কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬৯৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض)
٣٦٩٦٢۔۔۔ زیدبن وھب کی روایت ہے کہ منافقین میں سے ایک شخص مرگیا حضرت حذیفہ (رض) نے اس پر نماز پڑھی حضرت عمر (رض) نے ان سے فرمایا : کیا یہ انہی لوگوں (یعنی منافقین) میں سے ہے : حذیفہ (رض) نے جواب دیا : جی ہاں عمر (رض) نے پوچھا : اللہ کی قسم مجھے بتاؤ کیا میں ان میں سے ہوں ؟ حذیفہ (رض) نے جواب دیا : نہیں اور میں آپ کے بعد اس کی کسی کو خبر نہیں کروں گا۔ (رواہ رستۃ)
36962- عن زيد بن وهب قال: مات رجل من المنافقين فلم يصل عليه حذيفة، فقال له عمر: أمن القوم هذا؟ قال: نعم، قال: بالله أمنهم أنا؟ قال: لا، ولن أخبر به بعدك أحدا."رستة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض)
٣٦٩٦٣۔۔۔ حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ہجرت اور نصرت کے درمیان اختیار دیا چنانچہ میں نے نصرت کا انتخاب کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
36963- عن حذيفة بن اليمان قال: خيرني رسول الله صلى الله عليه وسلم بين الهجرة والنصرة فاخترت النصرة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض)
٣٦٩٦٤۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور تاقیامت جو کچھ ہونا ہے سب بیان فرمایا : اسے جس نے یاد رکھنا تھا یاد رکھا اور جس نے بھولنا تھا وہ بھول گیا : حالانکہ میرے یہ ساتھی اسے جانتے ہیں ممکن ہے کوئی چیز مجھے بھول جائے اور جب میں اسے دیکھوں وہ یاد آجائے جیسا کہ ایک شخص کو دوسرے کا چہرہ دیکھ کے یاد آجاتا ہے اور وہ اس سے غائب ہو اور جب اسے دیکھتا ہے پہچان لیتا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36964- عن حذيفة قال: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم مقاما ما ترك شيئا يكون في مقامه ذلك إلى قيام الساعة إلا حدث به، حفظه من حفظه ونسيه من نسيه وقد علمه أصحابي هؤلاء، وإنه ليكون الشيء قد نسيته فأراه فأذكره كما يذكر الرجل وجه الرجل إذا غاب عنه ثم إذا رآه عرفه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض)
٣٦٩٦٥۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) فرماتے ہیں : تم لوگ (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے) نرمی کے متعلق پوچھتے تھے جب کہ میں شدت کے متعلق پوچھتا تھا تاکہ میں اس سے گریزان رہوں ۔ مجھے وہ دن زیادہ محبوب ہے جس دن ضرورت مند لوگ مجھ سے شکایت کرتے ہیں چونکہ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندہ سے محبت کرتا ہے اسے آزمائش میں ڈال دیتا ہے کہ اے موت ، اسے خوب بھینچ اور خوب سختی کر۔ میرا دل نہیں چاہتا مگر تیری ہی محبت۔ (رواہ البیھقی فی الزھد وابن عساکر)
36965- عن حذيفة قال: كنتم تسألونه عن الرخاء وكنت أسأله عن الشدة لأتقيها ولقد رأيتني وما من يوم أحب إلي من يوم يشكو إلي فيه أهل الحاجة إن الله عز وجل إذا أحب عبدا ابتلاه، يا موت! غط غطك وسد سدك، أبى قلبي إلا حبك. "ق في الزهد كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض)
٣٦٩٦٦۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) کی روایت ہے ماہ رمضان میں ایک رات میں سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر آپ غسل کرنے کے لیے کھڑے ہوئے میں نے آپ کے آگے پردہ کردیا جب آپ غسل سے فارغ ہوئے برتن میں کچھ بچ گیا آپ نے فرمایا : اگر تم چاہو اسے باقی رہنے دو چاہو تو انڈیل دو میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ بچا ہوا پانی انڈیلے ہوئے سے مجھے زیادہ محبوب ہے میں نے اس سے غسل کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے آگے پردہ کیے رہے میں نے عرض کیا : آپ تکلیف نہ کروں اور پردہ کرنا رہنے دیں ۔ فرمایا : کیوں نہیں جیسا کہ تم نے میرے آگے پردہ کیا میں بھی تمہارے آگے ضرور پردہ کروں گا۔ (رواہ ابن عساکر)
36966- عن حذيفة قال: صليت ليلة مع النبي صلى الله عليه وسلم في شهر رمضان فقام يغتسل وسترته، ففضلت منه فضلة في الإناء فقال: إن شئت فأرعه1 وإن شئت فصب عليه، قلت: يا رسول الله! هذه الفضلة أحب إلي مما أصب عليه، فاغتسلت به وسترني فقلت: لا تسترني، فقال: بلى لأسترنك كما سترتني. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض)
٣٦٩٦٧۔۔ حضرت حذیفہ (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تنہا ہی سریہ کے طور پر بھیجا (رواہ ابن عساکر)
36967- عن حذيفة قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية وحدي. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض)
٣٦٨٦٨۔۔۔” ایضا “ ابوبختری کی روایت ہے حضرت حذیفہ (رض) نے فرمایا : اگر میں تمہیں ایک حدیث سنائی تمہارے تین لوگ میری تکذیب کریں گے ایک نوجوان انھیں دیکھ کر کھڑا ہوا اور کہا : جب ہم میں سے تین لوگ تمہاری تکذیب کریں گے پھر تمہاری تصدیق کون کرے گا ؟ حذیفہ (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خیر و بھلائی کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں شروبرائی کے متعلق سوال کرتا تھا حذیفہ (رض) سے پوچھا گیا : آپ ایسا کیوں کرتے تھے ؟ فرمایا : چونکہ جو شخص شروبرائی کا اعتراف کرتا ہے وہ بھلائی پر آسکتا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36968- "أيضا" عن أبي البختري قال قال حذيفة: لو حدثتكم بحديث لكذبني ثلاثة أثلاثكم فنظر إليه شاب فقال: من يصدقك إذا كذبك ثلاثة أثلاثنا؟ فقال إن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كانوا يسألون رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الخير وكنت أسأله عن الشر، فقيل له: وما حملك على ذلك فقال: إنه من اعترف بالشر وقع في الخير. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض)
٣٦٩٦٩۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) کہتے ہیں اگر میں کسی نہر کے کنارے ہوں اور چلو بھر پانی لینے کے لیے ہاتھ بڑھاؤں اس دوران میں تمہیں بناسکتا ہوں کہ میں کیا جانتا ہوں اور جب تک میرا ہاتھ میرے منہ تک پہنچے حتیٰ کہ مجھے قتل کردیا جائے۔ (رواہ یعقوب بن سفیان وابن عساکر)
36969- عن حذيفة قال: لو كنت على شاطئ نهر وقد مددت يدي لأغترف فحدثتكم بكل ما أعلم ما وصلت يدي إلى فمي حتى أقتل."يعقوب بن سفيان كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض)
٣٦٩٧٠۔۔۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت ہے کہ حضرت حذیفہ (رض) نے ہمیں کہا : یہ علم ہم نے حاصل کیا ہے اور تم تک پہنچا رہے ہیں اگرچہ ان پر ہم عمل نہیں کرتے ۔ (رواہ البیقی وابن عساکر)
36970- "أيضا" عن جابر بن عبد الله قال: قال لنا حذيفة: إنا حملنا هذا العلم وإنا نؤديه إليكم وإن كنا لا نعمل به. "ق في ... ، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض)
٣٦٩٧١۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) فرماتے ہیں : تم لوگوں نے میرے کفن میں حد سے تجاوز نہیں کرتا چونکہ اگر تمہارے صاحب کے پاس خیر بھلائی (نیکیاں) ہیں تو اس کا کفن بھلائی سے بدل دیا جائے گا ورنہ اس کا جیسا کیسا کفن ہو فورا چھین لیا جائے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
36971- عن حذيفة قال: لا تغالوا بكفني فإن يكن لصاحبكم عند الله خير يبدل خيرا من كسوتكم وإلا يسلب سلبا سريعا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض)
٣٦٩٧٢۔ حضرت حذیفہ (رض) نے فرمایا : میرے (کفن کے) لیے وہ دوسفید چادریں کافی ہیں اور ان کے ساتھ قمیص کی بھی ضرورت نہیں چونکہ میں نے بہت تھوڑا ترکہ چھوڑاحتیٰ کہ بھلائی سے بدل جائے یا شر سے بدل دیا جائے (رواہ ابن عساکر)
36972- عن حذيفة قال: يكفيني ريطتان بيضاوان ليس معهما قميص، فإني لا أترك إلا قليلا حتى أبدل خيرا منهما أو شرا منهما. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض)
٣٦٩٧٣۔۔۔ حسن بصری (رض) سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ (رض) نھے مرض الموت میں فرمایا : فاقہ کی حالت میں ایک دوست آن پہنچا ہے جو شخص نادم ہوجائے وہ فلاح پاتا کیا میرے بعد اس چیز کا وقوع نہیں ہوگا جسے میں جانتا ہوں تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے فتنہ اور اہل فتنہ سے پہلے نجات دی۔ (رواہ ابن عساکر)
36973- "أيضا" عن الحسن قال قال حذيفة في مرضه: حبيب جاء على فاقة لا أفلح من ندم، الحمد لله! أليس بعدي ما أعلم! الحمد لله الذي سبق بي الفتنة قادتها وعلوجها. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض)
٣٦٩٧٤۔۔۔ ابن سیرین کی روایت ہے کہ ابومسعود انصاری (رض) حضرت حذیفہ (رض) کے پاس مرض الوفات میں داخل ہوئے ابومسعود نے ان سے معانقہ کیا اور پھر کہا : فراق قریب ہے ؟ جواب دیا : جی ہاں ۔ فاقہ کی حالت میں ایک دوست آیا ہے ندامت خوردہ فلاح نہیں پاتا میرے بعد ان فتنوں کا وقوع نہیں ہوگا جنہیں میں جانتا ہوں۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
36974- "أيضا" عن ابن سيرين قال: دخل أبو مسعود الأنصاري على حذيفة في مرضه الذي مات فيه فاعتنقه وقال: الفراق! فقال: نعم، حبيب جاء على فاقة، لا أفلح من ندم، أليس بعدي ما أعلم من الفتن. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض)
٣٦٩٧٥۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت اور نصرت میں اختیار دیا میں نے نصرت کا انتخاب کیا۔ (رواہ ابونعیم)
36975- عن حذيفة قال: خيرني رسول الله صلى الله عليه وسلم بين الهجرة والنصرة، فاخترت النصرة."أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض)
٣٦٩٧٦۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) کہتے ہیں : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے غزوہ احزاب کی ایک رات مجھے تن تنہا سریہ کے طور پر بھیجا۔ (رواہ ابونعیم)
36976- عن حذيفة قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة الأحزاب سرية وحدي. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حذیفہ (رض)
٣٦٩٧٧۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ احد میں جب مشرکین ہزیمت زدہ ہوئے ابلیس لعین چیخ اٹھا کہ اے اللہ کے بندو ! اپنے پیچھے کا دھان رکھو چنانچہ آگے والے پیچھے ہٹ گئے وہ اور پیچھے والے گتھم گھتا ہوگئے۔ چنانچہ حذیفہ (رض) نے دیکھا کہ وہ اپنے باپ یمان کے پاس کھڑے ہیں اور کہا : اے اللہ کے بندو ! یہ ہے میرا باپ عائشہ (رض) کہتی ہیں بخدا مسلمانوں نے زرہ برابر بھی باک نہیں محسوس کی حتیٰ کہ ایمان کو قتل کردیا۔ حذیفہ (رض) نے کہا : اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے عروہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! حذیفہ (رض) جب تک زندہ رہے خیروبھلائی ان کے دامن میں پڑی رہی۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
36977- عن عائشة قالت: لما كان يوم أحد هزم المشركون وصاح إبليس: أي عباد الله! أخراكم، فرجعت أولاهم فاجتلدت هي وأخراهم، فنظر حذيفة فإذا هو بأبيه اليمان فقال: عباد الله! أبي أبي؛ قالت: فوالله ما احتجزوا حتى قتلوه! فقال حذيفة: غفر الله لكم! قال عروة: فوالله ما زالت في حذيفة بقية خير حتى لحق بالله. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حجان بن علاط سلمی (رض)
٣٦٩٧٨۔۔۔ یحییٰ بن یعمر لیثی ابن یسار علاطی جو کہ حجاج بن علاط (رض) کی اولاد میں سے ہیں کہتے ہیں مجھے میری دادی نے اپنے والد سے حدیث سنائی ہے کہ ابن علاط (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اجازت مرحمت فرمائی تھی نہ میں اپنی امانتوں کے متعلق جھوٹ بول لوں تاوقتیکہ میں ان امانتوں کو پالوں جو کہ مکہ میں تھیں چنانچہ میں نے اہل مکہ سے کہا : محمد مصیبت میں گرفتار ہوچکا ہے اس پر مجھے میری امانتیں دے دی گئیں پھر میں آدھی رات کے وقت نکلا حتیٰ کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو اور آپ کو سارا واقعہ سنایا۔ (رواہ ابن عساکر)
36978- عن يحيى بن يعمر الليثي حدثني ابن يسار العلاطي من ولد الحجاج بن علاط: حدثتني جدتي عن أمها أنها سمعت الحجاج بن علاط يقول: أذن لي رسول الله صلى الله عليه وسلم في ودائعي التي كانت بمكة أن أكذب حتى آخذها، فأخبرتهم أن محمدا قد أصيب، فدفعت إلي ودائعي، ثم خرجت في جوف الليل حتى أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو بخيبر فأخبرته بذلك. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حجان بن علاط سلمی (رض)
٣٦٩٧٩۔۔۔ حضرت واثلہ بن اسقع (رض) کہتے ہیں حضرت حجاج بن علاط (رض) کے اسلام لانے کا سبب یہ ہوا، کہ
وہ اپنی قوم کے چندسواروں کے ساتھ مکہ کی طرف عازم سفر ہوئے راستے میں انھیں وحشت زدہ خوفزدہ بیابان وادی میں رات ہوگئی ابن علاط (رض) سے ان کے ساتھیوں نے کہا اے ابوکلاب ! کھڑے ہوجاؤ اپنے لیے اور ہمارے لیے اس ڈراؤنی وادی
میں امان طلب کرو حجاج (رض) کھڑے ہوئے اور کہنے لگے۔
اعیذنفسی واعیذصحبی من کل جنی بھذا النقب حتی اؤوب سالماودکبی
میں اپنے لیے اور اپنے 6 رفقاء سفر کے لیے اس آندھی وادی میں ہر قسم کے جن سے پناہ مانگتا ہوں حتیٰ کہ میں صحیح وسالم اپنے رفقاء کے ساتھ واپس لوٹ جاؤں۔
یکایک ابن علاط (رض) نے کسی کہنے والے کو کہتے ہوئے سنا۔
یامعشرالجن والانس ان استعتم ان تنفذوا من اقطار السموات والاض فانفذوا لاتنفذون الا بسلطان
اے جنات اور انسانوں کی جماعت اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے اطراف سے (چھید بناکر) پار ہو جاؤ تو پار ہوجاؤ اور تم بغیر کسی صحبت کے پار نہیں جاسکتے “۔
جب مکہ پہنچے ابن علاط (رض) نے قریش کی ایک مجلس میں یہ واقعہ سنایا قریش بولے : اے ابوکلاب ، بخدا ! تم نے سچ کہا : یہ وہی کلام ہے جس کا دعویٰ محمد کرتا ہے کہ یہ اس پر نازل ہوتا ہے ؟ ابن علاط (رض) کہتے ہیں : یہ کلام میں میں نے بھی سنا اور انھوں نے بھی میرے ساتھ سنا۔ اسی اثناء میں عاص بن وائل آن پہنچا اہل مجلس نے اس سے کہا : اے ابوھشام کیا تم نے نہیں سنا کہ ابوکلاب کیا کہتا ہے ؟ وہ کیا کہتا ہے ؟ لوگوں نے اسے بھی سارا واقعہ سنایا اس نے کہا : بھلا اس نے تمہیں کیوں تعجب میں ڈالا ہے ؟ اس نے جس کسی کو وہاں سنا ہے اسی نے تو یہ کلام محمد کی زبان سے جاری کیا ہے جس نے اس قوم کو مجھ سے روک دیا ابن علاط (رض) کہتے ہیں : قریش کی گفتگو نے میری بصیرت میں اور زیادہ اضافہ کیا : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق دریافت کیا مجھے بتایا گیا کہ مکہ سے مدینہ جاچکے ہیں میں اپنی اونٹنی پر سوار ہو اور سیدھا چلتا ہوا مدینہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو کچھ میں نے سنا اس کی آپ کو خبر کی آپ نے فرمایا : بخدا تم نے حق سنا ہے یہ میرے رب کا کلام ہے جو کہ مجھ پر نازل فرمایا ہے اے ابن علاط تم نے یقیناً حق سنا ہے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے اسلام کی تعلیم دیں آپ نے مجھے کلمہ اخلاص یعنی کلمہ شہادت کی تلقین کی اور مجھے حکم دیا : اپنی قوم کے پاس چلے جاؤ اور انھیں بھی اس حق کی دعوت دو جس کی میں نے تمہیں دعوت دی ہے۔ (رواہ ابن ابی الدنیا فی ھواتف الجان وابن عساکر وفیہ ایوب بن سوید ومحمد بن عبداللہ اللیشی وھما ضعیفان)
وہ اپنی قوم کے چندسواروں کے ساتھ مکہ کی طرف عازم سفر ہوئے راستے میں انھیں وحشت زدہ خوفزدہ بیابان وادی میں رات ہوگئی ابن علاط (رض) سے ان کے ساتھیوں نے کہا اے ابوکلاب ! کھڑے ہوجاؤ اپنے لیے اور ہمارے لیے اس ڈراؤنی وادی
میں امان طلب کرو حجاج (رض) کھڑے ہوئے اور کہنے لگے۔
اعیذنفسی واعیذصحبی من کل جنی بھذا النقب حتی اؤوب سالماودکبی
میں اپنے لیے اور اپنے 6 رفقاء سفر کے لیے اس آندھی وادی میں ہر قسم کے جن سے پناہ مانگتا ہوں حتیٰ کہ میں صحیح وسالم اپنے رفقاء کے ساتھ واپس لوٹ جاؤں۔
یکایک ابن علاط (رض) نے کسی کہنے والے کو کہتے ہوئے سنا۔
یامعشرالجن والانس ان استعتم ان تنفذوا من اقطار السموات والاض فانفذوا لاتنفذون الا بسلطان
اے جنات اور انسانوں کی جماعت اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے اطراف سے (چھید بناکر) پار ہو جاؤ تو پار ہوجاؤ اور تم بغیر کسی صحبت کے پار نہیں جاسکتے “۔
جب مکہ پہنچے ابن علاط (رض) نے قریش کی ایک مجلس میں یہ واقعہ سنایا قریش بولے : اے ابوکلاب ، بخدا ! تم نے سچ کہا : یہ وہی کلام ہے جس کا دعویٰ محمد کرتا ہے کہ یہ اس پر نازل ہوتا ہے ؟ ابن علاط (رض) کہتے ہیں : یہ کلام میں میں نے بھی سنا اور انھوں نے بھی میرے ساتھ سنا۔ اسی اثناء میں عاص بن وائل آن پہنچا اہل مجلس نے اس سے کہا : اے ابوھشام کیا تم نے نہیں سنا کہ ابوکلاب کیا کہتا ہے ؟ وہ کیا کہتا ہے ؟ لوگوں نے اسے بھی سارا واقعہ سنایا اس نے کہا : بھلا اس نے تمہیں کیوں تعجب میں ڈالا ہے ؟ اس نے جس کسی کو وہاں سنا ہے اسی نے تو یہ کلام محمد کی زبان سے جاری کیا ہے جس نے اس قوم کو مجھ سے روک دیا ابن علاط (رض) کہتے ہیں : قریش کی گفتگو نے میری بصیرت میں اور زیادہ اضافہ کیا : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق دریافت کیا مجھے بتایا گیا کہ مکہ سے مدینہ جاچکے ہیں میں اپنی اونٹنی پر سوار ہو اور سیدھا چلتا ہوا مدینہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو کچھ میں نے سنا اس کی آپ کو خبر کی آپ نے فرمایا : بخدا تم نے حق سنا ہے یہ میرے رب کا کلام ہے جو کہ مجھ پر نازل فرمایا ہے اے ابن علاط تم نے یقیناً حق سنا ہے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے اسلام کی تعلیم دیں آپ نے مجھے کلمہ اخلاص یعنی کلمہ شہادت کی تلقین کی اور مجھے حکم دیا : اپنی قوم کے پاس چلے جاؤ اور انھیں بھی اس حق کی دعوت دو جس کی میں نے تمہیں دعوت دی ہے۔ (رواہ ابن ابی الدنیا فی ھواتف الجان وابن عساکر وفیہ ایوب بن سوید ومحمد بن عبداللہ اللیشی وھما ضعیفان)
36979- عن واثلة بن الأسقع قال: كان سبب إسلام الحجاج ابن علاط البهزي ثم السلمي أنه خرج في ركب من قومه يريد مكة، فلما جن عليهم الليل وهم في واد وحش مخيف قفر فقال له أصحابه: يا أبا كلاب! قم فاتخذ لنفسك ولأصحابك أمانا، فقام الحجاج فجعل يقول:
أعيذ نفسي وأعيذ صحبي. ... من كل جني بهذا النقب حتى أؤوب سالما وركبي ...
فسمع قائلا يقول: {يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْأِنْسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَنْفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانْفُذُوا لا تَنْفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ} فلما قدموا مكة أخبر بذلك في نادي قريش، فقالوا صدقت والله يا أبا كلاب! إن هذا مما يزعم محمد أنه أنزل عليه؟ قال: قد والله سمعته وسمعه هؤلاء معي! فبينما هم كذلك إذ جاء العاصي بن وائل، فقالوا له: يا أبا هشام! أما تسمع ما يقول أبو كلاب؟ قال: وما يقول؟ فخبروه بذلك، فقال: وما يعجبكم من ذلك؟ إن الذي سمعه هناك هو الذي ألقاه على لسان محمد، فنههنه1 ذلك القوم عني ولم يزدني في الأمر إلا بصيرة، فسألت عن النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرت أنه قد خرج من مكة إلى المدينة فركبت راحلتي وانطلقت حتى أتيت النبي صلى الله عليه وسلم بالمدينة فأخبرته بما سمعت فقال: سمعت والله الحق! هو والله من كلام ربي عز وجل الذي أنزل علي ولقد سمعت حقا يا أبا كلاب! فقلت: يا رسول الله! علمني الإسلام، فشهدني كلمة الإخلاص وقال: سر إلى قومك فادعهم إلى مثل ما أدعوك إليه فإنه الحق. "ابن أبي الدنيا في هواتف الجان، كر وفيه أيوب بن سويد ومحمد بن عبد الله الليثي ضعيفان
أعيذ نفسي وأعيذ صحبي. ... من كل جني بهذا النقب حتى أؤوب سالما وركبي ...
فسمع قائلا يقول: {يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْأِنْسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَنْفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانْفُذُوا لا تَنْفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ} فلما قدموا مكة أخبر بذلك في نادي قريش، فقالوا صدقت والله يا أبا كلاب! إن هذا مما يزعم محمد أنه أنزل عليه؟ قال: قد والله سمعته وسمعه هؤلاء معي! فبينما هم كذلك إذ جاء العاصي بن وائل، فقالوا له: يا أبا هشام! أما تسمع ما يقول أبو كلاب؟ قال: وما يقول؟ فخبروه بذلك، فقال: وما يعجبكم من ذلك؟ إن الذي سمعه هناك هو الذي ألقاه على لسان محمد، فنههنه1 ذلك القوم عني ولم يزدني في الأمر إلا بصيرة، فسألت عن النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرت أنه قد خرج من مكة إلى المدينة فركبت راحلتي وانطلقت حتى أتيت النبي صلى الله عليه وسلم بالمدينة فأخبرته بما سمعت فقال: سمعت والله الحق! هو والله من كلام ربي عز وجل الذي أنزل علي ولقد سمعت حقا يا أبا كلاب! فقلت: يا رسول الله! علمني الإسلام، فشهدني كلمة الإخلاص وقال: سر إلى قومك فادعهم إلى مثل ما أدعوك إليه فإنه الحق. "ابن أبي الدنيا في هواتف الجان، كر وفيه أيوب بن سويد ومحمد بن عبد الله الليثي ضعيفان
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسان بن شداد طھوی (رض)
٣٦٩٨٠۔۔۔ یعقوب بن عفیدہ بن عفاص بن حسان بن شداد اپنے آباؤ اجداد کی سند سے حسان بن شداد (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ میری والدہ مجھے لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا : یارسول اللہ ! میں آپ اس لیے آئی ہوں تاکہ آپ میرے اس بیٹے کے لیے دعا کریں تاکہ یہ پاکیزہ حالت میں بڑا ہو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اور اپنا چہرہ اقدس صاف کیا اور فرمایا : یا اللہ اس عورت کے لیے اس بچے میں برکت عطا فرما اور اسے
پاکیزہ حالت میں بڑا کردے۔ (رواہ ابونعیم)
پاکیزہ حالت میں بڑا کردے۔ (رواہ ابونعیم)
36980- عن يعقوب بن عضيدة بن عفاص بن حسان بن شداد عن أبيه عضيدة عن أبيه عفاص عن جده حسان بن شداد أن أمه وفدت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله! إني وفدت إليك لتدعو لابني هذا وأن تجعله كبيرا طيبا فتوضأ من فضل وضوئه ومسح وجهه وقال: اللهم! بارك لها فيه واجعله كبيرا طيبا. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حکیم بن حزام (رض)
٣٦٩٨١۔۔۔ حضرت حکیم بن حزام (رض) کہتے ہیں : میں نے اس شرط پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کی کہ میں سجدہ نہیں کروں گا مگر کھڑے ہو کر۔ (رواہ الطبرانی والنسائی والطبرانی و ابونعیم)
36981- قال: بايعت النبي صلى الله عليه وسلم على أن لا أخر إلا قائما. "ط، ن، طب وأبو نعيم".
তাহকীক: