কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৭২৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص (رض)
٣٧٢٦١۔۔۔” مسند طلحہ بن عبیداللہ “ حاکم نے مندرجہ ذیل سند سے حدیث ذکر ہے ابوحاکم مکی بن عبدان ، احمد یعنی ابن یوسف سلمی ، حماد بن سلمان حرانی ، عیسیٰ بن عبدالرحمن انصار ابوعبادہ ابن شہاب ابن عامر بن سعد ابی وقاص، اسماعیل بن طلحہ بن عبیدا للہ اپنے والد سے حدیث نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ایک مرتبہ میں اپنے مال مویشوں کو جنگل میں لے گیا، جنگل میں مجھے رات ہوگئی میں نے کہا اگر میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے گھر چلاجاؤں میرے لیے بہتر ہوگا میں گھوڑے پر سوار ہوا حتیٰ کہ جب میں شہداء کی قبروں پہنچا مجھے وحشت نے گھیرلیا میں نے کہا : اگر میں اپنا باندھ کر عبداللہ بن عمرو کی قبر کے پاس چلاجاؤں چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا بخدا ! میں نے قبر پر کو نہی سر رکھا مجھے قبر سے قرات کی آواز سنائی دی اتنی خوبصورت قراب میں نے کبھی نہیں سنی میں نے کہا : قرات قبر سے ہورہی ہے عین ممکن ہے وادی میں بھی ہورہی ہو لہٰذا مجھے وادی کی طرف نکل جانا چاہیے لیکن مجھے احساس ہوا کہ واقعی قرات قبر ہورہی ہے۔ میں واپس لوٹ آیا اور سرقبر پر رکھ دیا کیا خوب قرات تھی میں نے ایسی قرات کبھی نہیں سنی میں اس قرات سے پھر پور ہوگیا اور میری نیند جاتی رہی طلوع فجر تک میں قرات سنتا رہا۔ جب طلوع فجر ہوئی قراءت کی آواز دھیمی پڑتی گئی حتیٰ کہ صبح ہوئی میں نے کہا : اگر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤں اور آپ کو یہ ماجرا سناؤں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سارا واقعہ سنایا فرمایا : یہ عبداللہ بن عمرو تھا اے طلحہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ روحیں قبض کرلیتا ہے اور انھیں قندیلوں میں رکھ دیتا ہے جو زبرجد اور یا قوت کی بنی ہوتی ہیں انھیں جنت کے وسط میں لٹکادیا گیا ہے ؟ جب رات ہوتی ہے ارواح واپس لوٹا دی جاتی ہیں جب طلوع فجر ہوتا ہے اپنے اصلی مقامات کی طرف واپس لوٹا دی جاتی ہیں جس میں وہ ہوتی ہیں۔

کلام :۔۔۔ حدیث صیعف ہے چنانچہ معنی میں لکھا ہے کہ عیسیٰ بن عبدالرحمن عن الزھری کے متعلق نسائی وغیرہ کہتے ہیں کہ یہ متروک ہے۔
37262- "مسند طلحة بن عبيد الله" قال الحاكم في الكنى حدثنا أبو حاتم مكي بن عبدان ثنا أحمد يعني ابن يوسف السلمي ثنا حماد بن سلمان الحراني ثنا عيسى بن عبد الرحمن الأنصاري أبو عبادة قال أخبرني ابن شهاب أخبرني ابن عامر بن سعد بن أبي وقاص عن إسماعيل بن طلحة ابن عبيد الله عن أبيه قال: أردت مالا لي بالغابة فأدركني الليل فقلت: لو أني ركبت فرسي إلى أهلي لكان خيرا لي من المقام ههنا، فركبت حتى إذا جئت ودنوت من قبور الشهداء القناة استوحشت فقلت: لو أني ربطت فرسي فآويته إلى قبر عبد الله بن عمرو، ففعلت: فوالله ما هو إلا أن وضعت رأسي سمعت قراءة في القبر ما سمعت قراءة قط أحسن منها! فقلت: هذا في القبر لعله في الوادي فاخرج إلى الوادي، فإذا القراءة في القبر، فرجعت فوضعت رأسي عليه فإذا قراءة لم أسمع مثلها قط، فأستأنست وذهب عني النوم، فلم أزل أسمعها حتى طلع الفجر، فلما طلع الفجر هدأت القراءة وهدأ الصوت حتى أصبحت، فقلت: لو جئت النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرته، فجئت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال: ذاك عبد الله بن عمرو! ألم تعلم يا طلحة أن الله عز وجل قبض أرواحهم فجعلها في قناديل من زبرجد وياقوت علقها وسط الجنة؟ فإذا كان الليل ردت عليهم أرواحهم فلا تزال كذلك حتى إذا طلع الفجر ردت أرواحهم إلى مكانهم الذي كانت فيه. "قال في المغني: عيسى بن عبد الرحمن عن الزهري قال ن وغيره: متروك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن انیس (رض)
٣٧٢٦٢۔۔۔ ابوجعفر محمد بن علی کی روایت ہے کہ جہنی حضرت عبداللہ بن انیس (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا (یارسول اللہ ! ) میری جان آپ پر فدا ہو مجھے ایک رات کا حکم دیں میں آپ کے پاس آجاؤں تاکہ آپ کے پیچھے نماز پڑھ لوں۔ (رواہ ابن جریر)
37263- عن أبي جعفر محمد بن علي قال: جاء الجهني وهو عبد الله بن أنيس إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: مرني بليلة أجيء فأصلى خلفك، جعلني الله فداك. ابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن سلام (رض)
٣٧٢٦٣۔۔۔ حضرت عبداللہ بن سلام (رض) سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : میں نے قرآن مجید اور توراۃ پڑھ رکھی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک رات یہ پڑھو اور ایک رات یہ پڑھو (روحہ ابن عساکر)
37264- عن عبد الله بن سلام أنه جاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إني قرأت القرآن والتوراة، فقال: اقرأ بهذا ليلة وبهذا ليلة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن سلام (رض)
٣٧٢٦٤۔۔۔ حضرت عبداللہ بن سلام (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ایک رات قرآن مجید پڑھنے کا حکم دیا اور ایک رات توراۃ پڑھنے کا۔ (رواہ ابن سعد وابن عساکر)

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے چونکہ اس کی سند میں ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ مدنی ہے جو کہ ضعیف روای ہے۔
37265 عن عبد الله بن سلام قال : أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أقرأ القرآن ليلة والتوراة ليلة (ابن سعد ، كر ، وفيه : والذي قبله إبراهيم بن محمد بن أبي يحيى المدني ضعيف).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن سلام (رض)
٣٧٢٦٥۔۔۔” مسند علی “ سعد (رض) کہتے ہیں : میں ایک مکان میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا آپ نے فرمایا : اس گھاٹی سے ایک شخص نمودار ہوگا جو اہل جنت میں سے ہے چنانچہ اس گھاٹی کے پیچھے عامر بن ابی وقاص (رض) رہتے تھے میں سمجھا شاید وہی ہو لیکن عبداللہ بن سلام (رض) گھاٹی سے نمودار ہوئے۔ (رواہ ابن عساکر)
37266 (مسند علي) عن سعد قال : كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في مكان فقال : ليطلعن من هذا الشعب رجل من أهل الجنة وكان من وراء الشعب عامر بن أبي وقاص فظننت أنه سيطلع فاطلع عبد الله بن سلام (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن جحش (رض)
٣٧٢٦٦۔۔۔” مسند سعد بن ابی وقاص “ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ بن جحش (رض) کو امیر مقرر کیا اور اسلام میں سب پہلے امیر مقرر کیے گئے تھے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37267- "مسند سعد بن أبي وقاص" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر عبد الله بن جحش وكان أول أمير أمر في الإسلام. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن جحش (رض)
٣٧٢٦٧۔۔۔” ایضا “ حضرت سعد (رض) کہتے ہیں : جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تو قبیلہ جہینہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا انھوں نے عرض کیا : آپ ہمارے درمیان اترے ہیں لہٰذا آپ ہمارے کو استوار کرجائیں تاکہ آپ ہم پر بھروسہ کریں اور ہم آپ پر چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے میثاق لکھ دیا جب کہ یہ قبیلہ ابھی اسلام نہیں لایا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ماہ رجب میں کنانہ کی ایک بستی پر غارتگری ڈھانے بھیجا یہ بستی جہینہ کے پاس ہی آباد تھی ہماری تعداد سو سے زیادہ نہیں تھی جب کہ وہ ہم سے زیادہ تھے ہم نے انھیں لوٹا ہم جہینہ میں آکر ٹھہرے جہینہ کے لوگوں نے پوچھا : تم نے حرمت والے مہینے میں قتال کیوں کیا ہے ؟ ہم نے کہا : ہم نے تو ان لوگوں سے قتال کیا ہے جنہوں نے ہمیں حرمت والے مہینے میں حرمت والے شہر سے نکالا ہے اس متعلق ہم ایک دوسرے سے چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ تمہارا کیا خیال ہے ؟ صحابہ (رض) نے کہا : ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاکر انھیں خبر کرنی چاہیے۔ جب کہ بعض صحابہ (رض) نے کہا : نہیں بلکہ ہمیں یہیں قیام کرنا چاہیے میں نے کہا جب کہ میرے ساتھ بھی کچھ لوگ تھے نہیں بلکہ ہمیں قریش کے اس قافلہ کے پاس جانا چاہے اور انھیں لوٹنا چاہیے ہم قریش کے قافلہ کو لوٹنے چل پڑے جب کہ ہمارے دوسرے ساتھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف چل پڑے انھوں نے آپ کو سارا واقعہ سنایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سخت غصہ میں سرخ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا : تم میرے پاس سے اکٹھے گئے تھے اور اب جدا جدا واپس لوٹ رہے ہو۔ تم سے پہلی قوموں کو تفرقہ نے ہلاک کیا ہے۔ البتہ میں تمہارے اوپر ایسے شخص کو امیر مقرر کرتا ہوں جو بھوک اور پیاس پر زیادہ سے زیادہ صبر کرتا ہے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ بن جحش اسدی (رض) کو ہمارا امیر مقرر کیا اور یہ اسلام میں پہلے امیر مقرر کئے گئے تھے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
37268- "أيضا" عن سعد قال: لما قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة جاءت جهينة فقالت: إنك قد نزلت بين أظهرنا فأوثق لنا حتى نأمنك وتأمنا، فأوثق لهم ولم يسلموا، فبعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في رجب ولم نكن مائة وأمرنا أن نغير على حي من كنانة إلى جنب جهينة فأغرنا عليهم وكانوا كثيرا، فلجأنا إلى جهينة وشعبها فقالوا: لم تقاتلون في الشهر الحرام؟ فقلنا: إنما نقاتل من أخرجنا من البلد الحرام في الشهر الحرام، فقال بعضنا لبعض: ما ترون؟ قالوا:نأتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فنخبره، وقال قوم: لا بل نقيم ههنا، وقلت أنا في أناس معي: لا بل نأتي عير قريش هذه فنضيبها، فانطلقنا إلى العير وانطلق أصحابنا إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبروه الخبر، فقام غضبانا محمرا لونه ووجهه فقال: ذهبتم من عندي جميعا وجئتم متفرقين، إنما أهلك من كان قبلكم الفرقة، ولأبعثن عليكم رجلا ليس بخيركم أصبركم على الجوع والعطش، فبعث علينا عبد الله بن جحش الأسدي، فكان أول أمير في الإسلام. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ ذوالبجادین (رض)
٣٧٢٦٨۔۔۔” مسندادرع “ ادرع (رض) کہتے ہیں : ایک رات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پہر دیتے حاضر ہوا یکایک میں بآواز بلند کسی شخص کی قرات سنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر تشریف لائے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ دکھلاوہ ہے فرمایا : یہ عبداللہ ذوالبجادین ہے چنانچہ حضرت عبداللہ ذوالبجادین (رض) نے مدینہ میں وفات پانی ان کی تجہیزو تکفین کے لیے صحابہ (رض) پریشان ہوئے اور ان کی میت دیر تک روکے رکھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے ساتھ نرمی کرو اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ نرمی کی ہے۔ چونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا تھا پھر ان کے لیے قبر کھودی گئی فرمایا : اس کے لیے گشادگی کرو اللہ تعالیٰ نے اس پر گشادگی کی ہے۔ بعض صحابہ (رض) نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ اس پر غمزدہ ہورہے ہیں۔ فرمایا : جی ہاں۔ چونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا تھا۔ (رواہ ابن ماجہ والبغوی وابن مندہ وقال غریب لایعرف الامن ھذالوجہ و ابونعیم فی مسندہ موسیٰ بن عبیدہ الترمذی ضعیف )

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھا ضعیف ابن ماجہ ٣٤٢ نیز اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ربذی ضعیف روای ہے۔
37269- "مسند الأدرع" جئت ليلة أحرس النبي صلى الله عليه وسلم فإذا رجل قراءته عالية فخرج النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله! هذا مراء، قال: هذا عبد الله ذو البجادين، فمات بالمدينة ففرغوا من جهازه فجملوا نعشه فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ارفقوا به رفق الله به! إنه كان يحب الله ورسوله، وحفر حفرته فقال: أوسعوا له أوسع الله عليه! فقال بعض أصحابه: يا رسول الله! لقد حزنت عليه فقال أجل: إنه كان يحب الله ورسوله. "هـ والبغوي وابن منده وقال: غريب لا يعرف إلا من هذا الوجه وأبو نعيم وفي مسنده موسى بن عبيدة الربذي ضعيف.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن حازم (رض)
٣٧٢٦٩۔۔۔ عبدالرحمن بن عبداللہ بن سعد دشت کی رازی کہتے ہیں میں نے اپنے والد سے سنا انھوں نے میرے دادا سے روایت نقل کی ہے وہ کہتے ہیں : میں نے بخارا میں سفید خچر پر سوا ایک شخص دیکھا اس نے سر پر سیاہ رنگ کا ریشمی عمامہ باندھ رکھا تھا وہ کہتا تھا۔ مجھے یہ عمامہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہنچایا ہے عبدالرحمن کہتے ہیں ہم اسے ابن حزم سلمی (رض) سمجھتے ہیں۔ (رواہ البخاری فی تاریخہ وابن عساکر)
37270- عن عبد الرحمن بن عبد الله بن سعد الدشتكي الرازي قال سمعت أبي عن أبيه قال: رأيت ببخارى رجلا على بغلة بيضاء عليه عمامة خز سوداء يقول: كسانيها رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال عبد الرحمن: نراه بن خازم السلمي. "خ" في تاريخه، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن حازم (رض)
٣٧٢٧٠۔۔۔ عبداللہ بن سعیدازرق اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : میں نے بخارا میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) میں سے ایک شخص دیکھا جس نے سر پر سیاہ رنگ کا ریشمی عمامہ سجا رکھا تھا ان کا کہنا تھا یہ عمامہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہنایا ہے اس کا نام عبداللہ بن حازم (رض) تھا۔ (رواہ ابن عساکر)
37271- عن عبد الله بن سعيد الأزرق عن أبيه قال: رأيت رجلا ببخارى من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم على رأسه عمامة خز سوداء وهو يقول: كسانيها النبي صلى الله عليه وسلم، واسمه عبد الله بن خازم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن ابی (منافق)
٣٧٢٧١۔۔۔” مسند اسامہ بن زید “ حضرت اسامہ بن زید کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک گدھے پر سوار ہوئے گدھے پر پالان رکھا ہوا تھا اور آپ کے نیچے فد کی چادر تھی آپ نے مجھے اپنے پیچھے بیٹھا لیا آپ حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی عیادت کرنے بنی حارث بن خزرج میں جارہے تھے یہ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے آپ کا گزر ایک مجلس کے پاس سے ہوا جس میں مسلمان مشرکین بتوں کے پچاری اور یہود اکٹھے بیٹھے تھے ان میں عبداللہ بن ابی بھی بیٹھا ہوا تھا یہ عبداللہ بن ابی کے اسلام قبول کرنے سے پہلے کا واقعہ ہے مجلس میں حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) بھی تھے جب مجلس کے قریب گدھے نے گزرتے گزرتے غباراڑائی عبداللہ بن ابی نے ناک کپڑے سے ڈھانپ دی اور بولا ہمارے اوپر غبارمت ڈالو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کیا رکے اور نیچے اتر آئے مجلس والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا اور انھیں قرآن پڑھ کر سنایا، عبداللہ بن ابی لولا : اے آدمی : اس سے کوئی بات اچھی ہیں۔ جو کچھ تم کہتے ہو وہ اگر حق ہے تو ہماری مجلسوں میں ہمارے پاس مت آؤ اور اپنی سواری پر واپس چلے جاؤ۔ ہم میں سے جو شخص آئے اسے سنادیا کرو۔ عبداللہ بن رواحہ (رض) بولے : بلکہ آپ ہماری مجالس میں تشریف لائیں ہم اسے پسند کرتے ہیں پس اسی ہر مسلمان مشرکین اور یہود ایک دوسرے سے الجھ پڑے حتیٰ کہ مارنے اور مرنے نوبت پہنچ گئی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ننے سب کو ٹھنڈا کیا پھر آپ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور حضرت سعد بن عبادہ (رض) کے پاس پہنچ گئے اور فرمایا : اے سعد کیا تم نے ابوحباب کو نہیں سنا کہ کیا کہتا ہے ؟ وہ ایسی اور ایسی باتیں کرتا ہے ؟ سعد (رض) نے کہا : سعد (رض) نے کہا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے معاف کریں اور درگزر کریں اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت خوبیاں عطا کررکھی ہیں۔ جب کہ اس بحیرہ کے رہنے والوں نے اتفاق کرلیا ہے کہ وہ اسے تاج پہنچائیں گے اور اسے ایک مضبوط جماعت بھی فراہم کریں گے جب اللہ تعالیٰ نے اس کے باطل خیال کو آپ کو عطاکئے گئے حق سے ردکردیاتو اسے ایک طرح کا اچھو لگ گیا یہ سب کچھ اسی کی یاداش میں کیا ہے جو آپ نے دیکھا ہے۔ تاہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے معاف کردیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کرام (رض) مشرکین واہل کتاب کو معاف کردیتے تھے اور ان کی اذیتوں پر صبر کرلیتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اس کا حکم دیا ہے جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معاف کرنے کے لیے بہانے ڈھوتے تھے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو بھی معاف کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غزوہ بدر میں فتح و کامرانی نصیب ہوئی اور اس جنگ میں قریش کے بڑے بڑے سردار مارے گئے تو یہ صورتحال دیکھ کر ابن ابی اور اس کے ساتھ مشرکین بتوں کے بچاریوں نے کہا : یہ اسلام تو غلبہ کی طرف آتا دکھائی دے رہا ہے چنانچہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کرلی اور اسلام قبول کرلیا۔ (رواہ احمد بن حنبل ومسلم و البخاری والنسائی والعدنی والبیہقی فی الدلائل جب کہ مسلم کی روایت یہاں تک ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے معاف کردیا) ۔
37272- "مسند أسامة بن زيد" إن النبي صلى الله عليه وسلم ركب حمارا عليه إكاف تحته قطيفة فدكية1 فأردفني وراءه وهو يعود سعد بن عبادة في بني الحارث بن خزرج وذاك قبل وقعة بدر حتى مر بمجلس فيه أخلاط من المسلمين والمشركين عبدة الاوثان واليهود فيهم عبد الله بن أبي وذلك قبل أن يسلم عبد الله بن أبي وفي المجلس عبد الله بن رواحة ، فلما غشيت المجلس عجاجة الدابة خمر عبد الله بن أبي انفه بردائه وقال : لا تغبروا علينا ، فسلم عليه النبي صلى الله عليه وسلم ثم وقف فنزل ، فدعاهم إلى الله وقرأ عليهم القرآن ، فقال عبد الله بن أبي : أيها المرء لا أحسن من هذا ، إن كان ما تقول حقا فلا تغشنا في مجالسنا وارجع إلى رحلك ، فمن جاء منا فاقصص عليه ، فقال عبد الله بن رواحة : بل اغشنا في مجالسنا فانا نحب ذلك ، فاستب المسلمون والمشركون واليهود حتى هموا أن يتواثبوا ، فلم يزل النبي صلى الله عليه وسلم يخفضهم ، ثم ركب دابته حتى دخل على سعد بن عبادة فقال : أي سعد ! ألم تسمع ما قال أبو حباب ؟ قال كذا وكذا ! قال : اعف عنه يا رسول الله واصفح ، فو الله ! لقد أعطاك الله الذي أعطاك ، ولقد اصطلح أهل هذه البحيرة أن يتوجوه فيعصبوه بالعصابة ، فلما رد الله ذلك بالحق الذي أعطاكه شرق بذلك فذلك فعل به ما رأيت ، فعفا عنه النبي صلى الله عليه وسلم ، وكان النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه يعفون عن المشركين وأهل الكتاب كما أمره الله تعالى ويصبرون على الاذى ، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتأول في العفو ما أمره الله حتى أذن الله فيهم ، فلما غزا رسول الله صلى الله عليه وسلم بدرا وقتل الله به من قتل من صناديد قريش قال ابن أبي ومن معه من المشركين عبدة الاوثان : هذا أمر قد توجه ، فبايعوا رسول الله صلى الله صلى الله عليه وسلم فأسلموا (حم ، م ، خ ، ن والعدني ، طب ، ق في الدلائل ، وانتهى حديث م عند قوله : فعفا عنه النبي صلى الله عليه وسلم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن ابی (منافق)
٣٧٢٧٢۔۔۔” ایضا “ اسامہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان اور یہودی اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے آپ نے انھیں سلام کیا۔ (رواہ الترمذی وقال حسن صحیح)
(37272 -) (أيضا) إن النبي صلى الله عليه وسلم مر بمجلس فيه أخلاط من المسلمين واليهود فسلم عليهم (ت : حسن صحيح)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن ابی (منافق)
٣٧٢٧٣۔۔۔ حضرت اسامہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عبداللہ بن ابی کی عیادت کرنے تشریف لے گئے عبداللہ مرض الوفات میں تھا جب آپ عبداللہ بن ابی کے پاس پہنچے تو آپ نے اسمیں موت کے نشانات پہچان لیے اور فرمایا : میں تمہیں یہودیوں کی محبت سے منع کرتا تھا۔ عبداللہ بن ابی بولا اسعد بن زرارہ بھی تو یہودیوں سے بغض کرتا تھا وہ مرگیا اور یہودیوں کے بغض نے اسے کوئی نفع نہ پہنچایا جب ابن ابی مرگیا تو اس کا بیٹا آیا اور عرض کیا : عبداللہ بن ابی مرچکا ہے آپ مجھے عطا کریں تاکہ اس میں اسے کفناؤں۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قمیض اتاری اور اسے دے دی۔ (رواہ احمد بن حنبل وابو داؤد والرویانی والطبرانی والبیھقی فی الدلائل والضیاء)

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف ابی داؤد ٦٨١۔
37273 (أيضا) خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يعود عبد الله بن أبي من مرضه الذي مات فيه ، فلما دخل عليه عرف فيه الموت فقال : قد كنت أنهاك عن حب يهود ! قال : فقد أبغضهم أسعد ابن زرارة فمات فما نفعه ، فلما مات أتاه ابنه فقال : يا رسول الله !إن عبد الله بن أبى قد مات فأعطني قميصك أكفنه فيه ، فنزع رسول الله صلى الله عليه وسلم قميصه فأعطاه إياه (حم ، د والروياني ، طب ، ق في الدلائل ، ض).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن بسر (رض)
٣٧٢٧٤۔۔۔ حضرت عبداللہ بن بسر (رض) کہتے ہیں : میں اور میرے والد اپنے گھر کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے خچر پر سوار تشریف والد نے عرض کیا : یارسول اللہ آپ اترتے ہیں تاکہ تناول فرمائیں اور ہمارے لیے دعائے برکت کریں ؟ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خچر سے نیچے اترے اور فرمایا : یا اللہ ! ان پر رحم فرما اور ان کی بخشش فرما اور ان کے رزق میں برکت عطا فرما۔ (رواہ ابن عساکر)
37275- عن عبد الله بن بسر قال: كنت أنا وأبي قاعدين على باب دارنا إذ أقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم على بغلة له، فقال له أبي: ألا تنزل يا رسول الله فتطعم وتدعو بالبركة؟ فنزل فطعم ثم قال: ال لهم! ارحمهم واغفر لهم وبارك لهم في رزقهم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن بسر (رض)
٣٧٢٧٥۔۔۔ سلیم بن عامر کی روایت ہے کہ مجھے بسر کے دو بیٹوں نے حدیث سنائی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے آپ کے نیچے ایک چادر پھیلادی گئی آپ اس پر بیٹھ گئے ہمارے گھر میں آپ پر وحی نازل ہوئی ہم نے آپ کو مکھن اور کھجوریں تناول کرنے کے لیے پیش کیں جب کہ آپ بسر کو زیادہ پسند فرماتے تھے بسر کے بیٹوں میں سے ایک کے سر کی ایک جانب بالوں کا گھچا تھا یوں لگتا تھا جیسے کہ وہ سینگ ہو آپ نے فرمایا : کیا میں اپنی امت میں سینگ نہیں دیکھتا ؟ ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا فرمائیں آپ نے فرمایا یا اللہ ان پر رحم فرماان کی بخشش کر اور انھیں رزق عطا فرما۔ (رواہ ابن عساکر)
37276- عن سليم بن عامر قال حدثني ابنا بسر قالا: دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فوضعت تحته قطيفة صببناها صبا فجلس عليها وأنزل عليه الوحي في بيتنا وقدمنا إليه زبدا وتمرا وكان يحب البسر وكان في رأس أحدهما في قرنه شعر مجتمع كأنه قرن فقال: ألا أرى في أمتي قرنا؟ فقلنا يا رسول الله! ادع الله لنا، قال: اللهم ارحمهم كي تغفر لهم وترزقهم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن بسر (رض)
٣٧٢٧٦۔۔۔ صفوان بن عمرو اور حریزبن عثمان کہتے ہیں : ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی حضرت عبداللہ بن بسر (رض) کو دیکھا ہے ان کی زلفیں (جمہ) تھیں ہم نے سردیوں میں اور نہ ہی گرمیوں میں ان کے سر پر عمامہ یا ٹوپی نہیں دیکھی۔ (رواہ ابن عساکر وابن وھب)
37277- عن صفوان بن عمرو وحريز بن عثمان قالا: رأينا عبد الله بن بسر صاحب النبي صلى الله عليه وسلم له جمة لم نر عليه عمامة ولا قلنسوة شتاء ولا صيفا. "كر"، ابن وهب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن بسر (رض)
٣٧٢٧٧۔۔۔ معاویہ بن صالح کی روایت ہے کہ ابن بسر کہتے ہیں : مجھے میرے والدنے حدیث سنائی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کی کہ ہمارے ہاں تشریف لائیں اور دعائے برکت فرمائیں۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے میری والدہ اٹھیں اور حشیش (ایک قسم کھا کھانا) پکایا جب کھانا تیار ہوا آپ نے (اور صحابہ (رض) نے) کھانا کھایا پھر پانی پلایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیا اور پھر اپنے دائیں بائیں بیٹھے لوگوں کو پلایا جب مشروب کا دوسرا جام لایا گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جام اس شخص کو تھماؤ جس کے پاس پہلا ختم ہوا ہے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھانے اور پینے سے فارغ ہوئے تو ہمارے لیے دعا کی : یا اللہ : ان کی مغفرت فرما اور ان پر رحم کر اور انھیں رزق عطا فرما۔ کہتے ہیں : ہم نے آج تک اپنے گھر میں برکت اور رزق میں وسعت خوب دیکھی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
37278- حدثني معاوية بن صالح أن ابن بسر قال: حدثني أبي أنه سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يدخل عليه ويدعو له بالبركة، فدخل عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقامت أمي وصنعت جشيشا1، فلما نضج أكلوا ثم سقاهم، ثم شرب رسول الله صلى الله عليه وسلم وسقى من عن يمينه، فلما أتتهم بقدح آخر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أعطي الذي انتهى القدح إليه، فلما أكل رسول الله صلى الله عليه وسلم وشرب دعا لنا ثم قال. اللهم اغفر لهم وارحمهم وبارك لهم في رزقهم، قال: فما زلنا نتعرف البركة والسعة في الرزق إلى اليوم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن بسر (رض)
٣٧٢٧٨۔۔۔ محمد بن زیاد الھانی ، عبداللہ بن بسر سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے سر پر دست شفقت رکھا اور فرمایا : یہ لڑکا ایک قرن تک زندہ رہے گا چنانچہ عبداللہ بن بسر (رض) ایک سو سال تک زندہ رہے ان ل کے چہرے پر ہلکے ہلکے داغ تھے آپ نے فرمایا۔ یہ لڑکا اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک یہ داغ ختم نہ ہوجائیں چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ عبداللہ بن بسر (رض) کے چہرے سے جب داغ ختم ہوئے اس وقت وفات پائی۔ (رواہ ابن عساکر)
37279- عن محمد بن زياد الألهاني عن عبد الله بن بسر أن النبي صلى الله عليه وسلم وضع يده على رأسه وقال: يعيش هذا الغلام قرنا! فعاش مائة سنة، وكان في وجهه1 ثؤلول فقال: لا يموت هذا الغلام حتى يذهب هذا الثؤلول، فلم يمت حتى ذهب الثؤلول من وجهه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن بسر (رض)
٣٧٢٧٩۔۔۔ محمد بن قاسم طائی ابوالقاسم خمصی روایت نقل کرتے ہیں کہ عبداللہ بن بسر (رض) کہتے ہیں : میرے والد اور والدہ ہجرت کرکے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سر پر دست پھیرا اور ارشاد فرمایا : یہ لڑکا ایک قرن تک زندہ رہے گا میں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں ! قرن کتنا ہوتا ہے ؟ ارشاد فرمایا : ایک سو سال ۔ ایک مرتبہ عبداللہ (رض) نے فرمایا : میں اپنی عمر کے پچانوے (٩٥) سال گزاردیئے ہیں اور پانچ (٥) سال نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کو پورا ہونے میں باقی رہتے ہیں۔ محمد بن قاسم کہتے ہیں ہم پانچ سال گنتے رہے پھر عبداللہ (رض) وفات پاگئے۔ (رواہ ابن مندہ وابن عساکر)
37280- عن محمد بن القاسم الطائي أبي القاسم الخمصي أن عبد الله بن بسر قال: هاجر أبي وأمي إلى النبي صلى الله عليه وسلم، وإن النبي صلى الله عليه وسلم مسح بيده على رأسي وقال: ليعي ش هذا الغلام قرنا! قلت! بأبي وأمي يا رسول الله! وكم القرن؟ قال: مائة سنة. قال عبد الله: فلقد عشت خمسا وتسعين سنة وبقيت خمس سنين إلى أن أتم قول النبي صلى الله عليه وسلم، قال محمد بن القاسم: فحسبنا بعد ذلك خمس سنين ثم مات. ابن منده، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن بسر (رض)
٣٧٢٨٠۔۔۔” ایضا “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خچر پر سوار ہو کر عبداللہ بن بسر (رض) کے پاس تشریف لائے عبداللہ بن بسر (رض) کہتے ہیں ہم خچر کو شامی گدھا کہتے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ (رض) اندر تشریف لائے میری والدہ کھڑے ہوئیں اور آپ کے لیے گھر میں چٹائی پر چادر بچھائی جب آپ چادر پر بیٹھے چادر چٹائی کے ساتھ چپک گئی والد صاحب نے انھیں کھجوریں پیش کیں تاکہ ان میں مشغول رہیں والد نے میری والدہ کو حشیش (کھجوروں سے تیار کیا جانے والاکھانا) تیار کرنے کا کہا جبکہ میں والد صاحب اور والدہ کے درمیان خدمت گذاری کررہا تھا جب کہ والد صاحب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) کے پاس کھڑے تھے جب والدہ محترمہ نے کھانے تیار کرلیا میں اٹھا کرلے آیا اور آپ کے سامنے رکھ دیا آپ نے اور صحابہ (رض) نے مل کر تناول فرمایا۔ پھر والد صاحب نے مہمانوں کو مشروب پلایا اور پلانے میں دائیں طرف سے شروع کیا۔ پھر جب مشروب ختم ہوا میں نے جام لے لیا اور دوبارہ اسے بھرلایا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیس کیا آپ نے فرمایا : اس شخص کو دو جس کے پاس جام ختم ہوا ہے جب آپ کھانے پینے سے فارغ ہوئے ہمارے لیے دعا فرمائی۔ یا اللہ ! ان پر رحم فرما اور ان کی بخشش فرما اور ان کے رزق میں برکت عطا فرما۔ چنانچہ ہمیں رزق میں وسعت ہمیشہ دیکھنے میں ملی۔ (رواہ الطبرانی عن عبداللہ بن بسر)
37281- "أيضا" أتى النبي صلى الله عليه وسلم بسرا وهو راكب على بغلة فقال: عبد الله بن بسر كنا ندعوها حمارة شامية، فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه فقامت أمي فوضعت لرسول الله صلى الله عليه وسلم قطيفة على حصير في البيت جعلت توترها له، فلما جلس عليها رسول الله صلى الله عليه وسلم لطئت1 بالحصير "فقدم لهم أبي تمرا أشغلهم به، وأمر أمي فصنعت لهم جشيشا وكنت أنا الخادم فيما بين أبي وأمي، وكان أبي القائم على رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه، فلما فرغت أمي من الجشيش جئت أحمله حتى وضعته بين أيديهم فأكلوا، ثم سقاهم فضيخا2 فشرب صلى الله عليه وسلم وسقى الذي عن يمينه، ثم أخذت القدح حين نفد ما فملأته فجئت به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: أعط الذي انتهى إليه القدح، فلما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم من الطعام دعا لنا فقال: اللهم ارحمهم واغفر لهم وبارك لهم في رزقهم! فما زلنا نتعرف من الله عز وجل السعة في الرزق. "طب" عن عبد الله بن بسر.
tahqiq

তাহকীক: