কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭২১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢٠١۔۔۔ ابومجلز کہتے ہیں : ہم حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ (رض) نے ہمیں انعامات سے نوازا لیکن اہل شام کو انعام میں ہم پر فضیلت دی۔ ہم نے عرض کیا : اے امیرالمومنین ! کیا آپ اہل شام کو ہمارے اوپر فضیلت دے رہے ہیں ؟ آپ (رض) نے فرمایا : اے اہل کوفہ ! تم لوگ جزع فزع کرنے لگے ہو کہ میں نے اہل شام کو تمہارے اوپر فضیلت دی ہے ان کی مشقت کے بعد کی وجہ سے ؟ حالانکہ میں نے تمہیں ابن ام عبدکے ذریعے ترجیح دی ہے۔ (رواہ ابن سعد وابن شیبۃ واحمد بن حنبل وابویعلی)
37202- عن أبي مجلز قال: وفدنا إلى عمر فأجازنا ففضل أهل الشام في الجائزة فقلنا: يا أمير المؤمنين! أتفضل أهل الشام علينا؟ قال: يا أهل الكوفة! أجزعتم أن فضلت أهل الشام عليكم لبعد شقتهم؟ لقد آثرتكم بابن أم عبد."ابن سعد، ش، حم، ع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢٠٢۔۔۔ حضرت علی (رض) کہتے ہیں : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن مسعود (رض) کو ایک درخت پر چڑھنے کا حکم دیاتا کہ درخت سے مسواک توڑلائیں ۔ صحابہ کرام (رض) ابن مسعود (رض) کی پتلی پتلی ٹانگیں دیکھ کر ہنسنے لگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کیوں ہنس رہے ہو ؟ بخدا عبداللہ بن مسعود کی ٹانگیں قیامت کے دن میزان میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہوں گی۔ (رواہ الطبرانی والضیاء وابن خزیمۃ واصححہ)
37203- عن علي قال: أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم ابن مسعود أن يصعد شجرة فيأتي منها بشيء، فنظر أصحابه إلى حموشة3 ساقيه فضحكوا منها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما يضحككم؟ لرجل عبد الله أثقل في الميزان يوم القيامة من أحد. "طب، ض" وابن خزيمة وصححه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢٠٣۔۔۔ “ مسند عمر “ عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عبداللہ بن مسعود (رض) کے لیے فرمایا : وہ و لوگوں میں سب سے زیادہ اس مرتبہ کے حق دار ہیں۔ چونکہ ابن مسعود (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے مسواک لاتے تکیہ رکھتے اور آپ کے جوتے اٹھاتے تھے جب کہ ابن مسعود (رض) مویشی چراتے تھے اور نہ تجارت کا شغل تھا جب ہم غائب ہوتے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوتے اور جب ہمیں اندر جانے سے روک دیا جاتا وہ اندر داخل ہوجاتے۔ (رواہ ابن عساکر)
37204- "مسند عمر" عن عبد الرحمن بن يزيد قال قال عمر بن الخطاب لعبد الله بن مسعود: هو أحق الناس بذلك، كان صاحب السواك والوساد والنعلين ولم يكن له ضرع ولا زرع وكان يشهد إذا غبنا، ويدخل إذا حجبنا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢٠٤۔۔۔ کمیل کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا اور ابوبکر (رض) کچھ اور لوگ بھی آپ کے ہمراہ تھے ہم عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس سے گزرے وہ نماز پڑھ رہے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کون ہے جو مزے لے لے کر قرات کررہا ہے کسی نے جواب دیا : یہ عبداللہ ! ابن ام عبد ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عبداللہ اسی طرح قرآن پڑھ رہا ہے جس طرح نازل ہوا ہے پھر عبداللہ (رض) نے رب تعالیٰ کی حمدوثناء کی اور کیا خوب انداز سے رب تعالیٰ کی حمد وثناء کی پھر اللہ تعالیٰ سے خوبصورت انداز میں مانگنا شروع کیا پھر یہ دعا مانگی :

اللھم انی اسالک ایمانا لا یرتد ویقینا لا ومرافقۃ محمد النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فی اعلی علیین فی جناتک جنات الخلد

یا اللہ ! میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں جو ردنہ کیا جائے ایسے یقین کا سوال کرتا ہوں جو ختم نہ ہونے پائے اور اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تیری بہشتوں میں اعلیٰ علیین میں رفاقت کا سوال کرتا ہوں۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مار ہے تھے سوال کرو تمہیں عطا کیا جائے گا سوال کرو تمہیں عطا کیا جائے گا میں عبداللہ (رض) کو خوشخبری سنانے چلا لیکن ابوبکر مجھ پر سبقت لے گئے خیروبھلائی کے کاموں میں ابوبکر (رض) سبقت لے جاتے تھے۔ (رواہ ابن عساکر وقال ھذا غریب والمحفوظ عن عمر ماتقدم اول المسند)
37205- عن كميل قال قال عمر بن الخطاب: كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه أبو بكر ومن شاء الله، فمررنا بعبد الله بن مسعود وهو يصلي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من هذا الذي يقرأ؟ فقيل له: هذا عبد الله بن أم عبد، فقال: إن عبد الله يقرأ القرآن غضا كما أنزل، فأثنى عبد الله على ربه وحمده كأحسن ما أثنى عبد على ربه. ثم سأله فأخفى المسألة وسأله كأحسن مسألة عبد ربه، ثم قال: اللهم! إني أسألك إيمانا لا يرتد ويقينا لا ينفذ ومرافقة محمد النبي صلى الله عليه وسلم في أعلى عليين في جناتك جنات الخلد! وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سل تعطه، سل تعطه! فانطلقت لأبشره فوجدت أبا بكر قد سبقني وكان سباقا بالخير. "كر" وقال: هذا غريب، والمحفوظ عن عمر ما تقدم أول المسند".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢٠٥۔۔۔” ابوعبیدہ کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ایک سفر کیا لوگوں نے حضرت عمر (رض) سے ذکر کیا کہ عبداللہ بن مسعود (رض) اور ان کے رفقائے سفر شدت کی وجہ سے جاں بلب ہوگئے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ عبداللہ اور ان کو پیاسا نہیں مارے گا بلکہ ان کے لیے چشمہ آب جاری کردے گا۔ (رواہ یعقوب بن سفیان وابن عساکر)
37206- عن أبي عبيدة قال: سافر عبد الله بن مسعود سفرا فذكروا أن العطش قتله هو وأصحابه فذكروا ذلك لعمر فقال: لهو أن يفجر الله له عينا يسقيه منها هو وأصحابه أظن عندي من أن يقتله عطشا."يعقوب بن سفيان، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢٠٦۔۔۔ ابو وائل کی روایت ہے کہ ابن مسعود (رض) نے ایک شخص کو دیکھا اس نے شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکا رکھی تھی۔ ابن مسعود (رض) پر (رض) پر اعتراض کرتا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37207- عن أبي وائل أن ابن مسعود رأى رجلا قد أسبل فقال: ارفع إزارك، فقال: وأنت يا ابن مسعود ارفع إزارك! فقال له عبد الله: إني لست مثلك بساقي حموشة وأنا أؤم الناس، فبلغ ذلك عمر فجعل يضرب الرجل ويقول: أترد على ابن مسعود. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢٠٧۔۔۔ اعمش ، علاء نے اپنے شیوخ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر (رض) مدینہ منورہ میں ابن مسعود (رض) کے ایک گھر پر کھڑے تھے اور اس کی تعمیر کی طرف دیکھ رہے تھے قریش کے کسی شخص نے کہا : اے امیر المومنین ! آپ اس کی کفایت کردیں گے حضرت عمر (رض) نے ایک اینٹ اٹھائی اور اس شخص کے دے ماری فرمایا : کیا تم

مجھ سے روگردانی کرانا چاہتے ہو۔ (رواہ یعقوب بن سفیان)
37208- عن الأعمش عن العلاء عن أشياخ لهم قال: كان عمر على دار لابن مسعود بالمدينة ينظر إلى بنائها فقال رجل من قريش: يا أمير المؤمنين! إنك تكفي هذا، فأخذ لبنة فرمى بها وقال: أترغب بي عن عبد الله."يعقوب بن سفيان".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢٠٨۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر تشریف لے گئے اور فرمایا : بیٹھ جاؤ۔ عبداللہ بن مسعود (رض) سنتے ہی دروازے کے پاس بیٹھ گئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں وہاں بیٹھے دیکھ کر فرمایا : اے عبداللہ بن مسعود آگے آجاؤ۔ (رواہ ابن عساکر)
37209- عن جابر قال: لما استوى رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر يوم الجمعة قال: اجلسوا: فسمع ذلك ابن مسعود فجلس عند باب المسجد، فرآه النبي صلى الله عليه وسلم فقال: تعال يا عبد الله بن مسعود. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢٠٩۔۔۔ عمر وبن حدیث کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے فرمایا : قرآن پڑھو عرض کیا : میں قرآن پڑھوں حالانکہ قرآن آپ پر نازل ہوتا ہے فرمایا : میں چاہتا ہوں کہ کسی اور سے سنوں چنانچہ ابن مسعود (رض) نے سورة النساء شروع کردی اور جب اس آیت کریمہ پر پہنچے۔

فکیف اذا جینا من کل امۃ شھید وجنابک علی ھولاء شھید

اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو بھی ان لوگوں پر بطور گواہ لائیں گے۔

تع نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور عبداللہ بن مسعود (رض) نے تلاوت روک دی رسول روک دی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بات کرو۔ ابن مسعود (رض) نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صلوٰۃ سلام بھیجنے کے بعد شہادت حق پیش کی اور بولے : ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر راضی ہیں اسلام کے دین ہونے پر راضی میں جس چیز سے اللہ اور اس کا رسول راضی ہے میں بھی اس سے راضی ہوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تمہارے لیے اس چیز پر راضی ہوں جس پر ابن ام عبدراضی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37210- عن عمرو بن حريث قال قال النبي صلى الله عليه وسلم لعبد الله بن مسعود: اقرأ، اقرأ وعليك أنزل! قال: إني أحب أن أسمعه من غيري، فافتتح النساء حتى إذا بلغ {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيداً} فاستعبر رسول الله صلى الله عليه وسلم وكف عبد الله، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: تكلم، فحمد الله أول كلامه وأثنى على الله وصلى على النبي صلى الله عليه وسلم وشهد شهادة الحق وقال: رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا ورضيت لكم ما رضي الله ورسوله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: رضيت لكم ما رضي لكم ابن أم عبد. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢١٠۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) فرماتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت نمونہ اور شمائل میں لوگوں میں سب سے زیادہ آپ کے مشابہ تھے (رواہ احمد بن والدیانی و یعقوب بن سفیان وابن عساکر)
37211- عن حذيفة قال: إن أشبه الناس هديا ودلا1 وسمتا برسول الله صلى الله عليه وسلم عبد الله بن مسعود. "حم" والروياني ويعقوب بن سفيان "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢١١۔۔۔ حضرت خذیفہ بن یمان (رض) سے بمثل مذکور بالاحدیث مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ حذیفہ (رض) نے فرمایا : ابن ام عبد کے نمونہ کو اپناؤ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37212- عن حذيفة بن اليمان مثله إلا أنه قال: تمسكوا بعهد ابن أم عبد. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢١٢۔۔۔ معاویہ بن قرہ اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ابن مسعود (رض) صحابہ (رض) کی لیے مسواک کی ٹہنیاں توڑ کر لاتے تھے ہوا چل رہی ہوتی جس سے ان کی ٹانگیں ننگی ہوجاتی تھیں اور صحابہ (رض) ان کی پتلی پتلی ٹانگیں دیکھ کر ہنس پڑتے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم اس کی پتلی پتلی پنڈلیوں کو دیکھ کر ہنس رہے ہو ؟ قسم اس ذات کی جس کی قدرت میں میری جان ہے یہ دونوں ٹانگیں قیامت کے دن کیا تم اس کی پتلی پتلی پنڈلیوں کو دیکھ کر ہنس رہے ہو ؟ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری ہے یہ دونوں ٹانگیں قیامت کے دن میزان میں احد پہاڑ سے زیادہ بھاری ہوں گی۔ (رواہ ابن جریر)
37213- عن معاوية بن قرة عن أبيه أن ابن مسعود كان يجني لهم نخلة فهبت الريح فكشفت عن ساقيه فضحكوا من دقة ساقيه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أتض حكون من دقة ساقيه؟ والذي نفسي بيده! لهما أثقل في الميزان يوم القيامة من جبل أحد. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢١٣۔۔۔ سعید بن جبیر حضرت ابودرداء (رض) سے رواہت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور ہلکا خفیف ساخطبہ دیا وار پھر فرمایا : اے ابوبکر ! کھڑے ہوجاؤ اور لوگوں سے خطاب کرو چنانچہ ابوبکر (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطبہ سے قدرے کم خطاب کیا جب ابوبکر خطاب سے فارغ ہوئے فرمایا : اے عمر ! کھڑے ہوجاؤ اور خطاب کرو۔ حضرت عمر (رض) کھڑے ہوئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و ابوبکر (رض) سے کم خطاب کیا۔ جب حضرت عمر (رض) خطاب سے فارغ ہوئے فرمایا : اے فلاں کھڑے ہوجاؤ اور خطاب کرو بات پوری ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیٹھ جاؤ، یا فرمایا : خاموش ہوجاؤ۔ (اس میں ابوشہاب کو شک ہوا ہے) چونکہ گربیان چاک کرنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور بیان میں جادو جیسا اثر ہوتا ہے۔ پھر فرمایا : اے ابن ام عبد ! کھڑے ہوجاؤ اور خطاب کرو چنانچہ ابن ام عبد (رض) کھڑے ہوئے اور حمد وثناء کے بعد فرمایا : اے لوگو ! ہمارا رب ہے قرآن ہمارا نام ہے بیت اللہ ہمارا قبلہ ہے اور یہ ہمارے نبی ہیں پھر اپنے ہاتھ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اشارہ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابن ام عبد نے صواب اور سچ کہا میں اس چیز پر راضی ہوں جو اللہ تعالیٰ نے میرے لیے میری امت کے لیے اور ابن ام عبد کے لیے پسند فرمائی ہے اور میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہون جیسے اللہ تعالیٰ نے میرے لیے میری امت کے لیے اور ابن ام عبد کے لیے ناپسند فرمائی۔ (رواہ ابن عساکر وقال سعید بن جبیرلم یدلک اباالدرواء)
37214- عن سعيد بن جبير عن أبي الدرداء قال: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فخطب خطبة خفيفة فلما فرغ من خطبته قال: يا أبا بكر! قم فاخطب، فقام أبو بكر فخطب فقصر دون النبي صلى الله عليه وسلم، فلما فرغ أبو بكر من خطبته قال: يا عمر! قم فاخطب، فقام عمر فخطب فقصر دون النبي صلى الله عليه وسلم ودون أبي بكر، فلما فرغ من خطبته قال: يا فلان! قم فاخطب، فاستوفى القول، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اجلس - أو: اسكت - شك أبو شهاب فإن التشقيق من الشيطان والبيان من السحر، ثم قال: يا ابن أم عبد! قم فاخطب، فقام ابن أم عبد فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: أيها الناس! إن الله ربنا والقرآن إمامنا وإن البيت قبلتنا وإن هذا نبينا - ثم أومى بيده إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أصاب ابن أم عبد وصدق - مرتين، رضيت ما رضى الله به لي ولأمتي وابن أم عبد، وكرهت ما كرهه الله لي ولأمتي وابن أم عبد. "كر"، قال سعيد بن جبير

لم يدرك أبا الدرداء".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢١٤۔۔۔ ابوموسیٰ (رض) کی روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود (رض) حاضر ہوئے جب ہم غائب ہوئے اور جب ہمیں روک دیا جاتا انھیں اندر داخل ہونے کی اجازت دی جاتی۔ (رواہ یعقوب بن سفیان وابن عساکر)
37215- عن أبي موسى قال: كان ابن مسعود يشهد إذا غبنا ويؤذن له إذا حجبنا."يعقوب بن سفيان، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢١٥۔۔۔ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق مجھے جو چیز سب سے پہلے معلوم ہوئی اس کی تفصیل یہ ہے کہ میں اپنی ایک پھوپھی کے ہمراہ مکہ گیا، لوگ ہمیں عباس بن عبدالمطلب کی طرف لے گئے جب ہم عباس (رض) کے پاس پہنچے تو وہ آن زمزم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ایک شخص باب صفا کی طرف سے آیا اس کے چہرے میں سفیدی کے ساتھ سرخی ملی ہوئی تھی اس کے بال سیدھے قدرے گھنگھریالے پن کی طرف مائل تھے جو کانوں کے نصف تک لٹکے ہوئے تھے ستوان ناک سامنے کے دانت چمکدار اس کی آنکھیں سیاہ اور موٹی تھیں گھنی داڑھی سینے کے درمیان بالوں کی باریک سی لکیر تھی پراز گوشت ہتھیلیاں اور قدم اس شخص نے دوسفید کپڑے پہن رکھے تھے یون لگتا تھا جیسے چودھویں کا چاند نمودار ہوا ہے اس شخص کے دائیں طرف بےریش قریب البلوغ خوبصورت ایک لڑکا چل رہا تھا اس کے پیچھے پیچھے ایک عورت تھی جس نے اپنے اعضاء محاسن کو ڈھانپ رکھا تھا یہ شخص حجر اسود کے پاس گیا استلام کیا پھر لڑکے نے استلام کیا اور پھر عورت نے استلام کیا پھر اس شخص نے بیت اللہ کا سات مرتبہ طواف کیا جب کہ لڑکا اور عورت اس کے ساتھ تھے ہم نے عباس (رض) سے پوچھا : اے ابوالفضل ! ہم اس دین کو نہیں جانتے یا کوئی دنیا دین چل پڑا ہے عباس (رض) نے کہا : یہ میرا بھیجتا محمد بن عبداللہ ہے۔ یہ لڑکا علی بن ابی طالب ہے اور عورت محمد کی بیوی خدیجہ (رض) ہے۔ بخدا ! سطح زمین پر ہم ان تین کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے جو اس دین کے مطابق اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہو۔ (رواہ یعقوب بن شیبۃ وقال لانعلم رواہ احدعن شریک غیر یشرین مھران الخصاف وھو صالحورو ابن عساکر)
37216- عن ابن مسعود قال: إن أول شيء علمته من أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم قدمت مكة مع عمومة لي فأرشدونا إلى العباس بن عبد المطلب فانتهينا إليه وهو جالس إلى زمزم فجلسنا إليه فبينا نحن عنده إذ أقبل رجل من باب الصفا أبيض يعلوه حمرة، له وفرة جعدة إلى أنصاف أذنيه، أقنى الأنف، براق الثنايا، أدعج العينين كث اللحية، دقيق المسربة، شثن الكفين والقدمين، عليه ثوبان أبيضان كأنه القمر ليلة البدر، يمشي على يمينه غلام أمرد حسن الوجه مراهق أو محتلم، تقفوه امرأة قد سترت محاسنها، حتى قصد نحو الحجر فاستلمه، ثم استلم الغلام ثم استلمت المرأة ثم طاف بالبيت سبعا والغلام والمرأة يطوفان معه، قلنا: يا أبا الفضل! إن هذا الدين لم نكن نعرفه فيكم أو شيء حدث؟ قال: هذا ابن أخي محمد بن عبد الله، والغلام علي بن أبي طالب، والمرأة امرأته خديجة، أما والله ما على وجه الأرض نعلمه يعبد الله بهذا الدين إلا هؤلاء الثلاثة."يعقوب بن شيبة وقال: لا نعلم رواه أحد عن

شريك غير بشير بن مهران الخصاف وهو صالح، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢١٦۔۔۔ ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں : میں اپنے آپ کو چھ آدمیوں میں سے چھٹے نمبر پر دیکھ رہا ہوں سطح زمین پر ہمارے علاوہ کوئی اور مسلمان نہیں تھا۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37217- عن ابن مسعود قال: لقد رأيتني سادس ستة، ما على ظهر الأرض مسلم غيرنا. "ش"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢١٧۔۔۔ حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں : مجھے رسول اللہ کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ستر سورتیں پڑھائیں میں نے انھیں اچھی طرح ذہن نشین کرلیا جب کہ زید بن ثابت (رض) نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ (رواہ ابن ابی داؤد فی المصاحف)
37218- عن ابن مسعود قال: أقرأني رسول الله صلى الله عليه وسلم سبعين سورة فأحكمتها قبل أن يسلم زيد بن ثابت."ابن أبي داود في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢١٨۔۔۔ عثمان بن ابی العاص کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن تادم حیات دو شخصوں سے والہانہ محبت کرتے رہے عبداللہ بن مسعود اور عماربن یاسر (رض) ۔ (رواہ ابن عساکر)
37219- عن عثمان بن أبي العاص قال: رجلان مات النبي وهو يحبهما: عبد الله بن مسعود وعمار بن ياسر. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢١٩۔۔۔ حسن کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عمر وبن العاص (رض) کو لشکر کا سپہ سالار اور عامل مقرر کرکے بھیجتے تھے لشکر میں عام صحابہ (رض) شامل ہوتے تھے، حضرت عمر (رض) سے پوچھا گیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو عامل مقرر کرتے تھے آپ کو اپنے قریب رکھتے اور آپ سے محبت کرتے تھے عمرو (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے عامل مقرر کرنے تھے مجھے معلوم نہیں آیا کہ آپ مجھ سے الفت کرتے تھے یا مجھ سے محبت کرتے تھے لیکن میں تمہیں ایسے دو شخص بتاسکتا ہوں جن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محبت کرتے تھے اور انسے محبت کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوئے وہ عبداللہ بن مسعود (رض) اور عمار بن یاسر (رض) ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
37220- عن الحسن قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يبعث عمرو بن العاص على الجيش عاملا وفيهم عامة أصحابه، فقيل لعمرو: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد كان يستعملك ويدنيك ويحبك، فقال: قد كان يستعملني فلا أدري يتألفني أو يحبني ولكن أدلكم على رجلين مات رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يحبهما: عبد الله بن مسعود وعمار بن ياسر. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢٢٠۔۔۔ عطاء کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے ارشاد فرمایا : بیٹھ جاؤ عبداللہ بن مسعود (رض) دروازے پر تھے وہیں بیٹھ گئے آپ نے انھیں دیکھ کر فرمایا : اے عبداللہ اندر داخل ہوجاؤ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37221- عن عطاء قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يخطب فقال للناس: اجلسوا، فسمعه عبد الله بن مسعود وهو على الباب فجلس، فقال: يا عبد الله! ادخل. "ش".
tahqiq

তাহকীক: