কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৭১৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عباس (رض)
٣٧١٨١۔۔۔ ابوزناد کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) ابن عباس (رض) کی عیادت کے لیے تشریف لائے ابن عباس (رض) کو بخار تھا عمر (رض) نے فرمایا : تمہارے مرض نے ہمارے درمیان رکاوٹ ڈال دی اور اللہ ہی سے مدد طلب کی جاتی ہے۔ (رواہ ابن سعد)
37182- عن أبي الزناد أن عمر بن الخطاب دخل على ابن عباس يعوده وهو يحم1 فقال له عمر: أخل بنا مرضك والله المستعان."ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عباس (رض)
٣٧١٨٢۔۔۔ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کہتے ہیں میں نے ابن عباس سے بڑھ کر حاضر فہم عقلمند کثرت علم والا اور بردباری میں وسیع تر کسی کو نہیں دیکھا ، میں نے عمر بن خطاب (رض) ےتو دیکھا ہے کہ وہ ابن عباس کو پیچیدہ امور کے حل کے لیے اپنے پاس بلاتے تھے پھر فرماتے : یہ پیچدگی تمہارے پاس آئی ہے پھر ابن عباس (رض) کے قول سے آگے تجاوز نہیں کرپاتے تھے۔ حالانکہ عمر (رض) کے آس پاس مہاجرین و انصار میں سے بدری صحابہ (رض) موجود ہوتے تھے۔ (رواہ ابن سعد)
37183- عن سعد بن أبي وقاص قال: ما رأيت أحدا أحضر فهما ولا ألب لبا ولا أكثر علما ولا أوسع حلما من ابن عباس! ولقد رأيت عمر بن الخطاب يدعوه للمعضلات ثم يقول: عندك قد جاءتك معضلة، ثم لا يجاوز قوله، وإن حوله لأهل بدر من المهاجرين والأنصار."ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عباس (رض)
٣٧١٨٣۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں : ایک دن میں حضرت عمر بن (رض) کے پاس گیا انھیں یمن سے یعلی بن امیہ نے ایک مسئلہ (استفتاء کے لیے) لکھ بھیجا تھا میں نے اس مسئلہ کا جواب دیا عمر (رض) نے فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نبوت کے گھر سے بول رہے ہو۔ (رواہ ابن سعد)
37184- عن ابن عباس قال: دخلت على عمر بن الخطاب يوما فسألني عن مسألة كتب إليه بها يعلى بن أمية من اليمن فأجبته فيها فقال عمر: أشهد أنك تنطق عن بيت نبوة."ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عباس (رض)
٣٧١٨٤۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عباس (رض) سے فرمایا : نبوت اور بادشاہت تمہارے اندر ہے ایک روایت میں خلافت تمہارے اندر ہے اور نبوت بھی ۔ (رواہ ابن عساکر)
فائدہ :۔۔۔ یہ مطلب نہیں کہ آئندہ تمہاری اولاد میں کوئی نبی ہوگا بلکہ مطلب یہ ہے کہ تمہارے خاندان میں نبوت آئی ہے ظاہر ہے عباس (رض) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خاندان ایک ہی ہے۔
فائدہ :۔۔۔ یہ مطلب نہیں کہ آئندہ تمہاری اولاد میں کوئی نبی ہوگا بلکہ مطلب یہ ہے کہ تمہارے خاندان میں نبوت آئی ہے ظاہر ہے عباس (رض) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خاندان ایک ہی ہے۔
37185- عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال للعباس: فيكم النبوة والمملكة - وفي لفظ: الخلافة فيكم والنبوة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عباس (رض)
٣٧١٨٥۔۔۔ ابن عباس (رض) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یا اللہ ! عباس کی مغفرت فرما اس کی اولاد کی مغفرت فرما اور جو ان سے محبت کرے اس کی بھی مغفرت فرما۔ (رواہ ابن عساکر)
37186- عن ابن عباس عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم اغفر للعباس ولولد العباس ولمن أحبهم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عباس (رض)
٣٧١٨٦۔۔۔” مسند عمر “ معمر کی روایت ہے کہ ابن عباس (رض) نے عام طور پر تین اشخاص سے علم حاصل کیا ہے۔ حضرت عمر (رض) علی (رض) اور ابی بن کعب (رض)۔ (رواہ ابن عساکر)
37187- "مسند عمر" عن معمر قال: عامة علم ابن عباس من ثلاثة: عمر وعلي وأبي بن كعب.
"كر".
"كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عباس (رض)
٣٧١٨٧۔۔۔” ایضا “ عبیداللہ بن عبداللہ عتبہ کہتے ہیں : میں نے سنت کا بڑا عالم رائے میں پختہ اور گہری نظر رکھنے والا ابن عباس (رض) سے بڑھ کر کسی نہیں دیکھا ، چنانچہ حضرت عمر (رض) بن خطاب (رض) ابن عباس (رض) کے لیے فرماتے تھے۔ ہمارے پاس پیچیدہ فیصلے آتے ہیں تم ہی انھیں نمٹا سکتے ہو۔ (رواہ المروزی فی العلم)
37188- "أيضا" عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة قال: ما رأيت أحدا أعلم بالسنة ولا أجلد رأيا ولا أثقب نظرا حين ينظر من عبد الله بن عباس وإن كان عمر بن الخطاب ليقول له: قد طرأت علينا عضل أقضية أنت لها ولأمثالها."المروزي في العلم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عباس (رض)
٣٧١٨٨۔۔۔” مسند حضرت حذیفہ بن یمان (رض) “ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : مجھے خذیفہ بن یمان اور کعب احبار نے بتایا ہے کہ جب تمہاری اولاد خلافت کی مالک بنے گی تو خلافت لگاتار ان میں رہے گی تاوقتیکہ وہ خود عیسیٰ بن مریم کے سپرد نہ کردیں۔ (رواہ ابن عساکر)
37189- "مسند حذيفة بن اليمان رضي الله عنه" عن ابن عباس قال: قال لي حذيفة بن اليمان وكعب الأحبار: إذا ملك الخلافة بنوك لم تزل الخلافة فيهم حتى يدفعوها إلى عيسى ابن مريم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عباس (رض)
٣٧١٨٩۔۔۔ میمون بن مہران ابن عباس (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں : میں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کے پاس سے گزرا دراں حالیکہ آہ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر واپس لوٹ رہے تھے میں نے سفید رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے آپ وحیہ کلبی سے محو گفتگو تھے فی الواقع وہ جبرائیل امین تھے جبرائیل امین بولے : یارسول اللہ ! یہ ابن عباس ہے اگر یہ ہمیں سلام کرتا ہم اس کے سلام کا جواب دیتے ابن عباس نے سفید کپڑے پہن رکھے ہیں جب کہ ان کی اولاد سیاہ کپڑے پہنے گی جب جیرائیل امین واپس چلے گئے ، اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی واپس لوٹ آئے تو آپ نے ابن عباس (رض) سے فرمایا : جب تم ہمارے پاس سے گزرے تم نے ہمیں سلام کیوں نہیں کیا ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! جس وقت میں آپ کے پاس سے گزرا آپ دحیہ کلبی کے ساتھ سرگوشی کررہے تھے میں نے اچھا نہیں سمجھا کہ آپ کی شرگوشی منقطع کردوں آپ نے فرمایا : واقعی تم نے گہری نظر رکھی ہے، یہ جبرائیل امین تھے سو نبی کی علاوہ اگر کوئی اور انھیں دیکھ لے تو اس کی بصارت جاتی رہے گی تمہاری بصارت بھی ختم ہوجائے گی اور پھر وفات کے دن تمہیں واپس لوٹا دی جائے گی عکرمہ کہتے ہیں : جب ابن عباس (رض) دنیا سے رخصت ہوئے اور انھیں کفن میں لپیٹ دیا گیا ، اتنے میں ایک پرندہ آیا اور ان کے کفن میں گھس گیا لوگ دیکھ کر اسے کفن میں تلاش کرنے لگے لیکن پرندہ دستیاب نہ ہوا عکرمہ بولے : کیا تم لوگ احمق ہو ؟ یہ وہی بصارت ہے جیسے دوبارہ لوٹنے کا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وعدہ کیا تھا کہ وفات کے دن بصارت واپس لوٹ آئے گی جب لوگوں نے ابن عباس (رض) کی میت قبر میں رکھی تو قبر پر کھڑے لوگوں نے یہ کلمات سنے۔
یا ایھا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ فاخلی فی عبادی وادخلی جنتی اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف خوش وخرم واپس لوٹ جا میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔ (رواہ ابن عساکر)
وسلم کے پاس سے گزرا دراں حالیکہ آہ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر واپس لوٹ رہے تھے میں نے سفید رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے آپ وحیہ کلبی سے محو گفتگو تھے فی الواقع وہ جبرائیل امین تھے جبرائیل امین بولے : یارسول اللہ ! یہ ابن عباس ہے اگر یہ ہمیں سلام کرتا ہم اس کے سلام کا جواب دیتے ابن عباس نے سفید کپڑے پہن رکھے ہیں جب کہ ان کی اولاد سیاہ کپڑے پہنے گی جب جیرائیل امین واپس چلے گئے ، اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی واپس لوٹ آئے تو آپ نے ابن عباس (رض) سے فرمایا : جب تم ہمارے پاس سے گزرے تم نے ہمیں سلام کیوں نہیں کیا ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! جس وقت میں آپ کے پاس سے گزرا آپ دحیہ کلبی کے ساتھ سرگوشی کررہے تھے میں نے اچھا نہیں سمجھا کہ آپ کی شرگوشی منقطع کردوں آپ نے فرمایا : واقعی تم نے گہری نظر رکھی ہے، یہ جبرائیل امین تھے سو نبی کی علاوہ اگر کوئی اور انھیں دیکھ لے تو اس کی بصارت جاتی رہے گی تمہاری بصارت بھی ختم ہوجائے گی اور پھر وفات کے دن تمہیں واپس لوٹا دی جائے گی عکرمہ کہتے ہیں : جب ابن عباس (رض) دنیا سے رخصت ہوئے اور انھیں کفن میں لپیٹ دیا گیا ، اتنے میں ایک پرندہ آیا اور ان کے کفن میں گھس گیا لوگ دیکھ کر اسے کفن میں تلاش کرنے لگے لیکن پرندہ دستیاب نہ ہوا عکرمہ بولے : کیا تم لوگ احمق ہو ؟ یہ وہی بصارت ہے جیسے دوبارہ لوٹنے کا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وعدہ کیا تھا کہ وفات کے دن بصارت واپس لوٹ آئے گی جب لوگوں نے ابن عباس (رض) کی میت قبر میں رکھی تو قبر پر کھڑے لوگوں نے یہ کلمات سنے۔
یا ایھا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ فاخلی فی عبادی وادخلی جنتی اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف خوش وخرم واپس لوٹ جا میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔ (رواہ ابن عساکر)
37190- عن ميمون بن مهران عن ابن عباس قال: مررت بالنبي صلى الله عليه وسلم وقد انصرف من صلاة الظهر وعلي ثياب بياض وهو يناجي دحية الكلبي فيما ظننت وكان جبريل ولا أدري، فقال جبريل للنبي صلى الله عليه وسلم: يا رسول الله! هذا ابن عباس أما إنه لو سلم علينا لرددنا عليه، أما إنه شديد وضح الثياب، ولتلبس ذريته من بعده السواد، فلما عرج جبريل وانصرف النبي صلى الله عليه وسلم قال: ما منعك أن تسلم إذ مررت آنفا؟ فقلت: يا رسول الله! مررت بك وأنت تناجي دحية الكلبي فكرهت أن أقطع نجواكما بردكما علي السلام، قال:
لقد أثبت النظر، ذلك جبريل وليس أحد رآه غير نبي إلا ذهب بصره، وبصرك ذاهب وهو مردود عليك يوم وفاتك، قال: فلما مات ابن عباس وأدرج في أكفانه انقض طائر أبيض فأتى بين أكفانه وطلب فلم يوجد، فقال عكرمة مولى ابن عباس: أحمقى أنتم؟ هذا بصر الذي وعده رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يرد عليه يوم وفاته، فلما أتوا به القبر ووضع في لحده تلقى بكلمة سمعها من كان على شفير القبر "يا أيتها النفس المطمئنة. ارجعي إلى ربك راضية مرضية. فادخلي في عبادي وادخلي جنتي". "كر".
لقد أثبت النظر، ذلك جبريل وليس أحد رآه غير نبي إلا ذهب بصره، وبصرك ذاهب وهو مردود عليك يوم وفاتك، قال: فلما مات ابن عباس وأدرج في أكفانه انقض طائر أبيض فأتى بين أكفانه وطلب فلم يوجد، فقال عكرمة مولى ابن عباس: أحمقى أنتم؟ هذا بصر الذي وعده رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يرد عليه يوم وفاته، فلما أتوا به القبر ووضع في لحده تلقى بكلمة سمعها من كان على شفير القبر "يا أيتها النفس المطمئنة. ارجعي إلى ربك راضية مرضية. فادخلي في عبادي وادخلي جنتي". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عباس (رض)
٣٧١٩٠۔۔۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں رسول اللہ نے میرے لیے فرمایا : یا اللہ ! اسے کتاب کے علم سے سرفراز کر اور دین میں اسے فقاہت عطا فرما۔ (رواہ ابن النجار)
37191- عن ابن عباس قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم! علمه الكتاب وفقه في الدين. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عباس (رض)
٣٧١٩١۔۔۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں اور میرے والد محترم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھے جب ہم آپ کے پاس سے اٹھ کر باہر نکل آئے میں نے والد سے عرض کیا : آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا شخص نہیں دیکھا ، میں نے اس سے خوبصورت شخص کوئی نہیں دیکھا والد نے کہا : وہ شخص خوبصورت تھا یا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ؟ میں نے جواب دیا : وہ شخص خوبصورت تھا۔ والد بولے : ہمارے ساتھ واپس چلو ہم واپس لوٹ گئے اور آپ کے پاس جاپہنچے والوں نے کہا : یارسول اللہ ! وہ شخص کہاں چلا گیا جو آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ؟ عبداللہ کا خیال ہے کہ وہ آپ سے زیادہ خوبصورت ہے آپ نے فرمایا : اے عبداللہ ! تم نے وہ شخص دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، فرمایا : وہ تو جبرائیل امین تھے جب تم دونوں میرے پاس آئے جبرائیل امین نے مجھے کہا : اے محمد ! یہ کون لڑکا ہے ؟ میں نے جواب دیا : یہ میرے چچا عباس کا بیٹا عبداللہ ہے جبرائیل امین نے کہا : یہ لڑکا سراپا خیر و بھلائی ہے۔ میں نے کہا : اے جبرائیل ! اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے دعا کرو۔ جبرائیل امین بولے : یا اللہ ! اسے برکت عطا فرمایا اللہ ! اسے کثرت سے پاگیزگی عطا فرما (رواہ ابن النجار
37192- عن ابن عباس قال: دخلت أنا وأبي على النبي صلى الله عليه وسلم، فلما خرجنا من عنده قلت لأبي: ما رأيت الرجل الذي كان مع النبي صلى الله عليه وسلم ما رأيت رجلا أحسن وجها منه، فقال لي: هو كان أحسن وجها أم النبي؟ قلت: هو، قال: فارجع بنا، فرجعنا حتى دخلنا عليه، فقال له أبي: يا رسول الله! أين الرجل الذي كان معك؟ زعم عبد الله أنه كان أحسن وجها منك، قال: يا عبد الله! رأيته؟ قلت: نعم، قال: أما إن ذاك جبريل، أما إنه حين دخلتما قال لي:يا محمد! من هذا الغلام؟ قلت: ابن عمي عبد الله بن العباس، قال: أما إنه لمحل للخير، قلت: يا روح الله! ادع الله له، فقال: اللهم بارك عليه، اللهم اجعل منه كثيرا طيبا. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عباس (رض)
٣٧١٩٢۔۔۔ مدائنی کی روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے ابن عباس (رض) کے متعلق فرمایا : یہ عقل اور فطانت کے تاریک پردوں سے مخفی امور کو دیکھ لیتا ہے۔ (رواہ الدینوری)
37193- عن المدائني قال قال علي بن أبي طالب في عبد الله بن عباس: إنه لينظر إلى الغيب من ستر رقيق لعقله وفطنته بها لأمور."الدينوري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عباس (رض)
٣٧١٩٣۔۔۔” مسند ابن عباس “ ابن عباس (رض) کہتے ہیں ایک مرتبہ میں نے حضرت میمونہ (رض) کے ہاں رات گزاری میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کے لیے پانی رکھ دیا آپ نے فرمایا : یہ پانی کس نے رکھا ہے ؟ میمونہ (رض) نے جواب دیا : عبداللہ نے رکھا ہے۔ آپ نے فرمایا : یا اللہ ! اسے دین کی فقاہت نصیب فرما اور علم تفسیر سے اسے بہرہ مند فرما۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37194- "مسند ابن عباس" قال: كنت في بيت ميمونة فوضعت لرسول الله صلى الله عليه وسلم طهوره، فقال: من وضع لي هذا؟ فقالت ميمونة: عبد الله، فقال: اللهم! فقهه في الدين وعلمه التأويل. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عباس (رض)
٣٧١٩٤۔۔۔” ایضا “ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ میرے عل وفہم میں اجافہ فرمائے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37195- "أيضا" دعا لي رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يزيدني الله علما وفهما. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عباس (رض)
٣٧١٩٥۔۔۔ مجاہد کی روایت ہے کہ ابن عباس (رض) نے فرمایا : جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شعب ابی طالب میں نظر بند تھے تو آپ کے پاس میرے والد محترم آئے اور عرض کیا : اے محمد ! میں ام فضل (اپنی بیوی کو حاملہ دیکھ رہاہوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ تمہاری آنکھوں کو ٹھنڈا کرے۔ (جب میں پیدا ہوا) میرے والد مجھے ایک کپڑے میں لپیٹ کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لائے آپ نے لعاب مبارک سے مجھے گھٹی دی مجاہد کہتے ہیں : ہمیں معلوم نہیں کہ ابن عباس (رض) کے علاوہ کسی اور کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لعاب کی گھٹی دی ہو (رواہ ابن عساکر
37196- عن مجاهد قال قال ابن عباس: لما كان النبي صلى الله عليه وسلم وأهل بيته بالشعب أتى أبي النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا محمد! أرى أم الفضل قد اشتملت على حمل، فقال: لعل الله أن يقر أعينكم، فأتى أبي النبي صلى الله عليه وسلم وأنا في خرقة فحنكني بريقه. قال مجاهد: فلا نعلم أحدا حنك بريق النبي صلى الله عليه وسلم غيره. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧١٩٦۔۔۔” مسند صدیق اکبر (رض) “ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر (رض) نے عبداللہ بن مسعود (رض) کو بشارت سنائی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں فرمایا : مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا۔ (رواہ البزار و صحیحہ)
37197- "مسند الصديق" عن عبد الله بن مسعود عن أبي بكر وعمر أنهما بشراه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له: سل تعطه. البزار وصححه1
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧١٩٧۔۔۔” مسند عمر “ قیس بن مروان ہے کہ میں حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے امیرالمومنین ! میں کوفہ سے آیا ہوں میں نے وہاں ایک شخص چھوڑا ہے جو ظہر قلب س مصاحف کا املاء کر ارہا ہے (یعنی بن دیکھے زبانی مصاحف کا املاء کر ارہا ہے) حضرت عمر (رض) سخت غصہ ہوئے اور پھول کر گپا بن گئے قریب تھا کہ آپ (رض) غصہ سے پھٹ پڑتے فرمایا : بھلا وہ کون شخص ہے ؟ قیس نے کہا : وہ عبداللہ بن مسعود (رض) کی آہستہ آہستہ طبیعت بحال ہوئی اور غصیلی کیفیت چھٹتی گئی جب افاقہ ہوا فرمایا : تیری ہلاکت صحابہ (رض) میں میں کسی کو نہیں جانتا جو ان سے بڑھ کر مصاحف کا علم رکھتا ہو، میں تمہیں ان کے متعلق ایک حدیث سناتا ایک رات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر صدیق (رض) کے ساتھ محو گفتگو تھے میں بھی آپ کے ساتھ تھا بعد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھ کر چل پڑے ہم بھی آپ کے ساتھ ہولیے یکایک ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں نماز پڑھ رہا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی قرات سننے کے لیے کھڑے ہوگئے قریب تھا کہ ہم اس شخص کو پہچان لیتے تاہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قرآن مجید کی قرات کرنا چاہے اسے چاہیے کہ ابن ام عبد کی طرح قرات کرے پھر وہ شخص بیٹھ گیا اور دعا کرنے لگا بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے جارہے تھے سوال کرو تمہارا سوال پورا کیا جائے گا میں نے کہا : اللہ کی قسم صبح ہوتے ہی میں اس کے پاس جاؤں گا اور اسے خوشخبری سناؤں گا چنانچہ سنا آئے اللہ کی قسم میں نے جب بھی کسی بھلائی کے کام میں صدیق اکبر (رض) کے ساتھ دوڑ لگائی مگر وہ مجھ سے ہر مرتبہ آگے بڑھ گئے۔ (رواہ ابوعبید فی فضائلہ واحمد بن حنبل والترمذی وابن خریمۃ وابن ابی داؤد ابن الانباری معافی المصاحف وابویعلی وابن حبان والدارقطنی دی الافراد وابن عساکر و ابونعیم فی الحلیۃ والبیھقی والضیاء)
فائدہ :۔۔۔ صحابہ کرام (رض) آپس میں خیر و بھلائی کے کاموں میں دوڑ لگاتے تھے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے لیکن جب ابوبکرصدیق اکبر (رض) (فداہ بابی وامی) نے دوڑ لگائی تو میدان میں صرف فاروق اعظم (رض) ہی اترے گوصدیق اکبر (رض) سے پیچھے رہے اسی طرح جبب صدیق اکبر (رض) نے دوڑ لگائی ان کا مقابلہ کرنے کی کسی کو جرات نہیں ہوتی تھی سوائے فاروق اعظم (رض) کے گوصدیق اکبر (رض) سے پیچھے ہی کیوں نہ رہے یعنی میدان مسابقت کے ان دوشہسواروں کا مدمقابل کوئی نہیں تھا اور نہ ہی کسی کو جرات ہوتی تھی۔ سبحان اللہ ماعظم شانہ اللھم ارزق اتباعھم آمین یارب العالمین ۔ ازمترجم تنولی
فائدہ :۔۔۔ صحابہ کرام (رض) آپس میں خیر و بھلائی کے کاموں میں دوڑ لگاتے تھے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے لیکن جب ابوبکرصدیق اکبر (رض) (فداہ بابی وامی) نے دوڑ لگائی تو میدان میں صرف فاروق اعظم (رض) ہی اترے گوصدیق اکبر (رض) سے پیچھے رہے اسی طرح جبب صدیق اکبر (رض) نے دوڑ لگائی ان کا مقابلہ کرنے کی کسی کو جرات نہیں ہوتی تھی سوائے فاروق اعظم (رض) کے گوصدیق اکبر (رض) سے پیچھے ہی کیوں نہ رہے یعنی میدان مسابقت کے ان دوشہسواروں کا مدمقابل کوئی نہیں تھا اور نہ ہی کسی کو جرات ہوتی تھی۔ سبحان اللہ ماعظم شانہ اللھم ارزق اتباعھم آمین یارب العالمین ۔ ازمترجم تنولی
37198- "مسند عمر" عن قيس بن مروان أنه أتى عمر فقال: جئت يا أمير المؤمنين من الكوفة وتركت بها رجلا يملي المصاحف من ظهر قلبه، فغضب وانتفخ حتى كاد يملأ ما بين شعبتي الرجل فقال: ومن هو ويحك؟ قال: عبد الله بن مسعود، فما زال يطفأ ويسير عنه الغضب حتى عاد على حاله التي كان عليها ثم قال: ويحك والله ما أعلمه بقي من الناس أحد هو أعلم بذلك منه، وسأحدثك عن ذلك، كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يزال يسمر عند أبي بكر الليلة كذلك في الأمر من أمر المسلمين، وإنه سمر عنده ذات ليلة وأنا معه فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وخرجنا معه فإذا رجل قائم يصلي في المسجد، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم يستمع قراءته، فلما كدنا أن نعرفه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من سره أن يقرأ القرآن رطبا كما أنزل فليقرأه على قراءة ابن أم عبد، ثم جلس الرجل يدعو، فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سل تعطه، قلت: والله لأغدون إليه فلأبشرنه! فغدوت إليه لأبشره، فوجدت أبا بكر قد سبقني إليه فبشره، والله! ما سابقته إلى خير قط إلا سبقني إليه."أبو عبيد في فضائله، حم، ت، وابن خزيمة وابن أبي داود وابن الأنباري معا في المصاحف، ع، حب1، قط في الأفراد، كر، حل، ق، ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧١٩٨۔۔۔ حبہ مزنی کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : اے اہل کوفہ ! تم عربوں کا سر اور سادات ہو اگر میرے پاس کوئی چیز وہاں اور وہاں سے پہنچے اس میں میرا وہی حصہ ہے جو محبت سے مجھے ملے میں تمہارے پاس عبداللہ بن مسعود (رض) کو بھیج رہا ہوں میں نے تمہارے لیے ان کا انتخاب کیا ہے میں نے اپنی ذات پر انہی کو تمہارے بھلے کے لیے ترجیح دی ہے۔ (رواہ ابن سعد والضیاء)
37199- عن حبة ال؟؟ رني أن عمر بن الخطاب قال: يا أهل الكوفة! أنتم رأس العرب وجمجمتها2، وسهمي الذي أرمي به إن أتاني شيء من ههنا وههنا وإني بعثت إليكم عبد الله بن مسعود واخترته لكم وآثرتكم به على نفسي أثرة."ابن سعد، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧١٩٩۔۔۔ ابو وائل کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کو (جسٹسی) اور بیت المال کے عہدوں کی ذمہ داری سونپی۔ (رواہ البیھقی)
37200- عن أبي وائل أن عمر استعمل عبد الله بن مسعود على القضاء وبيت المال. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭২১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢٠٠۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میں اہل کوفہ کو ابن ام عبد سے اوہپر ترجیح دی ہے دین میں ان کا طویل تر حصہ ہے اور یہ چھوٹا سا مٹکا ہے جو علم سے لبریز ہے۔ (رواہ ابن سعد)
37201- عن عمر قال: لقد آثرت أهل الكوفة بابن أم عبد على نفسي، إنه من أطولنا فوقا1، كنيف2 ملئ علما."ابن سعد".
তাহকীক: