কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭১৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سائب بن یزید (رض)
٣٧١٤١۔۔۔ عطاء مولائے سائب بن یزید (رض) روایت نقل کرتے ہیں کہ سائب (رض) کے سر کا درمیانی حصہ سیاہ اور باقی ماندہ حصہ اور داڑھی سفید تھی میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو سائب (رض) سے فرمایا : میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس سے گزرے میں نے آپ کو سلام کیا آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا : تو کون ہے ؟ میں نے عرض کیا : میں سائب بن یزید غربن قاسط کا بھانجا ہوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے سر پر دست شفقت پھیرا اور فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا فرمائے۔ تب سے میرے سر کے یہ بال سفید نہیں ہوئے۔ (رواہ ابن عساکر
37142 عن عطاء مولى السائب بن يزيد قال : كان وسط رأس السائب أسود وبقية رأسه ولحيته أبيض فقلت له ، قال : إني كنت مع الصبيان ألعب فمر بي النبي صلى الله عليه وسلم فعرضت له فسلمت عليه فقال : وعليك ، من أنت ؟ قلت : أنا السائب بن يزيد ابن أخت النمر بن قاسط ، فمسح رسول الله صلى الله عليه وسلم رأسي وقال : بارك الله فيك ، فهو لا يشيب أبدا (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سوید بن غفلہ (رض)
٣٧١٤٢۔۔۔ حضرت سوید بن غفلہ (رض) رضی عنہ کہتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہمعصر ہوں چنانچہ میری پیدائش بھی ہاتھیوں والے سال (عام الفیل) میں ہوئی۔ (رواہ یعقوب سفیان وابن عساکر)
37143- عن سويد بن غفلة قال: أنا لدة رسول الله صلى الله عليه وسلم ولدت عام الفيل. يعقوب بن سفيان، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت سفینہ (رض)
٣٧١٤٣۔۔۔” مسند احمد مولی ام سلمہ (رض) عمران بجلی ، احمر مولائے ام سلمہ (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : ہم ایک غزوۃ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے ہم ایک وادی سے گزرے میں نے زیادہ سے زیادہ آنا جانا شروع کردیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : بلاشبہ تم تو آج ایک سفینہ (کشتی) کی مانند ہو۔ (رواہ الحسن بن سفیان وابن مندہ والمالینی فی المؤلف و ابونعیم)
37144- "مسند أحمر مولى أم سلمة" عن عمران البجلي عن أحمر مولى أم سلمة قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في غزاة فمررنا بواد ، فجعلت أعير الناس فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم : ما كنت في هذا اليوم إلا سفينة (الحسن بن سفيان وابو منده والماليني في المؤلف وأبو نعيم).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف صاد۔۔۔ حضرت صفوان بن معطل (رض)
٣٧١٤٤۔۔۔” مسند سعد بن عبادہ “ حسن کی روایت کہ سعد (رض) فرماتے ہیں : ہم ایک سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے ہمارے پاس تھوڑی سی کھجوریں تھیں صفوان بن معطل (رض) میرے پاس آئے اور کہا : مجھے یہ کھجوریں کھلاؤ میں نے عذر کیا کہ یہ تھوڑی سی کھجوریں ہیں نہ معلوم کب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کھجوریں منگوالیں ، جب صحابہ (رض) کسی جگہ پڑاؤ کریں گے وہ ان کھجوریں کھائیں گے تم بھی ان کے ساتھ مل کر کھا لینا صفوان (رض) بولے : مجھے بھوک نے بہت ستایا ہے لہٰذا کھجوریں کھلاؤ میں نے کھجوریں دینے سے انکار کردیا۔ صفوان (رض) نے تلوار اٹھائی اور اس اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں جس پر کھجوریں لادی ہوئی تھیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر ہوئی آپ نے فرمایا : صفوان پوری رات صحابہ (رض) کے پاس چکر لگائے رہے بالاآخر حضرت علی (رض) کے پاس پہنچے اور ان سے بوچھا میں کہاں جاؤں ؟ کیا میں کفر کی طرف چلاجاؤں۔ حضرت علی (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور انھیں خبر کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صفوان سے کہو : ساتھ مل جائے۔ (رواہ الشافی وابن عساکر)
37145- "مسند سعد بن عبادة" عن الحسن قال قال سعد: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في مسير ومعنا شيء من تمر فجاءني صفوان ابن المعطل فقال لي: أطعمني من هذا التمر، فقلت: إنه تمر قليل، ولست آمن أن يدعو به - أراد النبي صلى الله عليه وسلم - فإذا نزلوا فأكلوا أكلت معهم، فقال: أطعمني فقد أهلكني الجوع، فأبيت عليه، فأخذ السيف فعقر الراحلة التي عليها التمر، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال: قولوا لصفوان فليذهب، فلما نزلوا لم يبت تلك الليلة يطوف في أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم حتى أتى عليا فقال: أين أذهب؟ أذهب إلى الكفر؟ فأتى علي النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره بذلك فقال: قولوا لصفوان: فليلحق. الشاشي، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف صاد۔۔۔ حضرت صفوان بن معطل (رض)
٣٧١٤٥۔۔۔ حسن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک صحابی (ابن عوف کہتے ہیں ان کا نام سفینہ ہے) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سفر میں تھے سفینہ (رض) کی سواری پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زادراہ رکھا ہوا تھا اتنے میں حضرت صفوان بن معطل (رض) آئے اور کہا میں بھوکا ہوں سفینہ (رض) نے کہا : میں تمہیں کچھ نہیں دوں گا یہاں تک کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے حکم نہ دے دیں اور جہاں لوگ پڑاؤ کریں گے تم بھی ان کے ساتھ مل کر کھا لینا صفوان (رض) نے تلوار کی طرف اشارہ کیا اور اونٹنی کی کونچ کاٹ ڈالی اتنے میں صحابہ (رض) نے رک جاؤ رک جاؤ کی آوازسنی صحابہ (رض) فورا رک گئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب تشریف لائے اور دیکھا تو فرمایا : نکل جا۔ جب کہ صحابہ (رض) کو کوچ کرنے کا حکم دیا صفوان (رض) نے قافلہ کے پیچھے رہنا شروع کردیا حتیٰ کہ ایک جگہ صحابی نے پڑاؤ ڈالا صفوان (رض) صحابہ (رض) کے کجادوں کا چکر لگانے لگے اور کہتے جاتے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کہاں نکالا ہے۔ کیا دوزخ کی طرف نکالا ہے ؟ صحابہ (رض) نے آکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر کی کہ یا رسول اللہ ! آج پوری رات صفوان بن معطل ہمارے کجادوں کا چکر لگاتا رہا اور کہتا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کہاں نکالا ہے ؟ کیا دوزخ کی طرف مجھے نکالا ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صفوان بن معطل زبان کا گندا ہے لیکن دل کا پاک ہے۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)
37146- عن الحسن عن صاحب النبي صلى الله عليه وسلم قال - ابن عوف: كان يسمى سفينة - أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في سفر وراحلته عليها زاد النبي صلى الله عليه وسلم، فجاء صفوان بن المعطل فقال، إني قد جعت، قال: ما أنا بمطعمك حتى يأمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم وينزل الناس فتأكل، فقال هكذا بالسيف وكشف عرقوب الراحلة، وكان إذا حزبهم أمر قالوا: احبس أول، فسمعوا فوقفوا وجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما رأى ما صنع صفوان بن المعطل بالراحلة قال له: اخرج، وأمر الناس أن يسيروا، فجعل صفوان بن المعطل يتبعهم حتى نزلوا، فجعل يأتيهم إلى رحالهم ويقول: إلى أين أخرجني رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ إلى النار أخرجني؟ فأتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: يا رسول الله! ما زال صفوان يتجوب رحالنا منذ الليلة ويقول: إلى أين أخرجني رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ إلى النار أخرجني؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن صفوان بن المعطل خبيث اللسان طيب القلب. "ع، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صہیب (رض)
٣٧١٤٦۔۔۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : صہیب (رض) اچھا بندہ ہے اگر اسے اللہ کا خوف نہ ہوتا معصیت میں نہ پڑتا۔ (رواہ ابوعبید فی الغریب) کلام :۔۔۔ مصنف کہتے ہیں یہ حدیث ابوعبید نے العزیب میں ذکر کی ہے لیکن، اس کی اسناد بیان نہیں کی متاخرین نے ذکر کیا ہے کہ حفاظ ، محدثین کرام اس حدیث کی اسناد سے واقف نہیں ہیں یہ حدیث اگرچہ اس کتاب کی شرط کے مطابق نہیں تاہم پھر بھی میں نے اس لیے ذخر کردی ہے کہ یہ حدیث ابوعبدہ نے ذکر کی ہے کہ ابوعبید اس دور کے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اتباع کو پایا ہے ظاہر یہی ہے کہ ابوعبید کو اس حدیث کی سند پہنچی ہے بہرحال میں نے اس کتاب میں ایسی کوئی حدیث ذکر نہیں کی جس کی سند سے مجھے واقفیت نہیں ہوئی سوائے اس حدیث کی۔

حدیث ضعیف ہے دیکھئے الاتقان : ٢٢٠٣ والا سرارالمرفوعۃ ٥٦٤۔
37147- عن عمر قال: نعم العبد صهيب لو لم يخف الله لم يعصه."أورده أبو عبيد في الغريب ولم يسبق إسناده، وقد ذكر المتأخرون من الحفاظ أنهم لم يقفوا على إسناده، وإنما ذكرته هنا،وإن كان ليس من شرط الكتاب لشهرته ولأنبه على أن أبا عبيد أورده، وأبو عبيد من الصدر الأول قريب العهد أدرك أتباع التابعين، والظاهر أنه وصل إليه إسناده، ولم أذكر في هذا الكتاب شيئا لم أقف على إسناده سوى هذا – فقط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صہیب (رض)
٣٧١٤٧۔۔۔ زید بن اسلم سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے صہیب (رض) سے فرمایا : اگر تم میں تین خصلتیں نہ ہوتیں تو تمہارے اندر کوئی نقص نہ ہوتا، صہیب (رض) نے کہا : وہ کیا میں جب کہ اللہ کی قسم ہم نے آپ کو کسی چیز پر عیب لگاتے نہیں دیکھا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تمہارا ابویحیی کی کنیت اختیار کرنا حالانکہ تمہارا کوئی بیٹا نہیں، تمہارا غربن قاسط کی طرف نسبت کرنا اور یہ کہ تم فضول خرچی کرتے ہو، صہیب (رض) نے فرمایا : رہی بات کہ میں نے ابویحیی کی کنت اختیار کی ہے سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اسی کنیت سے پکارا ہے میں اسے نہیں چھوڑسکتا تاوقتیکہ آپ سے میری ملاقات ہوجائے۔ رہی یہ بات کہ میں نے اپنے آپ کو نمربن قاسط کی طرف منسوب کیا ہے سو میں اسی قبیلہ میں سے ہوں اور ایلہ میں میں نے دودھ نہیں پیاپس یہ اسی وجہ سے ہے رہی بات مال خرچ کرنے کی سو آپ نے مجھے کبھی خرچ کرتے نہیں دیکھا ہوگا مگر حق میں حرچ کرتے۔۔ (رواہ احمد بن حنبل وابن عساکر ووصلہ ابن عساکر من طریق زید بن اسلم عن ابیہ)
37148- عن زيد بن أسلم أن عمر بن الخطاب قال لصهيب: لولا ثلاث خصال فيك لم يكن بك بأس، قال: وما هن؟ فوالله ما نراك تعيب شيئا، قال: اكتناؤك بأبي يحيى وليس لك ولد، وادعاؤك إلى النمر بن قاسط وأنت رجل ألكن1، وإنك لا تمسك المال، قال: أما اكتنائي بأبي يحيى فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم كناني بها فلا أدعها حتى ألقاه، وأما ادعائي إلى النمر بن ساقط فإني رجل منهم ولن استرضع لي بالإيلة فهذه من ذاك، وأما المال فهل تراني انفق إلا في حق."حم، كر" ووصله "كر" من طريق زيد بن أسلم عن أبيه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صہیب (رض)
٣٧١٤٨۔۔۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت صہیب (رض) سے فرمایا : اے صہیب تمہارے اندر تین خصلیتں ہیں جنہیں میں باپسند کرتا ہوں۔ صہیب (رض) نے کہا وہ کیا ہیں ؟ عمر (رض) نے فرمایا : تمہارا کھانا کھلانا جب کہ تمہارے پاس مال نہیں۔ تمہارا کنیت کا استعمال کرنا جب کہ تمہاری اولاد نہیں اور تمہارے اپنے آپ کو عربوں کی طرف منسوب کرنا حالانکہ تمہارا ی زبان میں لکنت ہے صہیب (رض) نے کہا : رہا یہ کہ میں کھانا کھلاتا ہوں سو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے تم میں سب سے افضل وہ ہے جو دوسروں کو کھانا کھلائے ۔ اللہ کی قسم میں یہ چیز ہرگز نہیں چھوڑسکتا ، رہی بات کہ میں کنیت استعمال کرتا ہوں سو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا : کیا تمہاری اولاد ہے ؟ میں نے عرض کیا : نہیں آپ نے فرمایا : ابویحیی کنیت کرو۔ رہی بات کہ میں اپنے آپ کو عربوں کی طرف منسوب کرتا ہوں حالانکہ میری زبان میں لکنت ہے سو میں صہیب بن سنان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بن نمر بن قاسط ہوں میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتا تھا رومیوں نے غار تگری ڈالی اور مجھے لیتے گئے پھر انھوں نے مجھے اپنی زبان سکھلائی میری لکنت کی یہی وجہ ہے۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)
37149- عن جابر بن عبد الله قال قال عمر لصهيب: يا صهيب! إن فيك خصالا ثلاثا أكرهها لك، قال: وما هي؟ قال: إطعامك الطعام ولا مال لك، واكتناؤك ولا ولد لك، وادعاؤك إلى العرب وفي لسانك لكنة، قال: أما ما ذكرت من طعامي الطعام فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أفضلكم من أطعم الطعام، وايم الله! لا أترك إطعام الطعام أبدا، وأما اكتنائي ولا ولد لي فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لي: يا صهيب! قلت: لبيك، قال: ألك ولد؟ قلت: لا، قال: أكتن بأبي يحيى، وأما ما ذكرت من ادعائي إلى العرب وفي لساني لكنة، فأنا صهيب بن سنان - حتى انتسب إلى النمر بن قاسط، كنت أرعى على أهلي وإن الروم أغارت فسرقتني فعلمتني لغتها فهو الذي ترى من لكنتي. "ع، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صہیب (رض)
٣٧١٤٩۔۔۔ صہیب (رض) کہتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہونے سے قبل آپ کی صحبت میں رہا ہوں۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)
37150- عن صهيب قال: صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل أن يوحى إليه. "عد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صہیب (رض)
٣٧١٥٠۔۔۔ صہیب (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) ایک قیدی کے ساتھ گزرے تاکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے لیے امان طلب کریں جب کہ صہیب (رض) مسجد میں تشریف فرما تھے : انھوں نے حضرت ابوبکر (رض) سے کہا : آپ کے ساتھ یہ کون ہے ؟ ابوبکر (رض) نے جواب دیا : یہ میرا قیدی ہے اور مشرک ہے میں اس کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے امن طلب کرنے جارہا ہوں صہیب (رض) نے کہا : اس کی گردن میں تلوار کی جگہ ہے (یعنی اسے تو قتل کیا جائے گا) سن کر ابوبکر (رض) سخت غصہ ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کو دیکھ کر فرمایا : غصہ کیوں ہورہے ہیں ابوبکر (رض) نے کہا : میں اپنے اس قیدی کو لیے صہیب کے پاس سے گزرا صہیب نے کہا : اس شخص کی گردن میں تلوار زنی کی جگہ ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہوسکتا ہے تم نے صہیب کو اذیت پہنچائی ہو۔ ابوبکر (رض) نے کہا : اللہ کی قسم نہیں : فرمایا : اگر تم نے اسے اذیت پہنچائی ہوتی بلاشبہ تم اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاتے۔ (رواہ ابن عساکر)
37151- عن صهيب أن أبا بكر مر بأسير له يستأمن له من رسول الله صلى الله عليه وسلم وصهيب جالس في المسجد فقال لأبي بكر: من هذا الذي معك؟ قال: أسير لي من المشركين أستأمن له من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال صهيب: لقد كان في عنق هذا موضع للسيف، فغضب أبو بكر، فرآه النبي صلى الله عليه وسلم فقال: ما لي أراك غضبان؟ قال: مررت بأسيري هذا على صهيب فقال: لقد كان في رقبة هذا موضع للسيف فقال النبي صلى الله عليه وسلم: فلعلك آذيته! فقال: لا والله، فقال: لو آذيته لآذيت الله ورسوله."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صہیب (رض)
٣٧١٥١۔۔۔ حضرت صہیب (رض) کہتے ہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب بھی کسی جنگ میں حصہ لیا میں آپ کے ساتھ ضرور حاضر رہا۔ آپ نے جو بیعت بھی کی اس میں ضرور حاضر ہوا آپ نے جو سر یہ بھی بھیجا میں اس میں بھی حاضر رہا۔ آپ نے شروع یا آخر میں جو غزوہ بھی کیا میں آپ کے دائیں یا بائیں ضرور رہا ہوں۔ مجاہد ین نے جب بھی آپ کے آگے خوف محسوس کیا تو میں آگے ہوگیا اور اگر پیچھے سے خوف محسوس کیا تو میں پیچھے ہوگیا۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے دشمن کے درمیان کبھی نہیں رکھاحتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوگئے۔ (رواہ ابن عساکر)
37152- عن صهيب قال: لم يشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم مشهدا قط إلا كنت حاضره، ولم يبايع بيعة قط إلا كنت حاضرها، ولم يسر سرية قط إلا كنت حاضرها، ولا غزا غزاة قط أول الزمان وآخره إلا كنت فيها عن يمينه أو شماله، وما خافوا أمامهم قط إلا كنت أمامهم ولا ما وراءهم إلا كنت وراءهم، وما جعلت رسول الله صلى الله عليه وسلم بيني وبين العدو قط حتى توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صہیب (رض)
٣٧١٥٢۔۔۔ سلیمان بن ابی عبداللہ کی روایت ہے کہ صہیب (رض) کو میں نے فرماتے سنا : اللہ کی قسم میں تمہیں جان بوجھ کر یوں حدیثیں نہیں سناؤں گا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : لیکن میرے پاس آؤ میں تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مغازی (معرکے) کے حوال بتاؤں جن میں میں شریک رہا اور جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا رہی یہ بات کہ میں کہوں : قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ایسا نہیں ہوسکتا۔
37153- عن سليمان بن أبي عبد الله قال: سمعت صهيبا قال: والله لا أحدثكم تعمدا أقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولكن تعالوا أحدثكم عن مغازيه ما شهدت وما رأيت، أما أن أقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فلا."ابن سعد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف ضاد۔۔۔ حضرت ضرار بن خطاب (رض)
٣٧١٥٣۔۔۔” مسند عمر (رض) “ ابوبکر احمد بن یحییٰ بلاذری کہتے ہیں : حضرت ضرار بن خطاب بن مرد اس فہری (رض) ” سرات “ نامی جگہ میں تھے قبیلہ دوس کے لوگوں نے انھیں قتل کرنے کے لیے چڑھائی کردی ضرار (رض) بھاگنے میں کامیاب ہوگئے اور ایک عورت جسے ام جمیل کہا جاتا تھا کے گھر داخل ہوگئے آپ کا پیچھا کرتا ہوا ایک شخص وہاں جاپہنچا تلوار سے ایک وار کیا اور تلوار کے دندانے دروازے سے ٹکڑائے ام جمیل آڑ سن کر دروازے میں کھڑی ہوگئی اور بھرپور دفاع کرنے لگی پھر اپنی قوم کو آواز دی قوم نے آکر لوگوں کو پیچھے ہٹادیا جب حضرت عمر (رض) خلیفہ بنے ام جمیل سمجھیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) ضرار بن خطاب (رض) کے بھائی ہیں ام جمیل مدینہ آگئیں اور واقعہ آپ (رض) کے گوش گزار کیا عمر (رض) نے فرمایا : میں اس کا بھائی نہیں ہوں البتہ تمہارے درمیان اسلام کا رشتہ ہے وہ اس وقت شام میں جو اہرشجاعت دکھا رہے ہیں میں ہمارے احسان کا اعراف کرتا ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے ام جمیل کو مسافرہ سمجھ کر عطیات دیئے۔ (رواہ ابن عساکر)

فائدہ :۔۔ حضرت ضرار بن خطاب بن مرداس (رض) کو نصیحت کا شرف حاصل ہے عظیم شہسوار اور شجاع تھے جنگ یمامہ

میں شہید ہوئے دیکھے الاصابہ الابن حجر ٢٠٩٢۔
37154- "مسند عمر" عن أبي بكر أحمد بن يحيى البلاذري قال: كان ضرار بن الخطاب بن مرداس الفهري بالسراة فوثبت دوس عليه ليقتلوه، فسعى حتى دخل بيت امرأة يقال لها

أم جميل، واتبعه رجل لضربه فوقع ذباب السيف على الباب، وقامت في وجوههم فذبتهم، ونادت قومها فمنعوه لها، فلما استخلف عمر بن الخطاب ظنت أنه أخوه فأتت المدينة، فلما كلمته عرف القصة فقال: لست بأخيه إلا في الإسلام وهو غاز بالشام وقد عرفت منتك عليه، فأعطاها على أنها ابنة السبيل. "كر
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ضرار بن ازور (رض)
٣٧١٥٤۔۔۔” مسند ضرار (رض) “ حضرت ضرار (رض) فرماتے ہیں : میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا (یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) ہاتھ بڑھائیں میں اسلام پر بیعت کرتا ہوں میں نے آپ کے دست اقدس پر بیعت کی اور اسلام قبول کرلیا میں نے یہ اشعار کہے :

ترک القداح وعزف القیا

ن والخمر اشربھا والشمالا

وکسی المجرفی غمرۃ

وحملی علی المسلمین القتالا

فسارب لااغنن صفقتی

فقد بعت اھلی ومالی ابتذالا

میں نے جام لہولہب کے آلات اور شراب نوشی جیسی بری عادتیں سب ترک کردی ہیں میری خوگپی اور مسلمانوں پر حملے کا خاتمہ ہوچکا ہے اے میرے رب میں نے خسارے والا سودا نہیں کیا میں نے اپنے اہل اور مال کو فی الفوربیچ ڈالا ہے۔

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاشبہ تم نے خسارے والا سودا نہیں کیا اے ضرار اللہ تعالیٰ تمہارے سودے میں خسارہ نہ لائے۔ (رواہ ابن عساکر (
37155- "مسنده" قال أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: أمدد يدك أبايعك على الإسلام فبايعته وأسلمت ثم قال:

تركت القداح وعزف القيان ... والخمر أشربها والثمالا

وكسري المحبر في غمرة. ... وحملي على المسلمين القتالا

فيا رب لا أغبنن صفقتي. ... فقد بعت أهلي ومالي ابتذالا

فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ما غبنت صفقتك - وفي لفظ: ما أغبن الله صفقتك يا ضرار.

"كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ضرار بن ازور (رض)
٣٧١٥٥۔۔۔” ایضا “ حضرت ضرار بن ازور (رض) کہتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھڑا ہوا اور عرض کیا : یارسول اللہ ! کیا میں اپنے اشعار آپ کو نہ سناؤں ؟ فرمایا ضرور سناؤں میں نے اشعار کہے۔

خلعت العزاف وضرب القیا ان اوالخمرتصلیۃ وابتھا لا

میں نے لہو ولعب کے آلات اور شراب نوشی سے دست کشید کرلیا ہے اور عجز و انکساری اپنائی ہے۔

وکری المحبرفی غمرۃ وشدی علی المسلمین القتالا

میرا حملہ جو دھوکا تھا ختم ہوچکا اور مسلمانوں سے میری لڑائی کا خاتمہ ہوا۔

فیارب الااغینن بیعتی قدبعت اھلی ومالی ابتذالا

اے میرے رب میری بیعت کو خسارہ میں نہ رکھنا میں نے اپنے اہل ومال کو فی الفور بیچ دیا ہے۔

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری بیع نفع بخش ہے تمہاری بیع نفع بخش ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37156- "أيضا" وقفت بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله! ألا أنشدك شعرا قلته؟ قال: بلى، فأنشدته:

خلعت العزاف وضرب القيان ... والخمر تصلية وابتهالا

وكري المحبر في غمرة. ... وشدي على المسلمين القتالا

فيا رب لا أغبنن بيعتي. ... قد بعت أهلي ومالي ابتذالا

فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ربح البيع ربح البيع. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ضحاک بن سفیان (رض)
٣٧١٥٦۔۔۔ مولہ بن کنیف کی روایت ہے کہ حضرت ضحاک بن سفیان کلابی (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تیغ زن (گاڑ) تھے تلوار نکالے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سرکے پاس کھڑے رہتے بنوسلیم کی تعداد ٩٠٠(نوسو) کے لگ بھگ تھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہیں ایسا شخص چاہے جو ایک سو کے برابر ہو ؟ چنانچہ آپ نے ضحاک بن سفیان (رض) کو پیش کیا جب واپس لوٹے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عباس بن مرداس (رض) سے فرمایا : میری قوم کو کیا ہوا ؟ وہ ان کے قتل کا ارادہ رکھتا ہے تمہاری قوم کو کیا ہوا وہ ان کا دفاع کرنا چاہتا ہے۔ عباس (رض) نے یہ اشعار کہے :

نذودا خاناعن اخیناولونری

مھرالکنا الاقربین نتابع

نبایع بین الا خشبین وانما

یداللہ بین الاخشبین بتایع

عشیۃ ضحاک ب سفیان معتص

بسیف رسول اللہ والموت کا نع

ہم اپنے بھائی کو اپنے ہی دوسرے بھائی سے پیچھے ہٹا رہے ہیں اگرچہ ہم کوئی برانگیختہ کرنے والا دیکھتے ہیں لیکن اقرباء کے پیچھے چلتے ہیں ہم نے دو قبیلوں کے درمیان بیعت کی ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھی دونوں قبیلوں پر ہے رات کو ضحاک بن سفیان نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلوار سے غلطی کردی جب کہ موت قریب کھڑی تھی۔ (رض)
37157- عن موله بن كنيف1 أن الضحاك بن سفيان الكلابي كان سيافا لرسول الله صلى الله عليه وسلم قائما على رأسه متوشحا سيفه، بنو سليم في تسعمائة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هل لكم في رجل يعدل مائة يوفيكم ألفا؟ فوفاهم بالضحاك بن سفيان، فلما أفلوا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للعباس بن مرداس: ما لقومي كذا؟ يريد قتلهم، وما لقومك كذا؟ يريد يدفع عنهم، فقال العباس:

نذود أخانا عن أخينا ولو نرى. ... مهرا لكنا الأقربين نتابع

نبايع بين الأخشبين وإنما. ... يد الله بين الأخشبين تبايع

عشية ضحاك بن سفيان معتص. ... بسيف رسول الله والموت كانع

"كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ضمادازدی
٣٧١٥٧۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ قبیلہ ” ازسشنوءہ “ میں ضماد نامی آدمی تھا وہ جھاڑ پھونک کا کام کرتا تھا جب وہ مکہ آیا تو اس نے اہل مکہ کو سنا کہ وہ کہہ رہے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجنون ہیں ضماد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا میں جھاڑ پھوک کرتا ہوں اوقر دوائی بھی دیتا ہوں اگر آپ پسند فرمائیں میں آپ کو دوائی دیتا ہوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

الحمدللہ نحمدہ ونستعینہ ونومن بہ ونتوکل علیہ ونعوذ باللہ من شرورانفسنا وسیئات اعمالنا من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ھادی لہ واشھدان لاالہ الا اللہ وان محمد عبدہ ورسولہ۔

ضماد نے دربارہ خطبہ دہرانے کی پیشکش کی آپ نے خطبہ دوہرایا ضماد بولا : اللہ کی قسم ! میں نے کاہنوں جادو گروں شعراء اور بلغاء کا کلام سنا ہے اور اس جیسا کلام میں نے کبھی نہیں سنا ہاتھ بڑھائیں میں بیعت کرتا ہوں چنانچہ ضماد (رض) نے اسلام پر بیعت کرلی عرض کیا : میں اپنی قوم کی طرف سے بھی بیعت علی الاسلام کرسکتا ہوں ؟ فرمایا : اپنی قوم کی طرف سے بھی بیعت کرلو۔ اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سریہ (لشکر) بھیجا جب سریہ ضماد (رض) کے علاقہ سے گزرا تو سریہ کے امیر نے کہا : کیا تم نے کوئی چیز پائی ہے ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں چمڑے کا ایک چھوٹا سا ظرف پایا ہے امیر نے کہا : یہ ظرف بستی والوں کو واپس کردو چونکہ یہ لوگ ضماد (رض) کی قوم ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
37158- عن ابن عباس قال: كان رجل من أزد شنوءة يسمى ضمادا وكان راقيا2 فقدم مكة فسمع أهلها يسمون رسول الله صلى الله عليه وسلم مجنونا فأتاه فقال: إني رجل أرقي وأدواي، وإن أحببت دوايتك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: الحمد الله نحمده ونستعينه ونؤمن به ونتوكل عليه، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله، قال ضماد: أعد علي، فأعاد عليه، فقال: والله! لقد سمعت قول الكهنة والسحرة والشعراء والبلغاء فما سمعت مثل هذا الكلام قط! هات يدك أبايعك، فبايعه على الإسلام، فقال: وعلى قومي؟ فقال: وعلى قومك. فبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية فمروا على تلك البلاد، فقال أميرهم: هل أصبتم شيئا؟ قالوا: نعم، إداوة، قال: ردوها فإن هؤلاء قوم ضماد. "كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف طاء۔۔۔ حضرت طارق بن شھاب احمسی (رض)
٣٧١٥٨۔۔۔ طارق بن شہاب کہتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے اور ابوبکر (رض) عمر (رض) کے دور خلافت میں جہاد کیا ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل وابن مندہ وابن عساکر)
37159- عن طارق بن شهاب قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم وغزوت في خلافة أبي بكر وعمر. "حم" وابن منده، "كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت طلحہ بن براء (رض)
٣٧١٥٩۔۔۔” مسند حصین بن عوف خنعمی “ روایت ہے کہ جب حضرت طلحہ بن براء (رض) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملے تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چمٹ گئے اور آپ کے قدموں کا بوسہ لینے لگے، عرض کیا : یارسول اللہ آپ جو چاہیں مجھے حکم دیں میں کسی حکم میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا طلحہ (رض) ابھی نوجوان لڑکے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے جذبات کو دیکھ کر تعجب میں پڑگئے اور فرمایا : چلوجاؤ اپنے باپ کو قتل کرو چنانچہ طلحہ (رض) ابھی نوجوان لڑکے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے جذبات کو دیکھ کر تعجب میں پڑگئے اور فرمایا : چلوجاؤ اپنے باپ کو قتل کرو چنانچہ طلحہ (رض) حکم بجالانے کے لیے پیٹھ پھیر کر چل پڑے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طلحہ (رض) کو اپنے باپ بلایا جب وہ آپ کے پاس آگئے آپ نے فرمایا : بلاشبہ مجھے قطع رحمی کے لیے مبعوث نہیں کیا گیا ، اس کے بعد سردی اور بارش کی وجہ سے طلحہ (رض) بیمار پڑگئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی عیادت کرنے تشریف لائے اور لوگوں سے فرمایا : مجھے لگتا ہے کہ اس کی وفات قریب ہوچکا ہے لہٰذا اگر اس کی روح قبض ہوجائے مجھے ضرور اطلاع کرتا تاکہ میں اس کی نماز جنازہ پڑھاؤں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابھی بنی سالم کے محلہ تک بھی نہیں پہنچے تھے کہ طلحہ (رض) نے جان جان آفریں کے سپرد کردی اور بوقت وفات کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع مت کروچونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہودی کوئی گزندنہ پہنچائیں رات کی سخت تاریکی ہے لہٰذا مجھے فی الفوردفن کردینا تاکہ میں اپنے رب سے جاملوں ۔ چنانچہ صبح کو جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع کی گئی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طلحہ (رض) کی قبر پر تشریف لائے خود آگے کھڑے ہوئے اور اپنے پیچھے صحابہ (رض) کی صف بنائی اور یوں قبر پر نماز جنازہ ادا کی جب فارغ ہوئے تو دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی : یا اللہ ! طلحہ سے ملاقات کر بایں طور کہ توا سے دیکھ کر ہنس رہا ہو اور وہ تجھے دیکھ کر ہنس رہا ہو۔ (رواہ الطبرانی عن حصین بن وحرح الانصاری)

طلحہ بن عبیداللہ کا ذکر عشرہ مبشرہ میں ہوچکا ہے۔
37160- "مسند حصين بن عوف الخثعمي" أن طلحة بن البراء لما لقي النبي صلى الله عليه وسلم فجعل يلصق برسول الله صلى الله عليه وسلم ويقبل قدميه، قال: يا رسول الله! مرني بما أحببت ولا أعصي لك أمرا! فعجب لذلك النبي صلى الله عليه وسلم وهو غلام فقال له عند ذلك: اذهب فاقتل أباك، فخرج موليا ليفعل، فدعاه فقال له: أقبل فإني لم أبعث بقطيعة رحم ، فمرض طلحة بعد ذلك ، فأتاه النبي صلى الله عليه وسلم يعوده في الشتاء في برد وغيم ، فلما انصرف قال لاهله : لا أرى طلحة إلا حدث فيه الموت فآذنوني به حتى أشهده وأصلي عليه وعجلوه ، فلم يبلغ النبي صلى الله عليه وسلم بني سالم بن عوف حتى توفي وجن عليه الليل ، فكان فيما قال طلحة : ادفنوني وألحقوني بربي عزوجل ولا تدعوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فإني أخاف عليه اليهود أن يصاب في سببي ، فأخبر النبي صلى الله عليه وسلم حين أصبح ، فجاء حتى وقف على قبره فصف الناس معه ثم رفع يديه فقال : اللهم الق طلحة تضحك إليه ويضحك إليك (طب ، عن حصين بن وحوح الانصاري ، طلحة بن عبيد الله مر ذكره في العشرة المبشرة)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف عین۔۔۔ حضرت عبداللہ بن جعفر (رض)
٣٧١٦٠۔۔۔ عمر وبن حریث (رض) کی روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف گیا اور میں نوجوان لڑکا تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عبداللہ بن جعفر (رض) کے پاس سے گزرے عبداللہ (رض) کسی چیز کو فروخت کے لیے پیش کررہے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے دعا فرمائی یا اللہ اس کی تجارت میں برکت عطا فرمایا۔ (رواہ البھیقی فی ۔۔۔ وابن عساکر)
37161- عن عمرو بن حريث قال: انطلق بي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا غلام شاب، فمر النبي صلى الله عليه وسلم على عبد الله بن جعفر وهويبيع شيئا يلعب به، فدعا له النبي صلى الله عليه وسلم: اللهم! بارك له في تجارته. "ق" في ... "كر
tahqiq

তাহকীক: