কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭১১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض)
٣٧١٠٢۔۔۔” ایضا “ حضرت سعد (رض) کہتے ہیں : میں نے غزوہ احد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دفاع کیا حالانکہ ترکش میں کوئی تیر نہیں تھا۔ آپ نے فرمایا : اے سعد ! میرے باپ تم پر فدا ہوجائیں تیر برساتے جاؤ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے اپنے والدین جمع فرمائے یہ فضیلت مجھ سے پہلے کسی کو ملی ہے نہ دوبارہ اٹھائے جانے تک کسی کو ملے گی۔ (رواہ ابن عساکر)
37102- "أيضا" عن سعد قال: دفع إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أحد ما في كنانته من السهام وقال: ارم سعد فداك أبي وأمي! وما جمعهما رسول الله صلى الله عليه وسلم لغيري قبلي ولا بعدي منذ بعثه الله عز وجل. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض)
٣٧١٠٣۔۔۔ حضرت سعد (رض) فرماتے ہیں : غزوہ احد کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے تیرپکڑاتے رہے اور فرماتے تیر برساؤ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوجائیں۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)
37103- "أيضا" عن سعد قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يناولني السهم يوم أحد يقول: ارم فداك أبي وأمي. "ع، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض)
٣٧١٠٤۔۔۔ حضرت سعد (رض) کی روایت ہے کہ احد کے دن وہ تیر برساتے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے ماں باپ تم پر فدا جائیں یہ تمہیں کافی ہے۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)
37104- "أيضا" عن سعد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له يوم أحد وهو يرمي، إيها1! فداك أبي وأمي. "ع، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض)
٣٧١٠٥۔۔۔ سعد (رض) کہتے ہیں : اللہ کی قسم میں چوتھے نمبر پر اسلام لایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن میرے لیے اپنے والدین جمع کرکے فرمایا : اے سعد تیر برساؤ میرے ماں باپ تم پر فدا جائیں یاللہ اس کے تیر کو نشانے پہ لگا اور اس کی دعا قبول فرما۔ (رواہ ابن عساکر)
37105- "أيضا" عن سعد قال: والله! إني لرابع في الإسلام، ولقد جمع لي رسول الله صلى الله عليه وسلم أبويه يوم أحد، فقال لي: ارمه يا سعد! فداك أبي وأمي! اللهم! سدد سهمه وأجب دعوته. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض)
٣٧١٠٦۔۔۔ حضرت سعد (رض) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن مسلمانوں سے فرمایا : سعد کو تیر دیتے رہوا سے سعد تیر برساؤ کا تیر برساؤ میرے ماں باپ تم پر فدا جائیں۔ (رواہ ابن جریر)
37106- عن سعد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أحد للمسلمين: انبلوا سعدا، ارم يا سعد رمى الله لك: ارم فداك أبي وأمي. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض)
٣٧١٠٧۔۔۔ حضرت سعد (رض) کہتے ہیں : میں عرب میں سے پہلا شخص ہوں جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں تیر چلایا یعنی غزوہ اور جنگ میں۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ والحسن بن سفیان و ابونعیم فی المعرفۃ)
37107- عن سعد قال: إني لأول رجل من العرب رمى بسهم في سبيل الله في الغزو وعند القتال."ش والحسن بن سفيان وأبو نعيم في المعرفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض)
٣٧١٠٨۔۔۔” مسند جابربن سمرہ “ حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں سب سے پہلے تیر چلانے والے حضرت سعد (رض) ہیں۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37108- "مسند جابر بن سمرة" أول الناس رمى في سبيل الله سعد."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض)
٣٧١٠٩۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں سنا کہ آپ نے سعد (رض) کے علاوہ کسی کے لیے اپنے والدین فداکیے ہوں چنانچہ میں نے آپ کو فرماتے سنا تیربرساؤ میرے ماں باپ تم پر فدا جائیں۔ (رواہ ابن عساکر)

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے چونکہ اس کی سند میں ابوزہبر عبدالرحمن بن مغراء ابوسعد بقال سے روایت کرتے ہیں اور دونوں ضعیف ہیں دیکھئے الحفاظ ٤٢٠۔
37109- عن ابن عباس قال: ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم جمع أبويه لأحد إلا لسعد فإني سمعته يقول: ارم فداك أبي وأمي. "كر"، وفيه أبو زهير عبد الرحمن بن مغراء عن أبي سعد البقال ضعيفان.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض)
٣٧١١٠۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے احد کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سعد (رض) سے فرمایا : دشمنوں کے سینوں کا نشانہ لو میرے ماں باپ تم پر فدا ہوجائیں سعد (رض) تیرکمان میں رکھتے اور کہتے تیرا تیر تیرے راستے میں ہے۔ یا اللہ ! اپنے رسول کی مدد فرما۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یا اللہ ! سعد کی دعا قبول فرما۔ (رواہ ابن عساکر وفیہ کو ران وابن ابی شیبۃ)
37110- عن ابن عباس قال: لما كان يوم أحد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لسعد بن أبي وقاص: دونك نحر العدو فداك أبي وأمي، وكان يضع سهمه في كبد قوسه فيقول: اللهم! سهمك في سبيلك،اللهم! انصر رسولك، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم! استجب لسعد. "كر" وفيه المذكوران، "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض)
٣٧١١١۔۔۔ نافع ابن عمر (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس دروازے سے ایک شخص داخل ہوگا جو اہل جنت میں سے ہے ہم میں سے ہر شخص تمنا کرنے لگا کہ داخل ہونے والا شخص اس کے خاندان سے ہویکایک ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) اندرداخل ہوں۔ (رواہ ابن عساکر)
37111- عن نافع عن ابن عمر قال: كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يدخل عليكم من ذا الباب رجل من أهل الجنة، فليس منا أحد إلا وهو يتمنى أن يكون من أهل بيته! فإذا سعد بن أبي وقاص قد طلع."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض)
٣٧١١٢۔۔۔ سالم بن عبداللہ اپپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا : اس دروزے سے ایک شخص داخل ہوگا جو اہل جنت میں سے ہوگا چنانچہ سعد (رض) اندر داخل ہوئے۔ (رواہ ابن عدی وابن عساکر)
37112- عن سالم بن عبد الله عن أبيه قال: كنا جلوسا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم فقال: يطلع عليكم من هذا الباب رجل من أهل الجنة! فإذا سعد."عد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض)
٣٧١١٣۔۔۔ سعید بن مسیب کہتے ہیں : سعد (رض) نے احد کے دن مسلمانوں میں سب سے زیادہ جان فشانی سے جنگ لڑی۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37113- عن سعيد بن المسيب قال: كان سعد أشد المسلمين بأسا يوم أحد."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض)
٣٧١١٤۔۔۔ ابن شہاب کہتے ہیں : حضرت سعد (رض) نے احد کے دن ایک تیر سے تین آدمیوں کو قتل کیا چنانچہ ایک تیر کا نشانہ لیا اور برسادیا پھر وہی تیر مشرکین نے واپس مسلمانوں پر مارا سعد (رض) نے وہ تیر لیا اور دے مارا جس سے دوسرا شخص قتل ہوا پھر وہی تیر واپس لوٹا اور سعد (رض) نے تیر کا نشانہ لے کر دے مارا اور اسے بھی قتل کردیا چنانچہ حضرت سعد (رض) کی اس مہارت پر لوگ تعجب کرتے تھے سعد (رض) فرماتے یہ تیر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دیا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دیا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سعد (رض) پر اپنے والدین فدا کیے۔ (رواہ ابن عساکر)
37114- عن ابن شهاب قال: قتل سعد يوم أحد بسهم ثلاثة، رمى به فقتل فرد عليهم فرموا به، فأخذه فرمى به سعد الثانية فقتل، فرد عليهم فرمى به الثالثة فقتل، فعجب الناس مما فعل سعد، فقال: إن النبي صلى الله عليه وسلم أنبلنيه. قال: وجمع له رسول الله صلى الله عليه وسلم أبويه."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض)
٣٧١١٥۔۔۔ زہری کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سریہ بھیجا اس میں حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) بھی شامل تھے یہ سریہ سرزمین حجاز میں رابغ مقام کی طرف بھیجا تھا مشرکین کو مسلمانوں سے شکست اٹھانی پڑی تھی چنانچہ سعد (رض) نے مسلمانوں کی طرف سے مشرکین پر تیربرسائے سعد (رض) پہلے شخص تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں تیر چلایا اور اسلام میں یہ پہلی جنگ تھی تیراندازی کے دورانسعد (رض) یہ اشعار پڑھتے تھے :

الاھل الی رسول اللہ آنی

حمیت صحابی بصدورنبلی

اذودلبھا عدوھم ذیارا

بکل حزنۃ وبکل سھل

فمایعتدرام فی عدو

بسھم فی سبیل اللہ قبلی

کوئی شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نہیں جاتا کہ میں نے اپنے ساتھیوں کا تیروں سے فارغ کیا ہے میں نے

تیروں سے دشمن کو آگے دھکیل دیا خود ان کے آگے پہاڑی راستہ آیا یاہموار راستہ آیا کسی تیراندازپر دشمن کے متعلق اعتماد نہیں کہ اس نے مجھ سے پہلے اللہ کی راہ میں تیر چلایاہو۔ (رواہ ابن عساکر)
37115- عن الزهري قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية فيها سعد بن أبي وقاص إلى جانب من الحجاز يدعى رابغ1 فانكفأ المشركون على المسلمين فحماهم سعد بن أبي وقاص يومئذ بسهامه، وكان أول من رمى بسهم في سبيل الله، وكان هذا أول قتال كان في الإسلام، وقال سعد في رميته:

ألا هل أتى رسول الله أني. ... حميت صحابتي بصدور نبلي

أذود بها عدوهم ذيادا. ... بكل حزونة وبكل سهل

فما يعتد رام في عدو. ... بسهم في سبيل الله قبلي.

"كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض)
٣٧١١٦۔۔۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا : اہل جنت میں سے ایک شخص تمہارے اوپر نمودار ہونے والا ہے چنانچہ سعد (رض) نمودار ہوئے دوسرے دن بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی فرمایا : چنانچہ صبح کو بھی سعد (رض) اپنے مرتبہ کے ساتھ نمودار ہوئے اس کے بعد دوسرے دن بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی فرمایا : اور ایک بار سعد بن ابی وقاص (رض) اپنے مرتبہ میں نمودار ہوئے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے عبداللہ بن عمر وبن العاص (رض) غبطہ میں آکر اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا : میں اپنے والد کو سزوار عتاب سمجھتا ہوں اور قسم کھاتا ہوں کہ اپنے والد کے پاس تین دن تک نہیں جاؤں گا اگر آپ دیکھیں کہ میں آپ کے پاس آتا ہوں ، حتیٰ کہ میری قسم پوری ہوجائے۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں : عبداللہ بن عمرو (رض) کا خیال ہے کہ انھوں نے ساعد (رض) کے ساتھ ایک رات بسر کی حتیٰ کہ فجر کا وقت ہوگیا اور اپنی جگہ سے ہلے تک نہیں البتہ جب اپنے بستر پر کروٹ بدلتے اللہ کا ذکر اور تکبیر کہہ دیتے اور پھر فجر کے وقت اٹھے پورا وضو کیا اور صبح کا ناشتہ کیا (یعنی روزہ بھی نہیں رکھا) عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں : میں تین دن تک انھیں دیکھتا رہا انھوں نے اپنے اس دستورالعمل پر مزید اضافہ نہیں کیا البتہ میں نے ان کے منہ سے خیروبھلائی کے سوا کوئی بات سنی حتی کہ جب تین راتیں گزر گئیں قریب تھا کہ میں ان کے عمل کو کمتر سمجھتا۔ میں نے کہا : میرے اور میرے والد کے درمیان غم وغضب اور ہجرت کا فرق نہیں لیکن میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تین دن تک تین مجلسوں میں فرماتے سنا : اہل جنت میں سے ایک شخص تمہارے اوپر نمودار ہوگا اور تینوں مرتبہ آپ ہی نمودار ہوئے میں نے چاہا آپ کے پاس رات گزاروں اور آپ کا عمل دیکھوں پھر میں آپ کی اقتدار کروں لیکن میں نے آپ کا کوئی زیادہ عمل نہیں دیکھا لہٰذا آپ ہی بتائیں کس عمل نے آپ کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمایا ہے ؟ سعد (رض) بولے : مجھے تو اپنے عمل میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی البتہ میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے لیے برا نہیں سوچتا ہوں اور نہ ہی براکہتا ہوں عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا یہی وہ چیز ہے جس نے آپ کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے اور بلاشبہ یہ ایسا عمل ہے جس کے بجالانے کی مجھ میں طاقت نہیں ہے۔ (رواہ ابن عساکر ورجالہ الصحیح الاان ابن شھاب حدثنی من الاانھم عن انس قلت ! حضرت سعد (رض) نے بعض فضائل تمتہ عشرہ مبشرہ میں خلفاء اربعہ کے بعد بیان ہوچکے ہیں)
37116- عن أنس قال: بينا نحن جلوس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطلع عليكم الآن رجل من أهل الجنة! فاطلع سعد بن أبي وقاص، حتى إذا كان الغد، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم مثل ذلك، فطلع سعد بن أبي وقاص على مرتبته الأولى، حتى إذا كان من الغد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم مثل ذلك، فطلع سعد بن أبي وقاص على مرتبته؛ فلما قام رسول الله صلى الله عليه وسلم: ثار عبد الله بن عمرو بن العاص فقال: إني عاتبت أبي فأقسمت على أن لا أدخل عليه ثلاث ليال، فإن رأيت أن تؤويني إليك حتى تحل يميني فعلت، قال أنس: فزعم عبد الله بن عمرو أنه بات معه ليلة حتى كان مع الفجر فلم يقم من تلك الليلة شيئا غير أنه كان إذا انقلب على فراشه ذكر الله وكبره حتى يقوم مع الفجر، فإذا صلى المكتوبة أسبغ الوضوء وأتمه ثم يصبح مفطرا، قال عبد الله بن عمر: فرمقته ثلاث ليال وأيامهن لا يزيد على ذلك غير أني لا أسمعه يقول إلا خيرا، فلما مضت الليالي الثلاث وكدت أحتقر عمله قلت: إنه لم يكن بيني وبين أبي غضب ولا هجرة ولكني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ذلك فيك ثلاث مرات في ثلاث مجالس: يطلع عليكم رجل من أهل الجنة، فاطلعت أولئك المرات الثلاث، فأردت أن آوي إليك حتى أنظر ما عملك فأقتدي بك، فلم أرك تعمل كثير عمل، فما الذي بلغ بك ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال: ما هو الذي قد رأيت غير أني لا أجد في نفسي سوءا لأحد من المسلمين ولا أقوله، قال: هذه التي قد بلغت بك وهي التي لا أطيق. "كر"؛ ورجاله رجال الصحيح إلا أن ابن شهاب قال: حدثني من لا أتهم عن أنس. قلت: وبعض فضائله مر في تتمة العشرة المبشرة بعد الخلفاء الأربعة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن قیس غنزی (رض)
٣٧١١٦۔۔۔ حضرت سعد بن قیس (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا کیا نام ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : میرا نام سعد الخیل ہے آپ نے فرمایا : بلکہ تمہارا نام سعد الخیر ہے۔ (رواہ ابن مندہ وقال غریب)
37117- إنه قدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له: ما اسمك؟ قال: سعد الخيل، قال: بل أنت سعد الخير. ابن منده وقال: غريب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعید بن العاص (رض)
٣٧١١٧۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک اچھا ساکپڑا لے کر حاضر ہوئی اور کہنے لگی : میں نے نیت کی ہے کہ یہ کپڑا اس شخص کو دوں گی جو عرب میں سب سے زیادہ مکرم ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورت سے فرمایا : یہ کپڑا اس لڑکے کو دے دو یعنی حضرت سعید بن عاص (رض) کو۔ سعید (رض) سامنے کھڑے تھے اسی وجہ سے کپڑوں کو الثیاب السعیدہ “ کہا جاتا ہے۔ (رواہ الزبیربن بکاروابن عساکر)
37118- عن ابن عمر قال: جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ببرد فقالت: إني نويت أن أعطي هذا الثوب أكرم العرب! فقال لها: أعطيه هذا الغلام - يعني سعيد بن العاص - وهو واقف، فلذلك سميت الثياب السعيدة. الزبير بن بكار، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن ربیع (رض)
٣٧١١٨۔۔۔” مسند الصدیق “ عبدالملک بن ہشام نے سیرت میں بیان کیا ہے مجھے ابوبکر زبیر نے حدیث سنائی ہے کہ ایک شخص حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ حضرت سعد بن ربیع (رض) کی ایک چھوٹی سی بچی ابوبکر (رض) کے سینے پر بیٹھی کھیل رہی تھی اور آپ (رض) اس کے بوسے لے رہے تھے اس شخص نے پوچھا : یہ بچی کون ہے ؟ ابوبکر (رض) نے فرمایا : یہ اس شخص کی بچی ہے جو مجھ سے افضل ہے یعنی سعد بن ربیع (رض) کی بچی ہے سعد بن ربیع (رض) بیعت عقبہ کے دن کے نقباء میں سے تھے جنگ بدر میں شریک رہے تھے اور غزوہ احد میں شہید ہوئے۔

کلام :۔۔۔ ابن کثیر کہتے ہیں یہ معضل ہے۔

فائدہ :۔۔۔ حدیث معضل وہ ہوتی ہے جس کی سند سے دو یا دو سے زائد راوی محذوف ہوں۔
37119- "مسند الصديق" قال عبد الملك بن هشام في السيرة حدثني أبو بكر الزبير أن رجلا دخل على أبي بكر الصديق وبنت لسعد بن الربيع صغيرة على صدره يرشفها1 ويقبلها فقال له الرجل: من هذه؟ قال: بنت رجل خير مني سعد بن الربيع ، كان من النقباء يوم العقبة وشهد بدرا واستشهد يوم أحد. قال ابن كثير : هذا معضل.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمہ بن اکوع (رض)
٣٧١١٩۔۔۔” مسند سلمہ بن اکوع “ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سات غزوات کیے ہیں اور زیدبن حارثہ (رض) کے ساھ بھی سات غزوات کیے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زید بن حارثہ (رض) کو ہمارا امیر مقرر کیا تھا۔ (رواہ یعقوب بن سفیان وابن عساکر)
37120- "مسنده" غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم سبع غزوات ومع زيد بن حارثة سبع غزوات، يؤمره علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم."يعقوب بن سفيان كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمہ بن اکوع (رض)
٣٧١٢٠۔۔۔” ایضا “ ایاس بن سلمہ اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں : وہ کہتے ہیں : میں نے معرکہ آرائی کیلئے ایک شخص کو للکارا اور میں نے اسے قتل کردیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا سازوسامان انعام میں مجھے عطا کیا۔ (رواہ ابن جریر)
37121- "أيضا" عن إياس بن سلمة عن أبيه قال: بارزت رجلا فقتلته، فنفلني رسول الله صلى الله عليه وسلم سلبه."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক: