কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭১৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمان فارسی (رض)
٣٧١٢١۔۔۔ قتادہ اور ابن زید بن جدعان کہتے ہیں : حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) اور حضرت سلمان فارسی (رض) کے بیچ کچھ ان بن تھی ایک مرتبہ بہت سارے صحابہ (رض) مجلس لگائے بیٹھے تھے حضرت سعد (رض) بولے : اے فلاں اپنا شجرہ نسب بیان کرو اس شخص نے اپنا نسب بیان کردیا اس کے بعد سعد (رض) ایک کے بعد دوسرے سے اس کا سلسلہ نسب پوچھتے رہے حتیٰ کہ نوبت حضرت سلمان فارسی (رض) تک پہنچی ان سے کہا : اے فلاں تو بھی اپنا سلسلہ نسب بیان کر حضرت سلمان (رض) بولے : میں اسلام میں اپنا سلسلہ نسب نہیں پہچانتا لیکن میں اپنے آپ کو سلمان ابن اسلام کہتا ہوں حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم جانتے ہو کہ خطاب جاہلیت میں معززترین شخص تھے اور میں عمر بن اسلام سلمان بن اسلام کا بھائی ہوں۔ (یعنی ہمارا سلسلہ نسب اسلام ہے) کیا تم نے نہیں سنا کہ ایک شخص نے جاہلیت میں اپنا نسب نو (٩) آباء گنا جب کہ ان کا دسواں دوزخ میں ہے۔ اور یہ شخص اپنا نسب اسلام میں کسی شخص سے منسوب کرتا ہے اور اوپر والوں کو چھوڑ دیتا ہے لامحالہ وہ اس کے ساتھ جنت میں ہوگا۔ (رواہ عبدالرزاق اولبھیقی فی شعب الایمان)
37122- عن قتادة وعن ابن زيد بن جدعان قالا: كان بين سعد بن أبي وقاص وسلمان الفارسي شيء، فقال سعد وهم في مجلس: انتسب يا فلان! فانتسب وقال لآخر: انتسب، ثم قال لآخر: انتسب، ثم قال لآخر حتى بلغ سلمان فقال ما أعرف لي أبا في الإسلام ولكن سلمان ابن الإسلام، فقال عمر: قد علمت قريش أن الخطاب كان أعزهم في الجاهلية وأنا عمر ابن الإسلام أخو سلمان ابن الإسلام، أو ما سمعت أن رجلا انتمى إلى تسعة آباء في الجاهلية فكان عاشرهم في النار ، وما انتمى رجل إلى رجل في الاسلام وترك ما فوق ذلك فكان معه في الجنة (عب ، هب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمان فارسی (رض)
٣٧١٢٢۔۔۔ بنی خامر کا ایک شخص اپنے ماموں سے روایت نقل کرتا ہے کہ جب حضرت سلمان (رض) حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت عمر (رض) نے لوگوں سے فرمایا : ہمارے ساتھ چلوتا کہ ہم سلمان کا استقبال کریں۔ (رواہ ابن عساکر)
37122 عن رجل من بنى خامر عن خال له أن سلمان لما قدم على عمر قال للناس : اخرجوا بنا نتلق سلمان (ابن سعد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمان فارسی (رض)
٣٧١٢٣۔۔۔ سالم بن ابی جعد سے مروی ہی کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت سلمان (رض) کا چھ ہزار (درہم) وظیفہ مقرر کیا۔ (رواہ ابوعبید فی الاموال وابن سعد)
37123 عن سالم بن أبي الجعد أن عمر جعل عطاء سلمان ستة آلاف (أبو عبيد في الاموال وابن سعد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمان فارسی (رض)
٣٧١٢٤۔۔۔ حضرت سلمان (رض) فرماتے ہیں : میں رامہرمز میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا میں اپنے ایک معلمم کے پاس لکھنے پڑھنے جاتا تھا اور راستے میں ایک راہب آتا تھا جب میں راہب کے پاس سے گزرتا تھوڑی دیر کے لیے اس کے پاس بیٹھ جاتا وہ مجھے آسمانوں اور زمین کی خبریں سناتا حتیٰ کہ میں اس سے متاثر ہو کر اسی کا بن بیٹھا اور لکھنے پڑھنے کا سلسلہ ترک کردیا معلم نے گھر والوں کو خبر کردی اور کہا : یہ راہب تمہارے بیٹے کو خراب کررہا ہے اسے یہاں سے نکالدو چنانچہ میں گھر والوں سے چھپ کر راہب کے ساتھ ہولیا اور ہم دونوں موصل جا پہنچے وہاں ہم نے چالیس راہب پائے میں نے دیکھا کہ موصل کے راہب میرے ساتھ راہب کی بڑی قدروتعظیم کرتے ہیں، میں راہب کے ساتھ کئی مہینوں تک رہا حتیٰ کہ میں بیمار پڑگیا ان راہبوں میں سے ایک راہب کہنے لگا : میں بیت المقدس جاتا ہوں تاکہ اس میں نماز پڑھوں یہ سن کر مجھے بڑی خوشی ہوئی اور میں نے کہا : میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں چنانچہ میں بھی اس کے ساتھ ہولیا میں نے اسے بڑا صبر آزاماپایا : وہ مسلسل چلتا رہا جب مجھے تھکا ہوا دیکھتا کہتا : سوجاؤ میں سوجاتا جب کہ وہ کھڑا ہو کر نماز میں مشغول ہوجاتا۔ چنانچہ اس نے ایک دن بھی کھانا نہیں کھایا حتیٰ کہ ہم بیت المقدس پہنچ گئے وہاں پہنچ کر راہب سوگیا اور مجھے تاکید کی کہ جب سایہ یہاں تک پہنچے مجھے جگا دینا وہ آرام سے سوگیا اور جیسا سایہ مطلوبہ نشان پر پہنچا میں نے راہب کو بیدار کرنا چاہا پھر مجھے خیال آیا کہ بیچارارات کو بھی بیدار رہتا ہے لہٰذا تھوڑی دیر کے لیے اور سو لے چنانچہ گھڑی بھر نہیں گزرنے پائی تھی کہ راہب خود ہی پیدا ہوگیا اور کہنے لگا : میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ مجھے بیدار کرنا ہے ؟ میں نے عذر بیانی سے کام لیا اور کہا تم سوتے نہیں وہ اس لیے میں نے چاہا تھوڑی دیر سولو اور یوں سایہ مطلونہ نشان سے تجاوز کرگیا راہب بولا : مجھے پسند نہیں کہ مجھ پر ایک گھڑی بھی ایسی گزرے جس میں میں اللہ کا ذکر نہ کروں۔ پھر ہم بیت المقدس میں داخل ہوگئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ دروازے پر ایک اپاہج سائل مانگ رہا ہے اس نے راہب سے بھی سوال کیا مجھے لازم نہیں راہب نے اسے کیا جواب دیا۔ جب ہم باہر نکلے سائل نے پھر سوال کیا راہب نے اسے کچھ نہ دیا، سائل بولا : تم اندر داخل ہوئے مجھے کچھ نہیں دیا اور اب باہر نکلے ہوتب بھی مجھے کچھ نہیں دیا، سائل اپاہج تھا اور چل نہیں سکتا تھا۔ راہب نے کہا : کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ تم سیدھے کھڑے ہوجاؤ اور چلنے پھرنے کے قابل ہوجاؤ ؟ سائل نے کہا : جی ہاں راہب نے اس کے لیے دعا کی اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے کھڑا ہوگیا اور چلنے لگا مجھے اس پر بڑا تعجب ہوا۔ راہب باہر نکل کر چل پڑا جب کہ میں اسی شش وپنچ میں راستہ بھول گیا میں بھی باہر نکلا اور لوگوں سے راہب کے متعلق پوچھنے لگا اتنے میں انصار کے چند مسافروں سے میری ملاقات ہوئی میں نے ان سے پوچھا کیا تم نے ایسے ایسے حلیہ کا کوئی شخص دیکھا ہے ؟ مسافر بولے : یہ تو ہمارا بھاگا ہواغلام ہے انھوں نے مجھے پکڑلیا اور مجھے ایک آدمی کی نگرانی میں دے دیا چنانچہ وہ مجھے مدینہ لے آئے اور اپنے ایک باغ میں مجھے بگار پر لگادیا میں کھجور کے پتوں سے یہ چیزیں بنانے لگا مجھ سے راہب نے کہا تھا : اللہ تعالیٰ نے عرب میں کوئی نبی نہیں پیدا کیا عنقریب عربوں میں ایک نبی کا ظہور ہونے والا ہے۔ اگر تم اسے پاؤ اس کی تصدیق کرو اس پر ایمان لاؤ اس کی نشانی یہ ہے کہ وہ ہدیہ قبول کرتا ہوگا اور صدقہ نہیں کھائے گا اور یہ کہ اس کی بشت پر مہرنبوت ہے میں مدینہ میں عرصہ تک ٹھہرارہا۔ پھر اہل مدینہ نے کہا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لارہے ہیں میں اپنے ساتھ کھجوریں لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : یہ صدقہ کی کھجوریں ہیں آپ نے فرمایا ہم صدقہ نہیں کھاتے میں نے کھجوریں اٹھالیں میں آپ کی خدمت میں کھجوریں لے کر دوبارہ حاضر ہوا کھجوریں آپ کے سامنے رکھیں فرمایا یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : یہ ھدیہ ہے۔ چنانچہ آپ نے کھجوریں تناول فرمائیں اور آپ کے پاس حاضرین نے بھی تناول کیں پھر میں مہر نبوت دیکھنے کے لیے آپ کے پیچھے کھڑا ہوگیا اور کاندھوں سے چادر ہٹادی میں نے کھلی آنکھوں سے مہرنبوت دیکھی میں ایمان لے آیا اور اپ کی تصدیق کردی میں نے کھجوروں کے سو (١٠٠) عدد بودے کاشت کرنے پر مکاتبت (بدل آزادی) کرلی چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دست اقدس سے پودے کاشت کیے حتیٰ کہ سال بھی نہیں گزرے پایا تھا کہ پودے جوان ہوگئے اور ان کے سات کھجوریں لگ گئیں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
37124 عن سلمان قال : كنت في أهلي برامهرمز وكنت أختلف إلى معلمي الكتاب ، وكان في الطريق راهب ، فكنت إذا مررت جلست عنده فيخبرني من خبر السماوات والارض ونحو من ذلك حتى اشتغلت عن كتابتي و لزمته ، فأخبر أهلي المعلم وقال لهم : إن هذا الراهب قد أفسد ابنكم فأخرجوه ، فاستخفيت منهم فخرجت معه حتى جئنا الموصل فوجدنا فيها أربعين راهبا ، فكان بهم من التعظيم للراهب الذي جئت معه شئ عظيم ، فمكثت معه أشهرا فمرضت فقال راهب منهم : إني ذاهب إلى بيت المقدس فأصلي فيه ، ففرحت بذلك فقلت : أنا معك ، فخرجت فما رأيت أحدا كان أصبر على شئ منه ، كان يمشي فإذا رآني أعييت قال : ارقد ، وقام يصلي ، وكان كذلك لم يطعم يوما حتى جئنا بيت المقدس ، فلما قدمناه رقد وقال لي : إذا رأيت الظل ههنا فأيقظني ، فلما بلغ الظل ذلك المكان أردت أو أوقظه ثم قلت : سهر ولم يرقد والله لادعنه قليلا ! فتركته ساعه ، فاستيقظ فرأى الظل قد جاوز ذلك المكان ، فقال : ألم أقل لك أن توقظني ! قلت : كنت لم تنم فأحببت أن أدعك ننام قليلا ، قال : إني لا أحب أن تأتي علي ساعة إلا وأنا أذكر الله فيها ، ثم دخلنا بيت المقدس فإذا سائل مقعد يسأل فسأله فلا أدري ما قال له ، فقال له المقد : دخلت ولم تعطني شيئا وخرجت ولم تعطني شيئا ! قال : هل تحب أن تقوم ؟ قال : نعم ، فدعا له فقام ، فجعلت أتعجب وابتعد ، فسهوت فذهب الراهب ثم خرجت اتبعه وأسأل عنه فلقيت ركبا من الانصار فسألتهم عنه فقلت أرأيتم رجلا كذا وكذا ؟ فقالوا : هذا عبد آبق فأخذوني وأدفوني خلف رجل منهم حتى قدموا بي المدينة فجعلوني في حائط لهم ، فكنت أعمل هذا الخوص وقد كان الراهب قال : إن الله لم يعط العرب من الانبياء أحدا وإنه سيخرج منهم نبي ! فان أدركته فصدقه وآمن به.

وإن آيته أن يقبل الهدية ولا يأكل الصدقة ، وإن في ظهره خاتم النبوة ، فمكثت ما مكثت ، ثم قالوا : جاء النبي صلى الله عليه وسلم المدينة ، فخرجت معي بتمر فجئت إليه به فقال : ما هذا : قلت : صدقة ، قال : لا نأكل الصدقة فأخذته : ثم أتيته بتمر فوضعته بين يديه ، فقال : ما هذا قلت : هدية ، فأكل وأكل من كان عنده ، ثم قمت وراء ظهره لانظر إلى الخاتم ، ففطن بي فألقى رداءه عن منكبيه ، فأبصرته فآمنت به وصدقته ، فكاتبت على مائة نخلة فغرسها رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده ، فلم يحول الحول حتى بلغت وأكل منها (عب)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمان فارسی (رض)
٣٧١٢٥۔۔۔ سعید بن مسیب (رح) نقل کرتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی (رض) نے اس شرط پر مکاتبت کرلی کہ وہ کھجور کے سو (١٠٠) پودے کاشت کرینگے اور جب ان سے کھجوریں کھائی جائیں گی تو وہ آزاد ہوجائیں گے (رواہ عبدالرزاق)
37125 أيضا عن سعيد بن المسيب أن سلمان الفارسي كاتب على أن يغرس مائة ودية فإذا أطعمت فهو حر (عب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمان فارسی (رض)
٣٧١٢٦۔۔۔ عامر بن عطیہ کہتے ہیں : میں نے سلمان (رض) کو دیکھا کہ انھیں کھانے پر مجبور کیا جاتا تھا سلمان (رض) فرماتے : مجھے اتنی کافی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوک اس شخص کو لگے گی جو دنیا میں سب سے زیادہ پیٹ بھرکر کھاتا ہوں اے سلمان ، دنیا مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ہے۔ (رواہ العسکری فی الامثال)
37126 (أيضا) عن عامر بن عطية قال : رأيت سلمان أكره على طعام فقال : حسبي اني سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول : إن أول الناس جوعا يوم القيامة أكثرهم شبعا في الدنيا ، يا سلمان !إنما الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر (العسكري في الامثال).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمان فارسی (رض)
٣٧١٢٧۔۔۔ حارث بن عمیرہ کہتے ہیں : میں مدائن میں حضرت سلمان (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے انھیں چمڑے کے کارخانہ میں کچے چمڑوں کو دباغت دیتے ہوئے پایا جب میں نے سلام کیا انھوں نے فرمایا : اپنی جگہ کھڑے رہو میں ابھی باہر آنا چاہتا ہوں میں نے عرض کیا : اللہ کی قسم ! میں نہیں سمجھتا کہ آپ نے مجھے پہچانا ہو سلمان (رض) نے فرمایا : کیوں نہیں، میری روح نے تمہاری روح کو پہچان لیا ہے چونکہ روحیں جمع شدہ لشکر ہیں، ان میں سے جن روحوں کا آپس میں تعارف ہوجاتا ہے وہ آپس میں مل جاتی ہیں اور جن کا تعارف نہ ہو وہ الگ الگ ہوجاتی ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
37127 أيضا عن الحارث بن عميرة قال : قدمت إلى سلمان إلى المدائن فوجدته في مدبغة له يعرك إهابا بكفيه ، فلما سلمت عليه قال : مكانك حتى أخرج إليك ، قلت : والله ما أراك تعرفني قال : بلى ، قد عرفت روحي روحك قبل أن أعرفك فان الارواح جنود مجندة فما تعارف منها في الله ائتلف ، وما كان منها في غير الله اختلف (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمان فارسی (رض)
٣٧١٢٨۔۔۔ حضرت سلمان (رض) فرماتے ہیں : میں عظماء فارس کے بیٹوں میں سے ہوں میرا شمار کاتبین میں تھا میری معیت میں دو غلام تھے یہ غلام جب اپنے معلم سے واپس لوٹتے راستہ ایک راہب کے پاس جاتے ایک دن میں بھی ان کے ساتھ راہب کے پاس چلا گیا راہب بولا : کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا کہ میرے پاس صرف ایک آدمی آیاکرو، اس کے بعد میں راہب کے پاس آنا جانا شروع کردیا اور یوں میں غلاموں کی نسبت راہب کو زیادہ محبوب ہوگیا۔ راہب نے مجھے کہا تم سے گھروالے تاخیر کی بابت پوچھیں کہہ دو : معلم نے مجھے تاخیر کردی اگر معلم پوچھے کہہ دو گھروالوں نے تاخیر کردی کچھ عرصہ کے بعد راہب نے وہاں سے کوچ کرنے کا ارادہ کرلیا میں نے کہا : میں بھی تمہارے ساتھ جاؤں گا چنانچہ میں بھی اس کے ساتھ ہولیا اور ہم ایک بستی میں جاپہنچے وہاں ایک عورت راہب کے پاس آتی جب راہب کی وفات کا وقت قریب ہوا س نے کہا : اے سلمان ! میرے سر کے پاس ایک گڑھا کھود میں نے گڑھا کھودا گڑھے سے درہموں بھرا ایک مٹکا برآمد ہوا راہب نے مجھے حکم دیا یہ دراہم میرے سینے پر بہادر میں نے دراہم اس کے سینے پر بہادیئے وہ کہتا جارہا میرے اعتماد واقتناء کی ہلاکت پھر وہ مرگیا۔ اس کے بعد میں نے دوسرے راہبوں سے کہا : مجھے کوئی ایسا عالم شخص بتاؤ جس کی میں پیروی کرلوں ؟ راہبوں نے ایک شخص کا مجھے بتایا، میں اس کے پاس آگیا اور اس سے کہا : میں صرف حصول علم کے لیے تیرے پاس آیاہوں۔ راہب بولا اللہ کی قسم ! سوائے ایک شخص کے میں کسی کو نہیں جانتا جس کا سرزمین تیماء میں ظہور ہونے والا ہے۔ اگر تم ابھی جاؤ ےتو اس سے مل سکتے ہو۔ یاد رکھو اس میں تین نشانیاں ہیں۔ ہدیہ کھالیتا ہے صدقہ نہیں کھاتا اور دائیں کاندھے کی ہڈیوں کے جو ڑپر مہرنبوت ہے کو کبوتری کے انڈے کے مشابہ ہے اس کا رنگ کھال کا رنگ ہے ، چنانچہ میں حق کی تلاش میں چل پڑا اور گنواروں کی بستی پر سے میرا گزرہوا انھوں نے میرا گزرہو انھوں نے مجھے پکڑ کر غلام بنالیا اور پھر مجھے بیچ ڈالا، حتیٰ کہ اہل مدینہ کی ایک عورت نے مجھے خرید لیا میں نے مدینہ میں لوگوں کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا میں نے اپنی مالکن سے کہا : مجھے ایک دن کی اجازت دو وہ مان گئی ، میں نے لکڑیاں جمع کیں اور انھیں بیچ کر کھاناپکایا اور کھانا لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوگیا، کھانا تھوڑا تھا میں نے آپ کے سامنے رکھ دیا، آپ نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : یہ صدقہ ہے آپ نے اپنے صحابہ (رض) سے فرمایا : یہ کھاؤ جب کہ آپ نے خود نہیں تناول فرمایا میں نے سوچا ایک نشانی صحیح ثابت ہوئی۔ پھر کچھ عرصہ بعد میں نے اپنی مالکہ سے کہا مجھے ایک دن کی اجازت دو اس نے کہا : جی ہاں میں نے لکڑیاں جمع کیں اور انھیں بیچ کر کھاناتیار کیا اور اسے آپ کے پاس آپ کے پاس لے آیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ (رض) کے درمیان تشریف فرما تھے میں نے کھانا آپ کے سامنے رکھ دیا آپ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : یہ ہدیہ ہے۔ آپ نے تناول فرمانے کے لیے اپنا ہاتھ رکھ دیا اور صحابہ سے بھی کھانے کو فرمایا : میں آپ کے پیچھے کھڑا ہوگیا آپ فورا سمجھ گئے اور اپنی چادر کاندھے سے اتاردی میں نے جو آنکھ اٹھا کر دیکھا مہر نبوت کو سامنے پایا میں نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، آپ نے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ میں نے اپنے ساتھی شخص کا واقعہ سنایا پھر میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ جنت میں داخل ہوگا ؟ چونکہ اسی نے مجھے بتایا ہے کہ آپ نبی ہیں۔ آپ نے فرمایا : جنت میں صرف مسلمان شخص ہی داخل

ہوگا۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37128 عن سلمان قال : كنت من أبناء أساورة فارس وكنت في كتاب ومعي غلامان وكانا إذا رجعا من عند معلمهما أتيا قسا فدخلا عليه فدخلت معهما فقال : ألم أنهكما أن تأتياني بأحد ؟ فجعلت اختلف إليه حتى كنت أحب إليه منهما ، فقال لي : إذا سألك أهلك : من حبسك ؟ فقل : معلمي ، وإذا سألك معلمك : من حبسك ؟ فقل : أهلي : ثم إنه أراد أن يتحول فقلت له : أنا أتحول معك ، فتحولت معه فنزلت بقرية ، فكانت امرأة تأتيه ، فلما حضر قال : يا سلمان ! احفر عند رأسي ، فحفرت عند رأسه فاستخرجت جرة من دراهم ، فقال لي : صبها على صدري ، فصببتها على صدره ، فكان يقول : ويل لاقتنائي ! ثم إنه مات ، فقلت للرهبان : من لي برجل عالم أتبعه ؟ فدلوني على رجل ، فأتينه فقلت : ما جاء بي إلا طلب العلم ، قال : فاني والله ما أعلم اليوم رجلا أعلم من رجل خرج بأرض تيماء ! وإن تنطلق الآن توافقه ، وفيه ثلاث آيات : يأكل الهدية ولا يأكل الصدقة ، وعند غضروف كتفه اليمنى خاتم النبوة مثل بيضة الحمامة ، لونها لون جلده ، فانطلقت حتى مررت بقوم من الاعراب فاستعبدوني فباعوني ، حتى اشترتني امرأة من المدينة ، فسمعتهم يذكرون النبي صلى الله عليه وسلم ، فقلت لها : هبي لي يوما ! قالت : نعم ، فانطلقت فاحتطبت حطبا فبعته ، وصنعت طعاما فأنيت به النبي صلى الله عليه وسلم وكان يسيرا فوضعته بين يديه ، فقال : ما هذا ؟ قلت : صدقة ، فقال لاصحابه : كلوا ولم يأكل ، قلت : هذا من علاماته ، ثم مكثت ما شاء الله أن أمكث ، ثم قلت لمولاتي : هبي لي يوما ! قالت : نعم فانطلقت فاحبطبت حطبا فبعته بأكثر من ذلك وصنعت طعاما ، فأتيت به النبي صلى الله عليه وسلم وهو جالس بين أصحابه فوضعته بين يديه ، فقال : ما هذا ؟ قلت : هدية ، فوضع يده وقال لاصحابه : خذوا بسم الله ، وقمت خلفه ، فوضع راداءه فإذا خاتم النبوة ! فقلت : أشهد أنك رسول الله ، قال : وما ذاك ؟ فحدثته عن الرجل ، ثم قلت : أيدخل الجنة يا رسول الله ؟ فانه حدثني أنك نبي ، قال : لن يدخل الجنة إلا نفس مسلمة (ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمان فارسی (رض)
٣٧١٢٩۔۔۔ عامر بن عبداللہ (رض) المعروف ابن عبدقیس روایت نقل کرتے ہیں کہ جب حضرت سلمان فارسی (رض) کی وفات کا وقت قریب ہوا تو آپ (رض) جزع کرنے لگے۔ حاضرین نے کہا : اے ابوعبید اللہ آپ کیوں جزع کر رہے ہیں حالانکہ آپ کو بھلائی میں سبقت حاصل ہے آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوات میں شریک رہے اور بڑی بڑی فتوحات میں شامل رہے سلمان (رض) نے فرمایا : تجھے یہ چیز جزع فزع پر مجبور کررہی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رخصت ہوئے آپ نے ہمیں وصیت کی تھی کہ آدمی کو اتنا مال کافی ہے جتنا کہ مسافر کا زدراہ ہوتا ہے۔ پس یہی چیز مجھے جزع پر مجبور کررہی ہے چنانچہ حضرت سلمان (رض) کا مال جمع کرکے اس کی قیمت کا اندازہ لگایا گیا تو وہ پندرہ دینار کے برابر نکلا۔ (رواہ ابن حسان وابن عساکر)
37129 عن عامر بن عبد الله المعروف بابن عبد قيس أن سلمان حين حضره الموت عرفوا منه بعض الجزع ، قالوا : وما يجزعك يا أبا عبد الله وقد كانت لك سابقة في الخير ، شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم مغازي حسنة وفتوحا عظاما ؟ قال : يجزعني أن نبينا صلى الله عليه وسلم حين فارقنا عهد إلينا : ليكفى الرجل منكم كزاد الراكب فهذا الذي أجزعني ، فجمع مال سلمان فكان قيمته خمسة عشر دينارا (حب ، كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمان فارسی (رض)
٣٧١٣٠۔۔۔ ابوجعفر کی روایت ہے کہ حضرت سلمان فارسی (رض) بنونضیر کے کچھ لوگوں کے غلام تھے انھوں نے اس شرط پر سلمان (رض) سے مکاتبت کرلی کہ وہ ان کے لیے اتنے اتنے کھجورو کے پودے کاشت کریں گے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلمان (رض) سے فرمایا : ہرگڑھے کے پاس پودار رکھ دو پھر صبح کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود تشریف لے گئے اور اپنے دست اقدس سے گڑھے میں پودا کھڑا اور سلمان (رض) کے لیے دعا فرمائی۔ یوں لگتا تھا گویا پودے سمندر کے درمیان ہوں اور وہاں سے پروان چڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ سر زمین غنیمت میں عطاکی یہ ہموارزمین تھی آپ نے اسے مدینہ میں صدقہ قرار دے دیا۔ (رواہ عبدالرزاق)
37130 عن أبي جعفر أن سلمان الفارسي كان لناس من بني النضير فكاتبوه على أن يغرس لهم كذا وكذا ودية حتى تبلغ عشر سعفات ، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم : ضع عند كل نقير ودية ، ثم غدا النبي صلى الله عليه وسلم فوضعها له بيده ودعا له فيها ، فكأنها كانت على ثبج البحر علت منها ودية ، فلما أفاءها الله عليه وهي الميثب جعلها صدقة ، فهي صدقة بالمدينة (عب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سلمان فارسی (رض)
٣٧١٣١۔۔۔ مالک ، زہری سے ےابوسلمہ بن عبدالرحمن کی روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ قیس بن مطاطیہ مسلمانوں کے ایک حلقہ کے پاس آیا حلقہ میں حضرت سلمان فارسی صہبت رومی اور بلال حبشی (رض) بھی بیٹھے تھے قیس بن مطالیہ بولا : اوس اور خزرج اس شخص ۔ (سلمان فارسی (رض)) کی مدد کے لیے کھڑے ہوگئے ہیں لہٰذا ان کا کیا حال ہوگا ؟ حضرت معاذ بن جبل (رض) قیس کی طرف کھڑے ہوئے اور اس کے گلے میں چادر ڈال کر اسے پکڑلیا اور اسے کھینچتے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آئے اور اس کی کہی ہوئی بات بیان کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصہ میں کھڑے ہوئے حتیٰ کہ آپ کی چادر زمین پر گھسٹتی جارہی تھی آپ مسجد میں داخل ہوئے اور اعلان کیا گیا : الصلاۃ جامعۃ “ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء کے بعد فرمایا : اے لوگو ! رب تعالیٰ ایک ہے باپ بھی ایک ہے دین بھی ایک ہے خبردار ! عربیت نہ تمہارا باپ ہے نہ ماں یہ تو صرف ایک زبان ہے لہٰذا جو عربی زبان بولتا ہے وہ عربی ہے حضرت معاذ (رض) نے قیس کو گلے میں چادر ڈالا کر پکڑ رکھا تھا عرض کیا : یارسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ اس منافق کے بارے میں کیا فرماتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے دوزخ کے رحم و کرم پر چھوڑدو چنانچہ قیس بن مطالیہ ان لوگوں میں سے ہے جو مرتد ہوگئے تھے اور اسی حالت میں وہ قتل کیا گیا۔ (رواہ ابن عساکر)

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الضعیفۃ۔
37131 عن مالك عن الزهري عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال : جاء قيس بن مطاطية إلى حلقة فيها سلمان الفارسي وصهيب الرومي وبلال الحبشي فقال : هؤلاء الاوس والخزرج قد قاموا بنصرة هذا الرجل فما بال هؤلاء ؟ فقام إليه معاذ بن جبل فأخذ بتلبيبه حتى أتى به النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره بمقالته ، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم مغضبا يجر رداءه حتى دخل المسجد ثم نودي الصلاة جامعة ! فحمد الله وأثنى عليه ثم قال : يا أيها الناس ! إن الرب رب واحد وإن الاب أب واحد ، وإن الدين دين واحد ، ألا ! وإن العربية ليست لكم بأب ولا أم إنما هي لسان ، فمن تكلم بالعربية فهو عربي ، فقال معاذ وهو آخذ بتلبيبه : يا رسول الله ما تقول في هذا المنافق ؟ فقال : دعه إلى النار ، قال : فكان فيمن ارتد فقتل في الردة (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سندر ابوعبداللہ مولائے زنباع جذامی (رض)
٣٧١٣٢۔۔۔” مسند عمر (رض) “ عمروبن شعیب اپنے والد اور دادا کی سند سے روایت نقل کرتے ہیں کہ زبناع کا ایک غلام تھا جسے سندر کہا جاتا تھا۔ زنباع نے سندرکواس حال میں پایا کہ ہو زنباع کی لڑکی کا بوسہ لے رہا تھا زنباع نے سند ر کے خصیے ناک اور کان کاٹ دیئے بعد میں سندع کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زنباع کو پیغام بھیجوا کر اپنے پاس بلایا اور فرمایا : غلاموں پر اتنا بوجھ نہ ڈالو جس کے اٹھانے کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں، انھیں وہی کچھ کھلاؤ جو تم کود کھاتے ہو انھیں وہی کپڑے پہناؤ جو تم خود پہنچتے ہو۔ اگر تم ان سے راضی ہوں انھیں اپنے پاس رہنے دو او ور اگر تم انھیں ناپسند کرو تو انھیں بیچ ڈالو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو عذاب میں مبتلامت کرو جس شخص کو مشلہ کردیا جائے یا اسے آگ جلادیا جائے وہ آزاد ہے۔ لہٰذا سندر اللہ اور اس کے رسول کا آزاد کردہ غلام ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سند کو آزاد کردیا سندر (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میری وصیت کریں۔ آپ نے فرمایا : میں تمہاری ہر مسلمان کو وصیت کرتا ہوں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوئے سندر (رض) حضرت ابوبکر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے متعلق جو وصیت کی تھی اس کی حفاظت کرو ابوبکر (رض) نے سندر کا وظیفہ جار کی کردیا جب ابوبکر (رض) دنیا سے رخصت ہوئے تو سندر (رض) عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وصیت کی حفاظت کرو۔ عمر (رض) نے فرمایا : جی ہاں اگر تم میرے پاس رہنا پسن دکرو تو میں تمہارا وظیفہ جاری کردوں گا جو ابوبکر (رض) نے تمہارے لیے مقرر کیا تھا ورنہ جس جگہ مت جانا چاہتے ہو چلے جاؤ میں وہاں کے گورنر کے نام تحریر کردوں گا سندر (رض) بولے : میں مصر جانا چاہتا ہوں چونکہ مصر زرخیرزمین ہے چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ان کے لیے حضرت عمروبن العاص (رض) کے نام نوشتہ تحریر کردیا اور لکھا : امابعد ! سندر تمہارے پاس آنا چاہتا ہے اس کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وصیت کی حفاظت کرو۔ جب سندر (رض) حضرت عمر (رض) کے پاس تمہارے پاس آنا چاہتا ہے اس کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وصیت کی حفاظت کرو۔ جب سندر (رض) حضرت عمر (رض) پہنچے تو عمر (رض) نے انھیں وسیع زمین اور عالیشان گھر جائیداد میں دیا، سندر (رض) نے وہیں زندگی گزارنی شروع کردی جب سندر (رض) نے وفات پائی تو جائیداد کو اللہ تعالیٰ کے جمیع مال میں شامل کرلیا گیا۔ (رواہ ابن سعد ٥٠٦٧ وابن عبدالحکیم وابن مسندہ فی المعرفۃ)
37132 (مسند عمر رضي الله عنه) عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أنه كان لزنباع الجذامي غلام يقال له سندر ، فوجده يقبل جارية له فجبه وجدع أذنيه وأنفه فأتى سندر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فأرسل إلى زنباع فقال : لا تحملوهم ما لا يطيقون وأطعموهم مما تأكلون واكسوهم مما تلبسون ، فان رضيتموهم فأمسكوهم وإن كرهتموهم فبيعوا ولا تعذبوا خلق الله ، ومن مثل به أو أحرق بالنار فهو حر ، وهو مولى الله ورسوله فأعتق سندر ، فقال : أوص بي يا رسول الله ! قال : أوصي بك كل مسلم ، فلما توفى رسول الله صلى الله عليه وسلم أتى سندر إلى أبي بكر الصديق رضي الله عنه فقال له : احفظ في وصية النبي صلى الله عليه وسلم ، [ فأجرى عليه القوت حتى مات أبو بكر حتى توفي ، ثم أتى عمر فقال له ، احفظ في وصية النبي صلى الله عليه وسلم ، فقال : نعم ، إن رضيت أن تقيم عندي أجريت عليك ما كان يجري أبو بكر وإلا فانظر أي المواضع تختار أكتب لك ، فقال سندر : مصر ، فانها أرض ريف ، فكتب له عمر إلى عمرو بن العاص : أما بعد فان سندر قد توجه إلى فاحفظ فيه وصية النبي صلى الله عليه وسلم ، فلما قدم على عمرو قطع له أرضا واسعة ودارا ، فجعل سندر يعيش فيها ، فلما مات قبضت في مال الله (ابن سعد (7 / 506) وابن عبد الحكم وابن منده في المعرفة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سندر ابوعبداللہ مولائے زنباع جذامی (رض)
٣٧١٣٣۔۔۔ یزید بن ابی حبیب کی روایت ہے کہ زنباع جذامی نے اپنے غلام پر تہمت لگائی جس کی پاداش میں اس نے غلام کو خصی کرنے کا حکم دیا پھر اس کے ناک اور کان کاٹ دیئے غلام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا آپ نے غلام کو آزارٓد کردیا اور فرمایا : جو غلام بھی مثلہ کیا جائے وہ آزاد ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کا آزاد کردہ غلام ہے چنانچہ یہ غلام مدینہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس رہا اس سے بڑی ہمدردی کی جاتی تھی ، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مرض شدت اختیار کرتا گیا سندر (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ مجھے دیکھ رہے ہیں آپ کے بعد میرا کون ہوگا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تمہاری ہر مومن کو وصیت کرتا ہوں ۔ جب حضرت عمر (رض) کو خلیفہ نامزد کیا گیا تو سندر (رض) ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وصیت کی حفاظت فرمائیں ۔ عمر (رض) نے فرمایا : تم مسلمانوں کے جس لشکر کے ساتھ لاحق ہونا چاہتے ہوچلے جاؤ میں انھیں تمہارے ساتھ ہمدردی کرنے کا لکھ دوں گا۔ سندر (رض) نے کہا : میں مصر جاناجانا چاہتا ہوں۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے حضرت عمر وبن العاص (رض) کو خط لکھا کہ سندرکو وسیع زمین جائیداد میں دو ۔ سند (رض) مصرہی میں رہے۔ (رواہ ابن عبدالحکیم)
37133 عن يزيد بن أبي حبيب أن غلاما لزنباع الجذامي اتهمه ، فأمر باخصائه وجدع أنفه وأذنيه ، فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأعتقه فقال : أيما مملوك مثل به فهو حر ، وهو مولى الله ورسوله ، فكان بالمدينة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفق به ، فلما اشتد مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له سندر : يا رسول الله ! أنا كما ترى فمن لنا بعدك ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أوصي بك كل مؤمن ، فلما ولي عمر بن الخطاب أتاه سندر فقال : احفظ في وصية رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قال : فانظر أي أجناد المسلمين شئت فالحق به آمر لك بما يصلحك ؟ فقال سندر : ألحق بمصر ، فكتب له إلى عمرو بن العاص أن يأمر له بأرض تسعه ، فلم يزل فيما يسعه بمصر (ابن عبد الحكم).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سہل بن حنیف (رض)
٣٧١٣٤۔۔۔” ابواسحاق کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) فرمایا کرتے تھے : میرے پاس سہل کو بلالاؤ نہ کہ حزن کو یعنی سہل بن حنیف (رض) کو چونکہ ان کا سابقہ نام حزن تھا۔ (رواہ ابن عساکر)
37135- عن أبي إسحاق قال: كان عمر بن الخطاب يقول: ادعوا لي سهلا غير حزن - يعني سهل بن حنيف. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سہیل بن عمرو (رض)
٣٧١٣٥۔۔۔ عبید بن عمیر (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوئے تو حضرت عتاب بن اسید (رض) مکہ کے گورنر تھے جب انھیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کی خبر پہنچی مسجد میں اہ بکا کی آوازیں بلند ہوئیں عتاب (رض) اٹھے اور مکہ کی گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں جاگھ سے حضرت سہیل بن عمرو عتاب (رض) کے پاس گئے اور کہا : مسجد میں تشریف لائیں اولوگوں سے بات کریں عتاب (رض) نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے ہوتے ہوتے میں لوگوں سے کلام کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ سہیل (رض) نے کہا : میرے ساتھ چلئے میں آپ کی کفایت کروں گا، دونوں چل پڑے اور مسجد میں آگئے سہیل (رض) لوگوں سے خطاب کرنے کھڑے ہوئے اور حمد وثناء کے بعد بالکل ایسا ہی خطاب کیا جیسا کہ مدینہ میں ابوبکرصدیق (رض) نے کہا تھا اس میں ذرہ برابر بھی کمی زیادتی نہیں کی حضرت سہیل بن عمرو (رض) غزوہ بدر کے موقع پر قیدیوں میں شامل تھے، ان کے متعلق رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) سے فرمایا : تم اس کے دانت نکالنے کے درپے ہوگئے ہو ؟ اسے چھوڑو عنقریب اللہ تعالیٰ اسے ایسے مقام پر کھرا کرے گا جو تجھے خوش کردے گا چنانچہ آپ کی بات یوں پوری ہوئی یہ وہی مقام ہے جس ہر آج سہیل بن عمرو (رض) کھڑے ہوئے اور عتاب (رض) کی گورنری ضبط ہو کررہ گئی۔ (رواہ سیف وابن عساکر)
37136- عن عبيد بن عمير قال: مات رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلى مكة وعملها عتاب بن أسيد ، فلما بلغهم موت النبي صلى الله عليه وسلم ضج أهل المسجد فخرج عتاب حتى دخل شعبا من شعاب مكة فأتاه سهيل بن عمرو فقال : قم في الناس فتكلم ، فقال : لا أطيق الكلام مع موت رسول الله صلى الله عليه وسلم : فاخرج معي فأنا أكفيكه ، فخرجا حتى أتيا المسجد الحرام ، فقام سهيل خطيبا فحمد الله وأثنى عليه وخطب بمثل خطبة أبي بكر لم يخرم عنها شيئا ، وقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لعمر بن الخطاب وسهيل بن عمرو في الاسرى يوم بدر : ما يدعوك إلى أن تنزع ثناياه ؟ دعه فعسى الله أن يقيمه مقاما يسرك ، فكان ذلك المقام الذي قال النبي صلى الله عليه وسلم وضبط عمل عتاب وما حوله (سيف ، كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سہیل بن عمرو (رض)
٣٧١٣٦۔۔۔” مسند علی “ واقدی ابوبکر واسماعیل ابن محمد، اپنے والد سے عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : بدر کے دن میں نے سہیل بن عمرو کے تیرمارا جس سے انھیں گہرازخم لگامیں خون کے نشانات دیکھتا ہوا ان کے پیچھے گیا چنانچہ انھیں مالک بن خشم (رض) نے پکڑ رکھا تھا میں نے کہا : یہ میرا قیدی ہے چونکہ میں نے ہی اسے تیر سے زخمی کیا ہے۔ جب کہ مالک (رض) نے کہا : یہ میرا قیدی ہے چونکہ میں نے اسے پکڑا ہے۔ دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم نے فیصلہ کیا کہ تم دونوں نے اسے قید کیا ہے چنانچہ روحاء نامی جگہ سے مالک بن وخشم (رض) کے ہاتھ سے سہیل بن عمرو نکل بھاگے مالک (رض) نے لوگوں میں اعلان کیا اور خود ان کی تلاش میں نکل گئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو بھی اسے پائے اسے قتل کردے چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود انھیں پایا اور قتل نہیں کیا جب سہیل بن عمرو (رض) قید ہوگئے حضرت عمر (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یارسول اللہ ! اس کے دانت نکلوادیں تاکہ اس کی زبان لٹک جائے اور آپ کے خلاف تقریریں کرنے کبھی کھڑا ہو۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا : میں اسے مثلہ نہیں کرتا چونکہ اللہ تعالیٰ مجھے مثلہ کردے اگرچہ میں نبی ہی کیوں نہ ہوں ۔ ہوسکتا ہے یہ ایسے مقام پر کھڑا ہو جسے تم اچھا سمجھو۔ چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رحلت کے موقع پر سہیل بن عمرو (رض) لوگوں سے خطاب کرنے کھڑے ہوئے اور وہی خطاب کیا جو ابوبکر (رض) نے مدینہ میں لوگوں سے کیا تھا گویا وہی خطاب سن لیا ہو۔ جب حضرت عمر (رض) کو ان کے خطاب کا علم ہوا فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اللہ کے قاصد ہو چونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چونکہ ارشاد فرمایا تھا : شاید وہ ایسے مقام پر کھڑا ہو جو تمہیں پسند ہو۔ جب سہیل بن عمرو (رض) مقام ” شنو کہ پہنچے اور وہ مالک بن دخشم (رض) کے ساتھ تھے سہیل (رض) بولے : میں قضائے حاجت کے لیے جانا چاہتا ہوں لہٰذا میرا راستہ چھوڑدوں چنانچہ مالک (رض) ان کے قریب ہی کھڑے ہوگئے سہیل (رض) کہتے ہیں : اس پر میری طبیعت سخت منقیض ہوئی اور مجھے غصہ آگیا ، مالک (رض) پیچھے ہٹ گئے اور سہیل (رض) نے موقع فرار مناسب سمجھتے ہوئے سیدھے آگے نکل گئے جب سہیل (رض) کافی تاخیر کردی اور واپس نہ لوٹے تو مالک معاملہ جانچ گئے اور لوگوں میں ان کے بھاگ جانے کا اعلان کردیا صحابہ (رض) ان کی تلاش میں چل پڑے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود بھی ان کی تلاش میں نکل گئے اور اعلان کردیا : جو بھی اسے پائے وہ اسے قتل کردے چنانچہ سہیل (رض) کو خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پکڑلیا سہیل (رض) ببول کے درختوں میں چھپے بیٹھے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ہاتھ گردن سے باندھ دینے کا حکم دیا اور پھر انھیں اپنی سواری کے ساتھ ساتھ پیدل چلنے کا حکم دیا ، حتیٰ کہ جب مدینہ پہنچے اسامہ بن زید (رض) سے ملاقات ہوئی مجھے اسحاق بن حازم نے عبیداللہ بن مقسم کے واسطہ سے جابربن عبداللہ (رض) کی روایت سنائی ہے جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت سنائی ہے جابر (رض) کہتے ہیں : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اسامہ بن زید (رض) سے ملاقات ہوئی دراں حالیکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی قصوی نامی اونٹنی پر سوار تھے آپ نے اسامہ (رض) کو اپنے آگے سوار کرلیاجب کہ سہیل (رض) کے ہاتھ گردن سے بندھے ہیں تھے اور پیدل چل رہے تھے جب اسامہ (رض) نے سہیل (رض) کی طرف دیکھاتو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابویزید ! عرض کیا جی ہاں فرمایا : یہ وہی شخص ہے کہ جو میں روٹیاں کھاتا تھا۔ (رواہ العقیلی) فائدہ :۔۔۔ شنو کہ نامی جگہ سقبا اور ملل کے درمیان بدر کے قریب ایک پہاڑ ہے۔
37137 (مسند علي) الواقدي حدثني أبو بكر وإسماعيل ابن محمد عن أبيه عن عامر بن سعد عن أبيه قال : رميت يوم بدر سهيل بن عمرو فقطعت علياه فاتبعت أثر الدم حتى وجدته قد أخذه مالك بن الدخشم وهو آخذ بناصيته فقلت : أسيري رميته ، فقال مالك : أسيري أخذته فأتيا رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فأخذه منهما جميعا ، فأفلت بالروحاء من مالك بن الدخشم ، فصاح في الناس فخرج في طلبه ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : من وجده فليقتله ، فوجده النبي صلى الله عليه وسلم نفسه فلم يقتله ، قال الواقدي : لما أسر سهيل بن عمرو قال عمر : يا رسول الله انزع ثنيته يدلع لسانه فلا يقوم عليك خطيبا أبدا ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا أمثل فيمثل الله بي وإن كنت نبيا ولعله يقوم مقاما لا تكرهه ، فقام سهيل بن عمرو حين بلغه وفاة النبي صلى الله عليه وسلم بخطبة أبي بكر كأنه كان يسمعها ، فقال عمر حين بلغه كلام سهيل : أشهد أنك رسول الله حيث قال النبي صلى الله عليه وسلم : لعله يقوم مقاما لا تكرهه ، وكان سهيل بن عمرو لما كان بشنوكة كان مع مالك بن الدخشم فقال : خل سبيلي للغائط ، فقام به فقال سهيل : إني أحتشم ، فاستأخر عنه ومضي سهيل على وجهه ، فلما أبطأ سهيل على مالك بن الدخشم أقبل فصاح في الناس ، فخرجوا في طلبه وخرج النبي صلى الله عليه وسلم في طلبه فقال : من وجده فليقتله ، فوجده رسول الله صلى الله عليه وسلم نفسه بين سمرات ، فأمر به فربطت يداه إلى عنقه ثم قرنه إلى راحلته فلم يركب خطوة حتى قدم المدينة فلقي أسامة بن زيد. فحدثني إسحاق بن حازم عن عبيد الله بن مقسم عن جابر بن عبد الله قال : لقي رسول الله صلى الله عليه وسلم أسامة بن زيد ورسول الله صلى الله عليه وسلم على راحلته القصوى فأجلسه رسول الله صلى الله عليه وسلم بين يديه وسهيل مجنوب يداه إلى عنقه فلما نظر أسامة إلى سهيل قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أبو يزيد ؟ قال : نعم ، هذا الذي كان يطعم الخبز بمكة (عق ، شنوكة ماء بين السقيا وملل جبل قريب من بدر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن تمیم سکونی (رض)
٣٧١٣٧۔۔۔” مسند سعد (رض) “ عثمان بن سعد دمشقی بلال بن سعد روایت نقل کرتے ہیں کہ سعد (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پایا ہے اور کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا فرمائی۔ (رواہ ابن عساکر)
37138- "مسنده" عن عثمان بن سعد الدمشقي أنه سمع بلال بن سعد وكان سعد قد أدرك النبي صلى الله عليه وسلم، ويقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم مسح رأسه ودعا له. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سعد بن تمیم سکونی (رض)
٣٧١٣٨۔۔۔ عمر وبن قاری روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ مکرمہ تشریف لائے آپ نے سعد (رض) کو اپنے پیچھے مریض چھوڑ دیا جب آپ جعرانہ سے عمرہ کے لیے مکہ داخل ہوئے سعد (رض) سخت تکلیف میں تھے عرض کیا : یارسول اللہ ! میرا کافی سارا مال ہے لیکن میں وراثت کے اعتبار سے کلالہ ہوں ۔ (یعنی میرے ماں باپ اور اولاد نہیں ہے) کیا میں اپنے مال کی وصیت کروں یا صدقہ کردوں “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں سعد (رض) نے عرض کیا : ایک تہائی مال صدقہ کردوں ؟ فرمایا : جی ہاں اور یہ بھی زیادہ ہے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں مہاجر تھا اور اب مدینہ میں نہیں ہوں۔ (کیا میری ہجرت میں کمی تو نہیں آئے گی) آپ نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ سے امید کرتا ہوں کہ وہ تمہیں بلند مقام عطا فرمائے گا تماری وجہ سے بہت ساری اقوام کو ذلیل کرے گا اور بہت ساری اقوام کو تم سے نفع پہنچائے گا اے عمروبن قاری ! جب سعد مرجائے اسے یہیں مدینہ کے راستے میں دفن کرنا۔ آپ نے ہاتھ سے اشارہ کرکے جگہ کی تعیین کی۔ (رواہ ابن عساکر)
37139- عن عمرو بن القارى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قدم مكة وخلف سعدا مريضا حين خرج إلى حنين. فلما قدم من جعرانة معتمرا دخل عليه وهو وجع مغلوب فقال: يا رسول الله! إن لي مالا وإني أورث كلالة1 أفأوصي بمالي أو أتصدق؟ قال: لا، قال: فأوصي بثلثه؟ قال: نعم، قال: وذلك كثير، قال: أي رسول الله صلى الله عليه وسلم! أموت أنا بالدار التي خرجت منها مهاجرا؟ قال: إني لأرجو أن يرفعك الله فينكأ بك أقوام وينتفع بك آخرون! يا عمرو بن القارى! إذا مات سعد بعدي فههنا ادفنه عن طريق المدينة - وأشار بيده. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سیمویہ بلقائی (رض)
٣٧١٣٩۔۔۔ منصور بن صبیح ابیع بن صبیح کے بھائی سیماہ یاسیمویہ سے روایت نقل کرتے ہیں سیمویہ (رض) کہتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے اور آپ کے منہ مبارک سے میرے کانوں نے باتیں سنی ہیں، ہم بلقاء سے گندم لے کر گئے تھے تاکہ مدینہ میں بیچ دیں اور وہاں سے کھجوریں خریدلائیں۔ لیکن لوگوں نے کھجوروں دے انکار کردیا۔ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو خبر دی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکار کرنے والوں سے فرمایا : کیا تمہیں یہ سستا غلہ کافی نہیں جو یہ اٹھا کر لائے ہیں مہنگی کھجوروں کے بدلہ میں ؟ انھیں چھوڑدو۔ سیمویہ (رض) اہل بلقاء میں سے تھے، غالی قسم کے نصرانی تھے پھر اسلام قبول کیا اور ان کا اسلام اچھا رہا اور ایک سوبیس (١٢٠) سال تک زندہ ہے۔ (رواہ اببن مندہ وابن عساکر)
37140- عن منصور بن صبيح أخي الربيع بن صبيح قال: حدثني سيماه أوسيمويه قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم وسمعت من فيه إلى أذني وحملنا القمح من البلقاء إلى المدينة فبعنا وأردنا أن نشتري تمرا من تمر المدينة فمنعونا، فأتينا النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرناه فقال النبي صلى الله عليه وسلم للذين منعونا: أو ما يكفيكم رخص هذا الطعام فيكم بغلاء هذا التمر الذي يحملونه؟ ذروهم يحملونه، وكان سيمويه من أهل البلقاء نصرانيا شماسا أسلم فحسن إسلامه وعاش مائة وعشرين سنة."ابن منده، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سائب بن یزید (رض)
٣٧١٤٠۔۔۔ جعیدبن عبدالرحمن کہتے ہیں : حضرت سائب بن یزید (رض) نے چورانوے (٩٤) سال کی عمر میں وفات پائی تادم حیات معتدل اور تگڑے رہے حضرت سائب (رض) فرماتے ہیں : میں جانتا ہوں کہ میں نے اپنے کانوں اور آنکھوں سے کتنا نفع اٹھایا ہے یہ سب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کی بدولت ہے۔ چنانچہ میری خالہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے گئیں اور عرض کیا : میرے اس بھانچے کو شکایت رہتی ہے اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے دعا کریں۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے دعا فرمائی ۔ (رواہ الحسن بن سفیان وابن عساکر)
37141- "مسنده" عن الجعيد بن عبد الرحمن قال: مات السائب بن يزيد وهو ابن أربع وتسعين سنة وكان جلدا معتدلا وقال : قد علمت ما متعت به من سمعي وبصري إلا بدعاء رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ذهبت بي خالتي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت : إن ابن اختي شاك فادع الله له ، فدعا لي (الحسن بن سفيان ، كر).
tahqiq

তাহকীক: