কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭০৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خالد بن ولید (رض)
٣٧٠٢٢۔۔۔ حضرت عمروبن العاص (رض) کہتے ہیں : جب سے میں نے اور خالد (رض) نے اسلام قبول کیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی جنگ میں اپنے صحابہ (رض) میں سے کسی کو بھی میرے اور خالد (رض) کے ہم پلہ نہیں سمجھا۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)
37022- عن عمرو بن العاص قال: ما عدل بي رسول الله صلى الله عليه وسلم وبخالد بن الوليد أحدا من أصحابه في حربه منذ أسلمنا. "ع، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خالد بن ولید (رض)
٣٧٠٢٣۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں ایک مرتبہ ہم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے اتنے میں لوگ گزرنے لگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھتے : اے ابوہریرہ یہ کون ہے ؟ میں عرض کرتا : یہ فلاں ہے آپ فرماتے : یہ اللہ تعالیٰ کا بہت اچھا بندہ ہے کوئی گزرتا آپ پوچھتے یہ کون ہے ؟ میں عرض کرتا فلاں ہے ؟ آپ فرماتے یہ اللہ کا بہت برا بندہ ہے یہ ان تک کہ حضرت خالد بن ولید (رض) گزرے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ خالد بن ولید ہیں فرمایا : خالد اللہ تعالیٰ کا بہت اچھا بندہ ہے اور اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37023- عن أبي هريرة قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعل الناس يمرون فيقول رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أبا هريرة من هذا؟ فأقول: فلان، فيقول: نعم عبد الله فلان! ويمر فيقول: من هذا يا أبا هريرة؟ فأقول: فلان، فيقول: بئس عبد الله! حتى مر خالد بن الوليد فقلت: هذا خالد بن الوليد يا رسول الله! قال: نعم عبد الله خالد سيف من سيوف الله. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خالد بن ولید (رض)
٣٧٠٢٤۔۔۔ حضرت خالد بن ولید (رض) فرماتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے مجھے خیروبھلائی سے سرشار کرنے کا ارادہ کیا،
میرے دل میں اسلام کی محبت ڈالی دی اور میری رشد و ہدایت کا وقت آن پہنچا۔ میں نے کہا : میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف لڑی گئی ساری جنگوں میں شریک رہا ہوں اور جس جنگ سے بھی واپس لوٹا ہوں دل میں پختہ عزم ہوتا چلا گیا کہ جس جگہ میں کھڑا ہوں یہ میرے شایان شان نہیں ہے (مجھے کہیں اور ہو ونا چاہے تھے) اور یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عنقریب غلبہ حاصل ہوجائے گا چنانچہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صلح حدیبیہ کی طرف تشریف لائے میں مشرکین کے شہسواروں کے ساتھ نکل پڑا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صحابہ کرام (رض) کے ساتھ مقام عسفان میں ملا میں آپ سے تعرض کرنے کے لیے آپ کے بالمقابل کھڑا ہوگیا آپ نے صحابہ (رض) کو نماز ظہر میں امامت کرائی (دوران نماز) ہم نے ارادہ کیا کہ محمد اور اس کے ساتھیوں پر حملہ کردیں لیکن ہمیں اس کی ہمت نہ ہوئی بلاشبہ اس میں بہتری تھی چنانچہ دعاعی لحاظ سے ہمیں اور پختہ یقین ہوتا چلا گیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کو نماز عصر پڑھائی اور نماز خوف پڑھائی یہ بات بھی میرے دل میں رچ بس گئی اور میں نے کہا : بلاشبی یہ شخص اپنے مضبوط دفاع میں ہے اور اس کے پاس بلا کی قوت بھی ہے ہم حملے کا خیال ترک کرکے چلے گئے جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے شہسواروں والا راستہ چھوڑ کر دائیں طرف سے چلے گئے جب قریش نے حدیبیہ میں صلح کرلی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قریش نے چٹیل میدان میں دھکیل دیا میں نے دل ہی دل میں کہا : اب کونسی چیز باقی رہی ہے، نجاشی کے پاس جانے کا کونسا راستہ رہا ہے جب کہ نجاشی نے محمد اور اس کے اصحاب کی اتباع اختیار کرلی ہے اور محمد کے اصحاب نجاشی کے پاس امن خوردہ ہیں، اگر میں ہرقل کی طرف جاتا ہوں تو اپنے دین دے نکلنا پڑتا ہے مجھے یا تو نصرانی ہونا پڑے گایا یہودی پھر مجھے ان عجمیوں کے ساتھ رہنا پڑے گا وسری صورت یہ ہے کہ میں اپنے گھر ہی میں بند ہو کر رہ جاؤں میں اسی شش وپنج میں تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ قضا کے لیے تشریف لائے میں غائب ہوگیا اور مکہ میں آپ کے داخلہ کے وقت حاضر نہیں ہوا آپ نے مجھے تلاش کیا مگر مجھے نہ پایا آپ نے میری طرف خط لکھا جس کا مضمون یہ ہے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ امابعد ! میں نے اس سے بڑھ کر کوئی بات عجیب تر نہیں دیکھی کہ تم اسلام سے بھاگ رہے ہو حالانکہ تمہاری عقل بےمثال ہے بھلااسلام جیسی چیز سے کون جاہل رہ سکتا ہے۔” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے متعلق پوچھا : خالد کہ ان ہے ؟ میں نے دل میں کہا : اللہ تعالیٰ اسے لائے گا آپ نے یہ بھی فرمایا : خالد جیسے لوگ اسلام سے جاہل نہیں رہ سکتے اگر خالد کی یلغار مسلمانوں کے ساتھ مل کر مشرکین کے خلاف ہوتی تو وہ اس کے لیے بدر بہتر تھی اور اسے ہم دوسروں پر مقدم کرتے آئے میرے بھائی مافات کا اشدراک کرو بلاشبہ بہت سارے نیکی کے مقام تجھ سے نکل چکے ہیں “ چنانچہ جب آپ کا خط مجھے ملا ممدینہ کی طرف چل پڑنے کا شوق مجھے بیقرار کرنے لگا اسلام کی طرف میری رغبت دوچند ہونے لگی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکتوب گرامی نے میری فرحت و سرور میں اضافہ کردیا۔
حضرت خالد (رض) کہتے ہیں : ایک رات میں نے خواب دیکھا گویا میں کسی تنگ بےآب وگیاہ جگہ میں ہوں اور میں وہاں سے نکل کر کشادہ اور سرسبز و شاداب جگہ میں پہنچ گیا، میں نے سوچا یقیناً یہ سچا خواب ہے، چنانچہ جب میں مدینہ پہنچا میں نے کہا : میں ضرور ابوبکر سے اس خواب کا ذکر کروں گا کہتے ہیں : میں نے ابوبکر (رض) سے خواب بیان کیا ابوبکر (رض) نے فرمایا : یہ تمہارا کفر وشرک سے نکل کر اسلام و ہدایت کی طرف آنا ہے چنانچہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کوچ کرنے کا میرا پروگرام بن گیا میں نے سوچا محمد کے پاس جانے کے لیے میں کسے اپنا رفیق سفر بناؤن اس کے لیے میں نے صفوان بن امیہ سے ملاقات کی، میں نے اسے کہا : اے ابو وھب ! ہم جس چیز (یعنی کفر وشرک) میں پڑے ہوئے ہیں اس بارے تمہاری کیا رائے ہے ؟ بلاشبہ ہم تو ایک سر کا نوالہ ہیں عنقریب محمد عرب وعجم پہ چھایا چاہتا ہے لہٰذا ہم کیوں نہ محمد کی اتباع اختیار کریں یقیناً محمد کی برتری حقیقت میں ہماری برتی ہے۔ چنانچہ صفوان بن امیہ نے بڑی سختی سے انکار کردیا اور بولا : بالفرض قریش میں سے میرے سوا کوئی بھی باقی نہ رہے تب بھی میں محمد کی پیروی نہیں کروں گا۔ اس قدر بحث و مباحثہ کے بعد ہم جدا ہوگئے میں نے کہا : کہ شخص تو انتقام پر تلا ہوا ہے چونکہ اس کا باپ اور بھائی بدر میں قتل کردیئے گئے تھے، پھر اسی سلسلہ میں نے عکرمہ بن ابی جہل سے ب ملاقات کی اور اس کے آگے بھی میں نے یہی بات رکھی لیکن اس نے بھی صفوان کی طرح ٹکاسا جواب دے دیا، البتہ جاتے جاتے میں نے اس سے کہا : اتنا تو کرنا کہ میرا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ بولا : کسی سے تمہارا ذکر نہیں کروں گا میں اپنے گھر واپس چلا گیا میں نے اپنی سواری تیار کرنے کا حکم دیا تاکہ میں عثمان بن ابی طلحہ سے ملوں میں نے سوچا : یہ میرا اچھا دوست ہے اگر میں ارادہ کا اس سے ذکر کردوں شاید یہ میری حمایت کرے چنانچہ میں اس کے پاس چلا گیا اور اس کے آباء کا ذکر کیا جو قتل کیے جاچکے تھے پھر میں نے اچھا نہ سمجھا کہ میں اپنے ارادہ کا اس سے ذکر کروں پھر میں نے سوچا اگر میں میں ابھی نکل جاؤں بھلا میرے آگے کو کسی رکاوٹ حائل ہے۔ بہرحال میں اسے مختلف راویوں سے گزارکر اصل مقصد پر لے آیا اور میں نے اس سے کہا : ہماری مثال اس لومڑ کی سی ہے جو کسی سوارخ میں دبکا بیٹھا ہو اگر اس پر کئی ڈول پانی انڈیلا جائے الامحالہ لومڑباہر آجائے گا پھر میں نے اس سے بھی اس طرح کی باتیں کیں جو میں نے پہلے اپنے دو دوستوں سے کی تھیں۔ چنانچہ اس نے مجھے جلد ہی تسلی بخش جواب دیا اور کہنے لگا : میں آج ہی کوچ کرنے کا سوچ رہا ہوں اور یہ میرا پختہ ارادہ ہے سامنے گھاٹی میں میری سواری تیاریی کھڑی ہے چنانچہ ہم نے آپس میں جائے ملاقات ” یا حج “ نامی جگہ متعین کردی کہ اگر وہ آگے نکل گیا تو وہ اس جگہ میرا انتظار کرے گا اور اگر میں آگے نکل گیا تو میں اس جگہ اس کا انتظار اس کا انتظار کروں گا چنانچہ ہم سحری کے قریب روانہ ہوگئے ابھی طلوع نہیں ہوئی تھی کہ ہم متعین جگہ (یا حج) پہنچ گئے وہاں سے ہم دونوں آگے چل پڑے اور مقام ھدہ ” جاپہنچے وہاں ہم سے حضرت عمرو بن العاص (رض) کو پایا، وہ بولے : مرحبا ہم نے کہا : تمہیں بھی مرحبا۔ عمرو (رض) بولے : کہاں کا ارادہ ہے ہم نے بھی فورا سوال داغ دیا کہ تم گھر سے کیوں باہر نکلے ہو ؟ انھوں نے بھی جواب میں ایک اور سوال دے مارابولے : تمہیں کس چیز نے نکلنے ہر مجبور کیا ہے ؟ ہم نے ہی جواب دیا : اور ہمیں کو گھتی سلجھانی پڑی ہم نے کہا : ہم اسلام میں داخل ہونا چاہتے ہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ عمرو بن العاص (رض) بولے : یہی چیز مجھے بھی یہاں تک لے آئی ہے۔ حضرت خالد (رض) کہتے ہیں : ہم سب اکٹھے مدینہ پہنچے اور مقام صرہ میں اپنی سواریاں بٹھائیں اتنھے میں ہماری آنے کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر کی گئی آپ ہماری آمد پر بےحد خوش ہوئے میں نے اپنا عمدہ جوڑا زیب تن کررکھا تھا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضری کا ارادہ کیا اتنے میں میرا بھائی مجھ سے ملا اس نے کہا : جلدی کرو، چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمہاری آمد پر بےحد خوشی ہوئی ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے انتظار میں ہیں، چنانچہ میں نے نہ آؤدیکھا نہ تاؤ جلدی جلدی قدم اٹھاتا ہوا خدمت اقدس میں حاضر ہوا جب میں نمودار دیکھا کہ ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسکراہٹ بھرے مبارک ہونٹوں سے تسم کے پیالے بھرے جارہے ہیں میں کھڑا ہوگیا اور سلام پیش کیا آپ نے مسکراتے چہرے سے سلام کا جواب دیا میں نے عرض کیا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمام تعریفین اس ذات کے لیے ہیں جس نے تمہیں ہدایت سے بہرہ مند کیا میں نے تمہارے اندر عقل سلیم کا وجدان کرلیا تھا مجھے پختہ امید تھی اسلام قبول کرنا خیروبھلائی کا پیغام ہے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ بہت ساری جنگوں میں نہایت سختی سے حق سے روگردانی کی ہے اور آپ کے خلاف لڑتا رہا ہوں لہٰذا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ کیری بخشش کردے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام گزشتہ کے تمام تر گناہوں کا لعدم کردیتا ہے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ آپ دعا فرمادیں آپ نے فرمایا : یا اللہ ! خالد بن ولید جہاں جہاں بھی تیری راہوں میں رکاوٹ بننے کے لیے نمودار ہوا ہے اسے سب معاف فرمادے حضرت خالد (رض) کہتے ہیں : پھر عمر وبن العاص اور عثمان بن ابی طلحہ (رض) آگے بڑھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کی ہم سن ٨ ہجری ماہ صفر خدمت ہوئے تھے اللہ کی قسم جس دن میں نے اسلام قبول کیا اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی جنگ میں اپنے صحابہ میں سے کسی کو بھی میرے ہم پلہ نہیں سمجھا۔ (رواہ الواقدی ابن عساکر)
میرے دل میں اسلام کی محبت ڈالی دی اور میری رشد و ہدایت کا وقت آن پہنچا۔ میں نے کہا : میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف لڑی گئی ساری جنگوں میں شریک رہا ہوں اور جس جنگ سے بھی واپس لوٹا ہوں دل میں پختہ عزم ہوتا چلا گیا کہ جس جگہ میں کھڑا ہوں یہ میرے شایان شان نہیں ہے (مجھے کہیں اور ہو ونا چاہے تھے) اور یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عنقریب غلبہ حاصل ہوجائے گا چنانچہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صلح حدیبیہ کی طرف تشریف لائے میں مشرکین کے شہسواروں کے ساتھ نکل پڑا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صحابہ کرام (رض) کے ساتھ مقام عسفان میں ملا میں آپ سے تعرض کرنے کے لیے آپ کے بالمقابل کھڑا ہوگیا آپ نے صحابہ (رض) کو نماز ظہر میں امامت کرائی (دوران نماز) ہم نے ارادہ کیا کہ محمد اور اس کے ساتھیوں پر حملہ کردیں لیکن ہمیں اس کی ہمت نہ ہوئی بلاشبہ اس میں بہتری تھی چنانچہ دعاعی لحاظ سے ہمیں اور پختہ یقین ہوتا چلا گیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کو نماز عصر پڑھائی اور نماز خوف پڑھائی یہ بات بھی میرے دل میں رچ بس گئی اور میں نے کہا : بلاشبی یہ شخص اپنے مضبوط دفاع میں ہے اور اس کے پاس بلا کی قوت بھی ہے ہم حملے کا خیال ترک کرکے چلے گئے جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے شہسواروں والا راستہ چھوڑ کر دائیں طرف سے چلے گئے جب قریش نے حدیبیہ میں صلح کرلی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قریش نے چٹیل میدان میں دھکیل دیا میں نے دل ہی دل میں کہا : اب کونسی چیز باقی رہی ہے، نجاشی کے پاس جانے کا کونسا راستہ رہا ہے جب کہ نجاشی نے محمد اور اس کے اصحاب کی اتباع اختیار کرلی ہے اور محمد کے اصحاب نجاشی کے پاس امن خوردہ ہیں، اگر میں ہرقل کی طرف جاتا ہوں تو اپنے دین دے نکلنا پڑتا ہے مجھے یا تو نصرانی ہونا پڑے گایا یہودی پھر مجھے ان عجمیوں کے ساتھ رہنا پڑے گا وسری صورت یہ ہے کہ میں اپنے گھر ہی میں بند ہو کر رہ جاؤں میں اسی شش وپنج میں تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ قضا کے لیے تشریف لائے میں غائب ہوگیا اور مکہ میں آپ کے داخلہ کے وقت حاضر نہیں ہوا آپ نے مجھے تلاش کیا مگر مجھے نہ پایا آپ نے میری طرف خط لکھا جس کا مضمون یہ ہے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ امابعد ! میں نے اس سے بڑھ کر کوئی بات عجیب تر نہیں دیکھی کہ تم اسلام سے بھاگ رہے ہو حالانکہ تمہاری عقل بےمثال ہے بھلااسلام جیسی چیز سے کون جاہل رہ سکتا ہے۔” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے متعلق پوچھا : خالد کہ ان ہے ؟ میں نے دل میں کہا : اللہ تعالیٰ اسے لائے گا آپ نے یہ بھی فرمایا : خالد جیسے لوگ اسلام سے جاہل نہیں رہ سکتے اگر خالد کی یلغار مسلمانوں کے ساتھ مل کر مشرکین کے خلاف ہوتی تو وہ اس کے لیے بدر بہتر تھی اور اسے ہم دوسروں پر مقدم کرتے آئے میرے بھائی مافات کا اشدراک کرو بلاشبہ بہت سارے نیکی کے مقام تجھ سے نکل چکے ہیں “ چنانچہ جب آپ کا خط مجھے ملا ممدینہ کی طرف چل پڑنے کا شوق مجھے بیقرار کرنے لگا اسلام کی طرف میری رغبت دوچند ہونے لگی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکتوب گرامی نے میری فرحت و سرور میں اضافہ کردیا۔
حضرت خالد (رض) کہتے ہیں : ایک رات میں نے خواب دیکھا گویا میں کسی تنگ بےآب وگیاہ جگہ میں ہوں اور میں وہاں سے نکل کر کشادہ اور سرسبز و شاداب جگہ میں پہنچ گیا، میں نے سوچا یقیناً یہ سچا خواب ہے، چنانچہ جب میں مدینہ پہنچا میں نے کہا : میں ضرور ابوبکر سے اس خواب کا ذکر کروں گا کہتے ہیں : میں نے ابوبکر (رض) سے خواب بیان کیا ابوبکر (رض) نے فرمایا : یہ تمہارا کفر وشرک سے نکل کر اسلام و ہدایت کی طرف آنا ہے چنانچہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کوچ کرنے کا میرا پروگرام بن گیا میں نے سوچا محمد کے پاس جانے کے لیے میں کسے اپنا رفیق سفر بناؤن اس کے لیے میں نے صفوان بن امیہ سے ملاقات کی، میں نے اسے کہا : اے ابو وھب ! ہم جس چیز (یعنی کفر وشرک) میں پڑے ہوئے ہیں اس بارے تمہاری کیا رائے ہے ؟ بلاشبہ ہم تو ایک سر کا نوالہ ہیں عنقریب محمد عرب وعجم پہ چھایا چاہتا ہے لہٰذا ہم کیوں نہ محمد کی اتباع اختیار کریں یقیناً محمد کی برتری حقیقت میں ہماری برتی ہے۔ چنانچہ صفوان بن امیہ نے بڑی سختی سے انکار کردیا اور بولا : بالفرض قریش میں سے میرے سوا کوئی بھی باقی نہ رہے تب بھی میں محمد کی پیروی نہیں کروں گا۔ اس قدر بحث و مباحثہ کے بعد ہم جدا ہوگئے میں نے کہا : کہ شخص تو انتقام پر تلا ہوا ہے چونکہ اس کا باپ اور بھائی بدر میں قتل کردیئے گئے تھے، پھر اسی سلسلہ میں نے عکرمہ بن ابی جہل سے ب ملاقات کی اور اس کے آگے بھی میں نے یہی بات رکھی لیکن اس نے بھی صفوان کی طرح ٹکاسا جواب دے دیا، البتہ جاتے جاتے میں نے اس سے کہا : اتنا تو کرنا کہ میرا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ بولا : کسی سے تمہارا ذکر نہیں کروں گا میں اپنے گھر واپس چلا گیا میں نے اپنی سواری تیار کرنے کا حکم دیا تاکہ میں عثمان بن ابی طلحہ سے ملوں میں نے سوچا : یہ میرا اچھا دوست ہے اگر میں ارادہ کا اس سے ذکر کردوں شاید یہ میری حمایت کرے چنانچہ میں اس کے پاس چلا گیا اور اس کے آباء کا ذکر کیا جو قتل کیے جاچکے تھے پھر میں نے اچھا نہ سمجھا کہ میں اپنے ارادہ کا اس سے ذکر کروں پھر میں نے سوچا اگر میں میں ابھی نکل جاؤں بھلا میرے آگے کو کسی رکاوٹ حائل ہے۔ بہرحال میں اسے مختلف راویوں سے گزارکر اصل مقصد پر لے آیا اور میں نے اس سے کہا : ہماری مثال اس لومڑ کی سی ہے جو کسی سوارخ میں دبکا بیٹھا ہو اگر اس پر کئی ڈول پانی انڈیلا جائے الامحالہ لومڑباہر آجائے گا پھر میں نے اس سے بھی اس طرح کی باتیں کیں جو میں نے پہلے اپنے دو دوستوں سے کی تھیں۔ چنانچہ اس نے مجھے جلد ہی تسلی بخش جواب دیا اور کہنے لگا : میں آج ہی کوچ کرنے کا سوچ رہا ہوں اور یہ میرا پختہ ارادہ ہے سامنے گھاٹی میں میری سواری تیاریی کھڑی ہے چنانچہ ہم نے آپس میں جائے ملاقات ” یا حج “ نامی جگہ متعین کردی کہ اگر وہ آگے نکل گیا تو وہ اس جگہ میرا انتظار کرے گا اور اگر میں آگے نکل گیا تو میں اس جگہ اس کا انتظار اس کا انتظار کروں گا چنانچہ ہم سحری کے قریب روانہ ہوگئے ابھی طلوع نہیں ہوئی تھی کہ ہم متعین جگہ (یا حج) پہنچ گئے وہاں سے ہم دونوں آگے چل پڑے اور مقام ھدہ ” جاپہنچے وہاں ہم سے حضرت عمرو بن العاص (رض) کو پایا، وہ بولے : مرحبا ہم نے کہا : تمہیں بھی مرحبا۔ عمرو (رض) بولے : کہاں کا ارادہ ہے ہم نے بھی فورا سوال داغ دیا کہ تم گھر سے کیوں باہر نکلے ہو ؟ انھوں نے بھی جواب میں ایک اور سوال دے مارابولے : تمہیں کس چیز نے نکلنے ہر مجبور کیا ہے ؟ ہم نے ہی جواب دیا : اور ہمیں کو گھتی سلجھانی پڑی ہم نے کہا : ہم اسلام میں داخل ہونا چاہتے ہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ عمرو بن العاص (رض) بولے : یہی چیز مجھے بھی یہاں تک لے آئی ہے۔ حضرت خالد (رض) کہتے ہیں : ہم سب اکٹھے مدینہ پہنچے اور مقام صرہ میں اپنی سواریاں بٹھائیں اتنھے میں ہماری آنے کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر کی گئی آپ ہماری آمد پر بےحد خوش ہوئے میں نے اپنا عمدہ جوڑا زیب تن کررکھا تھا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضری کا ارادہ کیا اتنے میں میرا بھائی مجھ سے ملا اس نے کہا : جلدی کرو، چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمہاری آمد پر بےحد خوشی ہوئی ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے انتظار میں ہیں، چنانچہ میں نے نہ آؤدیکھا نہ تاؤ جلدی جلدی قدم اٹھاتا ہوا خدمت اقدس میں حاضر ہوا جب میں نمودار دیکھا کہ ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسکراہٹ بھرے مبارک ہونٹوں سے تسم کے پیالے بھرے جارہے ہیں میں کھڑا ہوگیا اور سلام پیش کیا آپ نے مسکراتے چہرے سے سلام کا جواب دیا میں نے عرض کیا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمام تعریفین اس ذات کے لیے ہیں جس نے تمہیں ہدایت سے بہرہ مند کیا میں نے تمہارے اندر عقل سلیم کا وجدان کرلیا تھا مجھے پختہ امید تھی اسلام قبول کرنا خیروبھلائی کا پیغام ہے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ بہت ساری جنگوں میں نہایت سختی سے حق سے روگردانی کی ہے اور آپ کے خلاف لڑتا رہا ہوں لہٰذا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ کیری بخشش کردے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام گزشتہ کے تمام تر گناہوں کا لعدم کردیتا ہے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ آپ دعا فرمادیں آپ نے فرمایا : یا اللہ ! خالد بن ولید جہاں جہاں بھی تیری راہوں میں رکاوٹ بننے کے لیے نمودار ہوا ہے اسے سب معاف فرمادے حضرت خالد (رض) کہتے ہیں : پھر عمر وبن العاص اور عثمان بن ابی طلحہ (رض) آگے بڑھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کی ہم سن ٨ ہجری ماہ صفر خدمت ہوئے تھے اللہ کی قسم جس دن میں نے اسلام قبول کیا اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی جنگ میں اپنے صحابہ میں سے کسی کو بھی میرے ہم پلہ نہیں سمجھا۔ (رواہ الواقدی ابن عساکر)
37024- عن خالد بن الوليد قال: لما أراد الله بي من الخير ما أراد قذف في قلبي حب الإسلام وحضرني رشدي وقلت: قد شهدت هذه المواطن كلها على محمد فليس موطن أشهده إلا وأنصرف وإني أرى في نفسي أني موضع في غير شيء وأن محمدا سيظهر، فلما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الحديبية خرجت في خيل المشركين فلقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في أصحابه بعسفان، فقمت بازائه وتعرضت له،فصلى بأصحابه الظهر إماما، فهممنا أن نغير عليه ثم لم يعزم لنا، وكانت فيه خيرة فاطلع على ما في أنفسنا من الهجوم به، فصلى بأصحابه صلاة العصر صلاة الخوف، فوقع ذلك مني موقعا وقلت: الرجل ممنوع - وافترقنا، وعدل عن سنن خيلنا وأخذ ذات اليمين، فلما صالح قريشا بالحديبية ودافعته قريش بالبراح1 قلت في نفسي: أي شيء بقي؟ أي المذهب إلى النجاشي، فقد اتبع محمدا وأصحابه آمنون عنده، فأخرج إلى هرقل فأخرج من ديني إلى نصرانية أو يهودية فأقيم مع عجمها أو أقيم في داري فيمن بقي؟ فأنا على ذلك إذ دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم في عمرة القضية وتغيبت فلم أشهد دخوله، وكان أخي الوليد بن الوليد قد دخل مع النبي صلى الله عليه وسلم في عمرة القضية فطلبني فلم يجدني، فكتب إلي كتابا فإذا به: "بسم الله الرحمن الرحيم، أما بعد فإني لم أر أعجب من ذهاب رأيك عن الإسلام وعقلك عقلك ومثل الإسلام يجهله أحد وقد سألني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أين خالد؟ فقلت: يأتي الله به، فقال: ما مثل خالد يجهل الإسلام ولو كانت نكايته وحده مع المسلمين على المشركين لكان خيرا له ولقدمناه على غيره، فاستدرك يا أخي ما فاتك منه، فقد فاتتك مواطن صالحة". قال: فلما جاءني كتابه نشطت للخروج وزادني رغبة في الإسلام وسرتني مقالة رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال خالد: وأرى في النوم كأني في بلاد ضيقة جدبة فخرجت إلى بلد أخضر واسع فقلت: إن هذه لرؤيا حق، فلما قدمت المدينة فقلت: لأذكرنها لأبي بكر، قال: فذكرتها، فقال: هو مخرجك الذي هداك الله للإسلام، والضيق الذي كنت فيه الشرك، فلما أجمعت الخروج إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت من أصاحب إلى محمد صلى الله عليه وسلم؟ فلقيت صفوان بن أمية فقلت: يا أبا وهب! أما ترى ما نحن فيه! إنما نحن أكلة رأس وقد ظهر محمد على العرب والعجم فلو قدمنا على محمد فاتبعناه، فإن شرف محمد لنا شرف، فأبى علي أشد الإباء وقال: لو لم يبق غيري من قريش ما اتبعته أبدا! فافترقنا وقلت: هذا رجل موتور1 يطلب وترا، قتل أبوه وأخوه ببدر، قال: فلقيت عكرمة ابن أبي جهل فقلت له مثل ما قلت لصفوان، فقال لي مثل ما قال صفوان، فقلت له: فاطو ما ذكرت لك، قال: لا أذكره؛ وخرجت إلى منزلي فأمرت براحلتي تخرج إلى أن ألقى عثمان بن أبي طلحة فقلت: إن هذا لي لصديق ولو ذكرت له ما أريد، ثم ذكرت من قتل من آبائه فكرهت أن أذكره ثم قلت وما علي وأنا راحل من ساعتي، فذكرت له ما صار الأمر إليه وقلت له: إنما نحن بمنزلة ثعلب في جحر لو صب عليه ذنوب من ماء خرج وقلت له نحوا مما قلته لصاحبيه. فأسرع الإجابة وقال: لقد غدوت اليوم وأنا أريد أن أغدو وهذه راحلتي بفج مناخة فأنقذت أنا وهو يأجج1، إن سبقني أقام وإن سبقته أقمت عليه، فأدلجنا سحرة فلم يطلع الفجر حتى التقينا بيأجج فغدونا حتى انتهينا إلى الهدة فنجد عمرو بن العاص بها فقال: مرحبا بالقوم! قلنا وبك! قال: أين مسيركم؟ قلنا: ما أخرجك؟ قال: فما الذي أخرجكم؟ قلنا: الدخول في الإسلام واتباع محمد، قال: وذاك الذي أقدمني، قال: فاصطحبنا جميعا حتى قدمنا المدينة فأنخنا بظاهرة الحرة ركابنا، وأخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فسر بنا، فلبست من صالح ثيابي ثم عمدت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلقيني أخي فقال: أسرع فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد أخبر بك فسر بقدومك وهو ينتظركم فأسرعت المشي فطلعت فما زال يبتسم إلي حتى وقفت عليه فسلمت عليه بالنبوة، فرد علي السلام بوجه طلق. فقلت له: إني أشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الحمد لله الذي هداك! قد كنت أرى لك عقلا ورجوت أن لا يسلمك إلا إلى خير، قلت: يا رسول الله! قد رأيت ما كنت أشد من تلك المواطن عليك معاندا عن الحق فادع الله يغفرها لي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الإسلام يجب ما كان قبله، قلت: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم على ذلك، فقال: اللهم اغفر لخالد بن الوليد كلما أوضع فيه من صد عن سبيلك، قال خالد: ونقدم عمرو وعثمان فبايعا رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان قدومنا في صفر من سنة ثمان، فوالله ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أسلمت يعدل من أصحابه فيما حزبه."الواقدي، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خالد بن ولید (رض)
٣٧٠٢٥۔۔۔ عبدالحمید اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : حضرت خالد بن ولید (رض) کی ٹوپی میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا موئے مبارک تھا حضرت خالد (رض) فرماتے ہیں جب بھی کسی قوم سے میرا مقابلہ ہوا اور حالانکہ موئے مبارک میرے سرپر ہو مجھے ضرور فتح و کامرانی ملی ہے۔ (رواہ ابونعیم)
37025- "ايضا" عن عبد الحميد عن أبيه قال: كان في قلنسوة خالد بن الوليد من شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم: فقال خالد: ما لقيت قوما قط وهي على رأسي إلا أعطيت الفلج 1"أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خباب بن ارت (رض)
٣٧٠٢٦۔۔۔ شعبی سے مروی ہے کہ حضرت خباب بن ارت (رض) حضرت عمر (رض) کے پاس حاضر ہوئے انھوں نے حباب (رض) کو اپنی نشست گاہ پر بٹھایا اور فرمایا : روئے زمین پر کوئی شخص اس مجلس کا ان سے زیادہ مستحق نہیں سوائے ایک شخص کے خباب (رض) نے کہا : امیرالمومنین ! بھلا وہ شخص کون ہے ؟ فرمایا : وہ ” بلال “ ہیں خباب (رض) نے کہا : امیرالمومنین ! وہ مجھ سے زیادہ مستحق نہیں ہیں چونکہ بلال کے لیے مشرکین میں ایسا آدمی تھا جس کے ذریعے سے اللہ ان کی حفاظت کرتا ہے کہ میرا کوئی نہیں تھا جو میری حفاظت کرتا چنانچہ ایک دن چشم فلک نے دیکھا کہ لوگوں نے مجھے پکڑلیا اور پھر آگ سلگائی لوگوں نے مجھے آگ میں دھکیل دیا حتیٰ کہ ایک شخص نے میرے سینے پر پاؤں رکھ دیا میں زمین کی ٹھنڈک کے سوا اپنی پیٹھ کو کسی چیز سے نہ بچا سکا پھر خباب (رض) نے اپنی بیٹھ سے کپڑا ہٹایا کیا دیکھتے ہیں کہ پیٹھ برص کے نشانات کی طرح سخت متاثر ہے۔ (رواہ ابن سعد)
37026- عن الشعبي قال: دخل خباب بن الأرت على عمر بن الخطاب فأجلسه على متكئه فقال: ما على الأرض أحد أحق بهذا المجلس من هذا إلا رجل واحد، قال له خباب: من هو يا أمير المؤمنين؟ قال: بلال، قال: فقال له خباب: يا أمير المؤمنين! ما هو بأحق مني، إن بلالا كان له في المشركين من يمنعه الله به ولم يكن لي أحد يمنعني، فلقد رأيتني يوما أخذوني وأوقدوا لي نارا ثم سلقوني فيها ثم وضع رجل رجله على صدري، فما اتقيت الأرض أو قال: برد الأرض إلا بظهري، ثم كشف عن ظهره فإذا هو قد برص."ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خباب بن ارت (رض)
٣٧٠٢٧۔۔۔ زیدبن وھب سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ حباب (رض) کو فریق رحمت کرے انھوں نے خوشی سے اسلام قبول کیا خوشی سے ہجرت کی اور عبادت گزار بن کر زندگی گزاری انھیں جسمانی آزمائشوں سے دوچار ہونا پڑا جو شخص نیک عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اجر وثواب کو ضائع نہیں کرتا۔ نیز حضرت علی (رض) نے فرمایا : خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جو اپنی آخرت کو یاد رکھے حساب کے لیے عمل کمائے کفاف پر قناعت کرے اور اللہ عزوجل سے راضی رہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37027- عن زيد بن وهب قال: قال علي رضي الله عنه: رحم الله خبابا لقد أسلم راضيا وهاجر طائعا وعاش عابدا وابتلي في جسمه! ولن يضيع الله أجر من أحسن عملا، وقال: طوبى لمن ذكر المعاد وعمل للحساب وقنع بالكفاف ورضي عن الله عز وجل. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خباب بن ارت (رض)
٣٧٠٢٨۔۔۔ طارق بن شہات کہتے ہیں : حضرت حباب (رض) مہاجرین میں سے تھے اور ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اللہ کی راہ میں سخت اذیتیں برداشت کیں۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37028- عن طارق بن شهاب قال: كان خباب من المهاجرين وكان ممن يعذب في الله. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خبیب (رض)
٣٧٠٢٩۔۔۔ عثمان بن محمد اخنسی کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت سعید بن عامر حذیم جمحی (رض) کو حمص کا گورنر مقرر کیا چنانچہ سعید بن عامر (رض) پر غشی طاری ہوجاتی تھی سعید (رض) اپنے ساتھیوں میں موجود تھے کہ حضرت عمر (رض) سے ان کی غشی کا ذکر کیا گیا جب حضرت عمر (رض) حمص تشریف لائے فرمایا : اے سعید ! تمہیں کیسی غشی طاری ہوجاتی ہے ؟ کیا تمہیں پاگل پن لاحق ہوجاتا ہے ؟ سعید ! (رض) نے کہا : امیرالمومنین ! اللہ کی قسم ایسا نہیں لیکن خبیب (رض) کو جب قتل کیا گیا ان کے پاس موجود لوگوں میں میں بھی تھا۔ میں نے ان کی دعا اپنے کانوں سے سنی تھی اللہ کی قسم ! اس دعا نے میرے دل پر ایسا اثر کیا کہ میں مجلس میں بھی ہوتا ہوں اگر مجھے وہ وقت یاد آجائے مجھے غشی طاری ہوجاتی ہے چنانچہ ایمان افروز کیفیت سن کر حضرت عمر (رض) کی بھلائی میں اضافہ ہوا۔ (رواہ ابن سعد)
37029- عن عثمان بن محمد الأخنسي قال: استعمل عمر بن الخطاب سعيد بن عامر بن حذيم الجمحي على حمص وكان يصيبه غشية وهو بين ظهري أصحابه فذكر ذلك لعمر بن الخطاب فسأله في قدمة قدم عليه من حمص فقال: يا سعيد! ما الذي يصيبك؟ أبك جنة؟ قال: لا والله يا أمير المؤمنين! ولكنني فيمن حضر خبيبا حين قتل، سمعت دعوته، فوالله ما خطرت على قلبي وأنا في مجلس إلا غشى علي! فزادته عند عمر خيرا."ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خبیب (رض)
٣٧٠٣٠۔۔۔ عبداللہ بن ابی ملیکہ کی روایت ہے کہ حضرت خبیب بن مسلمہ مدینہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جہاد سے واپس لوٹے ان کے والد نے انھیں مدینہ میں پایا، مسلمہ (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! میرا اس کے سوا کوئی بیٹا نہیں جو میرے مال اور جائیداد کی دیکھ بھال کرے اور میرے اہل خانہ کی دیکھ بھال کرنے والا بھی کوئی نہیں، چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبیب (رض) کو والد کے ساتھ روانہ کردیا اور فرمایا : شاید اسی سال تمہیں چھٹکارا مل جائے اے خبیب اپنے والد کے ساتھ واپس لوٹ جاؤ۔ چنانچہ مسلمہ (رض) اسی سال وفات پاگئے اور حبیب (رض) اسی سال دوبارہ غزوات میں شریک ہوگئے۔ (رواہ ابونعیم)
37030- عن عبد الله بن أبي مليكة أن خبيب بن مسلمة قدم على النبي صلى الله عليه وسلم المدينة غازيا وإن أباه أدركه بالمدينة فقال مسلمة للنبي صلى الله عليه وسلم: يا نبي الله! إني ليس لي ولد غيره يقوم في مالي وضيعتي وعلى أهل بيتي، وإن النبي صلى الله عليه وسلم رده معه وقال: لعلك أن يخلو لك وجهك في عامك، فارجع يا خبيب مع أبيك، فمات مسلمة في ذلك العام وغزا خبيب فيه. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خالد بن ابی جبل عدوانی (رض)
٣٧٠٣١۔۔۔ عبدالرحمن بن خالد بن ابی جبل اپنے والد سے نقل کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ کو بنی ثقیف کے مشرق میں دیکھا جب آپ ان کے پاس تشریف لائے آپ کمان پر یاعصا پر ٹیک لگائے کھڑے تھے آپ ثقیف کے پاس نصرت کے لیے تھے میں نے آپ کو سورت ” والسماء والطارق “ پوری پڑھتے سنا میں نے جاہلیت میں یہ سورت یاد کرلی جب کہ میں مشرک ہی تھا میں نے یہ سورت دوبارہ پڑھی جب کہ میں اسلام میں داخل ہوچکا تھا ثقیف کے لوگوں نے کہا : اس شخص سے تم نے کہا سنا ہے ؟ میں نے ان کو سورت طارق پڑھ کر سنادی چنانچہ قریش میں جو لوگ بنی ثقیف کے ساتھ تھے وہ بولے : ہم اپنے صاحب کو خوب جانتے ہیں جو کچھ وہ کہتا ہے اگر ہم اسے حق سمجھتے اس کی پیروی کرلیتے۔ (رواہ احمد بن حنبل والبخاری فی تاریخہ والحسن بن سفیان وابن حزیمہ والطبرانی وابن مردویہ و ابونعیم عن خالد بن ابی حبل العدوانی)
37031- عن عبد الرحمن بن خالد بن جبل عن أبيه قال: أبصرت رسول الله صلى الله عليه وسلم في مشرق ثقيف وهو قائم على قوس أو عصا حين أتاهم يبتغي عندهم النصر فسمعته يقرأ "والسماء والطارق" حتى ختمها، فوعيتها في الجاهلية وأنا مشرك ثم قرأتها وأنا في الإسلام، فقالوا: ماذا سمعت من هذا الرجل؟ فقرأتها عليهم، فقال من معهم من قريش: نحن أعلم بصاحبنا، لو كنا نعلم أن ما يقول حق لاتبعناه. "حم، خ" في تاريخه والحسن بن سفيان وابن خزيمة، "طب" وابن مردويه وأبو نعيم عن خالد بن أبي جبل العدواني".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خالد بن سعید بن العاص (رض)
٣٧٠٣٢۔۔۔ موسیٰ بن عبیدہ کہتے ہیں : ہمارے بزرگوں نے ہمیں بتایا ہے کہ خالد بن سعید بن عاص (رض) مہاجرین میں سے تھے ، انھوں نے مشرکین کے ایک شخص کو قتل کردیا اور پھر اس کا سازوسامان اپنے قبضہ میں کرلیا اور اس کا ریشم کا جوڑا اتاکر خود نہیں لیا۔ خالد (رض) حضرت عمر (رض) کے ساتھ چل رہے تھے اور لوگ ان کی طرف حیرت سے دیکھتے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم لوگ کیا دیکھتے ہو جو شخص چاہے خالد جیسا کام کرے اور پھر خالد جیسے کپڑے پہنے۔۔ (رواہ ابن سعد)
37032- عن موسى بن عبيدة قال: أخبرنا أشياخنا أن خالد بن سعيد بن العاص وهو من المهاجرين قتل رجلا من المشركين ثم لبس سلبه ديباجا أو حريرا، فنظر الناس إليه وهو مع عمر فقال عمر: ما تنظرون! من شاء فليعمل مثل عمل خالد ثم يلبس لباس خالد."ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خالد بن سعید بن العاص (رض)
٣٧٠٣٣۔۔۔ حضرت خالد بن سعید بن العاص (رض) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد یمن سے آئے۔ (ابوبکر (رض) کے ہاتھ پر) بیعت کرنے کے بعد دومہینے تک انتظار میں بیٹھے رہے اور فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یمن کا حکم دیا تھا پھر آپ نے مجھے معزول نہیں کیا حتیٰ کہ آپ دنیا سے رخصت ہوئے۔ (رواہ ابن عساکر)
37033- عن خالد بن سعيد بن العاص أنه قدم من اليمن بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فتربص ببيعته شهرين يقول: قد أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم لم يعزلني حتى قبضه الله. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خالد بن سعید بن العاص (رض)
٣٧٠٣٤۔۔۔” ایضا “ ابواسحاق مدنی سے مروی ہے کہ حضرت خالد بن سعید بن العاص (رض) حضرت علی (رض) سے کہا کرتے تھے : میں نے تم سے پہلے اسلام قبول کیا ہے اس معاملہ میں میں اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے ساتھ جھگڑا کروں گا لیکن میں اپنے باپ سے ڈرتا تھا اس لیے اپنے اسلام کو چھپائے رکھا جب کہ تم اپنے باپ سے نہیں ڈرتے تھے (رواہ ابن عساکر)
37034- "أيضا" عن أبي إسحاق المدني أن خالد بن سعيد بن العاص كان يقول لعلي: أنا أسلمت قبلك والله لأخاصمنك عند ربي ولكني كنت أفرق1 من أبي فكنت أكتم إسلامي وأنت كنت لا تفرق من أبيك. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خالد بن سعید بن العاص (رض)
٣٧٠٣٥۔۔۔ موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں میں نے ام خالد بنت خالد بن سعید بن العا کو کہتے ہیں سنا کہ : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے قبل ایک رات خالد بن سعید (رض) سو رہے تھے خالد (رض) فرماتے ہیں میں نے خواب دیکھا گویا فرشتے خلا میں اس قدر چھائے ہوئے ہیں کہ تاریکی ہی تاریکی ہوگئی ہے حتیٰ کہ آدمی اپنی کف دست بھی نہیں دیکھ سکتا اسی اثناء میں ایک نور آسمان میں بندہو پہلے بیت اللہ میں چمکا پھر اس نے پورے مکہ کو روشنی سے جگمگادیا پھر بخدا یثرب تک اس کی روشنی پھیل گئی حتیٰ کہ اس روشنی میں کھجور کے درختوں پر کھجوروں کے دانے دیکھ سکتا تھا میں پیدا ہوگیا اور سارا ماجرا اپنے بھائی عمروبن سعید کو کہہ سنایا میرا بھائی صاحب رائے انسان تھا بھائی نے کہا : یہ کوئی عظیم تر معاملہ ہے جس کا ظہور بنی عبدالمطلب میں ہونے والا ہے ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ ان کے باپ کے کھودے ہوئے گھڑے سے اس کا ظہور ہوا ہے خالد (رض) کہتے ہیں : اس خواب کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کی ہدایت سے بہرہ مند کیا۔ ام خالد کہتی ہیں : سب سے پہلا اسلام قبول کرنے والے میرے والد ہیں چونکہ میرے والد نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنا خواب بیان کیا آپ نے فرمایا : اے خالد ! اللہ کی قسم یہ نور میں ہی ہوں میں ہی اللہ کا رسول ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالد (رض) کو اسلام کا تعارف کرایا خالد (رض) نے اسلام قبول کرلیاجب کہ ان کے بھائی عمرو (رض) نے ان کے بعد اسلام قبول کیا ہے (رواہ الدار قطنی فی الافراد وابن عساکر)
37035- عن موسى بن عقبة قال: سمعت أم خالد بنت خالد بن سعيد بن العاص تقول: لما كان قبل مبعث النبي صلى الله عليه وسلم بينا خالد بن سعيد ذات ليلة نائم قال: رأيت كأنه ملائكة ظلمة حتى لا يبصر امرؤ كفه، فبينا هو كذلك إذ خرج نور علا في السماء فأضاء في البيت ثم أضاء مكة كلها ثم إلى نجد ثم إلى يثرب فأضاءها حتى أني لأنظر إلى البسر في النخل، قال: فاستيقظت فقصصتها على أخي عمرو بن سعيد وكان جزل الرأي فقال: يا أخي! إن هذا الأمر يكون في بني عبد المطلب، ألا ترى أنه خرج من حفيرة أبيهم؟ قال خالد: فإنه لما هداني الله به إلى الإسلام قالت أم خالد: فأول من أسلم أبي وذلك أنه ذكر رؤياه لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا خالد! أنا والله ذلك النور وأنا رسول الله فقص عليه ما بعثه الله به، فأسلم خالد وأسلم عمرو بعده. "قط" في الأفراد، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خزیمہ بن ثابت (رض)
٣٧٠٣٦۔۔۔ حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) سے مروی ہے ایک بدو نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گھوڑی بیچی پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے طے شدہ قیمت سے زیادہ کا مطالبہ کرنے لگا پھر انکار کردیا کہ میں نے آپ کو گھوڑی بیچی ہی نہیں۔ اسی اثناء میں حضرت خزیمہ (رض) ان کے پاس سے گزرے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ یہ گھوڑی میں نے تم سے خریدلی ہے خزیمہ (رض) نے اس پر گواہی دی (کہ جی ہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھوڑی خریدی ہے) بدوجب چلا گیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خزیمہ (رض) سے پوچھا : خریدنے کے وقت تم ہمارے پاس موجود تھے ؟ عرض کیا : نہیں لیکن میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ اس نے گھوڑی آپ کو بیچ دی ہے مجھے یقین ہوگیا کہ آپ حق پر ہیں چونکہ آپ حق کے سوا کچھ نہیں کہتے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ایک کی گواہی دو آدمیوں کی گواہی کے برابر ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
37036- عن خزيمة بن ثابت أن أعرابيا باع من النبي صلى الله عليه وسلم فرسا أنثى ثم ذهب فزاد على النبي صلى الله عليه وسلم ثم جحد أن يكون باعها فمر بهما خزيمة بن ثابت فسمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: قد ابتعتها منك، فشهد على ذلك، فلما ذهب الأعرابي قال له النبي صلى الله عليه وسلم: أحضرتنا؟ قال: لا، ولكن لما سمعتك تقول: قد باعك، علمت أنه حق، لا تقول إلا حقا؛ قال: فشهادتك شهادة رجلين. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خزیمہ بن ثابت (رض)
٣٧٠٣٧۔۔۔ حضرت خزیمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان (ایک) کی شہادت کو دوآمیوں کی شہادت کے برابر قرار دیا ہے۔ (رواہ الدارقطنی فی الافرادوابن عساکر)
37037- عن خزيمة بن ثابت أن النبي صلى الله عليه وسلم جعل شهادته بشهادة رجلين. "قط في الأفراد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خزیمہ بن ثابت (رض)
٣٧٠٣٨۔۔۔ حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوار بن قیس محاربی سے گھوڑا خریدا سواربن قیس نے خریداری سے انکار کردیا خزیمہ بن ثابت (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حق میں گواہی دی بعد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خزیمہ (رض) سے بوچھا : بھلا تم نے کیونکر گواہی دی حالانکہ تم ہمارے پاس موجود نہیں تھے ؟ عرض کیا : آپ جو تعلیمات لے کر آئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں لہٰذا مجھے یقین ہوگیا کہ آپ حق کے سوا کچھ نہیں کہتے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کے حق میں یا اس کے خلاف خزیمہ گواہی دے اس کے لیے صرف اسی کی گواہی کافی ہے۔ (رواہ ابویعلی و ابونعیم وابن عساکر وعبدالرزاق)
37038- عن خزيمة بن ثابت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم اشترى فرسا من سواء بن قيس المحاربي فجحده فشهد له خزيمة بن ثابت، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما حملك على الشهادة ولم تكن معنا حاضرا؟ قال: صدقتك بما جئت به وعلمت أنك لا تقول إلا حقا،فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: من شهد له خزيمة أو شهد عليه فحسبه. "ع" وأبو نعيم؛ "كر، عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خزیمہ بن ثابت (رض)
٣٧٠٣٩۔۔۔ معمر، زہری یا قتادہ یا دونوں سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک یہودی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اپنا قرض مانگنے لگا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے قرضہ نہیں ادا کردیا ہے یہودی نے گواہوں کا مطالبہ کیا اتنے میں حضرت خزیمہ انصاری (رض) ادھر آنکلے اور عرض کیا : میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خزیمہ (رض) سے فرمایا : بھلا تمہیں کیونکہ معلوم ہے ؟ عرض کیا : میں اس سے عظیم ترمعاملہ میں آپ کی تصدیق کرتا ہوں اور آسمان کی خبریں لانے پر تصدیق کرتا ہوں ” چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خزیمہ (رض) کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر جائز قرار قراردیا “۔
فائدہ :۔۔۔ یہ حدیث ابن حجر نے اصابہ میں ذکر کی ہے ٩٣٣ اور آخری جملہ صرف اصابہ میں ہے۔ وقال رواہ الدارقطنی۔
فائدہ :۔۔۔ یہ حدیث ابن حجر نے اصابہ میں ذکر کی ہے ٩٣٣ اور آخری جملہ صرف اصابہ میں ہے۔ وقال رواہ الدارقطنی۔
37039- أنبأنا معمر عن الزهري أو قتادة أو كليهما أن يهوديا جاء يتقاضى النبي صلى الله عليه وسلم: قد قضيتك، فقال اليهودي: بينتك! فجاء خزيمة الأنصاري فقال: أنا أشهد أنه قد قضاك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ما يدريك؟ فقال إني أصدقك بأعظم من ذلك، أصدقك بخبر السماء؛ [فأجاز رسول الله صلى الله عليه وسلم شهادته بشهادة رجلين] . " ... "
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خزیم بن فاتک الاسدی (رض)
٣٧٠٤٠۔۔۔ حضرت خزیم بن فاتک الاسدی (رض) سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے انھوں نے عالی شان جوڑا زیب تن کررکھا تھا بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی اور خلوق خوشبو لگا رکھی تھی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خزیم کی ماں کے لیے ہلاکت (یہ کلمہ تعجب کے لیے ہے کہ کہ بدعا کے لئے) اگر یہ خوشبو کم لگاتا بال چھوٹے کراتا اور ٹخنوں سے اوپر کرتا۔ (کیا ہی اچھا ہوتا) صحابہ (رض) خزیم (رض) کی طرف دیکھنے لگے، وہ فورا سمجھ گئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے متعلق کچھ فرمایا ہے چنانچہ خریم (رض) نے بعض صحابہ (رض) سے پوچھا صحابہ (رض) نے انھیں معاملہ سے آگاہ کردیا خریم (رض) نے خوشبودھوڈالی شلوار تخنوں سے اوپر کردی اور سرمنڈوادیا۔ (رواہ ابن عساکر)
37040- عن خريم بن فاتك الأسدي أنه أقبل وعليه حلة وقد رجل شعره وقد تخلق فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ويح أم خريم! لو أقل الخلوق ونقص من الشعر وشمر الإزار، فنظر إليه القوم. فعرف أنه قد تكلم في أمره بشيء، فسأل بعض القوم فأخبره، فغسل الخلوق وشمر الإزار وحلق الرأس. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خزیم بن فاتک الاسدی (رض)
٣٧٠٤١۔۔۔ حضرت خریم بن فاتک (رض) کہتے ہیں : میں اپنے اونٹوں کی تلاش میں گھر سے نکلا چنانچہ مقام ” ابرق
العزاف “ میں اونٹ مجھے مل گئے میں نے وہیں اونٹ باندھ دیئے اور ایک اونٹ کی دستی کو سرہانہ بناکر وہیں لیٹ گیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ کی ہجرت کے ابتدائی زمانہ کی بات ہے پھر میں نے کہا : میں ان وادی کے بڑے کرتے دھرتے کی پناہ مانگتا ہوں میں اس وادی کے عظیم کی پناہ مانگتا ہوں جاہلیت میں لوگوں کو جب کھلے آسمان تلے رارت ہوجائی اپنے بچاؤ کے لیے یہی کرتے تھے یکایک ہاتف غیبی کی آواز سنی کوئی کہہ رہا تھا۔
ویسحک عذباللہ ذی الجلال
منزل اللہ والا تبالی
مساھول ذی الجن من الاھوال
اذیذکراللہ علی الامیسال
قفی سول الارض والجبال
وصارکیدالجن فی سفال
الاالتقی و صالح الاعمال
تیرا ناس ہو ! اللہ عزوجل کی پناہ مانگ جو حلال و حرام کا نازل کرنے والا ہے اور اللہ کی توحید کا اقرار کر پھر تمہیں جنات کی ہول ناکیوں کی کوئی پروا نہیں ہوگی : جب زمین کے نشیب و فراز میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جارہا ہو جنات کے مکروفریب بیکار ہوجاتے ہیں صرف تقویٰ اور نیک اعمال ہی کام آتے ہیں۔
میں نے جواب میں یہ شعر بڑھ دیا :
یا ایھا الداعی ماتخیل
رشدعندک ام تضلیل
اے پکارنے والے : تمہارا کیا خیال ہے آیا کہ تمہارے پاس رشد و ہدایت ہے یا سراسر گمراہی ہے۔
اس نے جواب میں کہا :
ھذا رسول اللہ ذوالخیرات
جاء بیاسین وحامیمات
وسور بعد مفصلات
محرمات ومحلات
یامرابالصوم والصلاۃ
ویزجدالناس عن الھنات
قدکن فی الانامنکرات
یہ اللہ کا رسول ہے جو بھلائیوں کا سراپا ہے جو یسں اور ہم والی سورتیں لایا ہے جو مفصلات اور دیگر بہت ساری سورتیں
لایا ہے وہ سورتیں حلال کرنے والی بھی ہیں اور حرام کرنے والی بھی ہیں وہ نماز اور روزے کا حکم دیتا ہے اور لوگوں کو برائیوں سے روکتا ہے جب کہ لوگوں میں منکرات کا اضافہ ہورہا ہے۔
میں نے کہا : اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے تو ہے کون ؟ اس نے کہا : میں مالک بن مالک ہوں مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل نجد کے جنات پر امیر مقرر کرکے بھیجا ہے۔ میں نے کہا : اگر میرے ان اونٹوں کی کوئی دیکھ بھال کرتا میں اس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاتا اور اس پر ایمان لاتا ۔ اس نے کہا : میں تمہارے اونٹوں کی ذمہ داری لیتا ہوں حتیٰ کہ میں انھیں صبح شام تیرے گھر والوں تک پہنچادوں انشاء اللہ تعالیٰ ۔ میں نے ایک اونٹ تیار کیا اور مدینہ پہنچ گیا اس وقت لوگ نماز جمعہ میں تھے میں نے سوچا لوگ نماز پڑھ لیں میں پھر داخل ہوں گا چونکہ میں تھکا ہوا تھا اتنی دیر میں میں تھوڑا سستا بھی لیتا ہوں، میں نے اپنااونٹ بٹھایا۔ اتنے میں ابوذرغفاری (رض) میری طرف باہر نکلے اور مجھ سے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں اندر آنے کا حکم دیتے ہیں۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : بوڑھے بزرگ نے کیا کیا جس نے تمہارے اونٹ صحیح سالم تمہارے گھر تک پہنچانے کی ضمانت دی تھی ؟ اس نے تو تمہارے اونٹ تمہارے گھر صحیح وسالم پہنچادیئے ہیں۔ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے۔ (رواہ الطبرانی وابن عساکر)
العزاف “ میں اونٹ مجھے مل گئے میں نے وہیں اونٹ باندھ دیئے اور ایک اونٹ کی دستی کو سرہانہ بناکر وہیں لیٹ گیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ کی ہجرت کے ابتدائی زمانہ کی بات ہے پھر میں نے کہا : میں ان وادی کے بڑے کرتے دھرتے کی پناہ مانگتا ہوں میں اس وادی کے عظیم کی پناہ مانگتا ہوں جاہلیت میں لوگوں کو جب کھلے آسمان تلے رارت ہوجائی اپنے بچاؤ کے لیے یہی کرتے تھے یکایک ہاتف غیبی کی آواز سنی کوئی کہہ رہا تھا۔
ویسحک عذباللہ ذی الجلال
منزل اللہ والا تبالی
مساھول ذی الجن من الاھوال
اذیذکراللہ علی الامیسال
قفی سول الارض والجبال
وصارکیدالجن فی سفال
الاالتقی و صالح الاعمال
تیرا ناس ہو ! اللہ عزوجل کی پناہ مانگ جو حلال و حرام کا نازل کرنے والا ہے اور اللہ کی توحید کا اقرار کر پھر تمہیں جنات کی ہول ناکیوں کی کوئی پروا نہیں ہوگی : جب زمین کے نشیب و فراز میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جارہا ہو جنات کے مکروفریب بیکار ہوجاتے ہیں صرف تقویٰ اور نیک اعمال ہی کام آتے ہیں۔
میں نے جواب میں یہ شعر بڑھ دیا :
یا ایھا الداعی ماتخیل
رشدعندک ام تضلیل
اے پکارنے والے : تمہارا کیا خیال ہے آیا کہ تمہارے پاس رشد و ہدایت ہے یا سراسر گمراہی ہے۔
اس نے جواب میں کہا :
ھذا رسول اللہ ذوالخیرات
جاء بیاسین وحامیمات
وسور بعد مفصلات
محرمات ومحلات
یامرابالصوم والصلاۃ
ویزجدالناس عن الھنات
قدکن فی الانامنکرات
یہ اللہ کا رسول ہے جو بھلائیوں کا سراپا ہے جو یسں اور ہم والی سورتیں لایا ہے جو مفصلات اور دیگر بہت ساری سورتیں
لایا ہے وہ سورتیں حلال کرنے والی بھی ہیں اور حرام کرنے والی بھی ہیں وہ نماز اور روزے کا حکم دیتا ہے اور لوگوں کو برائیوں سے روکتا ہے جب کہ لوگوں میں منکرات کا اضافہ ہورہا ہے۔
میں نے کہا : اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے تو ہے کون ؟ اس نے کہا : میں مالک بن مالک ہوں مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل نجد کے جنات پر امیر مقرر کرکے بھیجا ہے۔ میں نے کہا : اگر میرے ان اونٹوں کی کوئی دیکھ بھال کرتا میں اس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاتا اور اس پر ایمان لاتا ۔ اس نے کہا : میں تمہارے اونٹوں کی ذمہ داری لیتا ہوں حتیٰ کہ میں انھیں صبح شام تیرے گھر والوں تک پہنچادوں انشاء اللہ تعالیٰ ۔ میں نے ایک اونٹ تیار کیا اور مدینہ پہنچ گیا اس وقت لوگ نماز جمعہ میں تھے میں نے سوچا لوگ نماز پڑھ لیں میں پھر داخل ہوں گا چونکہ میں تھکا ہوا تھا اتنی دیر میں میں تھوڑا سستا بھی لیتا ہوں، میں نے اپنااونٹ بٹھایا۔ اتنے میں ابوذرغفاری (رض) میری طرف باہر نکلے اور مجھ سے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں اندر آنے کا حکم دیتے ہیں۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : بوڑھے بزرگ نے کیا کیا جس نے تمہارے اونٹ صحیح سالم تمہارے گھر تک پہنچانے کی ضمانت دی تھی ؟ اس نے تو تمہارے اونٹ تمہارے گھر صحیح وسالم پہنچادیئے ہیں۔ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے۔ (رواہ الطبرانی وابن عساکر)
37041- عن خريم بن فاتك قال: خرجت في بغاء إبل لي فأصبتها بالأبرق أبرق العزاف1 فعقلتها وتوسدت ذراع بعير منها وذلك حدثان خروج النبي صلى الله عليه وسلم ثم قلت: أعوذ بكبير هذا الوادي! أعوذ بعظيم هذا الوادي! وكذلك كانوا يصنعون في الجاهلية، فإذا هاتف يهتف بي ويقول:
ويحك عذ بالله ذي الجلال. ... منزل الحرام والحلال
ووحد الله ولا تبالي. ... ما هول ذي الجن من الأهوال
إذ يذكر الله على الأميال. ... وفي سهول الأرض والجبال
وصار كيد الجن في سفال. ... إلا التقى وصالح الأعمال
فقلت:
يا أيها الداعي ما تحيل. ... أرشد عندك أم تضليل
قال:
هذا رسول الله ذو الخيرات. ... جاء بياسين وحاميمات
وسور بعد مفصلات. ... محرمات ومحللات
يأمر بالصوم وبالصلاة. ... ويزجر الناس عن الهنات
قد كن في الأنام منكرات ...
قلت: من أنت يرحمك الله؟ قال: أنا مالك بن مالك بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم على جن أهل نجد، قلت: لو كان لي من يكفيني إبلي هذه لأتيته حتى أومن به، قال: أنا أكفيكها حتى أؤديها إلى أهلك سالمة إن شاء الله تعالى، فاعتقلت بعيرا منها ثم أتيت المدينة فوافقت الناس يوم الجمعة وهم في الصلاة، فقلت يقضون الصلاة ثم أدخل فإني دائب1 أنيخ راحلتي إذ خرج إلي أبو ذر فقال لي: يقول لك رسول الله صلى الله عليه وسلم: ادخل، فدخلت، فلما رآني قال: ما فعل الشيخ الذي ضمن لك أن يؤدي إبلك إلى أهلك سالمة؟ أما إنه قد أداها إلى أهلك سالمة: قلت: رحمه الله! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أجل رحمه الله. "طب، كر".
ويحك عذ بالله ذي الجلال. ... منزل الحرام والحلال
ووحد الله ولا تبالي. ... ما هول ذي الجن من الأهوال
إذ يذكر الله على الأميال. ... وفي سهول الأرض والجبال
وصار كيد الجن في سفال. ... إلا التقى وصالح الأعمال
فقلت:
يا أيها الداعي ما تحيل. ... أرشد عندك أم تضليل
قال:
هذا رسول الله ذو الخيرات. ... جاء بياسين وحاميمات
وسور بعد مفصلات. ... محرمات ومحللات
يأمر بالصوم وبالصلاة. ... ويزجر الناس عن الهنات
قد كن في الأنام منكرات ...
قلت: من أنت يرحمك الله؟ قال: أنا مالك بن مالك بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم على جن أهل نجد، قلت: لو كان لي من يكفيني إبلي هذه لأتيته حتى أومن به، قال: أنا أكفيكها حتى أؤديها إلى أهلك سالمة إن شاء الله تعالى، فاعتقلت بعيرا منها ثم أتيت المدينة فوافقت الناس يوم الجمعة وهم في الصلاة، فقلت يقضون الصلاة ثم أدخل فإني دائب1 أنيخ راحلتي إذ خرج إلي أبو ذر فقال لي: يقول لك رسول الله صلى الله عليه وسلم: ادخل، فدخلت، فلما رآني قال: ما فعل الشيخ الذي ضمن لك أن يؤدي إبلك إلى أهلك سالمة؟ أما إنه قد أداها إلى أهلك سالمة: قلت: رحمه الله! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أجل رحمه الله. "طب، كر".
তাহকীক: