কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭০১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حارثہ بن عدی بن امیہ بن ضبیب (رض)
٣٧٠٠٢۔۔۔ جعفر بن کمیل بن عصمہ بن کمیل بن دیر بن حارثہ بن عدی امیہ بن ضبیب اپنے آباء و اجداد سے حضرت حارثہ بن عدی (رض) کی روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : میں اور میرا بھائی اس وفد میں موجود تھے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تھا آپ نے فرمایا : یا اللہ ! حارثہ کے طعام میں برکت عطا فرما۔ (الحدیث رواہ ابونعیم)
37002- عن جعفر بن كميل بن عصمة بن كميل بن دير بن حارثة بن عدي بن أمية بن الضبيب حدثني جدي عصمة عن آبائه عن حارثة بن عدي قال: كنت في الوفد أنا وأخي الذين وفدوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: اللهم! بارك لحارثة في طعامه - فذكر الحديث."أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حارث بن مسلم تمیمی (رض)
٣٧٠٠٣۔۔۔” مسند ابی مسلم حارث بن مسلم تمیمی (رض) “ عبدالرحمن بن حسان کنانی، مسلم بن حارث بن مسلم تمیمی (رض) سے مروی ہے کہ ان کے والد حارث بن مسلم (رض) نے انھیں حدیث سنائی کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ایک سریہ کے ہمراہ روانہ کیا۔ جب ہم مطلوبہ جگہ کے قریب پہنچے میں نے اپنا گھوڑا تیز رفتار کردیا اور اپنے ساتھیوں سے آگے بڑھ گیا چنانچہ بستی والوں کو آہ وبکاء کرتے ہوئے پایا میں نے اہل بستی سے کہا : لاالہ الا اللہ کہہ دو جان بچالو گے بستی والوں نے کلمہ پڑھ لیا اتنے میں میرے ساتھی بھی پہنچ گئے انھوں نے مجھے ملامت کی اور کہا : وہ غنیمت جو ہمارے ہاتھوں میں آچکی تھی اس سے تم نے ہمیں محروم کردیا ہے جب ہم واپس لوٹے ہم نے اس واقعہ کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تذکرہ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنے پاس بلایا اور میری اس کارروائی پر مجھے خراج تحسین پیش کیا اور فرمایا : خبردار ! اللہ تعالیٰ نے بستی والوں کے ہر انسان کے بدلہ میں تمہارے نامہ اعمال میں فلاں اور فلاں نیکیاں لکھ دی ہیں۔ عبدالرحمن (رض) بولے : اس کا سبب میں بناہوں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : میں تمہارے لیے ایک نوشتہ تحریر کرتا ہوں اور میرے بعد مسلمانوں کے آنے والے ائمہ (حکمرانوں) کو تمہاری وصیت کرتا ہوں چنانچہ آپ نے نوشتہ تحریر کیا اور اسے سربمہر کرکے میرے حوالے کردیا مجھے آپ نے وصیت کی : جب صبح کی نماز پڑھو تو کلام کرنے سے قبل سات مرتبہ یہ کلمات پڑھو ” اللھم اجرنی من النار “ اگر تم اسی دن مرگئے تمہیں عذاب نار سے پناہ مل جائے گی، اور جب مغرب کی نماز پڑھو تب بھی کلام کرنے سے قبل سات مرتبہ ” اللھم اجرنی من النار “ پڑھو اگر تم اس رات مرگئے اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب ناز سے پناہ دے دے گا حضرت حارث بن مسلم (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوگئے میں حضرت ابوبکر (رض) کی خدمت میں وہ نوشتہ لے کر حاضر ہوا آپ (رض) نے مہر توڑی اور نوشتہ پڑھا آپ نے میرے لیے مال کا حکم دیا اور نوشتہ پر مہر لگا کر میرے حوالے کردیا۔ میں یہ نوشتہ لے کر حضرت عمر (رض) کے پاس آیا آپ نے بھی یہی کچھ کیا : ان کے بعد میں حضرت عثمان (رض) کے پاس آیا انھوں نے بھی میرے ساتھ یہی معاملہ کیا حضرت حارث (رض) نے عثمان (رض) کے دور خلافت میں وفات پائی مسلم بن حارث کہتے ہیں نوشتہ ہمارے پاس محفوظ تھا حتیٰ کہ عمربن عبدالعزیز کا دور خلافت آیا عمربن عبدالعزیر (رح) نے ہمارے متعلق اپنے عامل کو حکم لکھا کہ مسلم بن حارث تمیمی کا وہ خط جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے والد کے لیے لکھا تھا اس کی تعیین کرو چنانچہ میں نے وہ خط عمر بن عبدالعزیز (رح) کو بھیج دیا انھوں نے میرے لیے مال کا حکم دیا اور خط پر مہر لگائی۔ (رواہ الحسن بن سفیان و ابونعیم)
37003- "مسند أبي مسلم الحارث بن مسلم التميمي رضي الله عنه" عن عبد الرحمن بن حسان الكناني حدثني مسلم بن الحارث بن مسلم التميمي أن أباه حدثه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أرسلهم في سرية، قال: فلما بلغنا المغار استحثثت فرسي وسبقت أصحابي واستقبلنا الحي بالرنين،
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حارث بن مسلم تمیمی (رض)
٣٧٠٠٤۔۔۔ حارث بن مسلم بن حاث اپنے والد اور دادا سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے دادا حارث (رض) کے لیے خط لکھا جس میں آنے والے امراء والاۃ کو وصیت کی گئی تھی آپ نے اس خط کو سربمہر کرکے ان کے حوالہ کیا تھا۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابونعیم)
37004 عن الحارث بن مسلم بن الحارث عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب له كتابا لولاة الامر من بعده بالوصاة به وختم عليه ودفعه إليه (حم وأبو نعيم).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حارث بن عبدشمس خثعمی (رض)
٣٧٠٠٥۔۔۔ حارث بن عبدالشمس خثعمی (رض) کی روایت ہے کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا : انھوں نے اپنے جمیع اصحاب کے لیے ان کی جانوں اور اموال کا امن طلب کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے خطا لکھا اور انھیں اپنے علاقہ میں آنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور فلاں فلاں حکم دیا۔ (الحدیث۔ رواہ ابونعیم)
37005- عن الحارث بن عبد شمس الخثعمي أنه خرج إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأسلم وأخذ لجميع أصحابه الأمان على دمائهم وأموالهم وكتب له كتابا وأباحهم في بلادهم كذا وكذا - الحديث."أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حکم بن حارث سلمی (رض)
٣٧٠٠٦۔۔۔ حضرت حکم بن حارث سلمی (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کچھ بزرگان دین (صحابہ کرام (رض)) کے ساتھ (کسی مہم پر) بھیجا آپ کا میرے پاس سے گزرہوا جب کہ میری اونٹنی پیچھے رہ گئی تھی اور میں اسے مارے جارہا تھا آپ نے فرمایا : اسے نہ مارو، فرمایا : چلتی جا اونٹنی اٹھ کھڑی ہوئی اور لوگوں کے ساتھ ساتھ چلنے لگی۔ (رواہ الحسن بن سفیان والطبرانی اوبونعیم)
37006- عن الحكم بن الحارث السلمي قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم مع السلف فمر بي وقد تخلفت ناقتي وأنا أضربها فقال: لا تضربها، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: حل، فقامت فسارت مع الناس."الحسن بن سفيان، طب وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حکم بن حارث سلمی (رض)
٣٧٠٠٧۔۔۔ خبیب بن حرم سلمی کہتے ہیں : میرے چچا کا عطا دو ہزار (درہم یا دینار) ہوتا تھا جب اپنا عطا نکالتے اپنے غلام سے کہتے : جاؤ اور ہمارا قرض چکادو۔ چونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے : جس نے ایک دینار چھوڑا اسے آگ کا ایک داغ لگایا جائے گا جس نے دو دینار چھوڑے اسے دو داغ لگائے جائیں گے۔ (رواہ ابونعیم)
37007 (أيضا) عن خبيب بن حرم السلمي قال : كان عطاء عمي ألفين ، فإذا خرج عطاؤه قال لغلامه : انطلق فاقض عنا ما علينا ، فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : من ترك دينارا فكية ومن ترك دينارين فكيتان (أبو نعيم).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حکم بن حارث سلمی (رض)
٣٧٠٠٨۔۔۔ حکم بن حارث سلمی (رض) نے ایک بار فرمایا : جب تم مجھے دفن کرچکو اور میری قبر پر پانی چھڑک دو اس وقت میری قبر پر کھڑے ہوجاؤ اور قبلہ روہوکر میرے لیے دعا کرو۔ (رواہ ابونعیم)
37008 عن الحكم بن الحارث السلمي قال : إذا دفنتموني ورششتم على قبري الماء فقوموا على قبري واستقبلوا القبلة وادعوا لي (أبو نعيم).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حسیل ابوحذیفہ (رض)
٣٧٠٠٩۔۔۔ محمودبن لبید کہتے ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کی طرف تشریف لے گئے تو حسیل۔ (اور وہ یمان حضرت حذیفہ بن یمان کے والد ہیں) اور ثابت بن وقش زعوراء عورتوں اور بچوں کے ساتھ ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ گئے وہ آپس میں کہنے لگے (یہ دونوں بوڑھے تھے) تمہارا باپ نہ رہے ! کیا دیکھتے نہیں ہو اللہ کی قسم (اسلام میں داخل ہونے کے لیے) ہم میں سے کسی کے لیے وقت نہیں رہا مگر ا تباہی جتنا وقت پیاسے گدھے کو پانی دیکھ کر لگتا ہے (ہم بوڑھے ہوچکے ہیں) آج مرے یا کل لہٰذا ہمیں اپنی تلواریں پکڑلینی چاہئیں اور پھر ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوجانا چاہے شاید اللہ تعالیٰ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ شہادت نصیب فرمادے چنانچہ دونوں حضرات نے اپنی تلواریں لیں اور لوگوں میں گھس گئے حالانکہ ان کا کسی کو علم نہیں تھا، رہی بات حضرت ثابت بن وقش (رض) کی سوا نہیں مشرکین نے قتل کردیا رہی بات حسیل (رض) کی انپر مسلمانوں کے تیروں کی اندھادھند بارش برسی حالانکہ مسلمانوں کو ان کا علم نہیں تھا۔ یوں وہ مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہوئے حضرت حذیفہ (رض) بولے : یہ میرے والد ہیں مسلمانوں نے کہا : بخدا اگر ہم انھیں پہچانتے حذیفہ (رض) نے کہا : اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے اور وہ ارحم الرحمین ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حذیفہ (رض) کو دیت دینی چاہی حذیفہ (رض) نے دیت مسلمانوں کو صدقہ کردی ( اور لینے سے انکار کردیا) چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں انھیں خیروبھلائی میں دن دگنی رات چگنی ترقی ملتی رہی۔ (رواہ ابونعیم)
37009- عن محمود بن لبيد قال: لما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أحد رفع حسيل وهو اليمان أبو حذيفة بن اليمان وثابت بن وقش بن زعوراء في الآطام مع النساء والصبيان فقال أحدهما لصاحبه وهما شيخان: لا أبا لك ما تنظر! فوالله ما بقي لواحد منا إلا كظميء1 حمار، إنما نحن هامة اليوم أو غدا فلنأخذ أسيافنا ثم نلحق برسول الله صلى الله عليه وسلم لعل الله أن يرزقنا الشهادة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأخذا أسيافهما حتى دخلا في الناس ولا يعلم بهما، فأما ثابت بن وقش فقتله المشركون، وأما حسيل فاختلفت عليه أسنان المسلمين وهم لا يعرفونه فقتلوه، فقال حذيفة: أبي! فقالوا: والله إن عرفناه! وصدقوا، فقال حذيفة: يغفر الله لكم وهو أرحم الراحمين! فأراد رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يديه. فتصدق حذيفة بديته على المسلمين؛ فزاده عند رسول الله صلى الله عليه وسلم خيرا. أبو نعيم
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت حممہ دوسی (رض)
٣٧٠١٠۔۔۔ حمدی بن عبدالرحمن حمیر کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) میں سے ایک شخص تھا جسے حمم کہا جاتا تھا انھوں نے حضرت عمر (رض) کے دور خلافت میں اصفہان میں جہاد کیا عمر (رض) نے فرمایا : یا اللہ ! بلاشبہ حممہ (رض) کو تیری ملاقات بہت محبوب ہے یا اللہ ! وہ اگر اس میں سچا ہے اس کی پاسداری رکھ اور اگر جھوٹا ہے پھر اس کا وبال اسی پر ڈال دے یا اللہ ! تم کو اس سفر سے واپس نہ کرنا۔ چنانچہ حضرت حممہ (رض) نے اصفہان میں وفات کی خبر سن کر ابوموسیٰ اشعری (رض) کھڑے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! اللہ کی قسم ! ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو کچھ سنا ہے اور جہان تک ہمارے علم کی آسانی ہے وہ یہ کہ حممہ (رض) شہید ہیں۔ (رواہ ابونعیم)
37010- عن حميد بن عبد الرحمن الحميري أن رجلا يقال له حممة من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم غزا أصبهان في زمان عمر فقال: اللهم! إن حممة يزعم أنه يحب لقاءك، اللهم! إن كان صادقا فاغرم له بصدقه، وإن كان كاذبا فاحمله عليه وإن كره، اللهم! لا يرجع حممة من سفره هذا؛ فمات بأصبهان، فقام الأشعري فقال: يا أيها الناس! إنا والله فيما سمعنا من نبيكم صلى الله عليه وسلم ولا يبلغ علمنا إلا أن حممة شهيد."أبو نعيم"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حوط بن قرواش بن حصین (رض)
٣٧٠١١۔۔۔ حاتم بن فضل بن سالم بن جون بن عیاچ بن لوط بن قراوش بن حصین بن ثامہ بن شبت بن حدر اپنے اباء و اجداد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت حوط بن قرواش (رض) کہتے ہیں : میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میرے ساتھ بنوعدی کا ایک شخص اور تھا اسے واتد کہا جاتا تھا ہم اسلام لانے کے لیے پہلی بار خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تھے۔ (الحدیث، رواہ ابونعیم)
37011- عن حاتم بن الفضل بن سالم بن جون بن غياث بن حوط بن قرواش بن حصين بن ثمامة بن شبت بن حدر حدثني أبي فضل بن سالم أن أباه سالما حدثه عن جون بن غياث عن غياث بن حوط عن أبيه قال: وردت على النبي صلى الله عليه وسلم أنا ورجل من بني عدي يقال له واقد وكان ذلك أول ما أسلم - الحديث بطوله."أبو نعيم"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف خاء۔۔۔ حضرت خالد بن عمیر (رض)
٣٧٠١٢۔۔۔ حضرت خالد بن عمیر (رض) کہتے ہیں : میں مکہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت سے قبل مکہ ہی مقیم تھے میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کی (رواہ الحسن بن سفیان و ابونعیم)
37012- عن خالد بن عمير قال: أتيت مكة والنبي صلى الله عليه وسلم بها قبل الهجرة فبعته رجل سراويل فوزن لي فأرجح."الحسن بن سفيان وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خالد بن ولید (رض)
٣٧٠١٣۔۔۔” مسند صدیق “ عروہ کہتے ہیں : حضرت خالدبن ولید (رض) نے مرتد ہوجانے والوں میں سے بعض لوگوں پر آگ برسائی حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) سے عرض کیا : کیا آپ اس شخص کو چھوڑ رہے ہیں جو لوگوں کو اللہ کے عذاب کی سزا دیتا ہے ؟ ابوبکر (رض) نے فرمایا : میں اس تلوار کو نیام میں نہیں داخل کروں گا جسے اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر بےنیام کردیا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق وابن ابی شیبۃ وابن سعد)
37013- "مسند الصديق" عن عروة قال: حرق خالد بن الوليد ناسا من أهل الردة فقال عمر لأبي بكر: أتدع هذا الذي يعذب بعذاب الله؟ فقال أبو بكر: لا أشيم1 سيفا سله الله على المشركين."عب، ش" وابن سعد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خالد بن ولید (رض)
٣٧٠١٤۔۔۔ وحشی بن حرب بن وحشی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ وحشی (رض) کہتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے حضرت خالد بن ولید (رض) کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے۔ (خالد بن ولید) اللہ تعالیٰ کا اچھا بندہ ہے قبیلے کافر زندارجمند ہے اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مشرکین و منافقین کے لیے بےنیام کردیا ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل والحسن بن سفیان والبغوی والطبرانی والحاکم و ابونعیم وابن عساکر والضیاء)
37014- عن وحشي بن حرب بن وحشي عن أبيه عن جده أن أبا بكر الصديق قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول وذكر خالد بن الوليد فقال: نعم عبد الله وأخو العشيرة سيف من سيوف الله سله الله على الكفار والمنافقين. "حم والحسن بن سفيان والبغوي، طب، ك وأبو نعيم، كر، ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خالد بن ولید (رض)
٣٧٠١٥۔۔۔ یزید بن اصم کہتے ہیں : جب حضرت خالد بن ولید (رض) نے وفات پائی ان پر خالد (رض) کی والدہ رونے لگیں عمر (رض) نے فرمایا : اے ام خالد ! کیا خالد ! کیا خالد اور اس کے اجر وثواب کے مفقود ہونے پر رو وہی ہو ؟ میں تجھے واسطہ دیتا ہوں کہ رات تجھے گزرنے نہ جائے حتیٰ کہ اپنے ہاتھوں کو مہندی میں رنگ لو۔ (رواہ ابن سعد)
37015- عن يزيد بن الأصم قال: لما توفي خالد بن الوليد بكت عليه أم خالد فقال عمر: يا أم خالد! أخالدا وأجره ترزئين جميعا؟ عزمت عليك أن لا تبيتي حتى تسود يداك من الخضاب."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خالد بن ولید (رض)
٣٧٠١٦۔۔۔ حضرت ثعلبہ بن ابی مالک کہتے ہیں میں نے ہفتہ کے دن حضرت عمر (رض) کو قباء میں دیکھا آپ (رض) کے ساتھ مہاجرین و انصار کی ایک جماعت تھی جب کہ اہل شام کے کچھ حاجی مسجد قباء میں نماز پڑھ رہے تھے حضرت عمر (رض) نے پوچھا : یہ کون لوگ ہیں ؟ حاضرین نے کہا : یہ لوگ حمص کے رہنے والے ہیں۔ حضرت عمر (رض) کی وفات ہوئی ہے۔ حضرت عمر (رض) باربار اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھتے ہے اپنا سر جھکالیا اور خالد (رض) کے لیے دعائے رحمت کرتے رہے۔ اللہ کی قسم ! خالد دشمنوں کے آگے۔ (سیسہ پلائی ہوئی) دیوار مانند تھے اور معرکہ جات کے ہیرو تھے حضرت علی ابن طالب (رض) بھی وہاں موجود تھے وہ بولے : آپ نے خالد ومعزول کیوں کیا تھا ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں نے اسے اس لیے معزول کیا ہے چونکہ وہ اہل شرف اور شعراء پر مال خرچ کرتا تھا حضرت علی (رض) نے کہا : آپ انھیں فضول خرچی سے روکتے اور لشکر کی کمان ان کے پاس رہنے دیتے فرمایا : وہ اس پر راضی نہیں تھا حضرت علی (رض) نے کہا : آپ نے انھیں آزمایا کیوں نہیں۔ (رواہ ابن سعد وابن عساکر) فائدہ :۔۔۔ حضرت خالد (رض) اہل شرف اور شعراء پر اپنا ذاتی مال خرچ کرتے تھے سرکاری مال یا اجتماع مال غنیمت نہیں تھا بایں ہمہ حضرت عمر (رض) اس عبقری شخصیت کے مالک تھے جس کی مثال نہیں ملی ان کے ماں یہ چیز بھی قابل ماخوذ بھی تھی اور وہ اسے امراء اور سپہ سالاروں کے لیے خلاف سمجھتے تھے۔ (رض) اجمعین۔
37016- عن ثعلبة بن أبي مالك قال: رأيت عمر بن الخطاب بقباء يوم السبت ومعه نفر من المهاجرين والأنصار فإذا أناس من أهل الشام يصلون في مسجد قباء حجاجا فقال: من القوم؟ قالوا: من حمص، قال: هل كان من مغربة خير؟ قالوا: موت خالد بن الوليد يوم رحلنا من حمص، فاسترجع عمر مرارا ونكس وأكثر الترحم عليه وقال: كان والله سدادا لنحور العدو وميمون النقيبة! فقال له علي بن أبي طالب: فلم عزلته؟ قال: عزلته لبذله المال لأهل الشرف وذوي اللسان، قال علي: فكنت تعزله عن التبذير في المال وتتركه على جنده! قال: لم يكن يرضى قال: فهلا بلوته."ابن سعد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خالد بن ولید (رض)
٣٧٠١٧۔۔۔ بنی غفار کے ایک بزرگ کہتے ہیں : میں نے حضرت عمر (رض) کو فرماتے سنادراں حالیکہ آپ (رض) حضرت خالد (رض) کے موت کا تذکرہ کررہے تھے فرمایا : اسلام میں ایک زبردست خلاء پڑا ہے جو پر نہیں ہونے پائے گا عرض کیا : اے امیرالمومنین حضرت خالد (رض) کی زندگی میں تو آپ کی یہ رائے نہیں تھی فرمایا : جو کچھ ان سے مقصود تھا وہ میں پہلے کرچکا ہوں۔ (رواہ ابن سعد)
37017- عن شيخ من بني غفار قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول وذكر خالدا وموته فقال: قد ثلم في الإسلام ثلمة لا ترتق، قال: يا أمير المؤمنين! لم يكن رأيك فيه في حياته على هذا، قال: قدمت على ما كان مني إليه."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خالد بن ولید (رض)
٣٧٠١٨۔۔۔” مسند عمر “ ابوعلی (رض) کہتے ہیں ایک مرتبہ ہشام بن بختری بنی مخزوم کے چند لوگوں کے ساتھ حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے ہشام ! مجھے اپنے وہ اشعار سناؤ جو تم نے خالد بن ولید کے متعلق کہتے ہیں چنانچہ ہشام نے وہ اشعار سنائے پھر کہا : میں نے ابوسلیمان کی مدح میں کم اشعار کہے اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے اگرچہ شرک اور اہل شرک کو ذلیل کرنا انھیں بہت پسند تھا اور گستاخ ان کے آگے اللہ کے عذاب کا مستحق بن جاتا تھا پھر عمر (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ بنی تمیمی کے بھائی کو قتل کرے کیا خوب اچھا تھا

فقل للذی بقی خلاف الذی مضی

تصیا لا حدی مثلھا فکان

قد فماعیش من قدعاش قبلی بنافعی

ولاموت قدمسات قبلی بمخائسدی

باقی زندہ رہے جانے والوں سے کہو وہ کچھ جو گزشتہ کے خلاف ہے اس جیسی ایک اور موت کے لیے تیاری کروگویا سج کا وقوع ہوچکا ہے جو مجھ سے پہلے زندہ رہے ان کی زندگی کس نفع کی تھی اور جو مجھ سے پہلے مرچکے ان کی موت کس کام کی۔

پھر فرمایا اللہ تعالیٰ ابوسلیمان (خالد بن ولید (رض) کی کنت تھی) پر رحم فرمائے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کے لیے دنیا سے بدرجہ بہتری ہے البتہ وہ دنیا سے رخصت ہوئے کہ اپنا ثانی نہیں چھوڑا اور جو زندگی گزاری وہ بھی قابل ستائش ہے لیکن تم زمانہ دھونڈوگے ان کی مثال نہ ملے گی۔ (رواہ ابن عساکر)

میں کہتا ہوں تو مرا نہیں یقیناً دنیا مرگئی

مگر تیرے جامرنے سے ویرانی آگئی

تیری موت نہیں عالم کی موت ہے

ہر سو جس سے تاریکی چھا گئی

زندگی میں حمید تھا مزا ہے فقید ہے

تاقیامت بھر زمانہ فتگی رلا گئی (ازمترجم)
37018- "مسند عمر" عن أبي علي الحرمازي قال: دخل هشام بن البختري في أناس من بني مخزوم على عمر بن الخطاب فقال له: يا هشام! أنشدني شعرك في خالد بن الوليد، فأنشده فقال: قصرت في الثناء على أبي سليمان رحمه الله إن كان ليحب أن يذل الشرك وأهله وإن كان الشامت به لمتعرضا لمقت الله، ثم قال عمر: قاتل الله أخا بني تميم ما أشعره:

فقل للذي يبقي خلاف الذي مضى.تهيأ لأخرى مثلها فكأن قد

فما عيش من قد عاش قبلي بنافعي.

...

ولا موت من قد مات قبلي بمخلدي

ثم قال: رحم الله أبا سليمان! ما عند الله خير له مما كان فيه، ولقد مات فقيدا وعاش حميدا ولكن رأيت الدهر ليس بقائل. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خالد بن ولید (رض)
٣٧٠١٩۔۔۔ عدی بن سہل کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے مختلف شہروں میں حکمنامہ جاری کیا تھا جس کا مضمون یہ ہے : یقیناً میں نے غصہ میں آکر خالد کو معزول نہیں کیا اور نہ ہی کسی قسم کی خیانت کی وجہ سے انھیں معزول کیا ہے لیکن لوگ ان کی وجہ سے قتنہ میں مبتلا ہوچکے تھے مجھے خدشہ ہوا کہیں لوگوں کو خالد کے رحم و کرم پر نہ چھوڑ دیا جائے اور آزمائش میں ڈال دیئے جائیں، میں چاہتاہوں لوگ یقین رکھیں کہ سب کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے اور یوں لوگ کسی قسم کے فتنہ میں نہ پڑیں۔ (رواہ سیف وابن عساکر)
37019- عن عدي بن سهل قال: كتب عمر في الأمصار: إني لم أعزل خالدا عن سخطة ولا خيانه ولكن الناس فتنوا بهفخشيت أن يوكلوا إليه ويبتلوا فأحببت أن يعلموا أن الله هو الصانع وأن لا يكونوا بعرض فتنة.سيف، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خالد بن ولید (رض)
٣٧٠٢٠۔۔۔ شعبی کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) اور حضرت خالد بن ولید (رض) نے لڑکپن میں آپس میں کشتی لڑی۔ خالد (رض) حضرت عمر (رض) کے ماموں زاد بھائی تھے چنانچہ خالد (رض) کی پنڈلی توڑدی جس کی وجہ سے ٹانگ میں لنگڑا پن پیدا ہوگیا تھا اور بعد میں ہڈی درست ہوجانے پر لنگڑاپن جاتا رہا چنانچہ حضرات کے درمیان عداوت کا یہی سبب تھا۔ (رواہ ابن عساکر)

کلام :۔۔۔ حدیث پر کلام کیا گیا ہے حتیٰ کہ موضوع تک اسے کہا گیا ہے ابن جوزی نے اسے واھیات میں شمار کیا ہے اگر حدیث کی صحت تسلیم کرلی جائے تو حضرت عمر (رض) کی ذات گرامی جاہلیت کے دور کا اسلام میں انتقام لینے کی اجازت نہیں دیتی سو کہاں عمر اور کہاں ذاتی انتقام ۔ علی سبیل التسلیم : سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عمر (رض) نے اپنی خلافت کے پانچ سال بعد حضرت خالد (رض) کو کیوں معزول کیا ؟ اگر انتقام ہی لینا تھا تو خلافت کے ملتے ہی انھیں معزول کردیتے اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت فتوحات کی ابتداء تھی اور حضرت خالد کی ضرورت تھی جناب والا ! یہ اپنی طرف سے چاڈماری ہے چونکہ حضرت عمر (رض) کی دور میں قلت رجال نہیں تھی ابوعبیدہ بن الجراح (رض) تھے معاذ بن جبل (رض) تھے عکرمہ بن ابی جہل (رض) تھے عمروبن معدیکرب (رض) تھے۔ (ازمترجم)
37020- عن الشعبي قال: اصطرع عمر بن الخطاب وخالد بن الوليد وهما غلامان وكان خالد ابن خال عمر فكسر خالد ساق عمر فعرجت وجبرت، فكان ذلك سبب العداوة بينهما. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خالد بن ولید (رض)
٣٧٠٢١۔۔۔ حضرت عمروبن العاص (رض) کہتے ہیں : میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دربارگوہریاب میں سرخرو ہونے کے لیے نکل بڑا میری ملاقات خالدبن ولد سے ہوگئی یہ فتح مکہ سے پہلے کا واقعہ ہے خالد (رض) بھی مکہ سے آرہے تھے میں نے کہا : اے ابوسلمان ! کہاں کا رادہ ہے ؟ خالد (رض) نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! حق کا نشان لگنے والا ہے بلاشبہ یہ شخص (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نبی ہے اللہ کی قسم میں اسلام قبول کرنے چلاہوں خالد (رض) نے پوچھا : تمہارا کہاں کا ارادہ ہے ؟ میں نے کہا : اللہ کی قسم میں بھی صرف اسلام قبول کرنے کی عرض سے چلاہوں۔ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے خالد (رض) مجھ سے آگے بڑھ گئے اسلام قبول کیا اور دست اقدس پر بیعت کی پھر میں قریب ہوا بیعت کی اور پھر میں واپس لوٹ کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
37021- عن عمرو بن العاص قال: خرجت عامدا لرسول الله صلى الله عليه وسلم فلقيت خالد بن الوليد وذلك قبل الفتح وهو مقبل من مكة فقلت: أين يا أبا سليمان؟ قال: والله لقد استقام الميسم1 وإن الرجل لنبي، أذهب والله أسلم! فحتى متى؟ فقلت: وأنا والله ما جئت إلا لأسلم! فقدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فتقدم خالد بن الوليد فأسلم وبايع، ثم دنوت فبايعته ثم انصرفت. "كر".
tahqiq

তাহকীক: