কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭০৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف سین۔۔۔ حضرت سعد بن عبادہ (رض)
٣٧٠٨٢۔۔۔ حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی روایت ہے کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک برتن لائے جو مغز سے بھرا ہوا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوثابت یہ کیا ہے ؟ عرض کیا : قسم اس ذات کی جس نے آپ کو برحق پیدا کیا ہے میں نے چالیس جانور ذبح کیے ہیں میں نے چاہا کہ آپ کو مغز سے سیر کردوں چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغز تناول فرمایا : اور پھر سعد (رض) کے لیے دعائے خیر کی۔ (رواہ ابن عساکر)
37082- عن سعد بن عبادة أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم بصحفة أو جفنة مملوءة مخا فقال: يا أبا ثابت! ما هذا؟ قال: والذي بعثك بالحق لقد نحرت أو ذبحت أربعين ذات كبد فأحببت أن أشبعك من المخ! قال فأكل النبي صلى الله عليه وسلم ودعا له بخير. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف سین۔۔۔ حضرت سعد بن عبادہ (رض)
٣٧٠٨٣۔۔۔ ابن سیرین کی روایت ہے کہ جب اہل صفہ کو شام ہوجاتی تو کوئی شخص آتا وہ اپنے ساتھ اہل صفہ میں سے اہل آدمی لے جاتا کوئی دو کو لے جاتا کوئی ایک جماعت کو لے جاتا رہی بات حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی وہ ہر رات اپنے ساتھ اسی اسی آدمیوں کو لے کر جاتے۔ (رواہ ابن ابی الدنیا وابن عساکر)
37083- عن ابن سيرين قال: كان أهل الصفة إذا أمسوا انطلق الرجل بالرجل والرجل بالرجلين والرجل بالجماعة، فأما سعد بن عبادة فكان ينطلق بثمانين كل ليلة يعشيهم. ابن أبي الدنيا، "كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن مالک (رض)
٣٧٠٨٤۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ میرے ماموں ہیں کوئی شخص اپنا بھی ماموں دکھائے۔ (رواہ الطبرانی والحاکم)
37084- عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: هذا خالي فلير امرء خاله. "طب، ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن مالک (رض)
٣٧٠٨٥۔۔۔” مسند جابربن عبداللہ “ ایک مرتبہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں سامنے سے حضرت سعد بن مالک (رض) تشریف لائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ میرے ماموں ہیں کوئی آدمی اپنے ماموں کو بھی مجھے دکھائے۔ (رواہ الترمذی وقال : غریب والطبرانی والحاکم و ابونعیم والضیاء)
37085- "مسند جابر بن عبد الله" كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم فأقبل سعد فقال: هذا خالي فليرني امرء خاله. "ت" وقال: غريب، "طب، ك" وأبو نعيم، "ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن مالک (رض)
٣٧٠٨٦۔۔۔ حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں حضرت سعد بن مالک (رض) سامنے سے تشریف لائے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ میرے ماموں ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
37086- عن جابر قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ أقبل سعد بن مالك فقال: أنت خالي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن مالک (رض)
٣٧٠٨٧۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پہلو میں جاگتے رہے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! بیدار رہنے کی کیا وجہ ہے ؟ ارشاد فرمایا : کوئی نیک شخص ہو جو آج رات میری چوکیداری کرتا رہے چنانچہ تھوڑی دیر گزری تھی کہ یکایک ہم نے اسلحہ کی جھنکار سنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کون ہے ؟ وہ بولا ! میں سعد بن مالک ہوں فرمایا : کیوں آئے ہو ؟ عرض کیا یارسول اللہ ! میں اس لیے آیا ہوں تاکہ آپ کی چوکیداری کروں چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گہری نیند سوگئے حتیٰ کہ مجھے آپکے خراٹوں کی آواز سنائی دینے لگی۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ
37087- عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سهر ذات ليلة وهو لي جنبي فقلت: يا رسول الله! ما شأنك؟ فقال: ليت رجلا صالحا من أمتي يحرسني الليلة! فبينا نحن كذلك إذ سمعت صوت السلاح فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من هذا؟ فقال: أنا سعد بن مالك، قال: ما جاء بك؟ قال: جئت أحرسك يا رسول الله! فسمعت غطيط رسول الله صلى الله عليه وسلم في نومه. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن معاذ (رض)
٣٧٠٨٨۔۔۔” ابن ابی شیبۃ یزید بن ہارون، محمد بن عمرو اپنے والد اور دادا سے وہ علقمہ بن وقاص سے حضرت عائشہ (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتی ہیں : میں غزوہ خندق کے دن لوگوں کے پاؤں کے نشانات پر ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگے میں نے اپنے پیچھے پاؤں کی چاپ سنی میں پیچھے جو مڑ کر دیکھا کیا دیکھتی ہوں کہ میرے پیچھے حضرت سعد بن معاذ (رض) آرہے ہیں اور ان کے ساتھ ان کے بھتیجے حارث بن اوبن ہیں حارث نے سعد بن معاذ (رض) کی ڈھال اٹھا رکھی ہے۔ میں انھیں دیکھ کر زمین کے ساتھ چپک کر بیٹھ گئی حضرت سعد (رض) گزرگئے سعد (رض) نے زرہ پہن رکھی تھی جس کے اطراف باہر نکلے دکھائی دیتے تھے مجھے ان کے اطراف سے ڈرلگا : چونکہ سعد (رض) لوگوں میں بڑے اور طویل القامت تھے وہ یہ رجز پڑھتے ہوئے میرے پاس سے گزرے۔

لث قلیلا یدرک الھیجا حمل مااحسن الموت اذا حان الاجل

تھوڑی دیر ٹھہرجا جنگ بوجھ کو پالے گی جب اجل قریب ہوجائے اس وقت موت کتنی اچھی ہوتی ہے اٹھ کر قریب ہی ایک باغیچے میں جاگھسی اس میں مسلمانوں کی ایک جماعت موجود تھی ان میں عمر بن خطاب (رض) بھی تھے ایک اور شخص بھی تھا جس نے جنگی ٹوپی (خود) پہن رکھا تھا عمر (رض) نے مجھے دیکھ کر فرمایا : تمہارا ناس ہو تم کیوں آئی ہو (تین بارکہا) تو ضد کرکے آگئی ہے کیا معلوم سخت معرکہ آرائی ہو ایسی حالت میں تمہیں کون امن فراہم کرے گا۔ عمر (رض) مجھے ملامت کرتے رہے حتیٰ کہ میں تمنا کرنے لگی کہ زمین پھٹ جائے اور میں اس میں دھنس جاؤں دوسرے شخص نے خود سر سے اوپر اٹھایا کیا دیکھتی ہوں کہ وہ طلحہ بن عبیداللہ (رض) ہیں، وہ بولے : اے عمر ! تمہارا ناس ہو آج تم نے بہت زیادہ ملامت کردی معرکہ آرائی ہو یا فرار ہو ہر چیز کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں : حضرت سعد بن معاذ (رض) کو مشرکین قریش میں سے ایک شخص نے تیرمارا اس شخص کا نام حباب بن عرق تھا تیرمارتے وقت اس نے کہا : یہ لو میں ابن عرقہ ہوں چنانچہ حضرت سعد (رض) کے بازو کی رگ پر لگا انھوں نے رب تعالیٰ سے دعا کی : یا اللہ ! مجھے موت نہ دینا تاوقیت کہ قریظہ سے میری آنکھوں کو ٹھنڈا نہ کردے بنوقریظہ جاہلیت میں سعد بن معاذ (رض) کے خلفاء اور قریبی دوست تھے سعد (رض) کے زخموں سے خون خشک ہوگیا، ادھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے لشکروں پر زور کی آندھی بھیجی جس نے اندھا دھند تباہی مچادی اور یوں اللہ تعالیٰ نے جنگ میں مومنین کی کفایت کی ابوسفیان لتامہ جاپہنچا عیینہ بن بدر اور اس کے ہمراہ ہی نجد جاپہنچے جب کہ بنوقریظہ اپنے قلعوں میں جاگھ سے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ واپس لوٹ آئے مسجد میں حضرت بن معاذ (رض) کے لیے چھوٹا سا چبوترا بنوادیا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلحہاتار دیا اتنے میں جبرائیل امین تشریف لائے اور فرمایا : کیا آپ نے اسلحہ اتاردیا ہے بخدا، فرشتوں نے ابھی تک اسلحہ نہیں اتارا ابھی ابھی بنوقریظہ کی خبر لینے جائیں اور ان کا قتل عام کریں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو کوچ کرنے کا حکم دیا اور آپ نے اپنی زرہ زیب تن کی اور پھر بنی غنم کے پاس سے گزرے بنی غنم مسجد کے پڑوس میں آباد تھے فرمایا : تمہارے پاس سے کون گزرا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : ہمارے پاس سے دحیہ کلبی گزرے ہیں (جبرئیل امین دحیہ کلبی کی صورت میں حاضر ہوئے تھے) چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کے ساتھ بنی قریظہ کے پاس جاپہنچے اور پچیس دن تک ان کا محاصرہ جاری رکھا چنانچہ جب بنی قریظہ پر سختی زیادہ ہوگئی اور وہ مشقت سے د دوچار ہوگئے ان سے کہا گیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر قلعوں سے نیچے اترآؤ بنوقریظہ نے اشارہ کرکے حضرت ابولبابہ (رض) سے اپنے فیصلہ کے متعلق پوچھا : ابولبابہ (رض) نے ہاتھ سے ذبح کی طرف اشارہ کیا بنوقریظہ نے مطالبہ پیش کیا کہ ہم سعد بن معاذ کے فیصلہ پر قلعوں سے نیچے اتریں گے وہ ہمارے متعلق جو فیصلہ بھی کردیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا : ٹھیک ہے سعد بن معاذ کے فیصلے پر ہی آؤ چنانچہ بنی قریظہ قلعوں سے اتر کے نیچے آگئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سعد (رض) کو پیغام بھیجا چنانچہ سعد (رض) پالان ڈالے ہوئے گدھے پر سوار کیے گئے سعد (رض) کی قوم کے لوگ ان کے فیصلہ کو اور نظر سے دیکھنے لگے اور کہنے لگے : بنوقریظہ آپ کے حلیف اور دوست ہیں آپ کو معلوم ہے کہ ان کی طرف کسی چیز نے نہیں لوٹنا۔ حتیٰ کہ جب قریب پہنچ گئے اپنی قوم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : سعد کے کفن کا وقت قریب ہوچکا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہیں ڈرے گا، جب سعد (رض) سامنے سے نمودار ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے سردار کے لیے کھڑے ہوجاؤ اور اسے پالان سے نیچے اتارو۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہمارا سردار تو اللہ ہے۔ فرمایا : اسے ط نیچے اتاروں چنانچہ صحابہ (رض) نے سعد (رض) کو نیچے اتارا سعد (رض) نے کہا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں بنی قریظہ کے متعلق یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے فوجیوں اور جنگجوؤں کو قتل کیا جائے ان کی اولاد کو قیدی بنالیا جائے اور ان کے اموال مسلمانوں میں تقسیم کردیئے جائیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا ہے پھر سعد (رض) نے دعا کی : یا اللہ ! اگر تو نے اپنے نبی کے لیے قریش کے ساتھ کسی لڑائی کو باقی رکھا ہے تو اس کے لیے مجھے بھی زندہ رکھ اور اگر تو نے قریش اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان جنگ کے سلسلہ کو ختم کردیا ہے تو مجھے اپنے پاس بلالے۔ چنانچہ حضرت سعد (رض) کے زخم ازسر نوتازہ ہو کر پھوٹ پڑے جب کہ زخم مندمل ہوچکے تھے اور صرف بندے کے برابر مندمل ہونے کو رہ گیا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس لوٹ آئے اور سعد (رض) اپنے چبوترے میں واپس لوٹ گئے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے لگوار رکھا تھا حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ (رض) کے بارے میں فرمایا ہے ” رحماء بینھم “ صحابہ آپس میں مہربان ہیں “ چنانچہ اس کی زندہ تفسیر دیکھنے کو ملی جو حضرت سعد بن معاذ (رض) کے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر (رض) اور عمر (رض) حاضر ہوئے علقمہ کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا : اے امی جان ! اس موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کرتے تھے عائشہ (رض) نے فرمایا : کسی شخص کی موت پر عام طور پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آنکھ سے آنسو نہیں بہتے تھے لیکن جب آپ کو شدیدغم لاحق ہوتا آپ اپنی داڑھی مٹھی میں پکڑلیتے تھے۔

محمد عمرو کہتے ہیں مجھے عاصم بن عمربن قتادہ نے حدیث سنائی ہے کہ جب شام کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

سوگئے آپ کے پاس جبرائیل امین تشریف لائے اور فرمایا : آج رات آپ کی امت میں سے ایک شخص مرا ہے جس کی موت پر اہل آسمان خوشیاں منا رہے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہو نہ ہو وہ سعدبن معاذ ہی ہوگا چونکہ وہ شام کو سخت مرض میں مبتلا تھے آپ نے صحابہ (رض) سے پوچھا : سعد کا کیا بنا ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ وہ اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں۔ سعد (رض) کی قوم کے لوگ آئے اور انھیں اپنے گھر لے گئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی نماز ادا کی اور پھر صحابہ سعد (رض) کی طرف چل پڑے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کے ساتھ تیزتیز چلنے لگے حتیٰ کہ جوتوں میں پڑے ہوئے تسمے ٹوٹنے لگے اور کاندھوں سے چادریں نیچے گرنے لگیں ایک شخص بولا : یارسول اللہ ! آپ لوگوں کو کیوں تیزتیز لے کر چل رہے ہیں : ارشاد فرمایا : مجھے ڈرے کہیں فرشتے ہم سے آگے نہ بڑھ جائیں جیسا کہ حنظلہ کی طرف فرشتے ہم سے آگے بڑھ گئے تھے۔

محمد کہتے ہیں مجھے اشعث بن اسحاق نے خبر کی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت سعد کے پاس پہنچے انھیں غسل دیا جارہا تھا بیٹھے بیٹھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجلس میں اپنے گھٹنے سکیڑ دیئے اور فرمایا : ایک فرشتہ داخل ہوا ہے جس کے مجلس میں جگہ نہیں تھی اس لیے میں نے گھنٹے سکیڑ کر اس کے لیے گنجائش پیدا کی ہے حضرت سعد بن معاذ (رض) کی والدہ رورہی تھیں اور ان کی زبان پر یہ اشعار تھے :

ویل ام سعد سعدا

براعۃ ونجدا

بعدا یادیالہ ومجدا

مقدماسدبہ مسدا

ہلاکت ہے ام سعد کے لیے سعد کی وفات پر جو علم وفضل اور بزرگی میں اکمل ہے ایاد کے بعد بزرگی اور فضلیف کا اس نے دروازہ بند کردیا ہے۔

محمد کہتے ہیں : ہمارے اصحاب میں سے بعض لوگوں کا کہنا ہے : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت سعد (رض) کے جنازہ کے ساتھ نکلے منافقین میں سے کچھ لوگ کہنے لگے : سعد کا جنازہ کس قدر ہلکا پھلکا ہے۔ محمد کہتے ہیں مجھے سعد بن ابراہیم نے حدیث سنائی ہے کہ جس دن حضرت سعد (رض) سے رخصت ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سعد بن معاذ (رض) کے جنازہ میں شرکت کرنے کے لیے ستر ہزار فرشتے آسمان سے زمین پر اترے ہیں قبل ازیں اتنی تعداد میں فرشتے زمین پر نہیں اترے۔ محمد کہتے ہیں میں نے اسماعیل بن محمد بن سعد کو کہتے سنا دراں حالیکہ ہم واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کو دفنا رہے تھے وہ بولے : کیا میں تمہیں اپنے بزرگوں کی بیان کردہ حدیث نہ سناؤں جس دن سعد بن معاذ (رض) کی وفات ہوئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سعد کے جنازہ میں ستر ہزار (٧٠) ہزار فرشتے شریک ہوئے ہیں جب کہ قبل ازیں اتنی تعداد میں فرشتے زمین پر نہیں اترے حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صاحبین ابوبکر (رض) عمر (رض) کے بعد مسلمان سب سے زیادہ سعد بن معاذ (رض) کی کمی محسوس کرتے تھے محمد کہتے ہیں : محمد بن منکدرمحمد بن شرحبیل سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سعد (رض) کی قبر سے مٹی اٹھائی اور اسے سونگھا چنانچہ مٹی سے خوشبو آرہی تھی محمد کہتے ہیں : مجھے واقد بن عمرو بن سعد نے بتایا ہے۔ (واقد خوبصورت اور درازقدانسان تھے) کہ میں حضرت انس (رض) کے پاس گیا مجھ سے پوچھا : تو کون ہے ؟ میں نے جواب دیا میں واقد بن عمروبنج سعد بن معاذ ہوں حضرت انس (رض) بولے : اللہ تعالیٰ سعد پر رحم فرمائے بلاشبہ تو سعد کے مشابہ ہے پھر کہا : اللہ تعالیٰ سعد پر رحم فرمائے وہ لوگوں میں سے زیادہ خوبصورت اور درازقد تھے۔ محمد کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اکید دومہ کی طرف ہدیہ بھیجا اس نے عالیشان ریشم کا بنا ہوا جبہ بھیجا جسے سونے کی تاروں سے اٹایا گیا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبہ زیب تن کیا اور منبر پر تشریف فرما ہوئے اور لوگوں سے کلام نہیں کہا : لوگ جبے سے ہاتھ مس کرتے اور تعجب کرتے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تتم اس جبہ سے تعجب کرتے ہو ؟ صحابہ (رض) نے جواب دیا : یارسول اللہ ! اس سے خوبصورت کپڑا ہم نے نہیں دیکھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! جنت میں سعد بن معاذ (رض) کے رومال اس جبہ سے کہیں زیادہ خوبصورت ہیں۔ (رواہ ابونعیم)
37088- "ش" حدثنا يزيد بن هارون أنبأنا محمد بن عمرو عن أبيه عن جده علقمة بن وقاص عن عائشة قالت: خرجت يوم الخندق أقفوا آثار الناس فسمعت وئيد الأرض ورائي فالتفت فإذا أنا بسعد بن معاذ ومعه ابن أخيه الحارث بن أوس يحمل مجنه فجلست إلى الأرض فمر سعد وعليه درع قد خرجت منها أطرافه فأنا أتخوف على أطراف سعد وكان من أعظم الناس وأطولهم فمر يرتجز وهو يقول:

لبث قليلا يدرك الهيجا حمل.

...

ما أحسن الموت إذا حان الأجل

فقمت فاقتحمت حديقة فإذا فيها نفر من المسلمين فيهم عمر بن الخطاب وفيهم رجل عليه تسبغة1 له - تعني المغفر - فقال عمر: ويحك! ما جاء بك؟ ويحك ما جاء بك! والله! إنك لجريئة وما يؤمنك أن يكون تحوزا1 وبلاء، قالت: فما زال يلومني حتى تمنيت أن الأرض انشقت فدخلت فيها! فرفع الرجل التسبغة عن وجهه فإذا طلحة بن عبيد الله فقال: يا عمر! ويحك قد أكثرت منذ اليوم! وأين التحوز والفرار إلا إلى الله!

قالت: ويرمي سعدا رجل من المشركين من قريش يقال له حبان بن العرقة بسهم فقال: خذها وأنا ابن العرقة فأصاب أكجله فقطعه فدعا الله تعالى فقال: اللهم! لا تمتني حتى تقر عيني من قريظة! وكانوا حلفاءه ومواليه في الجاهلية، فرقأ كلمه2 وبعث الله الريح على المشركين وكفى الله المؤمنين القتال، فلحق أبو سفيان بتهامة ولحق عيينة بن بدر ومن معه بنجد، ورجعت بنو قريظة فتحصنوا في صياصيهم3، ورجع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى المدينة فأمر بقبة فضربت على سعد في المسجد ووضع السلاح، فأتاه جبريل فقال: أقد وضعت السلاح؟ والله ما وضعت الملائكة السلاح! فأخرج إلى بني قريظة فقاتلهم، فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالرحيل ولبس لأمته1، فخرج فمر على بني غنم وكانوا جيران المسجد فقال: من مر بكم؟ قالوا: مر بنا دحية الكلبي وكان دحية يشبه لحيته وسنة وجهه بجبريل.

فأتاهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فحاصرهم خمسة وعشرين يوما، فلما اشتد حصرهم واشتد البلاء عنهم قيل لهم: انزلوا على حكم رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاستشاروا أبا لبابة، فأشار إليهم بيده أنه الذبح، فقالوا: ننزل على حكم سعد بن معاذ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: انزلوا على حكم سعد بن معاذ، فنزلوا، فبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى سعد فحمل على حمار له أكاف من ليف، وخف به قومه فجعلوا يقولون: يا أبا عمرو! حلفاؤك ومواليك وأهل النكاية ومن قد علمت لا يرجع إليهم شيئا، حتى إذا دنا من دارهم التفت إلى قومه فقال: قد أنى 2لسعد أن لا يخاف في الله لومة لائم، فلما طلع قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قوموا إلى سيدكم فأنزلوه، قال عمر: سيدنا الله، قال: أنزلوه، فأنزلوه، فقال: يا رسول! أحكم فيهم أن تقتل مقاتلتهم وتسبي ذراريهم وتقسم أموالهم. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لقد حكمت فيهم بحكم الله وحكم رسوله، ثم دعا سعد فقال: اللهم! إن كنت أبقيت على نبيك من حرب قريش شيئا فأبقني لها، وإن كنت قطعت الحرب بينه وبينهم فاقبضني إليك! فانفجر كلمه وكان قد برأ حتى ما بقى منه إلا مثل الخرص، فرجع رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجع سعد إلى قبته التي كان ضرب عليها رسول الله صلى الله عليه وسلم. قالت: فحضره رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر وكانوا كما قال الله عز وجل {رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ} .قال علقمة: فقلت: أي أمه! كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع؟ قالت: كانت عينه لا تدمع على أحد ولكنه كان إذا وجد فإنما هو آخذ بلحيته. قال محمد بن عمرو حدثني عاصم بن عمر بن قتادة قال: لما نام رسول الله صلى الله عليه وسلم حين أمسى أتاه جبريل فقال: من رجل من أمتك مات الليلة استبشر بموته أهل السماء! فقال: لا إلا أن يكون سعد، فإنه أمسى دنفا1، ما فعل سعد؟ قالوا: يا رسول الله قد قبض، وجاءه قومه فاحتملوه إلى دارهم فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الفجر ثم خرج وخرج الناس فبت1 رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس مشيا حتى أن شسوع نعالهم لتنقطع من أرجلهم وإن أرديتهم لتسقط عن عواتقهم، فقال رجل: يا رسول الله! بتت الناس! فقال: إني أخشى أن تسبقنا إليه الملائكة كما سبقتنا إلى حنظلة. قال محمد فأخبرني أشعث بن إسحاق قال: فحضره رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يغسل، قال: فقبض رسول الله صلى الله عليه وسلم ركبتيه فقال: دخل ملك فلم يكن له مجلس فأوسعت له! ّوأمه تبكي وهي تقول:

ويل أم سعد سعدا. ... براعة ونجدا

بعد أياد يا له ومجدا. ... مقدما سد به مسدا

فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كل البواكي يكذبن إلا أم سعد. قال محمد: وقال ناس من أصحابنا: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما خرج لجنازته قال ناس من المنافقين: ما أخف سرير سعد أو جنازة سعد! قال: فحدثني سعد بن إبراهيم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوم مات سعد: لقد نزل سبعون ألف ملك شهدوا جنازة سعد ما وطئوا الأرض قبل يومئذ. قال فسمعت إسماعيل بن محمد بن سعد ودخل علينا الفسطاط ونحن ندفن واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ فقال: ألا أحدثكم بما سمعت أشياخنا يحدثون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوم مات سعد: لقد نزل سبعون ألف ملك شهدوا جنازة سعد ما وطئوا الأرض قبل يومئذ؟ قال محمد: فأخبرني أبي عن أبيه عن عائشة قالت: ما كان أحد أشد فقدا على المسلمين بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم وصاحبيه من سعد بن معاذ! قال محمد: وحدثني محمد بن المنكدر عن محمد بن شرحبيل أن رجلا أخذ قبضة من تراب قبر سعد ففتحها بعد فإذا هو مسك! قال محمد: وحدثني واقد بن عمرو بن سعد - قال: وكان واقد من أحسن الناس وأطولهم قال: دخلت على أنس بن مالك فقال لي: من أنت؟ قلت: أنا واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ، قال: يرحم الله سعدا إنك بسعد لشبيه، ثم قال: يرحم الله سعدا كان من أجمل الناس وأطولهم، قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أكيدر دومة فبعث إليه بجبة ديباج منسوج فيها ذهب، فلبسها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام على المنبر فجلس فلم يتكلم، فجعل الناس يلمسون الجبة ويتعجبون منها، فقال: أتعجبون منها؟ قالوا: يا رسول الله! ما رأينا ثوبا أحسن منه، قال: ف والذي نفس محمد بيده! لمناديل سعد بن معاذ في الجنة أحسن مما ترون."أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن معاذ (رض)
٣٧٠٨٩۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) بن الیمان (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا عرش سعد بن معاذ کی روح کے لیے جھوم اٹھا۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37089- عن حذيفة بن اليمان قال: لما مات سعد بن معاذ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اهتز العرش لروح سعد بن معاذ. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن معاذ (رض)
٣٧٠٩٠۔۔۔ محمد بن حنفہ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت سعد بن معاذ (رض) کی قبر سے مٹھی بھر مٹی اٹھائی جب مٹھی کھولی تو وہ مٹی مشک بن چکی تھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! حتیٰ کہ خوشی کے اثرات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ اقدس میں نمایاں دیکھے جاسکتے تھے۔ (رواہ ابونعیم فی المعرفۃ وسندہ صحیح)
37090- عن محمد بن شرحبيل قال: اقتبض إنسان من تراب قبر سعد بن معاذ ففتحها فإذا هي مسك، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: سبحان الله! سبحان الله! حتى عرف ذلك في وجهه."أبو نعيم في المعرفة؛ وسنده صحيح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن معاذ (رض)
٣٧٠٩١۔۔۔ عطاردبن حاجب کی روایت ہے کہ کسری نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ریشم کا کپڑا ھدیہ میں بھیجا صحابہ کرام (رض) آپ کے پاس تشریف لاتے اور اسے دیکھ تعجب سے کہتے : کیا یہ کپڑا آپ پر آسمان سے اتارا گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم لوگ اس کپڑے پر کیوں تعجب کرتے ہو ؟ جنت میں سعد بن معاذ کے رومالوں میں سے ایک رومال بھی اس سے بدرجہابہتر ہے۔ پھر آپ نے فرمایا : اے غلام ! یہ کپڑا ابوجہم بن حذیفہ کے پاس لے جاؤ اور اس سے کہو میرے خیس بھیج دے۔ (رواہ ابن عساکر وقال غریب)
37091- عن عطارد بن حاجب أنه أهدى إلى النبي صلى الله عليه وسلم ثوب ديباج كساه إياه كسرى، فدخل أصحابه فقالوا: أأنزلت عليك من السماء؟ فقال: وما تعجبون من ذا؟ لمنديل من مناديل سعد بن معاذ في الجنة خير من هذا، ثم قال: يا غلام! اذهب به إلى أبي جهم بن حذيفة وقل له يبعث إلى بالخميصة. "كر" وقال: غريب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن معاذ (رض)
٣٧٠٩٢۔۔۔ محمد بن منکدرکہتے ہیں : ام سعد بن معاذ حضرت سعد (رض) پر رورہی تھیں اور یہ شعر پڑھ رہی تھیں۔

ویل ام سعد سعدا نزاھۃ وجدا

ہلاک ہے ام سعد کے لیے سعد پر جو بزرگی اور عظمت تک جاپہنچا

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب رونے والی عورتیں جھوٹی ہیں سوائے ام سعد کے۔ (رواہ ابن جریر فی تھذیبہ)
37092- عن محمد بن المنكدر قال: قالت أم سعد بن معاذ وهي تندب سعدا: ويل أم سعد سعدا. ... نزاهة وجدا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كل البواكي يكذبن إلا أم سعد. "ابن جرير في تهذيبه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن معاذ (رض)
٣٧٠٩٣۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ جب حضرت سعد (رض) نے وفات پائی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) روپڑے چنانچہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا غم بڑھ جاتا آپ مٹھی میں داڑھی پکڑلیتے تھے حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں میں عمر (رض) کے رونے سے اپنے والد محترم کا رونا پہچان لیتی تھی۔ (رواہ ابن جریر فی تھذیبہ)
37093- عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم بكى وبكى أصحابه حين توفي سعد بن معاذ، قالت: وكان النبي صلى الله عليه وسلم إذا اشتد وجده فإنما هو آخذ بلحيته، قالت عائشة: وكنت أعرف بكاء أبي من بكاء عمر."ابن جرير فيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن معاذ (رض)
٣٧٠٩٤۔۔۔” مسند ابن عمر “ محمد بن فضیل عطاء بن سائب کی سند سے ابن عمر (رض) کی روایت مروی ہے کہ سعد (رض) کی رب تعالیٰ سے ملاقات کی محبت میں عرش جھوم اٹھا ہے کہتے ہیں : جس سر پر (چارپائی) پر سعد (رض) کی میت رکھی ہوئی تھی اس سر یر کی لکڑیوں میں چرچراہٹ کی آواز پیدا ہوگئی تھی ابن عمر (رض) کہتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سعد (رض) کی قبر میں داخل ہوئے اور تھوڑی دیر وہیں رکے رہے جب باہر تشریف لائے صحابہ (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ قبر میں کیوں تک گئے تھے ارشاد فرمایا : قبر نے سعد کو معمولی سا بھینچ لیا تھا پھر میں نے رب تعالیٰ سے دعا کی اور یہ کیفیت جاتی رہی۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37094- "مسند ابن عمر" حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن مجاهد عن ابن عمر قال: اهتز العرش لحب لقاء الله سعدا، قال: إنما يعني السرير، قال: "ورفع أبويه على العرش". قال: تفسخت أعواده، قال: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم قبره فاحتبس، فلما خرج قالوا: يا رسول الله! ما حبسك؟ قال: ضم سعد في القبر ضمة فدعوت الله أن يكشف عنه. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن معاذ (رض)
٣٧٠٩٥۔۔۔” مسند اسید بن حضیر “ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں : ہم لوگ حج یا عمرہ سے واپس لوٹے مقام ” ذوالحلیفہ “ پہنچے وہاں انصار کے لڑکے آکر اپنے گھر والوں سے ملاقات کرنے لگے۔ لڑکے جب حضرت اسید بن حضیر (رض) سے ملے انھیں ان کی بیوی کی موت کی خبر سنائی ۔ اسید (رض) نے سر پر چادر ڈالی اور رونے لگے میں نے کہا : اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی ہو تم نے پہلے پہل اسلام قبول کیا ہے اور شروع سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہے ہو بھلاتم ایک عورت پر رو رہے ہو ؟ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں : اسید (رض) نے سر سے چادر ہٹائی اور بولے : تم سچ کہتی ہو میری عمر کی قسم ! مجھے سعدبن معاذ کے بعد کسی پر نہیں رونا چاہیے حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سعد بن معاذ (رض) کے متعلق کیا خوب ارشاد فرمایا تھا۔ میں نے استفسار کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا فرمایا تھا : اسید (رض) بولے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ سعد بن معاذ کی وفات پر عرش جھوم اٹھا ہے حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں : وہ میرے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان چلتے تھے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل والشاشی وابن عساکر)
37095- "مسند أسيد بن حضير" عن عائشة قالت: قدمنا من حج أو عمرة فنلقينا؟؟ بذي الحليفة وكان غلمان الأنصار يتلقون أهليهم فلقوا أسيد بن حضير فنعوا له امرأته فتقنع وجعل يبكي، فقلت: غفر الله لك! أنت صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم ولك من السابقة والقدم مالك وأنت تبكي على امرأة! قالت: فكشف رأسه وقال: صدقت، لعمري ليحق أن لا أبكي على أحد بعد سعد بن معاذ وقد قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم ما قال: قلت: وما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: قال: لقد اهتز العرش لوفاة سعد بن معاذ، قالت: وهو يسير بيني وبين رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ش، حم" والشاشي، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن معاذ (رض)
٣٧٠٩٦۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ اکیدردومہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جبہ ہدیہ میں دیا لوگوں کو اس جبہ کی خوبصورتی نے تعجب میں ڈال دیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں سعد بن معاذ (رض) کے رومال اس جبہ سے بدر جہابہتر ہیں۔ (رواہ ابونعیم فی المعرفۃ)
37096- عن أنس قال: أهدى أكيدر دومة إلى رسول الله جبة فتعجب الناس من حسنها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لمناديل سعد بن معاذ في الجنة خير منها. "أبو نعيم في المعرفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن معاذ (رض)
٣٧٠٩٧۔۔۔ حضرت براء (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک ریشمی کپڑا ہدیہ میں دیا گیا، صحابہ کرام (رض) اس کی نرم گدازی پر تعجب کرتے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سعد بن معاذ (رض) کے رومال جنت میں اس سے کہیں زیادہ نرم ہیں۔ (رواہ اب ابی شیبۃ)
37097- عن البراء قال: أهدي للنبي صلى الله عليه وسلم ثوب من حرير فجعلوا يعجبون من لينه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لمناديل سعد بن معاذ في الجنة ألين من هذا. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن معاذ (رض)
٣٧٠٩٨۔۔۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ جبرائیل امین نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : یہ کون بندہ صالح ہے جس کے لیے جنت کے دروازے کھولے گئے ہیں اور عرش اس کے لیے جھوم اٹھا ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر تشریف لائے کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت سعد بن معاذ (رض) کھڑے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ وہ بندہ صالح جس پر قبر میں سختی کی گئی اور پھر یہ سختی ان سے دور ہوگئی۔ (رواہ احمد بن حنبل وابن جریر)
37098- عن جابر بن عبد الله قال: جاء جبريل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: من هذا العبد الصالح الذي فتحت له أبواب السماء وتحرك له العرش؟ فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فإذا سعد بن معاذ، فقال رسول الله: هذا العبد الصالح شدد عليه في قبره حتى كان هذا حين فرج له. "حم" وابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن معاذ (رض)
٣٧٠٩٩۔۔۔ حضرت جابر (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سعد بن معاذ (رض) کی موت پر عرش جھوم اٹھا۔ (رواہ ابن شیبۃ)
37099- عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لقد اهتز العرش لموت سعد بن معاذ. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن معاذ (رض)
٣٧١٠٠۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس دن سعد (رض) نے وفات پائی اور انھیں دفن کیا جارہا تھا ارشاد فرمایا اس بندہ صالح کے لیے عرش جھوم اٹھا اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھولے گئے اور اس پر عارضی سختی ہوئی پھر وہ دور بھی ہوگئی۔ (رواہ ابن عساکر)
37100- عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لسعد يوم مات وهو يدفن: لهذا العبد الصالح الذي اهتز له العرش وفتحت له أبواب السماء، شدد عليه ثم فرج عنه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض)
٣٧١٠١۔۔۔ حضرت سعد (رض) کہتے ہیں : میں ستر سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
37101- عن سعد قال: أسلمت أنا وأنا ابن سبع عشرة سنة. "كر".
tahqiq

তাহকীক: