কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭২৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض)
٣٧٢٤١۔۔۔ ہشام بن عروہ عروہ بن زبیر (رض) اور فاطمہ بنت مندذربن زبیر سے روایت نقل کرتے ہیں وہ دونوں کہتے ہیں : حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) جب ہجرت مدینہ کے لیے مکہ سے نکلیں تو عبداللہ زبیر (رض) ان کے بطن میں تھے قباء پہنچیں اور وہیں عبداللہ پیدا ہوئے پھر انھیں لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور عبداللہ (رض) کو آپ کی گود میں رکھ دیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھجور مانگی ہم نے کھجور تلاش کی پھر آپ نے کھجور چبا کر عبداللہ (رض) کے منہ میں ڈالی سب سے پہلے جو چیز عبداللہ (رض) نے پیٹ میں پہنچی وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لعاب مبارک تھا اسماء (رض) کہتی ہیں : پھر آپ نے عبداللہ کے سرپرست شفقت پھیرا ان کے لیے دعائے برکت کی اور اس کا نام عبداللہ رکھا پھر عبداللہ (رض) کی عمر جب سات سال کی ہوئی تو زبیر (رض) کی ایماء پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں بیعت کے لیے حاضر ہوئے آپ نے جب عبداللہ (رض) کو سامنے سے آئے دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرادیئے پھر عبداللہ (رض) سے بیعت لی۔ (رواہ ابن عساکر)
37242- عن هشام بن عروة عن عروة بن الزبير وفاطمة بنت المنذر ابن الزبير أنهما قالا: خرجت أسماء بنت أبي بكر حين هاجرت وهي حبلى بعبد الله بن الزبير فقدمت قباء فنفست بعبد الله بقباء، ثم خرجت به حين نفست إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فوضعه في حجره، ثم دعا بتمرة، قال قالت عائشة: فمكثنا ساعة نلتمسها فلم نجدها ثم مضغها ثم بزقها في فيه، فإن أول شيء دخل بطنه لريق رسول الله صلى الله عليه وسلم، قالت أسماء: ثم مسحه وصلى عليه وسماه عبد الله، ثم جاءه بعد وهو ابن سبع سنين أو ثمان سنين ليبايع رسول الله صلى الله عليه وسلم أمره بذلك الزبير، فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم حين رآه مقبلا إليه ثم بايعه. "كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض)
٣٧٢٤٢۔۔۔” مسند زبیر (رض) “ قتام بن بسطام کی روایت ہے کہ ابن عمر (رض) بن زبیر (رض) کے پاس سے گزرے دراں حالیکہ عبداللہ (رض) سولی پر لٹکادیئے گئے تھے ابن عمر (رض) بولے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص برائی کرتا ہے اسے دنیا میں یا آخرت میں اس کا بدلہ دے دیا جاتا ہے کہ اگر یہ کسی برائی کے بدلہ میں ہوا ہے تو یہ ہے اور یہ ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37243- "مسند الزبير رضي الله عنه" عن قتام بن بسطام قال: مر ابن عمر على عبد الله بن الزبير وهو مصلوب فقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من يعمل سوءا يجز به في الدنيا أو في الآخرة فإن يكن هذا بذاك فهه فهه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض)
٣٧٢٤٣۔۔۔” ایضا “ عروہ کی روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر (رض) نے غزوہ خندق کے دن زبیر (رض) سے عرض کیا : اے اباجان ! میں نے اشعر گھوڑے پر سوار دیکھا ہے زبیر (رض) نے فرمایا : اے بیٹے واقعی تم نے مجھے دیکھا تھا ؟ عرض کیا : جی ہاں زبیر (رض) نے فرمایا : اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے باپ کے لیے اپنے والدین جمع کرکے فرمایا : گھوڑے پر سوار ہوجاؤ، میرے ماں باپ تمہارے اوپر فدا جائیں۔ (رواہ ابن جریر)
37244- "أيضا" عن عروة أن عبد الله بن الزبير قال يوم الخندق للزبير: يا أبت! لقد رأيتك وأنت تحمل على فرسك الأشقر قال: هل رأيتني أي بني؟ قال: نعم، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجمع حينئذ لأبيك أبويه ويقول: احمل فداك أبي وأمي."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عامر (رض)
٣٧٢٤٤۔۔۔ عمروبن میمون بن مہران کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عامر (رض) جب مرض الوفات میں مبتلا تھے ان کے پاس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب تشریف لائے ان میں ابن عمر (رض) بھی تھے عبداللہ بن عامر (رض) بولے : تم لوگ مجھے کسی حال میں دیکھ رہے ہو ؟ صحابہ (رض) نے فرمایا : ہمیں تمہاری نجات میں کچھ شک نہیں چونکہ آپ لوگوں کی مہمان نوازی کرتے رہے ہیں اور مبتلائے حوادث کو عطا کرتے رہے ہیں (رواہ البیھقی فی شعب الایمان)
37245- عن عمرو بن ميمون بن مهران أن عبد الله بن عامر حين مرض مرضه الذي مات فيه دخل عليه أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وفيهم ابن عمر فقال: ما ترون في حالي؟ فقالوا: ما نشك لك في النجاة، قد كنت تقري الضيف وتعطي المختبط "هب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض)
٣٧٢٤٥۔۔۔ ابن عمر (رض) کہتے ہیں : غزوہ احد کے موقع پر جب میرے والد مجھے لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اس وقت میری عمرچودہ۔ (١٤) سال تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے غزوہ میں شمولیت کی اجازت نہیں دی پھر غزوہ خندق کے موقع پر والد محترم لے کر آئے اس وقت پندرہ (١٥) سال میری عمر تھی ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے غزوہ میں شمولیت کی اجازت مرحمت فرمائی۔ (رواہ عبدالرزاق)
37246- عن ابن عمر قال: لما جاء بي أبي يوم أحد إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا ابن اربع عشرة فلم يجزني النبي صلى الله عليه وسلم ، ثم جاء بي يوم الخندق وأنا ابن خمس عشرة سنة ففرض لي رسول الله صلى الله عليه وسلم (عب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض)
٣٧٢٤٦۔۔۔ ابن عمر (رض) کہتے ہیں : مجھے غزوہ احد کے موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کیا گیا اس وقت ١٤ سال میری عمر تھی آپ نے مجھے نابالغ سمجھ کر غزوہ میں شرکت کی اجازت نہیں دی پھر مجھے غزوہ خندق کے موقع پر پیش کیا گیا جب کہ میری عمر ١٥ سال تھی آپ نے مجھے اجازت دے دی۔ (رواہ عبدالرزاق وابن ابی شیبۃ)
37246 عن ابن عمر قال : عرضت على النبي صلى الله عليه وسلم يوم أحد وأنا ابن أربع عشرة سنة فلم يجزني ولم يرني بلغت ، وعرضت عليه يوم الخندق وأنا ابن خمس عشرة فأجازني (عب ، ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض)
٣٧٢٤٧۔۔۔ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : غزوہ احد کے موقع پر مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کیا گیا اس وقت میری عمردس (١٠) سال تھی آپ نے مجھے چھوٹا سمجھ کر غزوہ میں شرکت کرنے کی اجازت نہ دی پھر غزوہ خندق کے موقع پر مجھے پیش کیا گیا میری عمر پندرہ سال تھی آپ نے مجھے اجازت دے دی۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
37247 (أيضا) عرضت على النبي صلى الله عليه وسلم يوم أحد وأنا ابن عشرة سنة فاستصغرني ، وعرضت عليه يوم الخندق وأنا ابن خمس عشرة فأجازني (ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض)
٣٧٢٤٨۔۔۔ ابن شوذب کہتے ہیں : حضرت ابن عمر (رض) کو خبر پہنچی کہ زیادہ حجاز مقدس کی گورنری کا خواہاں ہے ابن عمر (رض) کو اس کی سلطنت میں رہنا ناگوار گزرا اور فرمایا : یا اللہ تو اپنی مخلوق میں جسے چاہتا قتل کا کفارہ بنادیتا ہے پس مجھے قتل کیے جانے سے قبل اسے موت سے ہمکنار کردے چنانچہ زیاد کے انگوٹھے پر طاعون کا دانہ نکلا اور ہفتہ بھی نہیں گزرنے پایا تھا کہ مرگیا۔ (رواہ ابن عساکر)
37248 عن ابن شوذب قال : بلغ ابن عمر أن زيادا يريد الحجاز فكره أن يكون في سلطانه فقال : اللهم ! إنك تجعل في القتل كفارة لمن شئت من خلقك فموتا لابن سمية لاقتل فخرج في إبهامه طاعون فما أتت عليه جمعة حتى مات (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض)
٣٧٢٤٩۔۔۔ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : مجھے غزوہ بدر کے موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کیا گیا میری عمر تیرہ (١٣) سال تھی آپ نے مجھے واپس کردیا پھر مجھے غزوہ احد کے موقع پر پیش کیا گیا میری عمر چودہ (١٤) سال تھی تب بھی آپ نے مجھے واپس کردیا پھر غزوہ خندق کے موقع پر مجھے پیش کیا گیا میری عمر پندرہ (١٥) سال تھی آپ نے مجھے اجازت دے دی۔ (رواہ ابن سعد)
37249 عن ابن عمر قال عرضت على النبي صلى الله عليه وسلم يوم بدر وأنا ابن ثلاث عشرة فردني ، ثم عرضت عليه يوم أحد وأنا ابن أربع عشرة سنة فردني ، ثم عرضت عليه يوم الخندق وأنا ابن خمس عشرة سنة فأجازني (ابن سعد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض)
٣٧٢٥٠۔۔۔ ابن عمر (رض) کہتے ہیں : غزوہ خندق کے موقع پر مجھے اور رافع بن خدیج (رض) کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس وقت ہماری عمر پندرہ (١٥) سال تھی آپ نے ہمیں قبول فرمایا لیا۔ (رواہ ابن عساکر)
37250 عن ابن عمر قال : عرضت يوم الخندق وأنا ورافع ابن خديج على النبي صلى الله عليه وسلم أنا وهو ابنا خمس عشرة سنة ، فقبلنا (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض)
٣٧٢٥١۔۔۔ ابن عمر (رض) کہتے ہیں میں نے غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اقدس پر بیعت کی میری عمر تیرہ (١٣) سال تھی آپ نے مجھے کمسن سمجھ کر واپس کردیا پھر میں اس غزوہ سے پیچھے رہا۔ (رواہ ابن عساکر)
37251 عن ابن عمر قال : بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أحد أنا وابن ثلاثة عشرة سنة فاستصغرني فردني ، ثم تخلفت عنه في غزوة غزاها (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض)
٣٧٢٥٢۔۔۔ ابن عمر (رض) کہتے ہیں : مجھے بدر کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کیا گیا آپ نے مجھے کمسن سمجھ کر واپس کردیا اس رات میں سو بھی نہ سکا اور پوری رات روتے روتے اور حزن کی حالت میں آنکھوں سے نکال دی الگے سال پھر مجھے آپ سامنے پیش کیا گیا، آپ نے مجھے قبول کرلیا اور اس پر میں نے اللہ تعالیٰ کا شکرادا کیا ایک شخص بولا : اے ابو عبدالرحمن ! غزوہ خندق میں تم لوگوں نے پیٹھ پھیرلی تھی ؟ فرمایا : جی ہاں اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو معاف کردیا اور اس پر ہم اللہ کا جنتا بھی شکریہ کریں وہ کم ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37252 عن ابن عمر قال : فرضت على رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم بدر فاستصغرني فلم يقبلني ، فما أتت علي ليلة قط مثلها من السهر والحزن والبكاء إذ لم يقبلني رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فلما كان من العام المقبل عرضت عليه فقبلني ، فحمدت الله على ذلك ، قال رجل : يا أبا عبد الرحمن ! توليتم يوم التقى الجمعان ؟ قال : نعم ، فعفا الله عنا جميعا فله الحمد كثيرا (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض)
٣٧٢٥٣۔۔۔ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : میں فتح مکہ میں شریک رہا ہوں جب کہ میری عمر بیس (٢٠) سال تھی۔ (رواہ ابن مندہ وابن عساکر)
37253 عن ابن عمر قال : شهدت الفتح وأنا ابن عشرين سنة (ابن منده ، كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض)
٣٧٢٥٤۔۔۔ ابن مجاہد کہتے ہیں : ابن عمر (رض) فتح مکہ میں شریک رہے ہیں اس وقت ان کی عمر پچیس سال تھی ان کے پاس ایک اڑیل قسم کا گھوڑا اور بھاری نیزہ تھا ابن عمر (رض) اپنے گھوڑے کے لیے چارالانے گئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عبداللہ تو اللہ کا بندہ ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37254 عن ابن مجاهد قال : شهد ابن عمر الفتح وهو ابن عشرين سنة ومعه فرس حرون ورمح ثقيل ، فذهب ابن عمر يختلي لفرسه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن عبد الله عبد الله (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض)
٣٧٢٥٥۔۔۔ نافع کی روایت ہے کہ ابن عمر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آثار و نشانات کو تلاش کرتے اور وہاں نماز پڑھتے حتیٰ کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک درخت کے نیچے اترے تھے چنانچہ ابن عمر (رض) باقاعدگی سے اس درخت کے پاس اترتے اس کی جڑوں پر پانی بہاتے تاکہ خشک نہ ہوجائے۔ (رواہ ابن عساکر)
37255 عن نافع أن ابن عمر كان يتبع آثار رسول الله صلى الله عليه وسلم كل مكان صلى فيه ، حتى أن النبي صلى الله عليه وسلم نزل تحت شجرة فكان ابن عمر يتعاهد تلك الشجرة فيصب في أصلها الماء لكيلا تيبس (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض)
٣٧٢٥٦۔۔۔ نافع سے مروی ہے کہ ہم ابن عمر (رض) کے ساتھ ایک سفر میں تھی افواہ پھیلی کہ درندے نے راستہ روک رکھا ہے، ابن عمر (رض) سواری پیچھے وہ گئی تھی جب اس جگہ پہنچے تو نیچے اترے اور درندے کا کان اینٹھا اور پھر راستے سے ہٹا دیا فرمایا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈرے تو اس پر کسی کو مسلط نہیں کرتا اور اگر آدمی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے امید وابستہ نہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے کسی کے سپرد نہیں کرتا۔۔ (رواہ ابن عساکر)
37256 عن نافع قال : كنا مع ابن عمر في سفر فقيل : إن السبع في الطريق قد حبس الناس ، فاستخلف ابن عمر راحلته ، فلما بلغ إليه نزل فعرك أذنه ونفذه وقال : سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول : لو أن ابن آدم لم يخف إلا الله لم يسلط عليه غيره ، ولو أن ابن آدم لم يرج إلا الله لم يكله إلى سواه (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض)
٣٧٢٥٧۔۔۔ وہب بن ابان قرشی کی روایت ہے کہ ابن عمر (رض) ایک سفر میں تھے ایک جگہ پہنچ کر یکاک لوگ کھڑے ہوگئے ابن عمر (رض) نے پوچھا یہ لوگ کیوں کھڑے ہیں ؟ جواب ملا : راستے میں شیرکھڑا ہے اور لوگ ڈر کے مارے آگے جا نہیں رہے ابن عمر (رض) سواری سے نیچے اترے شیر کا کان پکڑ کر انیٹھا اور پھر گردن سے پکڑ کر راستے سے الگ کردیا پھر فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ آدمی پر وہی کچھ مسلط کردیا جاتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے اگر آدمی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈرے تو اللہ تعالیٰ اپنے غیر کو اس پر مسلط نہیں کرے گا آدمی کسی شے کے سپرد کردیا جاتا ہے جس کی وہ امید کرتا ہے اگر ابن آدم اللہ کے سوا کسی سے امید وابستہ نہ کرے اللہ تعالیٰ اسے اپنے غیر کے سپرد نہیں کرے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
37257 عن وهب بن أبان القرشى عن ابن عمر أنه خرج في سفر فبينا هو يسير إذا قوم وقوف فقال : ما بال هؤلاء ؟ قالوا : أسد على الطريق قد أخافهم فنزل عن دابته ثم مشى إليه حتى أخذ بأذنه فعركها ثم نفذ قفاه ونجاه عن الطريق ثم قال : ما كذب عليك رسول الله صلى الله عليه وسلم ، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : إنما يسلط على ابن آدم ما خافه ابن آدم ، ولو أن ابن آدم لم يخف إلا الله لم يسلط عليه غيره ، وإنما وكل ابن آدم لمن رجا ابن آدم ، ولو أن ابن آدم لم يرج إلا الله لم يكله إلى غيره (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص (رض)
٣٧٢٥٨۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک ہزار مثالیں یاد کی ہیں۔ (رواہ ابویعلی والعسکری والرامھذی معافی الامثال)
37259- عن عبد الله بن عمرو قال: حفظت عن النبي صلى الله عليه وسلم ألف مثل."ع" والعسكري والرامهرمزي معا في الأمثال.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص (رض)
٣٧٢٥٩۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : ایک دن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آپ کے گھر میں تھا، آپ نے فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے ہمارے گھر میں کون ہے میں نے عرض کیا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کون ہے ؟ فرمایا : جبرائیل امین ہیں : میں نے کہا : السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جبرائیل امین نے تمہیں سلام کا جواب دیا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37260- عن عبد الله بن عمرو قال: كنت يوما مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيته فقال: تدرون من معنا في البيت؟ قلت: من يا رسول الله؟ قال: جبريل، قلت: السلام عليك يا جبريل ورحمة الله وبركاته، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنه قد رد عليك. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص (رض)
٣٧٢٦٠۔۔۔ محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ مجھے ایسے شخص نے حدیث سنائی ہے جسے میں تہمت زدہ نہیں سمجھتا۔ کہا کہ کعب (رض) مکہ آئے اور مکہ میں حضرت عبداللہ بن عمروبن عمروبن العاص (رض) تھے کعب (رض) بو کے : عبداللہ بن عمرو (رض) سے تین چیزوں کے متعلق سوال کروا گروہ تمہیں ان کے متعلق بتادیں سمجھ لو کہ وہ عالم ہیں ان سے پوچھ کہ زمین پر سب سے پہلابانی کون سا ہے ؟ زمین پر سب سے پہلا کون سا درخت لگایا گیا ؟ وہ کونسی جنت میں پائی جانے والی کوئی چیز ہے جو زمین پر لوگوں کے لیے رکھ دی گئی ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نے فرمایا : پہلا پانی جو سرزمین پر لوگوں کو نفع رسانی کے لیے پیدا کیا گیا وہ یمن میں آب برھوت ہے زمین پر سب سے پہلا اگایا جانے والا درخت عوسجہ ہے جس سے موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا توڑا تھا اور جنت میں پائی جانے والی چیز جو زمین میں لوگوں کے لیے رکھ دی گئی ہے وہ حجر اسود ہے۔ جب کعب (رض) کو اس کی خبر دی گئی تو بولے اس شخص نے سچ کہا ن خدا یہ عالم ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37261- عن محمد بن إسحاق قال حدثني من لا أتهم أن كعبا قدم مكة وبها عبد الله بن عمرو بن العاص فقال كعب: سلوه عن ثلاث، فإن أخبركم بهن فهو عالم، سلوه عن شيء من الجنة وضعه الله للناس في الأرض، سلوه ما أول ماء وضع في الأرض، وما أول شجرة غرست بالأرض، فسئل عبد الله عنها فقال: الشيء الذي وضعه الله للناس في الأرض من الجنة فهذا الركن الأسود وأول ماء وضع في الأرض فبرهوت ماء باليمن يرده هام الكفار،وأما أول شجرة غرسها الله في الأرض فالعوسجة التي اقتطع منها موسى عصاه. فلما بلغ ذلك كعبا قال: صدق الرجل والله عالم. "كر".
tahqiq

তাহকীক: