কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭২৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢٢١۔۔۔ عروہ بن زبیر کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد سب سے پہلے جہرا قرات حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے کی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37222- عن عروة بن الزبير قال: كان أول من جهر بالقراءة بمكة بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم عبد الله بن مسعود. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض)
٣٧٢٢٢۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ سب سے پہلے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ظہر قلب (زبانی) سے کتاب اللہ کی آیتیں پڑھی ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
37223- عن زر عن علي قال: أول من قرأ آية من كتاب الله عن ظهر قلبه عبد الله بن مسعود. "....".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض)
٣٧٢٢٣۔۔۔ سلمان کی روایت ہے کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جوں ہی اندرداخل ہوئے دیکھتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر (رض) کھڑے میں ان کے پاس ایک طشتری ہے اور جو کچھ اس میں پڑا ہے وہ پی رہے ہیں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بھتیجے تمہارا کیا حال ہے ؟ عرض کیا : میں چاہتا ہوں کہ میرے پیٹ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خون شامل ہوجائے فرمایا : تمہارے لیے لوگوں سے ہلاکت ہے اور لوگوں کے لیے تم سے ہلاکت ہے آگ تمہیں نہیں چھوئے گی مگر قسم پوری کرنے طور کے طور پر۔ (رواہ ابن عساکر ورجالہ ثقات)
37224- عن سلمان: أنه دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وإذا عبد الله بن الزبير معه طست يشرب ما فيه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما شأنك يا ابن أخي؟ فقال: إني أحببت أن يكون من دم رسول الله صلى الله عليه وسلم في جوفي، فقال: ويل لك من الناس وويل للناس منك! لا تمسك النار إلا قسم اليمين. "كر"، ورجاله ثقات1
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض)
٣٧٢٢٤۔۔۔ یعلی بن اشدق عبداللہ بن جراد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اسلام (یعنی مدینہ) میں سب سے پہلے بیدار ہونے والا بجزعبداللہ بن زبیر (رض) ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں کھجور سے گھٹے دی تھی (رواہ ابن عساکر

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ ٢١٧٦۔
37225- عن يعلى بن الأشدق عن عبد الله بن جراد قال: أول مولود في الإسلام عبد الله الزبير وحنكه رسول الله صلى الله عليه وسلم بتمرة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض)
٣٧٢٢٥۔۔۔ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کی روایت ہے کہ میں نے اپنی ماں کے پیٹ میں ہجرت کی ہے چنانچہ میری والدہ کو جو بھی تکلیف اور اذیت پہنچی اس کا درد اور شدت مجھ میں ضرور داخل ہوئی۔ (رواہ ابن عساکر)
37226- عن عبد الله بن الزبير أنه قال: هاجرت وأنا في بطن أمي، فما كان يصيبها شيء من الأذى إلا دخل علي ألم ذلك وشدته. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض)
٣٧٢٢٦۔۔۔ حضرت عبداللہ بن زبیر کی روایت ہے کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے دراں حالیکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سینگی لگوا رہے تھے جب سینگی لگوا کر فارغ ہوئے فرمایا : اے عبداللہ ! یہ خون ایسی جگہ بہادو جہاں لوگ اسے نہ دیکھ لوٹے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عبداللہ ! تم نے کیا کیا ؟ عرض کی : میں نے خون انتہائی خفیہ جگی میں ڈال دیا ہے جو لوگوں کی نظروں سے بالکل مخفی ہے آپ نے فرمایا : شاید تم نے خون پی لیا ہے میں نے عرض کیا : جی ہاں، فرمایا : تم نے خون کیوں پیا ؟ لوگوں کے لیے تم سے ہلاکت ہے اور تمہارے لیے لوگوں سے ہلاکت ہے۔ ابوعاصم کہتے ہیں : لوگوں کا خیال ہے کہ عبداللہ بن زبیر (رض) میں قوت اسی خون کی وجہ سے تھی۔ (رواہ ابویعلی وابن عساکر)
37227- عن عبد الله بن الزبير أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم وهو يحتجم فلما فرغ قال: يا عبد الله! اذهب بهذا الدم فأهرقه حتى لا يراك أحد - وفي لفظ: فواره حيث لا يراه أحد - فلما برز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم عمد إلى الدم فشربه، فلما رجع قال: يا عبد الله! ما صنعت؟ قال جعلته في أخفى مكان علمت أنه خاف عن الناس، قال: لعلك شربته؟ قلت نعم، قال: ولم شربت الدم؟ ويل للناس منك وويل لك من الناس؛ قال أبو عاصم: كانوا يرون أن القوة التي به من ذلك الدم. "ع، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض)
٣٧٢٢٧۔۔۔ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سینگی لگوائی اور سینگی سے نکلنے والا خون مجھے دیا اور فرمایا : یہ خون ایسی جگہ چھپادو جہاں اس تک نہ کوئی درندہ پہنچنے پائے نہ کتا اور نہ ہی کوئی انسان۔ میں اٹھ کر الگ ہوگیا اور خون پی لیا پھر آپ کے پاس حاضر ہوا آپ نے فرمایا : تم نے کیا کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : آپ نے جو حکم دیا ہے وہ میں نے کردیا ہے فرمایا : میرے خیال میں تم اسے پی چکے ہو۔ میں نے عرض کیا : جی ہاں۔ فرمایا : میری امت نے تم سے کیا لینا ہے۔ ابوسلمہ کہتے ہیں : لوگوں کا خیال ہے کہ ابن زبیر (رض) میں قوت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خون کی وجہ سے تھی۔ (رواہ البھقی فی۔۔۔ وابن عساکر)
37228- عن عبد الله بن الزبير قال: احتجم رسول الله صلى الله عليه وسلم وأعطاني دمه، قال: اذهب فواره لا يبحث عنه سبع أو كلب أو إنسان، فتنحيت فشربته ثم أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقال ما صنعت؟ قلت: صنعت الذي أمرتني، قال: ما أراك إلا قد شربته! قلت: نعم، قال: ماذا تلقى أمتي منك! قال أبو سلمة فيرون أن القوة التي كانت في ابن الزبير من قوة دم رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ق" في ... ، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض)
٣٧٢٢٨۔۔۔ مجاہد کہتے ہیں : ابن زبیر (رض) عبادت تک جاپہنچے ہیں جہاں تک کوئی نہیں پہنچ سکا چنانچہ ایک مرتبہ سیلاب آیا جو لوگوں اور بیت اللہ کے طواف میں رکاوٹ بن گیا ابن زبیر (رض) تشریف لائے اور تیر کر طواف کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
37229- عن مجاهد قال: بلغ ابن الزبير من العبادة ما لم يبلغ أحد، وجاء سيل فحال بين الناس وبين الطواف فجاء ابن الزبير فطاف أسبوعا سباحة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض)
٣٧٢٢٩۔۔۔ عبداللہ بن زبیر (رض) کی روایت ہے کہ جب میری وادہ اسماء بنت ابی بکر (رض) نے مجھے جنم دیا مجھے اٹھا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آئی سامنے سے میرے والد زبیر (رض) تشریف لارہے تھے مجھے والدہ سے لے لیا اور خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مجھے لیتے گئے آپ نے مجھے گھٹی دی۔ (رواہ الزبیربن بکار)
37230- عن عبد الله بن الزبير قال: لما ولدتني أي أسماء بنت أبي بكر الصديق حملتني وذهبت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستقبلني أبي الزبير فأخذني منها وذهبا بي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فحنكي."الزبير ابن بكار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض)
٣٧٢٣٠۔۔۔ قطن بن عروہ کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) سات سات دن تک صوم وصال رکھتے حتیٰ کہ ان کی انتڑیاں سکڑ جاتی تھیں۔ (رواہ ابن جریر)
37231- عن قطن بن عروة قال: كان عبد الله بن الزبير يواصل سبعة أيام حتى تيبس أمعاؤه."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض)
٣٧٢٣١۔۔۔ ہشام بن عروہ کہتے ہیں : عبداللہ بن زبیر (رض) سات سات دن تک وصوم وصال رکھتے جب گراں ہونے لگا پانچ پانچ دن کا صوم وصال رکھتے جب یہ بھی گراں ہونے لگا تین تین دن تک رکھتے۔ (رواہ ابن جریر)
37232- عن هشام بن عروة قال: كان عبد الله بن الزبير يواصل سبعة أيام، فلما كبر جعلها خمسا، فلما كبر جدا جعلها ثلاثا."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض)
٣٧٢٣٢۔۔۔ محمد بن کعب قرظی کی روایت ہے کہ جب اللہ بن زبیر پیدا ہوئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا : کیا وہ لڑکا ہے ؟ کیا وہ لڑکا ہے آپ کو بتایا گیا : یارسول اللہ ! اسماء (رض) نے عبداللہ کو دودھ پلانا چھوڑیا ہے جب اس نے آپ کو یہ کہتے سنا۔ دودھ پلاؤ اگرچہ تمہیں آنکھوں کے آنسوہی کیوں نہ پلانے پڑیں یہ لڑکا بھڑیوں کا دنبہ ہے وہ بھیڑے ہوں گے جنھوں نے کپڑے پہن رکھے ہوں گے البتہ یہ ضرور برضرورحرم پاک کا دفاع کرتا رہے گا اور حرم ہی میں اسے قتل کردیا جائے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
37233- عن محمد بن كعب القرظي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل على أسماء بنت أبي بكر الصديق حين ولد عبد الله بن الزبير فقال: أهو هو؟ أهو هو، فقيل: يا رسول الله! إن أسماء تركت رضاع عبد الله لما سمعتك تقول: أهو هو، فقال: أرضعيه ولو بماء عينيك، كبش من ذئابٍ، ذئابٌ عليها ثياب، ليمنعن الحرم وليقتلن به. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض)
٣٧٢٣٣۔۔۔ ضمام کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) نے اپنی والدہ کو پیغام بھیجا کہ لوگ مجھ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں اور انھوں نے مجھے امان کی دعوت دی ہے والدہ نے جواب دیا : اگر تو کتاب اور سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احیاء کے لیے نکلے ہو تو بلاشبہ تم حق پر قائم ہو اور اگر طلب دنیا کے لیے ہو تو پھر تمہارے زندہ اور مردہ ہونے میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔ (رواہ ابو نعیم بن حماد فی الفتن)
37234- عن ضمام أن عبد الله بن الزبير أرسل إلى أمه أن الناس قد انفضوا عني وقد دعاني هؤلاء إلى الأمان فقالت: إن خرجت لإحياء كتاب الله وسنة نبيه صلى الله عليه وسلم قمت على الحق، وإن كنت إنما خرجت على طلب الدنيا فلا خير فيك حيا أو ميتا."نعيم بن حماد في الفتن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض)
٣٧٢٣٤۔۔۔ ابومحمد زباح مولائے زبیر کہتے ہیں : میں نے اسماء بنت ابی بکر (رض) کو سنا وہ حجاج سے کہہ رہی تھیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سینگی لگوائی اور آپ نے نکلنے والا خون میرے بیٹے کو دیا اس نے خون پی لیا اتنے میں جبرائیل امین تشریف لائے اور آپ کو خبر کردی آپ نے فرمایا : تم نے خون کا کیا کیا وہ بولا : میں نے آپ کا خون گرانا اچھا نہیں سمجھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں آگ نہیں چھونے پائے گی آپ نے اس کے سرپر سدت شفقت پھیرا اور فرمایا : تم سے لوگوں کے لیے ہلاکت ہے اور لوگوں سے تمہارے لیے ہلاکت ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37235- عن أبي محمد رباح مولى الزبير قال: سمعت أسماء بنت أبي بكر تقول للحجاج: إن النبي صلى الله عليه وسلم احتجم ودفع دمه إلى ابني فشربه فأتاه جبريل فأخبره، فقال: ما صنعت؟ قال: كرهت أن أصب دمك فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا تمسك النار - ومسح على رأسه فقال: ويل للناس منك وويل لك من الناس. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض)
٣٧٢٣٥۔۔۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) کی روایت ہے کہ جب حضرت عبداللہ (رض) بن زبیران کے بطن میں تھے میرے حمل کا وقت پورا ہونے کو تھا میں مدینہ آئی اور قباء میں جا اتری اور قباء ہی میں میں نے وضع حمل کیا پھر میں بچے کو لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ نے بچہ مجھ سے لیے لیا اور اپنی گود میں رکھ لیا پھر آپ نے کھجور منگوائی اور چبا کر بچے کے منہ میں ڈال دی چنانچہ نچے کے منہ میں سب سے پہلی چیز نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لعاب مبارک تھا پھر آپ نے اسے کھجور سے گھٹی دی پھر دعائے برکت فرمائی اور اس کا نام عبداللہ رکھا یہ بچہ اسلام میں پیدا ہونے والد۔ (مسلمانوں کے ماں) پہلا بچہ تھا۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ وابن عساکر)
37236- عن أسماء بنت أبي بكر أنها حملت بعبد الله بن الزبير قالت: فخرجت وأنا متم فأتيت المدينة فنزلت بقباء فولدت بقباء، ثم أتيت به النبي صلى الله عليه وسلم، فأخذه فوضعه في حجره ثم دعا بتمرة فمضغها في فيه، فكان أول شيء دخل في فيه ريق النبي صلى الله عليه وسلم، ثم حنكه بالتمرة ثم دعا وبرك عليه، وسماه عبد الله؛ وكان أول مولود ولد في الإسلام. "ش، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض)
٣٧٢٣٦۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن زبیر کو گھٹی دی۔ (رواہ ابن عساکر)
37237- عن عائشة قالت: حنك رسول الله صلى الله عليه وسلم عبد الله ابن الزبير. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض)
٣٧٢٣٧۔۔۔ اسحاق بن سعید اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) بن زبیر (رض) کے پاس آئے اور فرمایا : اے ابن زبیر ! اللہ تعالیٰ کے حرم پاک میں الحاد پھیلانے سے بچو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ عنقریب قریش سب سے ایک شخص حرم میں الحاد پھیلائے گا اگر اس کے گناہوں کا جن وانس کے گناہوں سے وزن کیا ا جائے تو اس کے گناہ بھاری نکلیں گے دیکھ کہیں وہ تم ہی نہ ہو۔ (رواہ بن ابی شیبہ)
37238- عن إسحاق بن سعيد عن أبيه قال: أتى عبد الله بن عمر عبد الله بن الزبير فقال: يا ابن الزبير! إياك والإلحاد1 في حرم الله! فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إنه سيلحد فيه رجل من قريش لو أن ذنوبه توزن بذنوب الثقلين لرجحت عليه، فانظر لا تكون هو. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض)
٣٧٢٣٨۔۔۔ نافع کی روایت ہے کہ ابن عمر (رض) نے ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا : میں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حواری کا بیٹا ہوں۔ ابن عمر (رض) نے فرمایا : بشرطیکہ اگر تم زبیر کی اولاد میں سے ہو وگرنہ نہیں۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
37239- عن نافع قال: سمع ابن عمر رجلا يقول: أنا ابن حواري رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ابن عمر: إن كنت من آل الزبير وإلا فلا. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض)
٣٧٢٣٩۔۔۔ ویحانہ کی روایت ہے کہ ابن عمر (رض) نے ایک لڑکے کو سناوہ کہہ رہا تھا۔ میں حواری کا بیٹا ہوں، ابن عمر (رض) نے فرمایا : اگر تم ابن زبیر کے بیٹے نہیں ہو تو جھوٹ بولتے ہو۔ (رواہ ابن عساکر)
37240- عن أبي ريحانة قال: سمع ابن عمر غلاما يقول: أنا ابن الحواري، فقال: كذبت إن لم تكن ابن الزبير. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض)
٣٧٢٤٠۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن جعفر (ایک روایت میں ہے جعفر بن زبیر) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کی اس وقت ان دونوں کی عمر سات سال تھی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب انھیں دیکھا تبسم فرمایا اور دست اقدس بڑھا کر ان سے بیعت لی۔ (رواہ ابونعیم وابن عساکر)
37241- عن عروة أن عبد الله بن الزبير وعبد الله بن جعفر - وفي لفظ: وجعفر بن الزبير - بايعا النبي صلى الله عليه وسلم وهما ابنا سبع سنين وأن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما رآهما تبسم وبسط يده فبايعهما. أبو نعيم، "كر".
tahqiq

তাহকীক: