مجھ سے اونچی ہوجائے لیکن اے جعفر ! تم جاؤ اور اپنے چچا زاد کے بازوؤں کے س اتھ کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔ چنانچہ جعفر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بائیں جانب کھڑے ہو کر نماز پڑھی جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو جعفر (رض) کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : خبردار ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں دو بازو عطا فرمائے ہیں جن کے ذریعے تم اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ جنت میں اڑتے رہو گے۔ (رواہ الخطیب واللالکانی وابن الجوزی فی الواھیات وفیہ سیف بن محمد ابن اخت سفیان الثوری کذاب)

حضرت جفینہ جہنی (قیل النھدی (رض))
36917- عن علي قال: بينا أنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في خباء لأبي طالب إذ أشرف علينا فقربه النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا عم! ألا تنزل فتصلي معنا؟ قال: يا ابن أخي! إني لأعلم أنك على الحق ولكني أكره أن أسجد فتعلوني أستي ولكن إنزل يا جعفر فصل جناح ابن عمك، فنزل جعفر فصلى عن يسار النبي صلى الله عليه وسلم، فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم صلاته التفت إلى جعفر فقال: أما إن الله قد وصلك بجناحين تطير بهما في الجنة كما وصلت جناح ابن عمك. "خط واللالكائي وابن الجوزي في الواهيات وفيه سيف بن محمد ابن أخت سفيان الثوري كذاب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جعفر (رض)
٣٦٩١٨۔۔۔ عرینہ روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت جفینہ (رض) کہتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں خط لکھا (خط چمڑے کے ٹکڑے پر لکھا تھا) جفینہ (رض) نے خط سے اپنے ڈول کو پیوند لگا دیا اس پر ان کی بیٹی نے کہا : تم نے عرب کے سردار کے خط سے اپنا ڈول گانٹھ دیا۔ (جب قبیلہ جہینہ پر مسلمانوں نے حملہ کیا تو) جفینہ (رض) بھاگ گئے اور ان کے گھر کا کل مال و متاع مسلمانوں نے اپنے قبضہ میں لے لیا پھر بعد میں آئے اور اسلام قبول کرلیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : حصص کی تقسیم سے قبل اپنا مال و متاع دیکھ لو اور جو پالوا سے لے لو۔ (رواہ ابو نعیم)
36918- عن عرينة عن جفينة أن النبي صلى الله عليه وسلم كتب إليه كتابا فرقع به دلوه فقالت له ابنته: عمدت إلى كتاب سيد العرب فرقعت به دلوك فهرب وأخذ كل قليل وكثير هو له ثم جاء بعد مسلما. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: انظر ما وجدت من متاعك قبل قسمة السهام فخذه."أبو نعيم
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جندب بن کعب عبدی (ازدی) و حضرت زید بن صوحان (رض)
٣٦٩١٩۔۔۔ ابو طائف احمد بن عیسیٰ بن عبداللہ علاء اپنے آباؤ و اجداد کی سند سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرات کہتے ہیں : ہم ایک سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے، آپ نے سواروں کی جماعت کے ساتھ کوچ کہنا اور آپ نے کہنا شروع کردیا۔ جندب، اور جندب کہا ؟ اور ہاتھ کٹا زید جو کہ افضل ہے، آپ یہ کلمات پوری رات دہراتے رہے۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ یہ بات پوری رات دہراتے رہے ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : میری امت کے دو شخص ہیں ان میں سے ایک کو جندب کہا جاتا ہے وہ تلوار کے ایک ہی وار سے حق و باطل میں فرق کردیتا ہے اور دوسرے کو ” زید “ کہا جاتا ہے اس اعضاء میں سے ایک وضو جنت کی طرف سبقت کررہا ہے اور اس کے پیچھے اس کا پورا جسم جنت میں داخل ہوجاتا ہے رہی بات جندب کی سو وہ ولید بن عقبہ کے پاس ایک جادو گر لایا جو انھیں طرح طرح کی جادو گریاں دکھا رہا تھا جندب نے اپنی تلوار سے اس کا سر تن سے جدا کردیا رہی بات زید کی سو مسلمانوں کی کسی جنگ میں اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور پھر علی کا ساتھ دے گا چنانچہ جنگ جمل میں حضرت علی (رض) کا ساتھ دیتے ہوئے زید (رض) قتل کر دئیے گئے۔ (رواہ ابن عساکر)
36919- عن أبي الطائفة أحمد بن عيسى بن عبد الله العلوي حدثني أبي عن أبيه عن جده عن أبيه عن علي قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في مسير فساق بأصحاب الركاب فجعل يقول: جندب وما جندب؟ والأقطع الخير زيد، فجعل يعيد ذلك ليلته، فقال له القوم: يا رسول الله! ما زال هذا قولك منذ الليلة! قال: رجلان من أمتي يقال لأحدهما جندب يضرب ضربة يفرق بين الحق

والباطل، والآخر يقال له زيد يسبقه عضو من أعضائه إلى الجنة ثم يتبعه سائر جسده، قال: أما جندب فإنه أتي بساحر عند الوليد بن عقبة وهو يريهم أنه يسحر فضربه بالسيف فقتله، وأما زيد فقطعت يده في بعض مشاهد المسلمين ثم شهد مع علي فقتل زيد يوم الجمل مع علي. "كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جریر (رض)
٣٦٩٢٠۔۔۔ ابراہیم بن جریر کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : جریر (رض) اس امت کے یوسف ہیں۔ (رواہ ابن سعد والخرائطی فی اعتلال القلوب)
36920- عن إبراهيم بن جرير أن عمر بن الخطاب قال: إن جريرا يوسف هذه الأمة. "ابن سعد والخرائطي في اعتلال القلوب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جریر (رض)
٣٦٩٢١۔۔۔ جریر (رض) کی روایت ہے کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حجاب میں نہیں رکھا اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ کے چہرے پر ضرور تبسم پایا گیا۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وابو نعیم)

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ، ٤٧٨٧۔
36921- عن جرير قال: ما حجبني رسول الله صلى الله عليه وسلم منذ أسلمت ولا رآني قط إلا تبسم في وجهي. "ش" وأبو نعيم.
tahqiq

তাহকীক: