কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬৯৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حمزہ (رض)
٣٦٩٤٢۔۔۔ حضرت حباب (رض) ابن عباس (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حنظلہ راہب (رض) اور حضرت حمزہ (رض) بن عبد المطلب کی طرف دیکھا انھیں فرشتے غسل دے رہے تھے۔ (رواہ ابن عساکر وفیہ ابو شیبہ وھو متروک)
36942- عن خباب عن ابن عباس قال: نظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى حنظلة الراهب وحمزة بن عبد المطلب تغسلهما الملائكة. "كر" وفيه أبو شيبة متروك.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حمزہ (رض)
٣٦٩٤٣۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ احد میں جب حضرت حمزہ (رض) شہید کر دئیے گئے تو ان کی تلاش میں حضرت صفیہ (رض) آئیں انھیں معلوم نہیں تھا کہ حمزہ (رض) کا کیا بنا۔ حضرت علی اور زبیر (رض) سے ان کی ملاقات ہوئی حضرت علی (رض) نے زبیر (رض) سے کہا : اپنی ماں کو بتادو زبیر (رض) نے حضرت علی (رض) سے کہا : نہیں بلکہ تم ہی اپنی پھوپھی کو بتادو ۔ حضرت صفیہ (رض) بولیں۔ حمزہ نے کیا کیا ؟ ان دونوں حضرات نے اتنا کہہ کر انھیں ٹال دیا کہ وہ نہیں جانتے۔ اتنے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا : مجھے صفیہ (رض) کا خوف ہے کہ (حمزہ (رض) کی خبر سن کر) اس کی عقل جاتی رہے گی چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپان دست اقدس صفیہ (رض) کے سینے پر رکھا اور ان کے لیے دعا کی صفیہ (رض) نے انا اللہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور پھر رونے لگیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حمزہ (رض) کی میت کے پاس تشریف لائے جب کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی لاش کا مثلہ کردیا گیا تھا۔ آپ نے فرمایا : اگر عورتوں کی جزع فزع کا خوف نہ ہوتا میں حمزہ (رض) کو یونہی پڑا رہنے دیتا حتیٰ کہ قیامت کے دن انھیں پرندوں کے پیٹوں اور درندوں کے پیٹوں سے اٹھایا جاتا پھر آپ نے شھداء پر نماز جنازہ پڑھنے کا حکم دیا چنانچہ سات میتیں رکھی جاتیں ان کے ساتھ حمزہ (رض) بھی ہوتے آپ (رض) سات تکبیریں کہتے پھر یہ سات اٹھا لیئے جاتے اور حضرت حمزہ (رض) وہیں رکھے رہتے پھر دوسرے سات شہداء لائے جاتے اور ایک حمزہ (رض) ہوتے ان پر آپ ساتھ تکبیریں کہتے یوں اس طرح آپ ان سے فارغ ہوئے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ والطبرانی)
36943- عن ابن عباس قال: لما قتل حمزة يوم أحد أقبلت صفية تطلبه لا تدري ما صنع، فلقيت عليا والزبير، فقال علي للزبير: اذكر لأمك، وقال الزبير: لا بل اذكر أنت لعمتك، قالت: ما فعل حمزة؟ فأرياها أنهما لا يدريان، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إني لأخاف على عقلها، فوضع يده على صدرها ودعا لها، فاسترجعت وبكت، ثم جاء فقام عليه وقد مثل به فقال: لولا جزع النساء لتركته حتى يحشر من حواصل الطير وبطون السباع، ثم أمر بالقتلى فجعل يصلي عليهم فيضع سبعة وحمزة فيكبر عليهم سبع تكبيرات ثم يرفعون ويترك حمزة ثم جاء بسبعة فكبر عليهم سبعا حتى فرغ منهم. "ش، طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حمزہ (رض)
٣٦٩٤٤۔۔۔ یحییٰ بن عبد الرحمن اپنے دادا سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے سات آسمانوں میں لکھا ہوا ہے حمزۃ بن عبد المطلب اسد اللہ واسد رسولہ یعنی حمزہ بن عبد المطلب اللہ اور اللہ کے رسول کے شیر ہیں۔ (رواہ الدیلمی)
36944- عن يحيى بن عبد الرحمن عن جده قال رسول الله صلى الله عليه وسلم والذي نفسي بيده إنه لمكتوب في السماوات السبع: حمزة بن عبد المطلب أسد الله وأسد رسوله."الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حمزہ (رض)
٣٦٩٤٥۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ احد سے واپس لوٹے تو بنی عبد الاشھل کی عورتیں اپنے مقتولین پر رو رہیں تھیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم عورتیں حمزہ پر رو چونکہ اس کے لیے رونے والی عورتیں نہیں ہیں۔ چنانچہ انصار یہ عورتیں آئیں اور حضرت حمزہ (رض) پر رونے لگیں اتنے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھ لگ گئی تھوڑی دیر بعد بیدار ہوئے اور فرمایا : ان عورتوں کے لیے ہلاکت ہے یہ ابھی تک وہیں ہیں۔ ان سے کہو واپس آجائیں اور آج کے بعد کسی میت پر نہ روؤں۔ (رواہ مسلم وابن ابی شیبہ)
36945- عن ابن عمر قال: رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أحد فبينما نساء بني عبد الأشهل يبكين على هلكاهن فقال: لكن حمزة لا بواكي له! فجئن نساء الأنصارى يبكين على حمزة ورقد فاستيقظ فقال: يا ويحهن إنهن لهنا حتى الآن! مروهن فليرجعن ولا يبكين على هالك بعد اليوم. "م1، ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسان بن ثابت (رض)
٣٦٩٤٦۔۔۔ ” مسند عمر (رض) “ سعید بن مسیب (رح) کہتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابت (رض) مسجد نبوی میں اشعار سنا رہے تھے اتنے میں حضرت عمر (رض) آگئے اور فرمایا : اے حسان ! تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں اشعار سنا رہے ہو ؟ حضرت حسان (رض) نے جواب دیا : میں یہیں ایسی ذات کو اشعار سنا چکا ہوں جو تم سے بہتر ہے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم نے سچ کہا اور آپ واپس لوٹ گئے۔ (رواہ ابن عساکر)
36946- "مسند عمر" عن سعيد بن المسيب قال: بينما حسان بن ثابت ينشد الشعر في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء عمر فقال: يا حسان! أتنشد في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: قد أنشدت وفيه من هو خير منك! قال: صدقت وانصرف. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسان بن ثابت (رض)
٣٦٩٤٧۔۔۔ ” مسند بریدہ بن حصیب اسلمی “ بریدہ (رض) کہتے ہیں : حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدح میں ستر اشعار کے ساتھ حسان بن ثابت (رض) کی مدد کی ۔ (رواہ ابن عساکر وسندہ صحیح)
36947- "مسند بريدة بن الحصيب الأسلمي" عن بريدة قال: أعان جبريل حسان بن ثابت عند مدحه النبي صلى الله عليه وسلم بسبعين بيتا. "كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسان بن ثابت (رض)
٣٦٩٤٨۔۔۔ ابن مسیب کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابت (رض) مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے اتنے میں حضرت عمر (رض) نے انھیں دیکھ لیا اور منع کرنا چاہا حسان (رض) نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں مسجد میں اشعار کہے ہیں۔ حضرت عمر (رض) سن کر آگے نکل گئے اور انھیں چھوڑ دیا۔ (رواہ عبد الرزاق وابن عساکر)
36948- عن ابن المسيب قال: أنشد حسان بن ثابت في المسجد فمر به عمر فلحظه، فقال حسان: والله لقد أنشدت فيه وفيه من هو خير منك! فخشي أن يرميه برسول الله صلى الله عليه وسلم فأجاز وتركه. "عب، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسان بن ثابت (رض)
٣٦٩٤٩۔۔۔ حضرت براء (رض) کی روایت ہے کہ میں نے حسان (رض) کو کہتے سنا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا مشرکین کی ہجو میں اشعار کہو اور جبرائیل امین تمہارے ساتھ ہیں۔ (رواہ ابن عساکر ، وقال کذا قال فیہ : سمعت حسان وقدروی عن البرار من وجوہ عن النبی انفسہ الخطیب)
36949- عن البراء قال: سمعت حسان بن ثابت يقول: اهجهم - أو: هاجهم، يعني المشركين - وجبريل معك. "كر" وقال: كذا قال فيه: سمعت حسان، وقد روى عن البراء من وجوه عن النبي صلى الله عليه وسلم نفسه الخطيب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسان بن ثابت (رض)
٣٦٩٥٠۔۔۔ قاضی ابو العلاء واسطی عبداللہ بن موسیٰ سلامی الشاعر فائذ بن بکیر ابو علی مفصل بن فضل شاعر خالد بن یزید الشاعر ابو تمام حبیب بن اوس الشاعر صھیب بن ابی صھباء الشاعر، فرزدق ھمام بن غالب الشاعر عبد الرحمن بن حسان بن ثابت الشاعر کی سند سے حضرت حسان بن ثابت (رض) کی روایت ہے کہ مجھے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے حسان ! مشرکین کی ھجو میں اشعار کہو اور جبرائیل امین بھی تمہارے ساتھ ہیں۔ بلاشبہ بعض اشعار حکمت سے لبریز ہوتے ہیں نیز آپ نے فرمایا : جب میرے صحابہ (رض) اسلحہ سے لڑ رہے ہوں تم زبان سے لڑا کرو۔ (رواہ ابن عساکر)

کلام :۔۔۔ خطیب (رض) کہتے ہیں : یہ حدیث ابو العلاء سے بغداد یوں کی ایک بڑی جماعت نے حاصل کی ہے حالانکہ مجھے اس بات پر بڑا تعجب ہو رہا ہے کہ عبداللہ بن موسیٰ سلامی جو کہ اصحاب عجائب و ظرائق ہے کہ وطن ماوراء النبر کا علاقہ ہے چنانچہ وہ بخارا ، سمر قند اور ان کے مضافات میں احادیث بیان کرتا رہا ہے اور مجھے خراسان میں کوئی شخص نہیں ملا جس نے اس سے سماع حدیث کیا ہو مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ بغداد آیا ہو، چنانچہ جب ابو العلاء نے مجھے اس کی سند سے حدیث سنائی میں سمجھا ممکن ہے سلامی حج کے لیے آیا ہو اور ابو عبداللہ بن بکیر اس سے ملے ہوں اور سماع کرلی اہو اور ان کے ساتھ ابو العلاء بھی ہوں بہرحال اسی سش و پنچ میں اس کی مرویات منظر عام پر آتی رہیں پھر ٤٢٧ ھ میں ابو عبداللہ بن بکیر کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک خط میرے ہاتھ لگا جس میں سند کے ساتھ شعراء کی احادیث ذکر کی ہوئی تھیں۔ اس میں ابن بکیر کے خط سے یہ سند بھی مجھے ملی : حسین بن علی بن طاھر ابو علی صبر فی ، عبداللہ بن موسیٰ سلامی الشاعر ابو علی مفضل بن فضل الشاعر اس سند سے وہی حدیث جو میں نے ابو العلاء عن السلامی کی سند سے ذکر کی ہے اسی سیاق و لفظ میں مل گئی میں نے یہ قصہ ابو القاسم تنوخی سے بیان کیا ان کی ابو العلاء سے ملاقات ہوگئی اور ان سے کہا : اے قاضی عبداللہ بن سلامی کسی سند سے احادیث روایت نہ کرو چونکہ یہ شیخ بخارا کے مضافات میں احادیث بیان کرتا رہا ہے اور بغداد میں روایت نہیں کیا۔ ابو العلاء بولے : میں نے اس اسلامی کو نہیں دیکھا، اور نہ ہی میں اسے جانتا ہوں۔ (انتھی وقد روی ھذا الحدیث ایضاً ابن عساکر)
36950- أنبأنا القاضي أبو العلاء الواسطي أنبأنا عبد الله بن موسى السلامي الشاعر بفائذ بن بكير حدثني أبو علي مفضل بن المفضل الشاعر حدثني خالد بن يزيد الشاعر حدثني أبو تمام حبيب بن أوس الشاعر حدثني صهيب بن أبي الصهباء الشاعر حدثني الفرزدق همام بن غالب الشاعر حدثني عبد الرحمن بن حسان بن ثابت الشاعر قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا حسان! اهجهم وجبريل معك، وقال: إن من الشعر حكمة، وقال لي: إذا حارب أصحابي بالسلاح فحارب أنت باللسان. "كر"؛ قال "خط": أخذت هذا الحديث عن أبي العلاء جماعة من أصحابنا البغداديين والغرباء مع تعجبي منه فإن عبد الله بن موسى السلامي صاحب عجائب وظرائف وكان موطنه وراء نهر جيحون وحدث ببخارى وسمرقند وتلك النواحي ولم ألق بخراسان من سمع منه ولا علمت أنه قدم بغداد، فلما حدثني عنه أبو العلاء جوزت أن يكون ورد علينا حاجا فظفر به أبو عبد الله بن بكير وسمع معه أبو العلاء منه ولم يتسع له المقام حتى يروي ما يشتهر به حديثه وتظهر عندنا رواياته، فلما كان في سنة سبع وعشرين وأربعمائة وقع إلى جزء بخط أبي عبد الله بن بكير قد كان جمع فيه أحاديث مسندة لجماعة من الشعراء فكتبها بخطه فوجدت في جملتها بخط ابن بكير: حدثني الحسين بن علي بن طاهر أبو علي الصيرفي أخبرني عبد الله بن موسى السلامي الشاعر مشافهة حدثني أبو علي مفضل بن الفضل الشاعر بالحديث الذي ذكرته عن أبي العلاء عن السلامي بعينه بسياقه ولفظه، فشرحت هذه القصة لأبي القاسم التنوخي فاجتمع من أبي العلاء وقال له: أيها القاضي! لا ترو عن عبد الله بن موسى السلامي فإن هذا الشيخ حدث بنواحي بخارى ولم يرو ببغداد، فقال أبو العلاء: ما رأيت هذا السلامي ولا أعرفه - انتهى. وقد روى هذا الحديث أيضا "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسان بن ثابت (رض)
٣٦٩٥١۔۔۔ ابو الحسن علی بن علی بن احمد بن حسن الموذن قاضی ابو المضفر ھناد بن ابراہیم بن نصر نفسی عبد الحی بن عبداللہ بن موسیٰ جو ھری الشاعر (بخارا میں) ابو الحسن سلامی الشاعر، ابو علی مفضل بن فضل الشاعر سعید بن جبیر کی روایت ہے کہ ابن عباس (رض) سے کسی نے کہا : حسان لعین (ملعون) آچکا ہے ابن عباس (رض) نے فرمایا : حسان (رض) لعین نہیں ہیں چونکہ انھوں نے تلوار اور زبان کے ذریعے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد کیا ہے۔ (رواہ ابو یعلی وابن عساکر)
36951- أنبأنا أبو الحسن علي بن علي بن أحمد بن الحسن المؤذن أنبأنا القاضي أبو المظفر هناد بن إبراهيم بن نضر النفسي أنبأنا عبد الحي بن عبد الله بن موسى الجوهري الشاعر ببخارى أنبأنا أبو الحسن السلامي الشاعر حدثني أبو علي المفضل بن الفضل الشاعر به عن سعيد بن جبير قال: قيل: لابن عباس: قد قدم حسان اللعين! فقال ابن عباس: ما هو بلعين، قد جاهد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بسيفه ولسانه. "ع، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسان بن ثابت (رض)
٣٦٩٥٢۔۔۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : حسان بن ثابت (رض) کو گالی مت دو چونکہ وہ زبان اور ہاتھ کے ذریعے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد کرتے تھے۔ (رواہ ابن عساکر)
36952- عن ابن عباس قال: لا تسبوا حسان بن ثابت فإنه كان ينصر النبي صلى الله عليه وسلم بلسانه ويده. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسان بن ثابت (رض)
٣٦٩٥٣۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر سے باہر تشریف لائے اور حسان (رض) صحن میں پانی کا چھڑکاؤ کر رہے تھے جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) دو جماعتوں میں بٹے ہوئے تھے ان کے درمیان حسان (رض) کی ایک چھوٹی سی لڑکی جسے سیرین کے نام سے پکارا جاتا تھا ہاتھ میں باجا لیے گانا گا رہی تھی اور وہ یہ شعر گا رہی تھی۔

ھل علی ویحکم ان لھوت من حرج

تمہاری ہلاکت ! اگر میں گانا گا ؤن مجھ پر کوئی حرج ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے اور فرمایا : کوئی حرج نہیں۔ (رواہ ابن عساکر وفیہ عبد الرحمن بن حارث الملقب جحدؤ وقال ابن عدی یسرق والحدیث)
36953- عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج وقد رش حسان فناء أطمة وأصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم سماطان1 وبينهم جارية لحسان يقال لها سيرين معها مزهر لها تغنيهم وهي تقول في غنائها: هل علي ويحكم ... إن لهوت من حرج فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: لا حرج. "كر"، وفيه عبد الرحمن بن الحارث الملقب جحدر، قال "عد": يسرق الحديث.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسان بن ثابت (رض)
٣٦٩٥٤۔۔۔ اسماء بنت ابی بکر (رض) کہتی ہیں : ایک مرتبہ حضرت زبیر بن عوام (رض) صحابہ (رض) کی ایک مجلس کے پاس سے گزرے اہل مجلس کو حسان (رض) اشعار سنا رہے تھے مگر اہل مجلس محفوظ نہیں ہو رہے تھے زبیر (رض) ان کے ساتھ مل بیٹھے اور کہا : تم لوگ شوق سے ابن فریعہ کے اشعار کیوں نہیں سنتے ؟ حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے اشعار سنتے تھے اور اسے داد دیتے اور آپ اعراض نہیں کرتے تھے۔ (رواہ ابن جریر وابو نعیم وابن عساکر)
36954- عن أسماء بنت أبي بكر قالت: مر الزبير بن العوام بمجلس من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وحسان ينشدهم من شعره وهم غير نشاط لما يسمعون منه، فجلس معهم الزبير ثم قال: مالي أراكم غير أذنين1 لما تسمعون من شعر ابن الفريعة؟ فقد كان يعرض به رسول الله صلى الله عليه وسلم فيحسن استماعه ويجزل عليه ثوابه ولا يشتغل عنه بشيء."ابن جرير وأبو نعيم، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسان بن ثابت (رض)
٣٦٩٥٥۔۔۔ عطاء بن ابی رباح کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابت (رض) حضرت عائشہ (رض) کے پاس آئے حسان (رض) اس وقت نابینا ہوچکے تھے حضرت عائشہ (رض) نے ان کے لیے تکیہ رکھ دیا اتنے میں عبد الرحمن بن ابی بکر (رض) داخل ہوئے اور کہا : تم اس شخص کے لیے تکیہ رکھ رہی ہو حالن کہ اس نے ایسا ایسا کہا ہے ! حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے جواب دیتا تھا اور آپ کے سینے کو دشمنوں کے متعلق شفا بخشتا تھا اب یہ نابینا ہوچکا ہے مجھے امید ہے کہ آخرت میں اسے عذاب نہیں ہوگا۔ (رواہ ابن عساکر)
36955- عن عطاء بن أبي رباح قال دخل حسان بن ثابت على عائشة بعد ما عمي فوضعت له وسادة، فدخل عبد الرحمن بن أبي بكر فقال: أجلستيه على وسادة وقد قال ما قال! فقالت إنه: كان يجيب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ويشفي صدره من أعدائه وقد عمي وإني لأرجو أن لا يعذب في الآخرة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسان بن ثابت (رض)
٣٦٩٥٦۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں : ایک مرتبہ انصار کی ایک جماعت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور انھوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کی قوم نے ہماری مذمت میں (ہجو میں) اشعار کہے ہیں، اگر آپ بھی ہمیں اجازت مرحمت فرمائیں ہم بھی انھیں جواب دیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے یہ بات بری نہیں لگتی کہ تم ایسے لوگوں سے بدلہ لو جنہوں نے تمہارے اوپر ظلم کیا ہے ابن رواحہ کے پاس تمہیں جانا چاہیے چونکہ وہ نسب دانی کا علم رکھتا ہے چنانچہ انصار حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) کے پاس گئے اور کہا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اجازت دی ہے کہ ہم (بھی اشعار کہہ کہ) قریش سے بدلہ لیں لہٰذا قریش کی ہجو میں اشعار کہو۔ چنانچہ عبداللہ بن رواحہ (رض) نے اشعار کہے لیکن پر از ہجونہ کہے جو کہ انصار چاہتے تھے انصار کعب بن مالک (رض) کے پاس آئے اور کہا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اجازت دی ہے کہ ہم قریش سے بدلہ لیں چنانچہ کعب بن مالک (رض) نے بھی اشعار کہے جو ہجو میں ابن رواحہ (رض) کے اشعار سے قدرے بڑھے ہوئے تھے لیکن انصار کا مقصد یہاں بھی پورا نہ ہوا پھر یہ لوگ حضرت حسان بن ثابت (رض) کے پاس آئے ان سے یہی فرمائش کی حضرت حسان (رض) نے کہا : میں اس وقت تک اشعار نہیں کہوں گا جب تک میں خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مل نہ لوں۔ چنانچہ حسان (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا یا رسول اللہ ! آپ نے ان لوگوں کو واقعہ کی اجازت دی ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں برا نہیں سمجھتا کہ یہ لوگ ظالموں سے بدلہ لیں اے حسان مسلسل تمہاری تائید جبرائیل امین کرتے رہیں گے جب تک تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا (اشعار کے ذریعے) دفاع کرتے رہو گے (رواہ الذھلی فی الدھریات وابن عساکر)
36956- عن عائشة قالت: مشت الأنصار إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: يا رسول الله! إن قومك قد تناولوا منا فإن أذنت لنا أن نرد عليهم فعلنا! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما أكره أن تنتصروا ممن ظلمكم وعليكم بابن رواحة فإنه أعلم القوم بهم، فمشوا إلى عبد الله بن رواحة فقالوا: إن النبي صلى الله عليه وسلم قد أذن لنا أن ننتصر من قريش فقل، فقال عبد الله بن رواحة في ذلك شعرا فلم يبلغ ذلك منهم الذي أرادوا، فأتوا كعب بن مالك فقالوا: إن النبي صلى الله عليه وسلم قد أذن لنا أن ننتصر من قريش، فقال: كعب بن مالك في ذلك شعرا هو أمتن من شعر عبد الله بن رواحة فلم يبلغ منهم الذي أرادوا، فأتوا حسان بن ثابت فقالوا له: إن النبي صلى الله عليه وسلم قد أذن لنا أن ننتصر من قريش فقل، فقال حسان: لست فاعلا حتى أسمع ذلك النبي صلى الله عليه وسلم، فانطلق معهم حتى أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! أنت أذنت لهؤلاء؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما أكره أن ينتصروا ممن ظلمهم، وأنت يا حسان لم تزل مؤيدا بروح القدس ما نافحت - وفي لفظ: ما كافحت - عن رسول الله صلى الله عليه وسلم. "الذهلي في الزهريات كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسان بن ثابت (رض)
٣٦٩٥٧۔۔۔ ” مسند عائشہ “ محمد بن عوف طائی آدم بن ابی ابس ابن ابی ذئب محمد بن عرف عطاز کو ان یمان کی سند سے حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قریش کی ہجو کرو۔ چونکہ ہجو کے اشعار قریش پر تیروں کی بارش سے بھی زیادہ سخت ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن رواحہ (رض) کی طرف پیغام بھیجا کہ قریش کی ہجو کرو ابن رواحہ (رض) نے اشعار کہے لیکن آپ (رض) اس سے راضی نہ ہوئے آپ نے کعب بن مالک (رض) کو پیغام بھیجا پھر ان کے بعد حسان بن ثابت (رض) کو پیغام بھیجا جب آپ کے پاس حضرت حسان (رض) داخل ہوئے عرض کیا : اب وقت آچکا ہے کہ تم اس بپھرے ہوئے شیر کو پیغام بھیجو جو اپنی دم سے حملہ کرے گا پھر اپنی زبان گھما کر کہا قسم اس ذات کی جس نے آپ کو برحق مبعوث کیا ہے میں ان لوگوں کو اپنی زبان سے ایسا کاٹوں گا کہ حق ادا کردوں گا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جلدی نہ کرو یقیناً ابوبکر قریش کے سب سے بڑے نسب دان ہیں اور میرا سلسلہ نسب بھی قریش میں ہے اور مجھے ان سے الگ تھلگ رکھا ہے حسان (رض) ابوبکر (رض) کے پاس آئے اور نسب دانی کا ضروری علم لے کر واپس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کا نسب الگ کردیا ہے قسم اس ذات کی جس نے آپ کو برحق مبعوث کیا ہے میں آپ کو قریش سے اس طرح نکالوں گا جس طرح بال آٹے سے باہر نکال لیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں : جبرائیل امین تمہاری تائید کرتے رہتے ہیں جبتک تم اللہ اور اللہ کے رسول کا دفاع کرتے رہتے ہو۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ (اے حسان) مشرکین کی ہجو کرو حضرت حسان (رض) نے خوب ہجو کی (رواہ ابن جریروابو نعیم)
36957- "مسند عائشة" حدثنا محمد بن عوف الطائي حدثنا آدم بن أبي إياس حدثنا ابن أبي ذئب حدثنا محمد بن عمر بن عطاء عن ذكوان عن يمان عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اهجوا قريشا فإنه أشد عليهم من رشق النبل، فأرسل إلى ابن رواحة فقال: اهجهم، فهجاهم فلم يرض، فأرسل إلى كعب بن مالك، ثم أرسل إلى حسان بن ثابت، فلما دخل عليه حسان قال: قد آن لكم أن ترسلوا إلى هذا الأسد الضارب بذنبه ثم أدلع لسانه فجعل يخرجه فقال: والذي بعثك بالحق! لأفرينهم بلساني فري1 الأديم! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تعجل فإن أبا بكر أعلم قريش بأنسابها وإن لي فيهم نسبا حتى يخلص نسبي، فأتاه حسان ثم رجع فقال: يا رسول الله! قد خلصت نسبك والذي بعثك بالحق لأسلنك منهم كما تسل الشعرة من العجين! قالت عائشة: فسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لحسان: إن روح القدس لا يزال مؤيدك ما نافحت عن الله ورسوله، وقالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: هجاهم فشفى واشتفى. "ابن جرير وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسان بن ثابت (رض)
٣٦٩٥٨۔۔۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن کی روایت ہے کہ جب قریش نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجو میں اشعار کہے اس سے آپ کبیدہ خاطر ہوئے اور آپ نے حضرت عبداللہ بن رواحہ سے فرمایا : قریش کی ہجو کرو چنانچہ قریش کی ہجو کی لیکن زیادہ بلیغ ہجو نہ کرسکے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اس سے خوش نہ ہوئے آپ نے حضرت کعب بن مالک (رض) کو پیغام بھیجا کہ قریش کی ہجو کرو کعب (رض) نے بھی ہجو کی لیکن وہ بھی زیادہ بلیغانہ انداز نہ اپنا سکے اور نہ ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے خوش ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسان بن ثابت کو پیغام بھیجا حالانکہ آپ انھیں پیغام بھیجنا اچھا نہیں سمجھتے تھے جب قاصد پہنچا اس نے کہا قریش کی ھجو میں اشعار کہو کیا : وقت آگیا ہے کہ تم اس بپھرے ہوئے شیر کو پیغام بھیجو جو اپنی دم سے حملہ کرے حسان بن ثابت (رض) نے کہا : قسم اس ذات کی جس نے آپ کو مبعوث کیا ہے ؟ میں اپنی اس زبان سے ان کا بھرگس نکالوں گا پھر حسان (رض) نے اپنی زبان نکالی عائشہ (رض) کہتی ہیں : بخدا ! حسان (رض) کی زبان گویا سانپ کی زبان تھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قریش میں میرا نسب ہے مجھے خدشہ ہے کہیں تم مجھے بھی ان میں خلط نہ کردو لہٰذا ابوبکر کے پاس جاؤ وہ قریش کے سب سے بڑے نسب دان ہیں وہ میرا نسب تمہیں الگ کرکے بتائیں گے حسان (رض) نے عرض کیا : قسم اس ذات کی جس نے آپ کو برحق مبعوث کیا ہے میں آپ کو قریش سے اس طرح نکالوں گا جس طرح آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے چنانچہ حسان (رض) نے قریش کی ہجو کی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا اے حسان تم نے شفا دی اور خود بھی شفاء پائی ہے (یعنی بھرپور ہجو کی ہے) ۔ (رواہ ابن عساکر)
36958- عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال: لما أن هجت قريش النبي صلى الله عليه وسلم أحزنه ذلك فقال لعبد الله بن رواحة: اهج قريشا، فهجاهم هجاء ليس بالبليغ إليهم، فلم يرض بذلك، فبعث إلى كعب بن مالك فقال: اهج قريشا، فهجاهم هجاء لم يبالغ فيه، فلم يرض بذلك، فبعث إلى حسان بن ثابت وكان يكره أن يبعث إلى حسان، فقال حين جاءه الرسول أن اهج قريشا: قد آن لكم أن تبعثوا إلى هذا الأسد الضارب بذنبه فقال حسان بن ثابت: والذي بعثك بالحق لأفرينهم بلساني هذا! ثم أطلع لسانه - فتقول عائشة: والله لكأن لسانه لسان حية - فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن لي فيهم نسبا وأنا أخشى أن تصيب بعضه فأت أبا بكر فإنه أعلم قريش بأنسابها فيخلص لك نسبي، قال حسان: والذي بعثك بالحق لأسلنك منهم ونسبك مثل سل الشعرة من العجين! فهجاهم حسان فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: لقد شفيت يا حسان واشتفيت. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسان بن ثابت (رض)
٣٦٩٥٩۔۔۔ ” مسند انس “ عدی بن ثابت حضرت انس (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسان (رض) سے فرمایا : قریش کی ہجو کرو جبرائیل امین تمہاری مدد کریں گے۔ (رواہ ابن عساکر وقال لصحیف من ابن ادریس الداوی عن شعبۃ وانما ھو عن البراء)
36959- "مسند أنس" عن عدي بن ثابت عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لحسان: اهجهم - أو هاجهم - وجبريل يعينك. "كر وقال: هذا تصحيف من ابن ادريس الراوي عن شعبة وإنما هو عن البراء".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض)
٣٦٩٦٠۔۔۔ محمد بن سیرین کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) جب کسی علاقہ میں اپنا گورنر مقرر کرتے آپ (رض) عہد نامہ کے طور پر کچھ بھیجے ! اے لوگو ! اپنے امیر کی بات سنو اور جب تک تمہارے ساتھ عدل و انصاف کرے اس کی اطاعت کرو چنانچہ جب حذیفہ (رض) کو مدائن کا گورنر مقرر کیا تو آپ نے لکھ بھیجا : اس کی بات سنو اور اطاعت بجالاؤ اور جو چیز تم سے مانگے اسے دو ۔ چنانچہ حذیفہ (رض) حضرت عمر (رض) سے رخصت ہوئے اور ایک گدھے پر سوار ہوئے جب کہ دوسرے گدھے پر ان کا زادراہ تھا جب آپ (رض) مدائن پہنچے تو وہاں کے شہریوں اور دیہاتیوں نے حذیفہ (رض) کا استقبال کیا حضرت حذیفہ (رض) کے ہاتھ میں ایک چپاتی اور گوشت کی ایک ہڈی تھی اور گدھے پر سوار تھے حذیفہ (رض) نے اہل مدائن کو عمر (رض) کانوشتہ عہد پڑھ کر سنایا لوگوں نے کہا : آپ جو چاہے ہم سے مانگیں ؟ حذیفہ (رض) نے فرمایا : میں تم سے اپنے لیے کھانا اور گدھوں کے لیے چارا مانگتا ہوں جب تک میں تمہارے درمیان موجود رہوں گا میں تم سے یہی مانگوں گا چنانچہ حذیفہ (رض) جتنا عرصہ اللہ تعالیٰ نے چاہا مدائن میں رہے پھر عمر (رض) نے لکھ بھیجا کہ میرے پاس آؤ جب عمر (رض) کو حذیفہ (رض) کے مدینہ پہنچ جانے کی خبر ہوئی کہ وہ ایسی جگہ ہیں جہاں انھیں دیکھتا جب عمر (رض) نے انھیں دیکھا کہ وہ اسی حال پر ہیں جس حال پر وہ یہاں سے گئے تھے ان کے پاس آئے اور ان سے چمٹ گئے اور فرمایا : تو میرا بھائی ہے اور میں تیرا بھائی ہوں۔ (رواہ ابن سعد وابن عساکر)
36960- عن محمد بن سيرين قال: كان عمر بن الخطاب إذا بعث عاملا كتب في عهده أن اسمعوا له واطيعوا ما عدل عليكم فلما استعمل حذيفة على المدائن كتب في عهده أن اسمعوا له وأطيعوا واعطوه ما سألكم، فخرج حذيفة من عند عمر على حمار مؤكف وعلى الحمار زاده، فلما قدم المدائن استقبله أهل الأرض والدهاقين وبيده رغيف وعرق من لحم إكاف فقرأ عهده عليهم، فقالوا: سلنا ما شئت؟ قال: أسألكم طعاما آكله وعلف حماري هذا ما دمت فيكم، فأقام فيهم ما شاء الله، ثم كتب إليه عمر أن اقدم فلما بلغ عمر قدومه كمن له على الطريق في مكان لا يراه، فلما رآه عمر على الحال الذي خرج من عنده عليه أتاه فالتزمه وقال: أنت أخي وأنا أخوك."ابن سعد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض)
٣٦٩٦١۔۔۔” مسند عمر (رض) “ حمید بن ہلاک کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس ایک شخص کی میت لائی گئی تاکہ آپ (رض) اس پر نماز جنازہ پڑھیں حضرت عمر (رض) نے وضو کے لیے پانی منگوایا آپ کے پاس حضرت حذیفہ (رض) کھڑے تھے انھوں نے عمر (رض) کو انگلیوں سے کر یدناشروع کردیا کہ آپ اس پر نماز نہ پڑھیں حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جاؤ اور اپنے ساتھی پر نماز پڑھو حضرت عمر (رض) نے پوچھا : اے حذیفہ (رض) ان میں سے میں بھی ہوں کہا : نہیں فرمایا : میرے گورنروں میں سے کوئی (منافقین کی صف میں شامل) ہے ؟ جواب دیا ایک شخص ہے گویا آپ نے اس پر دلالت کردی اور اس سے گویا انھیں کشید کرلیا اور انھیں خبر نہیں کی۔ (رواہ رستۃ فی الایمان)
36961- "مسند عمر" عن حميد بن هلال قال: أتي عمر بن الخطاب برجل يصلي عليه فدعا بوضوء ليصلى عليه وعنده حذيفة فمرزه1 مرزة شديدة، قال عمر: اذهبوا فصلوا على صاحبكم - من غير أن يخبره، فقال عمر: يا حذيفة! أمنهم أنا؟ قال: لا، قال: ففي عمالي أحد منهم؟ قال: رجل واحد، وكأنما دل عليه حتى نزعه من غير أن يخبره."رستة في الإيمان".
tahqiq

তাহকীক: