কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬৯৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حکیم بن حزام (رض)
٣٦٩٨٢۔۔۔ حضرت حکیم بن حزام (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ایک درینا میں قربانی کا جانور خریدنے کے لیے بھیجا انھوں نے ایک دینار میں بکری خریدی اور دو دینار میں بیچ دی پھر ایک دینار میں ایک بکری اور خریدلی چنانچہ ایک بکری اور ایک دینار لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدمت میں حاضر ہوئے آپ نے ان کے برکت کی دعا کی اور حکم دیا کہ اس دینار کو صدقہ کردو۔ (رواہ عبدالرزاق وابن ابی شیبۃ)
36982 عن حكيم بن حزام أن النبي صلى الله عليه وسلم بعثه يشتري له أضحية بدينار ، فاشتراها ثم باعها بدينارين ، فاشترى شاة بدينار وجاء بدينار فدعا له النبي صلى الله عليه وسلم بالبركة وأمره أن يتصدق بالدينار (عب ، ش).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حزن بن ابی وھب مخزومی (رض)
٣٦٩٨٣۔۔۔ سعید بن مسیب اپنے والد کے واسطہ سے دادا کی روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے پوچھا : تمہارا کیا نام ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : میرا نام حزن ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلکہ تمہارا نام سہل ہے حزن (رض) نے کہا : میں اپنا نام تبدیل نہیں کروں گا چونکہ میرا نام میرے والد نے رکھا ہے۔ ابن مسیب کہتے ہیں : اس کے بعد ہمارے خاندان سے سختی ختم نہیں ہوئی۔ (رواہ ابونعیم)
فائدہ :۔۔۔ حزن کا معنی ہے سختی اور سہل کا معنی ہے آسانی حدیث سے معلوم ہوا اگر کسی کا نام اچھا نہ ہوبدل دینا چاہیے نیز معلوم ہوا کہ شخصیت پر نام کا بھی گہرا اثر ہوتا ہے۔ اس لیے والدین پر واجب ہے کہ وہ اولاد کا اچھا نام رکھیں ۔
فائدہ :۔۔۔ حزن کا معنی ہے سختی اور سہل کا معنی ہے آسانی حدیث سے معلوم ہوا اگر کسی کا نام اچھا نہ ہوبدل دینا چاہیے نیز معلوم ہوا کہ شخصیت پر نام کا بھی گہرا اثر ہوتا ہے۔ اس لیے والدین پر واجب ہے کہ وہ اولاد کا اچھا نام رکھیں ۔
36983- عن سعيد بن المسيب عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له: ما اسمك؟ قال: حزن، قال: بل أنت سهل، قال: لا أغير اسما سمانيه أبي؛ قال ابن المسيب: فما زالت فينا حزونة بعد. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حزام (یاحازم) الجذامی (رض))
٣٦٩٨٤۔۔۔” مسند حزام “ مدرک بن سلمان اپنے والد سلیمان سے وہ اپنے والد عقبہ شبیب سے ” وہ اپنے والد شبیب سے وہ اپنے دادا ھزم (رض) سے روایت نقل کرکے ہیں : وہ کہتے ہیں : میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے مجھ سے پوچھا تمہارا کیا نام ہے ؟ میں نے عرض کیا : میرا نام حازم ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلکہ تمہارا نام مطعم ہے۔ (رواہ ابونعیم)
36984- "مسنده" عن مدرك بن سليمان عن أبيه سليمان بن عقبة عن أبيه عقبة بن شبيب عن أبيه عن جده حازم قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقال لي: ما اسمك؟ قلت: حازم، فقال: أنت مطعم. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حزام (یاحازم) الجذامی (رض))
٣٦٩٨٥۔۔۔ مستدرک بن سلمان جذامی، سلیمانبن عقبہ، عقبہ بن شیب کی سند سے مروی ہے کہ حازم بن حزا، جذامی (رض) کہتے ہیں : میں ایک شکار لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکار آپ کو یدیہ کردیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہدیہ قبول فرمایا اور مجھے اپنا عمامہ پہنایا اور میرا نام حذام رکھا۔ (رواہ بن مندہ و ابونعیم وابن عساکر)
36985- عن مدرك بن سليمان الجذامي حدثني سليمان بن عقبة عن أبيه عقبة بن شبيب عن جده حازم بن حزام الجذامي قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم بصيد اصطدته فأهديتها ، فقبلها رسول الله صلى الله عليه وسلم وكساني عصابته وسماني حزاما (ابن منده وأبو نعيم ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حزابہ بن نعیم (رض)
٣٦٩٨٦۔۔۔ نعیم بن طریق بن معروف بن عمرو ابن حزابہ ابن نعیم اپنے والد اور دادا کی سند سے نقل کرتے ہیں ان کے دادا حرابہ (رض) کہتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں تبوک میں حاضر ہوا۔ (رواہ ابونعیم)
36986- عن نعيم بن طريف بن معروف بن عمرو بن حزابة بن نعيم حدثني أبي عن معروف بن عمرو بن حزابة بن نعيم عن أبيه عن جده حزابة قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم بتبوك."أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حکیم بن عمرو بن ثرید (رض)
٣٦٩٨٧۔۔۔ حضرت حکیم بن عمر بن ثرید (رض) کہتے ہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نما زپڑھی ایک آدمی کو چھینک آئی اس پر اس نے کہا : یرحمک اللہ، اس پر بعض صحابہ (رض) ہنس پڑے۔ (رواہ الحسن بن سفیان و ابونعیم)
36987- عن الحكم بن عمرو بن الشريد قال: صليت خلف النبي صلى الله عليه وسلم فعطس رجل فقال: يرحمك الله! فضحك بعض القوم."الحسن بن سفيان وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حارث بن مالک (یاحارثہ بن نعمان) انصاری (رض)
٣٦٩٨٨۔۔۔ حضرت حارث بن مالک انصاری (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا آپ کے فرمایا : اے حارث ! تم نے صبح کس مال میں کی ہے ؟ میں نے عرض کیا : میں نے پکے اور سچے مومن کی حالت میں صبح کی ہے ارشاد فرمایا : زرہ دیکھوتم کیا کہہ رہے ہوچونکہ ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے بھلاتمہارے ایمان کی کیا حقیقت ہے ؟ میں نے عرض کیا : میں نے اپنے آپ کو دنیا سے الگ کرلیا اسی کے لیے میں رات کو جاگتا رہا اور دن کو پیاسا رہا گویا میں سرعام اپنے رب تعالیٰ کے عرش کی طرف دیکھ رہا ہوں بیدار گویا میں اہل جنت کو ایک دوسرے کی زیارت (ملاقات) کرتے دیکھ رہا ہوں گویا میں اہل دوزخ کو دوزخ میں چیخ و پکار کرتے دیکھ رہا ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار فرمایا : اے حارث تم نے اپنے ایمان کی حقیقت پہچان لی لہٰذا اسی کو لازم رکھو۔ (رواہ الطبرانی و ابونعیم)
36988- عن الحارث بن مالك الأنصاري قال: مررت بالنبي صلى الله عليه وسلم فقال: كيف أصبحت يا حارث؟ قلت: أصبحت مؤمنا حقا، فقال: انظر ما تقول! فإن لكل شيء حقيقة فما حقيقة إيمانك؟ قلت: قد عزفت نفسي عن الدنيا وأسهرت لذلك ليلى وأظمأت نهاري وكأني أنظر إلى عرش ربي بارزا وكأني أنظر إلى أهل الجنة يتزاورون فيها وكأني أنظر إلى أهل النار يتضاغون فيها ، فقال : يا حارث ! عرفت فالزم - قالها ثلاثا (طب وأبو نعيم)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حارث بن مالک (یاحارثہ بن نعمان) انصاری (رض)
٣٦٩٨٩۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تشریف لائے جب کہ حارث بن مالک سو رہے تھے آپ نے حارث (رض) کو پاؤں سے حرکت دی اور فرمایا : اپنا سر اوپر اٹھاؤ، انھوں نے اپنا سر اوپر اٹھایا اور عرض کیا : یارسول اللہ میرے ماں پاب آپ پر قربان ہوں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے حارث بن مالک ! تم نے صبح کس حالت میں کی ہے ؟ عرض کیا : یارسول اللہ ! میں نے پکے اور سچے مومن کی حالت میں صبح کی ہے۔ ارشاد فرمایا : یقیناً ہر حق کی ایک حقیقت ہوتی ہے تم اپنے ایمان کی کیا حقیقت سمجھے ہو ؟ عرض کیا : میں نے دنیا سے فروتنی برتی ہے اپنا دن پیاسا رکھا ہے اور رات کو جاگتا رہا ہوں گویا میں اپنے رب کے عرش کی طرف دیکھ رہا ہوں گویا میں اہل جنت کی طرف دیکھ رہا ہوں اہل جنت ایک دوسرے کی زیارت کررہے ہیں گویا کہ میں اہل دوزخ کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ چیخ و پکار میں لگے ہوئے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : ایسا شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے نور سے بھردیا ہے اور تو نے ایمان کی حقیقت پہچان لی ہے لہٰذا اسی کے ساتھ چمٹے رہو۔ (رواہ ابن عساکر)
(36989) - عن أنس قال : إن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل المسجد والحار ث بن مالك نائم فحركه برجله : قال : ارفع رأسك ، فرفع رأسه فقال : بأبي أنت وأمي يا رسول الله ! فقال النبي صلى الله عليه وسلم : كيف أصبحت يا حارث بن مالك ؟ قال : أصبحت يا رسول الله مؤمنا حقا قال : إن لكل حق حقيقة فما حقيقة ما تقول ؟ قال : عرفت عن الدنيا ، وأظمأت نهاري وأسهرت ليلي ، وكأني أنظر إلى عرش ربي فكأني أنظر إلى أهل الجنة فيها يتزاورون وإلى أهل النار يتعاوون ، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم : أنت امرؤ نور الله قلبه عرفت فالزم (كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حارث بن مالک (یاحارثہ بن نعمان) انصاری (رض)
٣٦٩٩٠۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حارثہ (رض) بن نعمان (رض) نے فرمایا : تم نے کس حال میں صبح کی ہے ؟ عرض کیا : میں نے پکے اور سچے مومن کی حالت میں صبح کی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہر حق کی ایک حقیقت ہوتی ہے بتاؤ تمہارے ایمان کی کیا حقیقت ہے ؟ عرض کیا : یا نبی اللہ ! میں نے دنیا سے فروتنی برتی ہے رار بیداری کی حالت میں گزری ہے اور دن کو پیاسا رہا ہوں گویا میں اہل جنت کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ جنت میں کس طرح آپس میں ملاقات کررہے ہیں اہل دوزخ کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ دوزخ میں کیسے چیخ و پکار کررہے ہیں ارشاد فرمایا : تمہیں بصیرت مل چکی ہے اسی کو لازم رکھو پھر فرمایا : ایک بندہ ہے جس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے نور سے بھردیا ہے : حارث (رض) نے عرض کیا : یا نبی اللہ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے شہادت کی دعا کریں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے دعا کی روای کہتا ہے : ایک دن اعلان کیا گیا : اے اللہ کے شہسوارو ! کوچ کرو چنانچہ حضرت حارث بن مالک (رض) سب سے پہلے گھوڑے پر سوار ہوئے اور۔ (اس معرکہ میں ) پہلے شہسوار تھے جو اللہ کی راہ میں شہید کیے گئے۔ (رواہ العسکری فی الامثال)
36990 عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لحارثة بن النعمان : كيف أصحبت ؟ قال : أصبحت مؤمنا حقا ، قال : إن لكل حق حقيقة فما حقيقة إيمانك ؟ فقال : يا نبي الله ! عزفت نفسي عن الدنيا فاسهرت ليلي وأظمأت نهاري وكأني أنظر إلى أهل الجنة كيف يتزاورون فيها وإلى أهل النار كيف يتعاوون فيها ، فقال : أبصرت فالزم ، ثم قال : عبد نور الله الايمان في قلبه ، فقال : يا نبي الله ! ادع الله لي بالشهادة ، فدعا له ، قال : فنودي يوما يا خيل الله ! اركبي ، فكان أول فارس ركب وأول فارس استشهد (العسكري في الامثال).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حارث بن مالک (یاحارثہ بن نعمان) انصاری (رض)
٣٦٩٩١۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چل قدمی کررہے تھے یکایک سامنے سے انصار کا ایک نوجوان آیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : حارث تم نے صبح کس حال میں کی ہے عرض کیا : میں نے مومن حق (پکے سچے مومن) کی حالت میں صبح کی ہے فرمایا : ذرا غور کرو کیا کہہ رہے ہو چونکہ ہر بات کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔ عرض کیا : یارسول اللہ ! میں نے اپنے آپ کو دنیا سے الگ تھلگ رکھا ہے رات بیدار رہتے ہوئے گزاری ہے اور دن کو پیاسا رہا ہوں۔ (یعنی رات بھرعبادت کرتا رہوں اور دن کو روزہ رکھا ہے) گویا میں ظاہر و باہر اللہ تعالیٰ کے عرش کو دیکھ رہا ہوں گویا میں اہل جنت کو آپس میں ملاقات کرتے دیکھ رہا ہوں اور گوہا اہل دوزخ کو دوزخ میں چیخ و پکار کرتے دیکھ رہا ہوں آپ نے فرمایا : تمہیں بصیرت مل چکی ہے لہٰذا اس کو لازم رکھو (بلاشبہ تو ایسا) بندہ ہے جس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے ایمان سے بھر دیا ہے۔ عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ میرے لیے شہادت کی دعا کریں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے دعا کی چنانچہ ایک دن شہسواروں میں اعلان کیا گیا حارث (رض) سب سے پہلے گھوڑے پر سوار ہوئے اور معرکہ میں وہ پہلے شہسوار ہیں جنہیں شہادت ملی جب ان کی والد کو شہادت کی خبر ملی۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : یارسول اللہ ! میرا بیٹا اگر جنت میں ہے تو پھر میں نہیں روؤں گی اور اس پر غم بھی نہیں کروں گی اور اگر دوزخ میں ہے جب تک زندہ رہوں گی روتی رہوں گی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ام حارث ! وہ کوئی ایک باغ نہیں بلکہ جنت بیشمار باغات ہیں اور حارث فردوس بریں میں ہے چنانچہ ام حارث (رض) ہنستی ہوئی واپس لوٹیں اور کہہ رہی تھیں : اے حارث تجھے مبارک ہو۔ (رواہ ابن النجار وفیہ یوسف بن عطیۃ)
36991 عن أنس قال : بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي إذ استقبله شاب من الانصار فقال له النبي صلى الله عليه وسلم : كيف أصبحت يا حارث ؟ قال : أصبحت مؤمنا بالله حقا ، قال : انظر ما تقول ، فان لكل قول حقيقة ، قال : يا رسول الله ! عزفت نفسي عن الدنيا فأسهرت ليلي وأظمأت نهاري فكأني أنظر إلى عرش ربي بارزا وكأني أنظر إلى أهل الجنة يتزاورون ، وكأني أنظر إلى أهل النار يتعاوون فيها ، قال : أبصرت فالزم ، عبد نور الله الايمان في قلبه ، فقال : يا رسول الله ! ادع الله لي بالشهادة ، فدعا له رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فنودي يوما في الخيل ، فكان أول فارس ركب وأول فارس استشهد ، قال : فبلغ ذلك أمه فجاءت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت : يا رسول الله ! إن يكن في الجنة لم أبك ولم أحزن ، وإن يكن في النار بكيت ما عشت في الدنيا ، فقال : يا أم حارث أو : حارثة ! إنها ليست بجنة ولكنها جنة في جنات والحارث في الفردوس الاعلى ، فرجعت وهي تضحك وتقول : بخ بخ يا حارث (ابن النجار وفيه يوسف بن عطية)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حشرج (رض)
٣٦٩٩٢۔۔۔ اسحاق بن حارث مولائے ھبارقرشی کہتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) میں سے ایک شخص حشرج (رض) کو دیکھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں پکڑ کر اپنی گود میں بٹھایا اور ان کے سرپردست شفقت پھیرا اور ان کے لیے دعا فرمائی۔ (رواہ ابونعیم وابن عساکر)
36992 عن إسحاق بن الحارث مولى هبار القرشي قال : رأيت حشرجا رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أنه أخذه النبي صلى الله عليه و سلم فوضعه في حجره ومسح رأسه ودعا له (أبو نعيم ، كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حصین بن اوس نہشلی (رض)
٣٦٩٩٣۔۔۔ غسان بن اغر، زیادبن حصین نہشلی اپنے والد حصین بن اوس (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میں اپنے کچھ اونٹ لیکر مدینہ حاضر ہوا اور عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیں کہ وہ میری مدد کریں اور مجھے اپنے ساتھ اچھی طرح سے رکھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا انھوں نے حصین بن اوس (رض) کی معاونت کی اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اپنے پاس بلایا ان کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا کی۔ (رواہ الطبرانی و ابونعیم)
36993- عن غسان بن الأغر حدثنا عمي زياد بن الحصين النهشلي عن أبيه حصين بن أوس قال: قدمت المدينة بابل فقلت: يا رسول الله! مر أهل الوادي أن يعينوني ويحسنوا مخالطتي، فأمرهم فأعانوه وأحسنوا مخالطته، ثم دعاه النبي صلى الله عليه وسلم فمسح يده على وجهه ودعا له. "طب وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حصین بن عوف خثعمی (رض)
٣٦٩٩٤۔۔۔” مسند حصین بن عوف “ حضرت حصین بن عوف رضی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے مآرب میں نمک کی جاگیر مانگی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں عطاکردی جب واپس لوٹنے لگے اہل مجلس میں سے ایک شخص نے کہا : آپ کو معلوم ہے کہ آپ نے اسے کیا دیا ہے ؟ آپ نے اسے دائمی پانی دیا ہے آپ نے اس سے یہ جاگیرواپس لے لی۔ کہتے ہیں میں نے سوال کیا : کونسی زمین آباد کی جائے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ زمین جہاں تک اونٹ نہ پہنچ پاتے ہوں ۔ (رواہ الترمذی وقال غریب وابوداؤدوابن ماجہ عن ابیض بن حمال)
36994- "مسنده" وفد إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستقطعه الملح الذي بمأرب فقطعه له، فلما أن ولى قال رجل من أهل المجلس، أتدري ما قطعت له؟ إنما قطعت له الماء العد1، فانتزع منه، قال: وسألته عما يحمي من الأراك، قال: ما لم تنله أخفاف الإبل."د"، "ت": غريب، "هـ" عن أبيض بن حمال.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حصین بن عبدوالد عمران بن حصین (رض)
٣٦٩٩٥۔۔۔ حضرت عمران بن حصین اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یامحمد ! عبدالمطلب اپنی قوم کے لیے تم سے بہتر تھا چونکہ وہ اپنی قوم کو جانوروں کا دل اور کوہان کھلاتا تھا جب کہ تم نے اپنی قوم ذبح کردی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے حصین (رض) نے عرض کیا : آپ مجھے کیا حکم دیتے میں کہ میں کیا کہوں ؟ فرمایا : کہو : یا اللہ مجھے نفس کے شر سے بچا اور شدوہدایت کے راستے پر مجھے چلا میں نے عرض کیا : میں ابھی کیا کہوں فرمایا : کہو یا اللہ میرے وہ گناہ مجھے بخش دے جو میں نے پوشیدہ کئے جو اعلانیہ کئے جو مجھ سے بھول چوک ہوئی جو میں نے جان بوجھ کر کئے جو میں جانتا ہوں اور جن سے میں ناواقف ہوں (رواہ ابونعیم)
36995- عن عمران بن حصين عن أبيه أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا محمد! عبد المطلب كان خيرا لقومه منك، كان يطعمهم الكبد والسنام وأنت تنحرهم! فقال له النبي صلى الله عليه وسلم ما شاء الله أن يقول، فقال: ما تأمرني أن أقول؟ فقال: قل: اللهم قني شر نفسي واعزم لي على أرشد أمري، قلت: فما أقول الآن؟ قال: قل: اللهم اغفر لي ما أسررت وما أعلنت ومن أخطأت وما عمدت وما علمت وجهلت. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حمید بن ثورہلالی (رض)
٣٦٩٩٦۔۔۔ یعلی بن اشدق بن جراد حمید بن ثور بلالی (رض) نے جب اسلام قبول کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ شعر عرض کیا :
اصبح قلبی من سلیسی مقصدا ان خطا منھا وان تعمدا
میرا دل سلیمی سے ایک مقصد پر آیا ہے گو اس نے خطا کی ہے یا جان بوجھ کے ایسا کیا ہے۔
اصبح قلبی من سلیسی مقصدا ان خطا منھا وان تعمدا
میرا دل سلیمی سے ایک مقصد پر آیا ہے گو اس نے خطا کی ہے یا جان بوجھ کے ایسا کیا ہے۔
36996- عن يعلى بن الأشدق بن جراد حدثني حميد بن ثور الهلالي أنه حين أسلم أتى النبي صلى الله عليه وسلم فأنشده: أصبح قلبي من سليمى مقصدا. ... إن خطأ منها وإن تعمدا
"أبو نعيم".
"أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حمزہ بن عمرواسلمی (رض)
٣٦٩٩٧۔۔۔ حمزہ بن عمرواسلمی (رض) کہتے ہیں : ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سخت تاریک رات میں کوچ کیا میری انگلیاں چمکنے لگیں ان کی روشنی میں سب جمع ہوگئے اور کوئی ہلاک نہ ہوا۔ یکایک میری انگلیاں چمکنے لگی تھیں۔ (رواہ ابونعیم)
36997- عن حمزة بن عمرو الأسلمي قال: نفرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في ليلة ظلماء دحمسة1 فأضاءت أصابعي حتى جمعوا عليها ظهرهم وما هلك منهم وإذ أصابعي لتنير. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حنظلہ بن حذیم بن حنفیہ مالکی (رض)
٣٦٩٩٨۔۔۔ زیال بن عبیدہ نے حنظلہ سے یہ سنا کہ حنفیہ نے اپنے بیٹے حذیم سے کہا : اپنی اولد کو بلاؤ میں ان کو کچھ وصیت کرنا چاہتا ہوں ، انھوں نے اپنے بیٹوں کو جمع کرلیا اور کہا : اے والد محترم ! سب موجود ہیں حنفیہ بولے : میری پہلی وصیت یہ ہے کہ وہ سو اونٹ جو کہ عہد جاہلیت میں مطیہ کہلاتے تھے ضرمس بن قطسیفہ نامی یتیم کے لیے بطور صدقہ سے حذیمم نے عرض کیا ابا جان ! میں نے اپنے بیٹوں کے متعلق یہ سنا ہے کہ اپنے والد کے سامنے اس کا اقرار کرلیتے ہیں اور اس کی وفات کے بعد آپس ہی میں تقسیم کرلیں گے اور اپنی طرح اس یتیم کو بھی حصہ دیں گے اس پر حنفیہ بولے : کیا تم نے یہ بات خود ان سھے سنی ہے ؟ بولے : ہاں فرمایا : میرے اور تمہارے درمیان نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فیصلہ کریں گے چنانچہ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے آپ تشریف فرما تھے فرمایا : یہ آنے والے لوگ کون ہیں ؟ صحابہ (رض) نے جواب دیا : یہ اونٹوں والے حنفیہ ہیں جن کے سب سے زیادہ اونٹ جنگل میں چرتے ہیں پوچھا ان کے دائیں اور بائیں کون ہیں صحابہ (رض) نے عرض کیا : دائیں جانب تو ان کے بڑے صاحبزادے حذیم ہیں اور بائیں جانب نہ معلوم کون ہے۔
پھر فرماتے ہیں : جب ہم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے حنفیہ نے سلام کیا تو آپ نے فرمایا : کیسے تشریف لائے ہو ؟ حنفیہ بولے : مجھے یہ لوگ لائے ہیں اور انھوں نے حذیم کی ران پر ہاتھ مارا ان کی طرف اشارہ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا یہ حذیم نہیں ؟ عرض کیا : جی ہاں یہ حذیم ہی ہے حنفیہ (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے مجھے کافی مال عطا کیا ہے میرے پاس ایک ہزار اونٹوں اور چالیس گھوڑوں کے علاوہ بہت سا مال گھروں میں پڑا ہے اور مجھے یہ خوف ہے ہ میں اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کیے بغیر مرنہ جاؤں چنانچہ میں نے سو اونٹ جو عہد جاہلیت میں مطیبہ (پاک اونٹ) کہلاتے تھے میں نے اپنے پروردہ یتیم کو صدقہ کرنے کی وصیت کرنے کا ارادہ کیا تو میں نے دیکھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ اقدس پر غصہ کے اثرات نمایاں ہوگے ہیں پھر گھٹنوں کے بل گئے اور فرمایا : لاالہ اللہ جانوروں کا صدقہ پانچ رونہ دس پندہ ورنہ بیس ورنہ پچیس ورنہ تیس اور زیادہ چالیس کا ہوتا ہے چنانچہ حنفیہ نے جب یہ سنا تو فورا بولے : یارسول اللہ ! اس مطیبہ میں سے چالس اونٹ یتیم کو دے دیئے جائیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چالیس اونٹوں کی اجازت دے دی پھر آپ نے پوچھا ابوحذیم ! تمہارا یتیم کہاں ہے ؟ وہ یتیم بالغ شیخ کے مشابہ تھا۔ فرمایا : یہ یتیم تو اچھا خاصا ہڈی والا ہے پھر حنفیہ اور ان کے بیٹے اٹھ کر اپنے اونٹوں کے پاس چلے گئے مزید فرماتے ہیں کہ جاتے جاتے حذیم نے کہا : یارسول اللہ ! میری اولاد میں ڈاڑھی والے اور امردونوں ہیں یارسول اللہ آپ اس حنظلہ (رض) (حنظلہ کہتے ہیں : میں سب سے چھوٹا تھا) کے لیے دعائے خیر کردیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیٹا میرے پاس آؤ چنانچہ حضرت حنظلہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہوگئے آپ نے ان کے سر پر دست اقدس رکھا اور یہ دعا کی : اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے ذیال کہتے ہیں : میں نے اس کے بعد دیکھا کہ حنظلہ (رض) کے پاس کوئی ورم زرہ مرد کیا روم زدہ تھنوں والی بکری لائی جاتی آپ اپنے ہاتھوں پر تھتھکارتے اور پھر ہاتھوں کو ورم پر پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے ، بسم اللہ علی اثرید رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ورم بالکل ٹھیک ہوجاتا۔ (رواہ احمد بن حنبل والحسن ابن سفیان و یعقوب بن سفیان وابویعلی والمخجنیقی فی مسندہ والبغوی والباوردی وابن قائع والطبرانی و ابونعیم والضیاء)
پھر فرماتے ہیں : جب ہم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے حنفیہ نے سلام کیا تو آپ نے فرمایا : کیسے تشریف لائے ہو ؟ حنفیہ بولے : مجھے یہ لوگ لائے ہیں اور انھوں نے حذیم کی ران پر ہاتھ مارا ان کی طرف اشارہ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا یہ حذیم نہیں ؟ عرض کیا : جی ہاں یہ حذیم ہی ہے حنفیہ (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے مجھے کافی مال عطا کیا ہے میرے پاس ایک ہزار اونٹوں اور چالیس گھوڑوں کے علاوہ بہت سا مال گھروں میں پڑا ہے اور مجھے یہ خوف ہے ہ میں اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کیے بغیر مرنہ جاؤں چنانچہ میں نے سو اونٹ جو عہد جاہلیت میں مطیبہ (پاک اونٹ) کہلاتے تھے میں نے اپنے پروردہ یتیم کو صدقہ کرنے کی وصیت کرنے کا ارادہ کیا تو میں نے دیکھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ اقدس پر غصہ کے اثرات نمایاں ہوگے ہیں پھر گھٹنوں کے بل گئے اور فرمایا : لاالہ اللہ جانوروں کا صدقہ پانچ رونہ دس پندہ ورنہ بیس ورنہ پچیس ورنہ تیس اور زیادہ چالیس کا ہوتا ہے چنانچہ حنفیہ نے جب یہ سنا تو فورا بولے : یارسول اللہ ! اس مطیبہ میں سے چالس اونٹ یتیم کو دے دیئے جائیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چالیس اونٹوں کی اجازت دے دی پھر آپ نے پوچھا ابوحذیم ! تمہارا یتیم کہاں ہے ؟ وہ یتیم بالغ شیخ کے مشابہ تھا۔ فرمایا : یہ یتیم تو اچھا خاصا ہڈی والا ہے پھر حنفیہ اور ان کے بیٹے اٹھ کر اپنے اونٹوں کے پاس چلے گئے مزید فرماتے ہیں کہ جاتے جاتے حذیم نے کہا : یارسول اللہ ! میری اولاد میں ڈاڑھی والے اور امردونوں ہیں یارسول اللہ آپ اس حنظلہ (رض) (حنظلہ کہتے ہیں : میں سب سے چھوٹا تھا) کے لیے دعائے خیر کردیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیٹا میرے پاس آؤ چنانچہ حضرت حنظلہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہوگئے آپ نے ان کے سر پر دست اقدس رکھا اور یہ دعا کی : اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے ذیال کہتے ہیں : میں نے اس کے بعد دیکھا کہ حنظلہ (رض) کے پاس کوئی ورم زرہ مرد کیا روم زدہ تھنوں والی بکری لائی جاتی آپ اپنے ہاتھوں پر تھتھکارتے اور پھر ہاتھوں کو ورم پر پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے ، بسم اللہ علی اثرید رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ورم بالکل ٹھیک ہوجاتا۔ (رواہ احمد بن حنبل والحسن ابن سفیان و یعقوب بن سفیان وابویعلی والمخجنیقی فی مسندہ والبغوی والباوردی وابن قائع والطبرانی و ابونعیم والضیاء)
36998- "مسنده" عن الذيال بن عبيد بن حنظلة بن خديم حنيفة سمعت جدي يقول: قال حنيفة لابنه حذيم: اجمع لي بنيك فإني أريد أن أوصي، فجمعهم ثم قال: جمعتهم يا أبتاه! قال فإني أول ما أوصي به مائة من الإبل التي كنا نسمي المطيبة في الجاهلية صدقة على يتيمي هذا - في حجره، قال: اسم اليتيم ضرس بن قطيعة. قال حذيم لأبيه حنيفة: إني أسمع بنيك يقولون إنما تقر بها عين أبينا فإذا مات اقتسمناها وقسمنا له مثل نصيب بعضنا، قال: أسمعتهم يقولون ذلك؟ قال: نعم، قال: فبيني وبينك رسول الله صلى الله عليه وسلم، فانطلقنا إليه فإذا هو جالس، فقال: من هؤلاء المقبلون؟ فقالوا: هذا حنيفة النعم أكثر الناس بعيرا بالبادية، قال: فمن هذان حواليه؟ قالوا: أما الذي عن يمينه فابنه حذيم الأكبر ولا نعرف عن يساره، فلما جاءوا إلى النبي صلى الله عليه وسلم سلم حنيفة على رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم سلم حذيم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا أبا حذيم! ما رفعك إلينا؟ قال: هذا رفعني - وضرب فخذ حذيم، قال: أو ليس هذا حذيم؟ قال: يا رسول الله! إني رجل كثير المال علي ألف بعير وأربعون من الخيل سوى مالي في البيوت، خشيت أن يفجأني الموت أو أمر الله فأردت أن أوصي فأوصيت بمائة من الإبل التي كنا نسميها في الجاهلية المطيبة صدقة على يتيمي هذا - في حجرته، قال: فرأيت الغضب في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى جثا على ركبتيه ثم قال: ألا لا - ثلاث مرار، إنما الصدقة خمس وإلا فعشر وإلا فخمس عشرة وإلا فعشرون وإلا فخمس وعشرون وإلا فثلاثون فإن كثرت فأربعون، قال: فبادره حنيفة قال: فأشهدك يا رسول الله؟ إنها أربعون من التي كنا نسميها المطيبة في الجاهلية، قال: فودعه حنيفة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فأين يتيمك يا أبا حذيم؟ قال: هو ذاك النائم، قال: وكان شبيه المحتلم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لعظمت هذه هراوة يتيم، ثم إن حنيفة وبنيه قاموا إلى أباعرهم فقال حذيم: يا رسول الله! إن لي بنين كثيرة منهم ذو اللحى ومنهم دون ذلك وهذا أصغرهم وهو حنظلة، قسمت عليه يا رسول الله! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ادن يا غلام! فدنا منه فرفع يديه فوضعهما على رأسه ثم قال: بارك الله فيه! قال الذيال: فرأيت حنظلة يؤتي بالرجل الوارم وجهه والشاة الوارم ضرعها فيتفل في كفه ثم يضعها على ضلعته ثم يقول: بسم الله على أثر يد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم يمسح الورم فيذهب. "حم" وابن سعد والحسن ابن سفيان ويعقوب بن سفيان، "ع" والمنجنيقي في مسنده والبغوي والبارودي وابن قانع، "طب" وأبو نعيم، "ض" 1
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حکیم بن سعید بن العاص بن امیہ بن عبدالشمس (رض)
٣٦٩٩٩۔۔۔ حکیم بن سعید بن العاص (رض) کہتے ہیں : میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تاکہ آپ کے دست اقدس پر بیعت کرلوں۔ آپ نے پوچھا : تمہارا کیا نام ہے ؟ میں نے عرض کیا میرا نام حکیم ہے آپ نے فرمایا : بلکہ تمہارا نام عبداللہ ہے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میرا نام عبداللہ ہے۔ (رواہ ابونعیم)
36999- عن الحكم بن سعيد بن العاص قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبايعه فقال: ما اسمك؟ قلت: الحكم، قال: بل أنت عبد الله، فقلت: أنا عبد الله يا رسول الله. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حنظلہ بن ربیع الکاتب الاسدی (رض)
٣٧٠٠٠۔۔۔ قیس بن زبیر کہتے ہیں : میں حنظلہ بن ربیع (رض) کے ساتھ حضرت فرات بن حیان (رض) کی مسجد میں گیا اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا فرات (رض) نے حنظلہ (رض) سے کہا : اے حنظلہ آگے بڑھ اور امامت کراؤ چونکہ تم عمر میں مجھ سے بڑے ہو اور مجھ سے پہلے ہجرت کی ہے دراں حالیکہ یہ مسجد بھی آپ کی مسجد ہے، فرات (رض) بولے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے متعلق ارشاد فرماتے سنا ہے لہٰذا میں کبھی آگے نہیں ہوں گا چنانچہ حنظلہ (رض) آگے بڑھ گئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی فرات (رض) بولے : اے بنی عجل ! میں نے انھیں آگے اس لیے کیا ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا ہے دراں حالیلہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اٹھیں جاسوسی کے لیے طائف روانہ کیا چنانچہ یہ طائف کی خبر لے کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے حنظلہ (رض) بولے : تم نے سچ کہا : لہٰذا اب اپنے گھرواپس لوٹ جاؤ، چونکہ تم رات بھر جاگتے رہے ہو جب واپس ہوتے آپ نے ہم سے فرمایا : اس جیسے لوگوں کو اپنا امام بناؤ۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)
37000- عن قيس بن زهير قال: انطلقت مع حنظلة بن الربيع إلى مسجد فرات بن حيان فحضرت الصلاة فقال لحنظلة: تقدم، حنظلة: أنت أكبر مني وأقدم هجرة والمسجد مسجدك، قال فرات: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول فيك شيئا لا أتقدمك أبدا، فقال حنظلة: أشهدته يوم أتيته بالطائف فبعثني عينا؟ قال: نعم، فتقدم حنظلة فصلى بهم، قال فرات: يا بني عجل! إنما قدمت هذا لشيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثه عينا إلى الطائف فأتى فأخبره الخبر، فقال: صدقت، ارجع إلى منزلك
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حارث بن حسان (رض)
٣٧٠٠١۔۔۔ حارث بن حسان بکری ذہلی (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں مقام زبذہ میں ایک بڑھیا کے پاس سے گزرا۔ (رواہ احمد بن حنبل والحسن بن سفیان و ابونعیم)
37001- عن الحارث بن حسان البكري الذهلي قال: مررت بعجوز بالربذة ... "حم والحسن بن سفيان وأبو نعيم".
তাহকীক: