কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬৯৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جریر (رض)
٣٦٩٢٢۔۔۔ حضرت جریر (رض) کہتے ہیں : جب میں مدینہ منورہ کے قریب پہنچا میں نے اپنی سواری بٹھا دی اور پھر اپنے سامان کا تھیلا کھولا اور ایک اچھا سا جوڑا زیب تن کیا جب میں حاضر ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطاب فرما رہے تھے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلام کیا : لوگوں نے مجھے کن انکھیوں سے گھورنا شروع کردیا میں نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے شخص سے کہا : اے عبداللہ کیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے متعلق کچھ فرمایا ہے ؟ اس نے اثبات میں جواب دیا اور کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارا ذکر خیر کیا ہے کیا کہ اسی دوران رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اچانک آپ کو دروان خطبہ ہی کچھ عارضہ پیش آیا اور فرمایا : اچانک تمہارے پاس اس کونے سے یا اس دروازے سے ایک شخص داخل ہوگا جو عین والوں میں سب سے افضل ہے اس کے چہرے پر فرشتے کے مسح کا نشان ہوگا حضرت جریر کہتے ہیں : اس پر میں نے اللہ تعالیٰ حمد کی۔ (رواہ ابن ابی شیبہ والنسائی والطبرانی وابو نعیم)
36922- عن جرير قال: لما دنوت من المدينة أنخت راحلتي ثم حللت عيبتي فلبست حلتي فدخلت ورسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب فسلمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فرماني الناس بالحدق فقلت لجليسي: يا عبد الله! أذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم من أمري شيئا؟ قال: نعم، ذكرك بأحسن الذكر، فقال: بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب إذ عرض له في خطبته فقال: إنه سيدخل عليكم من هذا الفج أو من هذا الباب من خير ذي يمن على وجهه مسحة ملك! قال جرير: فحمدت الله على ما أبلاني. "ش، ن، طب" وأبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جریر (رض)
٣٦٩٢٣۔۔۔ حضرت جریر (رض) فرماتے ہیں : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : کیا تم مجھے ذی خلصہ سے راحت نہیں پہچاتے۔ (ذی خلصہ دور جاہلیت میں قبیلہ حثعم کا ایک گھر تھا جسے وہ کعبہ یمانیہ کہتے تھے) میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں گھوڑے کی پیٹھ پر ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سینے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا : یا اللہ اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے چنانچہ میں نے آپ کے دست اقدس کی ٹھنڈک محسوس کی۔ (رواہ ابن شیبہ)
36923- "أيضا" قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا تريحني من ذي الخلصة - بيت كان لخثعم في الجاهلية يسمى "الكعبة اليمانية"؟ قلت: يا رسول الله! إني رجل لا أثبت على الخيل، فمسح في صدري وقال: اللهم! اجعله هاديا مهديا! حتى وجدت بردها. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جریر (رض)
٣٦٩٢٤۔۔۔ حضرت جریر (رض) کہتے ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں وفود حاضر ہوئے آپ مجھے اپنے پاس بلاتے اور ان کے سامنے مجھ پر فخر کرتے۔ (رواہ ابن الطبرانی)
36924- "أيضا" كان إذا قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم الوفود دعاني فباهاهم بي.
"طب".
"طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جریر (رض)
٣٦٩٢٥۔۔۔ حضرت جریر (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اے جریر ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں خوبصورت بنایا ہے لہٰذا تم اپنے اخلاق کو بھی خوبصورت بناؤ۔ (رواہ الدیلمی)
36925- عن جرير قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا جرير! أنت امرؤ قد حسن الله خلقك فأحسن خلقك.الديلمي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جریر (رض)
٣٦٩٢٦۔۔۔ حضرت جریر (رض) کہتے ہیں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیغام اسلام بھیجا میں آپ کی خدمت میں بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوا آپ نے فرمایا : اے جریر تم کیوں آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا : میں اس لیے حاضر ہوا ہوں تاکہ آپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کروں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دعوت دی کہ میں گواہی دوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ نیز فرمایا : فرض نماز قائم کرو فرض زکوۃ دیتے رہو، اچھی اور بری تقدیر پر ایمان رکھو پھر آپ نے میری طرف اپنی چادر ڈال دی اور صحابہ (رض) کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا جب تمہارے پاس کسی قوم کا کوئی شریف آدمی آئے اس کا اکرام کرو۔ (رواہ الطبرانی و ابونعیم)
36926- عن جرير قال: لما بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم أتيته لأبايعه فقال: لأي شيء جئت يا جرير؟ قلت: جئت لأسلم على يديك، فدعاني إلى شهادة أن لا إله إلا الله وأني رسول الله، وتقيم الصلاة المكتوبة وتؤدي الزكاة المفروضة وتؤمن بالقدر خيره وشره، فألقى إلي كساءه ثم أقبل على أصحابه فقال: إذا جاءكم كريم قوم فأكرموه. "طب" وأبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جریر (رض)
٣٦٩٢٧۔۔۔ حضرت جریر (رض) کہتے ہیں : جب میں مدینہ پہنچا میں نے اپنی سواری بٹھائی اور تھیلا کھولا اور عمدہ جوڑا زیب تن کیا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا، لوگ مجھے کن انکھیوں سے گھورنے لگے : میں نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے ایک شخص سے کہا : اے عبداللہ ! کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ذکر کیا ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارا ذکر خیر کیا ہے اسی اثناء میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ دوران خطبہ آپ کو کچھ عارضہ پیش آیا اور فرمایا عنقریب تمہارے پاس ایک شخص اس کونے سے یا فرمایا : اس دروازے سے داخل ہوگا جو یمن والوں میں سب سے بہتر ہوگا، خبردار، اس کے چہرے پر فرشتے کی مسح کا نشان ہے میں نے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔
36927- عن جرير: لما قدمت المدينة أنخت راحلتي ثم حللت عيبتي فلبست حلتي فدخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم ورسول الله يخطب فسلمت على النبي صلى الله عليه وسلم، فرماني الناس بالحدق، فقلت لجليسي: يا عبد الله! هل ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم من أمرى شيئا؟ قال: نعم، ذكرك بأحسن الذكر، بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب إذ عرض له في خطبته فقال: إنه سيدخل عليكم من هذا الفج - أو من هذا الباب - من خير ذي يمن، ألا! وإن على وجهه مسحة ملك، فحمدت الله على ما أبلاني. "ن، طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جریر (رض)
٣٦٩٢٨۔۔۔ صابر بن سالم بن حمید بن یزید بن عبداللہ البجلی اپنے آباؤ اجداد کی سند سے ام قصاف بنت عبداللہ بن ضمرہ کہتی ہیں میرے والد عبداللہ بن ضمرہ نے مجھے حدیث سنائی کہ ایک دن وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھے اور آپ کے صحابہ (رض) کی ایک جماعت بھی بیٹھی ہوئی تھی جس میں اکثریت اہل یمن کی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب تمہارے اوپر ایک شخص اس گھاٹی سے نمودار ہوگا جو اہل یمن میں سب سے بہتر ہے کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت جریر بن عبداللہ بجلی (رض) سامنے سے ظاہر ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ (رض) پر سلام کیا سب نے سلام کا جواب دیا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جریر (رض) کے لیے اپنی چادر پھیلائی اور ان سے فرمایا : اے جریر ! اس پر بیٹھو صحابہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے بڑی گرمجوشی سے جریر کا استقبال کیا ہے حالانکہ آپ نے اس طرح کسی کا استقبال نہیں کیا۔ ارشاد فرمایا : جی ہاں یہ اپنی قوم کا شریف آدمی ہے اور جب تمہارے پاس کسی قوم کا شریف آدمی آئے اس کا اکرام کرو۔ (رواہ الدیلمی)
36928- عن صابر بن سالم بن حميد بن يزيد بن عبد الله البجلي حدثنا أبي سالم حدثني أبي حميد حدثني أبي يزيد بن عبد الله بن ضمرة حدثتني أختي أم القصاف بنت عبد الله بن ضمرة قالت: حدثني أبي عبد الله بن ضمرة أنه بينما هو ذات يوم عند رسول الله صلى الله عليه وسلم في جماعة من أصحابه أكثرهم أهل اليمن إذ قال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: سيطلع عليكم من هذه الفجة خير ذي يمن! قال: فبقي القوم كل رجل منهم يرجو أن يكون من أهل بيته فإذا هم بجرير بن عبد الله البجلي قد طلع عليهم من الثنية، فجاء حتى سلم على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلى أصحابه، فردوا عليه بأجمعهم السلام، ثم بسط له رسول الله صلى الله عليه وسلم عرض ردائه وقال له: على ذا يا جرير فاقعد، فقال أصحابه: يا رسول الله! لقد رأينا منك اليوم منظرا لجرير وما رأيناه منك لأحد، قال: نعم، هذا كريم قوم وإذا أتاكم كريم قوم فأكرموه. الديلمي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جریر (رض)
٣٦٩٢٩۔۔۔ ام قصاف بنت عبداللہ اپنے والد سے روایت نقل کرتی ہیں وہ کہتے ہیں : میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا تھا آپ نے فرمایا : اس کشادہ راستے سے تمہارے اوپر ایک شخص نمودار ہونے والا ہے جو یمن والوں میں سب سے بہتر ہے اس کے چہرے پر فرشتے کے ہاتھ پھیرنے کا واضح نشان ہے چنانچہ لوگ جھانک جھانک کر دیکھنے لگے، ہر ایک ہی چاہتا تھا کہ وہ اسی کے قبیلہ میں سے ہو۔ کیا دیکھتے ہیں کہ جریر (رض) سامنے سے نمودار ہوئے جب نبی کریم نے جریر (رض) کو دیکھا گرمجوشی سے ان کا استقبال کیا اور اپنی چادر پھیلائی پھر فرمایا : اے جریر ! اس پر بیٹھو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے گفتگو میں مشغول ہوگئے جب جریر (رض) اٹھ کر چلے گئے صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! جیسا استقبال آپ نے جریر کا کیا ہے اس طرح آپ نے کسی کا نہیں کیا : فرمایا : جی ہاں۔ میں نے یہی کیا ہے جب تمہارے پاس کسی قوم کا کوئی بڑا آدمی آئے اس کا اکرام کرو۔ (رواہ ابو سعد النقاش فی معجمہ وابن النجار)
36929- عن أم القصاف بنت عبد الله عن أبيها قال: كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم فسمعته يقول: يطلع عليكم من هذا الفج1 من خير ذي يمن رجل بوجهه مسحة ملك فتشرف القوم، كلهم يرجو أن يكون من قبيلته إذ طلع عليهم جرير بن عبد الله، فلما رآه النبي صلى الله عليه وسلم أقبل عليه وبسط له عرض ردائه ثم قال: يا جرير! على هذا فاجلس، فأقبل عليه يحدثه: فلما نهض قال أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم: ما رأيناك صنعت بأحد كما صنعت بجرير، قال نعم، كان هو، إذا أتاكم كريم قوم فأكرموه. "أبو سعد النقاش في معجمه وابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جریر (رض)
٣٦٩٣٠۔۔۔ ” مسند جریر بن عبداللہ (رض) “ جریر (رض) کہتے ہیں : میں گھوڑوں کی پیٹھ پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تھا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی شکایت کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست اقدس میرے سینے پر مارا میں نے آپ کے دست اقدس کا اثر اپنے سینے میں محسوس کیا آپ نے فرمایا : یا اللہ، اسے ثابت قدم رکھ اور اسے ہادی و مہدی بنا دے چنانچہ اس کے بعد میں گھوڑے کی پیٹھ سے نہیں گرا۔ (رواہ الطبرانی عن جریر)
36930- "مسند جرير بن عبد الله رضي الله عنه" كنت لا أثبت على الخيل فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فضرب يده على صدري حتى رأيت أثر يده في صدري فقال: اللهم! ثبته واجعله هاديا مهديا، فما سقطت عن فرسي بعد. "طب" - عن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جعفر بن ابی الحکم (رض)
٣٦٩٣١۔۔۔ جعفر بن ابی حکم (رض) کہتے ہیں : میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تیرہ (١٣) غزوات کیے ہیں۔ (رواہ الطبرانی عن جابر)
36931- "مسنده" غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث عشرة غزوة. "طب" - عن جابر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جزء بن جد رجان (رض)
٣٦٩٣٢۔۔۔ ” مسند جدر جان بن مالک الاسدی “ ابو بشر دولدبی، اسحاق بن ابراہیم رملی، ہاشم بن محدم بن ہاشم بن جزہ بن عبد الرحمن بن جزء بن جدرجان بن مالک اپنے آباؤ اجداد کی سند سے روایت نقل کرتے ہیں کہ جدرجان (رض) کہتے ہیں : میں اور میرا بھائی اسو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدمت میں حاضر ہوئے ہم آپ پر ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی چنانچہ حضرت جزء اور حضرت جدرجان (رض) دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کرتے تھے اور آپ کی صحبت میں بھی رہے۔ (رواہ ابن مندہ وابو نعیم وقال تفرد بہ اسحاق الرملی قال فی الاصابۃ ؛ وھم مجھولون)
36932- "مسند الجدرجان بن مالك الأسدي" قال أبو بشر الدولابي ثنا إسحاق بن إبراهيم الرملي ثنا هاشم بن محمد بن هاشم بن جزء بن عبد الرحمن بن جزء بن الجدرجان بن مالك حدثني أبي عن أبيه عن جده حدثني أبي جزء بن الجدرجان عن الجدرجان قال: قدمت أنا وأخي الأسود على رسول الله صلى الله عليه وسلم فآمنا به وصدقناه وكان جزء والأسود قد خدما رسول الله صلى الله عليه وسلم وصحباه."ابن منده وأبو نعيم وقالا: تفرد به إسحاق الرملي، قال في الإصابة: وهم مجهولون
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جزی سلمی (رض)
٣٦٩٣٣۔۔۔ حبان بن جزی سلمی اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ وہ ایک قیدی کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے جو کہ صحابہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے تھا لوگوں نے اسے قیدی بنا لیا تھا اور وہ لوگ مشرکین تھے پھر اسلام لے آئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ قیدی بھی ان کے ساتھ تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جزی (رض) کو دو چادریں پہنائیں جزی (رض) بھی آپ کے پاس اسلام لائے اور آپ (رض) نے پھر فرمایا : عائشہ (رض) کے پاس جاؤ وہ بھی تمہیں اپنے پاس سے دو چادریں عطا کرے گی چنانچہ جزی (رض) حضرت عائشہ (رض) کے پاس گئے اور عرض کیا : اللہ تعالیٰ آپ کو خوش و خرم رکھے ! ان چادروں میں سے میرے لیے انتخاب کریں جو کہ آپ کے پاس ہیں، چونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ان میں سے دو چادریں پہنائی میں حضرت عائشہ (رض) نے اپنی مسواک طولا کھینچتے ہوئے فرمایا : یہ لے لو اور یہ لے لو۔ چنانچہ عرب کی عورتیں نہیں دیکھی جاتی تھی۔ (رواہ ابو نعیم)
36933- عن حبان بن جزي السلمي عن أبيه أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم بأسير كان عنده من صحابة رسول الله صلى الله عليه وسلم كانوا أسروه وهم مشركون ثم أسلموا فأتوا النبي صلى الله عليه وسلم بذاك الأسير فكسا جزيا بردين وأسلم جزي عنده ثم قال: ادخل على عائشة تعطيك من الأبردة التي عندها بردين فدخل عائشة فقال: أي نضرك الله! اختاري لي من هذه الأبردة التي عندك بردين فان نبي الله صلى الله عليه وسلم كساني منها بردين ، فقالت ومدت سواكا من أراك طويلا : خذ هذا وخذ هذا ، وكانت نساء العرب لا يرين (أبو نعيم)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف حاء ۔۔۔ حضرت حارثہ بن نعمان انصاری (رض)
٣٦٩٣٤۔۔۔ حضرت حارثہ بن نعمان (رض) کہتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا آپ کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) مورچہ زن بیٹھے ہوئے تھے میں نے آپ کو سلام کیا اور آگے نکل گیا میں واپس لوٹا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اپنی جگہ سے اٹھ آئے فرمایا : کیا تم نے اس شخص کو دیکھا ہے جو میرے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں، ارشاد فرمایا : وہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے انھوں نے تمہارے سلام کا جواب دیا ہے۔ (رواہ الطبرانی وابو نعیم)
36934- عن حارثة بن النعمان قال: مررت على رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه جبريل جالس في المقاعد فسلمت عليه ثم أجزت، فلما رجعت وانصرف النبي صلى الله عليه وسلم قال: هل رأيت الذي كان معي؟ قلت: نعم، قال: فإنه جبريل وقد رد عليك السلام. "طب" وأبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف حاء ۔۔۔ حضرت حارثہ بن نعمان انصاری (رض)
٣٦٩٣٥۔۔۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ حارثہ بن نعمان (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرے آپ کے پاس جبرائیل امین بیٹھے ہوئے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سرگوشی کر رہے تھے حارثہ (رض) آگے نکل گئے اور انھیں سلام نہ کیا جبرائیل امین نے کہا : اس شخص نے سلام کیوں نہیں کیا۔ اگر یہ سلام کرتا میں اس کے سلام کا جواب دیتا پھر کہا : یہ شخص اسی (٨٠) میں سے ہوگا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اسی سے کیا مراد ہے ؟ جواب دیا : اسی آدمیوں کے علاوہ باقی لوگ آپ کے پاس سے بھاگ جائیں گے اور یہ اسی آدمی آپ کے ساتھ صبر کیے رہیں گے ان کا اور ان کی اولاد کا رزق جنت میں ہے۔ جب حارثہ (رض) واپس لوٹے سلام کیا ان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم ہمارے پاس سے گزرے ہمیں سلام کیوں نہیں کہا : حارثہ (رض) نے عرض کیا : میں نے آپ کے ساتھ ایک شخص بیٹھا ہوا دیکھا تھا میں نے آپ کی گفتگو کو منقطع کرنا اچھا نہیں سمجھا۔ فرمایا : کیا تم نے اس شخص کو دیکھا ہے ؟ عرض کیا جی ہاں۔ فرمایا : وہ جبرائیل امین تھے پھر آپ (رض) نے انھیں جبرائیل (علیہ السلام) کی بات سنائی۔ (رواہ الطبرانی وابو نعیم)
36935- عن ابن عباس قال: مر حارثة بن النعمان على رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه جبريل يناجيه فلم يسلم فقال جبريل: ما منعه أن يسلم؟ إنه لو سلم لرددت عليه، ثم قال: إنه من الثمانين، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وما الثمانون؟ قال: يفر الناس عنك غير الثمانين فيصبرون معك، ورزقهم ورزق أولادهم في الجنة، فلما رجع حارثة سلم، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا سلمت حين مررت؟ قال: رأيت معك إنسانا فكرهت أن أقطع حديثك، قال: ورأيته؟ قال: نعم، قال: ذاك جبريل وقد قال، فأخبره بما قال جبريل. "طب" وأبو نعيم1
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حمزہ (رض)
٣٦٩٣٦۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حمزہ (رض) بن عبد المطلب اور زید بن ثابت (رض) کے درمیان مواخات قائم کی۔ (رواہ الطبرانی)
36936- عن علي قال: آخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بين حمزة بن عبد المطلب وبين زيد بن حارثة. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حمزہ (رض)
٣٦٩٣٧۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : حمزہ بن عبد المطلب (رض) افضل الشہداء ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جعفر بن ابی طالب شہیدوں کے سردار ہیں وہ فرشتوں کے ساتھ ہیں اور یہ عطیہ ان کے سوا پہلی امتوں میں کسی کو نہیں ملا، یہ ایسی چیز ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اکرام کیا ہے۔ (رواہ ابوبکر وابو القاسم الحرفی فی امالیہ)
36937- عن علي قال: إن أفضل الشهداء حمزة بن عبد المطلب، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: سيد الشهداء جعفر بن أبي طالب مع الملائكة لم ينحل2 ذلك أحد ممن مضى من الأمم غيره، شيء أكرم الله به محمدا صلى الله عليه وسلم. "أبو بكر وأبو القاسم الحرفي في أماليه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حمزہ (رض)
٣٦٩٣٨۔۔۔ ” مسند جابر بن عبداللہ (رض) “ حضرت جابر (رض) روایت نقل کرتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) کو (شہید) دیکھا رونے لگے اور جب انھیں مثلہ دیکھا تو آپ سسکیاں لے لے کر رونے لگے۔ (رواہ الطبرانی وابو نعیم)
فائدہ :۔۔۔ مثلہ : میت کے کان ناک اور ہونٹ وغیرہ کاٹ دینے کو مثلہ کہتے ہیں : کسی کو مثلہ کرنا اسلام میں جائز نہیں۔
فائدہ :۔۔۔ مثلہ : میت کے کان ناک اور ہونٹ وغیرہ کاٹ دینے کو مثلہ کہتے ہیں : کسی کو مثلہ کرنا اسلام میں جائز نہیں۔
36938- "مسند جابر بن عبد الله رضي الله عنه" عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم لما رأى حمزة بكى فلما رأى ما مثل به شهق. "طب" وأبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حمزہ (رض)
٣٦٩٣٩۔۔۔ حضرت حسین بن علی (رض) کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حمزہ (رض) کو دیکھا رونے لگے اور جب انھیں مثلہ دیکھا آپ کی سسکیاں بندھ گئیں۔ (رواہ الطبرانی)
36939- عن الحسين بن علي: لما جرد رسول الله صلى الله عليه وسلم حمزة بكى فلما رأى مثاله شهق. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حمزہ (رض)
٣٦٩٤٠۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے جب غزوہ احد میں حضرت حمزہ (رض) شہید کر دئیے گئے ان کی تلاش میں حضرت صفیہ (رض) آئیں انھیں نہیں پتہ تھا کہ حضرت حمزہ (رض) کے ساتھ کیا بیتی ہے۔ صفیہ (رض) کو حضرت علی (رض) اور حضرت زبیر (رض) ملے حضرت علی (رض) نے ز بیر (رض) سے کہا : اپنی ماں کو بتادو (کہ حمزہ شہید ہوچکے ہیں) زبیر (رض) نے حضرت علی (رض) سے کہا : تم اپنی پھوپھی کو بتادو ، چنانچہ حضرت صفیہ (رض) کود ہی بول پڑیں کہ حمزہ نے کیا کیا ہے ؟ ان دونوں نے اتنا کہہ کر انھیں ٹال دیا کہ ہمیں نہیں معلوم۔ اتنے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا : مجھے صفیہ (رض) کی عقل ضائع ہوجانے کا خوف ہے۔ چنانچہ آپ نے اپنا دست اقدس حضرت صفیہ (رض) کے سینے پر رکھا اور ان کے لیے دعا کی۔ صفیہ (رض) نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور پھر رونے لگیں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حمزہ (رض) کی میت کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اگر عورتوں کے واویلے کی بات نہ ہوتی میں حمزہ کو یوں ہی پڑا رہنے دیتا تاکہ قیامت کے دن پرندوں کے پیٹوں اور جنگلی درندوں کے پیٹوں سے انھیں حشر کے لیے لے جایا جاتا۔ پھر آپ نے مقتولین (شہدا احد) پر نماز جنازہ پڑھنے کا حکم دیا چنانچہ سات میتیں لائی جاتیں اور حمزہ (رض) وہیں رکھے رہتے آپ سات تکبیریں کہتے اور یہ میتیں اٹھالی جاتیں لیکن حمزہ (رض) کو وہیں دکھ دیا جاتا پھر دوسرے سات لائے جاتے آپ ان پر بھی سات تکبیریں کہتے اور یوں فارغ ہوگئے۔ (رواہ الطبرانی)
36940- عن جابر - لما قتل حمزة يوم أحد أقبلت صفية تطلبه لا تدري ما صنع فلقيت عليا والزبير فقال علي للزبير: اذكر لأمك، وقال الزبير لعلي: اذكر لعمتك، فقالت: ما فعل حمزة؟ فأرياها أنهما لا يدريان، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إني أخاف على عقلها، فوضع يده على صدرها ودعا لها، فاسترجعت وبكت، ثم جاء فقام عليه وهو قد مثل به فقال: لولا جزع النساء لتركته حتى يحشر من حواصل الطير وبطون السباع، ثم أمر بالقتلى فجعل يصلي عليهم فيضع سبعة وحمزة فيكبر عليهم سبع تكبيرات ثم يرفعون ويترك حمزة ثم دعا سبعة فيكبر عليهم سبع تكبيرات حتى فرغ منهم. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حمزہ (رض)
٣٦٩٤١۔۔۔ ” مسند حباب بن ارت “ حضرت خباب (رض) کہتے ہیں : میں نے حمزہ (رض) کو (بعد از شہادت) دیکھا ہے ، ہم ان کے لیے اتنا کپڑا نہیں پاتے تھے جس میں انھیں بقدر کفایت کفن دیا جاسکے، البتہ ایک چادر تھی اسی میں ہم نے انھیں کفن دیا اس کا بھی یہ حال تھا کہ جب ہم چادر سے پاؤں ڈھاپتے سر ننگا ہوجاتا اور جب سر ڈھاپتے پاؤں ننگے ہوجاتے بہرحال ہم نے ان کا سر ڈھانپ دیا اور پاؤں پر بیری کے پتے ڈال دئیے۔ (رواہ الطبرانی)
36941- "مسند خباب بن الأرت" قال: لقد رأيت حمزة وما وجدنا له ثوبا نكفنه غير بردة إذا غطينا بها رجليه خرج رأسه وإذا غطينا رأسه خرجتا رجلاه، فغطينا رأسه ووضعنا على رجليه من الإذخر. "طب".
তাহকীক: