কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭০৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن ثابت (رض)
٣٧٠٦٢۔۔۔ ایک مرتبہ ابن عباس (رض) نے حضرت زید بن ثابت (رض) کی سواری کی رکابیں لیں اور پھر کہا ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنے معلمین کی رکابیں تھا میں ۔ (رواہ ابن النجار)
37062- عن ابن عباس أنه أخذ بركاب زيد بن ثابت ثم قال: إنا أمرنا أن نأخذ بركاب معلمينا وذوي أسناننا."ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن حارثہ (رض)
٣٧٠٦٣۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ (رض) نے اسلام قبول کیا چنانچہ انھوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور سب سے پہلے نماز پڑھی۔ (رواہ ابن عساکر)
37063- عن علي قال: أسلم زيد بن حارثة مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان أول ذكر أسلم وصلى. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن حارثہ (رض)
٣٧٠٦٤۔۔۔ حضرت براء بن عازب (رض) کی روایت ہے کہ حضرت زید بن حارثہ (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ نے میرے اور حمزہ (رض) کے درمیان مواخات قائم کی ہے۔ (رواہ ابونعیم)
37064- عن البراء بن عازب أن زيد بن حارثة قال: يا رسول الله! آخيت بيني وبين حمزة."أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن حارثہ (رض)
٣٧٠٦٥۔۔۔” مسند جبلہ بن حارثہ کلبی (رض) “ جبلہ بن حارثہ کہتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا : یارسول اللہ میرے ساتھ میرے بھائی زید کو بھیج دیں آپ نے فرمایا : وہ یہ تمہارے سامنے کھڑا ہے اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہتا ہے میں اسے نہیں روکتا اتنے میں زید (رض) بول پڑے اور کہا : یارسول اللہ ! نہیں نہیں اللہ کی قسم : میں آپ پر کسی اور کو ترجیح نہیں دوں گا جبلہ کہتے ہیں : میرے بھائی کی رائے میری حقیر رائے سے بدرجہا افضل تھی۔ (رواہ ابویعلی والدرقطنی فی الا افراد والطبرانی و ابونعیم والسائی وابن عساکر)
37065- "مسند جبلة بن حارثة الكلبي" عن جبلة بن حارثة قال: قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله! ابعث معي أخي زيدا، قال: هو ذا بين يديك! فإن انطلق معك لم أمنعه، فقال زيد: لا والله يا رسول الله لا أختار عليك أحدا أبدا! قال جبلة: فكان رأى؟؟؟ "رأي" أخي أفضل من رأيي". "ع، قط" في الأفراد، "طب" وأبو نعيم، "ن، كر"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن حارثہ (رض)
٣٧٠٦٦۔۔۔ جبلہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب خود جہاد میں شریک نہ ہوئے اپنا اسلحہ حضرت علی (رض) یا حضرت زید (رض) کو دیتے تھے۔ (رواہ ابن عساکر)
37066- عن جبلة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا لم يغز لم يعط سلاحه إلا عليا أو زيدا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن حارثہ (رض)
٣٧٠٦٧۔۔۔” ایضا “ جبلہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دوعددپالان ہدیہ میں دیئے گئے ان میں ایک آپ نے خود رکھ لیا اور دوسرا زید (رض) کو عطا کردیا۔ (رواہ ابن عساکر)
37067- "أيضا" أهدي للنبي صلى الله عليه وسلم رحلان، فأخذ واحدا وأعطى زيدا الآخر. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن حارثہ (رض)
٣٧٠٦٨۔۔۔ حضرت حذیفہ بن الیمان (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن زیدبن حارثہ (رض) کی طرف دیکھا اور آپ رونے لگے : پھر فرمایا : یہ میرے اہل بیت میں سے مظلوم ہے۔ اور یہ میرا ہم نام ہے اسے اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے گا اور سولی پر لٹکایا جائے گا آپ نے زید (رض) کی طرف اشارہ کیا : فرمایا : میرے قریب ہوجاؤ اے زیدبن حارثہ ! اللہ تعالیٰ تمہاری محبت میں اضافہ فرمائے بلاشبہ تو حبیب کا ہم نام ہے زید کی اولاد میں سے (رواہ ابن عساکر)
کلام :۔۔۔ حدیث کلام کیا گیا ہے چونکہ اس میں ایک روای نصربن مزاحم ہے مغنی میں لکھا ہے کہ یہ رافضی تھا محدثین نے اسے متروک قرار دیا ہے۔
کلام :۔۔۔ حدیث کلام کیا گیا ہے چونکہ اس میں ایک روای نصربن مزاحم ہے مغنی میں لکھا ہے کہ یہ رافضی تھا محدثین نے اسے متروک قرار دیا ہے۔
37068- عن حذيفة بن اليمان أن النبي صلى الله عليه وسلم نظر يوما إلى زيد بن حارثة وبكى فقال: المظلوم من أهل بيتي سمي! والمقتول في الله والمصلوب من أمتي سمي هذا - وأشار إلي زيد بن حارثة ثم قال: ادن مني يا زيد بن حارثة! زادك الله حبا عندي! فإنك سمي الحبيب من ولدي زيد. "كر". وفيه نصر بن مزاحم، قال في المغني: رافضي تركوه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن حارثہ (رض)
٣٧٠٦٩۔۔۔ ابوسعید (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے جنت میں لے جایا کیا جنت میں ایک لڑکی نے میرا استقبال کیا میں نے اس سے پوچھا : اے لڑکی تو کس کی ہے اس نے جواب دیا میں زید بن حارثہ کی ہوں پھر اس کے بعد میں صاف ستھرے پانی کی نہروں دودھ کی نہروں جو کبھی خراب نہیں ہوتا اور شراب کی نہروں جو پینے والوں کو بھرپور لذت فراہم کرتا ہے اور صاف و شفاف شہد کی نہروں پر کھڑا ہواجنت کے اناریوں لگتے تھے گویا کوئی بڑا ڈول لٹک رہا ہو میں نے جنت کے پرندے بھی دیکھے جو تمہارے بختی اونٹوں جیسے تھے اس موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک کاربندوں کے لیے ایسی ایسی نعمتیں پیدا کررکھی ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے ان کے متعلق سنا اور نہ ہی کسی بشر کے دل میں ان کا خیال کھٹکا۔ (رواہ ابن عساکر)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے چونکہ اس کی سند میں ابوہارون عبدی ہے۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے چونکہ اس کی سند میں ابوہارون عبدی ہے۔
37069- عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إني رفعت إلى الجنة فاستقبلتني جارية، فقلت: لمن أنت يا جارية؟ قالت: لزيد بن حارثة، وإذا أنا بأنهار من ماء غير آسن وأنهار من لبن لم يتغير طعمه وأنهار من خمر لذة للشاربين وأنهار من عسل مصفى، ورمانها كأنه الدلاء عظما وإذا بطائرها كأنه بختكم هذه! فقال عندها رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله أعد لعباده الصالحين ما لا عين رأت ولا أذن سمعت ولا خطر على قلب بشر. "كر". وفيه أبو هارون العبدي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن حارثہ (رض)
٣٧٠٧٠۔۔۔” مسند عبداللہ بن عمر (رض) “ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ ہم زید بن حارثہ (رض) کو زید بن محمد کہہ کر پکارتے تھے حتیٰ کہ قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی ” ادعوھم لاباءھم “ یعنی منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کرکے پکارو۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37070- "مسند عبد الله عمر" ما كنا ندعو زيد بن حارثة إلا زيد بن محمد حتى نزل القرآن {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ} . "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن حارثہ (رض)
٣٧٠٧١۔۔۔ عروہ کہتے ہیں : حضرت زید بن حارثہ (رض) نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
37071- عن عروة قال: أول من أسلم زيد بن حارثة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن حارثہ (رض)
٣٧٠٧٢۔۔۔ عروہ کہتے ہیں حضرت زیدبن حارثہ (رض) غزوہ موتہ میں شہید کیے گئے۔ (رواہ ابن سعد وابن عساکر)
37072- عن عروة قال: قتل يوم مؤتة زيد بن حارثة. ابن سعد، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن حارثہ (رض)
٣٧٠٧٣۔۔۔ زہری ونافع ومحمد بن اسامہ بن زید و عمران بن ابی انس اور سلمان بن یسار کہتے ہیں سب سے پہلے زید بن حارثہ (رض) نے اسلام قبول کیا۔ (رواہ ابن عساکر وابن سعد)
37073- عن الزهري ونافع بن جبير ومحمد بن أسامة بن زيد وعمران ابن أبي أنس وسلمان بن يسار قالوا: أول من أسلم زيد بن حارثة. "كر" وابن سعد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید بن حارثہ (رض)
٣٧٠٧٤۔۔۔ زہری کہتے ہیں : ہم کسی کو نہیں جانتے جو زید بن حارثہ سے قبل اسلام لایا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
فائدہ :۔۔۔ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے حضرت ابوبکر (رض) نے اسلام قبول کیا اور مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خدیجہ (رض) نے اسلام قبول کیا بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی (رض) نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور احادیث مذکورہ وبالا سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زید بن حارث (رض) نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا علماء نے احادیث مختلف میں یوں تطبیق دی ہے کہ مذکورہ بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زیدبن حارث نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا علماء نے احادیث مختلف میں ہوں تطبیق دی ہے کہ بوڑھوں میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر نے اسلام قبول کیا عورتوں میں حضرت خدیجہ (رض) نے بچوں میں حضرت علی (رض) نے اور غلاموں میں زید بن حارثہ (رض) نے۔
فائدہ :۔۔۔ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے حضرت ابوبکر (رض) نے اسلام قبول کیا اور مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خدیجہ (رض) نے اسلام قبول کیا بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی (رض) نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور احادیث مذکورہ وبالا سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زید بن حارث (رض) نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا علماء نے احادیث مختلف میں یوں تطبیق دی ہے کہ مذکورہ بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زیدبن حارث نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا علماء نے احادیث مختلف میں ہوں تطبیق دی ہے کہ بوڑھوں میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر نے اسلام قبول کیا عورتوں میں حضرت خدیجہ (رض) نے بچوں میں حضرت علی (رض) نے اور غلاموں میں زید بن حارثہ (رض) نے۔
37074- عن الزهري قال: ما علمنا أحدا أسلم قبل زيد بن حارثة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زیادبن حارث صدائی (رض)
٣٧٠٧٥۔۔۔ حضرت زیادبن حارث صدائی (رض) کہتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے اسلام قبول کرنے کی شرط پر بیعت کرلی ایک مرتبہ مجھے خبر ملی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری قوم کی طرف لشکر بھیجا ہے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ لشکر کو واپس بلالیں میں اپنی قوم کے اسلام قبول کرنے اور ان کی اطاعت بجالانے کی ضمانت دیتا ہوں آپ نے مجھے حکم دیا : تم خود جاؤ اور لشکر کو واپس بلالاؤ میں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری سواری تھکی ماندی ہے چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص بھیجا اور اس نے لشکر واپس کردیا صدائی (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری قوم کی طرف ایک خط لکھا جس کی پاداش میں قوم کا وفد قبول اسلام کی خبر لے کر خبر لے کر حاضر ہوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اے صدائی ! تیری بات مانی جاتی ہے میں نے جواب دیا : بلکہ اللہ تعالیٰ نے میری قوم کو اسلام کی ہدایت دی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : کیا میں تمہیں قوم پر امیر نہ مقرر کردوں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ جی ہاں مجھے مقرر کردیں۔ آپ نے میرے لیے فرشتہ تحریر کردیا میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے قوم کے صدقات کے بارے میں حکم دیں فرمایا : جی ہاں : آپ نے ایک اور نوشتہ میرے لیے حوالہ قرطاس کیا صدائی کہتے ہیں : یہ واقعہ آپ کے بعض اسفار میں پیش آیا تھا چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جگہ پڑاؤ کیا اس جگہ کے باسی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے عامل کی شکایت کرنے لگے اور کہا : ہمارا عامل جاہلیت کی دشمنی کا مواخذہ لینا چاہتا ہے جو ہمارے اور اس کی قوم کے درمیان جاہلیت میں تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا وہ ایسا کرتا ہے ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ (رض) کی طرف التفات کیا میں بھی ان میں شامل تھا ارشاد فرمایا : مومن شخص کی ایسی امارت میں کوئی بھلائی نہیں ہے صدائی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان میرے دل میں رچ بس گیا پھر آپ کے پاس ایک اور شخص آیا اور کہا : اے اللہ کے نبی ! مجھے کچھ عطا کریں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے مالدار ہوتے ہوئے سوال کیا وہ اس کے لیے سرکادرد ہے اور پیٹ میں بیماری ہے مسائل نے کہا : مجھے صدقہ میں سے عطا کریں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ صدقات کے متعلق کسی نبی یا غیر نبی کے فیصلہ سے قطعی راضی نہیں ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے صدقات کے متعلق خود آٹھ حصے کردیئے ہیں اگر تو ان حصوں میں آتا ہوں میں تمہیں صدقہ دوں گا صدائی (رض) کہتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان بھی میرے دل و دماغ میں رچ بس گیا کہ میں مالدار ہوں جب کہ میں نے آپ سے صدقہ کا سوال کیا تھا اس کے بعدرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کے اول حصہ میں روانہ ہوگئے میں آپ کے ساتھ ساتھ چلنے لگا، چونکہ میں قوی شخص تھا جب کہ آپ صحابہ (رض) آپ سے کٹنے لگے اور آہستہ آہستہ پیچھے رہنے لگے حتیٰ کہ ایسا وقت بھی آیا آپ کے ساتھ میرے سوا کوئی بھی نہیں تھا۔ جب صبح کی اذان کا وقت قریب ہوا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا میں نے اذان دی میں کہنے لگا : یارسول اللہ ! اقامت کہوں ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جانب مشرق دیکھنا شروع کردیا کہ طلوع فجر ہوا ہے یا نہیں۔ چنانچہ آپ نے فرمایا : ابھی اقامت نہ کہو کہ جب طلوع فجر ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اترے اور قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے پھر میری طرف واپس لوٹے اتنے میں آپ کے صحابہ (رض) بھی پہنچ چکے تھے آپ نے فرمایا : اے صدائی تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میرے پاس بہت تھوڑا ساپانی ہے جو آپ کو کافی نہیں ہوسکتا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے ایک برتن میں ڈالو اور پھر اسے میرے پاس لے آؤں آپ نے اپنی ہتھیلی پانی میں داخل کی میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر مجھے اپنے رب تعالیٰ سے حیاء نہ آتی ہم یہ پانی پیتے اور دوسروں کو بھی پلاتے میرے صحابہ (رض) میں اعلان کرو اگر کسی کو پانی کی ضرورت ہو ؟ میں نے اعلان کیا جسے پانی کی ضرورت تھی اس نے پانی لیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوگئے اقامت کہنے کے لیے بلال (رض) تیاری کرنے لگے لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اقامت کہنے سے منع کردیا اور فرمایا : صدائی نے اذان دی ہے اور جو اذان دیتا ہے وہی اقامت کہنے کا حق رکھتا ہے۔ چنانچہ آپ نے نماز پڑھائی اور جب فارغ ہوئے میں آپ کے لکھے ہوئے دونوں خطوط آپ کے پاس لے آیا اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا عذر قبول کیجئے ارشاد فرمایا : بھلا تمہیں کیا سوجھا ؟ میں نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے کہ : مومن شخص کی امارت میں کوئی بھلائی نہیں۔ جب کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا ہوں میں نے آپ کو ایک سائل سے فرماتے سنا : جس شخص نے مالدار ہوتے ہوئے سوال کیا وہ سر میں درد ہے اور پیٹ میں بیماری ہے جب کہ میں نے آپ سے سوال کیا ہے حالانکہ میں مالدار ہوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ایسا ہی ہے اگر چاہو تو امارت قبول کرو اگر چاہو تو چھوڑ دو میں نے عرض کیا : میں امارت (گورنری) چھوڑتا ہوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اچھا پھر کوئی ایسا آدمی مجھے بتاؤ جسے میں تمہارے اوپر امیر مقرر کردوں میں نے وفد میں شریک ایک آدمی کا نام لیا پھر ہم نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! ہمارا ایک کنواں ہے سردیوں میں اس کا پانی کافی ہوتا ہے اور ہم سب اس پر جمع ہوجاتے ہیں لیکن گرمیوں میں اس کا پانی کم پڑجاتا ہے جس کی وجہ سے ہمیں مضافات سے پانی لانا پڑتا ہے اب جب ہم اسلام لاچکے ہیں اردگرد کے لوگ ہمارے دشمن ہوجائیں گے وہ ہمیں پانی نہیں دیں گے لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں تاکہ ہمارے کنویں میں پانی سارا سال جاری رہے جو ہمیں کافی ہے اور تاکہ ہم ادھر ادھر پانی لینے نہ جائیں۔ آپ نے سات کنکریان منگوائیں انھیں اپنے ہاتھوں میں الٹاپلٹا اور ان پر دعا پڑھی پھر فرمایا : یہ کنکریاں لے جاؤ اور اللہ کا نام لیکر ایک ایک کرکے کنویں میں ڈال دو صدائی (رض) کہتے ہیں ہم نے ایسا ہی کیا پھر اس کے بعد ہم کنویں کی گہرائی نہیں دیکھ سکے۔ (رواہ البغوی وابن عساکر وقال ھذا حدیث حسن)
37075- عن زياد بن الحارث الصدائي قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فبايعته على الإسلام، وأخبرت أنه بعث جيشا إلى قومي فقلت: يا رسول الله! اردد الجيش فأنا لك بإسلام قومي وطاعتهم! فقال لي: اذهب فردهم، فقلت: يا رسول الله! إن راحلتي قد كلت، فبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا فردهم، قال الصدائي: وكتب إليهم كتابا، فقدم وفدهم بإسلامهم فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أخا صداء إنك لمطاع في قومك؟ فقلت: بل الله هو هداهم للإسلام، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: أؤمرك عليهم! فقلت: بلى يا رسول الله! فكتب لي كتابا، فقلت: يا رسول الله! مر لي بشيء من صدقاتهم، قال: نعم، فكتب لي كتابا آخر. قال الصدائي: وكان ذلك في بعض أسفاره فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم منزلا فأتاه أهل ذلك المنزل يشكون عاملهم ويقولون: آخذنا بشيء كان بيننا وبين قومه في الجاهلية، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أو فعل؟ فقالوا: نعم. فالتفت النبي صلى الله عليه وسلم إلى أصحابه وأنا فيهم فقال: لا خير في الإمارة لرجل مؤمن قال الصدائي: فدخل قوله في نفسي، ثم أتاه آخر فقال: يا نبي الله! أعطني، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: من سأل الناس عن ظهر غنى فصداع في الرأس وداء في البطن، فقال السائل: فأعطني من الصدقة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله لم يرض بحكم نبي ولا غيره في الصدقات حتى حكم فيها فجزأها ثمانية أجزاء، فإن كنت من تلك الأجزاء أعطيتك، قال الصدائي: فدخل ذلك في نفسي أني سألته من الصدقات وأنا غني، ثم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتشى1 من أول الليل فلزمته وكنت قويا وكان أصحابه ينقطعون عنه ويستأخرون حتى لم يبق معه أحد غيري، فلما كان أوان أذان الصبح أمرني فأذنت، فجعلت أقول: أقيم يا رسول الله؟ فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم ينظر ناحية الشرق إلى الفجر فيقول: لا، حتى إذا طلع الفجر نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم فتبرز ثم انصرف إلي وقد تلاحق أصحابه فقال: هل من ماء يا أخا صداء؟ فقلت: لا إلا شيء قليل لا يكفيك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اجعله في إناء ثم ائتني به، ففعلت، فوضع كفه في الماء فرأيت بين كل أصبعين من أصابعه عينا تفور، قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: لولا أني أستحيي من ربي لسقينا وأسقينا، ناد في أصحابي من له حاجة في الماء؟ فناديت فيهم، فأخذ من أراد منهم، ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فأراد بلال أن يقيم فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: أن أخا صداء هو أذن، ومن أذن فهو يقيم، قال الصدائي: فأقمت الصلاة، فلما قضي رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة أتيته بالكتابين فقلت: يا رسول الله! اعفني من هذين، فقال: ما بدا لك؟ فقلت: سمعتك يا نبي الله تقول: لا خير في الإمارة لرجل مؤمن، وأنا أومن بالله ورسوله؛ وسمعتك تقول للسائل: من سأل الناس عن ظهر غنى فهو صداع في الرأس وداء في البطن، وسألتك وأنا غني؛ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: هو ذا، فإن شئت فأقبل، وإن شئت فدع، فقلت: أدع، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: فدلني على رجل أؤمره عليكم، فدللته على رجل من الوافدين الذين قدموا عليه، فأمره عليهم، ثم قلنا يا نبي الله! إن لنا بئرا إذا كان الشتاء وسعنا ماؤها واجتمعنا عليها، وإذا كان الصيف قل ماؤها فتفرقنا على مياه حولنا وقد أسلمنا وكل من حولنا عدو لنا فادع الله لنا في بئرنا أن يسعنا ماؤها فنجتمع عليها ولا نتفرق، فدعا سبع حصيات ففركهن في يده ودعا فيهن ثم قال: اذهبوا بهذه الحصيات فإذا أتيتم البئر فألقوا واحدة واحدة واذكروا اسم الله؛ قال الصدائي: ففعلنا ما قال لنا فما استطعنا بعد أن ننظر إلى قعرها."البغوي، كر وقال: هذا حديث حسن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زیدبن سہل ابوطلحہ انصاری (رض)
٣٧٠٧٦۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوطلحہ (رض) اور ابو عبیدہ (رض) کے درمیان مواخات قائم کی ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
37076- عن أنس آخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أبي طلحة وبين أبي عبيدة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زیدبن سہل ابوطلحہ انصاری (رض)
٣٧٠٧٧۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ابوطلحہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں (نفلی) روزے کم رکھتے تھے چونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جہاد میں شرکت کرتے تھے، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوئے ابوطلحہ (رض) بجز سفر اور مرض کے روزہ نہیں چھوڑتے تھے۔ (رواہ ابن جریر)
37077- عن أنس قال: كان أبو طلحة يقل الصوم على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم من أجل الغزو، فلما مات كان لا يفطر إلا سفر أو مرض."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زیدبن سہل ابوطلحہ انصاری (رض)
٣٧٠٧٨۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ ابوطلحہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے۔ (رواہ ابن عساکر)
37078- عن أنس أن أبا طلحة قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم: جعلني الله فداك يا رسول الله. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زیدبن صوحان وجندب بن کعب عبدی (یا ازدی) (رض)
٣٧٠٧٩۔۔۔ ابومجلزبن حمید ابن عباس ، وابن عمر (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک غزوہ میں تھے اور صحابہ (رض) باری باری سوار ہوتے تھے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باری آئی آپ سواروں کے لیے حدی دیتے اور فرماتے : زید اچھا ہے اور زید کیا ہے جندب اور جندب کیا ہے صبح ہوئی ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں نے آپ کو کثرت سے زید (رض) اور جندب (رض) کا تذکرہ کرتے دیکھا ہے اس کی وجہ ہے ؟ فرمایا : یہ میری امت کے دو شخص ہیں رہی بات ان میں سے ایک کی سو اس کے جسم کا کچھ حصہ یا اس کا ہاتھ پہلے سے جنت میں پہنچ جائے گا اور دوسرا شخص حق و باطل کے درمیان فرق کرتا ہے چنانچہ زید (رض) کا ہاتھ غزوہ جلولاء میں کٹ گیا اور خود جنگ جمل میں شہید ہوئے رہی بات جندب کی چنانچہ ایک مرتبہ وہ ولیدبن عتبہ کے پاس سے گزرے اور ولید کے سامنے ایک جادو گر کرتب دکھارہا تھا، جندب (رض) نے اپنی تل اور اٹھائی اور سیدھے آکر جادو گر کے دے ماری اور اسے واصل جہنم کردیا۔ (رواہ ابن عساکر)
37079- عن أبي مجلز بن حميد عن ابن عباس وابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في غزوة فكان يتناوب أصحاب سوق الإبل، فإذا كان نوبة رسول الله صلى الله عليه وسلم حدا بالركب ويقول: زيد الخير وما زيد! جندب وما جندب! فلما أصبح قلنا؟ يا رسول الله! رأيناك تذكر زيدا وجندبا فأكثرت من ذكرهما، قال: هما رجلان من أمتي، أما أحدهما فيسبقه بعض جسده أو يده إلى الجنة وأما الآخر فيفرق بين الحق والباطل، فأما زيد فأصيبت يده يوم جلولاء وقتل يوم الجمل، وأما جندب فإنه مر بالوليد بن عقبة فإذا ساحر يلعب بين يديه فحمل بسيفه وجاء فضرب الساحر فقتله. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زیدبن صوحان وجندب بن کعب عبدی (یا ازدی) (رض)
٣٧٠٨٠۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو یہ بات خوش کرتی ہو کہ وہ ایسے شخص کو دیکھے جس کے بعض اجزاء جنت میں پہنچ چکے ہیں وہ زید بن صوحان (رض) کو دیکھ لے۔ (رواہ ابویعلی وابن عدی والبیھقی فی الدلائل والخطیب وابن عساکر وقال البھقی فیہ ھزیل بن بلال غیر قوی)
کلام :۔۔۔ بیہقی کہتے ہیں حدیث ضعیف ہے چونکہ اس کی سند میں ھزیل بن بلال ہے جو قوی نہیں ۔
کلام :۔۔۔ بیہقی کہتے ہیں حدیث ضعیف ہے چونکہ اس کی سند میں ھزیل بن بلال ہے جو قوی نہیں ۔
37080- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من سره أن ينظر إلى رجل بسيفه بعض أجزائه إلى الجنة فلينظر إلى زيد بن صوحان. "ع، عد، ق" في الدلائل، "خط، كر"؛ قال "ق": فيه هزيل بن بلال غير قوي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زید الخیل (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا نام زید الخیر رکھا
٣٧٠٨١۔۔۔ حضرت عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں : ہم جاہلیت کے آخر میں اور اسلام کے اول زمانہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے زید الخیل (رض) (زیدبن مہلہل طائی) آگے بڑھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا اور پھر ٹھہر گئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے زید ! آگے بڑھو تمہیں دیکھا ہیں تاحتیٰ کہ اب تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں زید (رض) آگے بڑھے اور کلمہ شہادت کا اقرار کیا اور پھر باتیں کہیں عمر بن خطاب (رض) نے کہا : اے زید ! میرا خیال ہے کہ بنی طے میں تم سے افضل کوئی نہیں۔ زید (رض) نے جواب دیا اللہ کی قسم کیوں نہیں طے میں مہمانوں کی میربانی کرنے والا حاتم بھی ہے جس عفاف دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا عمر (رض) نے کہا : تم نے باقی لوگوں کے لیے خیروبھلائی نہیں چھوڑی زید (رض) بولے : ہم میں مقدوم حومہ بھی ہے جو سینے کے اعتبار سے شجاع ہے جس کا حکم ہمارے درمیان نافذ ہوتا ہے عمر (رض) نے پھر فرمایا : تم نے باقی لوگوں کے لیے خیروبھلائی نہیں چھوڑی زید (رض) نے عرض کیا : اللہ کی قسم کیوں نہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
37081- عن عدي بن حاتم قال: قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم في آخر الجاهلية وأول الإسلام فاستقدم زيد الخيل وهو زيد بن مهلهل الطائي فسلم على رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم وقف فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تقدم يا زيد! فما رأيتك حتى أحببت أن أراك، فتقدم زيد فشهد شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله ثم تكلم، فقال له عمر بن الخطاب: يا زيد! ما أظن في طيء أفضل منك، قال بلى والله، فيها حاتم القاري للأضياف، والطويل العفاف؛ قال: فما تركت لمن بقي خيرا، قال: إن منا لمقدوم بن حومة الشجاع صدرا، النافذ فينا أمرا؛ قال: فما تركت لمن بقي خيرا! قال: بلى والله. "كر".
তাহকীক: