কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭০৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خزیم بن فاتک الاسدی (رض)
٣٧٠٤٢۔۔۔” ایضا “ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ حضرت خریم بن فاتک (رض) نے حضرت عمر (رض) سے کہا : اے امیرالمومنین ! میں آپ کو نہ بتاؤں کہ میرے اسلام قبول کرنے کی ابتداء کیسے ہوئی ؟ عمر (رض) نے فرمایا : کیوں نہیں ضرور بتاؤخریم (رض) نے کہا : ایک مرتبہ میں اپنے چوپایوں کی تلاش میں تھا میں ان کے نشانات کا پیچھا کرتے کرتے رارت ہوگئی اور مقام ” ابرق عزاف “ میں مجھے اونٹ مل گئے اور مجھے یہیں رات گزارنی پڑی میں نے باآواز بلند کہا : میں اسوادی کے بڑے کی پناہ مانگتا ہوں اس کی قوم کے بیوقوفوں سے یکایک ہاتف غیبی کی آواز آئی۔

ویحک عذباللہ ذی الجلال

والمجد والنعماء والافضال

واقسراء آیات من الانفال

ووحد اللہ ولا تبالی

تیرا ناس ہو ! اللہ عزوجل کی پناہ مانگ جو بزرگی نعمتوں اور فصلوں والا ہے سورت انضال کی آیات پڑھو اور اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرکے بے پروا ہوجاو۔

خریم (رض) کہتے ہیں : میں بہت زیادہ خوفزدہ ہوا جب میری طبیعت بحال ہوئی میں نے کہا :

یا ایھا الھاتف ماتقول

ارشد عندک ام تضلیل

بین لناھدیت ماالحویل

اے ہاتف تم کیا کہتے ہو کیا تیرے پاس رشد و ہدایت کا سامان موجود ہے یا گمراہی کی بات کررہے ہو بات واضح کرو

تمہیں ہدایت ملی ہے یا ہوا میں باتیں کررہے ہو۔

ھاتف نے جو ابایہ اشعار پڑھے :

ان رسول اللہ ذالخیرات

بیثرب یدعوالی البجاۃ

یامربالصوم وبالصلاۃ

ویزع الناس عن الھنات

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو بھلائیوں والے ہیں یثرب میں مقیم ہیں اور نجات کی طرف بلاتے ہیں نماز و روزہ کا حکم دیتے ہیں اور لوگوں کو برائیوں سے روکتے ہیں۔

خریم (رض) کہتے ہیں : میری اونٹنی کھڑی ہوگئی اور میں نے جو ابایہ اشعار کہے :

ارشدنی رشد وھدایت

لاجعت ولا غریت

ولا برحت سیلامقیت

وتوثرعلی الخیرالذی اتیت

مجھے راہ ہدایت کی طرف راہنمائی کرو جو ہدایت تمہیں ملی ہے جس میں تمہیں نہ بھوکا ہونا پڑا ہے اور نہ ہی ننگا ہونا پڑا تم میرے سردار ہوگے جو بھلائی تمہیں ملی ہے اسے ترجیح دو ۔

اس نے جواب دیا :

صاحبک اللہ وسلم نفسکا

وبلغ الاھل وادی رحلکا

امن بہ افلح ربی حقکا

وانصرہ اعزربی نصرکا

اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے اپنے آپ کو سلامی میں رکھو اور تمہارے اونٹ تمہارے گھر والوں تک پہنچ جائیں گے اس پر ایمان لاؤ میرا رب تمہیں کامیاب کرے گا اس رسول کی مدد کرو میرا رب تمہاری مدد کرے گا۔

میں نے کہا : اللہ تجھ پر رحم فرمائے تو کون ہے ؟ اس نے کہا : میں عروبن اثال ہوں اور مبعوث ہونے والے نبی آخرالزماں کا نجد کے مسلمانوں پر عامل ہوں میں تمہارے اونٹوں کا ذمہ دار ہوں حتیٰ کہ تم اپنے گھر واپس لوٹ آؤ چنانچہ میں مدینہ پہنچ گیا اور جمعہ کا دن تھا ابوبکر (رض) باہر تشریف لائے اور فرمایا : اللہ تجھ پر رحم فرمائے داخل ہوجاؤ ہمیں تمہارے اسلاقم کی خبر پہنچ چکی ہے میں نے عرض کیا : مجھے طہارت حاصل کرنے کا طریقہ نہیں آتا مجھے طہارت کا طریقہ بتادو میں مسجد میں داخل ہوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منبر پر خطبہ ارشاد فرماتے دیکھا آپ کی صورت اقدس ایسی لگی جیسے چوھودیں کا چاند چمک رہا ہو آپ فرما ہے تھے : جو مسلمان بھی اچھی طرح سے وضو کرتا ہے اور پھر نماز پڑھتا ہے دھیان رکھتے ہوئے اور سوچ سمجھ کر وہ جنت میں داخل ہوجائے گا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : تم اس دعوے ہر گواہ لاؤ ورنہ میں تمہیں ضرور سزادوں گا چنانچہ قریش کے ایک بزرگ عثمان بن عفان نے میرے لیے گواہی دی اور عمر (رض) نے ان کی گواہی قبول کرلی۔ (رواہ الرویانی وابن عساکر)
37042- "أيضا" عن أبي هريرة قال: قال خريم بن فاتك لعمر بن الخطاب: يا أمير المؤمنين! ألا أخبرك كيف كان بدو إسلامي؟ قال: بلى، قال: بينا أنا في طلب نعم لي أنا منها على أثر إذ جنني الليل بأبرق العزاف فناديت بأعلى صوت: أعوذ بعزيز هذا الوادي من سفهاء قومه! فإذا هاتف يهتف: ويحك عذ بالله ذي الجلال. ... والمجد والنعماء والأفضال

واقرء آيات من الأنفال. ... ووحد الله ولا تبالي

قال:

فذعرت ذعرا شديدا، فلما رجعت إلى نفسي قلت:

يا أيها الهاتف ما تقول. ... أرشد عتدك أم تضليل

بين لنا هديت ما الحويل ...

قال:

إن رسول الله ذو الخيرات. ... بيثرب يدعو إلى النجاة

يأمر بالصوم وبالصلاة. ... ويزع الناس عن الهنات

قال: فانبعثت راحلتي فقلت:

أرشدني رشدا هديت. ... لاجعت ولا عريت

ولا برحت سيدا مقيت. ... وتؤثر على الخير الذي أتيت

قال: فاتبعني وهو يقول:

صاحبك الله وسلم نفسكا. ... وبلغ الأهل وادي رحلكا

آمن به أفلح ربي حقكا. ... وانصره أعز ربي نصركا

قلت: من أنت يرحمك الله؟ قال: أنا عمرو بن أثال وأنا عامله

على جن نجد المسلمين وكفيت إبلك حتى تقدم على أهلك، فدخلت المدينة ودخلت يوم الجمعة فخرج إلي أبو بكر الصديق فقال: ادخل رحمك الله! فإنه قد بلغنا إسلامك، قلت: لا أحسن الطهور فعلمني فدخلت المسجد فرأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر يخطب كأنه البدر وهو يقول: ما من مسلم توضأ فأحسن الوضوء ثم صلى صلاة يحفظها ويعقلها إلا دخل الجنة. فقال لي عمر بن الخطاب: لتأتين على هذا ببينة أو لأنكلن بك! فشهد لي شيخ قريش عثمان بن عفان، فأجاز شهادته."الروياني، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خزیمہ بن حکیم سلمی (رض)
٣٧٠٤٣۔۔۔ ابوجریج زہری سے روایت نقل کرتے ہیں کہ خزیمہ بن حکیم سلمی بہری حضرت خدیجہ بنت خویلد (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے خزیمہ (رض) جب کبھی آتے خیروبھلائی لے کر واپس لوٹ جاتے چنانچہ ایک مرتبہ خدیجہ (رض) نے میرے پاس آئی خدیجہ (رض) نے خزیمہ (رض) کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بصری روانہ کیا آپ کے ساتھ خدیجہ (رض) کا غلام میسر بھی تھا بصرہ سرزمین شام میں واقع ہے خزیمہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت محنت کرتے تھے حتیٰ کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان سے اطمینان ہوگیا خزیمہ (رض) نے عرض کیا : یامحمد ! میں تمہارے اندر بہت سارے اوصاف دیکھ رہا ہوں جو مجھے کسی انسان میں نظر نہیں آتے تم اپنی میلاد میں صریح تر ہو اپنی قوم کے ہاں امین ہو میں دیکھتا ہوں کہ لوگ تم سے بےپناہ محبت کرتے ہیں میرا خیال ہے کہ سرزمین تہامہ میں جس کا ظہور ہونے والا ہے وہ تم ہی ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں محمد اللہ کا رسول ہوں نے عرض کیا : میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ سچے ہیں آپ پر ایمان لاچکے ہوں جب قافلہ شام سے واپس لوٹا خزیمہ (رض) اپنے علاقہ میں چلے گئے، اور جاتے جاتے عرض کیا : یارسول اللہ ! جب میں آپ کی ہجرت کا سنوں گا آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاؤں گا چنانچہ تک اپنے گاؤں میں ٹھہرے رہے حتی کہ فتح مکہ کے موقع پر حدمت اقدس میں حاضر ہوئے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ (رض) کو دیکھا فرمایا : سب سے پہلے ہجرت کرنے والے کو مرحبا عرض کیا یارسول اللہ میں اپنی ان انگلیوں کی تعداد کے بقدر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا مجھے آپ سے صرف اس چیز نے روکے رکھا کہ میں آپ کے اعلان کا۔ (ہجرت کے واسطے) انتظار کرتا رہا ورنہ تو میں آپ کی رسالت کا منکر نہیں ہوں اور نہ ہی آپ کی دعوت کا مخالف میں قرآن پر ایمان لایا اور بتوں سے انکار کیا ۔ یارسول اللہ ! میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اپنے قول میں تبدیلی نہیں کی آپ کی بیعت کو توڑا بھی نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر ہر دن ایک نصیحت پیش کرتا ہے اگر وہ اسے قبول کرلے سخاوت میں رہتا ہے اور اگر اسے ترک کردے بدبخت ہوجاتا ہے جو شخص دن میں گناہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اپنا ہاتھ کشادہ کردیتا ہے اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے بلاشبہ حق ثقیل چیز ہے جیسا کہ قیامت کے دن کا ثقل ہے اور باطل ہلکا ہے جیسا کہ قیامت کے دن ہلکا پھلکا ہوگا جنت کو ناگواریوں کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے جب کہ دوزخ کو شہوات سے ڈھانپ دیا گیا ہے تیرے ہاتھ خاک آلود رہیں خوش رہو حضرت خزیمہ (رض) نے پوچھا : یارسول اللہ ! مجھے بتائیں رارت کو تاریکی اور دن میں روشنی کیوں ہوتی ہے سردیوں میں ۔ (زمین سے نکلنے والا) پانی گرم اور گرمیوں میں ٹھنڈا کیوں ہوتا ہے بادلوں کا مخرج کیا ہے مرد کا مادہ منویہ اور عورت کا مادہ منویہ کہاں قرار پکڑے ہوئے ہے جس میں جان کا ٹھکانا کہاں ہے ماں کے پیٹ میں بچہ کیا میت ہے ہڈیوں کا مخرج کیا ہے اور بلدامین سے کیا مراد ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رہی بات رات کی تاریکی اور دن کے اجالے کی سو اللہ تعالیٰ نے پردہ ماء سے ایک مخلوق پیدا کررکھی ہے جس کا باطن سیاہ اور ظاہر سفید ہے اس کی ایک طرف مشرق میں ہے اور دوسری طرف مغرب میں اس پردے کو فرشتوں نے تان رکھا ہے جب صبح نمودار ہوتی ہے فرشتے پر وہ طلعت کو کھینچ لیتے ہیں اور اس پردے کو مغرب کی طرف دھکیل دیتے ہیں جب رات ہونے لگتی ہے فرشتے پردہ کو کشید کرلیتے ہیں اور اسے ہوا کے دوش میں دھکیل دیتے ہیں یہ پردے اسی طرح کارآمد ہیں پوشیدہ نہیں ہونے پاتے اور نہ ہی کبھی ہوتے ہیں۔ رہی بات سردیوں میں (زمین سے نکلنے والے) پانی کے گرم ہونے اور گرمیوں میں ٹھنڈا ہونے کی اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سردیوں میں راتیں لمبی ہوجاتی ہیں سورج سطح زمین سے اوجھل ہوجاتا ہے اور پانی کافی دیر تک زمین میں ٹھررہتا ہے اور یوں گرم ہوجاتا ہے جب کہ گرمیوں میں راتیں چھوٹی ہوتیں ہیں اور پانی اپنی حالت پر برقرار دیتا ہے۔ رہی بات بادلوں کی سو زمین و آسمان کے دھنسے ہوئے مقام میں بادلوں میں شگاف پڑتا ہے پھر اس پر غبار کی تہہ پڑجاتی ہے جب کہ جنوبی اور صبائی ہوائیں اس کے فرق کا باعث بنتی ہیں اور مکفوف مزید سے جمع ہوتے ہیں جب کہ شمالی اور دبورہوائیں بادلوں کو باہم ملا دیتی ہیں۔ رہی بات مرد کے مادہ منویہ کے قرارگاہ کی چنانچہ مرد کا مادہ منوہ احلیل۔ (آلہ تناسل) سے خارج ہوتا ہے اور یہ ایک رگ ہے جس کا سلسلہ براہ راست پشت سے منسلک ہے حتیٰ کہ وہاں سے ہوتا ہوا بائیں فوتے میں ٹھہرجاتا ہے۔ رہی بات عورت کے مادہ منویہ کی سودہ اس کے سینے میں سختی سے گھسا ہوتا ہے وہ لگاتارقریب ترہوتا ہے حتیٰ کہ مرداس کے عسیلہ (شہد) کو چکھ لیتا ہے رہی بات جان کی سو اس کاٹھ کا بادل ہے جو مسلسل روابط کے ساتھ متعلق ہے اور روابط رگوں میں جاری وساری رہتے ہیں جب دل ہلاک ہوجاتا ہے رگوں کا باہمی رابطہ منقطع ہوجاتا ہے رہی بات ماں کے پیٹ میں بچے کے رہنے کی سو اس کی صورت حال یہ ہے کہ بچہ چالیس دن تک نطفہ رہتا ہے پھر چالیس دن تک جماہوا خون ہوتا ہے چالیس دن تک نرم مادہ رہتا ہے چالیس دن میں سخت ہوجاتا ہے پھر چالیس دن تک گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے پھر باریک ہڈیاں پیدا ہوتی ہیں اور پھر جنین کی صورت اختیار کرلیتا ہے اس وقت اس میں چیخنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے اور اس میں روح پھونک دی جاتی ہے اللہ تعالیٰ اسے تام حالت میں نکالنا چاہتا ہے نکال دیتا ہے اور جب اسے رحم مادر میں نومہینے تک رکھنا چاہتا ہے تو اس کا حکم نافذ ہوجاتا ہے اس جنین پر رحم کی رگیں چڑھی ہوتی ہیں انہی کو غذا میسر ہوتی ہے رہی بات ہڈیوں کی جائے خروج کی سو وہ سمندر میں مچھلی کی ایک چھینک سے پیدا ہوتی ہیں اسے ابزارکہا جاتا ہے رہی بات بلد امین کی سو وہ مکہ مکرمہ ہے جہاں آندھی کڑک اور بجلی کا وقوع نہیں ہوتا اس میں دجال داخل نہیں ہوگا دجال کے خروج کی نشانی یہ ہے کہ جب روک دیا جائے زنا عام ہوجائے اور عہد و معاہدہ توڑا جائے۔ (رواہ ابن عساکر وابن شاھین)
37043- عن أبي جريج عن الزهري قال: قدم خزيمة بن الحكيم السلمي ثم البهزي على خديجة بنت خويلد وكان إذا قدم عليها أصابته بخير ثم انصرف إلى بلاده، وإنه قدم عليها مرة فوجهته مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه غلام لها يقال له ميسرة إلى بصرى وبصرى من أرض الشام، وأحب خزيمة رسول الله صلى الله عليه وسلم حبا شديدا حتى اطمأن إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال له خزيمة: يا محمد! إني أرى فيك أشياء ما أراها في أحد من الناس، وإنك لصريح في ميلادك، أمين في أنفس قومك، وإني أرى عليك من الناس محبة، وإني لأظنك الذي يخرج بتهامة، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: فإني محمد رسول الله، قال: أشهد أنك لصادق، وإني قد آمنت بك، فلما انصرفوا من الشام رجع خزيمة إلى بلاده وقال: يا رسول الله! إذا سمعت بخروجك أتيتك، فأبطأ على رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إذا كان يوم فتح مكة أقبل خزيمة حتى وقف على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم لما نظر إليه: مرحبا بالمهاجر الأول! قال خزيمة: أما والله يا رسول الله! لقد أتيتك عدد أصابعي هذه فما نهنهني عنك إلا أن أكون مجدا في إعلانك غير منكر لرسالتك ولا مخالف لدعوتك، آمنت بالقرآن وكفرت بالأوثان، وأتيتك يا رسول الله غير مبدل لقولي ولا ناكث لبيعتي.فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله يعرض على عبده في كل يوم نصيحة فإن هو قبلها سعد وإن تركها شقي، فإن الله باسط يده لمسيء النهار ليتوب، فإن تاب تاب الله عليه، وإن الحق ثقيل كثقله يوم القيامة، وإن الباطل خفيف كخفته يوم القيامة، وإن الجنة محظور عليها بالمكاره، وإن النار محظور عليها بالشهوات، أنعم صباحا تربت يداك! قال خزيمة: يا رسول الله! أخبرني عن ظلمة الليل وضوء النهار وحر الماء في الشتاء وبرده في الصيف ومخرج السحاب، وعن قرار ماءالرجل وماء المرأة، وعن موضع النفس من الجسد وما شراب المولود في بطن أمه، وعن مخرج الجراد، وعن البلد الأمين. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أما ظلمة الليل وضوء النهار فإن الله عز وجل خلق خلقا من غشاء الماء باطنه أسود وظاهره أبيض، وطرفه بالمشرق وطرفه بالمغرب، تمده الملائكة، فإذا أشرق الصبح طردت الملائكة الظلمة حتى تجعلها في المغرب وينسلخ الجلباب، وإذا أظلم الليل طردت الملائكة الضوء حتى تجعله في طرف الهواء، فهما كذلك يتراوحان، لا يبليان ولا ينفدان، وأما إسخان الماء في الشتاء وبرده في الصيف فإن الشمس إذا سقطت تحت الأرض سارت حتى تطلع من مكانها، فإذا طال الليل في الشتاء كثر لبثها في الأرض فسخن الماء لذلك، فإذا كان الصيف مرت مسرعة لا تلبث تحت الأرض لقصر الليل فثبت الماء على حاله باردا، وأما السحاب فينشق من طرف الخافقين السماء والأرض، فيظل عليه الغبار، مكفف من المزاد المكفوف، حوله الملائكة صفوف، تخرقه الجنوب والصبا، وتلحمه الشمال والدبور، وأما قرار ماء الرجل فإنه يخرج ماؤه من الإحليل وهو عرق يجري من ظهره حتى يستقر قراره في البيضة اليسرى، وأما ماء المرأة فإن ماءها في التريبة يتغلغل لا يزال يدنو حتى يذوق عسيلتها،وأما موضع النفس ففي القلب معلق بالنياط والنياط يسقي العروق، فإذا هلك القلب انقطع العرق، وأما شراب المولود في بطن أمه فإنه يكون نطفة أربعين ليلة، ثم علقة أربعين ليلة، ومشيجا أربعين ليلة، وعميسا أربعين ليلة، ثم مضغة أربعين ليلة، ثم العظم حنيكا أربعين ليلة، ثم جنينا، فعند ذلك يستهل وينفخ فيه الروح، فإذا أراد الله أن يخرجه تاما أخرجه وإذا أراد أن يؤخره في الرحم تسعة أشهر فأمره نافذ وقوله صادق تحملت عليه عروق الرحم ومنها يكون غذاء الوليد، وأما مخرج الجراد فإنه نثرة حوت في البحر يقال له الابزار وفيه يهلك، وأما البلد الأمين فبلد مكة مهاجر الغيث والرعد والبرق لا يدخلها الدجال، وآية خروجه إذا منع الحياء وفشا الزنا ونقض العهد."كر وابن شاهين".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خالد بن رباح (رض) (بلال (رض) کے بھائی)
٣٧٠٤٤۔۔۔ موسیٰ بن عبیدہ ، زندبہ عبدالرحمن اپنی والدہ حجہ بنت قرط وہ اپنی ماں عقیلہ بنت عیتک بن حارث سے وہ اپنی والدہ قریرہ بنت حارث سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتی ہیں ہم فتح مکہ کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ ابطح میں ٹھہرے ہوئے تھے آپ پر سرخ رنگ کا قبہ (جھگا) بنادیا گیا تھا ہم نے آپ کے دست اقدس پر بیعت کی اور آپ نے چند شرائط پر ہم سے بیعت لے لی اسی اثناء میں بنی عامر بن لوی کا ایک شخص سہیل بن عمروسامنے سے چلتا ہوا آیاوہ یوں لگتا تھا جیسے خاکستری رنگ کا اونٹ ہو۔ حضرت بلال (رض) کے بھائی حضرت خالد بن رباح (رض) سے اس کی ملاقات ہوئی جب کہ سورج طلوع ہوچکا تھا خالد (رض) بولے : تمہیں بجزنفاق کے کسی چیز نے نہیں روکا کہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوجاؤ قسم اس ذات کی جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو برحق مبعوث کیا ہے اگر ایک وجہ نہ ہوتی میں تمہیں تلوار سے دولخت کردیتا ۔ چنانچہ سہیل بن عمرو سمجھدار شخص تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور کہا : کیا آپ نہیں دیکھتے کہ یہ غلام مجھے کیا کہتا ہے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے چھوڑدو کیا بعیدوہ تم سے بدرجہا بہتر ہو اور پھر تم اسے ڈھونڈو اسے نہ پاسکو۔ چنانچہ اس کے لیے یہ بات پہلی سے زیادہ سخت تھی۔ (رواہ ابونعیم)
37044- عن موسى بن عبيدة عن زيد بن عبد الرحمن عن أمه حجة بنت قرط عن أمها عقيلة بنت عتيك بن الحارث عن أمها أم قريرة بنت الحارث قالت: جئنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة وهو نازل بالأبطح وقد ضربت عليه قبة حمراء فبايعناه واشترط علينا، قالت: فبينما نحن كذلك إذ أقبل سهيل بن عمرو أحد بني عامر بن لؤي كأنه جمل أورق فلقيه خالد بن رباح أخو بلال بن رباح وذلك بعد ما طلعت الشمس فقال: ما منعك أن تعجل الغدو على رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا النفاق! والذي بعثه بالحق أن لولا شيء لضربت بهذا السيف فلحتك! وكان رجلا أعلم، فانطلق سهيل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ألا ترى ما يقول لي هذا العبد؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: دعه فعسى أن يكون خيرا منك فتلتمسه فلا تجده، فكانت هذه عليه أشد من الأولى."أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت خالد بن رباح (رض) (بلال (رض) کے بھائی)
٣٧٠٤٥۔۔۔ قریرہ بنت حارث کہتی ہیں ہم فتح مکہ کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ ابطح میں ٹھہرے ہوئے تھے آپ پر سرخ رنگ کا قبہ بنادیا گیا تھا ہم نے آپ کے دست اقدس پر بیعت کی اور آپ نے ہمارے اوپر شرائط لاگو کیں اسی دوران بنی عامر بن لوی کا ایک شخص سہیل بن عمرو سامنے سے آیا وہ یوں لگتا تھا جیسا کہ خاکستری کا اونٹ ہو اس کی خالد بن رباح (بلال (رض) کے بھائی) سے ملاقات ہوئی جب کہ سورج طلوع ہوچکا تھا خالد (رض) بولے : تمہیں صبح صبح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہونے سے صرف اور صرف نفاق (منافقت) نے روکے رکھا ہے قسم ! اس ذات کی جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو برحق مبعوث کیا ہے اگر ایک وجہ نہ ہوتی میں تلوار سے تمہیں دولخت کردیتا چنانچہ سہیل بن عمرو سمجھدار شخص تھا فورا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور کہا : کیا آپ نہیں دیکھتے کہ یہ غلام مجھے کیا کہہ دیا ہے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے چھوڑدو، کیا بعیدوہ تم سے بدر جہابہتر ہو اور پھر تم اسے تلاش کروپرا سے کہیں بھی نہ پاسکو چنانچہ سہیل بن عمرو کیلئے یہ بات پہلی سے زیادہ سخت تھی (رواہ مندہ وابن عساکر وفیہ موسیٰ بن عبیدہ وھو ضیعف)
37045- عن قريرة بنت الحارث قالت: جئنا لرسول الله صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة وهو نازل بالأبطح وقد ضربت عليه قبة حمراء فبايعناه واشترط علينا فبينا نحن كذلك إذ أقبل سهيل بن عمرو أحد بني عامر بن لؤي كأنه جمل أورق فلقيه خالد بن رباح أخو بلال بن رباح وذلك بعد ما طلعت الشمس فقال: ما منعك أن تعجل الغدو على رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا النفاق؟ والذي بعثه بالحق لولا شيء لضربت بهذا السيف فلحتك! وكان رجلا أعلم، فانطلق سهيل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ألا ترى ما يقول لي هذا العبد؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: دعه فعسى أن يكون خيرا منك فتلتمسه فلا تجده، وكانت هذه أشد عليه من الأولى.ابن منده، "كر" وفيه موسى بن عبيدة ضعيف.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف راء۔۔۔ حضرت ربیع بن زیاد (رض)
٣٧٠٤٦۔۔۔ عبداللہ بن بریدہ روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وفد کی آمد پر لوگ جمع ہوئے حضرت عمر (رض) نے ابن ارقم (رض) کو حکم دیا کہ : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) کو دیکھو ان سے کہو کہ پہلے وہ آئیں پھر وہ جو ان سے ملے ہوئے ہیں۔ چنانچہ صحابہ کرام اندر داخل ہوئے اور آپ (رض) کے سامنے صف بنالی آپ (رض) نے دیکھا کہ ایک موٹا شخص کھڑا ہے اور اس نے اپنے اوپر چادر کا ٹکڑا اوڑھ رکھا ہے عمر (رض) نے اس کی طرف اشارہ کیا وہ آپ (رض) کے پاس آیا فرمایا : کچھ کہو :(تین بار فرمایا) وہ شخص بولا ! آپ ہی کچھ فرمائیں ۔ (تین بار کہا) عمر (رض) نے فرمایا : تیرا ناس ہو کھڑا ہوجاوہ آدمی کھڑا ہوگیا۔ عمر (رض) نے پھر یکھا کہ ایک اشعری شخص ہے جو دبلے پتلے اور کمزور جسم کا مالک ہے آپ (رض) نے اس کی طرف اشارہ کیا وہ آپ کے پاس آگیا فرمایا : کچھ کہو۔ اشعری بولا ! آپ ہی کچھ فرمائیں عمر (رض) نے فرمایا : کچھ کہو وہ بولا : آپ بات کی ابتدا کریں ہم بات جاری رکھیں گے۔ فرمایا : تیرا ناس ہوجا تجھے بھیڑوں کا چرواہا ہرگز نفع نہیں پہنچا سکتا۔ عمر (رض) نے پھر دیکھا کہ ایک اور شخص ہے جو سفید فام اور کمزور جسم کا مالک ہے اس کی طرف اشارہ کیا وہ آپ کے پاس آیا آپ نے فرمایا : کچھ کہو : اس نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ فورا احمد وثناء کے بعد کہا : تمہیں اس امت کا بار امارت اٹھانا پڑا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو تمہیں خلافت کی ذمہ داری سنبھالنی پڑی ہے تمہاری رعایا تمہارے دل میں ہونی چاہیے تمہیں حساب چکانا ہوگا اور تم رعایا کے مسؤل ہو۔ بلاشبہ تم امین ہو اور امانت کی ادائیگی آپ کا فرض ہے لہٰذا تمہیں تمہارے عمل کے بقدر اجر ملے گا عمر (رض) نے فرمایا : جب سے مجھے خلیفہ نامزذ کیا گیا ہے تب سے تمہارے علاوہ مجھے کسی شخص نے سچ نہیں کہا : تم کون ہو ؟ جواب دیا : میں ربیع ہوں فرمایا : کیا تم مہاجرین زیادہ کے بھائی ہو ؟ کہا : جی ہاں چنانچہ عمر (رض) نے ایک لشکر تیار کیا اور ان کا نگران اشعری کو مقرر کیا اشعری کو حکم دیا تم ربیع بن زہادہ (رض) کو دیکھتے رہوجو کچھ اس نے کہا ہے اگر اس میں سچا ہے تو بلاشبہ اس معاملہ میں وہ تمہاری مدد کرے گا لہٰذا اسے عامل مقرر کردو پھر دس دن کے بعد پھر اس کا معائنہ کرو اور اس کے طریقہ کار کو مجھے لکھ بھجو تاکہ میں دیکھ لوں کہ آیا گورنری کے مستحق ہے کہ نہیں۔ پھر فرمایا : ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں وصیت کی ہے کہ : میں اپنے بعد تمہارے اوپر سب سے زیادہ اس منافق کا خوف محسوس کرتا ہوں جو صاحب لسان ہو۔ (رواہ ابن راھویہ والحارث ومسدد وابویعلی و صحیح)
37046- عن عبد الله بن بريدة أن عمر بن الخطاب جمع الناس لقدوم الوفد فقال لابن الأرقم: انظر أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم فأذن لهم أول الناس ثم القرن الذين يلونهم، فدخلوا فصفوا قدامه، فنظر فإذا رجل ضخم عليه مقطعة برود فأومى إليه عمر فأتاه فقال عمر: إيه - ثلاث مرات، فقال الرجل: إيه - ثلاث مرات، فقال عمر: أف قم! فقام فنظر فإذا الأشعري رجل أبيض خفيف الجسم قصير ثبط2، فأومأ إليه فأتاه، فقال عمر: إيه! فقال الأشعري: إيه! قال عمر: إيه! فقال: يا أمير المؤمنين! افتح حديثا فنحدثك، فقال عمر: أف قم! فإنه لن ينفعك راعي ضأن، فنظر فإذا رجل أبيض خفيف الجسم فأومأ إليه فأتاه، فقال له عمر: إيه! فوثب فحمد الله وأثنى عليه ووعظ بالله ثم قال: إنك وليت أمر هذه الأمة فاتق الله فيما وليت من أمر هذه الأمة وأهل رعيتك في نفسكخاصة، فإنك محاسب ومسؤول، وإنما أنت أمين وعليك أن تؤدي ما عليك من الأمانة، فتعطى أجرك على قدر عملك: فقال: ما صدقني رجل منذ استخلفت غيرك، من أنت؟ قال: أنا ربيع بن زياد، فقال: أخو المهاجر بن زياد؟ قال: نعم، فجهز عمر جيشا واستعمل عليه الأشعري ثم قال: انظر ربيع بن زياد، فإن يك صادقا فيما قال فإن عنده عونا على هذا الأمر فأستعمله، ثم لا يأتين عليك عشرة إلا تعاهدت منه عمله وكتبت إلي بسيرته في عمله حتى كأني أنا الذي استعملته، ثم قال عمر: عهد إلينا نبينا صلى الله عليه وسلم فقال: إن أخوف ما أخشى عليكم بعدي منافق عليم اللسان.ابن راهويه والحارث ومسدد، "ع" وصحح
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی (رض)
٣٧٠٤٧۔۔۔ ربیعہ (رض) کہتے ہیں : میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کرتا تھا ایک دن آپ نے فرمایا : اے ربیعہ ! کیا تم شادی نہیں کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ ! مجھے آپ کی خدمت شادی کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ آپ نے دوبارہ پھر شادی کرنے کا فرمایا : میں نے یہی عذر پیش کیا پھر میں نے سوچا : بخدا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے لیے وہی کچھ جانتے ہیں جو میرے لیے بہت مفید ہے اگر آپ نے ایک بار اور شادی کی پیشکش کی میں قبول کرلوں گا چنانچہ تیسری بار فرمایا : اے ربیعہ ! شادی نہیں کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کیوں نہیں فرمایا : فلاں انصاری کے پاس چلے جاؤں وہ لوگ اپنی بیٹی سے تمہاری شادی کردایں گے میں ان لوگوں کے پاس چلا گیا اور کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں حکم دیا ہے کہ میری شادی کرادو۔ وہ لوگ بولے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصد کو ہم مرحبا کہتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قاصد اپنے مقصد میں کامیاب ہو کر جائے گا چنانچہ ان لوگوں نے میری شادی کرادی اور مجھ سے گواہوں کا مطالبہ تک بھی نہیں کیا، میں پریشانی کے عالم میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا فرمایا : اے ربیعہ ! تمہارا کیا ہوا ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اچھے اور شریف لوگوں کے پاس گیا ہوں انھوں نے میری شادی کرادی جب کہ مجھ سے گواہوں کا مطالبہ بھی نہیں کیا لیکن میرے پاس مہر میں دینے کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ (رض) کو حکم دیا کہ ربیعہ کے لیے گٹھلی کے برابر سونا جمع کرو، صحابہ نے میرے لیے دوگٹھلیوں کے برابر سونا جمع کیا میں یہ سونا لے کر سسرال والوں کے ہاں آگیا اور انھیں دے دیا انھوں نے کہا : یہ مہر کثیر ہے اور اچھا و پاکیزہ ہے۔ میں ایکبار پھر پریشانی کی حالت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا : اے ربیعہ تمہارا کیا ہوا ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں اچھے اور شریف لوگوں کے پاس گیا انھیں سونا دیا وہ بولے : کثیر ہے اور اچھا ہے لیکن اب میرے پاس ولیمہ کرنے لے لیے کچھ نہیں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ (رض) سے فرمایا : ربیعہ کے لیے ایک مینڈھے کے پیسے جمع کرو صحابہ (رض) نے مینڈھے کے لیے پیسے جمع کردیئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اہل خان کے پاس پیغام بھیجا چنانچہ ایک تھال لایا گیا جس میں جو تھے میں وہ لے کر سسرال کے پاس چلا گیا سسرال والوں نے کہا : مینڈھے کے متعلق ہم تمہاری کفایت کردیں گے چنانچہ دوسرے دن صبح کو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) کی دعوت کی۔ (رواہ احمد بن حنبل والحاکم والطبرانی عن ربیعۃ الاسلمی)
37047- كنت أخدم النبي صلى الله عليه وسلم فقال يوما: يا ربيعة! ألا تتزوج؟ فقلت والله يا رسول الله لخدمتك أحب إلي! ثم أعاد علي بعد مرة أخرى، فقلت مثل ذلك فقلت: والله لرسول الله صلى الله عليه وسلم أعلم بما يصلحني مني! فلئن قال لي مرة فلأقولن: بلى يا رسول الله،فقال لي: يا ربيعة! ألا تتزوج؟ قلت: بلى يا رسول الله! قال: ايت فلانا - لرجل من الأنصار - فليزوجوك ابنتهم فلانة، فأتيتهم فقلت: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمركم أن تزوجوني، فقالوا: مرحبا برسول رسول الله صلى الله عليه وسلم! لا يذهب رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا بحاجته، فزوجوني ولم يسألوني بينة، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا كئيب، فقال: ما لك يا ربيعة؟ قلت؛ يا رسول الله! أتيت قوما كراما فزوجوني ولم يسألوني بينة وليس عندي ما أصدق1، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اجمعوا له وزن نواة من ذهب، فجمعوا لي وزن نواتين من ذهب فأتيتهم به، فقبلوا وقالوا: كثير طيب، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا كئيب، فقال: ما لك يا ربيعة! فقلت: يا رسول الله! أتيت قوما كراما فقبلوا وقالوا: كثير طيب، وليس عندي ما أولم فقال: اجمعوا له في ثمن كبش، فجمعوا لي في ثمن كبش، وأرسل رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أهله فأتى بمكتل فيه شعير فأتيتهم به، فقالوا أما الكبش فاكفوناه أنتم، وأما الشعير فنحن نكفيكموه، ففعلوا ذلك، وأصبحت فدعوت رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه. "حم، ك،
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت رباح (رض) (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا آزاد کردہ غلام)
٣٧٠٤٨۔۔۔” مسند سلمہ بن اکوع “ ایاسس بن سلمہ اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک رباح نامی غلام تھا۔ (رواہ ابن جریر)
37048- "مسند سلمة بن الأكوع" عن إياس بن سلمة عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان له غلام يسمى رباحا."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت رافع بن خدیج (رض)
٣٧٠٤٩۔۔۔” مسند اسید بن حضیر “ حسین وسعدی ولد ثابت بن اسید بن ظہیر اپنے والد اور دادا سے روایت نقل کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت رافع بن خدیج (رض) کو چھوٹا سمجھ کر غزوہ میں شامل ہونے کا اجازت نہ دی رافع (رض) کے چچا ظہیر (رض) نے عرض کیا یارسول اللہ ! رافع تیرا انداز ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دے دی چنانچہ دوران جنگ رافع (رض) کو گلے میں تیرلگا انھیں ان کے چچا لیکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : میرے بھتیجے کو تیر لگا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم اسے نکالنا چاہتے ہو تو ہم اسے نکال دیں گے اور اگر اسی طرح چھوڑنا چاہتے ہو اور پھر وہ مرجائے بلاشبہ وہ شہید کی موت مرے گا۔ (رواہ ابونعیم)

حرف زاء۔۔۔ حضرت زبیر بن عوام (رض)

خلفاء اربعہ کے بعد عشرہ مبشرہ میں حضرت زبیر بن عوام (رض) کا تذکرہ ہوچکا ہے۔
37049- "مسند أسيد بن حضير" عن حسين وسعدى ولدي ثابت بن أسيد بن ظهير عن أبيهما عن جدهما قال: استصغر رسول الله صلى الله عليه وسلم رافع بن خديج يوم أحد، فقال له عمه ظهير: يا رسول الله! إنه رجل رام، فأجازه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأصابه سهم في لبته، فجاء به عمه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن ابن أخي أصابه سهم، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن أحببت أن نخرجه أخرجناه، وإن أحببت أن ندعه فإنه إن مات وهو فيه مات شهيدا. "أبو نعيم"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ثابت (رض)
٣٧٠٥٠۔۔۔ سلیمان بن یسار کی روایت ہے کہ قضاء ، فتوی ، فرائض (علم میراث اور قرآن میں حضرت عمر اور عثمان (رض) حضرت زید بن ثابت (رض) پر کسی کو مقدم نہیں کرتے تھے۔ (رواہ ابن سعد)
37050- عن سليمان بن يسار قال: ما كان عمر ولا عثمان يقدمان على زيد بن ثابت أحدا في القضاء والفتوى والفرائض والقراءة."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ثابت (رض)
٣٧٠٥١۔۔۔ قاسم کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) جب کسی سفر پر تشریف لے جاتے مدینہ میں حضرت زیدبن ثابت (رض) کو اپنا نائب مقرر کرکے جاتے تھے عمر (رض) مختلف شہروں میں لوگوں کو بھیجتے تھے جب کہ اہم قسم کی مہمات پر حضرت زید بن ثابت (رض) وعنہ کو بھیجتے تھے آپ (رض) کے بارے نامی گرامی پوچھتے آپ فرماتے زید کا مقام میرے نیزدیک گرا نہیں ہے لیکن شہر والے زید کے محتاج ہیں چونکہ لوگوں کو اپنے مسائل کا حل زید (رض) کے پاس ملتا ہے جو ان کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ (رواہ ابن سعد)
37051- عن القاسم قال: كان عمر يستخلف زيد بن ثابت في كل سفر، وكان يفرق الناس في البلدان ويوجهه في الأمور المهمة، ويطلب إليه الرجال المسمون، فقال له: زيد بن ثابت، فيقول: لم يسقط علي مكان زيد، ولكن أهل البلد محتاجون إلى زيد فيما يجدون عنده فيما يحدث لهم ما لا يجدون عند غيره."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ثابت (رض)
٣٧٠٥٢۔۔۔ سالم بن عبدا (رض) کہتے ہیں : جس دن زید بن ثابت (رض) دنیا سے رخصت ہوئے ہم ابن عمر (رض) کے پاس تھے میں نے کہا : آج لوگوں کا عالم دنیا سے رخصت ہوچکا ہے ابن عمر (رض) نے فرمایا : عمر (رض) کے دور خلافت میں یہ شخص لوگوں کا عالم تھا اور ان کے دور خلافت کا صبر ہے۔ عمر (رض) لوگوں کو مختلف شہروں میں بھیجتے تھے اور انھیں اپنی رائے کے مطابق فتویٰ دینے سے منع فرماتے تھے جب کہ زیدبن ثابت مدینہ میں مجلس لگاتے مدینہ میں مجلس لگاتے اہل مدینہ اور باہر کے لوگوں کو فتویٰ دیتے تھے۔ (رواہ ابن سعد)
37052- عن سالم بن عبد الله قال: كنا مع ابن عمر يوم مات زيد بن ثابت فقلت: مات عالم الناس اليوم! فقال ابن عمر: يرحمه الله اليوم! فقد كان عالم الناس في خلافة عمر وحبرها، فرقهم عمر في البلدان ونهاهم أن يفتوا برأيهم، وجلس زيد بن ثابت بالمدينة يفتي أهل المدينة وغيرهم من الطراء - يعني القدام."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ثابت (رض)
٣٧٠٥٣۔۔۔” مسند عثمان (رض) “ ابوعبدالرحمن (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے حضرت عثمان (رض) کو اپنی قرات سنانا چاہی عثمان (رض) نے ان سے فرمایا : اس طرح تم مجھے لوگوں لے امور کی دیکھ بھال سے غافل کردوگے زیدبن ثابت کے پاس جاؤوہ انہی کاموں کے لیے فارغ بیٹھا ہے۔ اسے قرات سناؤ اس کی قرات اور میری قرات ایک ہی ہے ہماری ق راتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ (رواہ ابن الانباری فی المصاحف)
37053- "مسند عثمان رضي الله عنه" عن أبي عبد الرحمن رضي الله عنه أنه قرأ على عثمان، قال فقال لي: إنك إذا تشغلني عن النظر في أمور الناس فامض إلى زيد بن ثابت، فإنه أفرغ لهذا الأمر فاقرأ عليه، فإن قراءتي وقراءته واحدة، ليس بيني وبينه فيها خلاف."ابن الأنباري في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ثابت (رض)
٣٧٠٥٤۔۔۔ سلیمان سے مروی ہے کہ خارجہ بن زید بن ثابت کہتے ہیں : ایک مرتبہ چندلوگ میرے والد محترم کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے : ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعض حدیثیں سناؤ زید (رض) نے فرمایا : میں تمہیں کیا کیا حدیثیں سناؤں ! میں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پڑوسی تھا جب وحی نازل ہوتی مجھے پیغام بھیجوا کر اپنے پاس بلالیتے تھے اور میں وحی لکھ لیتا تھا جب ہم (صحابہ (رض)) آخرت کا ذکر کرتے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ہمارے ساتھ سات شامل ہوتے جب ہم دنیا کا ذکر کرتے آپ بھی ہمارے تذکرہ میں شامل ہوتے جب ہم کھانے پینے کا ذکر کرتے آپ بھی ہمارے ساتھ ہوتے جب تم عورتوں کا ذکر کرتے آپ بھی ان کا ذکر کرتے ان تمام امور کے متعلق میں تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیثیں سنا سکتا ہوں۔ (رواہ ابن ابی داؤد فی المصاحف وابویعلی والرویانی والبیھقی وابن عساکر)
37054- "مسند زيد بن ثابت" عن سليمان بن خارجة بن زيد بن ثابت عن أبيه قال: وفد نفر على أبي فقالوا: حدثنا بعض حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: ماذا أحدثكم! كنت جاره فكان إذا نزل عليه الوحي أرسل إلي فكتبت الوحي، وكان إذا ذكرنا الآخرة ذكرها معنا وإذا ذكرنا الدنيا ذكرها معنا، وإذا ذكرنا الطعام ذكره معنا وإذا ذكرنا النساء ذكرهن معنا؛ وبكل هذا أحدثكم عنه."ابن أبي داود في المصاحف، ع والروياني، ق في ... ، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ثابت (رض)
٣٧٠٥٥۔۔۔ حضرت زید بن ثابت (رض) کہتے ہیں : جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت میں گیارہ سال کا تھا۔ (رواہ ابن عساکر)
37055- عن زيد بن ثابت قال: قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة وأنا ابن إحدى عشر سنة."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ثابت (رض)
٣٧٠٥٦۔۔۔ حضرت زید بن ثابت (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے مجھے آپ کی خدمت میں حاضر کیا : لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ لڑکا بنی نجار سے ہے اور اس نے آپ کے اوپر نازل ہونے والے قرآن میں سے ستر سورتیں حفظ کرلی ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہ سورتیں سنائیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس چیز نے بہت خوش کیا اور فرمایا : اے زید ! یہودیوں کی کتاب سیکھ لو میں نے تم سے ایک کام لینا ہے اللہ کی قسم میں یہودیوں پر بھروسہ نہیں کرتا کہ وہ میری کتاب پر ایمان لائیں گے میں نے نصف مہینہ میں ان کی کتاب پڑھ کر اچھی خاصی مہارت پیدا کرلی چنانچہ جب بھی یہودیوں کو خط لکھنا ہوتا میں ہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے خط لکھتا تھا اور جب یہودی آپ کو خط لکھتے ہیں میں ہی ان کے خطوط پڑھتا تھا۔ (رواہ یعلی وابن عساکر)
37056- عن زيد بن ثابت قال: أتي بي النبي صلى الله عليه وسلم مقدمه المدينة فقالوا: يا رسول الله! هذا غلام من بني النجار وقد قرأ مما أنزل عليك سبع عشرة سورة! فقرأت على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأعجبه ذلك فقال: يا زيد! تعلم لي كتاب يهود، فإني والله ما آمن يهود على كتابي، فتعلمته، فما مضى لي نصف شهر حتى حذقته1 فكنت أكتب لرسول الله صلى الله عليه وسلم، إذا كتب إليهم وأقرأ كتابهم إذا كتبوا إليه. "ع، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ثابت (رض)
٣٧٠٥٧۔۔۔” ایضا “ عبداللہ بن ابی بکربن محدم بن عمروبن حزم سے مروی ہے کہ حضرت زیدبن ثابت (رض) اس وقت کے مدارس میں علم حاصل کرتے رہے ہیں چنانچہ اپ نے پندرہ (١٥) دنوں میں یہودیوں کی کتاب پڑھ لی حتیٰ کہ آپ (رض) یہودیوں کی تحریف و تبدیل کو بخوبی جانتے تھے۔ (رواہ ابن عساکر)
37057- "أيضا" عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم قال: كان زيد بن ثابت يتعلم في مدارس2 ماسكة، فتعلم كتابهم في خمس عشرة ليلة، حتى كان يعلم ما حرفوا وبدلوا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ثابت (رض)
٣٧٠٥٨۔۔۔ حضرت زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے وحی لکھتا تھا چنانچہ جب آپ پر وحی نازل ہوتی آپ کو سخت مشقت کا سامنا کرنا پڑتا آپ پیسنے میں شرابور ہوجاتے اور موتیوں کی طرح پسینے کی لڑیاں بہنے لگیں پھر یہ کیفیت یک سرختم ہوجاتی۔ (رواہ ابن عساکر)
37058- عن زيد بن ثابت قال: كنت أكتب الوحي لرسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان إذا نزل أخذته برحاء شديدة وعرق عرقا مثل الجمان ثم سري عنه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ثابت (رض)
٣٧٠٥٩۔۔۔ حضرت زیدبن ثابت (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا کہ میرے پاس مختلف قسم کے خطوط آتے ہیں میں نہیں چاہتا کہ انھیں پر کوئی پڑھے کیا تم عبرانی زبان سیکھ سکتے ہو ؟ کہ سریانی زبان سیکھ سکتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں چنانچہ ستر دنوں میں ، میں نے یہ سیکھ لی۔ (رواہ ابن ابی داؤد فی المصاحف وابن عساکر)
37059- عن زيد بن ثابت قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنها تأتيني كتب لا أحب أن يقرأها كل أحد، فهل تستطيع أن تتعلم كتاب العبرانية - أو قال: السريانية؟ فقلت: نعم، فتعلمتها في سبع عشرة ليلة."ابن أبي داود في المصاحف، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ثابت (رض)
٣٧٠٦٠۔۔۔ زیدبن ثابت (رض) فرماتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا کیا تم سریانی زبان اچھی طرح سے جانتے ہو ؟ چونکہ میرے پاس طرح طرح کے خطوط آتے ہیں : میں نے عرض کیا : میں سریانی زبان نہیں جانتا حکم دیا کہ یہ زبان سیکھ لوچنانچہ سترا (١٧) دنوں میں میں نے یہ زبان سیکھ لی۔ (رواہ ابویعلی وابن ابی داؤد وابن عساکر)
37060- عن زيد بن ثابت قال قال لي النبي صلى الله عليه وسلم: أتحسن السريانية؟ فإنها تأتيني كتب، قلت: لا، قال: فتعلمها، فتعلمتها في سبعة عشر يوما. "ع وابن أبي داود، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ثابت (رض)
٣٧٠٦١۔۔۔ عمار بن ابی عمر سے مروی ہے کہ ایک دن حضرت زید بن ثابت (رض) گھوڑے پر سوار ہونا چاہتے تھے اتنے میں ابن عباس (رض) نے سواری کی رکابیں تھام لیں زید (رض) نے ابن عباس (رض) سے فرمایا : اے ابن عباس ! ہٹ جاؤ ابن عباس (رض) نے کہا : ہمیں اپنے علماٰء اور بزرگوں کے ساتھ یہی کرنے کا حکم دیا گیا ہے زید (رض) نے فرمایا : مجھے اپنا ہاتھ دکھاؤ ابن عباس (رض) نے اپنا ہاتھ نکال لیا زید (رض) نے ان کا ہاتھ چوما اور فرمایا : ہمیں بھی یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم بھی اپنے نبی کے اہل بیت کے ساتھ یہی کچھ کریں۔ (رواہ ابن عساکر)
37061- "أيضا" عن عمار بن أبي عمار أن زيد بن ثابت ركب يوما فأخذ ابن عباس بركابه، فقال له: تنح يا ابن عم رسول الله صلى الله عليه وسلم! فقال له: هكذا أمرنا أن نفعل بعلمائنا وكبرائنا فقال زيد: أرني يدك، فأخرج يده، فقبلها فقال: هكذا أمرنا أن نفعل بأهل بيت نبينا. "كر".
tahqiq

তাহকীক: