কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭১৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف عین۔۔۔ حضرت عبداللہ بن جعفر (رض)
٣٧١٦١۔۔۔ حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں قثم بن عباس اور عبداللہ بن عباس کھیل رہے تھے ہم بچے تھے اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس سے گزرے آپ ایک چوپائے پر سوار تھے آپ نے فرمایا : اسے اوپر میری طرف اٹھاؤ آپ نے مجھے اپنے آگے بٹھالیا قثم کے لیے فرمایا : اسے میری طرف اوپراٹھاؤ اور اسے اپنے پیچھے بیٹھالیاجب کہ عبداللہ حضرت عباس (رض) کو قثم سے زیادہ محبوب تھے لہٰذا آپ نے اپنے چچا سے حیاء نہیں کی کہ آپ نے قثم کو سوار کرلیا اور عبداللہ (رض) کو چھوڑ دیا ۔ عبداللہ بن جعفر (رض) کہتے تھے : پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سر پر تین بار ہاتھ پھیرا جوں جوں ہاتھ پھیرتے تو فرماتے : یا اللہ ! جعفر کی اولاد میں اچھے لوگ پیدا فرما۔ (رواہ ابن عساکر)
37162- عن عبد الله بن جعفر قال: لو رأيتني وقثما وعبيد الله ابني عباس ونحن صبيان نلعب إذ مر بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم على دابة فقال: ارفعوا هذا إلي، فجعلني أمامه، وقال لقثم: ارفعوا هذا إلي، فجعله وراءه، وكان عبد الله أحب إلى العباس من قثم، فما استحيى من عمه أن حمل قثما وتركه، قال: ثم مسح على رأسي ثلاثا، كلما مسح قال: اللهم! اخلف جعفرا في ولده. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف عین۔۔۔ حضرت عبداللہ بن جعفر (رض)
٣٧١٦٢۔۔۔ حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سے گزریں میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا آپ نے مجھے اپنے ساتھ سوار کرلیا اور بنی عباس میں سے بھی بھی ایک لڑکے کو اپنے ساتھ سوار کیا۔ یوں چوپا ہے پر ہم تین سوار ہوئے۔ (رواہ ابن عساکر)
37163- عن عبد الله بن جعفر قال: مر بي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا ألعب مع الصبيان فحملني، أنا وغلام من بني العباس على الدابة، فكنا ثلاثة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف عین۔۔۔ حضرت عبداللہ بن جعفر (رض)
٣٧١٦٣۔۔۔ حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کہتے ہیں : مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے والد کی وفات کی خبر دیتے میری والدہ کے پاس تشریف لائے میں آپ کی طرف دیکھے جارہا تھا اور آپ میرے سر پر اور میرے بھائی کے سر پر دست شفقت پھیرے جارہے تھے جب کہ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے حتیٰ کہ آپ کی داڑھی سے آنسو ٹپکنے لگے۔ پھر آپ نے فرمایا : یا اللہ ! بلاشبہ جعفر اچھے ثواب کی طرف پہنچ گیا ہے اس کی اولاد میں اچھے لوگ پیدا فرما۔ پھر فرمایا : اے اسماء ایک میں تمہیں خوشخبری نہ دوں ؟ وہ بولیں ! جی ہاں یارسول اللہ ! ضرور فرمایا : اللہ تعالیٰ نے جعفر کو دو پر عطا کیے ہیں جن سے وہ جنت میں اڑ رہے ہیں۔ اسماء (رض) بولیں : یارسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں ، آپ لوگوں کو بھی بتادیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھ کھڑے ہوئے مجھے بھی ہاتھ میں پکڑلیا اور میرے سر پر ہاتھ پھیرتے رہے پھر آپ منبر پر تشریف لے گئے اور مجھے نچلے زینے پر بیٹھا دیا غم وحزن کے آثار آپ پر نمایاں دکھائی دیتے تھے، آپ نے فرمایا ، آدمی کے بھائی اور چچا زاد بھائی بہت سارے ہوتے ہیں الایہ کہ جعفر شہید ہوچکے ہیں اللہ تعالیٰ نے جنت میں انھیں دو پر عطا کیے ہیں جن سے وہ اڑ رہے ہیں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر سے نیچے تشریف لے آئے اور اپنے گھر میں داخل ہوگئے مجھے بھی اپنے ساتھ لے گئے آپ نے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا چنانچہ میرے گھر والوں کیلئے کھانا تیار کیا گیا، آپ نے میرے بھائی کو پیغام بھیج کر منگوالیا ہم نے آپ کے پاس کھانا کھایا بخدا کیا خوب پاکیزہ اور بابرکت کھانا تھا پھر آپ کی خادمہ سلمی نے جو لیے انھیں پیسا اور صاف کیا پھر انھیں گوند کر پکائے اور ان پر کالی ڈالی میں نے اور میرے بھائی نے آپ کے ساتھ ملکر کھانا کھایا ہم تین دن تک آپ کے گھر میں رہے آپ اپنی جس بیوی کے پاس ہوتے ہم بھی آپ کے ساتھ ہوتے پھر ہم اپنے گھر واپس لوٹ آئے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جب کہ میں اپنے بھائی کی ایک بکری کا بھاؤ تاؤ لگارہا تھا آپ نے فرمایا : یا اللہ اس کے سودے میں برکت عطا فرما۔ چنانچہ میں نے جو چیز بھی فروخت کی یا خریدی وہ میرے لیے بابرکت ثابت ہوئی (رواہ ابن عساکر)
37164- عن عبد الله بن جعفر قال: أنا أحفظ حين دخل النبي صلى الله عليه وسلم على أمي ينعى2 لها أبي فأنظر إليه وهو يمسح على رأسي ورأس أخي وعيناه تهراقان الدموع حتى تقطر لحيته، ثم قال: اللهم! إن جعفرا قد قدم إلى أحسن الثواب فاخلفه في ذريته ما خلفت أحدا من عبادك في ذريته، ثم قال: يا أسماء! ألا أبشرك؟ قالت: بلى بأبي أنت وأمي! قال: فإن الله عز وجل جعل لجعفر جناحين يطير بهما في الجنة، قالت: بأبي وأمي يا رسول الله! فأعلم الناس بذلك، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم وأخذ بيدي يمسح بيده رأسي حتى رقى على المنبر وأجلسني أمامه على الدرجة السفلى، والحزن يعرف عليه، فتكلم فقال: إن المرء كثير بأخيه وابن عمه إلا أن جعفرا قد استشهد وقد جعل الله له جناحين يطير بهما في الجنة، ثم نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل بيته وأدخلني، وأمر بطعام يصنع لأهلي وأرسل إلى أخي فتغدينا عنده والله غداء طيبا ومباركا، عمدت خادمه سلمى إلى شعير فطحنته، ثم نسفته ثم أنضجته وآدمته بزيت وجعلت عليه فلفلا، فتغديت أنا وأخي معه، فأقمنا ثلاثة أيام في بيته ندور معه كلما صار في بيت إحدى نسائه، ثم رجعنا إلى بيتنا، فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أساوم بشاة أخ لي فقال: اللهم! بارك له في صفقته، فما بعت شيئا ولا اشتريت إلا بورك لي فيه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف عین۔۔۔ حضرت عبداللہ بن جعفر (رض)
٣٧١٦٤۔۔۔ حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کہتے ہیں : جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی سفر سے واپس آتے تو آپ اپنے اہل بیت کے بچوں سے ملاقات کرتے چنانچہ ایک مرتبہ آپ سفر سے تشریف لائے مجھے پہلے ہی سے آپ کے پاس لے جایا گیا آپ نے مجھے اپنے آگے بٹھایا اور پھر فاطمہ (رض) کا ایک بیٹا حسن (رض) یا حسین (رض) لایا گیا اور آپ نے اسے اپنے پیچھے بٹھایا۔ یوں تین آدمی ایک چوپائے پہ سوار ہو کر مدینہ میں داخل ہوئے۔ (رواہ ابن عساکر)
37165- عن عبد الله بن جعفر قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا قدم من سفر تلقي بصبيان أهل بيته وإنه جاء من سفر فسبق بي إليه. فحملني بين يديه، ثم جيء بأحد ابني فاطمة الحسن أو الحسين فأردفه خلفه، فدخلنا المدينة ثلاثة على دابة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف عین۔۔۔ حضرت عبداللہ بن جعفر (رض)
٣٧١٦٥۔۔۔ حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کہتے ہیں : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے ایک کام ارشاد فرمایا مجھے پسند نہیں کہ اس کے بدلہ میں مجھے سرخ اونٹ دیئے جائیں چنانچہ میں نے آپ کو فرماتے سنا : جعفر اخلاق اور صورت میں میرے مشابہ ہے، اور اے عبداللہ تم اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں اپنے باپ کے زیادہ مشابہ ہو۔ (رواہ العقیلی وابن عساکر)
37166- عن عبد الله بن جعفر قال: سمعت من النبي صلى الله عليه وسلم كلمة ما أحب أن لي بها حمر النعم، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول جعفر أشبه خلقي وخلقي، وأما أنت يا عبد الله! فأشبه خلق الله بأبيك. "عق، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف عین۔۔۔ حضرت عبداللہ بن جعفر (رض)
٣٧١٦٦۔۔۔ عبداللہ بن جعفر (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے عبداللہ، تمہیں مبارک ہو کہ تمہیں میری فطرت پر پیدا کیا گیا ہے اور تمہارا باپ فرشتوں کے ساتھ آسمانوں میں اڑرہا ہے۔ (رواہ ابن عساکر وابن حبان)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے چونکہ اس کی سند میں ایک راوی قدام بن محمد مدنی ہے ابن حبان نے اس پر جرح کی ہے۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے چونکہ اس کی سند میں ایک راوی قدام بن محمد مدنی ہے ابن حبان نے اس پر جرح کی ہے۔
37167- عن عبد الله بن جعفر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يا عبد الله هنيئا لك مريئا! خلقت من طينتي، وأبوك يطير مع الملائكة في السماء. "كر"، وفيه قدامة بن محمد المدني جرحه "حب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف عین۔۔۔ حضرت عبداللہ بن جعفر (رض)
٣٧١٦٧۔۔۔ ابن عمر (رض) جب عبداللہ بن جعفر (رض) کو سلام کرتے تو کہتے : السلام علیک اے پروں والے کے بیٹے۔ (رواہ ابونعیم وابن عساکر)
37168- عن ابن عمر أنه كان إذا سلم على عبد الله بن جعفر قال: السلام عليك يا ابن ذي الجناحين."أبو نعيم، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن ارقم (رض)
٣٧١٦٨۔۔۔ حضرت عمر (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خط لکھا گیا، آپ نے عبداللہ بن ارقم (رض) کو دیکھنے کا حکم دیا، عبداللہ بن ارقم (رض) نے خط کا جواب لکھا اور پھر خط لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے آپ نے فرمایا : شاباش اس وقت سے میرے دل میں عبداللہ بن ارقم کا مقام پیدا ہوگیا حتیٰ کہ جب مجھے بار خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی میں نے عبداللہ بن ارقم (رض) کو بیت المال کا ذمہ دار بنادیا۔ (رواہ البزار)
کلام :۔۔۔ مصنف کہتے ہیں کہ یہ حدیث بزار نے ضعیف قراردی ہے۔
کلام :۔۔۔ مصنف کہتے ہیں کہ یہ حدیث بزار نے ضعیف قراردی ہے۔
37169- عن عمر قال: كتب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لعبد الله بن أرقم: أجب هؤلاء، فأخذه عبد الله بن أرقم فكتبه ثم جاء بالكتاب فعرضه على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أحسنت، فما زال ذلك في نفسي حتى وليت فجعلته في بيت المال. البزار وضعف1
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض)
٣٧١٦٩۔۔۔ حضرت عمر (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) سے فرمایا : اگر تم ہمارے ساتھ سواریوں کو حرکت دیتے عرض کیا : میں نے اپنا قول ترک کردیا فرمایا : بات سنو اور اطاعت کرو۔ عبداللہ بن رواحہ (رض) نے یہ اشعار کہے :
اللھم لولاانت ما اھت دینا
لاتصدقنا ولا صلینا
فانزل سکینۃ علینا
وثبت الا قدام ان الا قینا
یا اللہ ! اگر آپ (یعنی رسول اللہ) نہ ہوتے ہم ہدایت نہ پاسکتے اور نہ صدقہ کرسکتے اور نہ ہی نماز پڑھتے ہمارے اوپر رحمت نازل فرما اور جنگ میں ہمیں ثابت قدم رکھ۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یا اللہ ! اس پر رحم فرما میں نے کہا : دعا قبول ہوئی۔ (رواہ النسائی والدار قطنی ف کی
الافراد ووالضیاء)
اللھم لولاانت ما اھت دینا
لاتصدقنا ولا صلینا
فانزل سکینۃ علینا
وثبت الا قدام ان الا قینا
یا اللہ ! اگر آپ (یعنی رسول اللہ) نہ ہوتے ہم ہدایت نہ پاسکتے اور نہ صدقہ کرسکتے اور نہ ہی نماز پڑھتے ہمارے اوپر رحمت نازل فرما اور جنگ میں ہمیں ثابت قدم رکھ۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یا اللہ ! اس پر رحم فرما میں نے کہا : دعا قبول ہوئی۔ (رواہ النسائی والدار قطنی ف کی
الافراد ووالضیاء)
37170- عن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعبد الله بن رواحة: لو حركت بنا الركاب، قال: قد تركت قولي، فقال: اسمع وأطع قال:
اللهم لولا أنت ما اهتدينا. ... ولا تصدقنا ولا صلينا
فأنزل سكينة علينا. ... وثبت الأقدام إن لاقينا
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم ارحمه! فقلت: وجبت.
"ن، قط"، في الأفراد، "ض
اللهم لولا أنت ما اهتدينا. ... ولا تصدقنا ولا صلينا
فأنزل سكينة علينا. ... وثبت الأقدام إن لاقينا
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم ارحمه! فقلت: وجبت.
"ن، قط"، في الأفراد، "ض
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض)
٣٧١٧٠۔۔۔ ہشام بن عروہ اپنے والد کے واسطہ سے حضرت عائشہ (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ جمعہ کے دن رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر تشریف لائے اور فرمایا : بیٹھ جاؤ حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) نے آپ کا حکم سنا تو وہ بنی غنم کے ہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا : یارسول اللہ ! عبداللہ بن رواحہ وہ ہیں انھوں نے آپ کا حکم سناوہ اپنی جگہ پر ہی بیٹھ گئے۔ (رواہ ابن عساکر)
37171- عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جلس على المنبر يوم الجمعة فقال: اجلسوا، فسمع عبد الله ابن رواحة قول النبي صلى الله عليه وسلم: اجلسوا، فجلس في بني غنم، فقيل: يا رسول الله! ذاك ابن رواحة سمعك وأنت تقول للناس: اجلسوا، فجلس في مكانه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض)
٣٧١٧١۔۔۔ عبدالرحمن بن ابی لیلی، عبداللہ بن رواحہ (رض) کی اہل سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتی ہیں ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اتنے میں حضرت عبداللہ بن رواحہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کر فرماتے سنا کہ ” بیٹھ جاؤ “ تو وہ مسجد سے باہر جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے، جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر ہوئی تو فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہاری اطاعت پر حرص میں اضافہ فرمائے۔ (رواہ الدیلمی)
37172- عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن امرأة ابن رواحة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب فجاء ابن رواحة فسمع النبي صلى الله عليه وسلم وهو يقول: اجلسوا، فجلس مكانه خارجا من المسجد، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال: زادك الله حرصا على طواعية الله وطواعية رسوله. "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض)
٣٧١٧٢۔۔۔ شعبی کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تشریف فرما تھے اتنے میں عبداللہ بن رواحہ (رض) کا ادھر سے گزرہوا لوگوں نے اٹھ کر ان کے پاس ہجوم بنالیا اور کہنے لگے : اے عبداللہ بن رواحہ ! اے عبداللہ بن رواحہ ! کہتے ہیں میں سمجھ گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنے پاس بلایا ہے، میں خدمت میں حاضر ہوا آپ نے آپ نے مجھے فرمایا : یہاں بیٹھومیں آپ کے سامنے بیٹھ گیا فرمایا : تم کس طرح اشعار کہتے ہو ؟ گویا آپ تعجب کررہے تھے میں نے عرض کیا : دیکھتے جائیں پھر میں کہتا ہوں فرمایا مشرکین کی ہجو میں تمہیں اشعار کہنے چاہئیں جب کہ میں کچھ بھی کہنے کی حالت میں تھا تاہم میں نے یہ کلمہ کہ دیا۔
فاخبرولی اثمان العباء متی کنتم بطاریق اودانت لکم مضر
” مجھے عباء (قباء جبہ) کے پیسوں کے متعلق خبر دو تم کب جرنیل ہوئے یا تمہارے لیے مضر قریب ہوگیا ہے “ اس پر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ اقدس پر ناگواری کے اثرات دیکھ لیے لہٰذا میں نے یہ اشعار کہے :
یاھاشم الخیر ان الفضل فضلکم
علی البریۃ فضلا مالہ غیرو
انی تفرست فیک الخیراعرفہ
فراستہ خالفتھم فی الذی نظروا
ولوسالت اوسنصرت بعھضم
فی جل امراتاک من حسن
تثبیت موسیٰ ونصرا کالذی نصروا
اے چیز کے تقسیم کرنے والے حقیقت فضیلت تمہیں حاصل ہے ساری مخلوق پر ایسی فضیلت حاصل ہے جو کسی دوسرے کو حاصل نہیں۔ میں نے آپ میں خیروبھلائی کو چانچ لیا ہے ایسی فراست سے کہ اس کے ذریعے میں نے غیروں میں یہ چیز نہیں دیکھی۔ اگر آپ سوال کریں یا ان میں سے بعض سے آپ مدد طلب کریں کسی بڑے کام میں تو وہ نہ جگہ دیں گے اور نہ ہی مدد کریں گے اللہ تعالیٰ نے آپ کو کو خوبی عطا کررکھی ہے اسے ثابت قدم رکھے جیسا کہ موسیٰ اور نصر کو ثابت قدم رکھا اور ان لوگوں کی طرح جس کی مدد کی گئی۔
چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکراتے ہوئے میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اللہ تمہیں ثابت قدم رکھے۔ (رواہ ابن جریر)
فاخبرولی اثمان العباء متی کنتم بطاریق اودانت لکم مضر
” مجھے عباء (قباء جبہ) کے پیسوں کے متعلق خبر دو تم کب جرنیل ہوئے یا تمہارے لیے مضر قریب ہوگیا ہے “ اس پر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ اقدس پر ناگواری کے اثرات دیکھ لیے لہٰذا میں نے یہ اشعار کہے :
یاھاشم الخیر ان الفضل فضلکم
علی البریۃ فضلا مالہ غیرو
انی تفرست فیک الخیراعرفہ
فراستہ خالفتھم فی الذی نظروا
ولوسالت اوسنصرت بعھضم
فی جل امراتاک من حسن
تثبیت موسیٰ ونصرا کالذی نصروا
اے چیز کے تقسیم کرنے والے حقیقت فضیلت تمہیں حاصل ہے ساری مخلوق پر ایسی فضیلت حاصل ہے جو کسی دوسرے کو حاصل نہیں۔ میں نے آپ میں خیروبھلائی کو چانچ لیا ہے ایسی فراست سے کہ اس کے ذریعے میں نے غیروں میں یہ چیز نہیں دیکھی۔ اگر آپ سوال کریں یا ان میں سے بعض سے آپ مدد طلب کریں کسی بڑے کام میں تو وہ نہ جگہ دیں گے اور نہ ہی مدد کریں گے اللہ تعالیٰ نے آپ کو کو خوبی عطا کررکھی ہے اسے ثابت قدم رکھے جیسا کہ موسیٰ اور نصر کو ثابت قدم رکھا اور ان لوگوں کی طرح جس کی مدد کی گئی۔
چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکراتے ہوئے میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اللہ تمہیں ثابت قدم رکھے۔ (رواہ ابن جریر)
37173- عن الشعبي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان جالسا في المسجد فمر عبد الله بن رواحة فإذا الناس أضبوا1 إلى عبد الله بن رواحة: أي عبد الله ابن رواحة! أي عبد الله بن رواحة! قال: فعرفت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دعاني فجئت فقال لي: اجلس ههنا، فجلست بين يديه، فقال لي: كيف تقول الشعر؟ كأنه يتعجب، فقلت: أنظر ثم أقول، قال: فعليك بالمشركين، ولم أكن هيأت شيئا فأنشدته هذه الكلمة:
فأخبروني أثمان العباء متى. ... كنتم بطاريق أو دانت لكم مضر
فعرفت الكراهية في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت:
يا هاشم الخير، إن الفضل فضلكم.
...
على البرية فضلا ما له غير
إني تفرست فيك الخير أعرفه.
...
فراسة خالفتهم في الذي نظروا
ولو سألت أو استنصرت بعضهم.
...
في جل أمرك ما آووا ولا نصروا
فثبت الله ما آتاك من حسن.
...
تثبيت موسى ونصرا كالذي نصروا
فأقبل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم متبسما فقال: وأنت فثبتك الله. "ابن جرير".
فأخبروني أثمان العباء متى. ... كنتم بطاريق أو دانت لكم مضر
فعرفت الكراهية في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت:
يا هاشم الخير، إن الفضل فضلكم.
...
على البرية فضلا ما له غير
إني تفرست فيك الخير أعرفه.
...
فراسة خالفتهم في الذي نظروا
ولو سألت أو استنصرت بعضهم.
...
في جل أمرك ما آووا ولا نصروا
فثبت الله ما آتاك من حسن.
...
تثبيت موسى ونصرا كالذي نصروا
فأقبل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم متبسما فقال: وأنت فثبتك الله. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض)
٣٧١٧٣۔۔۔ عبداکرحمن بن ابی لیلی کی روایت ہے کہ ایک دن عبداللہ بن رواحہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے عبداللہ (رض) نے آپ کو فرماتے سنا کہ ” بیٹھ جاؤ تو عبداللہ (رض) مسجد سے باہر جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ سے فارغ ہوئے تو آپ کو خبر کی گئی فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہاری حرص علی الطاعت میں اضافہ فرمائے۔ (رواہ ابن عساکر)
37174- عن عبد الرحمن بن أبي ليلى أن عبد الله بن رواحة أتى النبي صلى الله عليه وسلم ذات يوم وهو يخطب فسمعه وهو يقول: اجلسوا فجلس مكانه خارجا من المسجد حتى فرغ النبي صلى الله عليه وسلم من خطبته، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال له: زادك الله حرصا على طواعية الله وطواعية رسوله. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض)
٣٧١٧٤۔۔۔ عکرمہ مولائے ابن عباس کی روایت ہے کہ عبداللہ بن رواحہ (رض) ایک مرتبہ اپنی بیوی کے پہلو میں لیٹے ہوئے تھے فورا اٹھے اور حجرے میں داخل ہوگئے اور اپنی باندی سے حاجت نفس پوری کرنے لگے : اتنے میں بیوی بیدار ہوئی اور عبداللہ بن رواحہ (رض) کو اپنے پاس نہ دیکھ کر وہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی کیا دیکھتی ہے کہ عبداللہ (رض) باندی کے پیٹ پرچڑھے ہوئے ہیں بیوی واپس لوٹ گئی اور چھری اٹھالائی عبداللہ (رض) نے اسے چھری اٹھائے دیکھا اور بولے : تم کیا چاہتی ہو بیوی نے بھی کیا : تو کیا چاہتا ہے۔ اگر میں تمہیں وہیں پاتی جہاں تم تھے میں تمہیں ضرور اس چھری سے کچوکے لگاتی۔ عبداللہ (رض) نے کہا : میں کہاں تھا ؟ بیویی بولی باندی کے پیٹ پر عبداللہ (رض) نے کہا : کیا ایسا ہی ہے ؟ بیوی نے کہا : کیوں نہیں یہ تو ہوا ہے۔ عبداللہ (رض) نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حالت جنابت میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے بولی : پڑھوعبداللہ بن رواحہ (رض) نے یہ اشعار پڑھے :
اتانا رسول اللہ یتلوکتابہ
کمالامشھور من الصبح ساطع اتی
بالھدی بعد العمنی قلوبنا
بہ موقنات ان ماقال واقع
یبت یجافی جنبہ عن فراشہ
اذا ستقلت بالکافرین المفاجع
ہماری پاس اللہ تعالیٰ کا رسول آیا جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتا ہے جیسے کہ تاریکی کے بعد صبح روشن ہوجاتی ہے وہ جہالت کے بعد ہدایت لائے ہیں ہمارے دل اس ہدایت پر یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ آپ فرماتے ہیں وہ حق ہے وہ رات بسر کرتے ہیں بایں طور کہ ان کا پہلو بستر سے الگ ہوتا ہے جب کہ کافروں پر ان کے بچھونے بھاری ہوتے ہیں۔ (بیوی سمجھی شاید قران ہی پڑھا ہے جب کہ جنابت کی حالت میں قرآن پڑھنا جائز نہیں)
بیوی نے اشعار سن کر کہا : میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لائی اور میری نظر نے جھوٹ دیکھا عبداللہ بن رواحہ (رض) کہتے ہیں صبح ہوتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کا واقعہ سنایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے حتیٰ کہ آپ کے دانت مبارک دکھائی دینے لگے۔ (رواہ ابن عساکر)
اتانا رسول اللہ یتلوکتابہ
کمالامشھور من الصبح ساطع اتی
بالھدی بعد العمنی قلوبنا
بہ موقنات ان ماقال واقع
یبت یجافی جنبہ عن فراشہ
اذا ستقلت بالکافرین المفاجع
ہماری پاس اللہ تعالیٰ کا رسول آیا جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتا ہے جیسے کہ تاریکی کے بعد صبح روشن ہوجاتی ہے وہ جہالت کے بعد ہدایت لائے ہیں ہمارے دل اس ہدایت پر یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ آپ فرماتے ہیں وہ حق ہے وہ رات بسر کرتے ہیں بایں طور کہ ان کا پہلو بستر سے الگ ہوتا ہے جب کہ کافروں پر ان کے بچھونے بھاری ہوتے ہیں۔ (بیوی سمجھی شاید قران ہی پڑھا ہے جب کہ جنابت کی حالت میں قرآن پڑھنا جائز نہیں)
بیوی نے اشعار سن کر کہا : میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لائی اور میری نظر نے جھوٹ دیکھا عبداللہ بن رواحہ (رض) کہتے ہیں صبح ہوتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کا واقعہ سنایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے حتیٰ کہ آپ کے دانت مبارک دکھائی دینے لگے۔ (رواہ ابن عساکر)
37175- عن عكرمة مولى ابن عباس أن عبد الله بن رواحة كان مضطجعا إلى جنب امرأته فخرج إلى الحجرة فواقع جارية له، فاستنبهت المرأة فلم تره فخرجت، فإذا هو على بطن الجارية فرجعت وأخذت الشفرة فلقيها ومعها الشفرة، فقال لها: مهيم1، فقالت: مهيم، أما إني لو وجدتك حيث كنت لوجأتك1 بها! قال: وأين كنت؟ قالت: على بطن الجارية، قال: ما كنت؟ قالت: بلى، قال: فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى أن يقرأ أحدنا القرآن وهو جنب، فقالت: اقرأه، قال:
أتانا رسول الله يتلو كتابه.
...
كما لاح مشهور من الصبح ساطع
أتى بالهدى بعد العمى قلوبنا.
...
به موقنات أن ما قال واقع
يبيت يجافي جنبه عن فراشه.
...
إذا استثقلت بالكافرين المضاجع
قالت: آمنت بالله وكذبت بصري، قال: فغدوت على النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرته، فضحك حتى بدت نواجذه. "كر".
أتانا رسول الله يتلو كتابه.
...
كما لاح مشهور من الصبح ساطع
أتى بالهدى بعد العمى قلوبنا.
...
به موقنات أن ما قال واقع
يبيت يجافي جنبه عن فراشه.
...
إذا استثقلت بالكافرين المضاجع
قالت: آمنت بالله وكذبت بصري، قال: فغدوت على النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرته، فضحك حتى بدت نواجذه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض)
٣٧١٧٥۔۔۔ اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کے ہاتھ میں زخم دیکھا میں نے کہا : یہ زخم کیسا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : حنین کے دن یہ زخم لگا ہے میں نے کہا : کیا آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک تھے ؟ بولے : جی ہاں۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37176- عن إسماعيل بن أبي خالد قال: رأيت عبد الله بن أبي أوفى بيده ضربة، فقلت: ما هذا؟ قال: ضربتها يوم حنين، قلت له: وشهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حنينا؟ قال: نعم. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عباس (رض)
٣٧١٧٦۔۔۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) کے ساتھ اپنے پاس بلایا اور فرمایا : تم نے اس وقت تک بات نہیں کرنی جب تک صحابہ بات نہ کرلیں چنانچہ آپ (رض) نے صحابہ اللہ عنہم کو بلایا اور اس سے سوال کیا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لیلۃ القدر کے متعلق جو فرمایا ہے کہ ” اسے رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو “ تمہاری رائے میں وہ کونسی رات ہوسکتی ہے ؟ چنانچہ بعض صحابہ (رض) نے کہا : وہ اکیسویں رات ہے بعض نے کہا : وہ تیسویں رات ہے بعض نے کہا : پچیسویں رات ہے بعض نے ستائیسویں کا کہا، صحابہ (رض) مختلف اقوال کرتے رہے میں خاموش بیٹھا رہا عمر (رض) نے فرمایا : بھلاتم کیوں نہیں بولتے : میں نے کہا : آپ ہی نے تو مجھے حکم دیا تھا کہ میں اس وقت تک بات نہ کرو جب تک صحابہ (رض) بات نہ کرلیں عمر (رض) نے فرمایا : کہو کیا کہنا چاہتے ہو میں نے تو اسی لیے تمہیں بلایا ہے۔ میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے کثرت سے سات کے عدد کا ذکر کیا ہے سات آسمانوں کا ذکر کیا ہے اور انہی کی طرح زمین کا بھی ہفتہ میں سات دن میں طواف کے سات چکر ہیں رمی بھی سات مرتبہ ہے صفا اور مروہ سے درمیان بھی سات چکرلگائے جاتے ہیں۔ انسان کو سات چیز ون سے پیدا کیا گیا ہے ہمیں سبع مثانی (سات بڑی سورتیں ) عطا کی گئی ہیں، اقرباء میں سے سات عورتوں سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے وارثت سات لوگوں پر تقسیم کی ہے۔ اس مناسبت سے میں لیلۃ القدر کو آخری سات راتوں میں سمجھتا ہوں ، حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم نے یہ جو کہا
کہ زمین کی نباتات سات ہیں اس سے کیا مراد ہے ؟ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
ثم شققنا الارض شقافانبتنا فیھا حبا وعبنا وقضبا وزیتونا ونخلا وحدائق غلبا وفاکھۃ وابا
یعنی ہم نے پھاڑا زمین کو اس سے اگائے بیچ اناج کے آور انگور کاری زیتون کھجوریں باغات گھن کے میوہ اور چارہ۔
حضرت عمر (رض) نے اس پر تعجب کیا اور فرمایا : اس میں صرف اس لڑکے نے میری موافقت کی ہے جسے تم کچھ نہیں سمجھتے ، بخدا ! میں اسی قول کو حق سمجھتا ہوں جو تم نے کہا ہے۔ (رواہ الترمذی وابن سعد وابن راھویہ وعبدبن حمید ومحمد بن نصرفی الصلاۃ والطبرانی و ابونعیم فی الحلیۃ والحاکم والبیھقی)
کہ زمین کی نباتات سات ہیں اس سے کیا مراد ہے ؟ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
ثم شققنا الارض شقافانبتنا فیھا حبا وعبنا وقضبا وزیتونا ونخلا وحدائق غلبا وفاکھۃ وابا
یعنی ہم نے پھاڑا زمین کو اس سے اگائے بیچ اناج کے آور انگور کاری زیتون کھجوریں باغات گھن کے میوہ اور چارہ۔
حضرت عمر (رض) نے اس پر تعجب کیا اور فرمایا : اس میں صرف اس لڑکے نے میری موافقت کی ہے جسے تم کچھ نہیں سمجھتے ، بخدا ! میں اسی قول کو حق سمجھتا ہوں جو تم نے کہا ہے۔ (رواہ الترمذی وابن سعد وابن راھویہ وعبدبن حمید ومحمد بن نصرفی الصلاۃ والطبرانی و ابونعیم فی الحلیۃ والحاکم والبیھقی)
37177- عن ابن عباس قال: كان عمر يدعوني مع أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم ويقول: لا تتكلم حتى يتكلموا، فدعاهم فسألهم: أفرأيتم قول رسول الله صلى الله عليه وسلم في ليلة القدر: التمسوها في العشر الأواخر أي ليلة ترونها، فقال بعضهم: ليلة إحدى وعشرين، وقال بعضهم: ليلة ثلاث، وقال بعضهم: ليلة خمس، وقال بعضهم: ليلة سبع، فقالوا وأنا ساكت، فقال: مالك لا تتكلم؟ فقلت: إنك أمرتني أن لا أتكلم حتى يتكلموا؛ فقال: ما أرسلت إليك إلا لتتكلم، فقلت: إني سمعت الله يذكر السبع فذكر سبع سماوات ومن الأرض مثلهن، والأيام سبع، والطواف سبع، والجمار سبع، والسعي بين الصفا والمروة سبع، وخلق الإنسان من سبع، ونبت الأرض سبع، ونقع في السجود من أعضائنا على سبع، وأعطي من المثاني سبع، ونهى في كتابه عن نكاح الأقربين عن سبع، وقسم الميراث في كتابه على سبع، فأراها في السبع الأواخر من شهر رمضان، فقال عمر: ما قولك: نبت الأرض سبع؟ قلت: قول الله {شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقّاً. فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبّاً. وَعِنَباً وَقَضْباً. وَزَيْتُوناً وَنَخْلاً. وَحَدَائِقَ غُلْباً. وَفَاكِهَةً وَأَبّاً}
فتعجب عمر فقال: ما وافقني فيها أحد إلا هذا الغلام الذي لم تستوشؤن رأسه، والله! إني لأرى القول كما قلت. "ت" وابن سعد وابن راهويه وعبد بن حميد ومحمد بن نصر في الصلاة، "طب، حل، ك، ق
فتعجب عمر فقال: ما وافقني فيها أحد إلا هذا الغلام الذي لم تستوشؤن رأسه، والله! إني لأرى القول كما قلت. "ت" وابن سعد وابن راهويه وعبد بن حميد ومحمد بن نصر في الصلاة، "طب، حل، ك، ق
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عباس (رض)
٣٧١٧٧۔۔۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے اس فرمان باری تعالیٰ سے متعلق دریافت کیا : یا ایھا الذین امنوا لاتسالوا عن اشیاء ان تبدلکم تسوء کم یعنی اے ایمان والو ! ان چیزوں کے متعلق مت سوال کرو جنھیں تمہارے لیے اگر ظاہر کردیا جائے تو تم پریشان ہوجاؤ۔ “ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مہاجرین میں سے کچھ لوگوں کے نسب میں عیب تھا وہ ایک دن کہنے لگے : اللہ کی قسم ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں ہمارے نسب کے متعلق کچھ نازل فرمائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریم نازل فرمائی۔ پھر عمر (رض) نے مجھ سے فرمایا : تمہارا یہ صاحب ” یعنی حضرت بن ابی طالب (رض) “ اگر والی بنادیا جائے تو بےرغبتی کرے گا لیکن مجھے اس کا عجب کا خوف ہے کہ وہ اسے لے نہ جائے میں نے عرض کیا اے امیرالمومنین ! ہمارے صاحب کو آپ جانتے ہیں، اللہ کی قسم ہم کہتے ہیں کہ اس انھیں نہ تغیر ہوئی نہ تبدیلی ہوئی اور نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی صحبت کے ایام میں غصہ ہوئے انھوں نے ابوجہل کی بیٹی کو فاطمہ (رض) پر لانے کے لیے پیغام نکاح بھیجا میں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی معصیت پر فرمایا :” لم نجدلہ عزما “ ہم نے ان کی طرف سے معصیت پر پختہ عزم نہیں پایا۔ اس طرح ہمارے صاحب نے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غصہ میں لانے کے لیے پختہ عزم نہیں کیا۔ لیکن جہاں تک وسوسوں کی بات ہے سو ان سے دور رہنے کی کسی کو قدرت نہیں حاصل۔ بسا اوقات کسی فقیہ اور عالم سے غلطی ہوجاتی ہے جب اسے تنبیہ کی جاتی ہے تو وہ اللہ کی طرف رجوع کرلیتا ہے عمر (رض) نے فرمایا : اے ابن عباس ! کوئی شخص اگر گمان کرے کہ وہ تمہارے علمی سمندر میں غوطہ لگائے اور اس کی گہرائی تک جاپہنچے بلاشبہ وہ اس سے عاجزی ہی رہے گا۔ (رواہ الزبیربن بکار فی الموفقیات)
37178- عن ابن عباس قال: سألت عمر بن الخطاب عن قول الله عز وجل {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} قال: كان رجال من المهاجرين في أنسابهم شيء فقالوا يوما: والله! لوددنا أن الله أنزل قرآنا في نسبنا، فأنزل الله ما قرأت، ثم قال لي: إن صاحبكم هذا - يعني علي بن أبي طالب - إن ولي زهد ولكن أخشى عليه عجبه بنفسه أن يذهب به، قلت: يا أمير المؤمنين! إن صاحبنا من قد علمت! والله ما نقول: إنه ما غير ولا بدل ولا أسخط رسول الله صلى الله عليه وسلم أيام صحبته! ولا بنت أبي جهل وهو يريد أن يخطبها على فاطمة؟ قلت: قال الله في معصية آدم عليه السلام: {وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً} فصاحبنا لم يعزم على إسخاط رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولكن الخواطر التي لا يقدر أحد دفعها عن نفسه وربما كانت من الفقيه في دين الله العالم بأمر الله، فإذا نبه عليها رجع وأناب، فقال: يا ابن عباس! من ظن أنه يرد بحوركم؟ فيغوص فيها معكم حتى يبلغ قعرها فقد ظن عجزا."الزبير بن بكار في الموفقيات".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عباس (رض)
٣٧١٧٨۔۔۔ یعقوب بن یزید کہتے ہیں : جب حضرت عمر (رض) کو کوئی اہم مسئلہ پیش آتا تو ابن عباس (رض) سے مشورہ کرتے تھے اور فرماتے : اے غوطہ خور ! غوطہ لگاؤ۔ (رواہ ابن سعد)
37179- عن يعقوب بن يزيد قال: كان عمر بن الخطاب يستشير عبد الله بن عباس في الأمر إذا أهمه، ويقول: غص غواص."ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عباس (رض)
٣٧١٧٩۔۔۔ طاؤؤس کہتے ہیں : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابن عباس (رض) کو کہتے سنا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے عمر (رض) کو فرماتے سنا انھوں نے تلبیہ کہتے ہوں گے آواز بلند کی کہ ہم موقف میں کھڑے ہیں ابن عباس (رض) سے ایک شخص نے کہا : کیا آپ نے عمر (رض) کو آگے بڑھتے دیکھا ہے ؟ ابن عباس (رض) نے فرماہا : میں نہیں جانتا لوگوں نے ابن عباس (رض) کے تقویٰ پر تعجب کیا۔ (رواہ ابن سعد)
37180- عن طاوس قال: أشهد لسمعت ابن عباس يقول: أشهد لسمعت عمر يهل1 وإنا لواقفون في الموقف، فقال له رجل: أرأيت حين دفع؟ فقال ابن عباس: لا أدري، فعجب الناس من ورع ابن عباس."ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عباس (رض)
٣٧١٨٠۔۔۔ عطاء بن یسار کی روایت ہے کہ حضرت عمر اور حضرت عثمان (رض) حضرت ابن عباس (رض) کو اپنے پاس بلاتے اور ابن عباس (رض) اہل بدر کے ساتھ مشورہ دیتے تھے حضرت عمر اور حضرت عثمان (رض) کے دور خلافت میں ابن عباس (رض) قتوی دیتے تھے اور تاوقت وفات فتویٰ دیتے رہے۔ (رواہ ابن سعد)
37181- عن عطاء بن يسار أن عمر وعثمان كانا يدعوان ابن عباس فيشير مع أهل بدر وكان يفتي في عهد عمر وعثمان إلى يوم مات."ابن سعد".
তাহকীক: